Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hakoomat by Waheed Sultan Episode06

Hakoomat by Waheed Sultan Episode06

بسیمہ نے دیکھا کہ کافی دنوں کے بعد دلاویز سیل فون استمعال کر رہی تھی تو بسیمہ کچھ فائلیں لے کر دلاویز کے پاس آئی ۔
“کل ناگی بابا کے وکیل آئے تھے اور ناگی بابا کی وصیت کے مطابق جو پراپرٹی آپ کے نام کی گئی ہے یہ اس پراپرٹی کی دستاویزات ہیں اور یہ ایک لیٹر بھی آپ کے نام ہے ایکس اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی طرف سے” بسیمہ نے خط اور دستاویزات دلاویز کو دیکھاتے ہوئے کہا
“یہ دستاویزات میرے بیڈ کی دراز میں رکھ دو اور یہ خط مجھے دے دو” دلاویز نے کہا تو بسیمہ نے خط دلاویز کو دے دیا ۔ خط میں فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری عشان کی طرف سے دلاویز کو ایک اہم میٹنگ میں مدعو کیا گیا تھا ۔ دلاویز نے کلاک پر ٹائم دیکھا تو میٹنگ شروع ہونے میں دو گھنٹے باقی تھے ۔ دلاویز فوری طور پر اٹھی اور تھوڑی سی تیاری کے بعد عبایا پہن کر خط پر دئیے گئے ایڈریس کے مطابق میٹنگ میں شمولیت کے لیے روانہ ہو گئی ۔ نوری بیگ کار نہایت محتاط انداز میں چلا رہا تھا جبکہ دلاویز کار کی عقبی سیٹ پر براجمان تھی ۔ دس سے بارہ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد کار ایک زیر تعمیر عمارت کے سامنے روکی ۔ دیکھنے میں یہ زیر تعمیر عمارت کسی کالج کا نقشہ پیش کر رہی تھی ۔ عمارت کے زیر تعمیر ہال میں فیڈریشن کے بیس سے پچیس لڑکے موجود تھے ۔ ہال کے درمیان میں ایک بڑی سی میز کو کپڑے سے ڈھانپا گیا تھا ۔ دلاویز ہال میں آئی تو پورا ہال لڑکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا ۔
“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو سیسٹر ، ہیپی برتھ ڈے پیاری بہنا” سب لڑکے یک زبان ہو کر بول رہے تھے ۔ عشان نے میز سے کپڑے کا پردہ ہٹایا تو میز پر بڑے سے دو کیک پڑے ہوئے تھے اور ان کیکوں پر Happy Birthday to Dilawez لکھا ہوا تھا ۔
“دلاویز بہن ! بسم اللہ پڑھیں اور اپنی سالگرہ کا کیک کاٹیں” عشان نے مسکراتے ہوئے کہا
“آپ لوگوں کو کس نے بتایا کہ آج میری سالگرہ کا دن ہے؟” دلاویز نے کیک کاٹتے ہوئے عشان سے پوچھا
“آپ نے جب ہماری فیڈریشن کا ممبرشپ فارم پر کیا تھا تو وہاں پر آپ نے اپنی تاریخ پیدائش بھی لکھی تھی” عشان نے کیک کا ٹکڑا اٹھاتے ہوئے کہا
جب سب کیک کھا چکے تھے تو دلاویز نے سب کا شکریہ ادا کیا اور پھر عشان نے میٹنگ Meeting کا آغاز کیا ۔ عشان نے فیڈریشن ممبرز کو بتایا کہ فیڈریشن کے صدر حمود خان نے دلاویز بہن کو ایکس اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی ایڈیشنل سیکرٹری منتخب کیا ہے ۔ دلاویز بہن کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ فیڈریشن کے نئے اراکین میں یہ شعور اجاگر کریں کہ غنڈہ گردی کلاشنکوف کلچر ہماری تنظیم کا ایجنڈا نہیں ہے بلکہ قلم کتاب کلچر اور بے لوث خدمت ہمارا ایجنڈا ہے ۔
“عمر ، ضیغم اور بہرام خان دلاویز بہن کی ٹیم کا حصہ ہوں گے” عشان نے کہا اور مائیک آف کر دیا
“اس فائل میں تمام تفصیل لکھی گئی ہے کہ آپ نے کیسے کام کرنا ہے اور اپنی ٹیم سے معاونت کیسے حاصل کرنی ہے” عشان نے دلاویز کو ایک فائل دیتے ہوئے کہا اور اس کے ساتھ ہی میٹنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ۔ میٹنگ کے اختتام پر عمر ، ضیغم اور بہرام خان نے دلاویز کو اپنا اپنا تعارف کروایا ۔ ان تینوں لڑکوں کے جانے کے بعد دلاویز بھی عشان کو خدا حافظ بول کر جانے لگی تو عشان نے اسے رکنے کا کہہ دیا ۔
“دلاویز بہن! آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی لیکن ہمت نہیں ہو رہی کیسے کروں بات” عشان نے دلاویز سے کہا تو دلاویز نے عشان کی طرف دیکھا تو عشان نے شرمساری سے سر جھکا کر رکھا تھا ۔
“آپ بلا جھجھک بات کرو کچھ نہیں ہوتا” دلاویز نے مسکراتے ہوئے کہا
“آپ کی دوست عروشہ میری ماموں زاد کزن ہے اور میں اسے پسند کرتا ہوں ، دلاویز بہن! اگر آپ مناسب سمجھیں تو عروشہ سے میری دوستی کروادیں” عشان نے کہا تو دلاویز نے عشان کو سنجیدگی سے دیکھا اور وہاں سے چلی گئی ۔
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
صبح کے گیارہ بج رہے تھے ۔ میکال ایم اے نیشنل کالج میں لاء ڈیپارٹمنٹ کے سامنے کنٹین میں بیٹھا دلاویز کا انتظار کر رہا تھا ۔ اس کی نگاہیں لاء ڈیپارٹمنٹ کی طرف ٹکی تھیں ۔ کلاس کے اختتام پر دلاویز عروشہ کے ساتھ کنٹین کی طرف آ رہی تھی اور جب دلاویز نے میکال کو کنٹین ایریا میں دیکھا تو وہ کنٹین میں آنے کے بجائے عروشہ کے ہمراہ گیٹ کی طرف مڑ گئی ۔ دلاویز کالج گیٹ سے باہر نکلی تو میکال اس کے سامنے کھڑا ہو گیا
“لوگوں کو تماشہ مت دکھاؤ اور شرافت سے میرا راستہ چھوڑ دو” دلاویز نے سپاٹ لہجے میں میکال سے کہا
“مجھے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کا ایک موقع تو دو ، معاف کرن یا نہ کرنا وہ تو تمہارے اختیار میں ہے” میکال نے دلاویز کو منت سماجت کے انداز میں کہا
” عروشہ! تم ہاسٹل جاؤ ، میں اس سے نمٹ کے آتی ہوں” دلاویز نے میکال کی طرف دیکھتے ہوئے عروشہ سے کہا تو عروشہ چلی گئی اور دلاویز میکال کے ساتھ کنٹین کی طرف چلی گئی ۔ کنٹین ایریا میں دلاویز اور میکال ایک ہی ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھ گئے ۔
“میں نے تمہیں تھپڑ مارا یعنی تم ہاتھ اٹھا کر میں نے سنگین غلطی کی ، میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنی غلطی کی تم سے معافی مانگتا ہوں ، دلاویز پلیز مجھے معاف کر دو” میکال نے دلاویز کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا
“اب میں تمہیں ایک حقیقت بتاتی ہوں ، تمہاری ایکٹرس اور ماڈل ماما کو جب ناگی بابا نے طلاق دی تھی تم نے پندرہ سال کی عمر میں عدالت میں یہ بیان دیا کہ تم اپنی ماما کے ساتھ رہنا چاہتے ہو اور پھر ناگی بابا تین ماہ تک تم سے ملنے کی کوشش کرتے رہے لیکن تم ہر بار اپنی ماما کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ناگی بابا سے ملنے سے انکار کر دیتے ، ناگی بابا نے بہت سوچ بچار کے بعد تمہیں عاق نامے کی صورت میں سزا دی ۔ پھر جب تمہیں لگا کہ ناگی بابا کی دولت اور پراپرٹی کی اکلوتی وارث ان کی منہ بولی بیٹی یعنی میں ہوں تو تم نے ایک پلان بنایا کہ تم مجھے اپنی محبت کا اسیر بنا کر مجھ سے شادی کرو گے اور پھر مجھے قتل کرنے کے بعد بطور شوہر اس پراپرٹی اور دولت کے مالک بن جاؤ گے جو دولت اور پراپرٹی ناگی بابا نے ایک قانونی وصیت کے ذریعے مجھے سونپی ہے” دلاویز رطب اللسان ہو کر بولتی چلی گئی جبکہ میکال کے چہرے کا رنگ زرد ہو چکا تھا اور وہ متحیر نگاہوں سے دلاویز کا نقاب شدہ چہرہ دیکھ رہا تھا
“تم میری بات کا یقین کرو یا نہ کرو یہ تمہاری مرضی ہے لیکن میں تم سے بے پناہ محبت کرتا ہوں” میکال نے سرد لہجے میں کہا اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
“اور میں تم سے شدت کی حد تک نفرت کرتی ہوں” دلاویز نے میکال کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا تو میکال نے گہری سانس لی اور چلا گیا ۔ دلاویز نے سیل فون پر ایک نمبر ڈائل کیا اور فون پر بات کرتے ہوئے کالج سے نکل کر عروشہ کے ہاسٹل کی طرف چلی گئی ۔فون پر بات کرنے کے بعد کچھ باتیں عروشہ سے کیں اور پھر عروشہ کے ہمراہ نیسٹو آئس کریم کارنر گئی ۔ نیسٹو آئس کریم کارنر پر عشان نے دلاویز اور عروشہ کو خوش آمدید کہا اور پھر عشان نے ویٹر کو آئس کریم کا آرڈر نوٹ کروایا ۔ نیسٹو آئس کریم کارنر میں فیملیز کے لیے کیبن بنائے گئے تھے ۔ وہ تینوں کیبن نمبر سات میں بیٹھ گئے ۔
“میں ایک ضروری کال کر کے آتی ہوں” دلاویز پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ عروشہ سے کہا اور عشان کی طرف دیکھا اور پھر کیبن سے باہر چلی گئی
“دلاویز بہن نے آپ کو میرا نام تو بتایا ہی ہو گا” عشان نے دلاویز کے کیبن سے جاتے ہی عروشہ سے سوال پوچھا
“ہاں تمہارے نام کے علاوہ بھی تمہارے بارے میں دلاویز نے بہت کچھ بتایا ہے” عروشہ نے لاپرواہی سے کہا
“ویسے میرا نام بہت یونیک ہے” عشان نے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھتے ہوئے کہا
“اتنا بھی یونیک نہیں جتنا آپ سمجھ رہے ہیں” عروشہ نے پھر لاپرواہی کا مظاہرہ کیا
“کیا آپ نے پہلے کبھی یہ نام سنا ہے؟” عشان نے پوچھا
“ہاں تو ۔ ۔ ۔ ۔ میری پھوپھو کے بیٹے کا نام ہے عشان” عروشہ نے عشان کو بتایا تو ویٹر آئس کریم کے بڑے تین کپ ٹیبل پر رکھ کر چلا گیا ۔ عروشہ نے سیل فون پر دلاویز کا نمبر ڈائل کیا تو دلاویز کا موبائل نمبر آف تھا ۔
” میں دلاویز کو لے کر آتی ہوں پھر آئس کریم کھائیں گے” عروشہ نے کہا
” میں بھی نہیں کھا رہا ، میں آپ دونوں کا انتظار کروں گا” عشان نے کہا تو عروشہ کیبن سے باہر چلی گئی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دلاویز نیسٹو آئس کریم کے دوسرے فلور پر بلزا نامی ہال میں کھڑی ہو کر شیشے کی بڑی دیوار میں سے سمندر کا نظارہ کر رہی تھی کہ عبایا میں ملبوس ایک عورت دلاویز کے پیچھے کھڑی ہو گئی ۔
“چپ چاپ خاموشی سے میرے ساتھ چلو ورنہ چھ کی چھ گولیاں تمہارے آر پار کر دوں گی” اس عورت نے دلاویز کی کمر پر پستول کی نال رکھتے ہوئے سرگوشی کی
“خبر دار بھاگنے کی کوشش مت کرنا ، اس پورے ہال میں میرے آدمی موجود ہیں” اس عورت نے سرگوشی کے انداز میں کہا اور دلاویز کی کمر پر پستول کی نال کا دباؤ بڑھا دیا تو دلاویز اپنے ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے چپ چاپ سیڑھیوں کی طرف چل پڑی ۔سیڑھیوں کے زینے اترتے ہوئے دلاویز نے اچانک پیچھے کو مڑی اور اس عورت کو دھکا دے کر بھاگ گئی ۔ نیسٹو آئس کریم کارنر کی عمارت سے باہر آنے کے بعد دلاویز اپنی کار کی طرف بھاگی اور کار کے دروازے کے لاک میں چاپی ڈالی تو اسے محسوس ہوا کہ پیچھے سے کوئی اس کی طرف آ رہا ہے تو وہ مڑی اور اپنے پیچھے کھڑی عورت کے پیٹ میں لات ماری تو وہ عورت قریب ساکن ایک چیپ سے ٹکڑائی ۔ دلاویز نے چابی گھمائی تو کار کا دروازہ کھل گیا ۔ دلاویز نے کار اسٹارٹ کرنے کے بعد کار کو بیک Back کیا اور پھر کار کو روڈ پر چڑھا دیا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دس منٹوں کے بعد عروشہ دوبارہ کیبن میں آئی ۔ عشان نے دیکھا کہ عروشہ کا سانس پھولا ہوا تھا ۔
“کیا ہوا ؟ دلاویز بہن کہاں ہے؟” عشان نے سنجیدہ انداز میں پوچھا
“وہ نیسٹو آئس کریم کارنر میں نہیں ہے اور باہر پارکنگ میں اس کی کار بھی نہیں ہے” عروشہ نے عشان کو بتایا
“لگتا ہے دلاویز بہن کو کوئی ضروری کام ہو گا اس لیے وہ چلی گئی ہوں گی” عشان نے سیل فون کی سکرین کو دیکھتے ہوئے کہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“او کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر میں بھی جا رہی ہوں” عروشہ نے کہا
“یہ آئس کریم تو کھاتی جاؤ نا” عشان نے عروشہ سے کہا تو وہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئی اور لکڑی کے چمچ سے آئس کریم کھانا شروع کی ۔
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
ٹومی ڈانسنگ کلب میں قالین پر بیٹھا تھا ۔ وہ شراب کے نشے میں چور تھا کہ رستم وہاں ٹومی کے پاس آیا ۔
“یار ٹومی! میں بہت پریشان ہوں ، میں نے حفاظت کے نام پر سیٹھ بستانی کو اپنی نگرانی میں رکھا تھا لیکن آج صبح جب میں وہاں گیا تو جن گارڈز کو میں نے سیٹھ بستانی کی نگرانی سونپی تھی ان گارڈز کی وہاں لاشیں پڑیں تھی لیکن سیٹھ بستانی وہاں سے فرار ہو چکا تھا” رستم نے ٹومی کے چہرے پر پانی کا گلاس انڈیلتے ہوئے کہا
“واہ واہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم نے کیا بڑھیا خبر سنائی ہے” ٹومی نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر شراب کی بوتل کھولی ۔
“ٹومی یار! میں بہت پریشان ہوں اور تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو” رستم نے لاچارگی سے کہا
“یہ لو شراب پیو اور سب پریشانی بھول جاؤ” ٹومی نے رستم کو شراب کی بوتل دیتے ہوئے کہا
“تم ماضی میں سیٹھ بستانی کے ساتھ کام کر چکے ہو اور میرا خیال ہے کہ تم اس کے کافی سارے خفیہ ٹھکانے جانتے ہو ، مہربانی کرو اور مجھے بتاؤ کہ سیٹھ بستانی کہاں جا سکتا ہے” رستم نے شراب کی بوتل پکڑتے ہوئے مضطرب انداز میں پوچھا اور پھر دلاویز کا نمبر ڈائل کیا تو دلاویز کا نمبر آف جا رہا تھا ۔
“دلاویز کا نمبر بند ہے ، یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے” دلاویز کے خیال نے رستم کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ۔
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
فش فارم کے عقب میں لوہے کی جادروں سے ایک چھوٹا سا کمرہ جس میں سیٹھ بستانی سگریٹ کے کش لگا رہا تھا اور ایڈووکیٹ میشا چوہدری شرمندگی سے سر جھکائے اس کے سامنے کھڑی تھی ۔
“سیٹھ صاحب! دلاویز کوئی معمولی لڑکی نہیں بلکہ وہ بہت بہادر لڑکی ہے ، میں نے اسے اغواء کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے ہمت کا مظاہرہ کیا اور بھاگنے میں کامیاب ہو گئی ۔
“اچھا ٹھیک ہے جو ہوا سو ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب کسی انسانی اسمگلر سے رابطہ کرو اور دلاویز کو اغواء کروا کر یہاں لے آؤ” سیٹھ بستانی نے مشا چوہدری سے کہا
⚫⚫⚪⚪⚫⚫⚫
🔴🔴🔵🔵🔵🔴🔴
بسیمہ کی ماں دلاویز کے گھر بسیمہ سے ملنے آئی تو بسیمہ نے اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کر دوپہر کا کھانا کھایا ۔ کھانا کھانے کے دوران بسیمہ کی ماں نے اسے اپنے گھر واپس جانے کے لیے کہا
“امی جان ! آپ مجھے اس گھر میں واپس جانے کے لیے کہہ رہی ہیں جس گھر میں رہنے والے میرے ایک بھائی نے مجھے اغواء کروایا اور دوسرے بھائی نے مجھے جیل بھجوایا ، نہیں نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اب میں کبھی اس گھر میں واپس نہیں جاؤں گی اور پھر میری دوست دلاویز نے مجھے اپنے گھر میں اوس گھر کی نسبت کہیں زیادہ پرآسائش اور پر سکون زندگی مہیا کی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں دلاویز کو چھوڑ کر نہیں جا سکتی” بسیمہ نے اپنی ماں سے کہا تو کھانا کھانے کے بعد بسیمہ کی ماں نے اسے گلے لگایا اور پھر چلی گئی ۔ماں کے جانے کے بعد بسیمہ لاؤنج میں کھڑی تھی کہ دلاویز آئی اور بسیمہ سے بات کیے بنا ، بسیمہ کی طرف دیکھے بغیر ہی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی ۔ بسیمہ نے دیکھا کہ دلاویز کی حالت بہت عجیب سی ہے اور وہ گہرے صدمے سے دوچار ہے تو بسیمہ بھی دلاویز کے کمرے کی طرف چلی گئی ۔
“دلاویز ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ہوا ہے؟ تم اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟” بسیمہ نے پوچھا
“کسی نے مجھے اغواء کرنے کی کوشش کی ہے” دلاویز نے اسے بتایا اور پھر پانی کا گلاس طلب کیا ۔ بسیمہ نے دلاویز کو گلاس میں پانی دیا اور وہ ایک ہی بار میں سارا پانی پی گئی اور پھر پرس سے اپنا سیل فون نکال کر آن کیا ۔ فون آن ہوتے ہی ایک نامعلوم نمبر سے کال آ گئی ۔ دلاویز نے کال رسیو کی ۔
“ہیلو ! میں رستم بول رہا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دلاویز تم ٹھیک ہو؟” رستم نے فون پر بات کرتے ہوئے دلاویز سے پوچھا تو دلاویز رستم کی بات کا جواب دینے ہی لگی تھی کہ ایک یخ ٹھنڈی ربڑ نما چیز دلاویز کی پیشانی سے ٹکرا کر چمٹ گئی اور دلاویز کے منہ سے آہ کی آواز نکلی تو فون اس کے ہاتھ سے گر گیا اور وہ بے ہوش ہو گئی ۔ دو منٹ کے بعد دو نقاب پوش کمرے میں داخل ہوئے ۔ بسیمہ فرش پر بے ہوش پڑی تھی جبکہ دلاویز بیڈ پر بےہوش تھی ۔ نقاب پوشوں نے دلاویز اور بسیمہ کو کلائیوں پر اٹھایا اور باہر گیٹ کے ساتھ کھڑی گاڑی میں لے گئے ۔ ایک گھنٹے کے بعد رستم دلاویز کے فون کی لوکیشن سرچ کرتے ہوئے اس کے گھر پہنچا ۔ گھر کا گیٹ بظاہر بند نظر آ رہا تھا لیکن گیٹ کے قریب آنے پر رستم کو معلوم ہوا کہ گیٹ کھلا ہوا ہے ۔ گھر میں داخل ہونے پر رستم نے دیکھا کہ لاؤنج کا دروازہ کھلا ہوا تھا ۔ باقی تین کمروں کے دروازے بند تھے لیکن ایک کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔ رستم اسی کمرے میں داخل ہوا ۔ فرش پر دلاویز کا گرا ہوا فون اور فرش پر ٹوٹا ہوا گلاس رستم کو صورت حال سے آگاہ کر رہا تھا ۔ رستم سمجھ چکا تھا کہ سیٹھ بستانی نے دلاویز کو اغواء کروا لیا ہے ۔ وہ جلدی سے دلاویز کے گھر سے نکلا اور نہایت ہی تیز رفتاری سے کار چلاتے ہوئے ایڈووکیٹ میشا چوہدری کے آفس پہنچا لیکن میشا چوہدری کا آفس بند تھا ۔ رستم نے غصے سے بے قابو ہو کر اپنی پیشانی پر مکا مارا اور دوبارہ کار میں سوار ہو گیا ۔ اب کی بار وہ میشا چوہدری کے گھر گیا لیکن گھر کا گیٹ لاک تھا ۔ وہ ارد گرد کے گھروں کے دروازوں پر دستک دے دے کر لوگوں سے میشا کے بارے میں پوچھنے لگا لیکن اسے کوئی نہ بتا سکا کہ میشا چوہدری اپنی فیملی کو لے کر کہاں چلی گئی ہے ۔ اب اسے دلاویز کی فکر ستانے لگی اور وہ ایک ہیکر کے پاس گیا ۔ رستم نے ہیکر کو سیٹھ بستانی اور میشا چوہدری کے نمبر لکھوائے اور اسے کہا کہ آف ہونے سے پہلے ان نمبروں کی لوکیشن سرچ کرے ۔ ہیکر نے لوکیشن سرچ کر کے سکرین شارٹ رستم کو فون پر سینڈ کر دئیے اور رستم سے معاوضے کے طور پر ساٹھ ہزار روپے وصول کیے ۔ اب رستم اپنے کارندوں کے ساتھ کار پر واریا ٹاؤن کی طرف جا رہا تھا ۔ اس کی کار ایک آفس کے سامنے رکی ۔ رستم کے کارندوں نے آفس کے سیکیورٹی گارڈ اور باقی تین لوگوں کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنا لیا جبکہ رستم نے شیشے کے کیبن میں بیٹھی لڑکی کی پیشانی پر پستول کی نال رکھی اور اس لڑکی کے سامنے کاغذ کے ٹکڑے پر لکھا ہوا نمبر رکھا ۔
“مجھے چیک کر کے بتاؤ کہ جس فون میں اس نمبر کی سم چل رہی تھی اس فون کا آئی ایم ای آئی کوڈ کیا ہے؟” رستم نے درشت لہجے میں کہا تو اس لڑکی نے کمپیوٹر کی بورڈ کو اپنے قریب کیا اور کی بورڈ کی کنجیوں پر اس کی انگلیاں تیزی سے حرکت کرنے لگیں ۔چند سیکنڈز کے بعد اس لڑکی نے ایک پیپر پر ایک آئی ایم ای آئی کوڈ لکھ دیا
“اب چیک کرو کہ اس آئی ایم ای آئی کوڈ والے فون پر کون سی نئی سم آن ہے اور اس سم کا نمبر اور لوکیشن تلاش کرو” رستم نے لڑکی سے کہا
“سر! یہ ممکن نہیں ہے” لڑکی نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا
“تم سافٹ وئیر اور ٹیکنالوجی کی انجینئر ہو تمہارے لیے تو یہ کام بہت آسان ہے اور اگر تم میری مدد کرو گی تو میں تمہاری طرح کی ایک معصوم لڑکی کو موت کے منہ سے بچانے میں کامیاب ہو جاؤں گا” رستم نے پستول کی نال کو اس لڑکی کے چہرے پر پھیرتے ہوئے کہا تو اس لڑکی نے کمپیوٹر سکرین پر نظریں جما لیں اور اس کی انگلیاں کی بورڈ کی کنجیوں پر حرکت کرنے لگ گئیں ۔ بیس منٹوں کی سخت محنت کے بعد اس لڑکی نے ساری تفصیل پیپر پر لکھی اور جو کچھ لکھا تھا اس کے بارے میں رستم کو سمجھایا اور پھر پیپر رستم کو دے دیا ۔ رستم کے جانے کے بعد لڑکی نے گہری سانس لی اور ٹشو پیپر سے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *