Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hakoomat by Waheed Sultan Episode12

Hakoomat by Waheed Sultan Episode12

دلاویز کار کی ڈرائیونگ سیٹ اور عشان سائیڈ سیٹ پر سوار تھا ۔ دلاویز مسلم ڈیمو کریٹک پارٹی کے رکن محمول صاحب ملاقات کے لیے جا رہی تھی ۔
“سہانا کو قتل کر کے اس کی لاش نیلم پوری میں کچڑے کے ڈھیر پر پھینک دی تھی” عشان نے دلاویز کو بتایا
“تصدق صاحب کی پراپرٹی والے معاملے کا کیا بنا؟” دلاویز نے کار کا اسٹیئرنگ گھماتے ہوئے کہا
“کچھ نہیں بنا ، میں اپنے ساتھیوں کو لے کر گیا تھا اور شماز جامی کو ڈرایا دھمکایا لیکن اس نے بہت سے غنڈوں کو بلا لیا اور مجبوری کے تحت ہمیں واپس آنا پڑا ” عشان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا
“مطلب شماز جامی نے تصدق صاحب کی پراپرٹی سے قبضہ ختم کرنے سے انکار کر دیا” دلاویز نے بڑبڑاتے ہوئے کہا
“کیا ہم یہ معاملہ رستم کو سونپ دیں گے؟” عشان نے دلاویز سے پوچھا
“نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم خود ہی یہ مسئلہ حل کریں گے” دلاویز نے کہا اور کار محمول صاحب کے سیاسی ڈیرے کے سامنے روکی ۔
“دلاویز بہن! آپ کچھ دیر کے لیے کار میں بیٹھیں میں محمول صاحب کو آپ کی آمد کی خبر کرتا ہوں” عشان نے کہا اور برآمدے سے گزر سے کر ایک تنگ راہ داری سے ہوتا ہوا ایک بڑے ہال نما کمرے میں داخل ہوا اور محمول صاحب کو سلام پیش کیا ۔
“دلاویز میری بہن ہے اور وہ مجھے میری سگی بہن سے زیادہ عزیز ہے ، اسے میلی آنکھ سے دیکھنا میری غیرت کو للکارنے کے مترادف ہو گا” رسمی گفتگو کے بعد عشان نے محمول سے کہا تو محمول نے عشان کو گھورتے ہوئے دیکھا
“تمہارے مجھ پر بہت احسانات ہیں ، تم بہت کام کے آدمی ہو اس لیے تمہاری باتوں کو نظرانداز کر رہا ہوں” محمول نے عشان کو گھورتے ہوئے کہا تو عشان کمرے سے باہر گیا اور دلاویز کو ساتھ لے کر دوبارہ واپس آیا ۔ دلاویز نے محمول صاحب کو اپنا تعارف کروایا اور رسمی گفتگو کی ۔
“دلاویز میڈم! ایک دو دن میں آپ کو پارٹی کی رکنیت مل جائے گی اور آپ کی سیاسی زندگی کا آغاز ہو جائے گا اور سیاست کے لیے کچھ باتوں کا جاننا بہت ضروری ہیں” محمول نے دلاویز سے مخاطب ہو کر کہا
“اگر سیاسی زندگی میں سر اٹھا کر جینا ہے تو پہلے کچھ قدم جھک کر چلنے ہوں گے ۔ یہی ایک اصول ہے سیاست کا” محمول صاحب نے اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے دلاویز سے کہا
“دلاویز! یہ کرسی دیکھ رہی ہو تم ، اس کرسی کو دھیان سے دیکھیے اور ایک کرسی اقتدار کی کرسی جو کہ کوئی عام کرسی نہیں ہوتی ، اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر ٹکے رہنے کی عادت اگر آپ کو پڑ گئی تو سیاست سے حکومت تک کا سفر بہت آسان ہو جائے گا” محمول نے اپنی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“رکنیت ملنے کے بعد میں آپ کو پارٹی کے سینیئر لیڈرز اور دوسرے کارکنوں سے ملواؤں گا” محمول نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
شام کے چار بجے دلاویز نے رستم کے فلیٹ پر اس سے ملاقات کی اور اس کی افسردگی کی وجہ دریافت کی ۔ رستم کی افسردگی کی وجہ سہانا کی موت تھی ۔ رستم کو سہانا کی لاش برآمد ہو چکی تھی ۔ دلاویز نے رستم سے سہانا کی موت کا افسوس کیا ۔ رستم نے دلاویز کو بتایا کہ شیزا کو لانے کے لیے اس نے دلاویز کے دئیے ہوئے ایڈریس پر اپنے کارندوں کو بھیجا ہے وہ شیزا کو دلاویز کے گھر لے کر آئیں گے ۔ رستم نے دلاویز کو یہ بھی بتایا کہ وہ کل اپنے کارندوں کے ہمراہ ذوار برلی کے پاس جائے گا اور زیدون کو واپس لے آئے گا ۔ دلاویز مخصر سی ملاقات کے بعد گھر واپس لوٹ آئی ۔ بسیمہ کا ناود سے نکاح ہو چکا تھا اور بسیمہ کی رخصتی کے بعد دلاویز کو گھر بہت سنسان لگ رہا تھا ۔ آج وہ بسیمہ کی کمی محسوس کر رہی تھی اور اسے اکیلا پن محسوس ہو رہا تھا ۔ وہ بے قراری سے اپنے کمرے میں چہل قدمی کر رہی تھی ۔ اچانک ڈور بیل زور سے بج اٹھی ۔ دلاویز گیٹ پر گئی تو رستم کے ایک کارندے نے جھک کر ادب سے دلاویز کو سلام کیا ۔ گیٹ کے سامنے شیزا کھڑی تھی ۔ دلاویز نے شیزا کا ہاتھ تھاما اور اسے لاؤنج میں لے آئی ۔ لاؤنج میں آتے ہی شیزا نے دلاویز سے ہاتھ چھڑوا لیا ۔
“میرے ساتھ اور بھائی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ آپ کی وجہ سے ہوا؟” شیزا کے لہجے میں ناراضگی تھی ۔
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
#تین_دن_بعد
#Three_days_Later
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
دلاویز رستم کے فلیٹ پر رستم کا انتظار کر رہی تھی ۔ عشان بھی دلایز کے ساتھ تھا ۔ رستم نے دلاویز کو کال کی تھی کہ وہ دس منٹوں تک اپنے فلیٹ پر پہنچے گا ۔ تب سے دلاویز اس کا انتظار کر رہی تھی ۔ دلاویز کو انتظار کرتے ہوئے ساڑھے تین گھنٹے گزر چکے تھے ۔ وہ بار بار رستم کو کال کر رہی تھی لیکن رستم کا فون آف تھا ۔ اب دلاویز پریشانی اور غصے میں مبتلا ہو رہی تھی کہ رستم آ گیا ۔ وہ تیز تیز قدموں سے رستم کی طرف بڑھی ۔
“کہاں ہے زیدون ؟” دلاویز کے لہجے میں بے چینی اور بے قراری تھی ۔
“میں ذوار برلی کے پاس گیا تھا لیکن زیدون وہاں نہیں تھا ، ذوار نے بتایا کہ چار دن قبل وہ دو انڈین لڑکوں کے ساتھ اس کی غلامی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا” رستم بولا تو دلایز کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔
“تم جھوٹ بول رہے ہو ، تمہیں لگا کہ زیدون کے آنے سے میں تمہیں چھوڑ دوں گی اس لیے تم زیدون کو لے کر نہیں آئے” دلاویز کے لہجے میں کڑواہٹ اور غصہ تھا ۔
“اگر تم زیدون کو لے آؤ تو میں تم سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں” دلاویز اپنے غصے پر قابو پا چکی تھی اور اب اس کا لہجہ نارمل تھا ۔
“دلاویز! میری بات کا یقین کرو جو میں نے بتایا ہے وہی سچ ہے” رستم نے دلاویز سے کہا
“تم جھوٹ بول رہے ہو ، خبردار آئندہ میں تمہیں اپنے روبرو نہیں دیکھنا چاہتی” دلاویز ایک بار پھر غصے سے چلائی اور گردن ہلا کر عشان کو جانے کے لیے اشارہ کیا
” دلاویز! جو کچھ میں نے بتایا ہے وہ حقیقت اور سچ ہے ، زیدون ذوار کے چنگل سے فرار ہو چکا ہے” رستم نے ایک بار پھر دلاویز سے مخاطب ہو کر کہا لیکن دلاویز رستم کی بات سننے سے پہلے ہی دلاویز رستم سے ناراض ہو کر جا چکی تھی جبکہ رستم غصے سے پاگل ہو گیا ۔ اس نے ایک طرف چھوٹے ٹیبل پر پڑے ہوئے شیشے کے جگ اور گلاس کو فرش پر پھینک دیا ۔
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
دلاویز کو مسلم ڈیمو کریٹک پارٹی کی رکنیت مل چکی تھی ۔ پارٹی کے لیڈرز اور ارکان کا تعارف کروانے کے لیے محمول صاحب دلاویز کو مسلم ڈیمو کریٹک پارٹی کے آفس لے گیا ۔ محمول ایک ایک فرد کا نام لے کر دلاویز کو پارٹی کے ارکان کا تعارف کروا رہا تھا اور آخر میں محمول نے دلاویز کو پارٹی لیڈروں سے ملوایا ۔ دلاویز پارٹی کے سینیئر لیڈر دلدار خان صاحب کی باتوں سے بہت متاثر ہوئی ۔ دلدار خان صاحب کی باتوں سے دلاویز کو حب الوطنی کی خشبو محسوس ہوئی ۔
“پارٹی کے کو آپریٹو لیڈر ، پارٹی ہائی کمانڈ لیڈرشپ اور سینیئر لیڈر یہ سب تو سمجھ میں آتا ہے لیکن شماز جامی اور سیٹھ ماذوق جیسے بزنس مین ، استاد فیضی اور سردار جمال جیسے مافیا ڈان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان لوگوں کا ہماری پارٹی میں کیا کام؟” دلاویز نے محمول صاحب سے پوچھا
“سیاست اور حکومت کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے پیسہ ، طاقت اور دماغ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔پارٹی میں کچھ بزنس مین لوگوں کو صرف سیاسی پارٹی کی رکنیت اس لیے دی جاتی ہے تاکہ ان کو ورغلا کر پارٹی کی مالی ضروریات پوری کی جا سکیں ۔ شماز جامی اور سیٹھ ماذوق جیسے بزنس مین لوگوں کی خوشامد اور انہیں یہ بات سمجھانا کہ انہیں سیاسی تجربہ ہونے پر پارٹی کے سینیئر لیڈرز میں شامل ہونا ہے بس یہی بات کافی ہے انہیں ورغلانے کے لیے پھر یہی لوگ ہمارے جلسے جلوسوں اور ہماری جیت کا جشن منانے پر پیسہ خرچ کرتے ہیں ۔ اپنے خلاف اور پارٹی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے ہمیں طاقت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ طاقت ہمیں استاد فیضی اور سردار جمال جیسے لوگوں سے ملتی ہے جن کا مافیا پر راج چلتا ہے ۔ پیسہ اور طاقت کا صیح استمعال کرنے کے لیے دماغ کی ضرورت ہوتی ہے” محمول صاحب نے دلاویز کے سوال کا تفصیلی جواب دیا تو دلاویز نے محمول صاحب کو کوفت بھری نگاہوں سے دیکھا ۔
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
وہ عشان اور عروشہ کی شادی کی تقریب سے لوٹ کر واپس آئی تھی ۔ دلاویز لاؤنج میں آئی تو شیزا ٹی وی دیکھ رہی تھی ۔
دلاویز کو دیکھتے ہی شیزا منہ بسور کر دلاویز کے سلام کا جواب دئیے بغیر ہی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔ دلاویز جو کہ پہلے ہی افسردہ تھی اب غصے سے سیخ پا ہو گئی ۔ اسے پرس میں تھرتھراہٹ سنائی دی ۔ دلاویز نے پرس سے سیل فون نکالا ۔ دلاویز نے سیل فون کی سکرین دیکھی ۔ رستم کی مسڈ کال اور میسیجز تھے ۔
پہلا میسیج یہ تھا
“خوابوں کا بھی ھے شوق تیری یادوں میں بھی مزہ
سمجھ میں نہیں آتا سو جاؤں کہ تجھے یاد کروں”
دوسرے میسیج کی عبارت یہ
“دل میں آ جاؤ مرے تخت نشیں ہو جاؤ
تم حسیں ویسے بھی ہو اور حسیں ہو جاؤ”
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز میسیجز پڑھ رہی تھی کہ رستم کی کال آ گئی لیکن دلاویز نے کال کاٹ دی اور اب پھر سے رستم کا نیا میسیج آیا جس میں اس نے لکھا تھا کہ وہ دلاویز کے گھر کے باہر کھڑا ہے اور گیٹ کھلنے کا انتظار کر رہا ہے ۔ دلاویز نے رستم کو جوابی میسیج سینڈ کیا جس میں اس نے لکھا تھا کہ میں گھر پر نہیں ہوں ۔ اب دلاویز اپنے کمرے میں چلی گئی ۔ سیل فون آف کرنے کے بعد اب وہ ڈائری پڑھنے میں مصروف ہو گئی ۔ ڈائری کا جو صفحہ وہ پڑھ رہی تھی اس پر لکھا تھا کہ رستے انکے لیے بنتے ہیں جو آنکھیں
بند کر کے اللہ کی رحمت پر یقین رکھتے
ہیں۔۔ جو ہارنا نہیں جانتے—-
جو آخری سانس تک کی کوشش کے
اصول پر چلتے ہیں—- جو اللہ سے
نا امید نہیں ہوتے—- جو پہاڑوں سے
بھی ٹکرا جاتے ہیں پر ریزہ ریزہ پہاڑ
ہوتا ہے، وہ خود نہیں—-​ ​یہی لوگ ہیں
جنکے لیے رستے پھر سمندر میں بھی
بنتے​ ​ہیں—– مومن تو ایسا ہوتا ہے—–​
​میرے حرف گونگے ہیں​
​میرے لفظ بے معنی​
​میرا لہجہ بے تاثیر​
​میری بات بے ترتیب​
​میرے_رب تجھ سے​
​میری التجا یہ ہے​
​میرے گونگے حرفوں کو​
​بےوقار لفظوں کو​
​بے اثر سے لہجے کو​
​بے ثمر سی باتوں کو​
​بخش دے پزیرائیاں​
​مجھ پہ اک نظر کر دے​
​مجھ کو باہنر کر دے​
​اتنا معتبر کر دے​
​آمین یا رب العالمین​
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
دلاویز اور ستم کی ناراضگی کو چھ ماہ گزر چکے تھے ۔ وہ ایک دوسرے کی کال تو رسیو نہیں کرتے تھے لیکن فون میسیجز کے ذریعے دونوں کے درمیان رابطہ ہوتا رہتا تھا ۔ آج وہ ایک چھوٹے سے پارک میں بیٹھی سوچوں میں گم تھی ۔
“کامیاب الیکشن مہم کے لیے تمہارا شادی شدہ ہونا بہت ضروری ہے ، میڈیا تمہارا کوئی جھوٹا سکینڈل نہیں دیکھا سکے گا اور تمہارا سیاسی حریف بھی فضول قسم کی الزام تراشی نہیں کر سکے گا” محمول صاحب کا دیا ہوا مشورہ اسے بار بار شادی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر رہا تھا ۔ شادی کے لیے اس کے دماغ میں زیدون کے علاوہ کوئی نام نہیں آ رہا تھا اور زیدون ہے کہاں؟ وہ کب واپس لوٹ کر آئے گا ؟ کیا میں وہ مجھ سے اب بھی محبت کرتا ہو گا یا شیزا کی طرح اسے بھی مجھ سے نفرت ہو چکی ہو گی؟ جتنا میں اسے یاد کرتی ہوں کیا زیدون بھی اتنا ہی مجھے یاد کرتا ہو گا؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دلاویز اپنے ہی سوالات کے جوابات خود سے اخذ کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کا دماغ ان سوالات میں الجھ چکا تھا جن سوالات کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔
“شادی بھی کسی ایسے شخص سے کرو جو تمہیں سیاسی طور پر سپورٹ کر سکے” محمول صاحب کا دیا ہوا دوسرا مشورہ بھی دلاویز کو یاد آ گیا ۔
“میں ایسے شخص شادی نہیں کرنا چاہتی جو مجھے سیاسی طور پر سپورٹ کرتا ہو بلکہ مجھے ایسے شخص سے شادی کرنی ہے جو الیکشن مہم میں مجھے مالی طور پر سپورٹ کر سکے” دلاویز خود سے بڑبڑائی اور پھر مسکرا پڑی ۔
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *