Hakoomat by Waheed Sultan NovelR50741 Hakoomat by Waheed Sultan Episode03
No Download Link
267K
19
Rate this Novel
Hakoomat by Waheed Sultan Episode01 Hakoomat by Waheed Sultan Episode02 Hakoomat by Waheed Sultan Episode03 (Watching)Hakoomat by Waheed Sultan Episode04 Hakoomat by Waheed Sultan Episode05 Hakoomat by Waheed Sultan Episode06 Hakoomat by Waheed Sultan Episode07 Hakoomat by Waheed Sultan Episode08 Hakoomat by Waheed Sultan Episode09 Hakoomat by Waheed Sultan Episode10 Hakoomat by Waheed Sultan Episode11 Hakoomat by Waheed Sultan Episode12 Hakoomat by Waheed Sultan Episode13 Hakoomat by Waheed Sultan Episode14 Hakoomat by Waheed Sultan Episode15 Hakoomat by Waheed Sultan Episode16 Hakoomat by Waheed Sultan Episode17 Hakoomat by Waheed Sultan Episode18 Hakoomat by Waheed Sultan Last Episode
Hakoomat by Waheed Sultan Episode03
Hakoomat by Waheed Sultan Episode03
“اماں جی! اب تو آپ مسلمان ہو گئیں ہیں تو آپ نے اپنا کیا نام تجویز کیا ہے؟” میکال نے سیلی بیبی سے پوچھا
“عفیفہ” سیلی بیبی نے مختصر جواب دیا
“بہت ہی خوبصورت نام ہے آپ کا” میکال نے عفیفہ(سیلی بیبی) کہا اور پھر عفیفہ(سیلی بیبی) سے اجازت لے کر چلا گیا ۔
“میں سب سے پہلے اس تھانے میں گیا تھا جہاں بسیمہ نامی لڑکی کے اغواء ہونے کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی تھی ۔ اسی تھانے سے میں نے بسیمہ کے گھر کا پتہ حاصل کیا اور پھر کسی این جی او کا نمائندہ بن کر بسیمہ کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ بسیمہ کو اس کی دوست دلاویز اسے اپنے ساتھ لے گئی ہے ، اب میں اوس کی دوست دلاویز سے بسیمہ کا فیسبک پر منہ بولا بھائی بن کر ملا اور دلاویز کو یقین دلانے میں کامیاب ہو گیا کہ بسیمہ سے اوس کے ساتھ پیش آنے والے حادثے پر اظہار افسوس کرنا ہے تو وہ مجھے اوس ہوٹل میں لے گئی جہاں وہ اپنے منگیتر کے ساتھ دو دن سے رہ رہی تھی ، اب جب میں ہوٹل کے ریسپشن لاؤنج سے گزر رہا تھا تو پولیس بسیمہ کو گرفتار کر کے لے جا رہی تھی” رستم نے ساری تفصیل سیٹھ بستانی کو بتا دی ۔
“اب تو سیٹھ بستانی کو بسیمہ سے لازمی عشق ہو گا اور مصیبتوں میں پھنسی بسیمہ بھی مجبور ہو کر سیٹھ بستانی سے محبت کرے گی وہ بھی سیٹھ بستانی کو آئی لو یو بولے گی” سیٹھ بستانی نے رستم کو دیکھتے ہوئے سوچا اور پھر بے اختیار ہو کر مسکرا پڑا
“معلوم کرو کہ بسیمہ کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے اور پھر ہم بسیمہ سے ملاقات کرنے جائیں گے” سیٹھ بستانی نے رستم سے کہا تو رستم نے اثبات میں سر ہلا دیا
” ایک بات اور بھی بتانی تھی آپ کو” رستم نے کہا تو سیٹھ بستانی نے آنکھیں سکیڑ کر اپنے مخصوص انداز میں رستم کو دیکھا
“میرا خیال ہے کہ جن لڑکیوں نے شاہذل کے فارم ہاؤس پر حملہ کر کے بسیمہ کو شاہذل کے چنگل سے آزاد کروایا تھا ان لڑکیوں میں دلاویز بھی شامل ہے اور اسی وجہ سے میں نے شاہذل کے ایک کارندے کے کان میں یہ بات ڈال دی ہے کہ فارم ہاؤس پر حملہ کرنے والوں کی سربراہ دلاویز ہے ، دلاویز کی حفاظت کے لیے میں نے اپنے بھروسے کا آدمی بھیج دیا ہے اور وہ آدمی شاہذل کی خوب خبر لے گا” رستم نے سیٹھ بستانی کو بتایا
دلاویز لیکچر کے اختتام پر کلاس روم سے سیدھی کنٹین کی طرف گئی ۔ میکال کنٹین میں پہلے سے موجود تھا ۔ آج وہ بہت ہی عجیب حلیے میں تھا ۔ اس نے لڑکیوں جیسا سفید چوری پاجامہ اور پاؤں میں زنانہ کھسہ پہن رکھا تھا ۔ سرخ رنگ کا مردانہ کرتہ اور سر پر سفید پگڑی پہن رکھی تھی ۔ میکال کے چہرے پر جعلی سفید داڑھی اور بڑی بڑی جعلی سیاہ مونچھیں ۔ داڑھی اور مونچھیں دیکھنے میں بالکل اصلی دکھ رہی تھی ۔ اس حلیے میں دلاویز میکال کو بالکل بھی نہ پہچان سکی ۔ اس حلیے میں دلاویز میکال کو پر اسرار شخصیت تصور کر رہی تھی اور ایک نظر دیکھ کر وہ مسکرا پڑی اور وہ دوبارہ اسے دیکھنا نہیں چاہتی تھی لیکن میکال کے عجیب سے حلیے نے دلاویز کو دوبارہ نظریں اٹھا کر اسے دیکھنے پر مجبور کر دیا اور وہ اسے ٹک ٹکی باندھ کر دیکھتی چلی گئی ۔ عروشہ کے آنے پر اس نے اپنی نگاہیں دوسری طرف پھیر لیں اور عجیب سے حلیے والے کو پراسرار شخصیت سمجھتے ہوئے اس کی طرف پشت کر کے کرسی پر بیٹھ گئی اور عروشہ کی طرف متوجہ ہوئی تھی کہ ایک تہہ شدہ پیپر دلاویز کی گود میں گرا تو دلاویز نے اپنے دائیں بائیں دیکھا اور پھر اس نے گردن موڑ کر پیچھے کی جانب دیکھا تو وہ عجیب سے حلیے والا شخص بھاگتے ہوئے جا رہا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کنٹین سے باہر جا چکا تھا ۔ دلاویز نے پیپر کو کھولا تو پیپر پر عبارت کچھ یوں تھی
“اتوار کے روز تمہاری مرحومہ والدہ کی کلوز فرینڈ عفیفہ(سیلی بیبی) تمہاری والدہ کی قبر پر آئے گی اور میں نے سوچا تم اپنی مرحومہ والدہ کی کلوز فرینڈ عفیفہ(سیلی بیبی) سے ملنا پسند کرو گی اس لیے میں نے تمہیں اس بات کی خبر دینا مناسب سمجھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آئی ایم میکال” عبارت پڑھنے کے بعد دلاویز کی حیرت میں مزید اضافہ ہو گیا ۔
“میکال کا بچہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اڈیٹ فولش بوائے” دلاویز نے بڑبڑاتے ہوئے کہا
کالج سے واپسی پر دلاویز بسیمہ سے ملنے ہوٹل چلی گئی ۔ یہ کمرہ نمبر ایک سو چار تھا جہاں پر وہ بسیمہ کو اس کے منگیتر باسم کے پاس چھوڑ کر گئی تھی ۔ دلاویز نے کمرے کا متلاشی نگاہوں سے جائزہ لیا ۔
“اگر آپ بسیمہ کو تلاش کر رہی ہیں تو اسے پولیس گرفتار کر کے لے گئی ہے” باسم نے دلاویز سے کہا تو وہ پھٹی پھٹی نظروں سے باسم کو دیکھتے ہوئے کمرے سے چلی گئی ۔ پولیس اسٹیشن پہنچنے پر دلاویز کو معلوم ہے کہ بسیمہ کو ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیا گیا ہے ۔ اب دلاویز بسیمہ سے ملاقات کرنے کے لیے دسٹرکٹ جیل جانے کے لیے روانہ ہو گئی ۔ دو گھنٹے کے طویل ترین انتظار کے بعد اسے بسیمہ سے ملاقات کی اجازت دے دی گئی ۔ دلاویز بسیمہ سے ملاقات کے لیے جا رہی تھی کہ راہداری کے موڑ پر ایک پولیس اہلکار نے اسے روک لیا
“بی بی! آپ نقاب کے ساتھ اندر نہیں جا سکتی ، آپ کو نقاب اتارنا ہو گا” پولیس اہلکار نے دلاویز سے کہا تو اس نے نقاب اتارا اور خیال ہی خیال میں پولیس اہلکار پر لعنت بھیجتی ہوئی گزر گئی ۔
“بسیمہ! تم اپنے بھائی کی قاتل نہیں ہو سکتی نا ؟” دلاویز نے بسیمہ سے پوچھا
“خومیر بھائی کو میں نے قتل نہیں کیا ، خومیر بھائی نے خودکشی کی ہے” بسیمہ نے دلاویز کو بتایا
“لیکن کیوں؟” دلاویز نے بسیمہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
“خومیر بھائی نے شاہذل سے ادھار اسلحہ خریدا تھا لیکن وہ اسلحہ بکنے سے پہلے ہی چوری ہو گیا تھا ، شاہذل کو دینے کے لیے بھائی کے پاس پیسے نہیں تھے اور بھائی دھوکے سے مجھے شاہذل کے فارم ہاؤس لے گیا اور اسلحے کی قیمت کے طور پر مجھے شاہذل کی چوکھٹ پر پھینک دیا اور خود تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف میرے اغواء ہونے کی ایف آئی آر درج کروا دی ، بھائی کا خیال تھا کہ اب میں کبھی گھر واپس نہیں آؤں گی لیکن خلاف توقع مجھے اپنے کمرے میں دیکھ کر وہ میری سوالیہ نظروں کا سامنا نہ کر سکے اور انہوں نے خودکشی کر لی” بسیمہ نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا
“باسم نے بھی میرے ساتھ دھوکا کیا ، جب میں نے یہ ساری بات باسم کو بتائی تو اس نے روم کا دروازہ لاک کیا اور پولیس کو فون کر دیا اور پولیس کے آنے پر باسم نے خود مجھے پولیس کے حوالے کیا” بسیمہ نے دلاویز کو بتایا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
“تم فکر مت کرو ، تم بہت جلد رہا ہو جاؤ گی ، میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گی” دلاویز نے بسیمہ کو تسلی دی اور روہانسی سی ہو کر وزٹنگ ونڈو سے واپس پلٹ آئی ۔ جب وہ راہداری کے اسی موڑ سے گزر رہی تھی جہاں پولیس اہلکار نے اسے نقاب ہٹانے کو کہا تھا تو راہداری سے گزرتی دلاویز کے چہرے پر سیٹھ بستانی کی نظریں پڑیں ۔ سیٹھ بستانی جو کہ بسیمہ سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا اس کے قدم روک گئے اور نگاہیں دلاویز کے چہرے پر جم گئیں ۔ دلاویز نظریں جھکائے سیٹھ بستانی کے پاس سے گزر گئی ۔
” آقا حضور! یہ بسیمہ کی دوست دلاویز تھی” رستم نے سیٹھ بستانی سے کہا جبکہ سیٹھ بستانی دلاویز کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا
“چلو واپس چلتے ہیں” سیٹھ بستانی نے رستم سے کہا
“لیکن ہم تو بسیمہ سے ملاقات کے لیے آئے تھے؟” رستم نے سیٹھ بستانی کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
“نہیں ۔ ۔ ۔ ہم دلاویز سے ملاقات کرنا پسند کریں گے” سیٹھ بستانی نے کہا اور اس کے تصورات میں بڑی بڑی آنکھوں والا دلاویز کا روشن چہرہ ایک محور کی طرح گھوم رہا تھا ۔
“کل کسی صورت میں بسیمہ کی ضمانت منظور نہیں ہونی چاہیے” سیٹھ بستانی نے بلیک شیشوں والی کار کی عقبی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے رستم سے کہا
یہ یکم اپریل کا دن تھا صبح کے چار بج رہے تھے ۔ آج بسیمہ کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا اور اسی وجہ سے دلاویز بہت پریشان تھی اور وہ پوری رات سو نہ سکی ۔ وہ ہاتھ میں سیل فون پکڑے دلان میں بیٹھی تھی ۔ دلاویز کو سیل فون کی تھرتھراہٹ کی آواز سنائی دی تو وہ اپنے سیل فون کی طرف متوجہ ہوئی ۔ سیل فون پر کسی نامعلوم نمبر سے یہ میسیج آیا تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فجر کے وقت کچھ لوگ تکیے پہ سر رکھ کے سوتے ہیں اور …..
سونےوالے…….
خوبصورت خواب دیکھتے ہیں
اور ……
Reward: میکال
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میسیج کے آخر میں میکال کا نام دیکھتے ہی دلاویز کے چہرے پر غصے کے اثرات نمودار ہو گئے اور وہ کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ جس نمبر سے میسیج آیا تھا اسی نمبر پر دلاویز نے کال کی لیکن رابطہ ہوتے ہی دوسری طرف سے کال منقطع ہو گئی ۔ دلاویز نے دوبارہ کال کی تو اسے یہ وائس میسیج سنائی دیا کہ آپ کا مطلوبہ نمبر کسی کے استمعال میں نہیں ہے ۔
دلاویز نے اپنا سیل فون کرسی پر رکھا اور وضو کرنے کے بعد فجر کی نماز کے لیے مصلے پر کھڑی ہو گئی ۔ نماز ادا کرنے کے بعد دلاویز نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور یوں دعا مانگنے لگی
“جیسے تو راضی ویسے راضی کر دے
میرا کوٸی عمل تو امتیازی کر دے
سر جھک جاتا ہے من جھکتا ہی نہیں
دل بھی کسی وقت نمازی کر دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آمین آمین آمین ثم آمین” دعا مانگنے کے بعد دلاویز دوبارہ دالان میں گئی اور سیل فون کی اسکرین کو دیکھا ۔ سیل فون کی اسکرین روشن تھی ۔ سیل فون پر ایک اور میسیج آیا تھا اور میسیج کے ساتھ کوئی سیل نمبر نہیں لکھا تھا ۔ دلاویز سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ میسیج کس نمبر سے آیا ہے ۔ اب کی بار میسیج کے شروع میں ہی میکال کا نام لکھا تھا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ڈان نہیں ہوں لیکن میں ہوں میکال ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ﺍﻟﺴﻼﻡ علیکم!!!
ﺟﻮ ﻣﻘﺎﻡ ” ﺷﮑﻮﮮ ” ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻭﮨﯽ ﻣﻘﺎﻡ” ﺷﮑﺮ” ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﺍﺱﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ
” ﺷﮑﻮﻩ” ﺟﻠﺪﯼ ﺍﻭﺭ” ﺷﮑﺮ” ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ
ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ” ﺧﯿﺮ “
ﮈﮬﻮﻧﮉﺍ ﮐﺮﯾﮟﺍﻭﺭ” ﺍﻟﺤﻤﺪﻟﻠﻪ “
ﮐﮩﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﮟ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دلاویز میسیج پڑھ چکی تھی لیکن اب وہ میسیج کے الفاظ کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔
جاری ہے.
