Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hakoomat by Waheed Sultan Episode16

Hakoomat by Waheed Sultan Episode16

دلاویز حلقہ پی پی 121-E سے ممبر برائے صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیت چکی تھی اور اب اس کی گاڑی لوگوں کے ہجوم میں سے گزرتے ہوئے مسلم ڈیمو کریٹک پارٹی کے سینیئر لیڈر دلدارخان کی رہائش گاہ کی طرف گامزن تھی ۔
دلدارخان اپنے باغیچے میں پودوں کو پانی دے رہا تھا کہ دلاویز بھی وہاں آ گئی ۔
“دلاویز بیٹی کیسی ہو؟”دلدارخان نے پوچھا
“بس ٹھیک ہوں” دلاویز نے جواب دیا
“کیا بات ہے بیٹا کچھ پریشان لگ رہی ہو؟” دلدارخان نے کہا
“کچھ وقت سیاست میں مجھے بھی ہو گیا ہے اور کچھ تجربہ بھی حاصل ہوا ہے پھر بھی میں آپ سے “””حکومت””” کا مطلب پوچھنا چاہتی ہوں” دلاویز نے کہا
“حکومت کا مطلب ہے موقع ، ایک موقع تبدیلی اور خوشحالی لانے کا ، معاشرے میں بدلاؤ لانے کا ، عوام کی خدمت کرنے کا ، لیکن یہ سب کام کرنے کے لیے کافی ہمت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے” دلدارخان نے کہا
“دلدارصاحب! آپ اتنے سالوں سے اس بددیانت اور کرپٹ حکومتی و سیاسی ماحول کو برداشت کیسے کر رہے ہیں؟” دلاویز نے پوچھا
“ایک امید بیٹے ، بدلاؤ کی امید ، کوئی تو ایسا آئے گا جس میں ہمت ہو کہ وہ بدلاؤ لا سکے اور اس سسٹم کو بدل ڈالے” دلدارخان نے کہا
“اچھا میں چلتی ہوں دلدار صاحب” دلاویز نے کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلدارخان سے ملاقات کرنے کے بعد دلاویز محمول صاحب سے ملاقات کرنے کے لیے گئی تو محمول صاحب کے جیالوں نے دلاویز کا خوب استقبال کیا اور دلاویز کو جیت کی مبارکباد دی جبکہ محمول صاحب نے دلاویز کو خوش آمدید کہا
“میں پرانی باتیں اور غلط فہمیاں بھول کر پھر آپ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے آئی ہوں” دلاویز محمول صاحب کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے مسکرا کر بولی ۔
“ہمیں خوشی ہے اس بات کی” محمول نے مٹھائی سے بھری ہوئی ٹرے دلاویز کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تو دلاویز نے محمول صاحب کو جیت کی مبارکباد دی اور دونوں ہاتھوں سے ٹرے میں سے دو رس گلے اٹھا لیے ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
آج کا دن دلاویز کے لیے تھکا دینے والا دن تھا ۔ وہ پورا دن الیکشن جیتنے کی خوشی مناتی رہی ۔ رات کے نو بج رہے تھے جب اس نے موبائل فون چیک کیا ۔ رستم کے بہت سارے میسیج آئے تھے ۔ دلاویز نے میسیج کے ذریعے رستم کو اپنی جیت کی خبر سنانے کے بجائے پہلے رستم کے بھیجے ہوئے میسیجز پڑھنے کا فیصلہ کیا ۔
پہلا میسیج: “تیرے پیار کی تمنا غمِ زندگی کے سائے
بڑی تیز آندھیاں ہیں یہ چراغ بُجھ نہ جائے
ہے عجیب داستاں کُچھ یہ ہماری داستاں بھی
کبھی تُم سمجھ نہ پائے کبھی ہم سُنا نہ پائے
نہ فضا ہے اپنے بس میں نہ نظر میں ہے کنارا
کہیں میرے دل کی کشتی نہ بھنوَر میں ڈوب جائے
کوئی حل تو ہی بتا دے میرے دل کی کشمکش کا
تجھے بھولنا بھی چاہوں تیری یاد بھی ستائے””
دوسرا میسیج: “ائے وہ وقت جدائی کے ہمارے آنسو
گر کے دامن پہ بنے تھے جو ستارے آنسو
لعل و گوہر کے خزانے ہیں یہ سارے آنسو
کوئی آنکھوں سے چرا لے نہ تمہارے آنسو
ان کی آنکھوں میں جو آئیں تو ستارے آنسو
میری آنکھوں میں اگر ہوں تو بچارے آنسو
دامن صبر بھی ہاتھوں سے مرے چھوٹ گیا
اب تو آ پہنچے ہیں پلکوں کے کنارے آنسو
آپ للہ مری فکر نہ کیجے ہرگز
آ گئے ہیں یوں ہی بس شوق کے مارے آنسو
دو گھڑی درد نے آنکھوں میں بھی رہنے نہ دیا
ہم تو سمجھے تھے بنیں گے یہ سہارے آنسو
تو تو کہتا تھا نہ روئیں گے کبھی تیرے لیے
آج کیوں آ گئے پلکوں کے کنارے آنسو
آج تک ہم کو قلق ہے اسی رسوائی کا
بہہ گئے تھے جو بچھڑنے پہ ہمارے آنسو
میرے ٹھہرے ہوئے اشکوں کی حقیقت سمجھو
کر رہے ہیں کسی طوفاں کے اشارے آنسو
آج اشکوں پہ مرے تم کو ہنسی آتی ہے
تم تو کہتے تھے کبھی ان کو ستارے آنسو
اس قدر غم بھی نہ دے کچھ نہ رہے پاس مرے
ایسا لگتا ہے کہ بہہ جائیں گے سارے آنسو
دل کے جلنے کا اگر اب بھی یہ انداز رہا
پھر تو بن جائیں گے اک دن یہ شرارے آنسو
تم کو رم جھم کا نظارہ جو لگا ہے اب تک
ہم نے جلتے ہوئے آنکھوں سے گزارے آنسو
میرے ہونٹوں کو تو جنبش بھی نہ ہوگی لیکن
شدت غم سے جو گھبرا کے پکارے آنسو
میری فریاد سنی ہے نہ وہ دل موم ہوا
یوں ہی بہہ بہہ کے مرے آج یہ ہارے آنسو
ان کو ناصرؔ کبھی آنکھوں سے نہ گرنے دینا
میری آنکھوں میں انہیں لگتے ہیں پیارے آنسو””
تیسرا میسیج: “کبھی کبھی زندگی آپکی چوائسز کو اس لیے بھی محدود کر دیتی ہے کیونکہ آگے چل کر اس کے پاس آپ کے لیے بہت بڑے بڑے انعامات ہوتے ہیں پھر آپ کو پیچھے چھوڑی ہوئی ہر وہ چیز چھوٹی لگتی ہے جس کے لیے کبھی آپ بہت بے چین تھے۔””” رستم کی سینڈ کی ہوئی شاعری دلاویز کے لیے بوریت کا باعث بن رہی تھی اس لیے دلاویز نے مزید میسیجز پڑھنے کی بجائے اس نے رستم کو میسیج بھیج کر اپنی جیت کی خوشخبری دی ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
جیت کے اگلے روز دلاویز نے سینیئر لیڈر دلدارخان سے ملاقات کی ۔
“دلدار صاحب اس بار قسمت آپ پر مہربان ہے” دلاویز نے رسمی گفتگو کے بعد کہا
“بیٹا!میں کچھ سمجھا نہیں” دلدارخان کا لہجہ متحیر تھا ۔
“اپنے سیاسی کیریر میں آپ پہلی بار سی ایم بنیں گے” دلاویز نے پر مسرت لہجے میں کہا
“ناممکن” دلدارخان نے مختصر طور پر کہا
“مگر کیوں ناممکن؟” دلاویز نے استفہامیہ انداز میں پوچھا
“شیرشاہ نے ستر فیصد ایم پی اے خرید لیے ہیں اور اب وہی سی ایم بنے گا” دلدارخان نے کہا
“آپ نے مجھے بیٹی بولا ہے اس لیے اس بار آپ ضرور سی ایم بنیں گے یہ آپ سے ایک بیٹی کا وعدہ ہے” دلاویز نے پرامید انداز میں مسکراتے ہوئے کہا جبکہ دلدارخان نے دلاویز کو افسردہ نگاہوں سے دیکھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلدارخان سے ملاقات کے دو گھنٹے بعد دلاویز محمول صاحب کی رہائش گاہ پر گئی اور محمول صاحب سے ون ٹو ون ملاقات کی ۔
“شیرشاہ اپنی اوقات پر آ گیا ہے لیکن میں نے کچھ ایسا کیا ہے اسکا شہر میں سانس لینا بھی مشکل ہو جائے گا” محمول نے کہا
“مگر سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ ہماری پارٹی میں کوئی اور بھی ہو سکتا ہے چیف منسٹر بننے کے لائق؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہوں” دلاویز نے محمول سے کہا
“میرے اور شیرشاہ کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے؟” محمول صاحب نے دلاویز سے کہا
“دلدارخان صاحب” دلاویز نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا
“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا وہ دلدارخان جو زندگی بھر شرافت کا بوجھ ڈھوتا رہا پھر بھی کچھ نہیں ہو پایا اس بوڑھے سیاستدان سے ، سی ایم بننے کے لیے صرف شریف ہونا کافی نہیں ہے ، تم ویسے سوچ بھی کیسے سکتی ہو کہ دلدارخان سی ایم بن سکتا ہے” محمول صاحب نے مسکراتے ہوئے رطب اللسان ہو کر کہا
“پارٹی ہائی کمانڈ لیڈرشپ نے دلدارخان کو سینیئر لیڈرز کی لسٹ میں رکھا ہے تو وہ اتنی سی بات پر خوش اور مطمئین ہے” محمول مسکراتے ہوئے بولا
“ویسے میرے پاس ایک ایسی خبر ہے جسے سنتے ہی آپ کے پاؤں تلے سے زمین نکل جائے گی” دلاویز کی بات سنتے ہی محمول صاحب کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی اور وہ متحیر نگاہوں سے دلاویز کو دیکھنے لگا
“شیرشاہ نے تمہاری حمایت کرنے والے تمام ایم پی اے خرید لیے ہیں اور وہ سی ایم بننے کی تیاری مکمل کر چکا ہے” دلاویز نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا
“تمہیں یہ سب کس نے بتایا ہے؟” محمول نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا
“سوال یہ نہیں ہے کہ مجھے کس نے بتایا بلکہ سوال یہ ہے کہ اب تم کیا کرو گے اور میں نے جو کہنا تھا وہ میں نے کہہ دیا اب اجازت چاہوں گی” دلاویز نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا ۔ دلاویز کے جاتے ہی محمول نے ٹومی کے کارندے کو کال کی ۔
“شیرشاہ اسلام آباد سے کراچی کے لیے روانہ ہو چکا ہے لیکن وہ کراچی نہیں پہنچنا چاہیے اور کسی قسم کی غلطی نہیں ہونی چاہیے ، تم میری بات سمجھ رہے ہو نا؟” محمول نے فون پر بات کرتے ہوئے کہا اور کال منقطع کی اور فون اپنے سفید کوٹ کی اندرونی جیب میں ڈالا ہی تھا کہ ڈرائنگ روم کا دروازہ دوبارہ کھلا تھا ۔ محمول اپنے سامنے دلاویز کو دوبارہ دیکھ کر ٹھٹھک گیا اور مضطرب نظروں سے دلاویذ کو دیکھنے لگا ۔
“سوری! میں اپنا پرس یہاں پر بھول گئی تھی” دلاویز صوفے سے پرس اٹھاتے ہوئے مسکرا کر بولی اور پھر فوری طور پر دروازہ کھول کر وہاں سے چلی گئی ۔ کار کی عقبی سیٹ پر بیٹھتے ہی دلاویز نے پرس کی زپ کے ساتھ لگا ہوا مائیکرو کیمرہ اتارا اور خوشی سے کیمرے کو چوما ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
عشان اور بہرام خان آفاقی صاحب کو ایک خستہ عمارت سے گھسیٹتے ہوئے باہر لے آئے ۔ عمارت کے سامنے ایک ایمبولینس کھڑی تھی جسکا دروازہ کھلا ہوا تھا اور اس کے اندر دلاویز بیٹھی تھی ۔
“اس سب کا مطلب کیا ہے؟ اوذب میرے گارڈز کہاں ہیں” آفاقی نے غصے سے چیختے ہوئے کہا تو عمر نے آنکھوں سے دائیں طرف اشارہ کیا جہاں پر آفاقی کے گارڈز بے ہوشی کی حالت میں رسیوں سے بندھے ہوئے پڑے تھے ۔
“یہ سب تو تیرے لیے نیا نہیں ہو گا ۔ ۔ ۔ ۔ تم نے اور محمول صاحب نے مل کر نہ جانیں کتنے ایم پی اے اور ایم این اے کو ڈرایا اور دھمکایا ہو گا اور یہاں تک کہ تو نے شیرشاہ کو قتل بھی کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ، آج کی تاریخ میں تیرے کارناموں کا سیاہ و سفید میرے پاس ہے ، اگر کل صبح تک تیرے ایم پی اے کا سپورٹ دلدارخان کے پاس نہی آیا تو سی ایم کے انتخاب کے دن تم اسمبلی میں جانے کے قابل نہیں رہو گے” دلاویز نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تو عشان نے آفاقی کو فرش پر پٹخ دیا اور پھر عمر اور بہرام خان کو ساتھ لے کر ایمبو لینس میں سوار ہوا ۔ ایمبولینس کا دروازہ بند ہوا تو دلاویز ڈرائیور کو جانے کے لیے کہہ دیا ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
محمول صاحب اپنی گاڑی سے اتر کا دلاویز کے آفس کی طرف بڑھ گیا ۔ آفس میں جاتے ہی اس نے دلاویز کو سلام کیا تو دلاویز نے سلام کے جواب کے ساتھ محمول صاحب کا خیر مقدم کیا ۔
“پہلے ذرا اس پر ایک نظر ڈال لیں” دلاویز نے ایک فائل محمول صاحب کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
“لائیں میڈم یہ فائل مجھے دیں ، میں یہ فائل پڑھ کر محمول صاحب کو سناتا ہوں” انسپیکٹر ناصر نے مسکراتے ہوئے کہا تو دلاویز نے محمول صاحب کی بجائے فائل انسپیکٹر ناصر کو دے دی جبکہ محمول نے باری باری انسپیکٹر ناصر اور دلاویز کو حیرت سے دیکھا ۔
“اس فائل میں لکھا ہے کہ ٹومی اور اس کے کارندے پکڑے گئے ہیں اور انہوں نے قبول کیا ہے کہ انہوں نے شیرشاہ کا قتل محمول صاحب کے حکم پر کیا ہے ” انسپیکٹر ناصر نے مسکراتے ہوئے کہا
“اور اس دن جب آپ نے فون پر ٹومی کو شیرشاہ کا کام تمام کرنے کا حکم دیا تھا تو میرے پرس کی زپ کے ساتھ لگے مائیکرو کیمرے میں سب کچھ ریکارڈ ہو گیا تھا ، آپ کو یاد ہے نا میں اپنا پرس آپ کے ڈرائنگ روم میں بھول گئی تھی اور جب آپ نے ٹومی کو فون کر لیا تھا تو میں نے پرس بھولنے کا ناٹک کیا تھا اور پھر اپنا پرس لے لیا تھا” دلاویز نے محمول صاحب کو مائیکرو کیمرہ دکھاتے ہوئے مسکرا کر کہا تو محمول دلاویز کو حیرت بھری نگاہوں سے دیکھے جا رہا تھا
“آپ نے شیرشاہ کا قتل کروایا جسے آپ نے اور پھر میڈیا نے ٹریفک حادثے کا روپ دیا ، اس سب کی خبر پارٹی لیڈرشپ کو بھی ہے اور اگر آپ جیل کی ہوا نہیں کھانا چاہتے تو بہتر ہو گا کہ آپ باہر جا کر اعلان کریں کہ آپ پارٹی سے استعفی دے رہے ہیں ، آپ کی پریس کانفرنس کے لیے میڈیا کے نمائندوں کو میں نے پہلے انوائیٹ کر دیا تھا” دلاویز کا لہجہ دھمکی آمیز تھا اور محمول کا دماغ غصے سے لبریز ہو چکا تھا ۔ وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تو دلاویز نے اپنے سامنے والی میز سے ایک پین اٹھایا اور ہلکے سے اس کے پیچھے لگے بٹن کو دبا کر پین کے ساتھ اٹیچ خفیہ مائیکرو کیمرہ آن کر دیا اور پین کو کتاب کے سہارے عمودی طور پر کھڑا رکھ دیا اور اب مائیکرو کیمرے کا رخ محمول صاحب کی طرف تھا ۔
“تم بہت بے غیرت اور شاطر قسم کی عورت ہو ، تیرے بھڑکانے پر میں نے شیرشاہ کو مروایا ہے اور اب تو میری پیٹھ میں چھڑا گھونپ رہی ہے؟ اس دو کوڑی کے اسپیکٹر کے ساتھ مل کر میرے ساتھ گیم کھیل رہی ہے؟” محمول کا لہجہ حقارت آمیز تھا ۔ دلاویز نے پین کا بٹن دبا کر کیمرہ آف کیا اور کرسی سے اٹھی ۔ اب وہ محمول کے روبرو کھڑی ہو گئی اور دلاویز نے محمول کے چہرے پر تھپڑ مارا تو محمول نے بھی تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ بلند کیا لیکن انسپیکٹر ناصر کا ہاتھ پستول کی طرف جاتا دیکھ کر وہ نارمل ہو گیا ۔
“تم نے مجھے پارٹی کا ٹکٹ دلوانے کے لیے بتیس لاکھ روپے طلب کیے تھے اور دوسری صورت میں بیڈ روم کے راستے پر چلنے کی تجویز دی تھی اور اب میں تمہیں اقتدار سے آؤٹ جانے کا راستہ بتا رہی ہوں ، باہر جاؤ اور پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ جیل کی سزا کاٹنے کے بعد سڑک پر کباب کا سٹال لگاتے رہو” دلاویز نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں کہا تو محمول دلاویز کو حقارت سے دیکھتے ہوئے آفس سے باہر نکل گیا ۔
“آج شام تک تمہارا معاوضہ تمہیں مل جائے گا ، شام کو عشان کیش لے کر خود تمہارے پاس آئے گا” محمول کے جانے کے بعد دلاویز نے انسپیکٹر محمول سے کہا تو اس نے مشکور انداز میں دلاویز کو دیکھا
آفس کے باہر میڈیا کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔ محمول صاحب کو آفس سے باہر نکلتے دیکھ کر نمائندے کیمرے اور مائیک اٹھائے محمول صاحب کی طرف لپکے ۔
“سیچو ایشن تھوڑی بدل گئی ہے ، میری طبعیت اچانک کچھ خراب سی ہو گئی ہے ، سانس کی بیماری اور کچھ بلڈ پریشر کی شکایت ہو گئی ہے ڈاکٹر سے بات ہوئی ہے انہوں نے مجھے آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میں پارٹی سے مستعفی ہو رہا ہوں” محمول صاحب نے کھانستے ہوئے کہا
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
محمول صاحب کے مستعفی ہوتے ہی رستم کے فلیٹ میں دلدارخان اور دلاویز کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ۔ دلاویز اپنے کارناموں کی وجہ سے بہت خوش تھی اور وہ دلدارخان سے پر مسرت لہجے میں باتیں کر رہی تھی ۔
“شیرشاہ جو پہلے بھی دو بار سی ایم رہ چکا تھا وہ ٹریفک حادثے کا شکار ہو کر دنیا فانی سے کوچ کر گیا ہے اور سی ایم کے دوسرے دعوے دار محمول صاحب بھی مستعفی ہو گئے ہیں تو ایسی صورت میں لیڈرشپ کی توجہ کا مرکز اب آپ ہیں” دلاویز نے مسرت بھرے لہجے میں دلدارخان سے کہا
“ایک سو پچاسی ایم پی اے نے اپنے اپنے سپورٹ لیٹر مجھے بھیج دئیے ہیں اور اب پارٹی لیڈرشپ سی ایم کے لیے میرا نام اناؤنس کرے گی اور میں وہ لیٹرز لے کر گورنر صاحب کے پاس جاؤں گا ” دلدارخان نے دلاویز کو تفصیلی طور پر بتایا
“دلدارصاحب! آپ کو ٹینشن لینے کوئی ضرورت نہیں ، اپوزیشن پارٹی چیف منسٹر کے لیے اپنے نمائندے کا نام اناونس نہیں کرے گی اور یوں آپ بلا مقابلہ چیف منسٹر منتخب ہوں گے” دلاویز نے دلدارخان پر مزید رعب ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
“بیٹی! تم اپنے بارے میں بتاؤ ، تم اپنے لیے کونسی وزارت پسند کرو گی” دلدارخان نے دلاویز سے پوچھا
“مجھے کوئی وزارت نہیں چاہیے ، مجھے بس رستم کی با عزت رہائی چاہیے اور ویسے بھی میں حکومتی ایوانوں میں بیٹھ کر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی ، میں اپنا وقت اپنے حلقے میں رہتے ہوئے گزارنا چاہتی ہوں اور دل و جان سے عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہوں” دلاویز نے سیل فون کی سکرین کو دیکھتے ہوئے کہا
“رستم بہت جلد با عزت رہا ہو گا ، میں چیف منسٹر بنتے ہی اس کی رہائی کے لیے اقدامات کروں گا” دلدارخان نے تسلی آمیز لہجے میں کہا
“اب مجھے اجازت دیں ، رستم سے ملاقات کا وقت ہو گیا ہے” دلاویز نے دلدارخان سے کہا
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *