Hakoomat by Waheed Sultan NovelR50741 Hakoomat by Waheed Sultan Last Episode
No Download Link
267K
19
Rate this Novel
Hakoomat by Waheed Sultan Episode01 Hakoomat by Waheed Sultan Episode02 Hakoomat by Waheed Sultan Episode03 Hakoomat by Waheed Sultan Episode04 Hakoomat by Waheed Sultan Episode05 Hakoomat by Waheed Sultan Episode06 Hakoomat by Waheed Sultan Episode07 Hakoomat by Waheed Sultan Episode08 Hakoomat by Waheed Sultan Episode09 Hakoomat by Waheed Sultan Episode10 Hakoomat by Waheed Sultan Episode11 Hakoomat by Waheed Sultan Episode12 Hakoomat by Waheed Sultan Episode13 Hakoomat by Waheed Sultan Episode14 Hakoomat by Waheed Sultan Episode15 Hakoomat by Waheed Sultan Episode16 Hakoomat by Waheed Sultan Episode17 Hakoomat by Waheed Sultan Episode18 Hakoomat by Waheed Sultan Last Episode (Watching)
Hakoomat by Waheed Sultan Last Episode
Hakoomat by Waheed Sultan Last Episode
رستم فرش پر بیٹھا تھا اور میکال نے اس کا پورا جسم زنجیروں سے جھکڑ دیا تھا ۔ عاشر جو کہ رستم کا کارندہ تھا لیکن بھاری کیش کے عوض اس نے رستم سے غداری کی اور اب وہ میکال کا طرفدار ہو چکا تھا ۔ رستم کو مزید تکلیف سے دوچار کرنے کے لیے میکال نے عاشر کو کھانا دے کر رستم کے پاس بھیجا تھا ۔ چونکہ رستم کے ہاتھ زنجیروں سے جھکڑے ہوئے تھے اور عاشر اپنے ہاتھوں سے رستم کو کھانا کھلا رہا تھا ۔ جب رستم کھانا کھا چکا تھا تو میکال وہاں آیا ۔
“تمہارا کارندہ روشن خان بہت ضدی نکلا ، میں نے ایک ایک کر کے اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کاٹ دیں لیکن اس نے مجھے تمہاری فیملی کا ٹھکانہ نہیں بتایا تو میں نے اسے مار دیا” میکال نے ہنستے ہوئے کہا تو رستم نے میکال کو حقارت سے دیکھا
“اب تم سوچ رہے ہو گے کہ میرا اگلا پلان کیا ہے؟ تم میری محبوبہ کے شوہر ہو اس لیے اپنا اگلا پلان بتا دیتا ہوں ، یہ اس کمرے کے درمیان میں شیشے کی دیوار بناؤں گا اور پھر دلاویز کو اغوا کر کے شیشے کی دیوار کی دوسری طرف زنجیروں سے باندھ دوں گا ، اس کے بعد دلاویز کی کنپٹی پر گن رکھوں گا اور تمہارے سامنے دلاویز کا طلاق نامہ” میکال ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا ۔
“اگر تم نے طلاق نامے پر دستخط نہ کیے تو دلاویز کو قتل کروں گا اور پھر خودکشی کر لوں گا” میکال نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا جبکہ رستم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا ۔
دلاویز عشان کے ہمراہ سرکاری گاڑی میں شماز جامی کے آفس کی طرف جا رہی تھی ۔
“میں نے سیکیورٹی مہیا کرنے والی کمپنی کو دو لاکھ روپے کی ادائیگی کر دی تھی اور اب نوشین مارو نامی لڑکی آپ کی حفاظت کے پیش نظر خفیہ طور پر آپ کی نگرانی کر رہی ہے” عشان نے دلاویز کو وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تو دلاویز نے گاڑی کے شیشے میں سے باہر دیکھا ۔ گاڑی شماز جامی کے آفس کے سامنے روک چکی تھی ۔ دلاویز عشان کے ساتھ شماز جامی کے آفس میں داخل ہوئی اور شماز کے سامنے پڑی شیشے کی میز پر ہتھیلیوں کے بل دونوں ہاتھ رکھ کر شمازی جامی کی جانب جھکی ۔
“چوبیس گھنٹوں کے اندر تم نے حمید کا مکان اس کے حوالے نہ کیا تو اپنے نقصان کا ذمہ دار تو خود ہو گا” دلاویز نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا
“اگر میں نے حمید کے مکان سے قبضہ ختم نہ کیا تو تم کیا کر لو گی چڑیل عورت؟” شماز جامی کا لہجہ کربناک تھا ۔
” مسلم ڈیمو کریٹک پارٹی سے تمہاری رکنیت معطل کروا دوں گی ، وینڈر سے سپلائی بند کروا دوں گی تو تمہارا کاروبار منجمند ہو جائے گا اور تمہارے جوا خانے پر پولیس چھاپہ مارے گی” دلاویز نے سرد لہجے میں کہا
“ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ بہتر یہی ہے کہ میں حمید کا مکان اسے واپس کر دوں” شماز جامی نے افسردہ لہجے میں کہا
اسمبلی اسپیکر کی زیر نگرانی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو چکا تھا ۔ دلاویز کسی وجہ سے لیٹ ہو گئی اور اجلاس شروع ہونے کے پچیس منٹوں بعد وہ اسمبلی میں آئی ۔ اس وقت اسمبلی میں جانشوری صاحب تقریر کر رہے تھے ۔ جانشوری صاحب کے بعد مزید تین اسمبلی نمائندوں نے اپنی اپنی تقریریں مکمل کیں اور اس کے بعد دلاویز کا نام تقریر کے لیے اناؤنس کیا گیا تو دلاویز نے تقریر شروع کرنے سے پہلے مائیک کو اپنی مرضی کے مطابق سیٹ کیا اور تقریر کا آغاز کیا ۔
“جناب اسپیکر! ہمارے صوبے کی اسی فیصد عام عوام اپنی زندگیاں گزارنے میں خود مختار نہیں ہیں ۔ ہمارے اس ملک میں جاگیردار ، سرمایہ دار ، وڈیرے ، مفاد پرست سیاستدان جنہوں نے اس ملک کو اپنی جاگیر اور عوام کو اپنا غلام سمجھ رکھا ہے ۔ عوام کے گلے پر چھڑی پھرتی رہے ، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنا ، بچے تعلیم سے محروم رہیں ، کیا یہی خودمختاری اور آزادی ہے؟ کیا اسی کو جمہوریت کہتے ہیں؟ جاگیردار ، سرمایہ دار ، وڈیرے ، مفاد پرست سیاستدان آزاد اور خود مختار ہیں ، قرضے معاف کروانے میں آزاد ، عوام کو لوٹنے میں آزاد ، اپنی مرضی کے فیصلے کروانے میں آزاد ، غریب اور غلام عوام پر ٹیکس لگانے میں آزاد ، اگر عوام کا عدالتوں کی طرف رجوع کرنے پر ٹیکس کا نام بدل کر پھر ٹیکس لگا دیا جاتا ہے اور عدالتیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی ہیں ۔
محبت و اخوت کی جگہ پر نفاق لسانیت ، امن و سکون کی جگہ تشدد و دہشتگردی کی حکمرانی ہے ۔ عصمتیں سر عام تاڑ تاڑ کر دی جاتی ہیں ۔ عوام کے بولنے پہ پابندی اور سوچنے پہ پابندی ہے ۔ استحصال اور کرپشن کا زہر قوم کی رگ رگ میں اتار دیا گیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت میں عوام آزاد ہوتے ہیں مگر صرف ووٹ ڈالنے کی حد تک ۔
آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گی کہ
سیاستدانو اور حکمرانو!
تم جیو ہزاروں سال
تم کھاتے جاؤ مال
تم کھینچو عوامی کھال
تم توڑ دو سارے جال
پھر چلو سیاسی چال
حاصل کرو کمال
پھر اور بڑھاؤ مال
قانون تمہاری ڈھال
تم جیو ہزاروں سال””
دلاویز کی تقریر اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی ۔ حکومتی ارکان دلاویز کو غصے اور حقارت سے گھور رہے تھے جبکہ اپوزیشن لیڈر سمیت حزب اختلاف کے تمام ارکان تالیاں بجا رہے تھے ۔ اجلاس کے اختتام پر چیف منسٹر دلدارخان نے دلاویز کو سی ایم ہاؤس طلب کر لیا ۔
“یہ تم نے کیسی تقریر کی؟ تمہاری تقریر آج کے اجلاس کے مطابق نہیں تھی ، کسی کو سمجھ نہیں آئی کہ تم نے کس موضوع پر تقریر کی” دلدار خان نے کہا
“یہی تو مسئلہ ہے اس ملک کا اس صوبے کا کہ کوئی بھی سیاستدان عوام کے مسائل میں دلچسپی لینے کے لیے تیار نہیں تو جب کوئی عوام کے مسائل پر تقریر کرے گا تو پھر سمجھ کیسے آئے گی” دلاویز نے لاپرواہی سے کہا
“پارٹی لیڈرشپ تمہاری اس تقریر سے سخت ناراض ہے ، مسلم ڈیموکریٹک پارٹی کے صوبائی صدر نے تمہیں طلب کیا ہے” دلدارخان نے انتہائی کرخت لہجے میں کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“میں نے اپنی تقریر کے ذریعے ارکان اسمبلی کو عوامی مسائل سے آگاہ کر کے کوئی جرم اور گناہ نہیں کیا” دلاویز نے پارٹی کے صوبائی صدر کے سامنے پیش ہوتے ہی با رعب لہجے میں کہا
“دلاویز میڈم! میں نے آپ سے ابھی کوئی سوال پوچھا ہی نہیں” پارٹی کے صدر داؤد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
“لیکن مجھے یہی بتایا گیا تھا کہ میری تقریر کی وجہ سے پارٹی لیڈرشپ سخت ناراض ہے” دلاویز نے سنجیدہ لہجے میں کہا
” تمہاری جرات مندی اور پراعتمادی نے میری ناراضگی ختم کر دی اور اب میں پارٹی کی لیڈرشپ سے بات کروں گا تو ان کی ناراضگی بھی ختم ہو جائے گی” داؤد صاحب نے دلاویز سے کہا
دلاویز گہری نیند سو رہی تھی ۔ اس کے کمرے کے دروازے پر زور زور سے دستک ہو رہی تھی ۔ دلاویز نیند سے بیدار ہوئی اور نیم کھلی آنکھوں سے دروازے کی طرف دیکھا اور پھر سیل فون پر ٹائم چیک کیا تو رات کے دو بج رہے تھے ۔ دروازے پر دستک مسلسل ہو رہی تھی ۔ دلاویز نے دروازے کے باہر لگے کیمرے سے ملحقہ سکرین آن کی ۔ سکرین میں نوشین کی فوٹیج تھی ۔ اب دلاویز نے دروازہ کھولا تو نوشین سامنے کھڑی تھی ۔ نوشین اسے باغیچے کی طرف لے گئی ۔ باغیچے میں ایک آدمی اوندھا پڑا ہوا تھا اور اس کے سر اور منہ پر نوشین نے بوری چڑھا رکھی تھی ۔ اس کے ہاتھ کمرپر باندھے ہوئے تھے جبکہ پاؤں کو مضبوط رسی سے باندھا گیا تھا ۔
“یہ کون ہے؟” دلاویز نے نوشین سے پوچھا
“میں آپ کے گھر سے دو سو میٹر کے فاصلے پر کار میں بیٹھ کر آپ کے گھر کی نگرانی کر رہی تھی ۔ تب میں نے اس آدمی کو آپ کے گھر کے ارد گرد ٹہلتے دیکھا ۔ اس نے آپ کے گھر پر گیس کیپسول فائر کیے تھے جس کی وجہ سے سیکیورٹی گارڈز بے ہوش ہو گئے اور یہ کسی کے کندھوں پر دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوا تو میں بھی دیوار پھلانگ کر اندر آ گئی اور باغیچے میں اس کے سر اور منہ پر بوری ڈال کر اس کو قابو کر لیا” نوشین نے دلاویز کو ساری تفصیل بتا دی تو دلاویز نے نوشین کو بوری اتارنے کے لیے اشارہ کیا ۔
“یہ تو رستم کا کارندہ عاشر ہے” دلاویز اس آدمی کا چہرہ دیکھ کر بولی جس کے چہرے سے نوشین نے بوری ہٹائی تھی ۔
” اس کو سٹور روم میں بند کر دو اور اس سے دریافت کرو کہ اس نے میرے گارڈز کو بے ہوش کیوں کیا تھا” دلاویز نے نوشین سے کہا اور پھر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی ۔ دروازے بند کر کے وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنی نگاہیں چھت پر ٹکا دیں ۔ ٹینشن اور پریشانی کی وجہ سے اسے نیند بالکل نہیں آ رہی تھی ۔ کچھ دیر بعد دلاویز انتہائی غصے کی حالت میں اٹھی اور اپنے پرس سے پستول نکال کر سٹور روم کی طرف بڑھ گئی ۔
“نہیں میڈم ایسا مت کریں ، میں ابھی اس کو بجلی کے جھٹکے دیتی ہوں اور یہ سب کچھ بتا دے گا” نوشین نے عاشر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“نہیں نہیں مجھے کچھ مت کرنا میں سب کچھ آپ کو بتاتا ہوں” عاشر روتے ہوئے چلایا
“مجھے میکال نے دلاویز میڈم کو اغواء کرنے کے لیے بھیجا تھا ، اس نے رستم کو بھی اغواء کر رکھا ہے” عاشر کا لہجہ خوف سے لبریز تھا اور اس کی آواز برھا گئی ۔
“جو تم بتا رہے ہو اس بات میں کتنی سچائی ہے ، تم کوئی ثبوت دے سکتے ہو؟” نوشین نے استمہامیہ لہجے میں پوچھا تو عاشر نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
“ثبوت کے طور پر میں آپ کو اس جگہ کا پتہ بتا سکتا ہوں جہاں پر میکال نے رستم کو قید کر رکھا ہے” عاشر ہکلاتے ہوئے بولا
سورج طلوع ہو رہا تھا جب عشان نے دلاویز کو خبر دی کہ رستم صاحب مل گئے ہیں جبکہ میکال پھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔
“مجھے اب میکال کی کوئی ٹینشن نہیں ، رستم اب اسے خود تلاش کر کے کتے کی موت مارے گا اور عاشر کو رستم کو حوالے کر دو اسے بھی غداری کی سزا ملنی چاہیے” دلاویز نے سنجیدہ لہجے میں کہا
“رستم صاحب اس پرچی پر لکھے ہوئے پتہ پر آپ سے ملنا چاہتے ہیں ” عشان نے پرچی دلاویز کو دے دی ۔
“میں تھوزی تیاری کر لوں ، تم نوشین کو خبر کر دو تاکہ وہ حفاظتی انتظامات دیکھ لے” دلاویز نے عشان سے کہا اور خود اپنے روم کی طرف بڑھ گئی ۔
شام کے چھ بجے دلاویز رستم سے ملاقات کے لیے فائیو سٹار ہوٹل سلور سپیرو پہنچ گئی ۔ پانچویں فلور پر روم نمبر تین سو چھتیس تھا جہاں پر رستم بے تابی سے دلاویز کا انتظار کر رہا تھا ۔ اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہو چکی تھیں ۔ دلاویز روم نمبر تین سو چھتیس میں آئی اور رستم کو دیکھتے ہی اسے گلے ملنے کے لیے خوشی سے بازو پھیلا دئیے ۔
“محترمہ! ادھر آؤ یہ دیکھو یہاں سے سمندر کا نظارہ کتنا سہانا اور حسین ہے کیا خوب منظر ہے” رستم نے شیشے کی بڑی سی ونڈو سے باہر سمندر کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا
“رستم! گلے نہیں ملو گے؟” دلاویز نے رستم سے پوچھا
“محترمہ! بعد میں ، پہلے یہ خوبصورت منظر دیکھتے ہیں” رستم نے دلاویز کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو دلاویز رستم کے دائیں پہلو میں کھڑی ہو گئی اور شیشے کی ونڈو سے سمندر کا نظارہ کرنے لگی ۔
“کیا اب بھی زیدون کو یاد کرتی ہو؟” دلاویز رستم کے اس غیر متوقع سوال پر چونک پڑی اور متحیر نگاہوں سے رستم کے چہرے کو دیکھا
“ایک عورت جب کسی سے محبت کرتی ہے تو پھر کسی دوسرے مرد کو سوچنے کا تصور بھی نہیں کرتی ، رستم اب میں بس تمہیں یاد کرتی ہوں اور بس تمہیں سوچتی ہوں ، تم سے محبت کرتی ہوں” دلاویز نے رستم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
“انسان کی سب سے بڑی خواہش کیا ہوتی ہے؟
کسی نے بہت ہی خوبصورت جواب دیا “چاہے جانا”
لیکن کتنی عجیب بات ہے نا کہ جب کوئی شخص ہمیں ٹوٹ کر چاہتا ہے تو ہم اسکی چاہت کو ہر موڑ پر آزماتے ہیں۔ جتنی بلند وہ چاہت ہوتی جاتی ہے، اتنا ہی بلند ہم اپنا معیار کر لیتے ہیں۔ اور جیسے ہی وہ ہمارے معیار تک پہنچتے ہیں، ہم اپنا معیار ہی بدل لیتے ہیں۔
کیا سچ میں انسان کی سب سے بڑی خواہش
“چاہے جانا” ہی ہے؟
دراصل اس چاہے جانے کے خیال سے زیادہ مزہ ہمیں اس شخص کی خامیاں نکالنے میں اور کئی بار اسکو آزمانے میں آتا ہے” رستم نے دلاویز کی زلفوں کو دیکھتے ہوئے کہا
“رستم! میں نے تمہیں کب آزمایا ہے؟” دلاویز کا لہجہ معصومانہ تھا ۔
“شادی کی پہلی رات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ رات مجھے اچھی طرح یاد ہے” رستم کے لہجے میں ناراضگی اور غصہ تھا ۔
“تو اب کیا مجھے تم سے معافی مانگنی پڑے گی؟” دلاویز نے رستم سے پوچھا
“معافی نہیں ملے گی ، اب سزا ملے گی” رستم نے مسکراتے ہوئے کہا
“رستم! میں آج مذاق کے موڈ میں بالکل نہیں ہوں” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا
“میں مذاق نہیں کر رہا میں اس وقت بہت سنجیدہ ہوں” رستم نے دلاویز کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
“اچھا تو کیا سزا دو گے مجھے” دلاویز نے منہ بناتے ہوئے پوچھا
“میں جانتا ہوں کہ تمہیں اپنے نام کی شہرت سے بہت محبت ہے اور اب تو تم اقتدار کا مذا بھی چکھ چکی ہو لیکن اگر تم مجھ سے محبت کرتی ہو تو تمہیں سزا کے طور پر اپنی اقتدار اور شہرت یافتہ زندگی کو چھوڑ کر میرے ساتھ تھائی لینڈ جانا پڑے گا ، میں دو دن تک تھائی لینڈ جا رہا ہوں ، تمہارے پاس سوچنے سمجھنے کے لیے دو دن ہیں” رستم نے مسکراتے ہوئے کہا تو دلاویز متحیر نگاہوں سے رستم کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔
دلاویز ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو دلاویز کے افسردہ چہرے کو دیکھ کر عشان بھی افسردہ ہو گیا ۔
“دلاویز بہن! کیا ہوا ہے؟ آپ اتنی مایوس اور افسردہ کیوں ہیں؟” عشان نے مودبانہ انداز میں کھڑے ہو کر دلاویز سے پوچھا
“میں نے اسمبلی کی نمائندگی سے ریزائن کر دیا ہے اور میرے ریزائن کے بعد خالی سیٹ پر ہونے والے ضمنی الیکشن کے لیے میں نے پارٹی کو تمہارا نام دیا ہے ، اپنے حلقے میں جتنا کام میں نے کروایا ہے میرے نام کے لیبل پر تم یہ ضمنی الیکشن با آسانی جیت جاؤ گے” دلاویز نے آنسو بہاتے ہوئے کہا تو عشان نے بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ دلاویز نے عشان کے ہونٹوں پر شہادت کی انگلی رکھ کر اسے خاموش کروا دیا ۔
“تم اپنی بہن کے فیصلوں پر اعتراض نہیں کر سکتے” دلاویز نے دوسرے ہاتھ سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
“میں آج اپنا سارا بینک بیلنس تمہارے اکاؤنٹ میں منتقل کردوں گی” دلاویز نے عشان سے کہا
“دلاویز بہن! اس سب کے پیچھے کوئی بڑی وجہ ہو گی جو آپ یوں ملک چھوڑ کر جا رہی ہیں؟” عشان نے سوالیہ انداز میں بولتے ہوئے پوچھا تو دلاویز نے وجہ بتانے سے انکار کر دیا اور عشان کو الوداع بول کر چلی گئی
دلاویز رستم کے کارندوں کے ہمراہ ساحل سمندر پہنچی اور وہاں سے آبدوز کے ذریعے کھلے سمندر کی طرف روانہ ہو گئی ۔ کھلے سمندر میں رستم بحری جہاز کے پرآسائش کمرے میں دلاویز کا منتظر تھا ۔ دو گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد دلاویز بحری جہاز کے اس کمرے میں آئی جہاں رستم اس کا انتظار کر رہا تھا ۔ دلاویز کو دیکھتے ہی رستم کی خوشی اپنی انتہا پر تھی ۔ کمرے کے دروازے پر رستم نے دلاویز کا جوتا اتار کر ایک طرف رکھا ۔ اب رستم لکڑی کے فرش پر پھول بچھا رہا تھا اور دلاویز مسکراتے ہوئے ان پھولوں پر پاؤں رکھتے ہوئے قدم بہ قدم آگے بڑھتی چلی گئی ۔ بحری جہاز اب تھائی لینڈ کی طرف روانہ ہو چکا تھا ۔
.
..
……
ختم شد
