Hakoomat by Waheed Sultan NovelR50741 Hakoomat by Waheed Sultan Episode13
No Download Link
267K
19
Rate this Novel
Hakoomat by Waheed Sultan Episode01 Hakoomat by Waheed Sultan Episode02 Hakoomat by Waheed Sultan Episode03 Hakoomat by Waheed Sultan Episode04 Hakoomat by Waheed Sultan Episode05 Hakoomat by Waheed Sultan Episode06 Hakoomat by Waheed Sultan Episode07 Hakoomat by Waheed Sultan Episode08 Hakoomat by Waheed Sultan Episode09 Hakoomat by Waheed Sultan Episode10 Hakoomat by Waheed Sultan Episode11 Hakoomat by Waheed Sultan Episode12 Hakoomat by Waheed Sultan Episode13 (Watching)Hakoomat by Waheed Sultan Episode14 Hakoomat by Waheed Sultan Episode15 Hakoomat by Waheed Sultan Episode16 Hakoomat by Waheed Sultan Episode17 Hakoomat by Waheed Sultan Episode18 Hakoomat by Waheed Sultan Last Episode
Hakoomat by Waheed Sultan Episode13
Hakoomat by Waheed Sultan Episode13
رستم اپنے کمرے میں شراب کے نشے میں دھت پڑا تھا ۔ ایک گارڈ نے اسے خبر دی کہ دلاویز اس سے ملاقات کے لیے آئی ہے ۔
“اسے کہہ دو کہ رستم گھر پر نہیں ہے” رستم نے گارڈ سے کہا تو وہ دلاویز کو رستم کا پیغام دینے کے لیے واپس مڑا ہی تھا کہ کمرے کے دروازے پر موجود دو گارڈز کو دھکا دے کر دلاویز کمرے میں آ گئی اور آتے ہی ریفریجریٹر سے ٹھنڈی پانی کی بوتل نکال کر رستم پر انڈیل دی ۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے؟ تم جانتی ہو کہ رستم کو بدتمیزیاں پسند نہیں ہیں” رستم کا لہجہ غصے سے لبریز تھا ۔ دلاویز نے دوسری بوتل کا ڈھکن کھولا ۔
“محترمہ! میں تمہاری بہت عزت کرتا ہوں اس لیے بدتمیزی سے باز آؤ اور یہاں سے چلتی بنو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شراب کا نشہ مجھ پر حاوی ہے ایسا نہ ہو کہ میں بھی کوئی بدتمیزی کر دوں” رستم نے نشے سے مخمور لہجے میں کہا اور پانی کی بوتل دلاویز کے ہاتھ سے چھین کر پھینک دی اور گارڈ کو اشارہ کیا کہ دلاویز کو باہر لے جاؤ ۔ اشارہ دیکھتے ہی دونوں گارڈز دلاویز کی طرف بڑھے تو اس نے ہاتھ سے انہیں پیچھے رہنے کا اشارہ کر دیا ۔
” میں خود چلی جاؤں گی اور جب نشہ اور غصہ اتر جائے تو میرے گھر آ جانا مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے” دلاویز نے رستم سے کہا اور پھر چلی گئی ۔
شام کے چار بجے بسیمہ دلاویز سے ملنے آئی تو دلاویز نے پیزا اور پیپسی کے ساتھ بسیمہ کی خاطر تواضع کی ۔
“بسیمہ! تم ناود کے ساتھ خوش ہو نا؟” دلاویز نے بسیمہ سے پوچھا
“ہاں بہت خوش ہوں” بسیمہ نے مختصر جواب دیا ۔
“اپنے پاپا کے ہم عمر دوست کے ساتھ رہنا تمہیں عجیب نہیں لگتا؟” دلاویز نے مسکراتے ہوئے بسیمہ سے پوچھا تو بسیمہ نے اسے پھاڑ کھانے والی نظروں سے دیکھا
“دلاویز یار تم آنٹی نہیں ہو گئی ہو؟” بسیمہ نے دلاویز کے سوال کا جواب دینے کی بجائے اس پر سوال داغا ۔
“ہاں میں آنٹی ہو گئی ہوں لیکن ایسے ٹال مٹول سے کام نہیں چلے گا تمہیں میرے سوال کا جواب دینا پڑے گا” دلاویز نے چڑچڑا کر کہا
“کونسا سوال؟” بسیمہ دلاویز کی باتوں کا مزہ لیتے ہوئے بولی
“اپنے پاپا کے ہم عمر دوست کے ساتھ رہنا تمہیں عجیب نہیں لگتا؟” دلاویز نے اپنا سوال پھر سے دہرایا
“پچھلے تین مہینوں کے منافع کی رقم تم نے وصول نہیں کی ، کیا وہ پیسے پھر سے انویسٹ invest کر دوں؟” بسیمہ نے بات کا موضوع تبدیل کرتے ہوئے پوچھا تو دلاویز نے پیزا کھاتے ہوئے چونک کر بسیمہ کو دیکھا
“وہ پیسے میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دینا ، ویسے کتنی رقم ہے؟ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی تم نے حساب و کتاب مجھے صیح ڈھنگ سے نہیں دیا” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا
“تمہارا تین ماہ کا شیئر پرافٹ چار لاکھ بیاسی ہزار چار سو روپے ہے اور اس کی تمام تفصیل اس فائل میں درج ہے” بسیمہ نے اپنے پرس کے پاس پڑی ہوئی فائل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“کتنی چھوٹی سی رقم ہے ، چار لاکھ بیاسی ہزار چار سو روپے” دلاویز کے لہجے میں افسوس تھا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بسیمہ کے جانے کے بعد دلاویز نے رستم کو کال کی ۔
“اگر تمہارا غصہ اتر گیا ہے تو پلیز میرے گھر آؤ مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے” فون پر رابطہ قائم ہوتے ہی دلاویز نے رستم سے کہا
“غصہ ابھی باقی ہے” فون پر بات کرتے ہوئے دوسری طرف سے رستم نے کہا اور کال منقطع ہو گئی ۔ دلاویز نے دوبارہ رستم کا نمبر ڈائل کیا لیکن اب اس کا نمبر آف تھا ۔ دلاویز اپنا سیل فون اپنے بیڈ پر رکھ کر لاؤنج کی طرف پلٹی تو وہاں عشان کھڑا تھا ۔
“عشان بھائی! آپ کب آئے؟” دلاویز نے افسردہ لہجے میں پوچھا
“دلاویز بہن! آپ اداس کیوں ہیں ؟ آپ کی آنکھوں میں آنسو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” عشان نے متحیر لہجے میں کہا اور بات ادھوری چھوڑ دی ۔
“رستم مجھ سے ناراض ہے اور شیزا بھی مجھ سے بات نہیں کرتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ ایسا کرو کہ کچھ دنوں کے لیے عروشہ کے ہمراہ میرے گھر میں بسیمہ کے کمرے میں شفٹ ہو جاؤ” دلاویز نے عشان سے کہا
#Later One Month
دلاویز اور رستم کی ناراضگی کو ایک مہینہ گزر چکا تھا ۔ یہ اتوار کا دن تھا ۔ صبح کے آٹھ بج رہے تھے ۔ رستم نشے میں چور تھا ۔ رستم کے گارڈ نے اسے بتایا کہ چالیس سے پنتالیس سال کی عمر کا ایک شخص ملاقات کے لیے آیا ہے وہ اپنا نام کرم دین بتا رہا ہے ۔ رستم نے کرم دین کو اپنے پاس لانے کا کہا
کرم دین نے آتے ہی رستم کو سلام کیا اور اس کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا
“جی فرمائیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کون ہیں اور مجھے کیوں ملنا چاہتے تھے؟” رستم نے کرم دین سے خمار آلود لہجے میں پوچھا
“میں دلاویز میڈم کا پیغام لے کر آیا ہوں” کرم دین نے کہا
“میں محترمہ دلاویز کا پیغام نہیں سننا چاہتا لہذا آپ جا سکتے ہیں” رستم نے اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے کہا
“دلاویز میڈم آپ سے شادی کرنا چاہتی ہیں” کرم دین نے کہا اور واپس جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا جبکہ رستم اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔
“محترمہ سے کہیے گا کہ آج ہم طعامی ہوٹل میں لنچ ٹائم ان کا انتظار کریں گے” رستم نے متحیر لہجے میں کہا تو کرم دین اثبات میں سر ہلاتا ہو چلا گیا ۔
کرم دین نے رستم کا پیغام دلاویز کو دے دیا تو دلاویز نے کرم دین کو جانے کا کہا ۔
“میڈم! تصدق صاحب کے گھر اور پراپرٹی کا بنا؟ وہ بے چارے کرائے کے گھروں میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں انہیں ان کا گھر اور پراپرٹی واپس دلوا دیں” کرم دین کا لہجہ التجائیہ تھا ۔
“بہت جلد ان کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا ” دلاویز نے بارعب لہجے میں کہا اور ڈرائنگ روم سے چلی گئی ۔ اپنے کمرے میں جاتے ہی وہ سجنے سنورنے میں مصروف ہو گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ساڑھے گیارہ بجے طعامی ہوٹل پہنچ کر دلاویز نے فون پر رستم سے رابطہ کیا اور اسے پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟
فون پر بات کرنے کے بعد وہ طعامی ہوٹل کے ریسیپشن ہال سے گزر کر سیڑھیوں کی طرف چلی گئی ۔ وہ جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھی اور اوپر سے برقعہ پہن رکھا تھا ۔ مطلوبہ کیبن میں پہنچتے ہی اس نے چہرے سے نقاب ہٹا دیا اور مسکراتے ہوئے رستم کی طرف ہاتھ بڑھا دیا ۔ رستم متحیر نگاہوں سے اس کے روشن چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔ ہینڈ شیکنگ کے بعد دلاویز رستم کے مقابل کرسی پر بیٹھ گئی ۔
“کرم دین مجھے جو بات بتا کر گیا تھا کیا وہ سچ ہے؟ کیا واقعی تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو؟” رستم نے بے صبری سے پوچھا
“پہلے لنچ کرتے ہیں پھر شادی والے موضوع پہ بات ہوتی ہے” دلاویز نے مینیو لسٹ دیکھتے ہوئے کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جب دلاویز کھانا کھا چکی تو رستم نے منتظر نگاہوں سے دلاویز کو دیکھا تو دلاویز مسکرائی ۔
“میں دو شرائط پر تم سے شادی کروں گی ، پہلی شرط یہ کہ اگر زیدون میری زندگی میں واپس آ گیا تو تم مجھے طلاق دے دو گے اور دوسری شرط یہ کہ حق مہر کی دس لاکھ روپے ہو گا” دلاویز کا لہجہ سنجیدگی سے پر تھا ۔
“محترمہ! مجھے دونوں شرطیں منظور ہیں” رستم بنا کچھ سوچے فوری طور پر بولا
“کل شام چار بجے میں نکاح کے لیے تیار ہو جاؤں گی” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا تو رستم بھی مسکرا دیا ۔
عشان کے ہمراہ دلاویز محمول صاحب سے ملاقات کے لیے اس کے ڈیرے پر پہنچ گئی ۔ رسمی اور سیاسی گفتگو کے بعد مٹھائی اور چائے سے عشان اور دلاویز کی تواضع کی گئی ۔
” عشان بھائی! آپ باہر گاڑی کے پاس میرا انتظار کریں ، میں محمول صاحب سے اکیلے میں ضروری بات کرنا چاہتی ہوں” دلاویز نے عشان سے کہا تو عشان نے ایک نظر دلاویز کو دیکھا اور اپنی جگہ پر ہی بیٹھا رہا ۔
“عشان بھائی! پلیز باہر جائیں” دلاویز نے زور دیتے ہوئے کہا تو عشان نے محمول صاحب کو ایک نظر دیکھا اور پھر باہر چلا گیا ۔
“جی دلاویز میڈم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بولیں” محمول صاحب نے کہا
“اگر آپ مجھے پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑنے کے لیے ٹکٹ دلوا دیں تو صوبائی اسمبلی کی ممبر بنتے ہی میں آپ کے لیے چیف منسٹر بننے کی راہ ہموار کر دوں گی” دلاویز نے سنجیدگی سے کہا تو محمول صاحب نے زوردار قہقہ لگایا
“میں پچھلے پندرہ سالوں سے چیف منسٹر بننے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہا ہوں لیکن کامیاب نہیں ہو سکا اور چیف منسٹر بننے میں وہ لڑکی میری کیا مدد کر سکتی ہے جو خود ابھی سیاست کی سیڑھی کے پہلے زینے پر ہے” محمول صاحب نے کہا اور کمرے پھر سے محمول صاحب کے قہقوں سے گونج اٹھا
“مسٹر محمول صاحب آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن میں اب بھی آپ کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے سنجیدہ ہوں” دلاویز نے کرخت لہجے میں کہا
“ایک ڈیل Deal کی پیشکش میں بھی کرنا چاہتا ہوں” محمول نے مسکراتے ہوئے کہا
“جی بولیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں سن رہی ہوں” دلاویز کے لہجے میں بیزاریت تھی ۔
“بتیس لاکھ روپے میں آپ کو ٹکٹ مل سکتا ہے” محمول نے مسکراتے ہوئے کہا
“اگر آپ بتیس لاکھ روپے نہیں دینا چاہتی تو میرے پاس ایک دوسرا راستہ بھی ہے آپ کو ٹکٹ دلوانے کا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔” دلاویز کے بدلتے تیور دیکھ کر محمول نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا
“خبردار! اگر دوسرے راستے کا نام بھی لیا تو میں تمہیں جان سے مار دوں گی” دلاویز کا غصہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا اور تب عشان دوبارہ کمرے میں داخل ہوا ۔ عشان کو دیکھتے ہی محمول ٹھٹھک گیا ۔
“میں نے تمام گفتگو سن لی ہے ، اگر میں تمہارے دو بڑے دشمنوں کو قتل کروا سکتا ہوں تو تمہیں قتل کرنا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے” عشان نے محمول کو غصے سے غڑاتے ہوئے کہا اور سر ہلا کر دلاویز کو جانے کے لیے اشارہ کیا
رستم اور دلاویز نکاح کے پاکیزہ بندھن میں بندھ چکے تھے ۔ دلاویز کار سے اترنے بعد رستم کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہی تھی ۔ وہ ایک خاص قسم کے عروسی جوڑے میں ملبوس تھی ۔
دلاویز کا عروسی جوڑا جس کا پچھلا حصہ کافی لمبا تھا۔مغربی دنیا میں دلہنیں عموماً ایسا عروسی جوڑا پہنتی ہیں جس کا پچھلا حصہ اتنا لمبا ہوتا ہے کہ وہ فرش پر گھسیٹ رہا ہوتا ہے اور دلہن کے لیے اسے سنبھالنا اور چلنا مشکل ہوتا ہے۔ چنانچہ دو لڑکیاں لباس کے اس حصے کو اٹھا کر دلہن کے پیچھے پیچھے چلتی ہیں
دلاویز کا عروسی لباس کامدار ساڑھی پر مشتمل تھا جس کے ایک پلو کی لمبائی دو میٹر کے لگ بھگ تھی۔ رستم کے ساتھ چلنے کے لیے ضروری تھا کہ کوئی دلاویز کے عروسی لباس کا طویل پلو اٹھا کر پیچھے پیچھے چلے ۔ رستم نے اس کام کے لیے کسی بیوٹی پارلر سے چار لڑکیوں کو بلوایا تھا لیکن دلاویز نے انہیں پلو اٹھا کر پیچھے پیچھے چلنے سے منع کر دیا تھا ۔ وہ چاہتی تھی کہ پلو فرش پر گھسیٹا جائے ۔ رستم کے فلیٹ میں داخل ہوتے ہی عروشہ اور بسیمہ نے تصویریں بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا اور بعد میں دلاویز کو بیڈ روم میں لے جایا گیا جبکہ رستم اپنے مہمانوں کو الوداع کہنے کے لیے چلا گیا ۔ کچھ دیر کے بعد جب رستم دوبارہ کمرے میں واپس لوٹا تو عروشہ اور بسیمہ جا چکی تھی اور دلاویز گھونگٹ میں دو زانو بیڈ پر بیٹھی تھی تو رستم بھی مسکراتے ہوئے دلاویز کے انداز میں بیڈ پر بیٹھ گیا ۔
“مجھے اس دن کا کافی عرصے سے انتظار تھا ” رستم نے مسکراتے ہوئے کہا
دلاویز نے جواب دیا ” اس وقت دن نہیں رات ہے” ۔
میرا مطلب ہے کہ تمہیں حاصل کرنے کے لیے میں نے کتنے پاپڑ بیلے
رستم نے وضاحت پیش کی ۔
” اس کا مطلب ہے تم پاپڑ بیلنے کا کام کرتے ہو” دلاویز نے کہا
” محترمہ ! تم سمجھیں نہیں ” رستم نے روہانسا ہو کر کہا
” اس سے پہلے تو کسی دولہا نے اپنی دلہن سے ایسی بات نہیں کی ہوگی کہ وہ ناسمجھ ہے” ۔ دلاویز مسکراتے ہوئے بولی بولی ۔
رستم اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا
میرے دوست صحیح کہتے تھے کہ دلہن گھر سے رخصت ہو تے وقت خود رو کر سب کو رلا دیتی ہے ۔ اور دولہا بے چارہ ساری زندگی روتا رہتا ہے ۔
” اب ساری زندگی کہاں رہ گئی ہے تقریباً آدھی تو گذر گئی ہے”دلاویز نے پھر جواب دیا تو رستم نے مسکراتے ہوئے دلاویز کا دایاں ہاتھ چھونے کے لیے اپنا دایاں ہاتھ اس کی جانب بڑھایا تو دلاویز نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹایا
“ہماری شادی ایک نام نہاد شادی ہے ، اس شادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ایک ہو گئے ہیں ، میرا دماغ اس شادی کو قبول نہیں کر رہا ہے اور میرے دل میں اب بھی کسی اور کی یادیں بسی ہیں ” دلاویز نے رستم سے منہ پھیرتے ہوئے کہا تو رستم نے دلاویز کو حیرت سے دیکھا
“محترمہ! ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں اور ہم ذبردستی کے قائل نہیں ہیں” رستم نے ایک باؤل پانی پینے کے بعد کہا اور کمرے سے چلا گیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز کی شادی کا یہ دوسرا دن تھا ۔ دلاویز صبح آٹھ بجے نیند سے بیدار ہوئی ۔ اس نے اپنا لباس تبدیل کیا اور عروسی جوڑے کو بہت احتیاط سے الماری میں لٹکا دیا ۔ اب وہ بیڈ روم سے باہر نکلی تو بیڈ روم کے باہر بلیک شلوار قمیض میں ملبوس ایک تیس سالہ گارڈ کھڑا تھا ۔
“میرا نام روشن خان ہے اور رستم صاحب مجھے روشی کہہ پکارتے ہیں ، رستم صاحب نے مجھے آپ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری سونپی ہے” روشن خان نے مودبانہ لہجے میں کہا
“رستم کہاں ہے؟” دلاویز نے روشن خان سے پوچھا
“وہ رات کے دس بجے ہی اپنے دوستوں کے ساتھ شادی کی خوشی میں کسی ڈانسنگ کلب میں جشن منانے چلے گئے تھے” روشن خان نے دلاویز کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا اور تب وہاں چوکیدار پلاسٹک سے بنا ہوا ایک باکس لے کر آیا ۔
“یہ محمول صاحب نے دلاویز میڈم کے لیے گفٹ بھیجا ہے” چوکیدار نے وہ باکس دلاویز کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تو دلاویز نے باکس پکڑا ۔ باکس کے اوپر ایک پیپر آویزاں کیا گیا تھا جس پر لکھا تھا کہ “شادی کا تحفہ ہے امید کرتا ہوں کہ آپ کو پسند آئے گا” دلاویز نے باکس کھولا تو باکس گلاب کے پھولوں سے بھرا ہوا تھا اور پھولوں کے اوپر ایک پیپر رکھا گیا تھا جس پر لکھا تھا کہ آج صبح رستم اور اس کے کارندوں کو پولیس نے جوہریہ ڈانسنگ کلب سے گرفتار کر لیا ہے ۔ دلاویز پھٹی پھٹی نگاہوں سے پیپر کو دیکھ رہی تھی جبکہ پھولوں کا باکس اس کے ہاتھوں سے گر چکا تھا اور اسی لمحے اسے فون کے بجنے کی آواز سنائی دی اور وہ دوبارہ بیڈ روم میں گئی اور نامعلوم نمبر سے آنے والی فون کال رسیو کی ۔
“محمول صاحب کا چمچہ بات کر رہا ہوں ، محمول صاحب کا بھیجا ہوا تحفہ پسند آیا؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاہاہاہا ۔ ۔ ۔ ۔” رابطہ قائم ہوتے ہی دوسری طرف سے ایک بھاری مردانہ آواز میں کہا گیا اور پھر کال منقطع ہو گئی اور دلاویز سکتے کی حالت میں بیڈ پر بیٹھ گئی
جاری ہے
