Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hakoomat by Waheed Sultan Episode15

Hakoomat by Waheed Sultan Episode15

دلاویز کو مسلم ڈیمو کریٹک پارٹی کی طرف سے حلقہ پی پی 121-E میں انقلابی پارٹی کے امیدوار شاہذل کے مقابل الیکشن لڑنے کا ٹکٹ مل چکا تھا ۔ وہ ٹکٹ لے کر مسلم ڈیمو کریٹک پارٹی کے آفس سے باہر نکل رہی تھی کہ فضا نعروں سے گونج اٹھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دلاویز میڈم زندہ باد ۔ ۔ ۔ ۔ دلاویز میڈم قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ عشان ، عمر اور بہرام خان نے نعرے لگوانے کے لیے بہت سے طلباء اور ان لوگوں کو جمع کیا تھا جن کو یا تو دلاویز نے فائدہ پہنچایا تھا یا پھر ایکس سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلباء نے ۔ دلاویز پر پھول نچھاور ہو رہے تھے اور اسی دوران دلاویز نے سیاستدان دلدارخان سے فون پر رابطہ کر کے ٹکٹ دلوانے کا شکریہ ادا کیا اور پھر کار میں بیٹھ گئی ۔
“رستم کو تم نے خبر دی تھی کہ زیدون واپس لوٹ آیا ہے؟” دلاویز نے کار کا اسٹیئرنگ گھماتے ہوئے روشن خان سے پوچھا
“رستم صاحب خود سے زیادہ مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے مجھے آپ کی حفاظت اور نگرانی کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے ” روشن خان نے پراعتماد لہجے میں کہا
“مطلب رستم سے ملاقات کر کے مجھے خود ہی کوئی راستہ تلاش کرنا ہو گا” دلاویز نے سوچا
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
پولیس اہلکار نے جیل کا دروازہ کھولا اور دلاویز رستم سے ملاقات کے لیے اندر چلی گئی ۔ اور رستم کے سامنے دوسری کرسی پر بیٹھ گئی ۔
“تمہیں مجھ پر زیادہ بھروسہ ہے یا روشن خان پر؟” دلاویز نے رستم سے غیر متوقع سوال پوچھا
“پچھلے دو دنوں میں زیدون سے کتنی بار ملی ہو؟” رستم نے دلاویز کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے سوال داغا
“بس ایک بار ہی اتفاقیہ طور پر ملی ہوں” دلاویز نے کہا
“مجھے روشن خان سے زیادہ تم پر بھروسہ ہے” رستم نے دلاویز سے کہا
“زیدون نے شیزا کو میرے پاس بھیجا تھا وہ مجھ سے بس ایک بار ملاقات کرنا چاہتا ہے” دلاویز نے سر جھکاتے ہوئے کہا
“او کے ملاقات کر لینا لیکن یہ آخری بار ہو گا” رستم نے لاپرواہی سے کہا تو دلاویز کا جھکا ہوا سر اوپر اٹھا اور اس نے رستم کو حیرت بھری نگاہوں سے دیکھا اور پھر وہ بے اختیار ہو کر مسکرا پڑی تو رستم بھی ہنس پڑا ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
میکال حمودخان کے پاس بیٹھا تھا ۔ اس کو بار بار کال آ رہی تھی لیکن وہ کال اٹینڈ نہیں کر رہا تھا ۔
“کس کی کال آ رہی ہے؟” حمود نے پوچھا
“ماما کی کال ہے” میکال نے مختصر جواب دیا
“ماما کی کال ہے تو اٹینڈ کرو” حمود نے کہا تو میکال نے کال اٹینڈ کر لی ۔ کال پر بات کرنے کے بعد میکال نے حمود کو بتایا کہ ماما گھر بلا رہی ہیں مجھے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میکال جب اپنے گھر پہنچا تو سیدھا اپنی ماں اداکارہ غزل کے روم کی طرف گیا ۔ روم کے اندر کا منظر میکال کے لیے غیر متوقع تھا ۔ اداکارہ غزل کھڑی تھی اور اس کے پیچھے زیدون کھڑا تھا ۔ میڈم غزل کا دایاں بازو زیدون کی گرفت میں تھا ۔ زیدون نے میڈم غزل کی گردن پر بڑی نائف (چھڑی) رکھی ہوئی تھی ۔
“زیدون! یہ تم کیا کر رہے ہو؟” میکال نے گھگھیائے ہوئے لہجے میں کہا
“تم نے میری بہن کو اغواء کر کے ایک ڈانسنگ کلب میں فروخت کر دیا اور وہاں اس پر جو قیامت گزری شیزا نے وہ سب مجھے بتا دیا ہے” زیدون نے کربناک لہجے میں کہا اور نائف سے اداکارہ غزل کی گردن کاٹ دی ۔
“سیکیورٹی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیکیورٹی ۔ ۔ ۔ ۔” میکال نے گھبراتے ہوئے کہا
“اب کوئی سیکیورٹی نہیں آئے گی ، میں نے ان کا کام تمام کر دیا تھا” زیدون نے مسکراتے ہوئے کہا اور میکال کی جانب بڑھا تو میکال بھاگا ۔ زیدون بھی اس کے پیچھے بھاگا ۔ میکال نے بھاگتے ہوئے شیشے کی میز زیدون پر پھینکی ۔ زیدون میز سے الجھتے ہوئے فرش پر گرا اور پھر اٹھ کر میکال کے پیچھے بھاگا لیکن تب تک میکال کار چلا کر بھاگ چکا تھا ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
دلاویز روشن خان کے ہمراہ زیدون کے گھر پہنچی تو زیدون نے اسے خوش آمدید کہا جبکہ شیزہ نے دلاویز کو حقارت سے دیکھا اور دوسرے کمرے میں چلی گئی ۔
“تم مجھ سے ملاقات کرنا چاہتے تھے تو میں آ گئی ہوں مدعے کی بات کرو” دلاویز کے لہجے میں سنجیدگی تھی ۔
“میڈم! اغواء ہونے سے پہلے میں جانتا تھا کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے اور اغواء ہونے کے بعد ، آپ سے دور جانے کے بعد مجھے پتا چلا کہ مجھے بھی آپ سے محبت ہو چکی ہے اور اپنی اس آخری ملاقات میں آپ سے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا تھا” زیدون نے بلا تکلف دلاویز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔
“میں اب نکاح یافتہ خاتون ہوں ، رستم کی منکوحہ ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم نے بہت دیر کر دی ویسے بھی اب مجھے تم میں دلچسپی نہیں ہے” دلاویز نے بے رخی اور بےاعتنائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا اور واپس جانے لیے مڑی ۔
“کیا یہ نہیں پوچھو گی کہ آخری ملاقات کیوں ہے؟” زیدون نے کہا تو دلاویز کے قدم رک گئے ۔
“میں نے غزل میڈم کو اور اس کے تین سیکیورٹی گارڈز قتل کر دئیے اور اب پولیس کسی بھی وقت مجھے گرفتار کر سکتی ہے” زیدون نے سرد لہجے میں کہا تو دلاویز نے پلٹ کر زیدون کو حیرت سے دیکھا اور پھر چلی گئی ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
دلاویز نے نیلم پوری علاقہ میں اپنی الیکشن مہم کا آغاز ایک چھوٹی سی تقریر سے کیا
“ہماری پارٹی بھلے ہی پچھلے پانچ سال تک اپوزیشن میں رہی ہو لیکن ہماری پارٹی نے بار بار آپ لوگوں کی ضرورتوں اور مسائل پر حکومت کی توجہ دلائی لیکن سابقہ حکومت آپ لوگوں کی ضرورتوں اور مسائل کو نظر انداز کرتی رہی ۔ انقلابی پارٹی نے پانچ سالوں میں جو کام کیے ہیں وہ آپ لوگوں کے سامنے تو ہے ہی ہیں ۔ اگر آپ لوگ ایک موقع مجھے دیں تو میں نیلم پوری کے علاقے کو رہنے کے لیے ایک بہتر جگہ بنا سکتی ہوں ، مجھے آپ لوگوں کا پورا تعاون چاہیے اور اس کی میں امید رکھتی ہوں ۔ شکریہ” دلاویز نے نیلم پوری میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نیلم پوری میں تقریر کرنے کے بعد دلاویز نے ایڈووکیٹ میشا چوہدری سے ملاقات کی ۔
“عدالت نے رستم کو سات سال کی سزا سنا دی ہے لیکن تم ٹینشن مت لینا کیونکہ میں نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے” میشا چوہدری نے تسلی آمیز لہجے میں کہا
“وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن اب تمہیں ایک اور کیس بھی لڑنا ہے ، منہ مانگی فیس دوں گی” دلاویز نے کہا
“کس کا کیس؟” میشا چوہدری نے پوچھا
“پولیس نے زیدون کو گرفتار کر لیا ہے ، اس نے اداکارہ غزل اور اس کے تین گارڈز کو قتل کر دیا ہے” دلاویز کی بات سن کر میشا چوہدری چونک پڑی اور پھر زیدون کا کیس لڑنے کے لیے ہاں کر دی ۔
“اور ہاں یہ بات خفیہ رکھنا کہ آپ میرے کہنے پر کیس لڑ رہی ہیں ، میڈیا کو آپ یہ بتائیں گی کہ آپ زیدون کی بہن شیزا کے کہنے پر کیس لڑ رہی ہیں اور شیزہ ہی اس کیس کی مدعیہ ہو گی” دلاویز نے میشا چوہدری کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا
“او کے ، میں تیاری شروع کر دیتی ہوں” میشا چوہدری نے کہا
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
“دلاویز جان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے بہت ہنسی آتی ہے میں جب بھی یہ نام سنتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ مسلم ڈیموکریٹک پارٹی کے اتنے برے دن آ گئے ہیں کہ پارٹی کو دلاویز جیسی عام سی لڑکی کو ٹکٹ دینا پڑ رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ دلاویز ایک ایسی لڑکی جسے سیاست اور حکومت کی الف ب تک کا پتا نہیں ہے ۔ میں پوچھتا ہوں اسے کس بل بوتے پر ٹکٹ دیا گیا ہے ؟ کیا اس لیے کہ وہ مافیا گینگ کے لیڈر کی بیوی ہے ، دلاویز کا شوہر رستم ایک مجرم ہے جسے پولیس نے اسلحہ اسمگلنگ کے کیس میں گرفتار کر رکھا ہے تو کیا آپ لوگ ایک مجرم کی بیوی کو ووٹ دے کر جرم کا ساتھ دینا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” دلاویز کو دیکھتے ہی شاہذل نے اپنی تقریر ادھوری چھوز دی اور لوگوں نے دلاویز کے حق میں نعرے لگانے شروع کر دئیے ۔ دلاویز میڈم زندہ باد ۔ ۔ ۔ ۔ دلاویز میڈم قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں
“عشان مجھے مائیک دو” دلاویز نے بغیر چھت والی جیپ کے اندر قدم رکھتے ہوئے کہا ۔ اب وہ جیپ کے عقبی حصے میں کھڑی تھی اور عشان نے دلاویز کو مائیک دیا ۔
“بھائیو اور بہنو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا شوہر مجرم ہے یا اسے کسی کی سازش کے بل بوتے پر گرفتار کیا گیا ہے ، اس بات کا فیصلہ عدالت کرے گی ، میں شاہذل صاحب کو یاد دلانا چاہتی ہوں کہ پولیس میں اسلحہ اسمگلنگ کے بہت سے کیسز خود شاہذل صاحب کے خلاف بھی درج ہیں ، پچھلے پچاس سالوں میں نیلم پوری میں پہلی بار صوبائی سطح پر ایک عورت آپ لوگوں کی نمائندگی کرنے جا رہی ہے ، سیاست میں مجھے تجربہ نہ سہی لیکن عوام کی خدمت کرنے کا جذبہ ہے مجھ میں ۔ عوام کی خدمت کرنے کے لیے ان کی روزمرہ کی دقتوں اور ضرورتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ سب چیزیں ایک عورت سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔ یاد رہے آج بھی مرد کے لاکھ دبائے جانے کے باوجود اس پاک وطن کا ہر گھر عورت ہی چلاتی ہے تو پھر ایک عورت حکومتی ایوانوں میں کیونکر عوام کی نمائندگی نہیں کر سکتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔” دلاویز کی تقریر ختم ہونے سے پہلے ہی لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں اور فضا ایک بار پھر دلاویز میڈم زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی ۔
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
▫◽◾◻◼⬜⬛🔸🔹🔶🔷🔷
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *