Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hakoomat by Waheed Sultan Episode08

Hakoomat by Waheed Sultan Episode08

زیدون کو ایک غار میں لے جایا گیا جہاں پر زنجیروں میں جھکڑے تیس سے چالیس لڑکے اور آٹھ بوڑھے آدمی غار کے اندر کام کر رہے تھے ۔ ایک سیاہ فام آدمی نے زیدون کو کام کرنے کا طریقہ سمجھایا ۔ لوہے کی زنجیروں کو اتنا ڈھیلا کر دیا گیا کہ اب وہ آسانی سے چل سکتا تھا ۔ اس کے ہاتھ اور بازو پہلے کی نسبت آزاد تھے ۔ کام کرتے ہوئے دلاویز اسے بہت یاد آ رہی تھی ۔ اب زیدون کو احساس ہو رہا تھا کہ دلاویز کو اس سے محبت ہوئی تھی لیکن وہ خود بھی دلاویز کی محبت میں گرفتار ہو چکا ہے ۔ دوسری جانب دلاویز بھی زیدون کی یادوں میں بےچین اور بے قرار تھی ۔ وہ پچھلے پانچ دنوں سے زیدون کے گھر کے چکر لگاتی اور اس کے گھر کو لگا ہوا تالا دیکھتی اور مایوس ہو کر گھر واپس لوٹ آتی ۔ یہ ساتواں دن تھا جب وہ مایوس ہو کر گھر واپس آئی تو بسیمہ نے اسے بتایا کہ سہانا نامی ایک لڑکی اس سے ملاقات کے لیے آئی ہے ۔ دلاویز ٹی وی لاؤنج میں گئی تو وہاں پر پچیس سالہ لڑکی سہانا صوفے پر بیٹھی تھی ۔
“میرا نام سہانا ہے اور مجھے رستم نے آپ کے پاس بھیجا ہے ، رستم کہہ رہا تھا کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اپنی ایک تصویر دے دیں” سہانا نے پرمسرت لہجے میں کہا تو دلاویز سہانا کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی ۔
“میں خود بھی رستم کو کال کرنے والی تھی ، رستم سے جا کر کہہ دینا کہ شام چھ بجے نیسٹو آئس کریم کارنر کے کیبن نمبر ایک سو بیس میں میرا انتظار کرے ، میں اپنی تصویر خود اس کو گفٹ کرنا چاہتی ہوں” دلاویز نے سنجیدہ لہجے میں کہا تو سہانا دلاویز سے مصافحہ کرنے کے بعد چلی گئی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نیسٹو آئس کریم کارنر کے کیبن ایک سو بیس میں دلاویز پہنچی تو رستم پہلے سے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔
“میرا زیدون کہاں ہے ؟” کیبن میں داخل ہوتے ہی دلاویز نے کرخت لہجے میں پوچھا تو رستم حیرت زدہ ہو گیا
“کون زیدون؟ آپ کس کی بات کر رہی ہیں؟” رستم متحیر لہجے میں بولا
“جس دن تم مجھے سیٹھ بستانی سے بازیاب کروا کر لائے تھے اور مجھے بن قاسم پارک میں ملاقات کے لیے بلایا تھا تو اسی دن سے میرا زیدون اور اسکی بہن غائب ہیں تو مجھے تم پر شک ہے کہ تم نے انہیں اغواء کروایا ہے” دلاویز نے کرخت لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا تھا ۔
“میں کسی زیدون کو اغواء نہیں کروایا اور نہ میں کسی زیدون کو جانتا ہوں بلاوجہ مجھ پر الزام مت لگاؤ” رستم نے غصہ دکھاتے ہوئے کہا تو دلاویز پرسکون ہو کر بیٹھ گئی اور پرس سے اپنی تصویریں نکال کر رستم کو دے دیں ۔
“ویسے آپ زیدون کے بارے میں مجھے بتانا پسند کریں گی؟” رستم نے اب پرسکون لہجے میں کہا تھا ۔
“میں زیدون کو چاہتی ہوں ، اس سے محبت کرتی ہوں لیکن وہ اپنی دوکان اور گھر کو تالا لگا کر پتا نہیں کہاں چلا گیا ہے” دلاویز نے رونی صورت بنا کر کہا تو رستم بھی پریشان ہو گیا
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
میکال چہرے کی سرجری کے بعد پاکستان واپس آ گیا تھا ۔ سرجری کے بعد اس کا چہرہ زیدون جیسا تو نہیں ہوا تھا لیکن اس کا چہرہ کافی حد تک زیدون کے چہرے سے مشابہت اختیار کر چکا تھا ۔ اب میکال کو پختہ یقین تھا کہ دلاویز بہت بڑا دھوکا کھائے گی اور وہ پہروپیے کے روپ میں مجھے کبھی نہیں پہنچان سکے گی ۔ وہ مسکراتے ہوئے ایکس اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے آفس کی طرف جا رہا تھا ۔ حمود خان شہر سے باہر گیا ہوا تھا اس لیے عشان اور دلاویز دونوں مل کر فیڈریشن کے معاملات ہینڈل کر رہے تھے ۔ میکال بلیک پینٹ اور سفید شرٹ میں ملبوس تھا ۔ بالوں کا سٹائل بالکل زیدون جیسا تھا ، بے طرح سے بڑھے ہوئے بکھڑے بال ۔ وہ مسکراتے ہوئے آفس میں داخل ہوا ۔
“میرے جیسا بہروپیا تم نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا ہو گا” میکال سوچ کر پھر مسکرایا تھا ۔ دلاویز اور عشان نے یک زبان میکال کی سلام کا جواب دیا اور دلاویز نے میکال کی طرف دیکھا تو اس کی نگاہیں میکال کے چہرے پر ٹھہر گئیں ۔ وہ میکال کے چہرے اور اس کے بے طرح سے بڑھے ہوئے بکھڑے بالوں کو دیکھ رہی تھی ۔
“زیدون! تم یہاں؟” وہ میکال کو حیرت سے دیکھتے ہوئے بولی اور کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی ۔
“سوری میڈم! میرا نام سلمان ہے اور میں ایکس اسٹوڈنٹ فیڈریشن کو کچھ فنڈ دینے آیا ہوں” میکال زیدون کا انداز گفتگو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر بولا تھا اور پھر اس نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی دبا دی ۔ میکال(سلمان) کی بات سن کر دلاویز نے گہری سانس لی اور کرسی پر بیٹھ گئی جبکہ میکال دلاویز کے نقاب شدہ چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
کراچی ناظم آباد چورنگی کے قریب سر سید گرلز کالج کے سامنے ریس لگاتی دو منی بسوں نے اشارے کی پرواہ نہ کی اور آگے نکلنے کی دور میں چوک کراس کرنے لگی اور اسی وقت سر سید گرلز کالج کی دو طالبات بھی چوک کراس کر رہی تھی جن میں سے ایک عماسہ خان تھی ۔ عماسہ خان حادثے کا شکار ہوئیں اور اسی وقت ہی دم توڑ گئی ۔ کالج میں خبر پہنچی تو طالبات سڑکوں پر نکل آئیں ۔ اسی دوران ناظم آباد کالج سے کچھ لڑکے بھی آئے اور انہوں نے گاڑیوں اور ایک بس پر پتھراؤ شروع کر دیا ۔ اب اس احتجاج کی سربراہی ایکس اسٹوڈنٹس فیڈریشن نامی تنظیم کے صدر حمود خان کے ہاتھ میں چلی گئی ۔ ایک بس توڑنے کے بعد احتجاجی ریلی نے بس اسٹیشن کا رخ کیا اور فیصلہ کیا کہ جو بھی بس نظر آئے گی اسے جلا دیا جائے گا ۔ دلاویز نے حمود خان کو فون کر کے بتایا کہ وہ اور اس کی ٹیم احتجاج کا حصہ نہیں بنے گی ۔ حمود خان غصے سے بے قابو ہو گیا اور دلاویز کو گالیاں دینے کے بعد فون بند کر دیا ۔ دلاویز نے فیصلہ کیا کہ وہ احتجاج کے نام پر لوگوں کا خون نہیں بہنے دے گی اور کسی بھی قسم کا نقصان برداشت نہیں کرے گی ۔ دلاویز نے عمر ، ضیغم ، بہرام خان اور عشان سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں ہدایات جاری کیں ۔ انہوں نے بہت سارے لڑکوں کو اکٹھا کیا اور پھر بس ڈرائیوروں سے رابطہ کر کے کہا کہ جو بسیں شہر کے مین Main بس اسٹیشنوں پر ہوں گی انہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا ۔ احتجاجی ریلی شہر کے سب سے بڑے بس اسٹیشن سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھی کہ دلاویز عماسہ خان کے والد شفیع خان کو لے کر آئی اور احتجاجی ریلی کو روکا اور مائیک پر بولتے ہوئے درخواست کی کہ عماسہ خان کے والد کی بات سن لیں اور پھر جو جی میں آئے کر لیں ۔ دلاویز نے مائیک عماسہ کے والد شفیع خان کو دے دیا ۔
“جس ڈرائیور کی غلطی سے میری بیٹی حادثے کا شکار ہوئی تھی اسے میں نے معاف کر دیا ہے ۔ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ میری بیٹی کی موت کے نام پر خونریزی ، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گیراؤ نہ کریں ۔ اگر آپ سب پر امن ہو کر اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے تو میں یہ سمجھوں گا کہ میری بیٹی زندہ ہو گئی ہے” شفیع خان نے اپنی بات مکمل کر کے مائیک بند کر دیا ۔ شفیع خان کی بات سننے کے بعد طلباء و طالبات کی آدھی سے زیادہ تعداد احتجاج ختم کر کے پرامن طریقے سے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئی ۔ جبکہ چالیس فیصد طلباء و طالبات نے احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ دلاویز نے رستم سے فون پر رابطہ کیا اور رستم سے بات کرنے کے بعد دلاویز نے مین روڈ کی بجائے شہر کے کسی اندرونی راستے سے بس اسٹیشن جانے کا فیصلہ کیا ۔ دو گھنٹے کے بعد جب ریلی جنرل بس اسٹیشن پہنچی تو حمود خان نے دیکھا کہ بس اسٹیشن کے گرد چھ فٹ کی بلندی تک اسٹیل کی کانٹے دار تار کی باڑ لگی ہوئی تھی ۔ دلاویز کے دائیں اور بائیں چار چار گارڈز کھڑے تھے جن کے پاس بھاری جدید اسلحہ تھا اور دلاویز کے پیچھے عشان ، عمر ، ضیغم اور بہرام خان سمیت پچیس طلباء دو قطاروں میں کھڑے تھے ۔
“یہ آپ سب کو کانٹے دار تار کی جو باڑ نظر آ رہی ہے اس میں بجلی گزر رہی ہے ، اگر کسی کو بجلی سے کھیلنے کا شوق ہے یا کسی کو مرنے کا شوق ہے تو وہ باڑ کو پار کرے اور بسوں کو آگ لگا دے” دلاویز نے حمود خان کے مقابل کھڑے ہو کر بلند آواز میں کہا تو تمام طلباء و طالبات واپس چلے گئے اور اب حمود خان کے ساتھ صرف تین لڑکے کھڑے تھے ۔
“تم نے شہرت حاصل کرنے کے لیے خونریزی ، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گیراؤ کا غلط طریقہ اختیار کیا اور میں نے شہرت حاصل کرنے کے لیے درست موقع کا انتخاب کیا” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا
“تمہاری وجہ سے میری بہت بے عزتی ہے تمہیں بہت پچھتانا پڑے ، میں تم سے بدلہ لوں گا” حمود خان نے غصہ سے دانت پیستے ہوئے کہا اور واپس مڑ گیا ۔
“مجھے انتظار رہے گا” دلاویز نے مسکراتے ہوئے جوشیلے انداز میں کہا تو حمود خان نے جاتے ہوئے مڑ کر دلاویز کو دیکھا اور پھر چلا گیا
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
فٹ بال گراؤنڈ میں ایکس اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا ایک بہت بڑا جلسہ ہوا جس میں فیڈریشن کے صدر حمود خان نے دلاویز کی رکنیت معطل کرنے کا اعلان کیا تو اٹھارہ لڑکوں کے علاوہ باقی تمام طلباء نے فیڈریشن چھوڑنے کا اعلان کر دیا ۔ حمود نے دلاویز کی معطلی کا اعلان واپس لے لیا تو تمام نے نعرہ لگایا کہ ہم حمود خان کو فیڈریشن صدر نہیں مانتے لہذا نئے فیڈریشن صدر کے لیے ریفرنڈم کا مطالبہ کرتے ہیں ۔
“اگر آپ میری خاطر حمود خان کو فیڈریشن کا صدر ماننے سے انکار کر رہے ہیں تو میری بات غور سے سنو ۔ ۔ ۔ ۔ میں حمود خان کو فیڈریشن کا صدر تسلیم کرتی ہوں اور آپ سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ ریفرنڈم کا مطالبہ واپس لے لیں” دلاویز نے مائیک پر بولتے ہوئے کہا تو تمام طلباء نے نعرہ لگایا کہ ہم حمود خان کو فیڈریشن کا صدر مانتے ہیں ۔
“میری وجہ سے دوسری بار تمہاری بے عزتی ہو گئی ، مجھ سے دوسری بار ہونے والی بے عزتی کا بدلہ کب لو گے مجھے انتظار رہے گا” دلاویز نے مائیک ڈائس پر رکھتے ہوئے حمود خان کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جلسے کے اختتام پر دلاویز نے ایک کافی شاپ میں عشان سے ملاقات کی ۔
“عشان بھائی! یہ سب تم نے کیسے کیا؟ بس اسٹیشن کے گرد باڑ لگانے کے لیے اتنی ساری کانٹے دار تار تم نے کہاں سے لی تھی؟ اور فیڈریشن کے تمام لڑکوں کو تم نے حمود خان کے خلاف کھڑا ہونے کے لیے کیسے آمادہ کیا؟” دلاویز نے ایک ساتھ عشان سے بہت سے سوال کر دئیے
“دلاویز بہن! پہلے آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ نے عروشہ کو میرے ساتھ دوستی کے لیے کیسے آمادہ کیا تھا؟” عشان نے دلاویز سے پوچھا تو دلاویز ہنس پڑی ۔
“میں نے تو بس آپ دونوں کی پانچ سات ملاقاتیں کروائیں تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” دلاویز نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا
“جب ہمارے کالج کی حدودی دیواریں نہیں تھیں اور اس وقت کالج کی حد بندی کے لیے کانٹے دار تار استمعال کی گئی تھی لیکن چار سال قبل دیواریں بننے پر تمام کانٹے دار تار کالج کے سٹور روم میں رکھ دی گئی تھی اور آج وہیں سے ہم تار اٹھا لائے تھے اور رہی بات لڑکوں کو حمود کے خلاف آمادہ کرنے کی تو اس بات کو راز ہی رہنے دیجیے کیا معلوم کسی روز لڑکوں کو آپ کے خلاف کھڑا کرنے کی ضرورت پڑ جائے” عشان نے مسکراتے ہوئے کہا تو دلاویز نے متحیر نگاہوں سے عشان کو دیکھا
” اب جلدی سے کافی پیو اور جاؤ یہاں سے کیونکہ کوئی اور بھی مجھ سے ملاقات کرنے کے لیے بے تاب ہے” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا تو عشان نے آس پاس دیکھا لیکن وہاں تو کوئی نہیں تھا
“او کے ۔ ۔ ۔ ۔ بائے دلاویز بہن” عشان نے کہا اور چلا گیا ۔ عشان کے جانے کے بیس منٹوں بعد رستم دلاویز سے ملاقات کے لیے آیا تو دلاویز نے رستم کو خوش آمدید کہا ۔
“آپ نے میری سیکیورٹی کے لیے گارڈز بھیجے اس کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا
“زیدون کے بارے میں کچھ پتا چلا؟” رستم نے دلاویز سے پوچھا تو زیدون کا نام سنتے ہی دلاویز کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی ۔
“اوہ سوری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم اچھا بھلا مسکرا رہی تھی ، میں بھی کتنا بےوقوف ہوں ایک پل میں تمہیں اداس کر دیا ” رستم نے کہا تو دلاویز نے رستم کی طرف دیکھا
“ایک بات پوچھ سکتا ہوں” رستم نے دلاویز سے اجازت طلب کی
“پوچھو” دلاویز نے کہا
“کیا تم بلیو پین کے ساتھ بلیک لکھ سکتی ہو؟” رستم کے سوال پر دلاویز چونک پڑی
“یہ کیسا سوال ہے؟” دلاویز نے رستم سے پوچھا
“یہ ایک نیا سوال ہے بالکل جدید” رستم مسکرایا
“ہاں تو بتاؤ لکھ سکتی ہو؟” رستم نے کہا
“ہاں لکھ سکتی ہوں اگر بلیو پین میں بلیک انک (سیاہی) ہو تو پھر بلیک لکھ سکتی ہوں” دلاویز نے کہا
“پین بلیو ہو اور اس میں انک بھی بلیو ہو تو بلیک لکھ سکبی ہو؟” رستم نے مسکراتے ہوئے کہا
“تو اس میں کون سی مشکل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ بلیو پین میں نیلی سیاہی کے ساتھ لفظ بلیک تو لکھا جا سکتا ہے” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا
“شکر ہے یہ پھر سے مسکرائی ، مجھے تو لگا اب نہیں مسکرائے گی” رستم نے دلاویز کے پرمسرت چہرے کو دیکھتے ہوئے سوچا
“آج تم نے عبایا تو پہنا ہے لیکن نقاب کیوں نہیں کیا؟” رستم نے دلاویز سے پوچھا
“یہاں کافی شاپ میں آ کر نقاب کھولا تھا” دلاویز نے کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا
🔽🔼🔽🔼🔽🔼🔽🔼
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *