Hakoomat by Waheed Sultan NovelR50741 Hakoomat by Waheed Sultan Episode07
No Download Link
267K
19
Rate this Novel
Hakoomat by Waheed Sultan Episode01 Hakoomat by Waheed Sultan Episode02 Hakoomat by Waheed Sultan Episode03 Hakoomat by Waheed Sultan Episode04 Hakoomat by Waheed Sultan Episode05 Hakoomat by Waheed Sultan Episode06 Hakoomat by Waheed Sultan Episode07 (Watching)Hakoomat by Waheed Sultan Episode08 Hakoomat by Waheed Sultan Episode09 Hakoomat by Waheed Sultan Episode10 Hakoomat by Waheed Sultan Episode11 Hakoomat by Waheed Sultan Episode12 Hakoomat by Waheed Sultan Episode13 Hakoomat by Waheed Sultan Episode14 Hakoomat by Waheed Sultan Episode15 Hakoomat by Waheed Sultan Episode16 Hakoomat by Waheed Sultan Episode17 Hakoomat by Waheed Sultan Episode18 Hakoomat by Waheed Sultan Last Episode
Hakoomat by Waheed Sultan Episode07
Hakoomat by Waheed Sultan Episode07
ایڈووکیٹ میشا چوہدری اپنے چھوٹے بھائ اور اپنے والد کے ساتھ ڈنر کر رہی تھی کہ انہیں کچھ ایسی آوازیں سنائی دیں جیسے کوئی دروازہ توڑ رہا ہو لیکن اصل میں رستم کے کارندے اس مکان کی کھڑکی توڑ رہے تھے جس مکان میں میشا چوہدری آج ہی اپنی فیلی کے ساتھ شفٹ ہوئی تھی ۔ کھڑکی توڑ کر رستم اور اس کے کارندے اندر داخل ہو گئے ۔ کارندوں نے میشا چوہدری کے باپ اور بھائی کی کھوپڑی پر ریوالور رکھ دئیے ۔
“سیٹھ بستانی کہاں ہے اور دلاویز کہاں ہے؟” رستم نے سرگوشی کے انداز میں میشا چوہدری سے پوچھا
“میرے بھائی اور پاپا کو چھوڑ دو میں تمہیں خود سیٹھ بستانی کے پاس لے کر جاؤں گی” میشا چوہدری نے دھیمے لہجے میں کہا تو کارندوں نے رستم کے اشارے پر میشا کے باپ اور بھائی کو چھوڑ دیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
برف کے کارخانے کے نیچے تہہ خانہ میں سیٹھ بستانی ریوالونگ چیئر پر بیٹھا دلاویز کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
“تم دونوں وہ سامنے والے کمرے میں جاؤ ، سیٹھ صاحب تھوڑی دیر میں کمرے میں آئیں گے اور تمہاری مہمان نوازی بھی کریں اور تمہاری خوب خدمت کریں گے” سیٹھ کے ایک کارندے نے دلاویز اور بسیمہ سے کہا تو دلاویز نے اس کے منہ پر تھوک دیا اور پھر پورا تہہ خانہ سیٹھ بستانی اور اس کے کارندوں کے قہقہوں سے گونج اٹھا ۔ دلاویز اور بسیمہ کو گن پوائنٹ پر کمرے کی طرف لے جایا گیا ۔ کمرے کے دروازے پر دلاویز اور بسیمہ نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر اندر چلی گئیں ۔ سیٹھ بستانی ریوالونگ چیئر سے اٹھا ہی تھا کہ اس کا منہ حیرت سے کھل گیا اور آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔ رستم اپنے کارندوں کے ساتھ تہہ خانے میں داخل ہو چکا تھا ۔ گولیاں چلی تھیں لیکن آوازیں صرف چیخوں کی آئیں تھیں ۔ رستم کے کارندوں نے سائلنسر لگے پستولوں سے گولیاں فائر کیں تھیں اس لیے گولیاں فائر ہوتے وقت فائرنگ کی آواز پیدا نہیں ہوئی تھی البتہ سیٹھ بستانی کے کارندوں کی چیخیں ضرور بلند ہوئیں تھیں ۔ دلاویز اور بسیمہ کمرے کا تھوڑا سا دروازہ کھول کر یہ سارا منظر دیکھ رہی تھیں ۔ سیٹھ بستانی کے کارندوں کی لاشیں بکھڑی پڑیں تھیں ۔ رستم نے سیٹھ بستانی سے دلاویز کے بارے میں پوچھا تو اس نے سامنے اس کمرے کی طرف اشارہ کر دیا جس کمرے میں دلاویز کو بھیجا گیا تھا ۔ رستم نے چار گولیاں سیٹھ بستانی پر فائر کیں اور وہ لڑکھڑا کر فرش پر گر پڑا اور تھوڑا سا تڑپنے کے بعد مر گیا ۔
“محترمہ! اب آپ کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہوس کا پجاری مر چکا ہے اور ہم ہوس پرست نہیں” رستم نے دلاویز کے چہرے کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا تو دلاویز اور بسیمہ رستم کی راہنمائی تہہ خانہ سے باہر نکلیں ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
رات کے اندھیرے میں دلاویز اور بسیمہ گھر پہنچی ۔ گھر پہنچتے ہی دلاویز نے وضو کیا اور سجدے میں سر رکھ کر رب کا شکر ادا کرنے لگی اور پھر نماز ادا کرنے کے بعد وہ بیڈ پر لیٹ گئی۔ وہ بس یہی سوچ کر بہت خوش تھی کہ آج اس کی عزت و ناموس محفوظ تھی لیکن وہ رستم کی بابت کچھ پریشان بھی تھی ۔ رستم نے راستے میں دلاویز کو وہ تمام تفصیل بتا دی تھی کہ کس طرح اس نے سیٹھ بستانی کا خفیہ اڈہ تلاش کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سیٹھ بستانی اور اس کے بیس کارندوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا ۔ دلاویز اچھی طرح سمجھ چکی تھی کہ رستم نے ساری تفصیل اس پر احسان جتلانے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے بتائی تھی کہ دلاویز کو اس کی طاقت اندازہ ہو جائے ۔ رستم کی طاقت دلاویز کو کسی بڑے طوفان سے آگاہ کر رہی تھی اور اسی بات کو لے کر دلاویز پریشان تھی اور سوچوں میں گم تھی کہ اس کی نظر بسیمہ پر پڑی جو اس کی ماں غریدہ کی ڈائری پڑھنے میں مصروف تھی ۔
“ذرا اونچی آواز میں پڑھو تا کہ مجھے بھی پتا چلے کہ میری ماما نے ڈائری میں کیا لکھا ہے”دلاویز نے اپنا سر دباتے ہوئے بسیمہ سے کہا
“سورہ روم کی آیت نمبر چوالیس کا ترجمہ لکھا ہے
ترجمہ:جس نے نیک عمل کیے تو ایسے لوگ اپنے ہی لیے آرام گاہ درست کرتے ہیں” بسیمہ نے ڈائری کا ورق پلٹا اور نیا صفحہ کھولا تو وہاں لکھا تھا کہ جو لوگ نیک عمل کرنے کے سلسلے میں محنت کرتے ہیں تو حقیقت میں وہ محنت اس لیے کرتے ہیں کہ ان کا محنت سے کیا گیا نیک عمل ان کے لیے آخرت میں آرام اور راحت و سکون کا سبب بن سکے ۔
بندےکی کامیابی اس کے رب کی طرف سے ہوتی ہے ۔ توفیق بھی وہ ہی دیتا ہے۔
قوتِ عمل بھی اس کی دی ہوئی ہے ۔ راستہ بھی وہ ہی بناتا ہے ۔ اور بندے کے اندر عمل کی تلقین بھی وہ ہی ڈالتا ہے ۔ بندے کا تو کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ اچھا عمل کر کے خود پر فخر کر لیا تو سب کچھ تباہ کر لیا
دوسری بات یہ کہ اللہ کے لئے کریں تو
اس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔
جتنی بھاری قیمت ادا کریں گے عمل اُتنا ہی مقبول ہو گا۔
مگر!
قیمت ادا کرنے کے بعد کے آداب بھی ہیں قیمت ادا کر کے پچھتائے ، افسوس کیا،
غم کیا تو سب کچھ ختم
جتنی بڑی قیمت ادا کریں اُتنی ہی
خندہ پیشانی سے رھیں۔
اللہ کے عام بندوں میں اور خاص بندوں
میں یہ ہی فرق ہے ۔
خاموشی سے نیکی کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کسی محلے کے دوکاندار سے پوچھیں کہ گھر کے سودے کا بل دینے میں کس خاندان کو مشکلات کا سامنا ہے؟
آپ دوکاندار کو اعتماد میں لے کر ان کو بن بتاۓ ان کا ادھار چکا دیں
دلاویز صبح سو کر اٹھی تو اس نے سب سے پہلے اپنا سیل فون چیک کیا تو رستم کے نمبر سے میسیج آیا تھا ۔ رستم نے دلاویز کو بن قاسم پارک کسی ضروری کام کے سلسلے میں بلایا تھا ۔ دلاویز نے رستم کا میسیج پڑھنے کے بعد بسیمہ کو جگایا ۔
“رستم نے بن قاسم پارک بلایا ہے ، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہاں جاؤں یا جانے سے انکار کر دوں ، مجھے تمہارا مشورہ درکار ہے” دلاویز نے بسیمہ سے کہا
“اگر کسی طاقتور بندے کی ناراضگی خطرناک ہے تو طاقتور انسان کی قربت اور بھی زیادہ خطرناک ہے “بسیمہ نے سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا
“یہ تم نے کیسا مشورہ دیا ہے ، تم نے مجھے کنفیوز کر دیا ہے” دلاویز نے کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ناشتہ کرنے کے بعد دلاویز کالج جانے کی بجائے بن قاسم پارک چلی گئی ۔ کار پارکنگ میں کھڑی کی اور پارک کے اندر چلی گئی ۔ رستم پارک کے اندر ایک راہداری کے قریب گھاس پر بیٹھا تھا کہ دلاویز نے اسے سلام کہا اور اس کے پاس بیٹھ گئی ۔ رستم نے اسے خوش آمدید کہا
“آپ نے مجھے کسی ضروری کام کے سلسلے میں یہاں بلایا تھا ” دلاویز نے استفہامیہ انداز میں سنجیدہ لہجے میں رستم سے پوچھا
“میں پہلے آپ سے کچھ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں اور پھر اس ضروری کام کے بارے میں بات کروں گا” رستم نے بلا جھجھک دلاویز سے کہا
“جی فرمائیے” دلاویز نے اپنے دائیں طرف پانی کے فوارے کو دیکھتے ہوئے کہا
“آپ کو حجاب کرنا کس نے سکھایا تھا؟” رستم نے دلاویز سے پوچھا
“میری اسکول ٹیچر ریجہ نے” دلاویز نے مختصر جواب دیا تو رستم نے بھی پانی کے فوارے کی طرف دیکھنا شروع کر دیا کیونکہ دلاویز فوارے کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
“محترمہ! مجھے خوف ہے کہ جس ضروری کام کے لیے آپ کو یہاں بلایا ہے اس کام کی بابت سنتے ہی آپ غصہ کر جائیں گی” رستم نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا لیکن دلاویز پھر بھی اس کی طرف متوجہ نہ ہوئی اور وہ مسلسل فوارے سے نکلتے پانی کو دیکھ رہی تھی جبکہ رستم اس کے نقاب شدہ چہرے کو دیکھ رہا تھا
“اگر آپ کو معلوم ہے کہ مجھے غصے آ جانا ہے تو پھر کیوں اس کام یا بات کے بارے میں مجھ سے گفتگو کر رہے ہیں” دلاویز نے کہا
“محترمہ! میں نے سیٹھ بستانی کو حفاظت کے نام پر اپنی نگرانی میں رکھا ہوا تھا لیکن جب وہ فرار ہو گیا تو میں یہ بات سمجھ گیا کہ وہ آپ کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہتا تھا اور اس وقت مجھے صرف آپ کی فکر تھی اور میں جلد از جلد آپ کو سیٹھ بستانی سے بازیاب کروانا چاہتا تھا تو محترمہ! آپ میری اس فکرمندی کو کس چیز کا نام دینا پسند کریں گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہوس ، لالچ ، مطلب ، عشق ، محبت یا پھر دوستی کا؟” دلاویز رستم کی طرف متوجہ ہوئی اور اسے ایک نظر دیکھا
“آپ میرے لیے فکرمند ہوئے ، مجھے بازیاب کروانے کے لیے آپ نے بہت کوشش کی تو اس سب کے لیے میں آپ کی بے حد ممنون اور مشکور ہوں لیکن آپ نے اپنے سابقہ باس کو میری خاطر کیوں قتل کیا اور آپ میرے لیے کیوں فکرمند تھے اس کا جواب میرے پاس نہیں ہے” دلاویز نے انتہائی سنجیدہ لہجے میں کہا اور پھر اٹھ کر کھڑی ہو گئی ۔
“کیا آپ مجھے اپنی دوستی کے قابل بھی نہیں سمجھتی؟” رستم نے دلاویز سے پوچھا تو دلاویز نے اسے کوفت بھری نگاہوں سے دیکھا اور رستم کی بات کا جواب دئیے بنا وہاں سے چلی گئی اور رستم غم و غصہ سے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اپنے کمرے میں آتے ہی دلاویز نے عبایا اتار کر بیڈ پر پھینکا اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو دیکھنے لگی ۔ وہ اپنے حسن پر غرور نہیں کر رہی تھی بلکہ اسے اپنے حسن پر کوفت ہو رہی تھی ۔
“رستم نے ایسا کیا کہہ دیا جو تم یوں آئینہ دیکھ رہی ہو؟” بسیمہ نے مسکراتے ہوئے دلاویز سے پوچھا
“وہ بکرا تو خود میرا ہاتھوں ذبح ہونا چاہتا ہے” دلاویز نے کہا اور اس کے ہونٹوں پر ایک خوفناک مسکراہٹ رینگ گئی ۔
زیدون کو جب ہوش آیا تو اس نے خود کو زنجیروں میں جھکڑا ہوئے پایا ۔ اس سے کچھ فاصلے پر اس کی بہن شیزا بھی مضبوط رسی میں بندھی تھی اور وہ اپنے بھائی زیدون کو اداس نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔ زیدون نے ارد گرد کا جائزہ لیا تو اسے معلوم ہوا کہ اسے کسی سامان بردار بحری جہاز کے شکستہ کیبن میں رکھا گیا تھا ۔ کیبن کا چھوٹا سا دروازہ کھلا اور میکال اندر آیا
“بھائی! ہماری غلطی کیا ہے؟ کیوں ہمارے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک کر رہے ہو؟” زیدون نے روتے ہوئے میکال سے پوچھا
“غلطی تمہاری نہیں ہے ، غلطی تو دلاویز کی ہے جو تمہیں پسند کرتی ہے اور تم سے محبت کرتی ہے جبکہ اسے چاہیے وہ مجھے پسند کرے اور اسے مجھ سے محبت کرنی چاہیے” میکال نے زیدون سے کہا ۔
“مجھے بتاؤ تمہارے اندر ایسی کون سی خوبی ہے جس سے دلاویز متاثر ہوتی ہے اور ہر روز تمہیں ملنے چلی آتی ہے” میکال نے زیدون سے پوچھا
“میڈم کو میرے بالوں کا سٹائل بہت پسند ہے اور وہ میرے چہرے کی خوبصورتی سے بہت متاثر ہیں” زیدون نے میکال کو بتایا تو میکال نے زیدون کے چہرے پر تھوک دیا
“بھائی! مجھے اور میری بہن کو چھوڑ دو ہم کراچی شہر سے بہت دور چلیں جائیں گے” زیدون نے میکال کی منت سماجت کرتے ہوئے کہا
“اب بہت دیر ہو چکی ہے ، میں نے تمہیں ایک لاکھ ستر ہزار روپے میں اور تمہاری بہن کو تین لاکھ روپے میں فروخت کر دیا ہے” میکال نے کہا اور چلا گیا تو شیزا اپنے بھائی زیدون سے لپٹ کر رونے لگی ۔
شام کے چار بجے دلاویز اپنی دوست عروشہ سے ملنے کے لیے ہاسٹل چلی گئی ۔
“دلاویز! کل تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس اجنبی لڑکے عشان کے پاس مجھے اکیلا چھوڑ کر خود وہاں سے چلی گئی اور آج شرمندگی سے بچنے کے لیے تم کالج بھی نہیں آئی” رسمی گفتگو کرنے کے بعد عروشہ نے دلاویز سے کہا
“کل جب میں کال کرنے کے لیے کیبن سے باہر نکلی تو کسی نے مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی اور میں نے بہت جدوجہد کر کے خود کو اغواء ہونے سے بچایا تھا” دلاویز نے عروشہ کو بتایا
“ہاہاہاہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مذاق اچھا کر لیتی ہو تم” عروشہ نے طنزیہ لہجے میں کہا
“عروشہ! میں مذاق نہیں کر رہی ، میں سچ کہہ رہی ہوں” دلاویز نے اپنے حق میں صفائی پیش کی
“اور آج کالج کیوں نہیں آئی تھی؟” عروشہ نے دلاویز سے پوچھا
“طبعیت خراب تھی” دلاویز نے مختصر جواب دیا تو عروشہ کی روم میٹ چائے اور بسکٹ لے کر آ گئی اور پھر تینوں لڑکیاں چائے اور بسکٹس کے ساتھ انصاف کرنے میں مصروف ہو گئیں ۔ عروشہ سے ملاقات کرنے کے بعد دلاویز زیدون کی دوکان پر گئی لیکن اس کی دوکان کو تالا لگا ہوا تھا ۔ دلاویز دوکان کی عقبی گلی میں گئی لیکن زیدون کے لکڑی کے گھر کو بھی تالا لگا ہوا تھا ۔ دلاویز چند منٹوں تک پریشانی کی حالت میں بند دروازے کو دیکھتی رہی اور پھر دوکان کے دروازے کی طرف آئی اور دروازے کے ساتھ دیوار پر لکھا ہوا زیدون کا نمبر ڈائل کیا لیکن اس کا موبائل نمبر بھی آف تھا ۔ دلاویز کار میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی اور کار اسٹارٹ کی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جب سے دلاویز گھر آئی تھی وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں اداس بیٹھی تھی وہ مسلسل زیدون کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ کہاں جا سکتا ہے ۔ وہ بار بار اس کا نمبر ڈائل کر رہی تھی لیکن زیدون کا نمبر مسلسل آف تھا ۔ بسیمہ ایک گھنٹے کے دوران کئی بار دلاویز سے اداسی کی وجہ پوچھ چکی تھی لیکن وہ خاموش تھی ۔ رات کے آٹھ بجے دلاویز کار پر دوبارہ زیدون کے گھر گئی لیکن اس کے گھر اور دوکان دونوں کو تالا لگا ہوا تھا اور وہ مایوس ہو کر اپنے گھر واپس لوٹ آئی ۔ بسیمہ نے دلاویز کو بتایا کہ ڈنر بالکل تیار ہے ۔
“مجھے بھوک نہیں ہے تم ڈنر کر لو” دلاویز نے کہا
“جب تک تم کھانا نہیں کھاؤ گی تب تک میں بھی کھانا نہیں کھاؤں گی” بسیمہ نے دلاویز سے کہا اور غریدہ جان کی ڈائری لے کر دلاویز کے پاس بیٹھ گئی ۔
“یہ لو اپنی ماما کی ڈائری پڑھو شاید کچھ وقت کے لیے تم وہ بات اپنے دماغ سے نکال سکو جس کی وجہ سے تم اداس اور پریشان ہو” بسیمہ نے کہا تو دلاویز نے بسیمہ کی طرف دیکھتے ہوئے ڈائری پکڑ لی اور ڈائری کا جو صفحہ دلاویز نے کھولا تھا اس پر لکھا تھا کہ دودھ پیتے موسی علیہ سلام غرق نہیں ہوئے حالانکہ وہ اپنی کمزوری کی انتہا پر تھے
اور فرعون غرق ہو گیا حالانکہ وہ اپنی طاقت کی انتہا پر تھا.
اپنے معاملے کو خالق کے سپرد کر دو اور مطمئن ہو جاؤ
کیونکہ تمھیں اس کے سوا ہرگز کچھ نہیں پہنچ سکتا جسے اللہ نے تمھارے لئے لکھ دیا ہے.
اصل طاقت اور قوت کی مالک ذات اللہ کی ہے.
انسان کے ساتھ معاملہ اس کے ایمان،یقین اور توکل کی بنیاد پر ہوتا ہے.
ظاہری کمزوری مسئلہ نہیں کرتی مسئلہ ایمان کی کمزوری سے ہوتا ہے ۔ اللہ پر کامل یقین انسان کو بڑی سے بڑی مشکل سے نجات دلا دیتا ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عبارت پڑھنے کے بعد دلاویز نے ڈائری بند کر دی اور سر سجدے میں رکھ کر رونے لگی ۔ بسیمہ جسے کسی بات کا علم نہیں تھا کہ دلاویز کس وجہ سے غمگین اور اداس ہے ۔ بسیمہ سے دلاویز کو یوں روتا ہوا نہ دیکھ سکی اور وہ لاؤنج میں چلی گئی جبکہ دلاویزے مصلے پر ہی روتے روتے پر سکون نیند سو گئی ۔
میکال اپنے چہرے کی سرجری کروانے کے لیے روس چلا گیا ۔ چہرے کی سرجری کروانے سے پہلے میکال نے ڈاکٹر کو زیدون کی تصویر دکھائی اور ڈاکٹر سے کہا کہ سرجری کے بعد چہرہ اس تصویر سے مشابہ ہونا چاہیے ۔
جاری ہے
