Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hakoomat by Waheed Sultan Episode18

Hakoomat by Waheed Sultan Episode18

دلاویز کو سرکاری ہاؤس لایا گیا لیکن وہ اب تک مسلسل کانپ رہی تھی ۔ عشان نے ڈاکٹر کو بلایا ۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد کچھ دوائیاں دیں جنہیں کھانے کے بعد دلاویز سکون کی نیند سو گئی ۔
شام کے چار بج رہے تھے جب دلاویز سو کر اٹھی ۔ عروشہ اس کے پاس ہی بیٹھی تھی ۔
“دلاویز! ابھی مزید آرام کرو ، تمہیں ڈاکٹر نے آرام کرنے کی ہدایت کی ہے” عروشہ نے دلاویز کو متنبہ انداز میں کہا
“نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ میں اب ٹھیک ہوں” دلاویز نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا اور پھر اپنا سیل فون پکڑا اور انسپیکٹر ناصر کا نمبر ڈائل کر دیا ۔ انسپیکٹر ناصر سے فون پر بات کرنے کے بعد دلاویز ایک اور کمرے میں چلی گئی اور چہل قدمی کرنے لگی ۔ پندرہ سے بیس منٹوں بعد انسپیکٹر ناصر آیا اور دلاویز کو سلام کیا ۔
“سارے واقعہ کی معلومات تمہیں مل گئی ہو گی؟” دلاویز نے استفہامیہ انداز میں کہا
“ہاں مل گئی معلومات معلومات لیکن میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ انسپیکٹر کا عہدہ بہت چھوٹا ہے اور اس پوسٹ پر رہتے ہوئے میں آپ کی مدد نہیں کر سکتا” انسپیکٹر ناصر نے افسردہ لہجے میں کہا
“تمہارے ترقی کے بارے میں دلدار صاحب سے میں نے بات کی تھی اور آج دوبارہ انہیں کال کروں گی” دلاویز نے کہا
“ناصر! میں بہت پریشان ہوں ، روشن خان اور عمر دونوں غائب ہیں اور اب بہرام خان سیکیورٹی کی ذمہ داری نبھا رہا ہے لیکن اس صورتحال سے میں مطمئین نہیں ہوں” دلاویز نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
“میں عمر اور روشن کو تلاش کرواتا ہوں اور آپ کی سیکیورٹی کے لیے اقدامات کروں گا” انسپیکٹر ناصر نے تسلی آمیز لہجے میں کہا
ابھی دلاویز اور انسپیکٹر ناصر کی گفتگو جاری تھی کہ میشا چوہدری بھی وہاں آ گئی ۔ میشا چوہدری کو دیکھ کر ناصر نے دلاویز سے اجازت لی اور چلا گیا ۔
“کیا بات ہے تم پریشان ہو ، تمہارا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے ؟” دلاویز نے میشا چوہدری سے پوچھا
“کیا تمہیں اب تک خبر نہیں ملی؟” میشا چوہدری نے دلاویز کے سوال کا جواب دینے کی بجائے خود دلاویز سے سوال کر دیا ۔
“کیا ہوا ہے؟ کس خبر کی بات کر رہی ہو؟” دلاویز نے چونکتے ہوئے میشا چوہدری سے پوچھا
“آج پولیس رستم کو ہائیکورٹ لے کر جا رہی تھی تو راستے میں مسلحہ افراد نے پولیس وین پر فائرنگ کی اور پھر رستم کو ساتھ لے گئے” میشا چوہدری نے دلاویز کو بتایا تو دلاویز ایک بار پھر پریشان ہو گئی اور اس کے چہرے پر افسردگی اور مایوسی کے آثار نمایاں ہو گئے ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
روش خان کو جب ہوش آیا تو میکال اس کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہوا ہنس رہا تھا ۔ یہ ایک بڑا سا گودام نما ہال تھا جو ایک بڑی دوکان کے پیچھے تعمیر کیا گیا تھا اور اسی گودام کے اندر میکال نے عمر اور روشن خان کو لوہے کی کرسیوں پر زنجیروں سے جھکڑ رکھا تھا ۔ کرسیوں کے پایہ نما راڈ فرش کے اندر دھنسے ہوئے تھے ۔ زنجیروں کا ایک ایک سرا چھت کے ساتھ لگے کنڈہ نما رنگ Ring کے ساتھ لاک کیا گیا تھا ۔
“رستم کی ماں ، پہلی بیوی اور بیٹی کہاں ہیں؟ مجھے ایڈریس چاہیے” میکال نے روشن خان سے مخاطب ہو کر کہا
” دلاویز نے میری دو انگلیاں کاٹیں تھی اور میں نے اسے راز بتا دیا تھا” میکال نے اپنے گھٹنوں پر کہنیاں رکھ کر روشن خان کی طرف جھکتے ہوئے کہا
“تو میری ساری انگلیاں بھی کاٹ لے گا پھر بھی تجھے کچھ نہیں بتاؤں گا” روشن خان نے کرخت مگر دھیمے لہجے میں کہا تو میکال نے قہقہ لگایا ۔
“میری کیا غلطی ہے؟ مجھے کیوں اٹھا کر لائے ہو؟” عمر نے میکال کو کوفت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
“تمہاری غلطی یہ ہے کہ تم نے مجھے روشن خان کو انجیکشن لگاتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور تم نے سب کو متوجہ کرنے کے لیے ہوائی فائر کر دیا تھا اور میں تمہاری وجہ سے اپنا پلان برباد نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے میرے ساتھی نے میرے اشارے پر تمہاری آنکھوں میں پرفیوم ڈالا اور تمہیں بے ہوش کرنے کے لیے انجیکشن لگا دیا” میکال نے مسکراتے ہوئے کہا
“میں نے ہوا میں گولی اس لیے چلائی تھی تاکہ دلاویز بہن سمجھ جائے کہ اس کی جان کو خطرہ ہے اور وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ جائے” عمر نے کہا
“مطلب ہوائی فائر ایک سگنل تھا دلاویز کو خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے” میکال ہولے سے بڑبڑایا
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
صبح کا سورج طلوع ہو رہا تھا ۔ واٹر پلانٹ کے سامنے دیوار کے ساتھ تین آدمیوں کی لاشیں لٹک رہی تھی تھی اور ان کے گلے میں ایک اشتہار لٹک رہا تھا جس پر لکھا تھا کہ جو شخص بھی اپنی بیوی ، کسی عورت یا کسی لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینکے گا اس کے ساتھ کچھ ایسا ہی سلوک کیا جائے گا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ریلوے اسٹیشن پر بجلی کے کھمبے کے ساتھ ایک شخص کی لاش لٹک رہی تھی اور اس کے گلے میں فائلوں سے بھرا ہوا تھیلا لٹکایا گیا تھا ۔ کھمبے کے ساتھ ایک اشتہار آویزاں تھا جس پر لکھا تھا کہ یہ شخص عوام سے رشوت لیتا تھا اس لیے عوام نے اس سے اپنا بدلہ لے لیا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز ٹی وی پر اے بی نیوز چینل دیکھ رہی تھی جس پر ریلوے اسٹیشن پر لٹکی ہوئی تحصیل دار کی لاش دکھائی جا رہی تھی ۔ نیوز رپورٹر بتا رہا تھا کہ لاش کے گلے میں لٹکائی گئی فائلیں تحصیلدار کی کرپشن کا ثبوت ہیں ۔ دلاویز یہ رپورٹ دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھی ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
“آؤ انسپیکٹر ناصر خوش آمدید” دلاویز نے انسپیکٹر ناصر کی آمد پر مسرت بھرے لہجے میں کہا تو انسپیکٹر ناصر نے دلاویز کا شکریہ ادا کیا ۔
“ایک سیکیورٹی کمپنی سے میری بات ہوئی ، پہلے مرحلے میں کمپنی کو دولاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے اور کمپنی آپ کو ایک فی میل سیکیورٹی گارڈ مہیا کرے گی” انسپیکٹر ناصر نے کہا
“عشان کل تم سے رابطہ کرے گا اور تمہارے ساتھ جا کر کمپنی والوں سے مل کر تسلی کرے گا اور پھر دو لاکھ روپے کی ادائیگی کرے گا” دلاویز نے انسپیکٹر ناصر سے کہا
“اور ہاں دلدار صاحب سے میری بات ہوئی تھی وہ کہہ رہے تھے کہ دس دنوں تک تمہاری ترقی ہو جائے گی اور تمہیں ایڈیشنل ایس پی تعینات کر دیا جائے گا” دلاویز نے انسپیکٹر ناصر کو خوشخبری سنا دی ۔
“روشن خان اور عمر کا کچھ پتا چلا؟” انسپیکٹر ناصر نے دلاویز سے پوچھا
” انسپیکٹر تم ہو ، تم نے انہیں تلاش کرنے کا بولا تھا اور اب مجھے ان کے بارے میں پوچھ رہے ہو” دلاویز کا لہجہ ایکدم تبدیل ہو کر کخت ہوا تھا
“مجھے افسوس ہے کہ میں اب تک کوئی سراغ نہیں لگا سکا” انسپیکٹر ناصر نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا تو دلاویز نے ناصر کو غصے سے گھورا تو انسپیکٹر ناصر نے دلاویز کو سلام کیا اور چلا گیا ۔ اب دلاویز کرم دین کی طرف متوجہ ہوئی ۔ کرم دین نے بیس سالہ لڑکے حمید کو ڈرائنگ روم میں بلایا ۔
“یہ حمید ہے ۔ سماگا پلازہ کے ساتھ تین منزلہ مکان حمید کے باپ نے شماز جامی کو کرایہ پر دیا تھا ۔ پانچ سال پہلے اس کا باپ فوت ہو گیا اور تب سے وہ مکان شماز جامی کے قبضے میں ہے ، حمید اور اس کی ماں نے عدالتوں کے چکر بھی کاٹے لیکن شماز جامی کا پلڑا بھاری رہا ، دلاویز میڈم! اگر آپ وہ مکان اسے واپس دلوا دیں تو حمید آپ کو تین لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہے” کرم دین نے حمید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“یتیم لڑکا ہے ہم اس سے تین نہیں بلکہ دو لاکھ روپے لیں گے” دلاویز نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا اور حمید نے حیرت سے دلاویز کو دیکھا
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *