Hakoomat by Waheed Sultan NovelR50741 Hakoomat by Waheed Sultan Episode09
No Download Link
267K
19
Rate this Novel
Hakoomat by Waheed Sultan Episode01 Hakoomat by Waheed Sultan Episode02 Hakoomat by Waheed Sultan Episode03 Hakoomat by Waheed Sultan Episode04 Hakoomat by Waheed Sultan Episode05 Hakoomat by Waheed Sultan Episode06 Hakoomat by Waheed Sultan Episode07 Hakoomat by Waheed Sultan Episode08 Hakoomat by Waheed Sultan Episode09 (Watching)Hakoomat by Waheed Sultan Episode10 Hakoomat by Waheed Sultan Episode11 Hakoomat by Waheed Sultan Episode12 Hakoomat by Waheed Sultan Episode13 Hakoomat by Waheed Sultan Episode14 Hakoomat by Waheed Sultan Episode15 Hakoomat by Waheed Sultan Episode16 Hakoomat by Waheed Sultan Episode17 Hakoomat by Waheed Sultan Episode18 Hakoomat by Waheed Sultan Last Episode
Hakoomat by Waheed Sultan Episode09
Hakoomat by Waheed Sultan Episode09
“میں اپنے پاپا کے دوست انکل ناود کے ساتھ پارٹنرشپ پر بزنس کرنا چاہتی ہوں اور اس کے لیے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے” بسیمہ نے دلاویز سے کہا
“پہلے بزنس کی تفصیل اور نوعیت بتاؤ پھر بتاؤں گی کہ میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں کہ نہیں” دلاویز نے ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے کہا
“شیئرز کی خرید و فروخت کا کاروبار” بسیمہ نے مختصر جواب دیا ۔
“اوکے تمہیں پیسے مل جائیں گے” دلاویز نے ابلے چاولوں پر آملیٹ ڈالتے ہوئے کہا
“جو منافع میرے حصے میں آئے گا اس کا آدھا تمہیں ملے گا ” بسیمہ نے دلاویز سے کہا
“او کے مجھے منظور ہے” دلاویز نے چاول اور آملیٹ ایک ساتھ کھاتے ہوئے کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ناشتہ کرنے کے بعد دلاویز کالج چلی گئی ۔ کالج گیٹ پر اس کی ملاقات سہانا سے ہوئی ۔ مصافحے کے بعد سہانا قدم سے قدم ملا کر دلاویز کے ساتھ چلنے لگی ۔
“آپ رستم صاحب کی دوست ہو اس لیے میں چاہتی ہوں کہ آپ میری بھی دوست بن جاؤ”سہانا نے کہا تو دلاویز کنٹین کی طرف مڑ گئی
“آپ کو کس نے کہہ دیا کہ میں رستم کی دوست ہوں” دلاویز نے سہانا سے پوچھا
“رستم خود کہہ رہا تھا مجھے” سہانا نے اسے بتایا
“تمہارا رستم سے کیا رشتہ ہے؟” دلاویز نے سہانا سے پوچھا
“دوستی کا رشتہ ہے میں رستم کی دوست ہوں” سہانا نے کنٹین کے باہر گھاس پر بیٹھتے ہوئے کہا
“یہاں نہیں کنٹین کے اندر بینچ پر بیٹھیں گے اور چائے کافی تو تمہیں پینی ہی پڑے گی” دلاویز نے سہانا کو بازو سے پکڑ کھینچتے ہوئے کہا تو سہانا دلاویز کے ساتھ کنٹین چلی گئی ۔ چائے پینے کے بعد دلاویز سہانا سے اجازت لے کر کلاس روم چلی گئی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کالج سے فارغ ہونے کے بعد دلاویز پارکنگ ایریا میں اپنی کار کے پاس آئی تو اس کی نظر ایک لڑکے پر پڑی ۔ جو دوسری کار کے پاس کھڑا تھا ۔ یہ میکال تھا ۔ جسے اب نئے چہرے کے ساتھ وہ سلمان کے نام سے جانتی تھی ۔ میکال من ہی من میں خوش ہو رہا تھا کہ سرجری کے بعد اب وہ دلاویز کے سامنے ایک نئے چہرے کے ساتھ کھڑا تھا ۔ ایک ایسا چہرہ جو دلاویز کے محبوب زیدون کے چہرے سے بہت حد تک مشابہت رکھتا تھا ۔ اوپر سے بے طرح سے بڑھے ہوئے بالوں کا سٹائل دلاویز کو زیدون کی یاد دلا رہا تھا ۔ میکال جانتا تھا کہ اس کے اس حلیے کو دیکھ کر دلاویز کو اپنے بچھڑے ہوئے محبوب کی یاد ضرور آتی ہے اور محبوب کی جدائی اور اس کی یاد سے دلاویز کو بہت اذیت ہوتی ہے لیکن دلاویز کو اذیت میں دیکھ کر میکال کو بہت خوشی اور سکون ملتا ہے ۔ میکال کا خیال تھا کہ صرف دلاویز کی وجہ سے وہ اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہو گیا تھا لیکن حقیقت اس کے بر عکس تھی ۔ باپ کی شفقت سے محروم ہونے کا سبب اس کی اداکارہ والدہ تھی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جب سے دلاویز کالج سے آئی تھی وہ بہت اداس تھی ۔ وہ زیدون کی یاد میں رونا چاہتی تھی لیکن بسیمہ نے اسے غم زدہ اور اداس دیکھ کر غریدہ جان کی ڈائری اس کی گود میں رکھ دی ۔ اب دلاویز نے ڈائری کا جو پیج کھولا تھا اس پر لکھا تھا کہ کسی کا ہماری زندگی پر اتنا اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اسکی وجہ سے اپنے اوپر اداسی مسلط کر لیں اور اپنے دن رات اسی ایک سوچ کے سبب خراب کر بیٹھیں،
اور بیشتر ان لوگوں کے جو بے پرواہ ہوں…کسی بے پرواہ کے لئے اداس رہنے سے کہیں بہتر ہے کہ اپنے لئے خوش رہا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ عبارت پڑھ کر دلاویز کو کچھ حوصلہ ہوا لیکن اس سے اگلی عبارت پڑھ کر دلاویز ٹوٹ کر رہ گئی ۔ اگلی عبارت میں لکھا تھا کہ بہت یاد آتی ہے تمہاری اور اس یاد سے بچنے کیلیے اپنے ساتھ کتنا ظلم کرنا پڑتا ہے نہ چاہتے ہوئے بھی لوگو ں سے بات کرنا ان کی باتوں کا جواب خوشدلی سے دینا آنکھوں کی نمی اندر کی ٹوٹ پھوٹ کوقہقوں میں چھپاناغمزدہ رہنا اتنا مشکل نہیں میرے لیے جتنا خوش رہنا اذیت ناک ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عبارت پڑھتے ہی دلاویز پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
غار میں پورا دن کام کرنے کے بعد زیدون پوری طرح تھک چکا تھا اس کا جسم زنجیروں میں جھکڑا ہوا تھا ۔ وہ کھلے آسمان تلے لیٹ کر چاند میں دلاویز کے چہرے کو تلاش کر رہا تھا ۔
“ضروری نہیں عشق میں باہوں کا سہارا ملے
کسی کو جی بھر کے محسوس کر لینا بھی محبت ہے”
یہ شعر بولتے ہوئے اس کے دماغ میں دلاویز کے چہرے کا تصور مکمل ہو چکا تھا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ﺑﻦ ﮐﮯ ﮔﺠﺮﺍ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﺜﻞ _ ﮐﺎﺟﻞ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﻮﺭ ﺟﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ،
ﺳﺎﻧﺲ ﺑﻦ ﮐﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﯿﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ،
ﮨﻮﻟﮯ ﮨﻮﻟﮯ ……ﺗﯿﺮﮮ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ .
ﺁﺭﺯﻭ ﺩﻝ ﮐﯽمیری ﺟﺎﻥ ___ﻭﻓﺎ ﺑﺲ ﮨﮯ ﯾﮩﯽ،
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﮨﻨﺴﯽ ﺑﻦ ﮐﮯ ﻧﮑﮭﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ..
ﻣﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﮯ ________ ﺗﯿﺮﺍ ﻣﯿﺮﺍ،
ﺧﻮﻥ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺭﮒ ﺭﮒ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز آج پھر کافی شاپ پر رستم کے ساتھ بیٹھ کر کافی پی رہی تھی ۔ آج دلاویز نے برقعہ پہننے کے ساتھ ساتھ چہرے کا نقاب بھی کر رکھا تھا ۔ دلاویز نے خاص قسم کا برقعہ پہنا تھا جس کا فائدہ یہ تھا کہ کافی پیتے ہوئے بھی دلاویز کا چہرہ دیکھائی نہیں دے رہا تھا ۔
“کل سہانا نے تمہیں میری دوست کہہ کر مخاطب کیا تو تم نے اس بات پر اعتراض کیوں کیا تھا ، کیا تم میری دوست نہیں ہو؟” رستم نے دلاویز سے پوچھا
“یہ بات تو تم پر منحصر ہے کہ تم مجھے اپنی دوست سمجھتے ہو یا نہیں” دلاویز نے کافی کا کپ ٹیبل پر رکھ کر شانے اچکاتے ہوئے کہا
“کیا تم مجھے اپنا دوست مانتی ہو؟” رستم نے دلاویز سے پوچھا
“زندگی میں کوئی ایسا شخص ہونا چاہیے جس پر آپ اعتبار کر سکیں ۔ جب آپ لڑکھڑائیں تو وہ آپ کا سہارا بن سکے ، گریں تو اٹھا سکے اور جب آپ ہمت ہار رہے ہوں تو آپ کی ہمت بندھائے ۔ خوشی میں آپ کا ساتھ دے اور آپ کے ساتھ خوشی منائے اور غم میں کبھی آپ کو تنہا نہ چھوڑے ” دلاویز نے مسکرا کر کہا اور پھر کرسی سے اٹھ کر چلی گئی ۔
“یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے ، تمہاری بات میرے سر کے اوپر سے گزر گئی ، مجھے بالکل سمجھ نہیں آئی” رسم نے کہا تو دلاویز جاتے جاتے رکی اور پیچھے مڑ کر ایک نظر رستم کو دیکھا اور پھر آگے بڑھ گئی ۔ ابھی دلاویز کار کا ڈور لاک کھول رہی تھی کہ رستم نے پیچھے سے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف گھمایا تو دلاویز خوف زدہ ہو گئی ۔ رستم کا چہرہ غصے سے سرخ تھا اور اس کی آنکھوں میں عجیب قسم کی وحشت تھی ۔
“میرے سوال کا جواب دو کہ تم مجھے اپنا دوست مانتی ہو یا نہیں؟” رستم نے درشت لہجے میں پوچھا
“تم سچ سننا چاہتے ہو تو سن لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بسیمہ اب کاروباری معاملات میں مصروف ہوتی ہے اور زیدون بھی پتا نہیں کہاں چلا گیا ہے تو ایسی صورت میں بوریت سے بچنے کے لیے اور ٹائم پاس کرنے کے لیے تمہارے پاس چلی آتی ہوں ویسے مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے” دلاویز نے رستم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تو رستم نے دلاویز کا چہرہ نوچنے کے لیے کانپتا ہوا دایاں ہاتھ دلاویز کی طرف بڑھایا لیکن ہاتھ ہوا میں ہی ساکن ہو گیا اور ستم کے قدم پیچھے کو ہٹنے لگے ۔ رستم کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ارد گرد کچھ لوگ انہیں دیکھ رہے ہیں ۔ رستم سے ملاقات کے بعد دلاویز گھر واپس آئی تو گیٹ پر چالیس سے بیالیس سال کی عمر کا شخص کھڑا تھا ۔
“میڈم! میرا نام کرم دین ہے ، میرے دوست منی بس کا ڈرائیور ہے اور دوسرے ڈرائیوروں کے ساتھ اس کا جھگڑا ہو گیا تھا اب جھگڑے کے باعث ڈرائیور دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں مطلب اب بہت بڑا جھگرا ہو گا ، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ جس طرح کچھ دن قبل آپ نے بسوں کو جلنے سے بچایا تھا اسی طرح یہ جھگڑا بھی ختم کروا دیں ، مجھے امید ہے کہ دونوں گروپوں کے ڈرائیور آپ کی بات ضرور سنیں گے اور جھگڑا ختم کر دیں گے” کرم دین نے ممنون انداز میں دلاویز سے کہا تو دلاویز نے کرم دین کو کار میں بیٹھنے کے لیے اشارہ کیا ۔ کرم دین کار میں بیٹھا تو دلاویز نے کار واپس موڑی اور عشان کا نمبر ڈائل کر دیا ۔
“عشان بھائی! پانچ چھ لڑکوں کو ساتھ لے کر پرائیویٹ بس اسٹیشن پہنچو اور ہاں ساتھ میں ہاکیاں بھی لیتے آنا” دوسری طرف رابطہ قائم ہوتے ہی دلاویز نے کہہ دیا ۔
ڈرائیوروں کے دونوں گروپوں کے درمیان جھگڑا شروع ہو چکا تھا اور وہ ایک دوسرے پر ڈنڈے برسا رہے تھے ۔
“بند کرو یہ تماشا” دلاویز نے غڑاتے ہوئے کہا تو تمام ڈرائیور چھگڑا چھوڑ کر دلاویز کی طرف متوجہ ہوئے ۔ دلاویز کچھ ہی فاصلے پر کھڑی تھی اور اس کے پیچھے عشان اور اس کے ساتھی ہاکیاں پکڑے کھڑے تھے ۔ ڈرائیوروں نے ڈنڈے پھینک دئیے اور پرسکون ہو کر کھڑے ہو گئے ۔دو ڈرائیور شدید زخمی ہو چکی تھے ۔
“انہیں ہسپتال لے جاؤ” دلاویز نے اپنی کار کی چابی ضیغم کو دیتے ہوئے کہا
“آپ لوگ اپنا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کر سکتے تھے لیکن اب جبکہ آپ لوگوں نے جھگڑا کرنے کو ترجیح دی ہے تو آپ کو جھگڑے کا تاوان بھی ادا کرنا پڑے گا ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کی بہن اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر آپ کا جھگڑا نمٹانے کے لیے یہاں آ گئی تو اب ہزار ہزار روپے تاوان کے طور پر دلاویز بہن کو دو” عشان نے ڈرائیوروں سے مخاطب ہو کر کہا تو باقی پانچ لڑکے ہاکیاں اپنی ہتھیلیوں پر مارتے ہوئے ڈرائیوروں کے پاس کھڑے ہو گئے ۔ تو سب ڈرائیوروں نے ہزار روپے کے نوٹ دلاویز کو دے دئیے ۔
“یہ تاوان کی رقم آپ سے اس لیے وصول کی گئی ہے تاکہ آئندہ آپ لوگ جھگڑا کرنے سے احتیاط کریں” عمر نے ڈرائیوروں سے مخاطب ہو کر کہا
“دو دو سو روپے زخمیوں کے علاج کے لیے بھی دو” دلاویز نے ڈرائیوروں سے کہا تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر دو دو سو روپے مزید دے دئیے ۔
بس اسٹیشن سے باہر آتے ہی دلاویز نے چار ہزار روپے کرم دین کو دئیے ۔
“جن لڑکوں کو ساتھ لے کر آئے ہو یہ رقم ان میں تقسیم کر دینا اور زخمی ڈرائیوروں کو بس سرکاری ہسپتال چھوڑ دو وہ اپنا علاج اپنی جیب سے کروا لیں گے ” کرم دین کو چار ہزار روپے دینے کے بعد باقی رقم عشان کو دیتے ہوئے کہا
پوش ایریا ہی میں واقع ایک خوبصورت بھورے اور سفید رنگ کے شاندار سے بنگلے کے سیاہ بڑی سی گیٹ کے پاس آؤ تو اس پر لکڑی سے بنی بھورے رنگ کی ایک خوبصورت تختی لگی ہے۔ جس پر جلی حروف میں “شیرشاہ ہاؤس ” لکھا ہے۔ گیٹ پر اس وقت گارڈ فرہاد پہرا دے رہا ہے۔ اور ساتھ ہی سگریٹ نوشی میں بھی مصروف ہے۔
گیٹ سے اندر آؤ تو ایک روش جگہ کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ ایک طرف خوبصورت سا باغ ہے۔ جسے مالی نے بڑی مشقت سے تراشا ہے۔ اسی باغ کے شمالی حصے میں شیرشاہ اپنے بیٹے شاہذل شاہ کے ساتھ چائے پینے میں مصروف تھا ۔
“بیٹا شاہذل تم انقلابی پارٹی میں شامل ہو جاؤ اور تم انقلابی پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑو گے اور میں مسلم ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑوں گا” شیرشاہ نے شاہذل سے کہا تو اس نے سوالیہ نظروں سے شیرشاہ کی طرف دیکھا
“اگر صوبے میں مسلم ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو میں وزیر اعلی کی دور میں شامل ہو جاؤں گا لیکن اگر میں انقلابی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو بھی تمہاری ممبرشپ کی صورت میں ہمارا اثر و رسوخ برقرار رہے گا” شیرشاہ نے شاہذل کو اپنا موقف سمجھاتے ہوئے کہا تو شاہذل نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔ گیٹ مین نے شاہذل کو بتایا کہ حمود خان آیا ہے وہ آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے ۔ “حمود کو ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ میں بھی آ رہا ہوں” شاہذل نے گیٹ مین کو ہدایت کرتے ہوئے کہا اور خود شیرشاہ کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہو گیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ٹانگ پہ ٹانگ رکھے صوفے پر بیٹھ کر حمود خان شیراب پی رہا تھا ۔ شاہذل ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو حمود نے شیراب کی بوتل سامنے پڑی ٹیبل پر رکھ دی اور مودبانہ انداز میں کھڑا ہو گیا ۔
“ہاں بولو کیا تکلیف ہے کیوں آئے ہو؟” شاہذل نے غرور بھرے لہجے میں کہا
“تین سال پہلے میں نے دلاویز نامی ایک لڑکی کو ایکس سٹونٹ فیڈریشن کی رکنیت دی تھی ۔ اب وہ لڑکی فیڈریشن میں اتنی مقبول ہو چکی ہے کہ فیڈریشن کا صدر تو میں ہوں لیکن فیڈریشن کے تمام لڑکے حکم اس کا مانتے ہیں اس لڑکی نے میری ناک میں دم کر رکھ دیا ہے” حمود خان نے گھگھیائے ہوئے لہجے میں کہا
“تم کیا چاہتے ہو؟” شاہذل نے حمود سے پوچھا
“میں چاہتا ہوں کہ اسے راستے سے ہٹا دیا جائے”حمود نے افسردہ لہجے میں کہا
“یعنی تم چاہتے ہو دلاویز کو موت کی نیند سلا دیا جائے ” شاہذل نے سنجیدہ لہجے میں کہا تو حمود نے ہاں میں جواب دیا
“تم جا سکتے ہو میں اپنے طریقے سے دلاویز کا کام تمام کر دوں گا” شاہذل نے حمود سے کہا تو وہ شاہذل کو سلام کر کے چلا گیا ۔ شاہذل سے ملاقات کے بعد حمود خان اپنی دماغی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے ایک ہوٹل میں چلا گیا ۔ ایک ویٹر اسے کسی ساؤنڈ پروف کمرے میں لے گیا ۔ کچھ دیر کے بعد کمرے میں میوزک آن کر دیا گیا اور ایک لڑکی وہاں آ کر ڈانس کرنے لگی ۔ دس منٹوں کے بعد کمرے کا دروازہ دھڑام کی آواز کے ساتھ کھلا اور دلاویز اندر آئی تو حمود نے میوزک بند کروا دیا اور ڈانسر لڑکی کو جانے کے لیے اشارہ کر دیا ۔ دلاویز عبایا پہنے ہوئے تھی لیکن اسے کے چہرے پر نقاب نہیں تھا ۔
“مجھے خبر ملی ہے کہ تم شاہذل سے ملاقات کرنے کے لیے گئے تھے اور شاہذل نے تمہیں فیڈریشن کے لیے دو لاکھ روپے دئیے ہیں” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا
“یہ سچ ہے کہ میں نے شاہذل سے ملاقات کی ہے لیکن شاہذل نے مجھے ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں دی” حمود نے حقارت آمیز لہجے میں کہا
” مجھے کل شام تک دو لاکھ روپے نہ ملے تو میں فیڈریشن کے لڑکوں کو یہ بات بتا دوں گی کہ شاہذل نے دو لاکھ روپے فیڈریشن کے فنڈ کے لیے دئیے ہیں اور پھر فیڈریشن کے ارکان تم سے خود دو لاکھ روپے وصول کر لیں گے اور ساتھ میں تمہاری چھترول بھی کریں گے” دلاویز نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تو حمود نے دلاویز کو گردن سے دبوچ لیا ۔
“بدتمیزی نہیں چاہیے ورنہ تمہارے ساتھ اچھا نہیں ہو گا” دلاویز نے مشکل سے سانس لیتے ہوئے کہا تو حمود نے دلاویز کی گردن پر دباؤ مزید بڑھا دیا ۔ دلاویز نے مڑا ہوا گھٹنا اس کے پیٹ میں مارا تو حمود نے دلاویز کی گردن چھوڑ دی ۔ حمود نے دلاویز کو تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ ہوا میں بلند کیا تو دلاویز نے دونوں ہاتھوں سے حمود کو زور سے دھکا دیا اور وہ فرش پر گر گیا جبکہ دلاویز کمرے سے بھاگ گئی ۔
دلاویز قانون کی ڈگری لے کر ایم اے نیشنل کالج کے لاء ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکل رہی تھی کہ میکال (میکال کے چہرے کی سرجری ہو چکی ہے اور چہرے کی سرجری کے بعد میکال نے دلاویز کو اپنا نام سلمان بتا رکھا ہے) اس کی طرف آیا اور دلاویز پر پھول نچھاور کر رہا تھا ۔ تمام طلباء و طالبات سوچ رہے تھے کہ دلاویز کا منگیتر اسے ڈگری ملنے کی مبارک باد انوکھے طریقے سے دے رہا ہے ۔ دلاویز میکال(سلمان) کو بازو سے پکڑ کر کنٹین کی طرف لے گئی ۔
“سلمان یہ تم کیا کر رہے ہو؟” دلاویز نے میکال(سلمان) سے پوچھا
“میڈم ! آپ کا بہت بڑا فین ہوں آپ کو ڈگری ملی تو میں خوشی سے پاگل ہو گیا اور پاگل کو پتا ہی نہیں چلا کہ وہ کیا کر رہا ہے” میکال(سلمان) نے مسکراتے ہوئے کہا
“تم نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ارد گرد کے لوگ غلط سمجھیں گے مجھے” دلاویز نے کرخت لہجے میں کہا
“کالج میں آج تمہارا آخری دن ہے اس لیے لوگ جو بھی سوچتے ہیں انہیں سوچنے دیں”میکال(سلمان) نے مسکراتے ہوئے کہا
“ایک اور بات کرنی تھی تم سے” دلاویز نے اپنے ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے کہا ۔
“جی فرمائیے میڈم جی” میکال(سلمان) نے دلاویز کے نقاب شدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
“برا مت منانا پلیز ، تم میری نظروں سے دور رہا کرو” دلاویز نے نگاہیں جھکاتے ہوئے کہا
“میڈم! میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ میں آپ کا فین(شائق) ہوں اور آپ کو دیکھیں بنا گزارہ نہیں” میکال(سلمان) نے کہا
“میں کب منع کر رہی ہوں کہ مجھے مت دیکھو ، میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ میری نظروں سے دور رہا کرو” دلاویز نے اسے تنبیہ کرتے ہوئے کہا
“فیڈریشن کا فنڈ حمود خان کو دے دیا کروں؟” میکال(سلمان) نے سوالیہ انداز میں مسکرا کر کہا
“نہیں نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فیڈریشن کا فنڈ تم نے بس مجھے دینا ہے اور وہ بھی جب میں اکیلی ہوں تب دینا ہے مجھے” دلاویز نے سپاٹ لہجے میں کہا اور میکال(سلمان) کی طرف دیکھا ۔
جاری ہے
