Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488

Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 09)

87.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Zaar (Episode 09)

Dill e Zaar by Khanzadi

شعیب گھر تو آ گیا لیکن اس کا غصہ کسی صورت کم ہی نہی ہو رہا تھا۔۔۔غصے میں کمرے میں ادھر سے اُدھر چکر لگاتا رہا۔

جب چل چل کر تھک گیا تو بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔پھر اچانک اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

اس نے سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھایا۔۔۔اب تمہاری خیر نہی سویرا۔

فوراً ماں کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔

کون مر گیا ہے جو اتنی صبح صبح کال کر رہے ہو؟

دوسری طرف کوثر بیگم کی غصے بھری آواز آئی۔

اٹھ جائیں امی۔۔۔ابھی تک تو کوئی نہی مرا لیکن اگر آپ ایسے آنکھیں بند کیے وہاں بیٹھی رہی تو ہماری عزت کا جنازہ ضرور نکل جائے گا۔

کیا مطلب؟

کچھ نہی ہوا امی۔۔۔آپ سو جائیں آرام سے۔۔۔آرام کریں یہاں کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔

جب آپ کو فرصت مل جائے آ جائیے گا۔۔۔سب اپنی مرضیاں کر رہے ہیں اس گھر میں،آپ بھی کریں مجھے کیا لگے۔

کوثر بیگم اٹھ کر بیٹھ گئیں۔۔۔پہلیاں کیوں بجھا رہے ہو سیدھی طرح بکواس کرو کیا ہوا ہے۔

کوثر بیگم کی نیند خراب ہو چکی تھی اوپر سے شعیب کی باتیں سن کر ان کا پارہ ہائی ہو گیا۔

ہونا کیا ہے۔۔۔ابو کی جو لاڈلی ہے ناں وہ کل رات سے گھر سے غائب ہے۔

کون سویرا؟

کوثر بیگم بے زار سی بولی۔

جی اور کون ہو سکتی ہے بھلا؟

چلو۔۔۔مجھے لگا پتہ نہی کیا ہو گیا۔۔۔گھر میں ہی ہو گی اس نے کہاں جانا ہے؟

اس گھر کے علاوہ اور کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اس کے پاس۔۔۔تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔

نیند میں ہو تم۔۔۔چپ چاپ سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو۔

کوثر بیگم جی بھر کر بد مزہ ہوئی۔

ٹھکانہ تو اس نے ڈھونڈ لیا ہے امی۔۔۔ٹھیک ہے آپ نہ مانیں،سو جائیں۔۔۔آپ کریں آرام۔

وہ دن دور نہیں جب اس لڑکی کی وجہ سے ہم سب کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

ابھی تو پہلی رات ہے۔۔۔آگے آگے دیکھتی جائیں کیسے اس کے پر نکلتے ہیں۔

کیا مطلب ہے تمہارا؟

شعیب تمہارا دماغ تو ٹھکانے پر ہے ناں؟

پاگل تو نہیں ہو گئے صبح صبح؟

کونسا ٹھکانہ ڈھونڈ لیا ہے سویرا نے اور کونسی رات؟

صبح صبح کیسی بیہودہ باتیں کر رہے ہو ماں کے ساتھ۔۔۔شرم ہے تم میں یا بیچ دی ہے؟

شرم تو سویرا نے بیچ دی ہے امی۔۔۔شعیب غصے سے چلایا۔

کل رات سے گھر پر نہی ہے وہ۔۔۔آپ میری بات سمجھ کیوں نہیں رہی؟

اس کا ٹھکانہ آپ کو معلوم ہے۔۔۔یہ جو پڑھائی کے نام پر ابو نے اسے آزادی دی ہے ناں۔۔۔اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے وہ۔

کل رات ٹیوشن سے گھر واپس ہی نہیں آئی وہ۔۔۔اور اس کام میں آپ کا ہونہار بیٹا زوہیب اس کا پورا پورا ساتھ دے رہا ہے۔

جب میں رات کو گھر آیا تو سویرا گھر پر تھی ہی نہی۔۔۔میں نے بھائی سے پوچھا تو انہوں نے بڑے سکون سے جواب دیا کہ وہ اپنی ٹیچر کے گھر سو رہی ہے۔

اور صرف اتنا ہی نہیں۔۔۔مجھے ان کے گھر بھی نہیں جانے دیا۔میرا تو خون کھول رہا تھا۔

بھلے ہی وہ میری کزن ہے لیکن ہے تو ہمارے گھر کی عزت ناں۔۔۔میرا بس نہی چل رہا تھا ورنہ اسے اسے بالوں سے گھسیٹتے ہوئے گھر واپس لے کر آتا۔

آپ کے لاڈلے نے مجھ پر ہاتھ تک اٹھانے کی کوشش کی ہے اور تو اور ابو بھی اس میں شامل ہیں۔

زوہیب بھائی نے کہا کہ تم چھوٹے ہو تو چھوٹے ہی رہو۔۔۔بڑوں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوشش مت کرو۔

اور بات یہی ختم نہیں ہوتی۔۔۔اور سنیں زرا،میں تو پریشانی میں ساری رات سو ہی نہی سکا۔

جیسے ہی سورج نکلا میں نے فوراً ساتھ والے گھر کی بیل بجائی۔۔۔پہلے تو کوئی آ ہی نہی رہا تھا لیکن میں ٹہرا ڈھیٹ۔

میں نے بھی بیل پر ہاتھ دبا کر رکھا۔۔۔مجبورا ان کو دروازہ کھولنا پڑا۔

اور جانتی ہیں دروازہ کس نے کھولا؟

آنٹی کے بیٹے نے۔۔۔جوان لڑکا ہے اس گھر میں اور سویرا پوری رات ان کے گھر میں رہی ہے۔۔۔اس بات کا مطلب سمجھتی ہیں آپ؟

اس لڑکے نے میرا گریبان پکڑا اور مجھے دھکے دے کر گھر گیٹ سے ہی بھگا دیا۔

اچھا خاصہ ہینڈسم لڑکا ہے وہ۔۔۔امی میرا خون کھول رہا ہے اسے دیکھ کر۔

ہماری سویرا بہت معصوم ہے اور ایسے ہینڈسم لڑکے شکل سے تو بہت شریف لگتے ہیں مگر حقیقت میں ہوتے نہی ہیں۔

ایسے لڑکے بھولی بھالی معصوم لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانے میں ماہر ہوتے ہیں۔۔۔اور ہماری سویرا تو کچھ بول بھی نہیں سکتی۔

وہ چاہے اس کے ساتھ جو مرضی کرتا رہے۔۔۔میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں امی۔

آپ کریں بھائی کو کال اور پوچھیں ان سے۔۔۔میری بات پر یقین نا کریں لیکن اس کی بات پر یقین آ جائے گا آپ کو۔

شعیب نے غصے سے کال بند کر دی۔

کوثر بیگم موبائل کی جگمگاتی ہوئی سکرین کو دیکھتی ہی رہ گئیں۔۔۔اسے کیا ہو گیا؟

بھلا اسے سویرا کی اتنی فکر کیوں ہو رہی ہے آج اور زوہیب کو تو ابھی پوچھتی ہوں ناں میں۔

وہ زوہیب کا نمبر ڈائل کرنے ہی والی تھیں کہ اس کے وائس میسیج پر نظر پڑ گئی۔۔۔وائس میسیج پلے کیا اور موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے لیٹ گئیں۔

ابھی تو مجھے بہت نیند آ رہی ہے۔۔۔گھر جا کر پوچھتی ہوں باپ اور بیٹے کو اور اس لڑکی کے پر بھی کاٹتی ہوں۔

______________________

یوسف واپس آیا تو اس کی نظر شعیب پر پڑی۔۔۔شعیب ٹیرس پر کھڑا دونوں بازو ریلنگ پر جمائے غصے سے اسے گھور رہا تھا۔

فضول انسان۔۔۔یوسف مسکراتے ہوئے بولا اور جیب سے چابی نکال کر گیٹ کھول کر اندر چلا گیا۔

شعیب نے اسے اندر جاتے ہوئے دیکھا اور منہ دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔تمہاری اکڑ تو میں ایسے نکالوں گا کہ زندگی بھر یاد رکھو گے۔

افففف۔۔۔سر درد سے پھٹے جا رہا ہے۔اس لڑکی کے چکر میں پوری رات سو ہی نہیں سکا میں۔

ایک بار واپس آ جائے یہ۔۔۔اس کی وہ حالت کروں گا کہ دوبارہ ایسا قدم اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچے گی۔

امی بھی وہاں جا کر بیٹھ گئی ہیں۔۔۔کیا ضرورت تھی نانو گھر رات رکنے گی اگر آج یہ گھر ہوتی تو سویرا کو وہاں نا رکنا پڑتا۔

سارا قصور امی کا ہے۔۔۔مجھے پورا یقین ہے انہوں نے اپنے لاڈلے کو کال کی ہی نہی ہو گی۔۔۔سو گئی ہو گی سکون سے۔

سوتی رہیں۔۔۔میں کیوں یہاں کھڑا خوار ہو رہا ہوں؟

میں پاگل ہوں کیا؟

کسی کو پرواہ ہی نہی۔۔۔غصے سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔

____________________

اسلام و علیکم۔۔۔

یوسف سلام کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔

وعلیکم اسلام۔۔۔شہلا بیگم نے سلام کا جواب دیا اور بیٹے کو دیکھ کر مسکرا دی۔

ماما جانی کیا بنا رہی ہیں آپ صبح صبح؟

کچھ خاص نہیں۔۔۔آملیٹ اور پراٹھا۔

ہممم۔۔۔یوسف کچن میں رکھی میز کے پاس کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گیا۔

کیا ہوا میرے بیٹے کو؟

آج بہت تھکے تھکے سے لگ رہے ہو۔۔۔لگتا ہے رات کو ٹھیک سے سوئے نہیں۔

یوسف نے گہری سانس لی اور مسکرا دیا۔۔۔اسے کل رات سویرا سے ہوئی اپنی پہلی ملاقات یاد آئی اور مسکراتا ہی رہا۔

کیا ہو گیا بھئی۔۔۔اتنا مسکرا کیوں رہے ہو؟

شہلا بیگم کھوجنے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔

کچھ نہیں ماما جان۔۔۔نہی ایسی کوئی بات نہیں۔میں ٹھیک سے سویا تھا رات کو۔

It’s ok

کبھی کبھی کمپرومائز کرنا اچھا ہوتا ہے۔

I mean…

کسی کی مدد کرنا اچھا ہوتا ہے۔

Like…

آہاں۔۔۔

Like what?

شہلا بیگم بھی اسی کے انداز میں مسکراتے ہوئے بولی۔

I mean she was alone at home

ایسی حالت میں آپ لوگوں نے اس کا خیال رکھا۔۔۔یہ سب تو اچھے اخلاق کی نشانی ہے۔

اچھا جی۔۔۔مریم اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔

یوسف نے چونک کر اسے دیکھا اور مسکرا دیا۔۔۔جی بلکل۔

چلیں جی یہ تو اچھا ہو گیا کہ آپ کو احساس ہو گیا ورنہ مجھے تو لگا تھا کہ سویرا کے جانے کے بعد پھر سے تمہاری بخث سننی پڑے گی۔

ماما آپ کو کچھ مدد چاہیے؟

مریم یوسف کے سامنے والی کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گئی۔

نہی بچے۔۔۔تم بیٹھو میں بنا لوں گی۔

اچھا یوسف تم یہ بتاؤ صبح صبح کس سے الجھ کر آئے ہو؟

تمہاری آواز آ رہی تھی مجھے لیکن جب تک میں ٹیرس پر آئی تم جا چکے تھے۔

کب کی بات ہے؟

مجھے تو کوئی آواز نہی آئی۔۔۔شہلا بیگم پریشان سی بولی۔

Relax…mama

پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے ماما جانی۔

آپی آپ بھی ناں۔۔۔اکیلے میں بات کر لیتی مجھ سے۔

کیا ضرورت تھی ماما کو پریشان کرنے کی۔

کچھ نہیں ہوا ماما۔۔۔وہ سویرا کا کزن تھا شعیب۔

خوامخواہ مجھ سے الجھ رہا تھا کہ سویرا کو باہر بھیجو،اسے لینے آیا ہوں۔

مجھے اس کا بات کرنے کا انداز ہی بہت عجیب لگا۔۔۔بس غصے میں دھکا دے دیا اسے کیونکہ وہ میرا گریبان پکڑنے والا تھا۔

بہت بدتمیزی کر رہا تھا میرے ساتھ۔

کیوں۔۔۔اسے کیا مسئلہ ہے تم سے؟

شہلا بیگم پریشان ہو گئی۔

یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ ماما۔۔۔میں تو اس سے آج پہلی بار ملا ہوں۔

میں نے اسے صرف اتنا کہا ہے کہ گھر سے کسی خاتون کو بھیجو۔۔۔سویرا تمہارے ساتھ نہی جائے گی۔

اس میں غلط ہی کیا ہے؟

وہ کل رات سے یہاں اس لیے ہے کہ اس کے گھر پر کوئی خاتون موجود نہیں ہے تو پھر اس کا صبح صبح یہاں آنے کا مقصد؟

عجیب سائیکو انسان ہے۔۔۔خیر آپ لوگ فکر نہیں کریں کچھ نہیں ہوتا۔

مجھے تو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ سویرا کو لے کر اتنا پوزیسسو کیوں ہے؟

آپ لوگوں کے مطابق اس گھر میں کوئی اس کا خیال نہیں رکھتا اور یہ صبح صبح اسے لینے یہاں پہنچ گیا۔

چھوڑو تم اس کو۔۔۔اگنور کرو۔

اس کا کزن زوہیب اسے یہاں چھوڑ کر گیا ہے اور اپنے چاچو کی اجازت سے ہے وہ یہاں۔

جب زوہیب یا اس کی چچی آئیں گی تو ہم اسے بھیج دیں گے۔

شہلا بیگم نے بات ختم کی۔

اب یہ زوہیب کون ہے ماما؟

یوسف کے لہجے میں غصہ تھا۔

وہ بھی سویرا کا کزن ہے شعیب کا بڑا بھائی۔۔۔جواب مریم کی طرف سے آیا۔

اور وہ ہمارے گھر کیوں آیا تھا؟

یوسف کے ایک اور سوال پر مریم نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا۔

وہ ہمارے گھر ڈاکٹر کو لے کر آیا تھا بیٹا۔۔۔اس بار شہلا بیگم نے جواب دیا۔

آئیندہ اس گھر میں کوئی انجان آدمی نا آئے ماما۔۔۔پھر چاہے وہ سویرا کا کزن ہی کیوں نا ہو۔

میرے گھر میں بھی بہن ہے۔۔۔ان کی کزن کی عزت ہے اور ہماری بیٹی کی کوئی عزت نہیں ہے کیا؟

جس کا دل چاہے منہ اٹھا کر چلا آئے۔۔۔منع کر دیں انہیں کہ آئندہ سویرا کو پک اینڈ ڈراپ دینی ہو تو اپنے قدم بس گیٹ تک ہی محدود رکھیں ورنہ میں بہت برا پیش آؤں گا۔

اچھا۔۔۔۔ٹھیک ہے۔

مریم مسکراہٹ دباتے ہوئے بولی۔

I am serious

یوسف غصے سے بولتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔

اوپر کہاں؟

نیچے آو واپس۔۔۔مریم نے آواز دی۔

مریم کی آواز پر یوسف رک گیا اور غصے میں پلٹا۔۔۔میرا کمرہ خالی کریں جلدی۔

Understand?

ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔۔ہو جائے کمرہ خالی تھوڑی دیر اس کا کزن آئے گا تو چلی جائے گی وہ۔

اور آئیندہ کسی کو بھی میرے کمرے میں ٹھہرانے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ انجام کی زمہ دار آپ خود ہو گی۔

تمہیں کچھ چاہیے تو مجھے بتاؤ میں لا دیتی ہوں۔

کچھ نہی چاہیے مجھے۔۔۔جب وہ چلی جائے تو مجھے بتا دینا آپ۔۔۔میں آپ کے کمرے میں انتظار کر رہا ہوں اور ہاں مجھے ڈسٹرب نا کرے کوئی۔

جب ناشتہ کرنا ہو کر لوں گا۔۔۔غصے میں وہاں سے مریم کے کمرے میں چلا گیا اور مریم کندھے اچکاتے ہوئے کچن میں چلی گئی۔

______________________________

سویرا کی آنکھ کھلی تو تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔کھڑکی سے سورج کی روشنی کمرے میں داخل ہو رہی تھی اور کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی پھیل چکی تھی۔

بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اور اپنی شال اٹھا کر سر پر لی۔

دوسرے کمرے میں گئی اور اپنا بیگ اٹھا کر نیچے آ گئی۔

کہاں چلی؟

دروازے کی طرف بڑھنے ہی والی تھی کہ مریم کی آواز سن کر رک گئی اور پلٹ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے گھر کی طرف اشارہ کیا۔

بیٹھ جاؤ ابھی چپ چاپ۔۔۔مریم نے اس کے ہاتھ سے بیگ کے کر ٹی لاونج کے صوفے پر رکھا اور اسے بازو سے کھینچتے ہوئے کچن میں لے گئی۔

بیٹھو یہاں۔۔۔کرسی کھینچتے ہوئے سویرا کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

سویرا بیٹھ تو گئی لیکن اس کا دھیان ابھی بھی گھر کی طرف تھا۔

شہلا بیگم نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔۔۔فکر مت کرو سویرا،سب ٹھیک ہے۔

تمہاری چچی اور کزنز ابھی گھر نہی آئی۔۔۔وہ لوگ آ جائیں پھر چلی جانا آرام سے۔

ویسے بھی گھر اکیلی بیٹھ کر کیا کرو گی؟

تمہاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ہمارے ساتھ ناشتہ کرو اور میڈیسن کھا کر آرام کرو۔

تب تک وہ لوگ گھر آ جائیں گی۔۔۔گھر پر صرف تمہارا کزن شعیب ہے۔

شعیب کا نام سن کر ڈر کے مارے سویرا کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔

اس کی یہ کپکپاہٹ شہلا بیگم اور مریم کی نظروں سے چھپ نہ سکی۔

کیا ہوا سویرا؟

مریم کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گئی اور سویرا کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔

سویرا نے سر نفی میں ہلایا اور پانی کے گلاس کی طرف اشارہ کیا۔

پانی چاہیے۔۔۔میں دیتی ہوں۔

مریم تیزی سے اٹھی اور پانی کا گلاس سویرا کی طرف بڑھایا۔

سویرا نے ایک ہی سانس میں پورا گلاس ختم کر دیا۔

سویرا کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔تم شعیب کے نام پر اتنا گھبرا کیوں رہی ہو؟

مریم نے پھر سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

سویرا تیزی سے مریم کے گلے لگ گئی اور رونا شروع ہو گئی۔

ایک گلاس پانی دے دیں مجھے۔۔۔اسی وقت یوسف کچن میں داخل ہوا۔۔۔اس کا دھیان موبائل پر تھا۔

سویرا کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو؟

سویرا کے نام پر یوسف نے موبائل سے نظریں ہٹائی۔۔۔آنکھیں بند کرتے ہوئے گہری سانس لی اور سامنے دیکھا۔

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *