Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hakoomat by Waheed Sultan Episode04

Hakoomat by Waheed Sultan Episode04

بسیمہ نے عدالت کو بتایا کہ اس کے بھائی خومیر نے شاہذل سے ادھار اسلحہ خریدا تھا لیکن وہ اسلحہ بکنے سے پہلے ہی چوری ہو گیا تھا ، شاہذل کو دینے کے لیے بھائی کے پاس پیسے نہیں تھے اور بھائی دھوکے سے مجھے شاہذل کے فارم ہاؤس لے گیا اور اسلحے کی قیمت کے طور پر مجھے شاہذل کی چوکھٹ پر پھینک دیا اور خود تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف میرے اغواء ہونے کی ایف آئی آر درج کروا دی ، بھائی کا خیال تھا کہ اب میں کبھی گھر واپس نہیں آؤں گی لیکن خلاف توقع مجھے اپنے کمرے میں دیکھ کر وہ میری سوالیہ نظروں کا سامنا نہ کر سکے اور انہوں نے خودکشی کر لی ۔
پولیس انسپیکٹر نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ جائے وقوع سے حاصل ہونے والے چاقو کے دستے پر بسیمہ کے فنگر پرنٹس ہیں جبکہ چاقو کے دھاڑ والے حصے پر خومیر کے فنگر پرنٹس ہیں اور اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بسیمہ نے چاقو کو دستے سے پکڑ کر خومیر پر حملہ کیا اور خومیر نے اپنے دفاع کے طور پر چاقو کا کاٹدار حصہ پکڑا ۔ بسیمہ کے بڑے بھائی جواد نے عدالت سے کہا کہ موقع واردات کے بعد دلاویز نے مجرمہ کو فرار کروایا تھا لہذا دلاویز کو بھی تفتیش کے لیے گرفتار کیا جائے ۔ عدالت نے بسیمہ ، جواد اور پولیس انسپیکٹر کے بیانات اور دونوں وکیلوں کی بحث سننے کے بعد بسیمہ کی ضمانت کی اپیل مسترد کر دی اور دلاویز کی گرفتاری کا حکم دیا ۔ عدالت سے باہر نکلتے ہی دلاویز کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور بیس منٹوں بعد جب پولیس وین جیل کے گیٹ کے سامنے روکی ۔ دو لیڈی پولیس اہلکارہ بسیمہ اور دلاویز کو لے کر جیل جا رہی تھیں کہ تیس سالہ ایڈووکیٹ میشا چوہدری جیل گیٹ پر اپنے ہاتھ میں دلاویز کا ضمانت نامہ پکڑے کھڑی تھی ۔ لیڈی پولیس اہلکارہ نے ضمانت نامے کی دستاویز دیکھی اور دلاویز کو ہتھکڑی سے آزاد کر دیا ۔
“ابھی آدھا گھنٹہ پہلے عدالت نے میری گرفتاری کا حکم دیا اور پھر اتنی جلدی مجھے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم بھی دے دیا ، عجیب عدالت ہے اور عجیب اس ملک کا قانون ہے” دلاویز نے شانے اچکاتے ہوئے کہا
“وکیل صاحبہ آپ نے جیل پہنچنے سے پہلے ہی میری ضمانت کروا دی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کس طرح آپ کا شکریہ ادا کروں اور آپ کی فیس کتنی ہے؟” دلاویز نے ایڈووکیٹ مشا چوہدری سے پوچھا
“فیس تو ادا کر دی گئی ہے اور اگر آپ شکریہ ادا کرنا ہے تو سیٹھ بستانی کا شکریہ ادا کرو جنہوں نے آپ کی ضمانت کروانے کے لیے مجھ جیسی قابل لائیر کا انتخاب کیا” ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے مسکراتے ہوئے کہا
“سیٹھ بستانی” دلاویز نے بڑبڑاتے ہوئے ایڈووکیٹ مشا چوہدری کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا
“ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ سیٹھ بستانی نے مجھے آپ کی ضمانت کروانے کا کہا تھا اور سیٹھ بستانی نے ہی پیشگی میں فیس ادا کی” ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے دلاویز کو بتایا تو دلاویز نے ایڈووکیٹ مشا چوہدری سے سیٹھ بستانی کا سیل نمبر لے لیا اور پھر کار کی عقبی سیٹ پر بیٹھ گئی تو نوری بیگ نے کار کا دروازہ بند کیا اور پھر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی کار چلا دی ۔
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
دلاویز ارماز ناگی کے پاس بیٹھی تھی اور اس نے ارماز ناگی کو اپنی گرفتاری اور ضمانت کے بارے میں بتانے لگی تو ارماز ناگی نے اسے چپ رہنے کے لیے اشارہ کر دیا
“کالج کی چار دیواری سے باہر تم کیا کرتی ہو ، کہاں جاتی ہو اور کس سے ملتی ہو اس سب کی مجھے خبر ہوتی ہے لیکن آج ایک بات سے میں بے خبر ہوں کہ ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے کس کے کہنے پر تمہاری ضمانت کروائی” ارماز ناگی نے دلاویز کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
” میں نے پوچھا تھا لیکن ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے اس کا نام نہیں بتایا” دلاویز نے پورے اعتماد کے ساتھ ارماز ناگی کے چہرے دیکھتے ہوئے کہا
“میرے ساتھ آؤ بیٹی تمہیں کچھ دکھانا ہے” ارماز ناگی نے بات کا موضوع بدلتے ہوئے کہا تو دلاویز ارماز ناگی کے ساتھ چلتے ہوئے کار کی طرف بڑھ گئی ۔ کار شہر کے گنجان آباد علاقے میں روکی ۔
“یہ جی جے پلازہ اور اس کے اطراف کی دونوں عمارتیں اب تمہاری ملکیت ہیں” ارماز ناگی نے جی جے پلازہ کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر دیکھا جبکہ دلاویز نے حیرت سے پھیلی آنکھوں سے ارماز ناگی کو دیکھا
“ناگی بابا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سچ میں؟” دلاویز نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا
“ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب میں اپنی ساری جمع شدہ دولت خرچ کرنا چاہتا ہوں” ارماز ناگی نے پانچ منزلہ جی جے پلازہ کو دیکھتے ہوئے کہا
” ناگی بابا! ایک بات پوچھو؟” دلاویز نے ارماز ناگی سے پوچھا
” نہیں بیٹی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم جو بات مجھ سے پوچھنا چاہتی ہو میں اجازت نہیں دیتا کہ مجھ سے وہ بات پوچھو جو میں بتانا نہیں چاہتا” ارماز ناگی نے سنجیدہ انداز میں کہا تو دلاویز کے چہرے پر اب حیرت اور مسکراہٹ کی بجائے سنجیدگی کے تاثرات عیاں تھے ۔
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
دلاویز ایم اے نیشنل کالج کے گیٹ نمبر تین سے باہر نکلی تو اس پر کسی نے کچھ پھول پھینکے تو وہ فوری طور پر واپس پلٹی ۔ اس کے پیچھے اٹھارہ سے بیس سال کی عمر کا لڑکا مخالف سمت میں جا رہا تھا ۔ دلاویز نے وہ پھول اٹھائے اور اس لڑکے کے ہاتھ میں تھمادئیے ۔
“یہ لو اپنے پھول اور گھر جا کر اپنی بہن کو دے دینا” وہ غصے سے چلائی تھی تو اس لڑکے نے دلاویز پر پھول پھینکنے سے انکار کر دیا تھا ۔ تب دلاویز کو خیال آیا کہ یہ کام میکال ہی کر سکتا ہے تو اس نے سر کو جھٹکا اور خود کو نارمل کر کیا اور پھر چاروں اطراف میں میکال کو متلاشی نگاہوں سے ڈھونڈا تو اسے کچھ فاصلے پر ایک لڑکا دیکھائی دیا ۔ اس کا چہرہ دوسری طرف تھا اور تیز تیز قدموں سے چلتا جا رہا تھا ۔ دلاویز نے اس کے پیچھے بھاگنا شروع کیا تو وہ لڑکا بھی بھاگنے لگا ۔ اس کے ساتھ ہی دلاویز کا فون بج اٹھا اور وہ بھاگتے ہوئے روک گئی ۔ دلاویز نے پرس سے سیل فون نکالا اور اسکرین پر دیکھا ۔ کسی نامعلوم نمبر سے کال آ رہی تھی ۔ دلاویز نے کال رسیو نہیں کی اور دوبارہ بھاگتے ہوئے لڑکے کی طرف دیکھا تو وہ نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا ۔ فون دوبارہ بج اٹھا اور اس بار کسی دوسرے نامعلوم نمبر سے کال آ رہی تھی تو دلاویز نے کال رسیو کر لی ۔ دوسری طرف سے ایڈووکیٹ مشا چوہدری بات کر رہی تھی ۔ ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے دلاویز کو کسی ضروری کام کا کہہ کر اپنے آفس بلایا تھا ۔ وہ بذریعہ ٹیکسی ایڈووکیٹ مشا چوہدری کے آفس پہنچی ۔ ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے دلاویز کو اپنے آفس میں خوش آمدید کہا ۔ آفس کی چاروں اطراف میں شیشہ لگایا گیا تھا ۔ دلاویز سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ شیشہ دیواروں پر لگایا گیا ہے یا پھر کسی روم کے اندر شیشے کی دیواروں کا ایک چھوٹا سا کیبن بنایا گیا ہو ۔ ایک دس سالہ لڑکے نے ایڈووکیٹ مشا چوہدری اور دلاویز کے درمیان پڑی ہوئی میز پر چائے کے دو کپ اور پکوڑوں سے بھری ہوئی پلیٹ رکھ دی ۔ دلاویز نے دس سالہ لڑکے کو دیکھا ۔ دیکھنے میں وہ کسی پٹھان کا بیٹا معلوم ہو رہا تھا ۔
” آپ نے مجھے کسی ضروری کام کا کہہ کر یہاں بلایا تھا؟” دلاویز نے ایڈووکیٹ مشا چوہدری سے پوچھا
“پہلے چائے پیو اور پکوڑے کھاؤ پھر بتاتی ہوں ضروری کام کے بارے میں” ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے کہا تو دلاویز نے چائے کا کپ اٹھایا تو ساتھ ہی ایڈووکیٹ مشا چوہدری کے سیل فون کی اسکرین روشن ہو گئی ۔ اس نے کال رسیو کی اور بات کرنے کے بعد کال منقطع کر دی ۔
“سیٹھ بستانی کی کال تھی ، میں سیٹھ صاحب سے کسی اہم معاملے کے سلسلے میں ملاقات کے لیے جا رہی ہوں” ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے دلاویز سے کہا
“کیا تم بھی میرے ساتھ چلو گی؟” ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے دلاویز سے پوچھا
“مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے” دلاویز نے لاپرواہی سے کہا اور جلدی سے چائے پی اور نقاب درست کر کے ایڈووکیٹ مشا چوہدری کے ساتھ چل دی ۔
“لیکن جس ضروری کام سے آپ نے مجھے آفس بلایا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” دلاویز نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا اور ایڈووکیٹ مشا چوہدری کو سوالیہ نظروں سے دیکھا
“سوری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب وہ ضروری کام مجھے یاد نہیں آ رہا”ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے کہا
“ایک لائیر کی یاد داشت اتنی کمزور ہو سکتی ہے مجھے تو بالکل یقین نہیں آ رہا” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا تو ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے دلاویز کو کوفت بھری نگاہوں سے دیکھا اور کار دائیں طرف موڑ دی ۔ کار ایک عام سے ہوٹل کے سامنے روکی جہاں پر مزدوروں کی کافی تعداد کھانا کھانے میں مصروف تھی ۔ ایڈووکیٹ مشا چوہدری ہوٹل کے ساتھ ایک چھوٹی گلی میں داخل ہوئی اور پھر گلی کے اندر دائیں طرف پہلے دروازے سے اندر چلی گئی ۔ دروازے کے اندر راہداری سے گزرتی ہوئی وہ اس کمرے میں چلی گئی جہاں پر سیٹھ بستانی اس کا انتطار کر رہا تھا ۔ ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے رسمی گفتگو کی اور سیٹھ بستانی کو دلاویز کا تعارف کروایا ۔
“آپ کی کوشش کی وجہ سے ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے میری ضمانت کروائی تھی اور جیل میں داخل ہونے سے پہلے ہی مشا صاحبہ ضمانت کو نوٹس لے کر پہنچ گئیں اور اس سب کے لیے میں آپ کی شکر گزار ہوں لیکن اصل خوشی مجھے تب ہو گی جب آپ مشا صاحبہ کو ادا کی گئی فیس واپس لے لیں گے اور پھر میں اس فیس کی ادائیگی ازخود کروں گی” دلاویز سیٹھ بستانی کو کہہ رہی تھی اور اس دوران سیٹھ بستانی کتراتی نگاہوں سے دلاویز کے نقاب شدہ چہرے کو دیکھ رہا تھا اور دلاویز بھی محسوس کر رہی تھی کہ اس کے نقاب شدہ چہرے کو اسے احساس دلائے بنا دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
“مطلب یہ کہ آپ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ کوئی آپ پر احسان کرے” سیٹھ بستانی نے دلاویز سے کہا
“جی بالکل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات میری فطرت میں شامل ہے” دلاویز نے سنجیدہ لہجے میں کہا
“اگر اگلی پیشگی میں تمہاری دوست بسیمہ بے قصور ثابت ہو جائے اور عدالت اسے باعزت رہا کر دے تب بھی تمہاری فطرت نہیں بدلے گی؟” ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے سوالیہ انداز میں دلاویز سے پوچھا
“بسیمہ کبھی بھی بسند نہیں کرے گی کہ اس کی دوست کسی کے احسان تلے دب جائے اور بدلے میں اسے قید سے رہائی ملے ، وہ خوددار لڑکی ہے اور کسی کا احسان نہ لینا یہ بات میں نے بسیمہ سے ہی سیکھی تھی” دلاویز نے ایڈووکیٹ مشا چوہدری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“اگر آپ کی خوشی اسی بات میں ہے تو پھر میں مشا صاحبہ سے اپنا کیش واپس لے لوں گا اور آپ مشا صاحبہ کو فیس کی رقم ادا کر دینا” سیٹھ بستانی نے دلاویز سے کہا
“اور ہاں اگلی پیشگی سے پہلے ہی بسیمہ کا بھائی جواد اپنا کیس واپس لے لے گا اور بسیمہ جیل سے رہا ہو جائے گی” سیٹھ بستانی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا
“مگر یہ کیسے ممکن ہو گا؟” دلاویز نے پوچھا
“اس کو کیسے ممکن بنانا ہے؟ یہ بات آپ مجھ پر اور مشا پر چھوڑ دو” سیٹھ بستانی نے کہا تو دلاویز نے اثبات میں سر ہلا دیا
“اس کام کی علیحدہ سے فیس ہو گی” ایڈووکیٹ مشا چوہدری نے کہا
“نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا کام کی کوئی فیس نہیں ہو گی بس بسیمہ کی رہائی کو خوشی میں مجھے کسی فائیو سٹار ہوٹل میں ڈنر کروا دینا تا کہ آپ کو یہ محسوس نہ ہو کہ آپ پر کسی نے احسان کیا ہے” سیٹھ بستانی نے مسکراتے ہوئے کہا تو دلاویز نے Ok کہہ دیا ۔
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
ایکس اسٹوڈنٹ فیڈریشن کا صدر حمود خان فیڈریشن سیکرٹری عشان کے ہمراہ یونیورسٹی کیفے میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔
“ایک لڑکی نے ہماری فیڈریشن کی رکنیت کے لیے اپلائی کیا ہے” عشان نے حمود خان سے کہا
“کیا وہ لڑکی اسی یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ ہے؟” حمود خان نے پوچھا
“وہ لڑکی ایم اے نیشنل کالج کی اسٹوڈنٹ ہے” عشان نے حمود کو بتایا
” اس لڑکی نے ایپلیکیشن فارم میں فیڈریشن میں شامل ہونے کا کوئی مقصد یا کوئی وجہ لکھی ہے؟” حمود نے عشان سے دوسرا سوال پوچھا
” جی ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے بہت عجیب سا مقصد لکھا ہے ، وہ فیڈریشن میں شامل ہو کر اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کرنا چاہتی ہے اور اپنا نام روشن کرنا چاہتی ہے” عشان نے حمود کو بتایا
“شہرت کی بھوکی لڑکی ہے اور شہرت حاصل کرنا چاہتی ہے” حمود نے کہا
“نام کیا ہے اس لڑکی کا؟” حمود نے پوچھا
“اس کا نام دلاویز ہے” عشان نے کہا
“اس کو رکنیت کا کارڈ دے دو اور دلاویز کے رولز Rules پیپر میں ایک رول یہ بھی لکھوا لینا کہ فیڈریشن کی تمام میٹنگز Meetings میں وہ عبایا پہن کر آیا کرے گی” حمود خان نے عشان کو ہدایات جاری کر دیں تھی ۔
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
شام کے چار بج رہے تھے دلاویز سو کر اٹھی تو اس کے سیل فون پر دس میسیج آئے تھے ۔ پہلا میسیج یہ تھا ۔
“آج پہلی بار کسی لڑکی کو کسی لڑکے کے پیچھے بھاگتے دیکھ کر دل کو جو خوشی اور سکون ملا اس جیسی خوشی اور سکون پہلے کبھی میسر نہیں آیا تھا”
دوسرے میسیج کی عبارت کچھ یوں تھی ۔
” آج تم جس لڑکے کو میکال سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی وہ لڑکا میکال نہیں بلکہ میکال کا دوست تھا اور میکال تو گاڑی میں بیٹھ کر تمہیں اس لڑکے کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھ رہا تھا”
تیسرا میسیج یہ تھا ۔
“جن سے ہمیں محبت ہوتی ہے نہ ان کے جھگڑے میں ان کے غصے میں اور ان کی ناراضگی میں بھی اپنا پن اور محبت کا احساس ہوتا ہے
ان کے کڑوے سے لفظوں میں بھی مٹھاس سی ہوتی ہیں
اور جب وہ مجھ سے اک لمحہ بھی بات نہ کرے تو اُداسی اور ادھورا پن سا محسوس ہوتا ہے
جیسے وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں” چوتھا میسیج پڑھنے سے پہلے ہی دلاویز نے وہ نمبر ڈائل کر دیا جس نمبر سے میسیجز آئے تھے ۔
“السلام و علیکم” رابطہ قائم ہوتے ہی دوسری طرف سے نسوانی آواز سنائی دی
“جی آپ کون؟” دلاویز نے سلام کا جواب دینے کے بعد سوال داغا
“میں عازیہ بات کر رہی ہوں” دوسری طرف سے سوال کا جواب دیا گیا ۔
“آپ کے نمبر سے کچھ اچھے برے میسیجز آئے ہیں مجھے” دلاویز نے پوچھا تو ساتھ ہی کال منقطع ہو گئی اور دلاویز نے دوسری بار نمبر ڈائل کر دیا
“ہیلو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عازیہ کا دوست میکال بات کر رہا ہوں” رابطہ ہوتے ہی دوسری طرف سے مردانہ آواز سنائی دی تو دلاویز غصے سے سیخ پا ہو گئی ۔
“تمہیں تنگ کرنے کا بھی ایک الگ سا مذا ہے” دوسری طرف سے میکال نے ہنستے ہوئے کہا تو دلاویز نے کال منقطع کر دی اور سارے میسیجز بھی ڈیلیٹ کر دیے ۔ کچھ دیر کے بعد وہ پرسکون ہوئی تو اس کی نظر صوفے پر پڑے ایک خط پر پڑی ۔ لفافے پر فاطمہ جناح لائبریری کا ایڈریس لکھا تھا ۔ دلاویز نے لفافہ کھولا اور خط پڑھنا شروع کیا ۔ یہ خط دلاویز کی اسکول ٹیچر ریجہ کی طرف سے لکھا گیا تھا
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *