Hakoomat by Waheed Sultan NovelR50741 Hakoomat by Waheed Sultan Episode02
No Download Link
267K
19
Rate this Novel
Hakoomat by Waheed Sultan Episode01 Hakoomat by Waheed Sultan Episode02 (Watching)Hakoomat by Waheed Sultan Episode03 Hakoomat by Waheed Sultan Episode04 Hakoomat by Waheed Sultan Episode05 Hakoomat by Waheed Sultan Episode06 Hakoomat by Waheed Sultan Episode07 Hakoomat by Waheed Sultan Episode08 Hakoomat by Waheed Sultan Episode09 Hakoomat by Waheed Sultan Episode10 Hakoomat by Waheed Sultan Episode11 Hakoomat by Waheed Sultan Episode12 Hakoomat by Waheed Sultan Episode13 Hakoomat by Waheed Sultan Episode14 Hakoomat by Waheed Sultan Episode15 Hakoomat by Waheed Sultan Episode16 Hakoomat by Waheed Sultan Episode17 Hakoomat by Waheed Sultan Episode18 Hakoomat by Waheed Sultan Last Episode
Hakoomat by Waheed Sultan Episode02
Hakoomat by Waheed Sultan Episode02
دلاویز فون کال سننے کے بعد عروشہ کی طرف پلٹی تو اس نے دلاویز کو سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔
“پولیس اہلکارہ ذونیا نے فون کیا تھا ، اس نے ملاقات کے لیے جی ایف سی ہوٹل بلایا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہہ رہی تھی کہ بسیمہ کو بازیاب کروانے میں ہماری مدد کرنا چاہتی ہے” دلاویز نے عروشہ کو بتایا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“آپ کی دوست بسیمہ کو شیرشاہ کے بیٹے شاہذل شاہ نے اغواء کیا ہے ، پولیس ڈیپارٹمنٹ میں شیرشاہ اور اس کے بیٹے کا کافی اثر و رسوخ ہے اور اسی وجہ سے پولیس چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہی لیکن آپ فکرمند نہ ہوں ،میں بسیمہ کو بازیاب کروانے میں آپ کی مدد کروں گی” لیڈی پولیس اہلکارہ ذونیا نے دلاویز اور عروشہ سے کہا
“کھانا کھانے کے بعد ہم پلان کے مطابق اپنی تیاری کریں گے اور تب تک ناصر یہ معلوم کرے گا کہ بسیمہ کو اغواء کرنے کے بعد کہاں رکھا گیا ہے”لیڈی پولیس اہلکارہ ذونیا نے کہا اور پھر تینوں لڑکیاں کھانا کھانے میں مصروف ہو گئیں ۔ کھانا کھانے کے بعد دلاویز نے بل پے Pay کرنے کے لیے گرل ویٹرس کو بلایا تو اس نے فیملی ہال کے باہر کھڑے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے ان کے کھانے کا بل پے Pay کر دیا تھا ۔ ویٹرس کی بات سنتے ہی دلاویز کاؤنٹر کی طرف بڑھی ۔
“جب کھانے کا آرڈر ہم نے دیا تھا تو بل کے پیسے آپ کسی اور سے کیسے وصول کر سکتے ہیں؟” کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی سے دلاویز نے پوچھا
“وہ صاحب کہہ رہے تھے کہ وہ بھی آپ کے ساتھ آئے ہیں بس وہ فیملی ہال میں آنے سے ہچکچا رہے تھے” دلاویز کے پاس کھڑی ویٹرس بولی پڑی ۔ دلاویز نے فیملی ہال کے باہر دیکھا تو وہ شخص اب وہاں سے جا چکا تھا اور وہ غصے اور بے بسی سے دیکھ کر رہ گئی ۔ عروشہ اور دلاویز ہوٹل سے باہر آئیں تو رکشا میں بیٹھ گئیں ۔ اب پولیس اہلکارہ ذونیا بھی ان کے ساتھ تھی ۔ ذونیا انہیں ایک پرانی عمارت میں لے گئی ۔ وہاں پر بہت سی شیشے کی بوتلیں پڑی تھیں ۔
“ان تمام بوتلوں میں برابر مقدار میں پانی اور چونا ڈال کر ان کے ڈھکن بند کر دیں ” ذونیا نے عروشہ اور دلاویز سے کہا اور خود سیل فون پر پولیس اہلکار ناصر کا نمبر ڈائل کر دیا ۔
“بس پانچ منٹوں میں آ رہا ہوں ، آ کر ہی ساری تفصیل بتاؤں گا” سیل فون پر دوسری طرف سے رابطہ ہوتے ہی ناصر نے کہا اور کال منقطع ہو گئی ۔
چند منٹوں بعد ناصر دو بڑے بیگ لے کر وہاں آیا اور ذونیا کے کہنے پر عروشہ اور دلاویز نے تمام بوتلیں ان بیگوں میں ڈال دیں ۔
“ٹینگلو روڈ سے بارہ کلومیٹر مغرب کی جانب ایک فارم ہاؤس میں بسیمہ کو رکھا گیا ہے اور شام سات بجے کے قریب شاہذل شاہ فارم ہاؤس پہنچے گا ، بس اتنی سی معلومات ہی مل سکی” پولیس اہلکار ناصر نے ذونیا کو بتاتے ہوئے کہا
“ٹھیک ہے ، ہم بھی سات بجے فارم ہاؤس پہنچ جائیں گے” ذونیا نے عروشہ اور دلاویز کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“رینٹ کی کار باہر کھڑی ہے اور یہ اس کی چابی ہے” ناصر نے چابی ذونیا کو دیتے ہوئے کہا اور چلا گیا ۔
شام کے سات بجے شاہذل شاہ فارم ہاؤس پہنچ چکا تھا سو سے زائد گارڈز فارم ہاؤس میں موجود تھے ۔ شاہذل کے آنے کے بیس منٹوں بعد ایک سیاہ رنگ کی کار فارم ہاؤس سے چار سو میٹر کے فاصلے پر روکی ۔ ذونیا ، دلاویز اور عروشہ تینوں نے عبایا پہن رکھا تھا ۔ ذونیا نے کار سے باہر نکلتے ہی فارم ہاؤس کے داخلی گیٹ کے باہر کھڑے گارڈز پر گولیاں فائر کر دیں ۔ تب دلاویز اور عروشہ بھی بوتلوں سے بھرے بیگ لے کر کار سے باہر نکلیں ۔ گولیوں کی آواز سن کر مزید گارڈ فارم ہاؤس سے باہر نکلے تو عروشہ نے چونے اور پانی کے مکسچر سے بھری ہوئی دو بوتلیں گارڈز کی طرف پھینک دیں ۔ بوتلیں زمین پر گرتے ہی ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گئیں ۔ اور اسی دوران ذونیا نے فائرنگ کر کے دیوار کے کھڑے گارڈز کو مار گرایا ۔ جو گارڈز دھماکے کا شکار ہوئے تھے ان کے جسموں میں شیشے کی بوتلوں کی کرچیاں دھنس چکی تھیں اور وہ زمین پر گر گئے تھے ۔ گیٹ اب کھل چکا تھا وہ تینوں گیٹ کی طرف بڑھ گئیں اور یکے بعد دیگرے کئی بوتلیں مختلف سمتوں میں پھینک دیں ۔ پورا فارم ہاؤس بوتلیں پھٹنے کے دھماکوں سے گونج اٹھا ۔ شاہذل شاہ اس کمرے کی طرف جا رہا تھا جہاں بسیمہ کو رکھا گیا تھا ۔ گارڈز کی چیخوں کے شور کی آوازیں سن کر شاہذل کے قدم روک گئے ۔ شاہذل نے ریوالور نکالا اور واپس فارم ہاؤس کے برآمدے کی طرف مڑا ۔ ذونیا نے گیند نما دھواں پھیلانے والے چھوٹے چھوٹے گولے دلاویز اور عروشہ کو دئیے اور انہیں استمعال کرنے کے بارے میں ہدایات بھی دے دیں اور خود مرکزی برآمدے کی طرف چلی گئی ۔ دلاویز نے کچھ گارڈز کو زخمی ہونے کے باوجود اٹھتے ہوئے دیکھا تو اس نے دھواں پھیلانے والا گولا ان پر پھینک دیا ۔ دوسری طرف سے شاہذل شاہ عروشہ اور دلاویز کی طرف آ رہا تھا ۔ شاہذل نے پستول کا رخ ان کی طرف کیا تھا کہ اس کے پاؤں میں چار بوتلیں آ کر گریں ۔ بوتلیں گرتے ہی کرچیوں میں تبدیل ہو گئیں اور شاہذل زخمی ہو گیا ۔ شاہذل نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن اب اسے سیاہ دھواں کے علاوہ کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور اس نے دھواں میں ہی تین گولیاں فائر کر دیں جو شاید اس کے اپنے ہی کسی گارڈ کو لگیں تھیں ۔
تہہ خانہ کے ساؤنڈ پروف کمرے میں ایک بڑی توند والاادھیز عمر شخص سیٹھ بستانی قالین پر لیٹے لیٹے کرسٹل کے نشے میں مگن تھا کہ اس کا فون بج اٹھا ۔ اس نے کال رسیو کی اور کچھ بات چیت کی اور کال منقطع کر دی ۔ چند سیکنڈز کے بعد بیس سے بائیس سال کی عمر کا ایک نوجوان دروازہ کھول کر کمرے میں آیا تو سیٹھ بستانی نے اسے رستم کے نام سے مخاطب کیا ۔
“سیٹھ صاحب ! بہت کمال کی خبر لایا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ کل شیرشاہ کے بیٹے شاہذل نے ایک لڑکی کو اغواء کروا لیا تھا لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ اس لڑکی کی سہیلیوں نے شاہذل کے فارم ہاؤس پر حملہ کر دیا اور اسی بات کا فائدہ اٹھا کر ٹومی نے شاہذل کے تمام گارڈز کو قتل کروا دیا” رستم نے سیٹھ بستانی سے کہا
“لیکن ٹومی تو شیر شاہ کا خاص آدمی تھا؟” سیٹھ بستانی نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا
“ہاں وہ شیرشاہ کا خاص آدمی تھا لیکن جب شیر شاہ کے بیٹے شاہذل کو پتا چلا کہ ٹومی اپنا ذاتی مافیا گینگ بنا رہا ہے تو اس نے اپنے باپ شیرشاہ کو خبر دئیے بغیر خفیہ طور پر ٹومی کے گینگ کے گینگ کا خاتمہ کر دیا اور ٹومی بڑی مشکل سے جان بچا کر روپوش ہو گیا تھا” رستم نے سیٹھ بستانی کے سوال کا جواب دیا
“تمہیں یہ ساری خبریں کہاں سے ملیں؟” سیٹھ بستانی نے رستم سے غیر متوقع سوال پوچھا
“جب شاہذل نے آپ کے گینگ کا خاتمہ کیا تھا اور آپ کو روپوش ہونے پر مجبور کر دیا تھا میں نے تب ہی ٹھان لی تھی کہ شاہذل کے گینگ کا خاتمہ میں کروں گا اور ابتدا میں ہی میں نے شاہذل کے فارم ہاؤس کی ایک ملازمہ خرید لی تھی اور فارم ہاؤس میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اور جو باتیں وہ ملازمہ سننے میں کامیاب ہوتی ہے سب کی مجھے خبر ہوتی ہے” رستم نے پر مسرت لہجے میں کہا
“جس لڑکی کو شاہذل نے اغوا کروایا تھا وہ لڑکی بلاشبہ بہت خوبصورتی لڑکی ہو گی ، تم اس لڑکی سے ہماری ملاقات کا بندوبست کرو شاید وہ لڑکی ہمارے دل کو اچھی لگے اور ہمیں اس لڑکی سے عشق ہو جائے” سیٹھ بستانی نے طنزیہ لہجے میں کہا تو رستم بھی کھکھلا کر ہنس پڑا ۔
“اور ہاں ایک کام یہ کرو کہ جن لڑکیوں نے فارم ہاؤس پر حملہ کیا تھا ان کے بارے میں معلوم کرو کہ وہ کون لڑکیاں ہیں اور ان کے بارے میں معلومات ملتے ہی ان کی نگرانی کرواؤ” سیٹھ بستانی کی بات سن کر رستم حیران ہو گیا ۔
” مجھے یقین ہے کہ شاہذل ان لڑکیوں سے بدلہ لینے کے لیے ان کا شکار ضرور کرے گا اور وہی سنہری موقع ہو گا اس کے مزید کارندوں کو قتل کرنے کا” سیٹھ بستانی نے کہا اور ایک زوردار قہقہ لگایا
“میرے خیال میں شاہذل کو پتا چلے گا کہ فارم ہاؤس پر ہونے والے حملے میں ٹومی بھی ملوث ہے تو وہ ٹومی کو تلاش کر کے اسے مارنے کی کوشش کرے گا اور یہ وہی موقع ہو گا جب ہم ٹومی کو تحفظ دیں گے تو وہ ہمارے ساتھ ہاتھ ملا لے گا اور ہماری طاقت دوگنی ہو جائے گی” رستم نے مسکراتے ہوئے کہا
رات کے آٹھ بج رہے تھے دلاویز کا سیل فون بار بار بج رہا تھا لیکن کال نامعلوم نمبر سے آ رہی تھی اس لیے وہ کال رسیو نہیں کر رہی تھی ۔ جب پانچویں بار کال آئی تو دلاویز نے فون ارماز ناگی کو دے دیا ۔ ارماز ناگی نے کال رسیو کی اور کال پر بات کرنے کے بعد دلاویز کو بتایا کہ بسیمہ کی ماں کی کال تھی ۔ اب دلاویز فوری طور پر بسیمہ کے گھر گئی اور بسیمہ کی ماں سے بسیمہ کے بارے میں دریافت کیا ۔
“بیٹی! صبح تمہارے جانے کے بعد بسیمہ نے خود کو کمرے میں بند کر لیا اور پورا دن گزر گیا ابھی تک وہ دروازہ نہیں کھول رہی” بسیمہ کی ماں نے دلاویز کو بتایا تو دلاویز بسیمہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
“بسیمہ! پلیز دروازہ کھولو مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے” دلاویز نے بلند آواز میں کہا اور کچھ دیر انتظار کیا لیکن بسیمہ نے دروازہ نہیں کھولا
“بسیمہ! اگر تم دروازہ نہیں کھولو گی تو میں باسم کو بلا لوں گی” دلاویز نے اب کی بار بلند کی بجائے دھیمے لہجے میں کہا تھا تو بسیمہ نے فوری طور پر دروازہ کھول دیا ۔ کمرے کا اندرونی منظر دلاویز کے لیے بہت عجیب تھا ۔ بسیمہ کا لباس ، اس کے ہاتھ اور چہرہ خون آلود تھے اور کمرے کے وسط میں بسیمہ کے بھائی خومیر کی لاش پڑی تھی ۔ دلاویز نے ایک بار ادھر اودھر دیکھا اور پھر کپڑے سے بسیمہ کے ہاتھ اور چہرے کو صاف کیا ۔ اب دلاویز نے بسیمہ کے بستر کی چادر اٹھائی اور بسیمہ کے جسم کے گرد لپیٹ دی اور یوں دلاویز بسیمہ کا خون آلود لباس چھپانے میں کامیاب ہو گئی ۔ دلاویز نے بسیمہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ لے گئی اور ان کے جانے کے بعد بسیمہ کی ماں اور اس کا بھائی جواد کمرے میں آئے ۔ اپنے چھوٹے بھائی خومیر کی لاش دیکھ کر وہ آگ بگولا ہو گیا ۔ وہ جوش کے ساتھ اٹھا ہی تھا کہ اس کی ماں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
“وہ تمہاری بہن ہے” ماں نے سسکیوں کے ساتھ روتے ہوئے کہا
“اب وہ میرے بھائی کی قاتل ہے” جواد نے سرد لہجے میں کہا اور ماں سے ہاتھ چھڑوا کر چلا گیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز نے بسیمہ کے منگیتر باسم کو فون کر کے بسیمہ کی ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو باسم دلاویز کے بتائے ہوئے ایڈریس پر آیا اور بسیمہ کو اپنے ساتھ لے گیا
سیلی بیبی نیلم پوری کی پرانی ویران مسجد کی صفائی کرنے میں مصروف تھی کہ ایک نوجوان مسجد میں آیا ۔
“اماں! اس مسجد میں تو کوئی بھی نماز پڑھنے نہیں آتا تو آپ مسجد کی صفائی کیوں کر رہی ہو” نوجوان نے کہا تو سیلی بیبی مسکرا پڑی ۔
“میں تو بس اس لیے مسجد کی صفائی کر رہی ہوں کہ مسلمانوں کا خدا میری اس محنت کی اجرت عطا کر دے اور اس محنت کی اجرت میں خدا مجھے وہ عطا کر دے جو میں نے اس سے مانگا ہے” سیلی بیبی نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“مطلب آپ مسلمان نہیں اسی لیے آپ ہمارے رب کو مسلمانوں کا خدا کہہ رہی ہو؟” نوجوان نے سیلی بیبی سے پوچھا
“ہاں تم صیح سوچ رہے ہو ایسا تو صرف ایک غیر مسلم عورت ہی کہہ سکتی ہے” سیلی بیبی نے نوجوان کی بات کی تصدیق کی ۔
“میں ایک مسلمان ہوں اور اگر میں صیح سوچ رہا ہوں تو میرا خیال ہے کہ میرے رب آپ کو اجرت میں ایمان کی دولت دینا چاہتا ہے اور انعام کے طور پر آپ کو وہ دینا چاہتا ہے جو آپ نے ہمارے رب سے مانگا ہے” نوجوان نے مسکراتے ہوئے کہا تو سیلی بیبی نے فکرمندانہ انداز میں اسے دیکھا
“ویسے آپ نے ہمارے رب سے کیا مانگا ہے؟”نوجوان نے سیلی بیبی سے پوچھا
“میری ایک بہت ہی اچھی دوست تھی غریدہ ۔ ۔ ۔ ۔ غریدہ کی ایک بیٹی دلاویز تھی جسے ایک عورت غریدہ کی موت کے بعد پرورش کے لیے لے گئی تھی ۔ دلاویز غریدہ کی نشانی ہے اس لیے میں دلاویز سے ملنا چاہتی ہوں اور دلاویز میں اپنی دوست غریدہ کو تلاش کرنا چاہتی ہوں اور میں نے مسلمانوں کے رب سے دلاویز کی قربت ہی تو مانگی ہے” سیلی بیبی نے نوجوان کے سوال کا جواب دیا
“آپ کا مذہب کون سا ہے؟” نوجوان نے پوچھا
“ہندو” سیلی بیبی نے مختصر جواب دیا
“اگر آپ کو دلاویز سے ملوا دوں تو کیا آپ مسلمان ہو جائیں گی؟” نوجوان نے پوچھا
“میں اپنے گھر میں جو بت رکھا تھا وہ میں نے توڑ دیا تھا اور اب مندر جانے کی بجائے مسجد آتی ہوں اور مسجد میں تم لوگ جس کی عبادت کرتے ہو اسی سے گلہ شکوہ کرتی ہوں ، دل سے تو مسلمان ہو چکی ہوں اور اب زبان سے اقرار کرنا باقی ہے”سیلی بیبی نے کہا
“اور جب آپ زبان سے کلمہ پڑھ لیں گی تو سمجھ لینا کے زبان سے اقرار بھی ہو گیا” نوجوان نے مسجد کی اکلوتے مینار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“اگر اقرار کرنا اتنا آسان ہے تو میں ابھی اسی وقت کلمہ پڑھنا چاہتی ہوں” سیلی بیبی نے کہا تو نوجوان نے ٹھہر ٹھہر کر کلمہ پڑھا اور سیلی بیبی کلمہ کے الفاظ دہراتی گئی
“میرا نام میکال ہے اور میں بہت جلد آپ کو دلاویز سے ملوا دوں گا” نوجوان نے کہا
.
.
جاری ہے.
