Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hakoomat by Waheed Sultan Episode05

Hakoomat by Waheed Sultan Episode05

جواد کھانا کھا کر صابی ہوٹل سے نکل رہا تھا کہ رستم نے کار کے پاس ہی جواد سے ملاقات کرنا بہتر سمجھا ۔
“میرا نام رستم ہے اور میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا سیدھی مدعے کی بات کرتے ہیں” رستم نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا تو جواد رستم کی جانب متوجہ ہوا ۔
” میں یہ جانتا ہوں کہ تمہارے پاس اسلحے کا بہت بڑا ذخیرہ ہے اور تم وہ سارا اسلحہ بیچنا چاہتے ہو اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جو اسلحہ تمہارے بھائی خومیر نے شاہذل سے خریدا تھا اور وہ سارا اسلحہ تم نے چوری کر لیا تھا اور ہاں میرے پاس ایک ایسا گاہک ہے جو تم سے سارا اسلحہ خرید لے گا ” رستم نے مسکراتے ہوئے کہا
“تم جتنا کمیشن مانگو گے تمہیں ملے گا لیکن تم مجھے اس گاہک سے ملوا دو ” جواد نے کار میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا تو رستم بھی سائیڈ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا
“مجھے کمیشن نہیں چاہیے بلکہ میری ایک شرط ہے اگر تم میری شرط قبول کر لو تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” رستم نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا ۔
“کون سی شرط جلدی بولو” جواد نے پر امید نظروں سے رستم کو دیکھا
“پہلے تم اپنی بہن بسیمہ کے خلاف کیس واپس لو گے اور بسیمہ کے رہا ہونے کے بعد میں تمہیں اسلحے کے ڈیلر سے ملوا دوں گا” رستم نے جواد سے کہا تو وہ غصے سے پاگل ہو گیا اور رستم کو گریبان سے پکڑ لیا
“تمہاری کار کے اطراف میں میرے کارندے موجود ہیں اور میرے ایک اشارے پر تمہیں شوٹ کر دیں گے” رستم نے سپاٹ لہجے میں کہا تو جواد خوفزدہ ہو گیا اور رستم کا گریبان چھوڑ دیا ۔
“تمہارے پاس چوبیس گھنٹے کا ٹائم ہے اگر تم نے بسیمہ کو رہا نہ کروایا تو تمہیں شوٹ کر دیا جائے گا” رستم نے دھمکی خیز لہجے میں کہا اور کار سے نکل کر چلا گیا ۔ اب رستم کی کار ایم اے نیشنل کالج کی طرف جا رہی تھی ۔ کار ایم اے نیشنل کالج کے گیٹ کے سامنے رکی تو رستم کار سے نکلا اور دلاویز کی آمد کا انتظار کرنے لگا ۔ کافی دیر انتظار کرنے کے بعد رستم کو احساس ہوا کہ اسے بہت پہلے کالج گیٹ پر پہنچنا چاہیے تھا شاید دلاویز اس کے آنے سے پہلے ہی کالج جا چکی تھی ۔
اب وہ کار میں بیٹھ گیا اور دلاویز کے کالج سے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا ۔ دو گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد دلاویز اپنی دوست عروشہ کے ہمراہ کالج گیٹ سے باہر نکلی تو وہی بھکاری لڑکا کالج گیٹ کے پاس کھڑا تھا ۔ جسے دلاویز کالج سے نکلتے وقت سو روپے دیا کرتی تھی ۔ دلاویز نے پرس سے سو روپے نکال کر اس کی طرف بڑھا دئیے ۔
“نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میم آج میں بھیک لینے کے لیے نہیں آیا” بھکاری لڑکے نے کہا تو دلاویز نے بھکاری لڑکے کو دیکھا ۔ بھکاری لڑکے کی روشن آنکھیں ، سرخی مائل چہرہ اور سر پر بے طرح کے بڑھے ہوئے بالوں کی وجہ سے وہ بہت خوبرو لگ رہا تھا ۔ دلاویز اسے دیکھے جا رہی تھی ۔ وہ اپنی نظریں جھکانا چاہتی تھی لیکن وہ ایسا نہ کر سکی ۔
“میں نے اپنی دوکان بنا لی ہے اس لیے اب مجھے بھیک نہیں چاہیے بس آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا تھا ، دوکان بنانے میں سب سے زیادہ آپ نے میری مدد کی” بھکاری لڑکے نے کہا
“نام کیا ہے تمہارا اور کہاں بنائی ہے دوکان؟” دلاویز نے بھکاری لڑکے سے پوچھا
” میرا نام زیدون ہے اور کباڑ مارکیٹ میں کباڑ کی دوکان بنائی ہے” بھکاری لڑکے نے کہا
“او کے ٹھیک ہے ، یہ بھیک نہیں ہے بلکہ تمہاری نئی دوکان کا سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے اس لیے نئی دوکان کی خوشی میں یہ سو روپے رکھ لو” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا تو زیدون نے سو روپے کا نوٹ پکڑ لیا
“میں ناگی بابا کو بتا دوں کہ میں تمہارے ساتھ ہاسٹل جا رہی ہوں اس لیے لیٹ گھر آؤں گی اور بس پر گھر آ جاؤں گی” دلاویز نے عروشہ سے کہا اور پھر سیل فون کان سے لگاکر کالج گیٹ سے بائیں طرف تھوڑی دور چلی گئی ۔ جب وہ ارماز ناگی سے فون پر بات کر کے واپس پلٹی تو اس کے سامنے رستم کھڑا تھا ۔ وہ پہلی نظر میں ہی پہنچان گئی کہ یہ سیٹھ بستانی کا خاص آدمی ہے ۔
“آپ کی دوست بسیمہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں جیل سے رہا ہو جائے گی اور ہاں کوئی بھی کام ہو تو مجھ سے رابطہ کیا کریں ، سیٹھ بستانی سے آپ جتنا دور رہیں گی آپ کے لیے اتنا ہی بہتر ہو گا” رستم نے کاغذ کی پرچی دلاویز کو دیتے ہوئے کہا اور پھر اپنی کار کی طرف چلا گیا جو کچھ فاصلے پر کھڑی تھی ۔دلاویز رستم کی باتیں سن کر ٹھٹھک گئی اور پھر رستم کی دی ہوئی پرچی کو دیکھا جس پر ایک سیل فون نمبر لکھا تھا ۔
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
عفیفہ(سیلی بیبی) مسجد سے باہر نکلی رہی تھی تو میکال وہاں آ گیا اور رسمی گفتگو کے بعد عفیفہ(سیلی بیبی) کی دست بھوسی کی ۔
“بیٹا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے اتوار کا دن غریدہ جان کی قبر پر بیٹھ کر گزارا اور دلاویز کا انتظار کرتی رہی لیکن وہ نہیں آئی” عفیفہ(سیلی بیبی) نے میکال کو افسردہ لہجے میں بتایا
“ماں جی! آپ پریشان کیوں ہو رہی ہیں ، میں نے دلاویز کا گھر تلاش کر لیا ہے اور اب میں آپ کو وہاں لے جاتا ہوں ، آپ بس دس منٹ یہاں انتظار کریں اور میں ابھی موٹر سائیکل لے کر آتا ہوں ” میکال نے عفیفہ(سیلی بیبی) سے کہا اور پھر بھاگتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ۔ دس منٹ ہونے ہی والے تھے کہ میکال موٹرسائیکل لے کر آ گیا اور عفیفہ(سیلی بیبی) میکال کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہو گئی ۔ چند منٹوں کے بعد موٹر سائیکل ایم اے جناح روڈ پر ایک دو منزلہ فلیٹ کے سامنے روکی تو میکال نے عفیفہ(سیلی بیبی) کو بتایا کہ دلاویز اسی فلیٹ میں رہتی ہے ۔
“میکال بیٹا! تم کہاں جا رہے ہو؟” عفیفہ(سیلی بیبی) نے پوچھا
“ماں جی! دلاویز جوان، بدمزاج ، انادار ، بے زار اور بد لحاظ سی لڑکی ہے کسی نا آشنا لڑکے کو اپنی چوکھٹ پر دیکھ کر برا مان جائے گی” میکال نے معصومانہ انداز میں کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔ میکال کے جانے کے بعد عفیفہ(سیلی بیبی) نے ڈور بیل بجائی تو ملازمہ نے دروازہ کھولا ۔ عفیفہ(سیلی بیبی) نے ملازمہ کو بتایا کہ وہ دلاویز سے ملاقات کرنے کے لیے آئی ہے ۔ دلاویز سے اجازت لینے کے بعد ملازمہ عفیفہ(سیلی بیبی) کو اندر لاؤنج میں لے گئی ۔ عفیفہ(سیلی بیبی) کو دیکھتے ہی ارماز ناگی پہنچان گیا کہ یہ غریدہ کی کلوز فرینڈ سیلی بیبی ہے ۔ عین اسی لمحے دلاویز بھی لاؤنج میں آ گئی ۔
“دلاویز بیٹی! یہ سیلی بیبی ہیں آپ کی ماما کی دوست ، تمہاری ماما کے تمام فلاحی کاموں کے سارے معاملات سیلی بیبی ہی سنبھالا کرتی تھیں” ارماز ناگی نے دلاویز کو عفیفہ(سیلی بیبی) کا تعارف کرواتے ہوئے کہا
“اب میں مسلمان ہو چکی ہوں اور میرا نام اب عفیفہ بی بی ہے” عفیفہ(سیلی بیبی) نےدلاویز کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو دلاویز عفیفہ بی بی سے لپٹ گئی ۔
“میں نے تمہیں کئی سالوں تک تلاش کیا بہت زیادہ تلاش کیا اور تمہاری تلاش ہی میرے مسلمان ہونے کی وجہ بنی اور تمہاری تلاش ہی کی بدولت مجھے ایمان نصیب ہوا ، جب میں نے مسلمان ہونے کا ارادہ کیا تو خدا نے مجھے ایک فرشتہ صفت انسان سے ملوا دیا اور اسی نے مجھے مسلمان ہونے کی دعوت دی اور پھر وہی مجھے تمہارے گھر لے آیا” عفیفہ نے ساری بات غیر ارادی طور پر بتا دی
“جب دلاویز ایک سال کی تھی تو میں اور حماشہ دلاویز کو لے کر لندن چلے گئے تھے اور چار سال بعد واپسی ہوئی تو ہم نے بھی آپ کو بہت تلاش کیا تھا لیکن آپ کے بارے میں کوئی معلومات نہ مل سکی” ارماز ناگی نے عفیفہ بی بی سے کہا
“غریدہ کی موت کے بعد میں بہت ٹوٹ گئی تھی اور مایوس ہو کر اپنے گاؤں واپس لوٹ گئی تھی اور اپنے جلے ہوئے گھر میں گوشہ نشین ہو گئی” عفیفہ بی بی نے بتایا
“ملازمہ نے چائے تیار کر دی ہے تو پہلے چائے پیتے ہیں اور باتیں ہوتی رہیں گی” دلاویز نے کہا تو ارماز ناگی اور عفیفہ بی بی گیسٹ روم کی طرف چل دئیے ۔
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
“میکال کے بچے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم نے بہت تنگ کر لیا ہے مجھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب میری باری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں بھی تمہیں تنگ کروں گی اور اتنا تنگ کروں گی تم پناہ مانگو گے مجھ سے” دلاویز سیل فون کی سکرین دیکھتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی ۔ دلاویز نے میکال کے نمبر پر ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے بتایا کہ میں کنٹین میں ہوں اور تمہارا انتظار کر رہی ہوں ۔ میکال نے فوری طور پر رپلائی کیا ۔
“محترمہ! آپ مجھ پر ڈوریں مت ڈالیں ، میں ان لڑکوں میں سے نہیں ہوں جو لڑکیوں سے متاثر ہو کر کسی لڑکی سے ملاقات کے لیے چلا آؤں ، تم کنٹین میں بیٹھ کر میرا انتظار کرتی رہو مجھے کوئی اعتراض نہیں” میکال کا میسیج پڑھتے ہی دلاویز کو غصہ آیا اور اس نے کال کرنے کے لیے میکال کا نمبر ڈائل کیا ۔ میکال نے بات کیے بغیر ہی کال منقطع کر دی ۔ دلاویز نے دوسری بار کال کی لیکن میکال نے دوبارہ کال کاٹ دی ۔دلاویز نے سیل فون پرس میں رکھا اور بیگ اٹھا کر کنٹین سے چلی گئی ۔ کالج گیٹ پر دلاویز کی ملاقات عروشہ سے ہوئی ۔
“صبح صبح کہاں جا رہی ہو؟ آج کلاس اٹینڈ Attend نہیں کرو گی؟” عروشہ نے دلاویز سے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا کر گیٹ سے باہر چلی گئی ۔ رکشا میں بیٹھتے ہی دلاویز کا فون بج اٹھا ۔ میکال کی کال آ رہی تھی لیکن دلاویز نے کال رسیو نہ کی ۔ تب چند سیکنڈز کے بعد میکال کا میسیج آیا
“پانچ منٹ انتظار کرو ، میں کنٹین پہنچ رہا ہوں” دلاویز نے میسیج پڑھ کر ڈیلیٹ کر دیا اور تب میکال کا دوسرا میسیج آیا جس کی عبارت کچھ یوں تھی ۔
“پہلے ہر روز تم بارہ بجے کنٹین آتی تھی سو میں بھی بارہ بجے کنٹین پہنچ جاتا تھا اب مجھے کیا پتا تھا کہ آج تم نے صبح صبح آٹھ بجے کنٹین آ جانا ہے” دلاویز نے دوسرا میسیج ڈیلیٹ کیا اور سیل فون بند کر دیا ۔ کچھ مزید فاصلہ طے کرنے کے بعد رکشا کباڑیہ بازار رکا ۔ دلاویز نے رکشا کا کرایہ ادا کیا اور پھر پرس سے ایک پرچی نکالتے ہوئے روڈ کے کنارے چل پڑی ۔ وہ ہر کباڑیے کو پرچی دکھا رہی تھی اور زیدون کی دوکان کا پتہ پوچھ رہی تھی ۔ ایک پندرہ سال کی عمر کا لڑکا دلاویز کو زیدون کی دوکان پر لے گیا ۔ دلاویز کو اپنی دوکان پر دیکھ کر زیدون مودبانہ انداز میں کھڑا ہو گیا اور اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ خوش ہو یا حیران ۔
“آج تمہیں کالج گیٹ پر نہ دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ تم نے نئی دوکان بنائی ہے اور پھر تمہاری دوکان دیکھنے کی خواہش مجھے یہاں کھینچ لائی” دلاویز نے مسرت بھرے لہجے میں کہا تو زیدون نے دوکان کا پیچھے والا چھوٹا دروازہ کھولا ۔ دوکان کے پیچھے ایک بڑا سا صحن تھا جہاں بہت سی پرانی چیزیں پڑیں تھیں ۔ اور درمیان میں تنگ سا راستہ تھا ۔اسی تنگ راستہ سے زیدون دلاویز کو لکڑی کے چھوٹے سے گھر میں لے گیا ۔ لکڑی کا گھر صحن کے آخر میں بنایا گیا تھا ۔
لکڑی کے گھر میں دلاویز کے ساتھ زیدون بھی لکڑی کے کمرے میں داخل ہوا ۔
“یہ میری چھوٹی بہن شیزا ہے” وہاں چارپائی پر بیٹھی پندرہ سالہ لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زیدون نے کہا تو دلاویز چارپائی پر شیزا کے پاس بیٹھ گئی ۔
“میڈم! میں ابھی دس منٹوں تک واپس آتا ہوں” زیدون نے کہا اور دلاویز کے منع کرنے کے باوجود چلا گیا ۔ دلاویز نے شیزا سے باتیں کرتے ہوئے اپنا سیل فون آن کیا ۔ اسے لگا کہ میکال کے بہت سے میسیجز آئے ہوں گے لیکن میکال کا کوئی میسیج نہیں آیا تھا ۔ وہ حیرت اور مایوسی سے سیل فون کی سکرین کو دیکھ رہی تھی کہ زیدون بازاری چائے ، بسکٹ اور آلو کی چپس لے کر آیا تو شیزا نے جلدی سے فرش پر چٹائی بچھا دی ۔ دلاویز کو فرش پر بیٹھ کر چائے پینا بہت اچھا لگ رہا تھا ۔ وہ چائے پیتے ہوئے زیدون کے بے طرح سے بڑھے الجھے بالوں کو دیکھ رہی تھی جبکہ زیدون اس لیے نظریں جھکائے چائے پی رہا تھا کیونکہ دلاویز نے چائے پینے کے لیے نقاب کھول رکھا تھا ۔ چائے ختم ہو چکی تھی جبکہ دلاویز ابھی کچھ دیر مزید وہاں رکنا چاہتی تھی لیکن اس کا فون بج اٹھا تھا ۔ ایڈووکیٹ میشا چوہدری نے کال کر کے دلاویز کو خوشخبری سنائی کہ جواد نے اپنی بہن بسیمہ کے خلاف کیس واپس لے لیا اور بسیمہ کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے ۔
“میری دوست بسیمہ جیل سے رہا ہو گئ ہے اور مجھے ابھی اس سے ملنے جانا ہے” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
“ہم نے وعدے کے مطابق بسیمہ کو جیل سے رہا کروا دیا ہے اور آج دلاویز نے بھی وعدے کے مطابق مجھے ڈنر پر بلایا ہے” سیٹھ بستانی نے رستم سے کہا
“آقا حضور! میں نے جواد کو بلیک میل کیا اور اس نے کیس واپس لیا تو بسیمہ رہا ہوئی اور اس سارے کام کا آپ نے مجھے معاوضہ بھی نہیں دیا تو پھر اصول کے مطابق دلاویز کے ساتھ مجھے ڈنر کرنا چاہیے” رستم نے مسکراتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی دو گارڈ کمرے میں داخل ہوئے اور انہوں نے سیٹھ بستانی پر پستول تان لیے تو رستم نے سیٹھ بستانی سے موبائل فون بھی لے لیا ۔
“رستم یہ تم اچھا نہیں کر رہے تم سیٹھ بستانی سے پنگا لے رہے ہو اور اس کی سزا بہت دردناک ہو گی ” سیٹھ بستانی غصے سے چلایا اور رستم نے قہقہ لگایا اور سیٹھ بستانی کے کمرے سے چلا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رستم کی کار ایک پرانی کھنڈر عمارت کے سامنے روکی اور وہ ہاتھ میں پستول پکڑے عمارت میں داخل ہو گیا ۔
“روشی بہت بڑا غنڈہ تھا لیکن اس کی موت میرے ہاتھوں ہوئی ، تمہارے پاس ارتالیس گھنٹے کا وقت ہے لوٹ مار کرو یا پھر ڈکیٹی چاہو تو کسی سے بھتہ لے لو لیکن اڑتالیس گھنٹوں میں تم مجھے ایک لاکھ روپے نہ دے سکے تو اپنی موت کے ذمے دار تم خود ہو گے” رستم نے پستول کی نال راشد کے چہرے پر پھیرتے ہوئے کہا تو راشد نے خوفزدہ نظروں سے رستم کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا ۔ رستم وہاں سے سٹائلو ون ہوٹل چلا گیا جہاں پر دلاویز نے سیٹھ بستانی کے لیے ڈنر کا آرڈر بک کروا رکھا تھا ۔ رستم نے بکنگ کارڈ دیکھا اور پھر ہال نمبر تین کے ٹیبل نمبر سات کی طرف چلا گیا ۔ ٹیبل پر کھانا سجایا جا چکا تھا اور ٹیبل کے ساتھ ملحقہ کرسی پر عبایا میں ملبوس دلاویز سیل فون کی سکرین پر نظریں جمائے بیٹھی تھی ۔ رستم نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے دلاویز کو سلام پیش کیا تو دلایز نے سیل فون پرس میں رکھا اور رستم کی طرف متوجہ ہوئی ۔
“سیٹھ صاحب بیمار تھے اس لیے انہوں نے ڈنر پر مجھے بھیجا ہے” رستم نے مسکراتے ہوئے کہا
“تو پھر بسم اللہ کریں اور کھانا شروع کریں” دلاویز نے پر مسرت لہجے میں کہا
“کیا آپ نہیں کھائیں گی؟” رستم نے دلاویز سے پوچھا
“نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے بھوک نہیں ہے” دلاویز نے سیل فون کی سکرین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو ابھی ابھی روشن ہوئی تھی ۔ سکرین پر میقال کا میسیج تھا اور میسیج کی عبارت یہ تھی ۔
“ناگی بابا کو ہارٹ اٹیک آیا ہے اور وہ اس وقت جناح ہسپتال کراچی میں ایڈمٹ ہیں” میسیج پڑھ کر دلاویز کو گہرا صدمہ ہوا
” دنر کا بل میں نے پے کر دیا ہے اور اب میں جا رہی ہوں ، میرے ناگی بابا کو ہارٹ اٹیک آیا ہے” دلاویز نے رستم سے کہا اور کرسی سے اٹھ کر چلی گئی تو رستم نے کھانے سے ہاتھ روک لیا ۔
“اس کے بابا کو ابھی اٹیک آنا تھا” رستم کوفت سے بڑبڑایا اور دوبارہ سے کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دلاویز جناح ہسپتال پہنچی اور کارڈیالوجی وارڈ کی طرف چلی گئی ۔ روم کا دروازہ بند تھا اور وہاں پر میکال افسردہ حالت میں کھڑا تھا اور دلاویز بھی اس کے پاس کھڑی ہو گئی ۔ اگلے لمحے روم کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر شفیق روم سے باہر آیا
“ہمیں افسوس ہے کہ آپ کے پاپا اب اس دنیا میں نہیں رہے” ڈاکٹر شفیق نے میکال سے کہا تو میکال پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا جبکہ دلاویز اچانک بے ہوش ہو کر فرش پر گر گئی ۔
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
ارماز ناگی کی تدفین کو دو دن گزر چکے تھے لیکن دلاویز اب بھی غم سے نڈھال اپنے کمرے میں لیٹی تھی ۔ بسیمہ نے دلاویز کو کھانا کھلانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ ناکام رہی ۔ میکال دلاویز کے لیے بریانی لے کر آیا لیکن دلاویز نے بریانی کی پلیٹ میکال کے چہرے پر مار دی لیکن عفیفہ بی بی دلاویز کو کھانا کھلانے میں کامیاب ہو گئی ۔ کھانا کھانے کے بعد دلاویز کے آنسو تھم چکے تھے لیکن اندر کا غم ابھی بھی تازہ تھا ۔ وہ کسی کو بتائے بنا گھر سے چلی گئی ۔ آج پھر وہ زیدون کے لکڑی کے چھوٹے سے گھر میں چلی گئی ۔
“دلاویز میڈم آپ کو کیا ہوا ہے ؟ آپ گم سم کیوں ہیں؟” زیدون کی چھوٹی بہن شیزا نے دلاویز سے پوچھا لیکن دلاویز کمرے کے ایک کونے میں لکڑی کی دیوار سے ٹیک لگا کر فرش پر بیٹھ گئی اور آنکھیں بند کر لیں تو شیزا بھاگتی ہوئی اپنے بھائی زیدون کی دوکان میں چلی گئی ۔
“بھائی ۔ ۔ ۔ ۔ وہ دلاویز میڈم آئی ہیں شاید ان کی طبعیت ٹھیک نہیں” شیزا نے زیدون کو بتایا تو زیدون دوکان کے عقبی دروازے سے اور پھر صحن سے گزرتا ہوا اپنے گھر کے اس کمرے میں پہنچا جہاں دلاویز تھی ۔ دلاویز آنکھیں بند کیے لکڑی کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر فرش پر بیٹھی تھی ۔ یہ پہلی بار تھی جب زیدون دلاویز کے چہرے کو دیکھ رہا تھا کیونکہ آج اس نے عبایا نہیں پہنا تھا اور وہ بلیک شلوار قمیض میں ملبوس تھی ۔ دلاویز نے سر کو بڑی سی سیاہ چادر سے ڈھانپا ہوا تھا ۔ زیدون دلاویز کی خوبصورتی سے متاثر ہو رہا تھا لیکن شیزا کی موجودگی کے باعث اس نے چند سیکنڈز ہی دلاویز کے چہرے کو دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں ۔
“میڈم! آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے؟” زیدون نے دلاویز سے پوچھا تو دلاویز نے آنکھیں کھولیں اور زیدون کی طرف دیکھا
“ہاں طبعیت ٹھیک ہے میری لیکن میں کچھ دیر تنہا رہنا چاہتی تھی اس لیے یہاں آئی ہوں” دلاویز نے کہا اور دوبارہ آنکھیں بند کر لیں تو زیدون نے شیزا کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور خود دوکان پر چلا گیا ۔ زیدون دوکان پر بیٹھ تو گیا تھا لیکن اب اس کے تصور میں دلاویز کا خوبصورت چہرہ تھا ۔ وہ کافی دیر تک دلاویز کے چہرے کو سوچتا رہا اور پھر سر جھٹک کر خیالوں کی دنیا سے باہر آیا اور دوبارہ اپنے گھر گیا تو شیزا نے اسے بتایا کہ میڈم دلاویز جا چکی ہیں ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اودھر دوسری جانب میکال کو دلاویز کی سخت فکر ہو رہی تھی اور بسیمہ بھی بہت پریشان تھی کہ دلاویز بنا بتائے کہاں جا سکتی ہے ۔ میکال ، بسیمہ اور عفیفہ بی بی سب دلاویز کے روم میں تھے کہ پانچ گھنٹوں بعد دلاویز واپس آ گئی ۔
“بیٹی تم کہاں گئی تھی؟” عفیفہ نے دلاویز سے پوچھا لیکن وہ خاموش رہی اور عفیفہ کی بات کا جواب نہ دیا ۔ دلاویز بیڈ پر لیٹ گئی اور عفیفہ اس کے پاس بیٹھ گئی ۔
“یہ میں تمہاری ماما کی لکھی ہوئی ڈائری لے کر آئی ہوں ، اگر تم اسے پڑھو گی تو تمہیں ارماز ناگی کی موت کا غم بھلانے میں مدد ملے گی” عفیفہ نے دلاویز کی طرف ڈائری بڑھاتے ہوئے کہا تو دلاویز نے ڈائری پکڑ کر سائیڈ پر رکھ دی ۔
“اماں جی! دلاویز بدمزاج ، انادار ، بے زار اور بد لحاظ سی لڑکی ہے یہ بھلا کیونکر اپنی امی کی ڈائری پڑھے گی ، لائیے میں پڑھتا ہوں یہ ڈائری” میکال نے مسکراتے ہوئے کہا اور عفیفہ نے ڈائری اٹھا کر میکال کو دے دی ۔
“تمہیں تو اپنے باپ کی موت کا غم نہیں ہے لیکن کسی اور کو تو سوگ منانے دو” دلاویز نے میکال کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا تو میکال ایک بار پھر مسکرا پڑا ۔
“کیا میں اس باپ کا غم مناؤں جو اپنی زندگی میں اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ رہنے کی بجائے اپنی منہ بولی بیٹی کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتا رہا” میکال نے مسکراتے ہوئے کہا تو دلاویز کے چہرے پر غصے کے اثرات نمودار ہو گئے ۔
“بیٹا اپنی باتوں کو چھوڑو اور ڈائری پڑھو” عفیفہ نے میکال سے کہا
“ماں جی آپ کہہ رہی ہیں تو میں ڈائری پڑھ لیتا ہوں ویسے بڑی مشکل سے میں نے دلاویز کا غصے والا موڈ بنایا تھا اور اسے غصے میں دیکھنے کا مذا ہی الگ ہے ” میکال نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر ڈائری کھول لی ۔
“جو صفحہ میں نے کھولا ہے اس پر لکھا ہے کہ موافق اور نا موافق دونوں طرح کے حالات میں زندہ رہنا زندگی کا حصہ ہے!!!
مگر ہر طرح کے حالات میں اللہ کا شکر ادا کرنا اُور مسکرا کر ان کا سامنا کرنا !!!
زندگی گذارنے کا فن کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ بات آنٹی غریدہ نے محترمہ دلاویز کے لیے لکھی ہو گی شاید وہ جانتی تھیں کہ میری بیٹی کی زندگی میں کوئی ایسا موڑ بھی آئے گا کہ وہ مسکرانا بھول جائے گی” میکال نے مسکراتے ہوئے کہا تو دلاویز اٹھ کر بیٹھ گئی ۔
“دیکھو اب بھاگنا مت پلیز ، کیونکہ اگر تم بھاگ گئی نا تو میں سمجھو گا کہ تم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لڑکی ہو” میکال نے مسکراتے ہوئے کہا
“آنٹی غریدہ نے اگلی بات بہت خوبصورت لکھی ہے اور وہ بھی دلاویز کے بارے میں لکھی ہے کہ نفرت کا جو بیج ہم بوتے ہیں اُس درخت کا سب سے کڑوا پھل خود ہمارے حصہ میں آتا ہے” میکال نے ڈائری کا صفحہ پلٹتے ہوئے کہا تو دلاویز نے میکال سے ڈائری چھین لی ۔
“چلو نکلو میرے گھر سے اور جاؤ اپنی کمینی ماڈل اداکارہ ماں کے پاس ، اس ماں کے پاس جسے اپنا پروفیشن اپنے شوہر سے زیادہ عزیز تھا” دلاویز نے غصیلے لہجے میں میکال سے کہا تو میکال بیڈ سے اٹھا اور دلاویز کے چہرے پر تھپڑ دے مارا
“یہ پاپا کو شادی سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ انہوں نے ایک ماڈل اور اداکارہ سے کیونکر شادی کی ، انہیں کسی عام لڑکی سے شادی کرنی چاہیے تھی جس کے ساتھ وہ زندگی بھر رہ سکتے” میکال نے غصے سے غڑاتے ہوئے کہا
“میکال یہاں سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے لیے اچھا نہ ہو گا” دلاویز نے کرخت لہجے میں کہا تو میکال چلا گیا
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *