Hakoomat by Waheed Sultan NovelR50741

Hakoomat by Waheed Sultan NovelR50741 Last updated: 29 June 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hakoomat by Waheed Sultan

دلاویز نے چائے پینے کے لیے نقاب اتارا ہی تھا کہ اس نے دیکھا کہ وہی اٹھارہ سالہ لڑکا کنٹین میں داخل ہوا تھا جو گزشتہ روز کنٹین کے کونے میں بیٹھا چائے پی رہ تھا اور اسے دلاویز نے کوفت سے دیکھا تھا ۔ وہ ایک کرسی کے پاس وزن ایک ٹانگ پر ڈال کر دوسری ٹانگ ڈھیلی چھوڑ کر وہ بے ڈھنگے انداز میں دلاویز سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا ۔ اس کا چہرہ دوسری طرف تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ دلاویز چائے کی چسکیوں کے ساتھ اسے دیکھ رہی ہے ۔ لڑکے نے اپنے سر پر بالوں کی پونی بنا رکھی تھی اور یہی وجہ تھی کہ دلاویز کو وہ شیطان نما چھچھورا لگ رہا تھا ۔ دلاویز کو محسوس ہوا کہ کوئی اس کی طرف آ رہا ہے تو وہ فوری طور پر دوسری جانب متوجہ ہوئی ۔ جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس عروشہ اس کی طرف آ رہی تھی ۔
"بسیمہ کا میسیج آیا ہے مجھے" عروشہ نے کہا تو دلاویز نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
"اس نے لکھا ہے کہ اسے غنڈوں نے اغواء کر لیا ہے" عروشہ کے چہرے پر پشیمانی کے اثرات نمودار ہو چکے تھے ۔ دلاویز نے کپ میز پر رکھا اور کاؤنٹر کی طرف گئی ۔
"آپ کا بل ادا ہو گیا ہے" کاؤنٹر پر بیٹھے شخص نے کہا
"میرا بل کس نے ادا کیا؟" دلاویز نے پوچھا تو کاؤنٹر والے نے اسی لڑکے کی طرف اشارہ کر دیا جس نے بالوں کی پونی کر رکھی تھی ۔
"آپ کون ہو؟" دلاویز نے اپنا نقاب درست کرتے ہوئے پوچھا
"بندہ ناچیز کو لوگ میکال کہہ کر پکارتے ہیں" اس نے دلاویز کے سوال کا جواب دیا
"مجھے یہ بات ہرگز پسند نہیں کہ کوئی مجھ پر احسان کرے اور آئندہ میرا بل ول ادا کرنے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہو گا" دلاویز نے کرخت لہجے میں کہا
"دلاویز! اس سے بعد میں بھی الجھا جا سکتا ہے ، بسیمہ مشکل میں ہے اور اسے ہماری مدد کی ضرورت ہے" عروشہ نے دلاویز سے کہا تو دلاویز بیس روپے میکال کے قدموں میں پھینک کر عروشہ کے ساتھ چلی گئی تو میکال نے دس دس روپے کے دونوں نوٹ اٹھائے اور انہیں چوم کر پینٹ کی جیب میں ڈال لیا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز نے کالج گیٹ سے باہر نکل کر متلاشی نظروں سے گیٹ کے دائیں بائیں دیکھا
"کسے تلاش کر رہی ہو؟" عروشہ نے دلاویز سے پوچھا
"یہاں ایک بھکاری کھڑا ہوتا ہے وہ کہاں گیا؟" دلاویز نے کہا تو عروشہ دلاویز کا بازو تھام کر آگے بڑھ گئی ۔
"ہم کہاں جا رہے ہیں؟" دلاویز نے پوچھا
"پولیس اسٹیشن" عروشہ نے مختصر جواب دیا
"ایک منٹ روکو ۔ ۔ ۔ ۔ میں ابھی آتی ہوں" دلاویز نے عروشہ سے کہا اور دوبارہ کالج گیٹ کی طرف چلی گئی جبکہ عروشہ متجسس نگاہوں سے اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی اور وہ کالج کے اندر چلی گئی ۔ اب عروشہ دلاویز کے واپس آنے کا انتظار کر رہی تھی ۔ دلاویز واپس آئی اور عروشہ کو عبایا دیا ۔
"عبایا پہنو گی تو میں تمہارے ساتھ جاؤں گی ورنہ میں اکیلے جاؤں گی" دلاویز نے کہا تو عروشہ نے اسے غصہ سے دیکھا ۔ کچھ ہی دیر میں دونوں پولیس اسٹیشن چلی گئیں ۔ پولیس اسٹیشن میں انہیں بتایا گیا کہ بسیمہ کو اغوا کرنے والے نامعلوم افراد کے خلاف پہلے ہی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور پولیس اپنا کام کر رہی ہے ۔
"آپ اپنا فون نمبر لکھوا دیں تاکہ ضرورت پڑنے پر ہم آپ سے رابطہ کر سکیں" پولیس اہلکار ناصر نے کہا تو دلاویز نے اپنا سیل نمبر لکھوا دیا ۔
"اوئے تجھے فون نمبر لینے کی کیا ضرورت تھی ؟ ایم پی اے شیرشاہ کے بیٹے شاہذل شاہ نے لڑکی کو اغواء کیا ہے ، ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں اور ہم چاہتے ہوئے بھی کوئی کاروائی نہیں کرسکتے "عروشہ اور دلاویز کے جانے کے بعد پولیس انسپیکٹر نے ناصر کو ڈانٹتے ہوئے کہا
.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *