Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488

Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Last Episode) Part 2

87.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Zaar (Last Episode) Part 2

Dill e Zaar by Khanzadi

دو دن بعد یوسف سویرا کے ساتھ نارمل کپڑوں میں سٹور پہنچا اور سویرا کے ساتھ ہی آفس میں بیٹھا رہا۔

زاہد دروازہ نوک کرتے ہوئے اندر داخل ہوا اور سویرا کی سیٹ پر یوسف کو بیٹھے دیکھ کر حیران ہوا۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں بیٹھنے کی؟

یہ جگہ۔۔۔سویرا کی ہے۔

یہ جگہ میری بیوی کی ہے تم سے مطلب؟

یوسف کے جواب پر زاہد ہکا بکا سا اسے دیکھتا رہ گیا۔

سویرا یہ کیا کہہ رہا ہے؟

اس نے سویرا کو مخاطب کیا جو اس معاملے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے لیپ ٹاپ یوز کرنے میں بزی تھی۔

جی سہی سنا ہے آپ نے۔۔۔

سویرا نے مختصر سا جواب دیا اور لیپ ٹاپ پر مصروف رہی۔

کیا مطلب ہے اس بات سے سویرا؟

اگر ے

تمہیں نکاح کرنا ہی تھا تو مجھ سے کر لیتی۔۔۔آخر کیا کمی تھی مجھ میں؟

تمہیں نکاح کرنے کے لیے یہ ڈرائیور،گارڈ ہی ملا تھا؟

تم تو یوسف کے نام کی مالا جپتی رہتی تھی تو اب کیا ہوا؟

یہ یوسف ہی ہیں۔۔۔

سویرا نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹاتے ہوئے زاہد کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

یوسف۔۔۔؟

زاہد نے ایک نظر یوسف کو دیکھا اور پھر سویرا کی طرف دیکھتے ہوئے حیرت زدہ سا بولا۔

جی۔۔۔سویرا نے پھر سے مختصر جواب دیا۔

اور کچھ پوچھنا ہے آپ کو؟

اب یوسف نے اسے اپنی طرف مخاطب کیا۔

بدلے میں زاہد نے حیرت زدہ انداز میں یوسف کو دیکھا اور بغیر کچھ کہے کمرے سے باہر نکل گیا۔

کمرے سے باہر نکلتے ہی اس نے ثاقب صاحب کو کال ملائی۔۔۔انکل مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔

اس نے ساری بات ان کو بتا دی۔۔۔

جی بیٹا وہ یوسف ہے۔۔۔ثاقب صاحب نے ساری تفصیل اسے بتا دی۔

زاہد حیرت زدہ سا مال بند کرتے ہوئے اپنے کمرے میں آیا اور بے بس سا کرسی پر بیٹھ گیا۔

You are so lucky

سویرا سہی کہتی تھی۔۔۔تم واقعی ایک اچھے ہمسفر کہلانے کے لائق ہو۔

اس نے مسکراتے ہوئے اپنا موبائل اٹھایا اور سٹور سے باہر نکل گیا۔

Dad I m going for a trip with friends…

باپ کے نمبر پر میسیج چھوڑا اور گھر سے دور کسی دوست کے گھر ٹہر گیا۔

جب تک سویرا اور اس کی فیملی وہاں رہی وہ دوبارہ ان کے سامنے نہی آیا۔

آخر کار ایک سال بعد ثاقب صاحب کی حالت میں بہتری آ ہی گئی۔۔۔انہوں نے اپنا سارا بزنس یہی وائینڈ آپ کیا اور خاندان سمیت پاکستان شفٹ ہو گئے۔

سویرا اپنی فیملی کے ساتھ ہی رہ رہی تھی۔

اس دوران شعیب جیل میں تھا۔۔۔اس پر ابھی بھی کیس چل رہا تھا مگر کسی نے اس کے لیے وکیل ہائیر نہی کیا تھا۔

آخر کار اس کے ایک دوست نے اس کی ضمانت کروا دی۔

وہ گھر آیا اور سویرا کو دیکھ کر چونک گیا۔۔۔سویرا تم بول سکتی ہو؟

وہ حیرت زدہ سا چلایا اور سویرا کی طرف بڑھا۔

وہ زاہد اور زنیرہ کے ساتھ ٹی وی لاونج میں بیٹھی تھی کہ اچانک شعیب اندر آ گیا اور سویرا کو ان کے ساتھ بات کرتے دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

سویرا کچھ نہیں بولی۔۔۔بس حیرت زدہ سی شعیب کو دیکھ رہی تھی۔

اسے چند لمحے لگے تھے اسے پہچاننے میں۔۔۔شعیب کا چہرہ مرجھا چکا تھا۔۔۔آنکھیں اندر دھنسی ہوئی اور آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ ہلکے۔۔۔بڑھی ہوئی داڑھی اور بے ترتیب بکھرے ہوئے بال۔

کپڑے بھی گندے سے پہنے ہوئے تھے۔

سویرا بس خاموشی سے اسے دیکھتی جا رہی تھی۔

تب ہی طارق صاحب وہاں آئے اور شعیب کو بازو سے کھینچتے ہوئے باہر لے گئے۔۔۔کیوں آئے ہو تم یہاں؟

سویرا ان کے پیچھے بھاگتی ہوئی صحن میں گئی۔۔۔

تم اسے جو سزا دینا چاہو دے سکتی ہو۔۔۔یہ تمہارا مجرم ہے۔۔۔طارق صاحب نے سویرا کو پیچھے آتے دیکھا تو فوراً اس کی طرف پلٹتے ہوئے بولے۔

شعیب نے سویرا کی طرف دیکھا اور سر جھکا لیا۔

نہی چاچو۔۔۔میں کون ہوتی ہوں اسے سزا دینے والی،اس کی سزا اسے قدرت خود دے رہی ہے۔

آپ میری وجہ سے اپنے بیٹے کو خود سے دور نا کریں،میں اپنے گھر چلی جاتی ہوں۔

نہیں۔۔۔تم کہی نہی جاؤ گی بیٹا۔۔۔میں نے یوسف سے تمہاری حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔اب تم اس گھر سے رخصت ہو کر ہی اس گھر میں جاؤ گی۔

اگر کوئی گھر سے جائے گا تو وہ یہ ہے۔۔۔چلو نکلو شاباش۔۔۔خبردار جو آئیندہ اس گھر کی طرف دیکھا بھی۔

مر گئے ہو تم ہمارے لیے۔۔۔طارق صاحب اسے بازو سے کھینچتے ہوئے لے گئے اور گیٹ سے باہر دھکا دے دیا۔

چاچو آپ ایسا مت کریں اس کے ساتھ۔۔۔اس کی حالت دیکھیں،اس وقت اسے آپ سب کی ضرورت ہے،وہ میرا گناہگار ہے اور یہ میرا اور اس کا معاملہ ہے۔

آپ باپ ہیں آپ اس کے ساتھ یہ سلوک مت کریں۔

یہ اسی لائق ہے سویرا۔۔۔تم اس کے بارے میں مت سوچو بیٹا۔۔۔اندر جاؤ اور اپنی شادی کی تیاریاں کرو۔

لیکن چاچو۔۔۔۔

سویرا مزید کچھ بولنے والی تھی لیکن طارق صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔

بس بیٹا۔۔۔میں نے کہا نا جاؤ۔

جی چاچو۔۔۔سویرا چپ چاپ اندر چلی گئی۔

_________________

دو ماہ بعد۔۔۔

سویرا دھوم دھام سے رخصت ہو کر ایک بار پھر اپنے گھر واپس آ گئی۔

شہلا بیگم اور مریم بہت خوش تھیں۔

یوسف کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہی تھا۔

سویرا دلہن بنی اس کے انتظار میں بیٹھی تھی۔۔۔یوسف کمرے میں داخل ہوا اور ایک گفٹ اس کی طرف بڑھایا۔

سویرا نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور گفٹ لے لیا۔

کھولو اسے۔۔۔یوسف کا انداز حکمانہ تھا۔

جی۔۔۔سویرا نے گفٹ کھولا اور اندر سے نکلنے والے تخفے کو دیکھ کر شرما گئی۔

یہ آپ کو کہاں ملی؟

یہ اس کی ڈائری تھی۔۔۔جو یہاں رہ گئی تھی۔

بس مل ہی گئی مجھے۔۔۔لیکن میں نے ابھی تک پڑھی نہی۔۔۔کیا لکھا ہے اس میں؟

لاؤ میں پڑھتا ہوں۔۔۔

نہی۔۔۔سویرا نے ڈائری پیچھے چھپا لی۔

چلو کوئی بات نہیں۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ تم ان الفاظ کو عملی جامہ پہناؤ۔

مطلب؟

سویرا نا سمجھی کے انداز میں بولی۔

مطلب یہ کہ۔۔۔مائی ڈئیر وائف۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ میرے سامنے مجھ سے محبت کا اظہار کرو۔

سویرا نے شرماتے ہوئے نظریں جھکا لی۔۔۔مطلب آپ نے ڈائری پڑھ لی ہے۔

جی ہاں۔۔۔یوسف اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹتے ہوئے جذبات سے چور الفاظ میں بولا۔

جب پڑھ چکے ہیں تو عملی جامہ کی کیا ضرورت ہے؟

چھوڑیں یہ سب مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔

مجھے ٹائم ہی نہیں ملا بات کرنے کا۔۔۔

اس وقت مجھ سے ضروری کیا ہو سکتا ہے تمہارے لیے؟

یوسف نے دونوں ہاتھ اس کے سر کے پیچھے رکھتے ہوئے سویرا کا چہرہ اپنے چہرے پر جھکایا۔

ہے کچھ بہت ضروری اٹھ کر بیٹھیں پلیز۔۔۔

اچھا جی۔۔۔یوسف سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔جی فرمائیے۔

وعدہ کریں میں آپ سے جو بھی مانگوں گی آپ مجھے دیں گے۔

سویرا نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔

یوسف تھوڑا حیران ہوا لیکن پھر اس نے مسکراتے ہوئے سویرا کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔بندہ حاضر ہے جناب۔

مانگ لیجیئے جو مانگنا ہے۔

ہممم۔۔۔سویرا نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔کیا آپ مریم آپی۔۔۔اور زوہیب بھائی۔۔۔میرا مطلب ہے کیا آپ مریم آپی کو میری بھابھی بنا دیں گے؟

سویرا کے سوال پر یوسف پہلے تو حیران ہوا لیکن پھر مسکرا دیا۔۔۔ڈئیر وائف آپ کے کہنے سے پہلے ہی یہ معاملہ طے ہو چکا ہے۔

بابا جانی سے بات طے ہو چکی ہے میری۔۔۔سب راضی ہیں اور آپ کے زوہیب بھائی۔

کافی انتظار کیا ہے انہوں نے تو میں نے سوچا کیوں ناں ان کا معاملہ حل کروا دیا جائے۔

بابا کو کوئی اعتراض نہی ہے بشرطیکہ شعیب اس گھر میں نہی آئے گا۔

ماما سے بھی بات ہو چکی ہے میری اور طارق انکل سے بھی۔۔۔دراصل طارق انکل اور زوہیب دونوں نے مجھ سے خود بات کی تھی۔

مجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہی۔۔۔آپی بھی خوش ہیں اور زوہیب اچھا انسان ہے تو اعتراض کی گنجائش بچتی ہی نہیں۔

واقعی؟

سویرا خوشی سے اچھل کر یوسف کے گلے لگ گئی۔۔۔آپ دنیا کے سب سے اچھے انسان ہیں۔

یوسف نے مسکراتے ہوئے اس کے گرد بازو پھیلا دیے۔۔۔جانتا ہوں اس ڈائری میں میری تعریف کر چکی ہیں آپ۔

یوسف نے مسکراتے ہوئے اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھے اور سکون سے آنکھیں بند کر لی۔

__________________

چھ ماہ بعد مریم زوہیب کی دلہن بن کر اس گھر میں آ گئی۔۔۔زوہیب اس کے لیے بہت اچھا ہمسفر ثابت ہوا۔

کوثر بیگم اور شہلا بیگم نے تمام پچھلی باتیں بھلا کر بچوں کی خوشی کو تسلیم کر لیا۔

سب اپنی زندگی میں خوش تھے سوائے کوثر بیگم کے۔۔۔وہ اپنی بیٹیوں کی موت پر تو صبر کر چکی تھیں مگر اپنے کم بخت بیٹے کی محبت دل سے نا نکال سکی۔۔۔۔ایک صبح گھر میں شعیب کی ایکسیڈنٹ میں موت کی خبر موصول ہوئی۔

اس کی میت تک گھر نا لائی گئی کیونکہ اس کی حالت دیکھنے کے قابل نہی تھی۔

کوثر بیگم کے لیے یہ خبر موت سے کم نہی تھی۔۔۔وہ دن رات بیٹے کو یاد کر کے روتی رہتی اور ہر رات ہاسپٹل میں گزارتی۔

مریم نے دل سے ان کی خدمت کی اور انہیں اسے غم سے نکالنے میں کامیاب ہو گئی مگر پھر بھی کبھی کبھی وہ بہت روتی تھیں چیخ چیخ کر پورا گھر سر پر اٹھا لیتی تھیں۔

آخر کار وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھیں۔۔۔اپنے بچوں کی موت کا زمہ دار وہ خود کو تصور کرتی تھیں۔

چند عرصہ مینٹل ہاسپٹل میں گزارنے کے بعد وہ اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئی۔

طارق صاحب کے پاس بس اب ایک بیٹا ہی بچا تھا۔۔۔ان کا خاندان ختم ہو چکا تھا۔

وہ بے دلی سے مینٹل ہاسپٹل پہنچے اور ایک کمرے میں پہنچے جہاں ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑا گیا تھا۔

تمہارے گناہ نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا۔۔۔میں تمہیں کبھی معاف نہی کروں گا شعیب۔

تمہاری موت کی جھوٹی خبر دنیا کو سنائی تھی تاکہ تمہاری ماں سکون سے سو سکے۔۔۔وہ مجھ سے تمہارے بارے میں سوال نا کرے،اسے اذیت سے بچانا چاہتا تھا میں لیکن مجھے یہ نہی پتہ تھا کہ میرا یہ قدم اسے ہمیشہ کی نیند سلا دے گا۔

کاش تم پیدا ہوتے ہی مر گئے ہوتے۔۔۔خدا تمہارے جیسے اولاد کسی دشمن کو بھی نا دے۔

میں چاہتا ہوں تم زندہ رہو اور بے بسی کی اسی اذیت کو ہمیشہ برداشت کرو۔۔۔وہ اذیت جو تم ایک بے زبان معصوم بچی کو دیتے رہے ہو۔۔۔۔خدا کرے تم ہزاروں سال جیو اور تمہاری زندگی کا ہر لمحہ اذیت بھرا ہو۔

وہ بیٹے کو بددعائیں دیتے ہوئے بے بسی میں اپنے آنسو پوچھتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔

شعیب کچھ کہنا چاہتا تھا مگر اس کی آواز اس کا ساتھ نہی دے رہی تھی۔۔۔وہ اٹھ کر باپ کے پیچھے بھاگنا چاہتا تھا مگر اس سے پہلے ہی اسے اپنے بازو پر چبھن کا احساس ہوا اور اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

وہ خود کو کسی گہری کھائی میں گرتے ہوئے محسوس کر رہا تھا جس کی گہرائی ختم ہونے کا نام ہی نہی لے رہی تھی۔

(ختم شدہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *