Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 15)
Rate this Novel
Dill e Zaar (Episode 15)
Dill e Zaar by Khanzadi
شعیب یوسف اور سویرا کو اتنے قریب کھڑے دیکھ کر جل کر بھسم ہو گیا۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ ٹیرس سے ان کے صحن میں چھلانگ لگا دیتا۔
یوسف نے سویرا کو تھوڑا سا اور اپنے قریب کیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرایا۔
یوسف کو اتنے قریب دیکھ کر سویرا کی آنکھیں پھٹی کی رہ گئیں۔۔۔وہ حیرت زدہ سی یوسف کو دیکھ رہی تھی۔
کیسا لگا اپنا گھر؟
اور میں کیسا لگا آپ کو مسز؟
یوسف کا مدھم لہجہ اور خوبصورت آواز۔۔۔سویرا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
اس نے یوسف کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھوں کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن نہی کر سکی کیونکہ یوسف کی گرفت بہت مضبوط تھی۔
اس طرح باہر نا نکلا کریں آپ مسز۔۔۔ہوا چل رہی ہے آپ کو سردی لگ سکتی ہے۔
سویرا نے سر اثبات میں ہلایا۔
یوسف بنا پلکیں جھپکائے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بول رہا تھا۔۔۔ایک خوشگوار احساس نے اس کی روح کو چھوا۔
بظاہر تو وہ شعیب کو جلا رہا تھا مگر حقیقتاً اس کی نظریں سویرا کی آنکھوں پر ٹہر چکی تھیں۔
شعیب بے چین سا ریلنگ کے پاس چل رہا تھا۔۔۔غصے سے اس کا خون کھول رہا تھا۔
سویرا نے نظریں جھکائی تو یوسف تھوڑا ہچکچایا اور اس کے ہاتھوں کی گرفت تھوڑی ڈھیلی پڑی۔
چلیں اندر۔۔۔؟
سویرا نے سر اثبات میں ہلایا تو یوسف نے اس کے ہاتھ چھوڑ دیے۔
سویرا جلدی سے اندر چلی گئی اور یوسف شعیب کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا۔۔۔اور ٹیرس پر چلا گیا۔
شرم نہی آتی تمہیں دوسروں کے گھر میں جھانکتے ہوئے؟
میاں بیوی کا رومانس چل رہا تھا اور تم آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے۔
کوئی شرم ہوتی ہے انسان میں مگر نہی تمہیں تو شرم کبھی چھو کر بھی نہیں گزری۔
بیوی نہی ہے وہ تمہاری سمجھے؟
شعیب غصے سے پھٹ پڑا اور یوسف کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے بولا۔
وہ میری بیوی ہے۔۔۔اور اس حقیقت کو تم جھٹلا نہی سکتے سالے صاحب۔
میں تمہارا سالا نہی ہوں۔۔۔میری بات کان کھول کر سن لو تم۔
تم نے جو کھیل میرے ساتھ کھیلا ہے ناں اس کی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔
تمہیں کیا لگتا ہے تم سویرا کو ہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھ لو گے؟
نہیں۔۔۔یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔۔۔بہت جلد وہ اپنے گھر واپس آ جائے گی اور تم کچھ بھی نہیں کر سکو گے۔
دور رہو سویرا سے۔۔۔میں تمہیں وارن کر رہا ہوں۔
اب اگر دوبارہ تم اس کے قریب گئے یا اسے ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہی ہو گا۔
Ohhh Really?
یوسف نے دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے اور بھنویں اچکاتے ہوئے بولا۔
اور جو کھیل تم نے میرے ساتھ کھیلا ہے اس کا کیا؟
تمہیں کیا لگا تھا مجھ پر الزام لگا کر سویرا کو ہمیشہ کے لیے قید کر لو گے؟
چچچچچچ۔۔۔۔بہت گندا کھیل کھیلا ہے تم نے مگر تم یہ بھول گئے کہ سامنے کون ہے۔
اگر تم میری طاقت کا اندازہ لگا لیتے تو آج سویرا یہاں نا ہوتی۔
تمہاری چال تمہی پر الٹی چل دی میں نے۔۔۔کیسا لگا میرا سرپرائز؟
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔سویرا کا نام مت لو اپنی زبان سے۔۔۔تمہاری زبان کھینچ لوں گا میں۔
شعیب غصے سے چلایا۔
بڑے آئے طاقت ور۔۔۔تمہاری طاقت اس دن دیکھی تھی میں نے۔۔۔بے سدھ زمین پر گرے پڑے تھے،ہوش تک نہی تھا تمہیں۔
شعیب نے یوسف کا مذاق اڑایا۔
یوسف تھوڑا سا آگے بڑھا اور ہاتھ بڑھا کر شعیب کی گردن دبوچ لی۔۔۔دم ہے ناں تو گھر سے باہر اکیلے ملو مجھے،شیر اکیلا شکار کرنے نکلتا ہے،جھنڈ کا سہارا ساتھ لے کر کتے نکلتے ہیں۔
کتے جھنڈ میں بھی شیر کا شکار کرنے نکلیں تو کتے ہی رہتے ہیں۔۔۔ہمت ہے تو کبھی اکیلے ملنا اس شیر سے۔
تمہاری آنے والی نسلیں یاد رکھیں گے کہ کسی شیر سے پالا پڑا تھا۔
یوسف نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تو شعیب نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔دیکھ لوں گا میں تمہیں۔
غصے سے چلاتے ہوئے نیچے چلا گیا۔
یوسف ہنستے ہوئے اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔فریش ہو کر نیچے آیا اور اپنے لیے کھانا لے کر اوپر کمرے میں آ گیا۔
______________________
ایک ہفتے بعد۔۔۔
سویرا مریم کے ساتھ سکول چلی جاتی اور واپس آ کر بس مریم کے کمرے میں ہی بیٹھی رہتی۔۔۔
شہلا بیگم کے سامنے آنے سے کتراتی رہتی اور جب وہ سونے کے لیے اپنے کمرے میں جاتی تب ہی باہر نکلتی تھی۔
یوسف صبح ناشتہ کرنے کے بعد اپنے بابا کے ساتھ کام پر چلا جاتا اور شام کو گھر واپس آتا۔۔۔کھانا کھانے کے بعد یونیورسٹی چلا جاتا اور یونیورسٹی کے بعد جم۔۔۔اور جم کے بعد سیدھا اپنے کمرے میں۔
اس دن کے بعد دنوں کی ملاقات نہی ہوئی۔
شہلا بیگم بھی تھوڑی مطمئن ہو چکی تھی کہ یوسف سویرا میں انٹرسٹڈ نہیں ہے۔
آج اتوار کا دن تھا۔۔۔سب گھر پر موجود تھے سوائے ساجد صاحب کے۔
سویرا کے علاؤہ سب ناشتے کی میز پر موجود تھے۔
یوسف نے موبائل سے نظریں ہٹاتے ہوئے ادھر اُدھر دیکھا۔۔۔کہاں ہے وہ؟
کون؟
مریم حیرت زدہ انداز میں بولی۔
وہی آپ سب کی لاڈلی۔۔۔سویرا۔۔۔اور کون؟
وہ کمرے میں ہے۔۔۔مریم نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے مختصر سا جواب دیا۔
وہ کمرے میں کیوں ہے؟
I mean…
اسے یہاں ہونا چاہیے سب کے ساتھ۔۔۔
یوسف کے سوال پر شہلا بیگم نے حیرت زدہ انداز میں یوسف کو دیکھا۔۔۔کیوں؟
وہ یہاں کیوں ہو گی؟
اس فیملی کا حصہ نہی ہے وہ۔۔۔اسے اس گھر میں رکھا ہے اتنا کافی ہے اس کے لیے۔
ماں کے جواب پر یوسف نے نظریں جھکائے گہری سانس لی اور مسکراتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا۔
آپ ایسی تو نہی تھیں ماما۔
سویرا کے ساتھ اتنا ٹیپیکل بی ہیو کیوں کر رہی ہیں آپ؟
میری زندگی کا نا سہی لیکن وہ ہماری فیملی کا حصہ بن چکی ہے اب۔
روز کی مصروفیات میں وقت ہی نہی ملتا ایک ساتھ بیٹھنے میں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اسے خود سے الگ رکھیں۔
نکاح کیا ہے میں نے اس کے ساتھ۔۔۔اسے ملازمہ بنا کر نہی لایا جو وہ ہمارے درمیان بیٹھ ہی نا سکے۔
ہاں تو سہی ہے۔۔۔مجھے کیا؟
میری طرف سے چاہے اسے اپنے کمرے میں لے جاؤ،مجھے کوئی پرواہ نہی۔
آج اسے گھر کا حصہ بنا دیا ہے کل کو زندگی کا حصہ بھی بنا لو گے۔
میری طرف سے آزاد ہو تم۔۔۔چاہو تو اپنا حق استعمال کر سکتے ہو،بیوی ہے تمہاری جاؤ لے جاؤ اپنے کمرے میں۔
اپنی نظروں کے سامنے رکھو اسے۔۔۔ہم تو جیسے اس کے دشمن ہیں۔
میں نے ایسا تو نہیں کہا ماما۔۔۔آپ بلاوجہ بات کو بڑھا رہی ہیں۔
میں نے صرف اتنا کہا ہے کہ اسے سب کے ساتھ بیٹھنے دیا کریں تا کہ اسے ایسا نا لگے کہ وہ کسی غیر کے گھر میں ہے۔
اسے قید سے رہائی دلائی ہے میں نے۔۔۔اگر اسی طرح اسے کمرے میں بند رکھنا ہے تو اسے یہ گھر بھی ایک قید خانہ لگے گا۔
ہاں تو کرو اسے آزاد۔۔۔اپنے ساتھ رکھو،جہاں دل چاہے لے کر جاو،کھلاو پلاؤ۔۔۔شاپنگز کرواؤ۔
بیوی ہے تمہاری۔۔۔تمہارا فرض ہے اس کی قید اور رہائی کا خیال رکھنا۔
دوسروں کا گند اپنے سر ڈال کر اسے تو رہائی دلا دی تم نے لیکن ہمیں زندگی بھر کے لیے اس کا قیدی بنا دیا۔
ایک ہی بیٹا تھا میرا۔۔۔سو ارمان تھے میرے لیکن تم نے سب پر پانی پھیر دیا۔
اس دن تو کہہ رہے تھے کہ ہماری مرضی سے شادی کرو گے اور آج کہہ رہے ہو کہ میری بیوی ہے۔۔۔کل کو کہہ دو گے میں کسی اور سے شادی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ برداشت نہیں کر سکے گی۔
اس لڑکی کے لیے مار دو ہمیں۔۔۔لیکن اس کو آزادی سے جینے دو۔
ماما آپ بات کو کہاں سے کہاں کے گئی ہیں۔میرے کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔
یوسف حیرت زدہ سا بولا اور سر تھام کر بیٹھ گیا۔
کیا ہو رہا ہے یہاں؟
صبح صبح جنگ کا ماحول کیوں بنا ہوا ہے گھر میں؟
ہمارے گھر کا ماحول ایسا تو نہی تھا۔۔۔ساجد صاحب اچانک گھر آ گئے اور کرسی کھینچتے کر بیٹھتے ہوئے بولے۔
کچھ نہی بابا جان۔۔۔میں نے صرف اتنا پوچھا ہے کہ سویرا ناشتے کے لیے کیوں نہیں آئی۔
ماما غصہ کرنا شروع ہو گئی ہیں کہ اسے اپنے کمرے میں لے جاؤ وغیر وغیرہ۔
ہاں تو میں نے کچھ غلط تھوڑی کہا ہے۔۔۔تم نے خود ہی کہا کہ میں نے سویرا کو قید کر کے رکھا ہوا ہے۔
میں نے ایسا کب کہا ہے ماما؟
یوسف حیرت زدہ سا چلایا۔
ہاں تو ٹھیک ہے ناں۔۔۔سہی تو کہہ رہی ہیں یہ،لے جاؤ اسے اپنے کمرے میں۔
بیوی ہے تمہاری۔۔۔تمہارا حق ہے اس پر۔۔۔
ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
ساجد صاحب کے جواب پر سب حیرت زدہ سے ان کی طرف دیکھتے ہی رہ گئے۔
بابا جان آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟
میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔۔۔یوسف شرمندہ سا بولا۔
اسے لگا اس نے سویرا کا نام لے کر بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔
میں سیریس ہوں یوسف۔۔۔اسے لاؤ اور اپنے کمرے میں لے جاؤ بلکہ اپنے پورشن میں لے جاؤ۔
اگر تمہیں ایسا لگ رہا ہے کہ ہم اس کا ٹھیک سے خیال نہیں رکھ رہے تو تمہارا فرض بنتا ہے اس کا خیال رکھنا۔
اس کی چھوٹی بڑی ضروریات کا خیال رکھو بلکہ تم ایک کام کرو۔
آج اپنے پورشن میں کھانے پینے کا سامان کے کر آؤ اور اپنا کچن الگ کرو۔
اس کا جو دل چاہے اسے کھلاؤ پلاؤ اور اس پر تھوڑی زمہ داریاں بھی ڈالو تا کہ اسے اس گھر میں اجنبیت نا محسوس ہو۔
آخر یہ اس کا بھی گھر ہے اور تم کب تک ماں کے بیٹے بن کر بیٹھے رہو گے؟
شوہر بن گئے ہو اب۔۔۔اپنی زمہ داری اٹھاؤ۔
بابا جان لیکن۔۔۔
بس!
اب لیکن کا کوئی جواز نہیں بنتا۔۔۔مجھے اپنے گھر کا ماحول پرسکون چاہیے۔
بلا کر لاؤ سویرا کو مریم۔۔۔
جی بابا جان۔۔۔مریم فوراً اپنے کمرے میں گئی اور سویرا کو بلا لائی۔
اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑو اور اسے اوپر لے جاؤ۔۔۔آج سے یہ وہی رہے گی،جیسے چاہو اس کا خیال رکھو۔
تمہارے اکاؤنٹ میں سیلری پہنچ جائے گی جو چاہے خریدو اور اپنا الگ کھاؤ پکاو۔
سویرا نے چونک کر یوسف کی طرف دیکھا۔
یوسف نے اسے دیکھ کر نظریں جھکا لی۔۔۔بابا جان میرا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔
آپ غلط فیصلہ کر رہے ہیں۔
جو تمہیں ٹھیک لگا تم کیا اب جو مجھے ٹھیک لگ رہا ہے میں وہی کر رہا ہوں۔۔۔اپنی بیوی کو ساتھ لو اور اوپر جاؤ۔
مجھے دوبارہ نا کہنا پڑے۔
جی بابا جان۔۔۔یوسف کرسی سے اٹھا اور سویرا کا ہاتھ تھامتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
یہ کیا کر دیا آپ نے؟
آپ سویرا کو یوسف کے ساتھ کیسے بھیج سکتے ہیں؟
شہلا بیگم دونوں کو جاتے ہوئے دیکھتی ہی رہ گئیں۔
مزید بحث نہی بیگم صاحبہ۔۔۔میں نے جو کیا بلکل ٹھیک کیا ہے۔
روز روز کا فساد برداشت نہیں کر سکتا میں۔
مریم ناشتہ دو مجھے۔۔۔
ساجد صاحب نے دو ٹوک بات کی اور مریم کو مخاطب کیا۔
جی بابا جان۔۔۔مریم نے ان کو ناشتہ دیا۔
ساجد صاحب اطمینان سے ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئے جبکہ شہلا بیگم غصے میں وہاں سے چلی گئیں۔
جاری ہے۔۔۔
