Hakoomat by Waheed Sultan NovelR50741 Hakoomat by Waheed Sultan Episode10
No Download Link
267K
19
Rate this Novel
Hakoomat by Waheed Sultan Episode01 Hakoomat by Waheed Sultan Episode02 Hakoomat by Waheed Sultan Episode03 Hakoomat by Waheed Sultan Episode04 Hakoomat by Waheed Sultan Episode05 Hakoomat by Waheed Sultan Episode06 Hakoomat by Waheed Sultan Episode07 Hakoomat by Waheed Sultan Episode08 Hakoomat by Waheed Sultan Episode09 Hakoomat by Waheed Sultan Episode10 (Watching)Hakoomat by Waheed Sultan Episode11 Hakoomat by Waheed Sultan Episode12 Hakoomat by Waheed Sultan Episode13 Hakoomat by Waheed Sultan Episode14 Hakoomat by Waheed Sultan Episode15 Hakoomat by Waheed Sultan Episode16 Hakoomat by Waheed Sultan Episode17 Hakoomat by Waheed Sultan Episode18 Hakoomat by Waheed Sultan Last Episode
Hakoomat by Waheed Sultan Episode10
Hakoomat by Waheed Sultan Episode10
ایڈووکیٹ میشا چوہدری دلاویز کو اپنے آفس میں دیکھ کر حیران ہو گئی اور دلاویز کو متحیر نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔
“آپ نے چند سال قبل میرے ساتھ بہت برا سلوک کیا تھا لیکن آپ پریشان نہ ہوں میں سے انتقام لینے نہیں آئی بلکہ آپ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے آئی ہوں” رسمی گفتگو کے بعد دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا تو میشا چوہدری نے دلاویز کو اپنے سامنے ٹیبل کی دوسری طرف پڑی کرسی پر بیٹھنے کے لیے اشارہ کیا
“میں نے لاء کی ڈگری مکمل کر لی ہے اور اب آپ کے چیمبر سے پریکٹس سیشن مکمل کرنا چاہتی ہوں ، اگر آپ خوشدلی سے میری حوصلہ افزائی کریں گی تو مجھے بھی خوشی ہو گی اور انکار کریں گی تو پھر مجھے رستم صاحب سے بات کرنا پڑے گی” دلاویز نے پیپسی سے بھرا ہوا گلاس ملازم کی ٹرے سے اٹھاتے ہوئے کہا
“اس میں انکار کی تو کوئی وجہ نہیں ہے میں تو پہلے ہی سرچ کر رہی تھی کہ کوئی سٹوڈنٹ جس کی قانون کی ڈگری مکمل ہو اسے میں اپنے چیمبر میں پریکٹس سیشن کے لیے مدعو کروں اور آپ تو خود میرے پاس آئی ہیں اس لیے موسٹ ویلکم” میشا چوہدری نے پھیکی مسکان کے ساتھ کہا
“اب مجھے اجازت دیں ، میں یکم اگست سے آپ کا چیمبر آف لاء جوائن کر لوں گی” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ ایڈووکیٹ میشا چوہدری سے ملاقات کے بعد دلاویز گھر واپس آئی تو عشان ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا تھا ۔
” عشان بھائی! تم کب آئے مجھے خبر کر دیتے تو میں جلدی گھر آ جاتی” دلاویز نے عشان سے کہا
“آپ کو تین بار کال کی تھی لیکن آپ نے رسیو نہیں کی تو پھر میں نے بسیمہ بہن کو کال کی تو وہ مجھے یہاں بٹھا کر چلی گئیں” عشان نے دلاویز کو بتایا
“تم کچھ پریشان لگ رہے ہو ؟” دلاویز نے عشان سے پوچھا
“کچھ نہیں بلکہ بہت زیادہ پریشان ہوں” عشان نے کہا تو دلاویز نے پریشانی کی وجہ پوچھی
“جب سے عروشہ حیدر آباد گئی ہے تب سے امی کو کہہ رہا تھا کہ حیدر آباد جائیں اور ماموں سے میرے اور عروشہ کے رشتے کی بات کریں لیکن امی نے صاف انکار کر دیا ۔ ایسی صورت میں مجھے خود حیدر آباد جانا پڑا اور میں نے ماموں کو اپنا تعارف کروایا تو ماموں نے کہا کہ جو عورت کسی کے عشق میں پاگل ہو کر گھر سے فرار ہو جائے اور گھر والوں کی مرضی کے خلاف کورٹ میرج کر کے اپنے باپ اور بھائی کو رسوا کر دے تو ایسی عورت کا بیٹا قطعی طور پر میرا بھانجا نہیں ہو سکتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب عروشہ کو پتا چلا کہ میں اس کی پھوپھو کا بیٹا ہوں اور گھر والوں نے پھوپھو کے ساتھ بائیکاٹ کیا ہوا ہے تو عروشہ نے مجھے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا” عشان نے دلاویز کو ساری تفصیل بتا دی ۔
“اگر تمہارے ماموں تمہیں خود آ کر بولیں کہ وہ عروشہ کی شادی تم سے کر دیں تو تم عروشہ سے شادی کر لو گے نا؟” دلاویز نے سینے پر بازو لپیٹتے ہوئے عشان سے سوالیہ انداز میں پوچھا تو عشان نے “ہاں” میں جواب دیا
“او کے چار پانچ دنوں میں تمہارے ماموں عروشہ کا رشتہ لے کر تمہارے پاس آئیں گے” دلاویز نے فکرمندانہ انداز میں کہا
“دلاویز بہن! جیسا آپ کہہ رہی ہیں اگر ویسا ہی ہوا تو میں زندگی بھر آپ کا احسان مند رہوں گا” عشان کے چہرے پر پریشانی کی جگہ خوشی کے آثار نمودار ہو گئے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ دلاویز جو کہتی ہے وہ کام ضرور کرتی ہے ۔
“بہرام خان کی کال آئی تھی وہ بتا رہا تھا کہ حمود خان نے فیڈریشن کے لڑکوں کو فٹبال گراؤنڈ میں جمع ہونے کو کہا ہے ، وہ بینک سے دو لاکھ روپے لے کر نکل چکا ہے ، اگر اس نے دو لاکھ روپے فیڈریشن میں بانٹ دیے تو پھر وہ بہت سے لڑکوں کو اپنی طرف کرنے میں کامیاب ہو جائے گا” دلاویز کا لہجہ فکرمندانہ تھا
“بہرام خان حمود کا تعاقب کر رہا ہے ، بہرام خان سے رابطہ کرو اور تم عمر اور ضیغم کو ساتھ لے جاؤ اور حمود کا راستہ روکو” دلاویز نے عشان کو ہدایت کرتے ہوئے کہا
“حمود کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے؟” عشان نے پوچھا
“تمہیں جو بہتر لگے وہ کر لو مجھے بس دو لاکھ روپے چاہیے” دلاویز نے لاپرواہی سے کہا تو عشان صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
نیسٹو آئس کریم کارنر کے کیبن نمبر بانوے میں سہانا کے ساتھ بیٹھ کر آئس کریم کھا رہا تھا ۔
“عشان ، عمر ، ضیغم اور بہرام خان تمہاری چڑیا کے پر ہیں ، اگر تم اپنی چڑیا کے پر کاٹ دو تو وہ خود بخود تمہارے قدموں میں آ گرے گی” سہانا نے رستم سے کہا
“میں چڑیا کو اپنے قدموں میں نہیں گرانا چاہتا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میری چڑیا اپنا دل میرے قدموں میں بچھا دے اور پھر اس کے دل پر میرے علاوہ کسی کا اختیار نہ ہو اور اس کی سوچوں پر میری یادوں کا پہرہ ہو” رستم نے موبائل فون میں وال پیپر پر دلاویز کی تصویر سیٹ کرتے ہوئے کہا اور اسی لمحے رستم کا دوسرا فون بج اٹھا ۔ اس نے کال رسیو کی اور فون کوٹ کی جیب میں ڈال دیا
“کس کی کال تھی؟” سہانا نے شرارتی لہجے میں پوچھا
“چڑیا کی کال تھی آج رات اٹھ بجے اس نے مجھے اپنے گھر بلایا ہے” رستم کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا
شام کے چار بجے دلاویز کی کار فٹ بال گراؤنڈ کے قریب روکی ۔ کار سے نکلنے سے پہلے دلاویز نے عقبی سیٹوں کی طرف دیکھا تو عشان نے نوٹوں کا بھرا ہوا بیگ دلاویز کو دیا ۔
“اپنا اور اپنے ساتھیوں کا حصہ رکھ لیا نا؟” دلاویز نے عشان سے پوچھا تو عشان نے “ہاں” میں جواب دیا ۔ دلاویز نوٹوں سے بھرا ہوا بیگ لے کر فٹبال گراؤنڈ کی طرف چلی گئی ۔ دلاویز نے عمر اور ضیغم کی مدد سے بتیس لڑکوں میں کرنسی نوٹ تقسیم کیے اور دوبارہ کار میں واپس آ گئی ۔
“حمود خان کہاں ہے؟” دلاویز نے عشان سے پوچھا
“اسے بے ہوشی کا انجیکشن لگا کر ایک کمرے میں بند کر دیا ہے ، چوبیس گھنٹے بعد حمود کو ہوش آنا ہے لیکن بہرام اسے ہوش آنے سے پہلے ہی دوسرا انجیکشن دے دے گا” عشان نے دلاویز کو بتایا
” رستم نے سہانا کو میری نگرانی پر لگا رکھا ہے ، سہانا کو بھی وہاں بند کر دو اور بے ہوشی کا انجیکشن دے دو” دلاویز نے عشان سے کہا
“دلاویز بہن اسے اپنے پاس رکھ لیں” عشان نے دلاویز کو پستول اور گولیوں سے بھری ہوئی میگزین دیتے ہوئے کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز لاؤنج میں ٹہل رہی تھی ۔ وہ گرے کلر کا تھری پیس پہنے ہوئے تھی ۔ رات کے آٹھ بجنے میں پانچ منٹ کم تھے کہ دلاویز کو رستم کی کال آئی ۔ دلاویز نے کال رسیو نہ کی اور گیٹ کی طرف چلی گئی ۔ گیٹ پر رستم کھڑا تھا ۔
“کیا اندر آنے کے لیے نہیں بولو گی؟” رستم نے دلاویز سے شرارتی لہجے میں کہا
“نہیں” دلاویز نے مختصر جواب دیا
“میں تمہارے ساتھ ساحل سمندر پر گھومنے جاؤں گی” دلایز نے کہا تو رستم نے اپنی کار کا دروازہ کھولا اور دلاویز کو فرنٹ سائیڈ سیٹ پر بیٹھنے کے لیے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔ دلاویز کی خواہش کے مطابق کار پیرا ڈائیز پوائنٹ بیچ Paradise point Beach کی طرف رواں دواں تھی ۔
(Paradise Point is a famous beach on Arabian Sea located near Sandspit Beach, Hawke’s Bay in Karachi Sindh, Pakistan. )
“آج تم نے برقعہ کیوں نہیں پہنا؟” رستم نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے دلاویز سے پوچھا
“برقعہ پہننے کا یاد نہیں رہا” دلاویز نے مختصر جواب دیا
“اسلامی تاریخ کا ایک واقعہ ہے کہ ایک عربی عورت کا بیٹا جنگ میں شہید ہو گیا اور اس کے شہید بیٹے کو اس کے گھر کے سامنے رکھا گیا ۔ خبر ملتے ہی شہید کی ماں برقعہ پہنے گھر سے باہر آئی ۔ کسی نے پوچھا کہ آپ کو اچانک بیٹے کی شہادت کی خبر دی گئی لیکن آپ پھر بھی برقعہ پہن کر باہر آئیں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو تم جانتی ہو اس عورت نے کیا جواب دیا؟” رستم نے واقعہ ادھورا بیان کرتے ہوئے دلاویز سے پوچھا تو دلاویز نے رستم کو سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔
“اس عورت نے جواب دیا کہ میں نے بیٹا ضرور کھویا ہے لیکن حیا تو نہیں کھوئی” رستم نے واقعہ کا آخری جملہ بولا تو دلاویز نے رستم کو متحیر نگاہوں سے دیکھا
“سچ تو یہ ہے کہ میں جان بوجھ کر عبایا پہن کر نہیں آئی تھی ، میں جانتی ہوں کہ تم اکثر میری تصویروں کو دیکھتے ہو اس لیے میں چاہتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” دلاویز نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا ۔
“آج تم مجھے اپنی خوبصورتی اور پرسنیلٹی سے متاثر کرنا چاہتی ہو ، میرے خیال میں آج تمہیں کوئی خاص مطلب ہے مجھ سے” رستم نے مسکراتے ہوئے کہا اور کار دائیں جانب کو موڑ دی ۔
“میں تمہیں مطلبی لگتی ہوں؟” دلاویز نے رستم سے پوچھا
“جو لڑکی رستم کے ساتھ ٹائم پاس کر سکتی ہے تو کیا وہ مطلبی نہیں ہو سکتی؟” رستم نے دلاویز کے سوال کا جواب دینے کی بجائے دلاویز سے سوال کر دیا تو دلاویز نے بڑا سا منہ بنا لیا ۔
“میں نے تمہیں واضح طور پر بتا دیا تھا کہ میں بوریت سے بچنے کے لیے تمہارے ساتھ ٹائم پاس کرنے آتی ہوں اور اب مجھے اس بات کا اقرار کرنے میں بھی کوئی جھجھک نہیں کہ میں مطلبی ہوں ، ہاں میں مطلبی لڑکی ہوں” دلاویز نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا تو رستم نے کار کا اسٹیئرنگ بائیں جانب گھمانے کے بعد زوردار قہقہ لگایا
“تم جھوٹ نہیں بولتی تمہاری یہی عادت مجھے بہت پسند ہے حالانکہ تمہاری جگہ کوئی دوسری لڑکی ہوتی تو وہ اپنی صفائی میں ضرور کہتی کہ میں مطلبی نہیں ہوں” رستم نے سنجیدہ لہجے میں کہا
“ویسے تم نے آج گرے کلر کا تھری پیس کیوں پہنا ہے مطلب گرے کلر ہی کیوں؟ کوئی دوسرے کلر کا تھری پیس کیوں نہیں پہنا؟” رستم نے سوالیہ انداز میں دلاویز سے پوچھا
“تم اکثر گرے کلر کا تھری پیس پہنتے ہو میں نے بھی خاص طور پر گرے کلر کا تھری پیس پہنا کہ ہم دونوں میں کچھ تو میچنگ ہو” دلاویز نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے کہا
“میرے خیال میں یہ گرے کلر کا تھری پیس آج ہی خریدا ہے تم نے؟” رستم نے پوچھا
“ہوں” دلاویز نے اثبات میں سر ہلایا تو رستم کھکھلا کر ہنسا
“یعنی تمہیں آج مجھ سے بہت بڑا مطلب ہے؟” رستم نے کار پیرا ڈائیز پوائنٹ کے پارکنگ ایریا میں روکتے ہوئے کہا تو دلاویز فوری طور پر کار سے باہر نکلی اور اپنا غصہ ظاہر کرنے کے لیے کار کا دروازہ زور سے بند کیا ۔ دلاویز غصے سے منہ بنائے چلی جا رہی تھی جبکہ رستم کار لاک کرتے ہوئے اسے پیچھے سے آوازیں دے رہا تھا اور اسے رکنے کے لیے کہہ رہا تھا ۔ جب رستم نے دیکھا کہ وہ مسلسل چلتی جا رہی ہے تو وہ اس کے پیچھے بھاگا اور کچھ ہی لمحوں کے بعد وہ اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا ۔
“اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ یوں غصے والی صورت بنا کر تم پہلے سے زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو تو ایسا بالکل نہیں ، جب تمہارے چہرے سے خوشی چھلک رہی ہوتی ہے تو اس وقت تم بے پناہ حسین لگتی ہو” رستم نے سنجیدہ لہجے میں کہا تو دلاویز چلتے چلتے روک گئی ۔
“تم یہاں رکو ، میں چٹائی لے کر آتا ہوں” رستم نے کہا ۔ رستم چٹائی لے کر واپس آیا تو دلاویز وہاں نہیں تھی وہ اس کو ادھر اودھر تلاش کرنے لگا ۔ دلاویز سمندری لہروں میں ننگے پاؤں کھڑی تھی ۔ رستم چٹائی پکڑے ہوئے جب وہاں پہنچا تو اس کا سانس پھولا ہوا تھا ۔ دلاویز آنکھیں بند کر کے زیدون کے تصور میں کھڑی تھی ۔ سرگوشی کے انداز میں اس کی زبان پر زیدون کا نام تھا ۔
” سنو اے دل مزاج لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔
میں بھی تجھ سے محبت کرتا ہو
مگر اظہار کرنے سے ڈرتا ہوں
تجھے اداس کرنے سے ڈرتا ہوں
میں تجھے کھونے سے ڈرتا ہوں” رستم اشعار بولتے ہوئے اس کے سامنے لہروں میں کھڑا ہو گیا ۔
“سنو اے دل مزاج لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔
یہاں انتظار کرنا پڑتا ہے
درد سہنا پڑتا ہے
ہجر میں رہنا پڑتا ہے
وصل میں صبر کرنا پڑتا ہے
اظہار چھپانا پڑتا ہے
پیار چھپانا پڑتا ہے” رستم نے دلاویز کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تو دلاویز نے آنکھیں کھول دیں اور رستم کے چہرے کو دیکھنے لگی ۔
“سنو اے دل مزاج لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرا یوں پیار سے بات کرنا
تیرا یوں مسکرا کر دیکھنا
اور نظروں سے وار کرنا
مجھے بھی اچھا لگتا ہے
تیرا یوں مڑ کر دیکھنا
تیرا یوں میرے دل پر وار کرنا” رستم نے مسکراتے ہوئے کہا تو دلاویز کے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں رستم کے سینے سے ٹکرا گئیں ۔ دلاویز نے بہت زور سے رستم کو دھکیلا تھا اور وہ سمندری لہروں میں گر گیا تھا ۔ جب وہ پانی میں خوب بھیگ چکا تو وہ کھڑا ہو گیا ۔ دلاویز اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔
“کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اُسے
غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اُسے
وہ خار خار ہے شاخِ گلاب کی مانند
میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اُسے
یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے
میں کیسے بات کروں اور کہاں سے لاؤں اُسے
مگر وہ زود فراموش زود رنج بھی ہے
کہ روٹھ جائے اگر یاد کچھ دلاؤںاُسے
وہی جو دولتِ دل ہے وہی جو راحتِ جاں
تمہاری بات پہ اے ناصحو گنواؤں اُسے
جو ہم سفر سرِ منزل بچھڑ رہا ہے
عجب نہیں کہ اگر یاد بھی نہ آؤں اُسے” غزل بولتے ہوئے دلاویز ایک بار پھر زیدون کے تصور میں گم ہو چکی تھی اور رستم اس کا ہاتھ پکڑ کر لہروں سے باہر ریت کے ذرات پر لے آیا تھا ۔ اب وہ دونوں چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے ۔
“اتنی خاموش کیوں ہو ؟ کوئی بات کرو” رستم نے دلاویز سے کہا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ دلاویز اب بھی زیدون کی یادوں میں کھوئی ہے ۔
“کون سی بات کروں؟” دلاویز نے رونی صورت بنا کر کہا
“مطلب کی بات” رستم کا لہجہ شرارتی تھا ۔
“میرا بھائی عشان اپنے ماموں کی بیٹی عروشہ سے محبت کرتا ہے اور وہ عروشہ سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے ماموں کو یہ رشتہ منظور نہیں ، بس عشان کے ماموں کو تھوڑا ڈرا دھمکا کر اس رشتے کے لیے راضی کردو” دلاویز نے رستم کو اداس نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا تو رستم مسکرا پڑا ۔
“میری محترمہ! سمجھو کہ یہ کام ہو گیا” رستم نے پر مسرت لہجے میں کہا تو دلاویز نے عشان کا وہ میسیج جس میں عروشہ کے گھر کا پتہ لکھا ہوا تھا رستم کو فارورڈ Forward کر دیا ۔
رات کے بارہ بج چکے تھے ۔ رستم سے ملاقات کے بعد دلاویز گھر واپس آ چکی تھی ۔ وہ سونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کی نیند کہیں کھو گئی تھی ۔ کافی دیر نیند کا انتظار کرنے کے بعد دلاویز بستر سے اٹھی اور غریدہ کی ڈائری لے کر فرش پر بیٹھ گئی ۔ اس نے بسیمہ کی طرف دیکھا تو وہ گہری نیند سو رہی تھی ۔ دلاویز نے ڈائری کا جو صفحہ کھولا اس پر لکھا تھا کہ کچھ مرد سمجھ نہیں پاتے اور شاید کبھی سمجھ بھی نہ پائیں کہ عورت مضبوط ھے ۔
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ھی ﮨﻮتی ہے ہمیشہ مرد کی محتاج خواہ وہ مرد اس کا بھائی ہو باپ ہو یا شوہر ہو۔
ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﻮﺟﮫ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ , ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺎﺯﺅﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﺮﺍﺣﺖ ﺩﮮ ﺳﮑﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﻮ ﭘﻨﮩﺎﮞ ﻗﻮﺕ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻮﮐﮫ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﻢ دے ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﮬﺘﮑﺎﺭﮮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻏﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺳﮩﺎﺭ ﺳﮑﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺧﺎﺹ ﻗﻮﺕ ﺑﮭﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﻏﻤﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺳﺨﺖ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮑﻮﮦ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﮧ ﻻﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﭘﮧ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﺳﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮦ ﺳﮑﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻧﺎ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻭﮦ ﭘﻠﮏ ﺟﮭﭙﮑﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﺫﯾﺖ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ , ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮭﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮐﺒﮭﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺗﮑﺎﻟﯿﻒ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﮐﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﻨﺪ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎ ﺳﮑﮯ , ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺮﺏ ﮐﻮ ﮐﻢ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻧﺌﮯ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻏﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﻧﮑﺘﮧ ﮨﮯ۔
ﺍﺳﻠﺌﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﻋﺰﺕ ﺩﯾﻨﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ مذاق ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮌﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ
ﭼﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﻭﺟﮧ ﮐﮯ ﮨﯽ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﺋﮯ
جاری ہے
