Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488

Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 05)

87.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Zaar (Episode 05)

Dill e Zaar by Khanzadi

طارق صاحب گھر آئے اور آتے ہی بیگم صاحبہ کو کمرے میں آنے کا کہا۔

کیا ہو گیا آپ کو؟

سب خیریت تو ہے ناں؟

کوثر بیگم حیران و پریشان سی ان کے پیچھے کمرے میں داخل ہوتی ہوئی بولی۔

خیریت ہی ہے۔۔۔یہ دروازہ بند کر دیں زرا،کچھ ضروری بات کرنی ہے آپ سے۔

طارق صاحب حکم دینے کے انداز میں بولے اور ٹانگ پے ٹانگ جمائے کرسی پر بیٹھ گئے۔

کوثر بیگم نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور ان کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے،کیوں پریشان کر رہے ہیں آپ مجھے؟

طارق صاحب نے بھنویں اچکاتے ہوئے بیگم کی طرف دیکھا۔۔۔زرا ایک بات تو بتائیں مجھے۔

بچوں کی پڑھائی سہی چل رہی ہے،کوئی پریشانی تو نہیں ہے انہیں؟

آئے ہائے۔۔۔یہ بات تھی۔۔۔بس اتنی سی بات پوچھنے کے لیے آپ نے مجھے ٹینشن میں ڈالا ہوا تھا۔

کبھی کبھی تو آپ حد ہی کر دیتے ہیں۔

یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے بیگم صاحبہ۔۔۔جو پوچھا ہے اس کا جواب دیں۔

ہاں جی۔۔۔شکر ہے اللہ کا ہمارے بچوں کی پڑھائی بہت اچھی چل رہی اور انہیں کوئی پریشانی نہی ہے الحمدللہ۔

اگر کوئی پریشانی ہوتی تو میں آپ کو خود ہی بتا دیتی۔

اچھا۔۔۔پھر سوچ لیں،شاید آپ کوئی بات ڈسکس کرنا چاہ رہی ہو مجھ سے اور آپ بھول رہی ہو۔

نہیں۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہی ہے،آپ مجھ سے اتنے سوال کیوں پوچھ رہے ہیں آج؟

کوثر بیگم کو شوہر کا لہجہ تھوڑا طنزیہ محسوس ہوا۔

اچھا۔۔۔آپ کے مطابق آپ کچھ بھی نہیں بھول رہی؟

جی۔۔۔اب کیا لکھ کر دوں آپ کو؟

کوثر بیگم غصے سے تپ گئیں۔

آخر بات کیا ہے سیدھی طرح بتا کیوں نہیں دیتے آپ۔۔۔پہیلیاں کیوں بجھا رہے ہیں؟

ٹھیک ہے میں سمجھاتا ہوں۔۔۔آپ کو نہیں لگتا آپ سویرا کے بارے میں کچھ بھول رہی ہیں؟

سویرا کے نام پر کوثر بیگم نے گہری سانس لی۔۔۔ایک تو یہ لڑکی میری جڑوں میں بیٹھ گئی ہے۔

اب کیا برا کر دیا میں نے اس کے ساتھ؟

طارق صاحب نے افسوس میں سر ہلایا۔۔۔ساتھ والے گھر سے کوئی خاتون آئی تھیں ہمارے گھر؟

کککون خاتون؟

ساتھ والے گھر سے کوئی خاتون ہمارے گھر کیوں آئے گی بھلا؟

بس۔۔۔۔!

طارق صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں مزید بولنے سے روک دیا۔

سمجھ نہی آتی کہ آخر اس بچی سے آپ کی دشمنی کیا ہے۔۔۔ساتھ والے گھر سے آ رہا ہوں میں۔

بھائی صاحب زبردستی مجھے اندر لے گئے تھے اور اندر جا کر مجھے معلوم ہوا کہ ان کی بیوی اور بیٹی سویرا کی پڑھائی کے سلسلے میں ہمارے گھر تشریف لا چکی ہیں۔

کیا میں پوچھ سکتا ہوں آپ نے مجھے بتانا ضروری کیوں نہی سمجھا؟

جب وہ بچی ہماری سویرا کو پڑھانے کے لیے تیار ہے تو آپ نے یہ بات مجھ سے ڈسکس کیوں نہی کی؟

کوثر بیگم کا سارا غصہ اڑن چھو ہو گیا اور ان کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔۔۔وہ میں بتانے ہی والی تھی آپ کو۔

کب بتانے والی تھی؟

مجھے تو نہیں لگتا کہ آپ مجھے بتانے والی تھیں۔۔۔مجھے تو کچھ اور ہی لگ رہا ہے۔شاید آپ چاہتی ہی نہی کہ یہ بچی دو چار لفظ پڑھ سکے۔

نہی نہی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔آپ کو تو پتہ ہے میں آپ سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کرتی۔

آپ کی اجازت کے بغیر میں سویرا کو کیسے بھیج سکتی تھی بھلا؟

اس گھر میں ایک جوان لڑکا رہتا ہے۔ہماری سویرا بول نہی سکتی اور کل کو اس کے ساتھ کوئی اونچ نیچ ہو جاتی تو اس کی زمہ داری تو میرے سر آتی ناں؟

آپ ہی بتائیں میں نے کچھ غلط کیا ہے؟

اسی ڈر سے ہم نے بچی کو گھر سے باہر نہی نکالا۔۔۔تو انجان لوگوں پر بھروسہ کیسے کر سکتی ہوں میں۔

جو بھی بات تھی آپ کو مجھ سے یہ مسئلہ ڈسکس تو کرنا چاہیے تھا ناں۔۔۔اس گھر میں جوان لڑکا ہے لیکن جس وقت سویرا گھر میں جائے گی اس وقت وہ گھر پے نہی ہو گا۔

اور جہاں تک بات ہے انجان لوگوں کی تو میری ان سے ملاقات ہوئی ہے۔ساری فیملی بہت اچھی ہے ماشاءاللہ۔

اور ان کی بیٹی بہت نیک اور سلجھی ہوئی بچی لگ ہے مجھے۔۔۔امید ہے ان کا بیٹا بھی ایسا ہی ہو گا۔

میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔کل سے سویرا پڑھنے جائے گی۔

جب تک میں یہاں ہوں میں خود اسے چھوڑ کر آؤں گا اور جب میں نوکری پر چلا جاؤں اس کے بعد یہ آپ کی زمہ داری ہے۔

لیکن۔۔۔۔

لیکن ویکن کچھ نہیں۔۔۔میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔

سویرا کل تیار ہو جانے کے لیے۔۔۔اسے اچھی طرح سمجھا دینا۔میں بھائی صاحب سے اس کے آنے جانے کا ٹائم پوچھ کر بتا دوں گا۔

جائیں سویرا سے بات کریں اس حوالے سے۔۔۔میں ایک کال کر لوں زرا۔

طارق صاحب کے سامنے کوثر بیگم کی ایک نا چلی۔۔۔وہ چپ چاپ کمرے سے باہر نکل آئی اور سویرا کے کمرے میں داخل ہوئی۔

سویرا کمرے میں نا ملی تو کچن میں چلی گئیں اور حسبِ معمول سویرا کچن میں ہی تھی۔

بس کر دو میڈیم۔۔۔نکل آو کچن سے باہر،اپنے چاچو کے سامنے مظلوم بننے کی کوشش نہ کیا کرو۔

کتنی بار سمجھایا ہے تمہیں کہ جب وہ گھر میں ہو اپنے کمرے میں جلدی چلی جایا کرو۔

وہ تو یہی سمجھتے ہیں کہ میں تم پر بہت ظلم کر رہی ہوں۔

وہ جو ساتھ والے گھر سے تمہاری دو ہیجلیاں آئی تھیں ناں لے گئی ہیں تمہارے چاچو کو اپنے گھر۔

توبہ۔۔۔کتنی چالاک ہیں دونوں ماں بیٹی۔

اور تمہارے چاچو سدا کے بھولے پنچھی۔۔۔پھنس گئے ان کے جال میں۔

تمہیں ان کے گھر پڑھنے جانے کی اجازت دے دی ہے انہوں نے۔۔۔تیاری کر لو اپنی،کل سے تم روز شام چھ بجے اس چالاک لڑکی کے پاس پڑھنے جاؤ گی۔

سویرا کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

زیادہ مسکراؤ مت۔۔۔کوثر بیگم نے اس کا بازو دبوچ لیا۔

ان کا بس نہی چل رہا تھا ورنہ سویرا کا گلا دبا دیتی۔

یہ مت سمجھنا کہ تم مجھ سے جیت گئی ہو اور نہ ہی یہ سمجھنا کہ تمہیں اس قید سے رہائی مل گئی ہے۔

تم قیدی تھی اور قیدی ہی رہو گی۔۔۔اگر زرا بھی چالاقی کرنے کی کوشش کی یا اپنے چاچو کو ہماری شکایتیں لگانے کی کوشش کی تو میں تمہاری جان لے لوں گی۔

سویرا نے فوراً سر نفی میں ہلایا اور بے بسی میں سر جھکا لیا۔

جاؤ یہاں سے۔۔۔بڑی چادر نکالو اپنے لیے اور خبردار جو اپنے گھر کی ایک بھی بات اس گھر میں بتانے کی کوشش کی۔

سویرا نے سر نفی میں ہلایا اور اپنے کمرے میں بھاگی لیکن دروازے میں ہی شعیب سے ٹکرا گئی۔

اس کی مسکراہٹ اسی پل خوف میں بدل گئی۔

کہاں تھی تم؟

زیادہ ہوشیار بننے کی کوشش مت کیا کرو۔۔۔پاپا گھر میں اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم خود کو بہت طاقتور سمجھو۔

چلے جائیں وہ ایک دو دن میں۔۔۔تمہاری یہ اڑان زیادہ دن قائم نہی رہے گی۔

مت بھولنا۔۔۔تمہاری جان میری مٹھی ہے۔۔۔منا لو اپنی آزادی کا جشن ایک دو دن اور پھر تم سانس بھی میری مرضی سے لو گے۔

یاد رکھنا یہ بات۔۔۔سویرا کو انگلی دکھاتے ہوئے شعیب کمرے سے باہر نکل گیا۔

سویرا نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔کمبل کھینچ خود پر اوڑھا اور بے بسی میں آنسو بہاتی رہی۔

کچھ دیر رونے کے بعد گھڑی کی طرف دیکھا اور تکیے پے سر رکھے لیٹ گئی۔۔۔آج اس نے دروازے کے ساتھ کچھ نہی رکھا تھا کیونکہ شعیب باپ کی موجودگی میں یہاں آنے کی ہمت نہی کر سکتا تھا۔

اگلے دن سویرا بہت خوش تھی۔۔۔اس کی خوشی کا تو جیسے کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔

چھ بجے کا انتظار اس کے لیے صدیوں کے انتظار کے برابر تھا۔

خیر۔۔۔بہت انتظار کے بعد آخر گھڑی نے چھ بجا ہی دیے اور سویرا کی زندگی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔

وہ سفر جس راستہ تو مختصر تھا مگر منزل سامنے ہو کر بھی بہت دور تھی۔۔۔وہ اپنے چاچو کے ساتھ مریم کے گھر میں داخل ہوئی۔

مریم نے اپنی ماما اور بابا کے ساتھ سویرا کا استقبال کیا۔۔۔مریم کی خوشی آج دیکھنے والی تھی۔

طارق صاحب نے سویرا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے مریم کے ساتھ اندر جانے کی اجازت دی اور ساجد صاحب سے سلام رخصت کرتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل گئے۔

مریم سویرا کو ساتھ لیے اوپر والے پورشن میں آ گئی۔۔۔آ جاؤ ڈرنے والی کوئی بات نہیں ہے۔

یہ کمرہ ایکسٹرا ہے۔۔۔یہاں کوئی نہی آتا سوائے میرے بھائی کے لیکن وہ گھر پر نہی ہے اور نہ ہی تمہاری موجودگی میں یہاں آئے گا۔

ایکچولی اس پورے پورشن میں ہی اس کا قبضہ ہے لیکن اس کمرے میں وہ کبھی کبھار آتا ہے بس یہ پینٹنگز وغیرہ بنانے۔

مریم نے دیوار پر لگی پینٹنگز کی طرف اشارہ کیا تو سویرا غور سے ان پینٹنگز کو دیکھنے میں مصروف ہو گئی۔

مریم نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا اور چھوٹا سا وائٹ بورڈ اٹھا کر دیوار پر لگے کیلوں میں لگایا اور سویرا کی طرف پلٹی۔۔۔شروع کریں؟

سویرا نے مسکراتی ہوئی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا اور سر اثبات میں ہلایا۔

بیٹھو۔۔۔مریم نے صوفے کی طرف اشارہ کیا تو سویرا بیٹھ گئی۔

مریم حیرت زدہ سی اس کی طرف بڑھی۔۔۔یہ کیا ہے؟

مریم کا اشارہ سویرا کے ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگ کی طرف تھا جسے وہ بہت احتیاط سے سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔

سویرا نے وہ بیگ مریم کی طرف بڑھا دیا۔

یہ تو کتابیں ہیں سویرا۔۔۔یہ تمہیں کس نے دی ہیں؟

اور یہ رجسٹر۔۔۔یہ سب تم نے خود لکھا ہے؟

مریم حیرت زدہ سی رجسٹر پر لکھے ٹوٹے پھوٹے نامکمل الفاظ کو دیکھتی ہی رہ گئی۔

سویرا نے سر اثبات میں ہلایا اور مریم کے ہاتھ سے رجسٹر لے کر ایک پیچ کھول کر اس کی طرف بڑھایا۔

اس پیج پر جگہ جگہ زوہیب بھائی لکھا ہوا تھا۔

زوہیب کون ہے؟

تمہارا کوئی بھائی بھی ہے،آنٹی نے تو نہی بتایا ہمیں۔

تمہارے بابا کے ساتھ رہتا ہے کیا؟

مریم سوال پر سوال کرتی چلی گئی۔

سویرا نے مریم کے ہاتھ سے رجسٹر لیا اور لفظ بھائی پر انگلی رکھی اور اپنے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مریم کو سمجھانے کی کوشش کی۔

اوہ اچھا اچھا۔۔۔تمہارا کزن ہے،چاچو کا بیٹا۔۔۔ہے ناں؟

سویرا نے فوراً سر اثبات میں ہلایا۔

ہممم۔۔۔مطلب اس گھر میں تمہارا احساس کرنے والا بھی موجود ہے۔۔۔خیر مجھے بہت خوشی ہوئی یہ دیکھ کر اس نے تمہیں تھوڑا بہت پڑھانے کی کوشش کی ہے۔

مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا کہ تم بغیر سکول گئے اتنا بھی لکھ سکتی ہو۔

کوئی بات نہیں اب میرے پاس آ گئی ہو گئی ناں۔۔۔انشا اللّٰہ اب تم سب کچھ سیکھو گی۔

میں نے بھی تمہارے لیے اسپشل بکس اور کاپیز منگوائی ہیں۔۔۔یہ دیکھو۔

آج سے تم یہ کتابیں پڑھو گی اور ان کاپیز پر لکھنے کی پریکٹس کرو گی۔

تمہارا پیارا سا نام لکھ دیا ہے میں نےان سب پر۔۔۔چلو شروع کرتے ہیں۔

مریم نے اپنے مخصوص انداز میں اسے پڑھانا شروع کیا۔

دو گھنٹے بعد شہلا بیگم کھانے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔بہت کر لی پڑھائی اب آپ دونوں کھانا کھا لیں۔

ماما مجھے تو بھوک نہی ہے ابھی۔۔۔میں بابا جان کے ساتھ ہی کھانا کھاتی ہوں آپ کو پتہ تو ہے۔

آپ ایسا کریں سویرا کو کھلا دیں۔

شہلا بیگم نے کھانے کی ٹرے میز پر رکھی اور میز کھینچتی ہوئی سویرا کے سامنے لے آئی۔۔۔لیں بیٹا آپ کھائیں۔

سویرا نے سر نفی میں ہلایا اور سر جھکا لیا۔

کھانے کو منع نہی کرتے سویرا۔۔۔بری بات۔

مریم نے اسے ڈانٹا۔

(پیارے ریڈرز میرے پیج كو فالو کر لیں نہ)

چلو ایسا کرتے ہیں ہم دونوں ساتھ کھاتے ہیں اب ٹھیک ہے؟

سویرا نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔

میں آپ دونوں کے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں۔۔۔شہلا بیگم مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں۔

چلو شروع کرو۔۔۔ایسے سمجھو جیسے اپنے گھر میں ہو اور مجھے اپنی ٹیچر نہی بڑی بہن سمجھو۔

سویرا نے سر اثبات میں ہلایا اور کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی۔

مریم نے بھوک نہ ہونے کے باوجود بھی کھانا کھایا تا کہ سویرا کو کمپنی دے سکے۔

کھانا کھانے کے بعد دونوں نیچے آ گئی اور ٹی وی لاونج میں بیٹھ کر چائے پی۔

کچھ دیر بیٹھنے کے بعد شہلا بیگم سویرا کو گھر چھوڑنے چلی گئیں۔

سویرا کی چچی کا موڈ اچھا خاصہ خراب تھا لیکن وہ شوہر کی موجودگی میں سویرا کو کچھ کہہ نہیں سکتی تھی اسی لیے نا چاہتے ہوئے بھی مسکراتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔

سویرا نے اپنے چاچو کو خوشی خوشی اپنی کتابیں دکھائی جو اسے مریم نے دی تھیں۔

دیکھ لی ہیں ہم نے کتابیں۔۔۔لے جاؤ اپنے کمرے میں اور دل لگا کر پڑھو۔۔۔کوثر بیگم جلی کٹی سی بولی۔

سویرا نے ان کی طرف دیکھا اور نظریں جھکائے مسکراتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چل دی۔

کمرے میں پہنچی تو سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر چونک گئی۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *