Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hakoomat by Waheed Sultan Episode17

Hakoomat by Waheed Sultan Episode17

دلاویز اپنی دوست عروشہ کو ساتھ لے کر بسیمہ سے ملاقات کے لیے اس کے گھر چلی گئی ۔ بسیمہ بھی دلاویز کو دیکھتے ہی خوشی کے مارے دلاویز سے لپٹ گئی اور اسے جیت کی مبارکباد دی ۔
“آپ دونوں کچھ دیر باتیں کریں میں آپ کے لیے اچھا سا کھانا بنا کر لاتی ہوں” بسیمہ نے دلاویز اور عروشہ سے کہا تو وہ دونوں نے بھوک کا بھرملا اظہار کیا اور بسیمہ کو جلدی کھانا تیار کرنے کی تاکید کی ۔عروشہ اور بسیمہ اپنی باتوں میں مگن تھی اور بسیمہ کھانا بنا کر لے آئی ۔
“یار بسیمہ تم کتنی بدتمیز ہو گئی ہو ، تین مہینوں بعد تمہارے گھر آئی ہوں تو تمہیں میرے لیے یہ مٹروں والے چاول ہی ملے تھے بنانے کو اور سب سے بڑا ظلم تم نے یہ کیا ہے جو چاولوں پر چینی اور شکر ڈال دی ہے” دلاویز چاولوں کی ٹرے کو دیکھ کر ایکدم تلملا اٹھی ۔
“یہ چاول میں نے اپنے اور عروشہ کے لیے بنائے ہیں ، تمہارے لیے ناود کچھ اسپیشل لے کر آ رہے ہیں” بسیمہ نے مسکراتے ہوئے کہا
“آج پہلی بار تمہارے میاں سے ملاقات ہو گی ، بہت کنفیوز ہوں ، تمہارے پاپا ناود کے دوست تھے اس حساب سے تو انکل بولو گی اسے لیکن اب تمہارے میاں بھی ہیں اس لیے اب ناود بھائی ہی بولنا پڑے گا “دلاویز نے شرارت بھرے لہجے میں کہا تو بسیمہ نے دلاویز کو خفگی بھرے انداز میں دیکھا
“اب غصہ مت دکھاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ میں انہیں ،،بسیمہ کے میاں،، کہہ کر مخاطب کر لوں گی” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا تو بسیمہ بھی مسکرا پڑی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بسیمہ سے ملاقات کے بعد دلاویز رستم سے ملاقات کے لیے ڈسٹرکٹ جیل چلی گئی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“میں نے تمہارے بارے میں دلدارخان سے بات کی ہے اور اب تم بہت جلد رہا ہو جاؤ گے” دلاویز نے رستم سے کہا
“نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم انہیں روک دو کہ وہ میرے رہائی کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہ کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ لوگ بیرون ملک سے آئے ہیں اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے میرے دو گارڈ بھی خرید لیے تھے لیکن میں اپنی حفاظت کے پیش نظر جان بوجھ کر گرفتار ہوا تھا” رستم نے دلاویز کو بتایا
“جب خطرہ ٹل جائے گا اور میں خود کو محفوظ سمجھوں گا تب وہ لوگ جنہوں نے میرے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے وہ کیس واپس لے لیں گے اور میں رہا ہو جاؤں گا” رستم نے دلاویز سے کہا
“رستم! اب مزید جدائی برداشت نہیں ہوتی” دلاویز نے رونی صورت بناتے ہوئے کہا
“محترمہ! کچھ مہینے مزید صبر کر لو” رستم نے کہا ۔ دلاویز رستم سے ملاقات کے بعد لاک اپ سے باہر جا رہی تھی اور رستم اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
زیدون جیل کے اندر قیدیوں کے ہمراہ بیٹھا تھا کہ ایک پولیس اہلکار اسے کے پاس آیا اور اسے کہا کہ چلو اٹھو تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہے ۔ زیدون نے پولیس اہلکار کو دیکھا اور پھر اس کے ساتھ چل پڑا ۔ پولیس اہلکار اسے جیل کے نیچے تہہ خانہ میں ایک کمرے میں لے گیا ۔ کمرہ نہایت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ۔ نہایت پر استائش بیڈ اور بیڈ کے قریب ریوالونگ چیئر اور شیشے کی میز پڑی تھی ۔ میز پر ٹوکری میں مختلف قسم کے پھل پڑے تھے ۔ زیدون یہ سب دیکھ کر بہت حیران تھا ۔
“آج سے تم یہاں رہو گے اور صرف خاص موقعوں پر ہی تمہیں کچھ دیر کے لیے سلاخوں کے پیچھے جانا پڑے گا” پولیس اہلکار نے زیدون کو بتایا ۔
“میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ سب سہولتیں مجھے کیوں دی جا رہی ہیں اور دوسرے قیدی ان سہولتوں سے کیوں محروم ہیں؟” زیدون نے پولیس اہلکار سے پوچھا
“یہ سب دلاویز میڈم کی عنایت ہے تم پر” پولیس اہلکار نے کہا
“دلاویز میڈم سے کہہ دینا کہ زیدون دوسرے قیدیوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے” زیدون نے کہا تو پولیس اہلکار کمرے کا سلاخوں والا دروازہ لاک کر کے چلا گیا اور زیدون نے غصے سے سر جھٹکا
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
محمول صاحب اپنے گھر کے باغیچے میں بیٹھ کر سگریٹ کے کش لگا رہا تھا جب کسی نے اسے سلام بولا اور وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔ حمود خان اس کے سامنے کھڑا تھا ۔
“دشمن کو شکست دینے کے لیے دشمن کے دشمن سے دوستی کرنا دشمنی نبھانے کے بہترین اصولوں میں سے ایک اصول ہے” محمول نے حمود خان کے مقابل کھڑے ہو کر کہا
“دلاویز نے میری برسوں کی سیاست برباد کر کے رکھ دی ہے اور اب میں اسے برباد کرنا چاہتا ہوں” محمول نے ہونٹ چباتے ہوئے کہا
“دلاویز کو سٹوڈنٹ فیڈریشن میں شامل کر کے میں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی تھی اور اسے مسلم ڈیمو کریٹک پارٹی کی رکنیت دلوا کر آپ نے بہت بڑی غلطی کی” حمود نے افسوس بھرے لہجے میں محمول سے کہا
“ماضی کو کوسنے کی بجائے ہمیں فیوچر کو دیکھنا چاہیے” محمول نے پرامید نگاہوں سے حمود کو دیکھتے ہوئے کہا
“آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟” حمود نے محمول سے پوچھا
“دلاویز کی موت اور بدلے میں تم جو مانگو گے وہ ملے گا” محمول نے حمود سے کہا تو اس نے مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ محمول کی طرف بڑھا دیا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلدارخان صوبے کے چیف منسٹر منتخب ہو چکا تھا اور وہ اپنی مصروفیات کے بالائے طاق رکھ کر دلاویز ملاقات کرنے اس کی رہائش گاہ پر چلا آیا ۔ ملاقات نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی ۔ دلاویز نے دلدارخان کو سی ایم بننے پر مبارکباد پیش کی ۔ دلدارخان نے کرنسی نوٹوں سے بھرا ہوا بریف کیس دلاویز کی طرف بڑھایا تو دلاویز پیسہ لینے سے انکار کر دیا ۔
“بیٹی! تم نے شیرشاہ اور محمول جیسے کرپٹ اور عوام دشمن سیاستدانوں کو سسٹم سے نکال باہر پھینکا ہے تو مجھ سمیت بہت سے سیاستدانوں نے یہ رقم جمع کر کے تمہیں انعام کے طور پر بھجوائی ہے” دلدارخان نے بریف کیس دلاویز کو دیتے ہوئے کہا تو دلاویز نے عشان کو بلایا ۔
“یہ کیش فیڈریشن کے طلباء میں تقسیم کر دو” دلاویز نے کرنسی نوٹوں سے بھرا ہوا بریف کیس عشان کو دیتے ہوئے کہا ۔
دلدارخان کے جانے کے بعد روشن خان نے دلاویز کو بتایا کہ حمود خان آیا ہے اور وہ آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے ۔
“پہلے عمر اور بہرام خان کو میرے پاس بھیجو اور پھر بعد میں حمود خان کو اندر بھیج دینا” دلاویز نے روشن خان کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ۔ روشن خان کے جانے کے بعد عمر اور بہرام ڈرائنگ روم میں آئے اور اس کے حمود خان آیا اور دلاویز کو سلام کیا تو عمر اور بہرام نے حمود پر پستول تان لیے ۔
“دنیا چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہے ، اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے میں بھی ماضی کو بھول کر آپ کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں” حمودخان نے مودبانہ انداز میں کھڑے ہو کر کہا
“تم میرے لیے کیا کر سکتے ہو؟” دلاویز نے حمودخان سے پوچھا
“آپ لوگوں نے مجھے میکال کو ایک ساتھ قید کر رکھا تھا اور اسی دوران میکال سے میری دوستی ہو گئی ، اب اگر آپ چاہیں تو میں میکال سے بات کر کے زیدون کو رہائی دلوا سکتا ہوں ، میکال اپنی ماں کو خون زیدون کو معاف کر دے گا” حمودخان نے دلاویز کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا
“مجھے زیدون کی رہائی سے کیا فائدہ ہو گا؟” دلاویز نے کرخت لہجے میں پوچھا
“وہ میکال نے مجھے بتایا تھا کہ آپ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ زیدون کو پسند کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ میں نہیں کہہ رہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا میکال کہتا ہے” حمود کے لہجے میں خوف کا عنصر موجود تھا
“اپنی فضول بکواس بند کرو ، میں صرف اور صرف اپنے شوہر رستم کوپسند کرتی ہوں اور اسی سے محبت کرتی ہوں” دلاویز غصے سے آگ بگولا ہو کر صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
“تمہارے لیے میرے پاس ایک دوسرا کام ہے اگر تم کرو گے تو تمہیں فائدہ ہو گا یعنی اس کام کا تمہیں معاوضہ دیا جائے گا ، تصدق صاحب کا گھر اور پراپرٹی شمازجامی کے قبضے میں ہے وہ گھر اور پراپرٹی تصدق صاحب کو واپس دلوا دو” دلاویز نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے حمود سے مخاطب ہو کر کہا
“تصدق صاحب کے گھر اور پراپرٹی کی لوکیشن کی تفصیل عشان تمہیں دے دے گا” دلاویز نے عمر اور بہرام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو ان دونوں نے حمود پر تانے ہوئے پستول ہٹا لیے ۔
“اب تم جا سکتے ہو” دلاویز نے بارعب لہجے میں کہا تو حمودخان ڈرائنگ روم کے بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز سے ملاقات کے بعد حمودخان محمول کے پاس گیا اور اسے دلاویز سے ہوئی ملاقات کی ساری تفصیل بتا دی ۔ جس پر محمول نے سوال اٹھایا کہ حمود کیوں دلاویز کے لیے کام کرنا چاہتا ہے تو حمود کا جواب تھا کہ وہ دلاویز کا بھروسہ جیت کر با آسانی دلاویز کو اپنی کسی سازش کے ذریعے راستے سے ہٹا دے گا ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
رستم کی سزا کم کروانے کے لیے ایڈووکیٹ میشا چوہدری نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی تھی اور اسی سلسلے میں رستم کو پریزنر وین Prisnor van میں ہائیکورٹ لے جایا جا رہا تھا کہ بلدیہ ٹاؤن کے قریب کچھ مسلحہ افراد نے وین پر حملہ کر دیا ۔ پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا گیا اور مسلحہ افراد رستم کو با آسانی اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے ۔ کچھ دیر بعد جب رستم کی آنکھوں پر باندھی ہوئی پٹی کھولی گئی ۔ کمرے کی دیواروں میں بے طرح کے سوراخوں سے کچھ روشنی کمرے میں آ رہی تھی ۔ ارد گرد کا جائزہ لینے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ وہ ایک پرانے خستہ کمرے میں ہے اور اس کے ہاتھ اور ٹانگیں مضبوط رسی سے باندھ دی گئی ہیں ۔ اس کے سامنے پچیس سال کی عمر کا نوجوان کھڑا تھا ۔
“میرا نام میکال ہے اور مجھے دلاویز کا پہلا آفیشل عاشق بننے کا اعزاز حاصل ہے” میکال نے طنز کرتے ہوئے کہا اور پھر خوفناک انداز میں مسکرایا تو رستم نے اسے متحیر نگاہوں سے دیکھا
“مجھ سے کیا چاہتے ہو؟” رستم نے میکال سے پوچھا
“دلاویز کو طلاق دے دو” میکال نے مسکراتے ہوئے کہا
“ناممکن ۔ ۔ ۔ ۔ تم نے ایسا سوچا بھی کیسے کہ میں دلاویز کو طلاق دے دوں گا” رستم جوشیلے انداز میں بولا
“جس دن تم نے دلاویز سے نکاح کیا تھا میں نے اسی دن تمہارا ایک خاص آدمی خرید لیا تھا پھر اس نے تمہاری کمزوریاں تلاش کرنا شروع کر دی ، اس نے مجھے بتایا کہ تم نے اپنی بوڑھی ماں ، اپنی پہلی بیوی جگن اور تین سالہ بیٹی کو دوبئی میں چھپا رکھا ہے اور وہ سب تمہاری سب سے بڑی کمزوری ہیں” میکال نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر زوردار قہقہ لگایا
“میں بہت جلد انہیں بھی تمہارے پاس لے آؤں گا اور اگر پھر بھی تم نے دلاویز کو طلاق نہ دی تو میں پہلے تمہاری بیوی کو ذبح کروں گا پھر بیٹی کو اور پھر تمہاری ماں کو” میکال نے اپنے درندہ ورانہ عزائم کا برملا اظہار کیا
“تم میری فیملی تک کبھی نہیں پہنچو گے ، میرا کوئی کارندہ نہیں جانتا کہ میری فیملی کہاں ہے” رستم نے غصہ بھرے لہجے میں کہا
“میری ماما میرے لیے ورثے میں کافی بینک بیلنس چھوڑ کر مری اور تمہارے وفادار روشن خان کو خریدنے کے لیے میری ماما کی انشورنس کی مالیت ہی کافی ہو گی” میکال نے ہنستے ہوئے کہا تو روشن خان کا نام سنتے ہی رستم چونک پڑا ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
دلاویز صوبائی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے اختتام پر اسمبلی ہال سے باہر نکل رہی تھی کہ پریس اور میڈیا نمائندے دلاویز کی طرف لپک پڑے ۔
“آپ کی پارٹی صوبائی حکومت بنا رہی ہے لیکن آپ نے کوئی وزارت اور پوزیشن قبول نہیں کی حالانکہ اگر آپ کی پاپولیرٹی کو دیکھا جائے تو آپ کو بڑی سے بڑی وزارت تو مل ہی سکتی تھی یا پھر آپ با آسانی صوبائی اسمبلی کی اسپیکر منتخب ہو سکتی تھی” تمور صحافی نے دلاویز کے ہاتھ میں مائیک تھماتے ہوئے پوچھا
“سیاست میں ہونے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ لازمی طور پر آپ کے پاس کوئی وزارت یا پوزیشن ہو اور ہاں گھر بیٹھے بیٹھے یہ کہنا بہت آسان ہے کہ آپ کے آس پاس کچھ بدل نہیں سکتا لیکن اگر ہمارے ملک پاکستان کے عام آدمی نے سیاسی معاملات میں دلچسپی لینا شروع نہ کی تو وہ دن زیادہ دور نہیں جب اس وطن کی حکومت غنڈے اور کرپٹ سیاستدانوں کے ہاتھ میں گی” دلاویز نے مائیک پر بولتے ہوئے کہا
“میڈم ایک منٹ بس ایک آخری سوال ۔ ۔ ۔ ۔ اتنے کم وقت میں آپ کی اتنی بڑی ترقی کا کریڈٹ کس کے سر جاتا ہے؟” میڈیا رپورٹر اکرام نے دلاویز سے پوچھا
“کسی کو بھی نہیں ، سیاست میرے لیے زندگی کے سفر کی طرح ہے جسے میں نے اکیلے ہی طے کیا ہے اور آگے بھی اکیلے ہی طے کرتی رہوں گی” دلاویز نے مسکرا کر کہا
“تھینک یو میڈم” میڈیا رپورٹر اکرام نے کہا تو دلاویز سرکاری گاڑی میں بیٹھ گئی ۔ آج دلاویز گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والے سرکاری ہاؤس میں شفٹ ہونے پر بہت خوشی تھی ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
کرم دین کے گھر باہر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم تھا ۔ دلاویز کرم دین کے ڈرائنگ روم میں بیٹھی عام لوگوں کے مسائل سن رہی تھی ۔
“میرا میاں بہت بیمار تھا اور علاج کے لیے ایک پرائیوٹ اسپتال میں داخل کروا رکھا تھا اور اب اسپتال والے ڈیڈ باڈی کے لیے ایک لاکھ روپے مانگ رہے ہیں” ایک بوڑھی عورت نے روتے ہوئے دلاویز سے کہا
“آپ اسپتال جائیں شام تک آپ کو ایک لاکھ روپے مل جائیں گے” دلاویز نے کہا
“ان کے نام پتہ نوٹ کر لو” دلاویز نے بوڑھی عورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عمر سے کہا تو عمر نے اثبات میں سر ہلایا ۔ اس کے بعد دلاویز نے مزید لوگوں کے مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کی اور آخر میں حمود سے ملاقات کی ۔ حمود نے دلاویز کو بتایا کہ شماز جامی نے محمول صاحب کے کہنے پر تصدق صاحب کے گھر اور پراپرٹی سے قبضہ ختم کر دیا ہے ۔ محمول کا نام سنتے ہی دلاویز کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے اور دلاویز نے حمود کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حمود کے جانے کے بعد دلاویز نے عشان سے ملاقات کی ۔
“نیلم پوری میں پچھلے چھ ماہ کے دوران جن جن آدمیوں نے اپنی بیوی کو تیزاب کے ذریعے ہراساں کیا ہے آج رات ان کو قتل کر کے ان کی لاشوں کو واٹر فلٹر پلانٹ کے سامنے والی دیوار کے ساتھ لٹکا دو اور ساتھ ایک اشتہار چسپاں کر دو جس پر لکھا ہو کہ جس نے اپنی بیوی پر تیزاب پھینکا اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جائے گا” دلاویز نے عشان کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا
دلاویز کرم دین کی رہائش سے باہر نکلی تو لوگوں نے دلاویز کے حق میں نعرے لگانے شروع کر دئیے ۔ روشن خان عمر اور بہرام لوگوں کو دھکیل کر پیچھے ہٹا رہے تھے تاکہ دلاویز کے گزرنے کے لیے راستہ بنایا جا سکے ۔ میکال بھی ہجوم میں گھس گیا اور روشن خان کے قریب پہنچنے کی کوشش کرنے لگا اور آخرکار اس نے روشن خان کے بازو میں انجیکشن سرنج گھسا دی ۔ روشن خان سرنج کی سوئی کے گھسنے کی وجہ سے درد سے تلملایا اور فوری طور پر پیچھے کی جانب گھوما لیکن لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے اسے پتا ہی نہ چل سکا کہ اسے کس نے انجیکشن لگایا ہے ۔ اور اسی دوران کسی نے پستول سے ہوائی فائر کیا اور دلاویز خوفزدہ ہو کر کانپنے لگی تو پولیس اہلکاروں نے دلاویز کو حصار میں لے لیا اور عشان نے دلاویز کو سہارا دے کر سرکاری گاڑی میں بٹھا دیا جبکہ روشن خان بے ہوش ہو چکا تھا ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *