Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hakoomat by Waheed Sultan Episode14

Hakoomat by Waheed Sultan Episode14

دلاویز روشن خان کے ہمراہ اپنے گھر واپس آئی اور عشان کو رستم کی گرفتاری کے بارے میں بتایا ۔
“دلاویز بہن! میں خود بہت پریشان ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہرام خان کل شام ایک ٹریفک چادثے کا شکار ہو کر شدید زخمی ہو گیا اور اب وہ ہسپتال میں ہیں ، عمر اور ضیغم بھی رات کو اپنے گھر نہیں آئے تھے اور فون پر بھی ان سے کوئی رابطہ نہیں” عشان نے افسردہ لہجے میں کہا
“عشان بھائی! محمول ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سب کے پیچھے محمول کا ہاتھ ہے” دلاویز نے گھگھیائے ہوئے لہجے میں کہا تو عشان ٹھٹھک گیا
“عروشہ! تم پولیس اہلکارہ ذونیا سے ملاقات کرو اور معلوم کرو کہ رستم کو کن الزامات کی مد میں گرفتار کیا گیا ہے” دلاویز نے عروشہ سے کہا
▫◽◾◻◼⬜
🔸🔹🔶🔷🔺🔻
دلاویز اپنے کمرے میں آنکھیں بند کیے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر فرش پر بیٹھی تھی ۔ عشان کے روم آتے ہی دلاویز نے آنکھیں کھول دیں ۔
“محمول صاحب نے ہمارے خلاف کچھ نہیں کیا ، اصل مسئلہ حمود خان ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔میں نے حمود اور میکال کو ایک ہی جگہ پر نظربند کیا تھا ۔ وہاں پر کسی نے حملہ کیا اور حملے کے نتیجے میں ضیغم جان سے گیا اور بہرام خان شدید زخمی ہو گیا جبکہ عمر لیاری ٹاؤن گیا ہوا ہے” عشان نے دلاویز کو وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا
“ضیغم کی لاش؟” دلاویز صدمے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بس اتنا ہی بول سکی ۔
“اس کی لاش میں نے برف خانے بھجوا دی ہے” عشان نے کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ضیغم کی موت کا دلاویز کو بے حد افسوس ہوا تھا جبکہ وہ حمود خان اور میکال کے فرار ہونے کی وجہ سے بے حد پریشان تھی ۔ عروشہ پولیس اسٹیشن میں ذونیا سے ملاقات کے بعد واپس آئی تو عروشہ کی بتائی ہوئی باتوں سے دلاویز کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ عروشہ نے بتایا کہ اسلحہ اسمگلنگ کے علاوہ رستم پر آٹھ کیسز لوٹ مار کے درج کیے جا چکے ہیں جن میں سب سے بھاری کیس جنوب رائس مل کا ہے ، رائس مل نے اٹھارہ لاکھ روپے کے چاول چوری کروانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کروائی ہے
▫◽◾◻◼⬜
🔸🔹🔶🔷🔺🔻
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
#ین_مہینے_بعد
#Three_Months_Later
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
▫◽◾◻◼⬜
🔸🔹🔶🔷🔺🔻
ایڈووکیٹ میشا چوہدری کے آفس میں مسلم ڈیمو کریٹک پارٹی کے سینیئر لیڈر دلدارخان نے دلاویز سے اہم اور سیاسی نوعیت کی ملاقات کی ۔
“دلاویز میڈم! آپ پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہونا چاہتی ہیں ، چار دن پہلے پارٹی ہائی کمانڈ کے آفس میں آپ کا استعفی دیکھ کر مجھے حیرت اور بہت تشویش ہوئی” سینیئر لیڈر دلدارخان نے دلاویز سے پوچھا
“مجھے پارٹی کی رکنیت محمول صاحب نے دلوائی تھی اور رکنیت کے بعد اب مجھے الیکشن ٹکٹ بھی چاہیے تھے اور اس کے لیے محمول صاحب نے بتیس لاکھ روپے طلب کر لیے” دلاویز نے نارمل لہجے میں کہا
“پچھلے دو ماہ کے دوران تم نے نیلم پوری میں عام لوگوں کے بہت سے مسائل حل کروائے ہیں پارٹی لیڈرشپ کو سب خبر ہے اور نیلم پوری جیسے پسماندہ علاقے میں تمہاری بدولت این جی او کا قیام میرے لیے باعث مسرت ہے ، میں کوشش کروں گا کہ آپ کو جلد از جلد ٹکٹ دلوا دوں” سینیئر لیڈر دلدارخان کی باتوں سے دلاویز کے چہرے کی خوشی اور چمک لوٹ آئی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلدار خان کے جانے کےبعد میشا چوہدری آفس میں آئی اور کرسی پر بیٹھتے ہی دو گلاس پانی پی گئی ۔
“کیا بنا؟ رستم کی ضمانت ہو گئی؟” دلاویز نے میشا سے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا
“ایک پولیس والے سے بات ہوئی ہے ، وہ پانچ ہزار روپے ہفتہ لے گا ، وہ رستم کو موبائل فون دے گا اور کچھ دیر تک تمہیں رستم کا میسیج آ جائے گا ، میں بہت جلد رستم سے تمہاری ملاقات کا بندوبست بھی کر دوں گی” میشا چوہدری رطب اللسان بولتی گئی ۔
“رستم کو کتنے سالوں کی سزا ہو گی؟” دلاویز نے افسردہ لہجے میں میشا سے پوچھا
“اگر جنوب رائس مل اور بیلا کمپنی کو لوٹے ہوئے مال کی قیمت اور جرمانہ بھی ادا کر دیا جائے تو پھر چار سے چھ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے دوسری صورت میں آٹھ سے دس سال” میشا چوہدری نے دلاویز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا
▫◽◾◻◼⬜
🔸🔹🔶🔷🔺🔻
دلاویز آفس سے گھر لوٹ چکی تھی وہ بیڈ پر لیٹی تھی ۔ سر میں شدید درد کی وجہ سے وہ کسی سے بات تک نہیں کر رہی تھی ۔ عروشہ دلاویز کے پاس بیٹھ گئی اور اس کے سر کو مساج کرنے لگی ۔ دلاویز کو اپنے سیل فون کے تھرتھرانے کی آواز سنائی دی تو اپنے سر سے عروشہ کے ہاتھ ہٹائے اور اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ سیل فون کی اسکرین چمک رہی تھی ۔ بہت سے میسیج ایک ساتھ ہی آ گئے ۔
“محترمہ کیسی ہو؟”
“محترمہ آئی مس یو ویری مچ” میسیج پڑھتے ہی دلاویز کے چہرے پر خوشی کی لہر نمودار ہوئی ۔ میسیج نئے نمبر سے آئے تھے لیکن وہ جانتی تھی کہ صرف رستم ہی اسے محترمہ کے لقب سے مخاطب کرتا ہے ۔ دلاویز نے بھی اسے جوابی میسیج سینڈ کیے ۔ اب رستم نے جو نیا میسیج بھیجا تھا وہ یہ تھا ۔ “جب حالات بہت تکلیف دہ ہو اور دماغ میں منفی خیالات بھر جائے جن کو سوچ سوچ کر آپکا دماغ پھٹنے لگے
تو بس کچھ پل کے لیے سوچنا یہ دنیا ہے جنت نہیں
یہاں ہر شخص کو امتحان کی بھٹی میں خود جلنا پڑتا ہے
سوچو یوسف علیہ السلام کے ساتھ کیا ہوا تھا انکے بھائیوں نے انکو گہرے کنویں میں ڈال دیا
ان پر الزام لگا انکو جیل ہوگی حالانکہ وہ حق پر تھے ایسے حالات میں بھی انہوں نے اک پل بھی منفی نہ سوچا
بس اللہ پر یقین کیا اور ہمیشہ مثبت سوچا
ابراہیم علیہ السلام جلتی آگ میں کود پڑے انہوں نے بھی اک پل بھی منفی نہ سوچا کہ آگ جلا نہ دے بلکہ اللہ پر یقین کیا اسی یقین کی لذت نے مثبت سوچ بخشی
یہ سب بتانے کا مقصد ہے کہ اللہ پر یقین کرنے والے منفی سوچیں نہیں پالتے بلکہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں ہمیشہ پرامید رہتے ہے مثبت سوچ سوچنا اپنے لیے جہاد ہی ہوتا ہے جو ہم خود سے لڑ کر کرتے ہے
منفی سوچیں ایسا دیمک ہے جو ہم کو اندر سے چاٹ لیتا ہے اور ہم کھوکھلے ہوجاتے ہیں” رستم کا بھیجا ہوا میسیج دلاویز کے لیے بہت متاثر کن تھا ۔ وہ سوچ رہی تھی کہ رستم کو پتا کہ میرے دماغ میں منفی خیالات امڈ رہے ہیں اور میرا سر درد کی شدت سے پھٹ رہا ہے ۔
رستم کا اگلا میسیج دلاویز کے لیے اور بھی تکلیف دہ تھا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“تکلیف یہ نہیں ہوتی کہ آپ یکطرفہ محبت کریں جیسا کہ میں تم سے یکطرفہ محبت کرتا ہوں ، اور دوسرے دل میں آپ کے لئے محبت نہ جاگے جس طرح تمہارے دل میں میرے لیے کبھی بھی محبت پیدا نہ ہو سکی ۔
تکلیف یہ بھی نہیں ہوتی کہ آپ کسی کو پسند کریں اور وه آپ کو ٹھکرا دے جس طرح تم نے مجھے شب عروسی کے موقع پر مجھے ٹھکرا دیا تھا ، مجھے ٹھکرانے کے لیے جو الفاظ تم نے استمعال کیے تھے وہ یہ تھے ،،ہماری شادی ایک نام نہاد شادی ہے ، اس شادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ایک ہو گئے ہیں ، میرا دماغ اس شادی کو قبول نہیں کر رہا ہے اور میرے دل میں اب بھی کسی اور کی یادیں بسی ہیں،، لیکن میری لیے تو تم بہت محترم ہو اور تمہارے کہے ہوئے الفاظ بھی محترم تھے ۔
تکلیف تو یہ ہوتی ہے کہ آپ محبت اور اس کے وجود سے بے خبر اپنے طریقے سے زندگی گزار رهے هوں‚پھر اچانک سے کوئی آپ کی زندگی میں آئے‚آپ کا ہاتھ تھامے‚آپ کے راستے میں کہکشاں بٹھائے‚آپ په اپنی جان لٹائے‚پهر جب آپکو ان عنایتوں کی عادت هوجائے‚آپ کے دل کی بنجر زمین پہ محبت کی کونپلیں پهوٹنے لگیں‚وه محترم ہستی اچانک سے منہ موڑ لے‚اس کے منہ موڑتے ہی وه کونپلیں یکدم درخت بن جائیں اور آپکی ذات پہ حاوی ہو جائیں‚دیکھتے هی دیکھتے یہ درخت آکٹوپس بن جائےاور آپکی ھڈیوں کو اپنی گرفت میں اس طرح سے لے کہ وه تڑخنے لگ جائیں‚آپ اس محترم ہستی کی طرف دیکھیں اور وه آپ پر تھوک دے
یہ ہوتی هے تکلیف
یہ ہوتی ھے اذیت
یہ ہوتا هے ٹوٹنا
یہ ہوتا هے مرنا”
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز پورا میسیج پڑھ چکی تھی ۔ رستم کا ایک ایک لفظ دلاویز سے دلاویز کی بے رخی اور بے اعتنائی پر شکوہ کر رہا تھا ۔ میسیج کا ایک ایک جملہ دلاویز کے لیے احساس شرمندگی تھا ۔ اب دلاویز نے جوابی میسیج لکھا جس کی عبارت کچھ یوں تھی ۔
“ﻟﻮﮒ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﮯ ﻣٌﻄﺎﺑﻖ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮬﯿﮟ
ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﻭﺿﺎﺣﺘﯿﮟ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ
خاموشی میں بڑی راحت ہے
لفظوں کا سفر انسان کو تھکا دیتا ہے”
▫◽◾◻◼⬜
🔸🔹🔶🔷🔺🔻
چار مہینے کے طویل انتظار کے بعد رستم کے کیس کو ڈیل کرنے والی ایڈووکیٹ میشا چوہدری رستم سے دلاویز کی ملاقات کروانے میں کامیاب ہو گئی ۔ دلاویز میشا چوہدری کے ساتھ ڈسٹرکٹ جیل چلی گئی ۔ رستم سے ملاقات کرنے کا وقت صرف دس منٹ تھا ۔
“رستم! میں نے کئی بار تمہارا دل توڑا ہے ، پلیز مجھے معاف کر دو” دلاویز ہاتھ جوڑے کھڑی تھی اور رستم سلاخوں کے پیچھے کھڑا دلاویز کو دیکھ رہا تھا ۔
“محترمہ! آپ مجھ سے معافی مانگیں یہ مجھے پسند نہیں” رستم نے دلاویز سے کہا تو اس نے سر ہلایا
“تم بہت افسردہ اور پریشان لگ رہی ہو” رستم نے دلاویز کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
“تم سے جدا ہونے کے بعد احساس ہوا کہ میں کتنی تنہا ہو گئی ہوں” دلاویز نے افسردہ لہجے میں کہا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں
“تم ٹینشن نہیں لو ، میرے تعلق کسی بڑی طاقت سے ہے ، میں بہت جلد رہا ہو جاؤں گا” رستم نے تسلی آمیز لہجے میں کہا تو دلاویز نے پرامید نظروں سے رستم کو دیکھا اور رستم بھی ٹک ٹکی باندھے دلاویز کو دیکھ رہا تھا جبکہ ملاقات کا وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا تھا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
رستم سے ملاقات کے بعد دلاویز روشن خان کے ہمراہ رستم کے فلیٹ جارہی تھی کہ اسے عروشہ کی کال آ گئی ۔ عروشہ نے دلاویز کو بتایا کہ کوئی مہمان آیا ہے اور وہ تم سے ملاقات کا منتظر ہے ۔ دلاویز نے یو ٹرن U turn سے کار واپس موڑی اور اپنے گھر کی طرف جانے والے روڈ کا رخ کیا اور چند منٹوں تک کار ڈرائیو کرنے کے بعد وہ اپنے گھر گئی ۔ روشن خان کو ڈرائنگ روم میں بٹھانے کے بعد وہ ڈرائنگ روم کا اندرونی دروازہ کھول کر ایک چھوٹی راہداری سے گزر کر ہال میں پہنچی ۔ ہال میں عروشہ اور شیزا کے علاوہ زیدون بھی موجود تھا ۔ زیدون کو دیکھ کر وہ حیرت زدہ ہو گئی اور پھر ایکدم خوش ہو گئی ۔
“زیدون! تم اتنے سالوں سے تم کہاں تھے؟” دلاویز نے بلا اختیار پوچھا تو زیدون نے میکال کے ہاتھوں اغواء ہونے سے زوار برلی کے ہاں فروخت ہونے تک کی ساری داستان سنا دی ۔ زیدون نے بتایا کہ زوار کے چنگل سے فرار ہونے میں جوشوا مسیح نامی ایک انڈین لڑکے نے زیدون کی مدد کی ۔ فرار ہونے کے بعد وہ جوشوا مسیح کے ساتھ انڈیا چلا گیا اور وہاں سے ایک بحری جہاز کے ذریعے بنگلہ دیش چلا گیا ۔ بنگلہ دیش سے ایک تجارتی بحری جہاز کے ذریعے خفیہ طور پر زیدون دوبارہ اپنے شہر کراچی پہنچ گیا ۔
▫◽◾◻◼⬜
🔸🔹🔶🔷🔺🔻
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *