Hakoomat by Waheed Sultan NovelR50741 Hakoomat by Waheed Sultan Episode11
No Download Link
267K
19
Rate this Novel
Hakoomat by Waheed Sultan Episode01 Hakoomat by Waheed Sultan Episode02 Hakoomat by Waheed Sultan Episode03 Hakoomat by Waheed Sultan Episode04 Hakoomat by Waheed Sultan Episode05 Hakoomat by Waheed Sultan Episode06 Hakoomat by Waheed Sultan Episode07 Hakoomat by Waheed Sultan Episode08 Hakoomat by Waheed Sultan Episode09 Hakoomat by Waheed Sultan Episode10 Hakoomat by Waheed Sultan Episode11 (Watching)Hakoomat by Waheed Sultan Episode12 Hakoomat by Waheed Sultan Episode13 Hakoomat by Waheed Sultan Episode14 Hakoomat by Waheed Sultan Episode15 Hakoomat by Waheed Sultan Episode16 Hakoomat by Waheed Sultan Episode17 Hakoomat by Waheed Sultan Episode18 Hakoomat by Waheed Sultan Last Episode
Hakoomat by Waheed Sultan Episode11
Hakoomat by Waheed Sultan Episode11
میکال(سلمان) سموکنگ کلب سے نکل رہا تھا کہ اس کا سامنا اس کے دوست حق نواز سے ہوا ۔
“میکال دو منٹ کے لیے میری کار میں آ تجھ سے ایک ضروری بات کرنی ہے” حق نواز نے کہا تو میکال(سلمان) اس کے ساتھ چل پڑا ۔
“ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بول کیا مسئلہ ہے؟” میکال(سلمان) نے تحکمانہ انداز میں پوچھا
“مجھے پانچ لاکھ روپوں کی ضرورت ہے” حق نواز نے کہا
“تیری ضرورت سے میرا کیا لینا دینا” میکال(سلمان) نے بے تکلفی سے کہا
“او کے اگر تم ضرورت پوری نہیں کر سکتے تو میں دلاویز کو تمہارا راز بتا دوں گا کہ زیدون اور اس کی بہن کو تم نے اغواء کیا تھا اور اس راز کے عوض دلاویز ہنسی خوشی مجھے پانچ لاکھ روپے دے دے گی” حق نواز نے لاپرواہی سے کہا
“حق نواز میرے دوست! پانچ لاکھ روپے بہت بڑی رقم ہے اور تم تو میرے دوست ہو راز چھپانے کی قیمت تھوڑی کم کر لے یار”میکال(سلمان) نے نارمل لہجے میں کہا
“میکال! تمہاری ماما فلمی اداکارہ ہے پانچ لاکھ روپے تو وہ ایک دن میں ادائیں دکھا کر کما لیتی ہے” حق نواز نے مسکراتے ہوئے کہا تو میکال(سلمان) نے اپنا سر شرم سے جھکا لیا
“لیکن ماما اتنی بڑی رقم مجھے کب دیتی ہیں” میکال(سلمان) نے کہا
“حق نواز میرے دوست پلیز دلاویز کو کچھ مت بتانا ، میں ایک دو روز میں ہی تمہیں پانچ لاکھ روپے دے دوں گا” میکال(سلمان) نے منت سماجت کرتے ہوئے کہا تو حق نواز نے بھی او کے کہہ دیا
عشان کو کال کرنے کے بعد دلاویز کافی شاپ پر پہنچی گئی اور عشان کے آنے کا انتظار کرنے لگی ۔
“سلام دلاویز بہن” عشان نے کافی شاپ کے فیملی ہال میں دلاویز کے پاس آ کر کہا تو دلاویز نے سلام کا جواب دیا اور ویٹرس کو بلا کر کافی کا آرڈر بک کروایا ۔
“محمول پشتوئی سے میری بات ہو چکی ہے دو سے تین روز میں آپ کو مسلم ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے رکنیت مل جائے گی لیکن اس سے پہلے آپ کو محمول صاحب سے ایک ملاقات کرنی پڑے گی” عشان نے دلاویز کو بتایا
“اور جب میں رکنیت کا کارڈ لینے کے لیے ایم ڈی پی(مسلم ڈیموکریٹک پارٹی) کے آفس جاؤں تو اس وقت آفس کے باہر لوگوں کا ہجوم ہونا چاہیے اور آفس سے واپسی پر میرے نام کی نعرے بازی بھی ہونی چاہیے” دلاویز نے کافی کا کپ عشان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
“ماموں کی کال آئی تھی ، وہ سنڈے کو عروشہ کو لے کر آ رہے ہیں نکاح کے لیے” عشان پرمسرت لہجے میں بولا تو دلاویز بھی مسکرا پڑی ۔
“جلدی کافی پی لو کرم دین کے گھر جانا ہے کچھ لوگوں کے مسائل سننے ہیں” دلاویز نے عشان سے کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز عشان کے ہمراہ کرم دین کی رہائش پر پہنچی تو کرم دین نے دلاویز کو خوش آمدید کہا اور دلاویز رسمی گفتگو کے بعد صوفے پر بیٹھ گئی ۔
“یہ تصدق صاحب ہیں دس سال سے فیملی کے ساتھ دوبئی میں تھے اور اب واپس آئے ہیں تو شماز جامی نے ان کے گھر اور ان کی پراپرٹی پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے” کرم دین نے سامنے دوسرے صوفے پر بیٹھے ہوئے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“اب یہ صاحب کیا چاہتے ہیں؟” دلاویز نے بارعب لہجے میں پوچھا
“میڈم جی! میں عدالتوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتا ، عدالت گیا تو کئی مہینے یا کئی سال کیس چلے گا اور پھر مجھے میرا گھر اور پراپرٹی واپس ملے گی” تصدق نے افسردہ لہجے میں کہا
“آٹھ سے دس دنوں میں ہم تمہارا گھر اور پراپرٹی واپس دلوا دیں گے پیسوں کی بات انکل کرم دین سے کر لینا” دلاویز نے تصدق سے کہا اور پھر وہاں سے چلی گئی تو عشان بھی دلاویز کے پیچھے چل دیا ۔
“عشان بھائی! اپنے ساتھیوں کے ساتھ شماز جامی کے پاس چلے جانا اور تصدق صاحب کی پراپرٹی کے معاملے پر بات کیجیے گا ، اگر وہ آسانی سے قبضہ چھوڑنے کے لیے تیار ہو گیا تو بہت اچھا ورنہ اس معاملے پر رستم سے بات کرنا پڑے گی” دلاویز نے کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا تو عشان نے ” او کے” کہہ دیا ۔
میکال(سلمان) نے اپنے دوست حق نواز سے اس کے گھر پر ملاقات کی ۔
“میرے دوست حق نواز ! میں فی الحال ایک لاکھ روپے کا بندوبست کر پایا ہوں لیکن تم دلاویز کو میرا راز نہیں بتاؤ گے ، میں بہت جلد باقی کے چار لاکھ روپوں کا بندوبست بھی کر لوں گا” میکال(سلمان) نے ایک لاکھ روپے کا چیک حق نواز کو دیتے ہوئے کہا
“ہاں یار میں تیری پرابلم کو سمجھ سکتا ہوں ، تمہاری ماما کا آفاقی صاحب سے افیئر والا سکینڈل میڈیا والوں نے پکڑ لیا ہے اور اخبارات بھی اسی اسکینڈل کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں” حق نواز نے میکال کے شرمسار چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا اور پھر سگریٹ کا کش لگایا ۔
“اگر ماما نے پاپا کے کہنے پر فلم انڈسٹری کو چھوڑ دیا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ، خود تو ماما دوبئی بھاگ گئیں ہیں اور اب میڈیا والے میری جان نہیں چھوڑ رہے ، بہت الٹے سیدھے سوال کر رہے ہیں” میکال(سلمان) نے روہانسا ہو کر کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حق نواز سے ملاقات کے بعد میکال(سلمان) گھر واپس لوٹا تو دلاویز پہلے سے وہاں موجود تھی ۔ دلاویز کو دیکھ کر میکال(سلمان) گھبرا گیا ۔
“تمہاری ماما کے اسکینڈل کی ٹی وی رپورٹ میرے لیے ذرا سی بھی دلچسپ نہ تھی لیکن نیوز چینل پر تمہارے بارے میں رپورٹ بہت دلچسپ تھی ۔ میڈیا والے بتا رہے تھے کہ تم نے چہرے کی سرجری کروا کر اپنا نام اس لیے تبدیل کیا تھا کہ کسی کو پتا نہ چل سکے کہ تم فلمی اداکارہ غزل میڈم کے بیٹے ہو” دلاویز نے میکال سے سنجیدہ لہجے میں کہا
“یہ وہ تصویر ہے جو تم نے سرجری کرنے والے ڈاکٹر کو دی تھی اور یہ تصویر میرے زیدون کی ہے مطلب کہ زیدون کہاں ہے یہ تم جانتے ہو؟” دلاویز نے میکال کو زیدون کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا
“یہ تصویر تم نے کہاں سے لی ہے؟” میکال نے دلاویز سے پوچھا
“یہ تصویر اور تمہاری سرجری کا راز تمہارے دوست حق نواز سے تین لاکھ روپے کے عوض خریدا ہے” دلاویز نے سپاٹ لہجے میں کہا اور ساتھ ہی سر ہلا کر عشان کو اشارہ کیا تو عشان نے پستول کی نال میکال کی کھوپڑی پر رکھی اور اسے ساتھ میں جانے کا کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عشان نے میکال کو ایک کرسی پر رسی سے باندھ رکھا تھا ۔
“تمہارے دوست حق نواز نے مجھے بتایا تھا کہ زیدون کو تم نے اعواء کیا تھا تو اب بتاؤ کہ زیدون کہاں ہے؟” دلاویز نے میکال سے درشت لہجے میں پوچھا
“میں نے سرجری صرف اس لیے کروائی تھی کہ جب زیدون نہیں ہو گا تو تم زیدون سے مشابہ شکل والے لڑکے یعنی مجھ سے دوستی کر لو گی” میکال نے مسکراتے ہوئے کہا
“زیدون کہاں ہے؟” دلاویز غصے سے چلائی تو میکال سر سے پاؤں تک کانپ گیا
“تم مجھے حاصل نہ ہوئی تو زیدون بھی تمہیں کبھی نہیں ملے گا ، تم اسے کبھی بھی تلاش نہیں کر سکو گی” میکال کا غصہ بھی بھڑک اٹھا
“تم نے زیدون کے بارے میں نہ بتایا تو میں تمہیں جان سے مار دوں گی” دلاویز نے میکال کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھورتے ہوئے کہا ۔ دلاویز غصے سے پوری طرح پاگل ہو چکی تھی ۔ اس نے اپنے پرس سے بزا چاقو نکالا اور میکال کے دائیں ہاتھ کی ایک انگلی کاٹ کر پھینک دی ۔ میکال درد سے کانپ اٹھا اور زور زور سے چیخ رہا تھا ۔ دلاویز نے کچھ دیر انتظار کیا اور پھر دوسری انگلی بھی کاٹ دی ۔
“میں بتاتا ہوں کہ زیدون کہاں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ پلیز اب تیسری انگلی مت کاٹنا” میکال نے روتے ہوئے کہا
دلاویز کی کار رستم کے فلیٹ کے سامنے رکی ۔ دلاویز نے عشان کو کار میں بیٹھ کر اس کی واپسی تک انتظار کرنے کو کہا اور خود رستم کے فلیٹ کی طرف گئی ۔ گیٹ کے باہر کھزے تین میں سے ایک گارڈ کو اپنا تعارف کروایا اور اسے بتایا کہ وہ رستم سے ملاقات کے لیے آئی ہے ۔
چند منٹوں بعد گارڈ واپس آیا اور دلاویز کو ساتھ لے کر اندر چلا گیا ۔ رستم جو ایک چھوٹے کمرے میں قالین پر لیٹا ہوا تھا وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور دلاویز کے سلام کا جواب دیا ۔
“کیا تم رو رہی تھی؟” رستم نے دلاویز کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔ دلاویز کی آنکھوں پر سوجن نمایاں تھی ۔
“میکال نے زیدون کو اغواء کر کے زوار برلی کے ہاں فروخت کر دیا تھا اور وہ زیدون کو افغانی پہاڑی علاقے میں لے گیا تھا” دلاویز نے رستم کو افسردہ لہجے میں کہا
“اور میکال نے زیدون کی بہن شیزا کو ایک نائٹ کلب میں فروخت کر دیا تھا تو میں چاہتی ہوں کہ تم پہلے شیزا کو تلاش کرو اور پھر میکال کو” دلاویز نے رستم سے کہا
“سہانا پانچ چھ دنوں سے غائب ہے میرا اس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا لگتا اسے کسی نے اغواء کر لیا ہے یہ کسی نے اسے مار دیا ہے ، سب سے پہلے میں سہانا کو تلاش کروں گا پھر شیزا اور میکال کو” رستم نے مضطرب لہجے میں کہا تو دلاویز نے فکرمندانہ انداز میں رستم کے چہرے کو دیکھا ۔ ایک ملازم پیزا اور برگر لے کر آیا ۔
“پیزا اور برگر دونوں کیوں منگوائے؟” دلاویز نے رستم سے پوچھا
“مجھے آئیڈیا نہیں تھا کہ تمہیں پیزا پسند ہے یا برگر” رستم نے کہا
“مجھے پیزا اور برگر دونوں پسند ہیں” دلاویز نے مسکرا کر کہا
رستم سے ملاقات کے بعد دلاویز رات کے گیارہ بجے گھر لوٹی ۔
“بسیمہ یہ اتنے سارے کپڑوں کے جوڑے ، جیولری اور کاسمیٹکس ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بسیمہ یہ سب تمہارا ہے؟” دلاویز نے حیران ہوتے ہوئے بسیمہ سے پوچھا
“میں شادی کر رہی ہوں ناود صاحب سے” بسیمہ نے دو ٹوک انداز میں کہا
“بسیمہ! ناود تمہارے مرحوم پاپا کا دوست اور ہم عمر ہے تم اس بوڑھے سے شادی کرو گی” دلاویز کا لہجہ استفہامیہ تھا
“عشق و محبت عمر کا لحاظ نہیں دیکھتے ” بسیمہ نے مختصر جواب دیا
“او کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری اپنی زندگی ہے اسے تم نے جینا ہے میں تمہارے معاملات میں دخل اندازی نہیں کروں گی” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا
“جمعہ کے روز ناود سے میرا نکاح ہے ، تھوڑا سا وقت نکال لینا مجھے رخصت کرنے کے لیے” بسیمہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو دلاویز لاؤنج سے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔ کچھ دیر خاموش بیٹھنے کے بعد دلاویز نے ڈائری پکڑی اور درمیان میں سے ایک پیچ کھولا جس پر لکھا تھا کہ زندگی میں ضرورت سے زیادہ پریکٹیکل ہونا بھی نقصان دہ ہے۔ انسان کو تھوڑا افسانوی ہونا چاہے۔ آپ کی زندگی میں کچھ ایسے خواب بھی ہونے چاہیے کہ جب کبھی آپ زندگی کی بھاگ دوڑ سے تھک جائیں تو آنکھیں بند کرنے پر یہ خواب آپ کے اندر معطر احساس پیدا کریں ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ڈائری کے اگلے صفحے پر لکھا تھا کہ محبّت چیز ہی ایسی ہے….انسان کو اگر ایک بار ہو جاۓ تو مجبور کر کے رکھ دیتی ہے.. انسان رو دھو کے بھی…دل چور چور کر کے بھی اسی در پر جانا پسند کرتا ہے جہاں سے مسلسل دھتکارا جا رہا ہو…..اس اذیت میں جیتے جیتے اس اذیت کو زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے…اور پھر ایک وقت آتا ہے جب یہی اذیت اس کے جینے کا سہارا بن جاتی ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ڈائری کے مزید اگلے پیج پر لکھی گئی عبارت مختصر مگر بے مثال تھی ۔
سورج چاند ستاروں سے
پہاڑ باغات خوشبوؤں سے
پھول درخت ہواؤں سے
سبزی پھل اور پانی سے
فضاؤں میں اڑتے پرندوں سے
بادلوں کے آنے جانے سے
گرج چمک اور بارش سے
ساری قدرت اور نعمتوں سے
ایک آواز آتی ہے.
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان
پھر تم اپنے رب کی
کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
جاری ہے
