Hakoomat by Waheed Sultan NovelR50741 Hakoomat by Waheed Sultan Episode01
No Download Link
267K
19
Rate this Novel
Hakoomat by Waheed Sultan Episode01 (Watching)Hakoomat by Waheed Sultan Episode02 Hakoomat by Waheed Sultan Episode03 Hakoomat by Waheed Sultan Episode04 Hakoomat by Waheed Sultan Episode05 Hakoomat by Waheed Sultan Episode06 Hakoomat by Waheed Sultan Episode07 Hakoomat by Waheed Sultan Episode08 Hakoomat by Waheed Sultan Episode09 Hakoomat by Waheed Sultan Episode10 Hakoomat by Waheed Sultan Episode11 Hakoomat by Waheed Sultan Episode12 Hakoomat by Waheed Sultan Episode13 Hakoomat by Waheed Sultan Episode14 Hakoomat by Waheed Sultan Episode15 Hakoomat by Waheed Sultan Episode16 Hakoomat by Waheed Sultan Episode17 Hakoomat by Waheed Sultan Episode18 Hakoomat by Waheed Sultan Last Episode
Hakoomat by Waheed Sultan Episode01
Hakoomat by Waheed Sultan Episode01
تقریر ختم ہو چکی تھی ۔ دلاویز اپنی دوست بسیمہ کے ساتھ طرج میرج ہال سے باہر نکل رہی تھی ۔
“صرف اپنے لئے جینا ہے ضرور جیئیں، کیونکہ یہ آپ کا بنیادی اور اصولی حق ہے..
لیکن پھر اشرف المخلوقات کا خطاب واپس کرنا پڑے گا” ماروی صاحبہ کا بولا ہوا یہ جملہ دلاویز کی سوچ پر حاوی ہو رہا تھا ۔ وہ اپنے اندر کے غرور اور انا کو ختم کر دینا چاہتی تھی بالکل اپنی مرحومہ والدہ غریدہ جان کی طرح ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے خود غرضی اور لالچ سے نفرت ہو رہی تھی ۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ یہ خودغرضی اور لالچ ہی دو چیزیں ہیں جو انسان کو دوسروں کے کام آنے اور دوسروں کے لیے جینے سے روکتی ہیں اور یوں انسان اشرف المخلوقات کے خطاب سے محروم ہونا پڑتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دلاویز کار کے قریب پہنچی تو ارماز ناگی کے ڈرائیور نوری بیگ نے مودبانہ انداز میں کار کا دروازہ کھولا تو وہ اپنی دوست بسیمہ کے ہمراہ کار کی عقبی سیٹوں پر براجمان ہو گئی ۔
ایم اے نیشنل کالج میں لاء ڈیپارٹمنٹ کے سامنے چھوٹی سی گراؤنڈ تھی ۔ گراؤنڈ کے دائیں طرف گلاب اور موتیا کے پھولوں کا ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا ۔ صبح کے سات بج رہے تھے ۔ بسیمہ ، عروشہ اور دلاویز اسی باغیچے میں بیٹھ کر اسائنمنٹ بنارہی تھیں ۔ عشان بھی باغیچے کے باہر کھڑا آ کر کھڑا ہو گیا ۔
“باجیو ! کیا تمہیں تمہارے والدین نے دین اسلام کی تعلیم نہیں دلوائی یا پھر آپ اسلامی تعلیم بھول چکی ہو ، ایک تیسری ممکنہ صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ جیسی لڑکیاں اسلامی تعلیمات کو نظر انداز کر کے اسلامی اصولوں کا مذاق اڑاتی ہیں” عشان نے رطب اللسان بولتے ہوئے کہا تو عروشہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔
“تم کہنا کیا چاہتے ہو؟” عروشہ نے عشان سے پوچھا
“پورے ڈیپارٹمنٹ میں تمہارے علاوہ کوئی لڑکی جینز اور ہاف بازو شرٹ نہیں پہنتی ، تمام لڑکیاں اسکارف کے ساتھ کالج آتی ہیں اور کچھ لڑکیاں تو عبایا بھی پہن کر آتی ہیں لیکن ڈیپارٹمنٹ کی ایک واحد لڑکی تم ہو جو بغیر دوپٹے کے کالج میں آتی ہو ، اس وقت پورے کالج کے لڑکے تمہیں ہی گھور رہے ہیں اور تمہارے بارے میں الٹے سیدھے جملے بھی کستے رہتے ہیں” عشان نے عروشہ کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے کہا
“اوئے انگلی نیچے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے کہا انگلی نیچے کر” عروشہ باغیچے سے باہر آئی اور عشان کے مقابل کھڑی ہو گئی تو عشان نے انگلی نیچے کی اور کوفت بھری نگاہ سے عروشہ کو دیکھا
“تو میرا باپ ہے یا میرا بھائی ہے یا پھر میرا شوہر جو اتنی غیرت جتا رہا ہے ، اسلام کا مرد کے لیے حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھے اور نا محرم عورت کو صرف ایک نظر دیکھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چل جا اب یہ بات وہ سامنے کھڑے مشٹنڈوں جا کر بتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھنا سیکھ جائیں گے تو پھر میں بھی جینز شرٹ اوپر عبایا پہن کر آیا کروں گی” عروشہ نے کرخت لہجے میں کہا تو عشان واپس مڑا اور تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا چھ لڑکوں پر مشتمل گروپ کی طرف گیا
“اوئے اپنی نگاہیں جھکاؤ اور اس لڑکی کو گھورنا بند کرو” عشان نے لڑکوں سے مخاطب ہو کر کہا
“اگر ہم نظریں نیچی نہیں کریں گے اور ہم نے اس لڑکی کو گھورنا بند نہیں کیا تو تم ہمارا کیا کر لو گے؟” روشی نے شانے اچکاتے ہوئے کہا تو عشان نے روشو کے منہ پر چماٹ مارا اور پھر روشی کے ساتھیوں نے عشان پر لاتیں اور گھونسے برسائے ۔ پیچھے سے چند نامعلوم لڑکے آئے اور انہوں نے روشی اور اس کے ساتھیوں کی خوب پٹائی کی ۔ جانے سے پہلے عشان نے باغیچے کے قریب ایک بورڈ آویزاں کیا جس پر لکھا تھا کہ یہ لڑکیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور یہاں پر لڑکوں کا کھڑا ہونا ممنوع ہے ۔ منجانب: ایکس اسٹوڈنٹ فیڈریشن
دو گھنٹے کا طویل لیکچر سننے کے بعد کچھ لڑکیاں اور لڑکے کلاس سے باہر چلے گئے جبکہ چند لڑکے اور لڑکیاں کلاس میں ہی سر پکڑ کر بیٹھے ہوئے تھے ۔پروفیسر صاحب بھی کلاس سے جا چکے تھے ۔ سب کی بوریت اور ذہنی تھکان دور کرنے لیے دلاویز اپنی سیٹ سے کھڑی ہوئی ۔
“میں ایسا کیا کروں کہ میرا نام روشن ہو جائے” دلاویز نے بلند آواز میں کہا تو کلاس روم کے تمام لڑکے اور لڑکیاں دلاویز کی طرف متوجہ ہو گئے
“سر پر لائٹ لگوا لو” ایک لڑکی اپنی کرسی کے سامنے پڑی میز سے سر اوپر اٹھاتے ہوئے بوریت بھرے لہجے میں بولی
“اپنا نام لکھو اور پاس میں سو واٹ کا بلب رکھو سچ میں نام بہت روشن ہو گا” اب کی بار ایک لڑکا بولا تو سب کے چہروں پر مسکراہٹ لوٹ آئی ۔
“بلب پر اپنا نام لکھو” ایک دوسرا لڑکا بولا تو کچھ چہروں کی ہنسی بھی لوٹ آئی
“ملکی سیاست میں حصہ لو نام خود ہی روشن ہو جائے گا” ایک تیسرا لڑکا پہلے سے دی گئی تجویزوں کو انجوائے کرتے ہوئے بولا تو دلاویز نے منہ سا بنا لیا
“مجھے نہیں اپنا نام روشن کرنا ، میں نے تو آپ لوگوں کی بوریت دور کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا جوک چھوڑا تھا” دلاویز یہ کہتی ہوئی کلاس روم سے چلی گئی تو عروشہ بھی اپنا بیگ لے کر اس کے پیچھے بھاگی ۔ دلاویز کو کنٹین کی طرف جاتے دیکھ کر عروشہ بھی کنٹین کی طرف چل دی اور کنٹین میں وہ دلاویز کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی ۔
“بسیمہ کہاں ہے؟” عروشہ نے پوچھا
“وہ ہاسٹل چلی گئی ہے” دلاویز نے مختصر جواب دیا
“آؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم بھی ہاسٹل چلیں” عروشہ نے کہا
“عروشہ پلیز مجھے تھوڑی دیر تنہا چھوڑ دو” دلاویز کے چہرے پر ڈھیروں افسردگی تھی
“اچھا ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں جا رہی ہوں لیکن گھر جانے سے پہلے ہاسٹل تو آؤ گی نا؟” عروشہ نے پوچھا تو دلاویز نے نفی میں سر ہلایا تو عروشہ اپنا بیگ اٹھا کر چلی گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں ایسا کیا کروں کہ میرا نام روشن ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ملکی سیاست میں حصہ لو نام خود ہی روشن ہو جائے گا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز یہ دو باتیں ہی بار بار سوچے جا رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر کنٹین کے دوسرے کونے میں بیٹھے اٹھارہ سالہ لڑکے پر پڑی ۔ وہ چائے پی رہا تھا ۔ اس نے چائے پیتے ہوئے ایک نگاہ دلاویز پر ڈالی اور پھر نظر جھکا لی ۔
“ہونہہ ۔ ۔ ۔ بذ دل کہیں کا” دلاویز نے اسے کوفت سے دیکھا اور کچھ کھائے پیے بنا کنٹین سے اٹھ کر چلی گئی ۔ آج پھر کالج کے گیٹ پر وہی بھکاری کھڑا تھا جسے کالج سے نکلتے وقت وہ روزانہ سو روپے دیتی تھی ۔ شائد وہ دلاویز کا ہی انتظار کر رہا تھا کہ وہ اس سے سو روپے لے اور چلا جائے ۔ دلاویز نے گیٹ سے نکلتے ہی بھکاری کو سو روپے کا نوٹ دیا اور کار میں بیٹھ گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“سلام ناگی بابا” دلاویز نے ارماز ناگی سے کہا تو اس نے دلاویز کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔
“ناگی بابا! آج آپ بہت خوش لگھ رہے ہیں؟”دلاویز نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“تمہارے بابا عجان کے تمام ٹیسٹوں کی رپورٹس کلیئر ہیں اور لندن ریڈ ریک لیبارٹری نے عجان کو بالکل فٹ Fit قرار دیا ہے ، وہ کل اپنی بیوی حماشہ کے پاس دوبئی پہنچ جائے گا” ارماز ناگی نے دلاویز کو بتایا
“آپ نے پہلے تو کبھی نہیں بتایا کہ پاپا نے حماشہ آنٹی سے شادی کی ہے؟” دلاویز نے متحیر لہجے میں پوچھا
“پانچ سال پہلے جب عجان کوما سے باہر آیا تھا تو چار ماہ بعد عجان نے حماشہ سے شادی کر لی تھی اور حماشہ نے منع کیا تھا کہ ہماری شادی کے بارے میں دلاویز کو نہ بتایا جائے لیکن آج بے خیالی میں بلا اختیار یہ بات میرے منہ سے کیسے نکل گئی” ارماز ناگی نے کہا تو دلاویز بے اختیار ہنس پڑی۔
نیلم پوری کے علاقے میں پچاس سال عمر کی ایک ہندو عورت چھوٹی ویران مسجد میں ہاتھ جوڑ کر بیٹھی زار و قطار رو رہی تھی ۔
“اے مسلمانوں کے خدا آج میں تیرے گھر میں اس لیے آئی ہوں کہ سیلی بیبی کے خداؤں نے اسے بہت مایوس کیا ہے لیکن میں نے مسلمانوں سے سنا ہے کہ تو کسی کو مایوس نہیں کرتا سو مجھے بھی مایوس مت کرنا” وہ عورت بار بار یہ الفاظ دہراتی تھی پھر زاروقطار روتی ۔ جب وہ رو کر تھک گئی تو وہ مسجد سے باہر آ گئی تو اس کی ملاقات ذولفہ سے ہوئی ۔
“اماں جی! آپ ہر روز یہاں سے گزرتی ہیں تو آپ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ میں بہت پہلے سے آپ کو جانتی ہوں لیکن کچھ دیر بعد جب آپ یہاں سے گزر جاتی ہیں تو پھر احساس ہوتا ہے کہ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کون ہیں اور آپ کا نام کیا ہے” ذولفہ نے کہا تو وہ بوڑھی عورت چلتے چلتے رکی ۔
“میرا نام سیلی بیبی ہے” اس نے کہا اور پھر قدم بہ قدم چلنے لگی ۔
“سیلی بیبی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیلی بیبی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نام تو جانا پہنچانا سا لگ رہا ہے” ذولفہ بڑبڑائی
دلاویز نے چائے پینے کے لیے نقاب اتارا ہی تھا کہ اس نے دیکھا کہ وہی اٹھارہ سالہ لڑکا کنٹین میں داخل ہوا تھا جو گزشتہ روز کنٹین کے کونے میں بیٹھا چائے پی رہ تھا اور اسے دلاویز نے کوفت سے دیکھا تھا ۔ وہ ایک کرسی کے پاس وزن ایک ٹانگ پر ڈال کر دوسری ٹانگ ڈھیلی چھوڑ کر وہ بے ڈھنگے انداز میں دلاویز سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا ۔ اس کا چہرہ دوسری طرف تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ دلاویز چائے کی چسکیوں کے ساتھ اسے دیکھ رہی ہے ۔ لڑکے نے اپنے سر پر بالوں کی پونی بنا رکھی تھی اور یہی وجہ تھی کہ دلاویز کو وہ شیطان نما چھچھورا لگ رہا تھا ۔ دلاویز کو محسوس ہوا کہ کوئی اس کی طرف آ رہا ہے تو وہ فوری طور پر دوسری جانب متوجہ ہوئی ۔ جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس عروشہ اس کی طرف آ رہی تھی ۔
“بسیمہ کا میسیج آیا ہے مجھے” عروشہ نے کہا تو دلاویز نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
“اس نے لکھا ہے کہ اسے غنڈوں نے اغواء کر لیا ہے” عروشہ کے چہرے پر پشیمانی کے اثرات نمودار ہو چکے تھے ۔ دلاویز نے کپ میز پر رکھا اور کاؤنٹر کی طرف گئی ۔
“آپ کا بل ادا ہو گیا ہے” کاؤنٹر پر بیٹھے شخص نے کہا
“میرا بل کس نے ادا کیا؟” دلاویز نے پوچھا تو کاؤنٹر والے نے اسی لڑکے کی طرف اشارہ کر دیا جس نے بالوں کی پونی کر رکھی تھی ۔
“آپ کون ہو؟” دلاویز نے اپنا نقاب درست کرتے ہوئے پوچھا
“بندہ ناچیز کو لوگ میکال کہہ کر پکارتے ہیں” اس نے دلاویز کے سوال کا جواب دیا
“مجھے یہ بات ہرگز پسند نہیں کہ کوئی مجھ پر احسان کرے اور آئندہ میرا بل ول ادا کرنے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہو گا” دلاویز نے کرخت لہجے میں کہا
“دلاویز! اس سے بعد میں بھی الجھا جا سکتا ہے ، بسیمہ مشکل میں ہے اور اسے ہماری مدد کی ضرورت ہے” عروشہ نے دلاویز سے کہا تو دلاویز بیس روپے میکال کے قدموں میں پھینک کر عروشہ کے ساتھ چلی گئی تو میکال نے دس دس روپے کے دونوں نوٹ اٹھائے اور انہیں چوم کر پینٹ کی جیب میں ڈال لیا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز نے کالج گیٹ سے باہر نکل کر متلاشی نظروں سے گیٹ کے دائیں بائیں دیکھا
“کسے تلاش کر رہی ہو؟” عروشہ نے دلاویز سے پوچھا
“یہاں ایک بھکاری کھڑا ہوتا ہے وہ کہاں گیا؟” دلاویز نے کہا تو عروشہ دلاویز کا بازو تھام کر آگے بڑھ گئی ۔
“ہم کہاں جا رہے ہیں؟” دلاویز نے پوچھا
“پولیس اسٹیشن” عروشہ نے مختصر جواب دیا
“ایک منٹ روکو ۔ ۔ ۔ ۔ میں ابھی آتی ہوں” دلاویز نے عروشہ سے کہا اور دوبارہ کالج گیٹ کی طرف چلی گئی جبکہ عروشہ متجسس نگاہوں سے اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی اور وہ کالج کے اندر چلی گئی ۔ اب عروشہ دلاویز کے واپس آنے کا انتظار کر رہی تھی ۔ دلاویز واپس آئی اور عروشہ کو عبایا دیا ۔
“عبایا پہنو گی تو میں تمہارے ساتھ جاؤں گی ورنہ میں اکیلے جاؤں گی” دلاویز نے کہا تو عروشہ نے اسے غصہ سے دیکھا ۔ کچھ ہی دیر میں دونوں پولیس اسٹیشن چلی گئیں ۔ پولیس اسٹیشن میں انہیں بتایا گیا کہ بسیمہ کو اغوا کرنے والے نامعلوم افراد کے خلاف پہلے ہی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور پولیس اپنا کام کر رہی ہے ۔
“آپ اپنا فون نمبر لکھوا دیں تاکہ ضرورت پڑنے پر ہم آپ سے رابطہ کر سکیں” پولیس اہلکار ناصر نے کہا تو دلاویز نے اپنا سیل نمبر لکھوا دیا ۔
“اوئے تجھے فون نمبر لینے کی کیا ضرورت تھی ؟ ایم پی اے شیرشاہ کے بیٹے شاہذل شاہ نے لڑکی کو اغواء کیا ہے ، ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں اور ہم چاہتے ہوئے بھی کوئی کاروائی نہیں کرسکتے “عروشہ اور دلاویز کے جانے کے بعد پولیس انسپیکٹر نے ناصر کو ڈانٹتے ہوئے کہا
.
.
جاری ہے.
