Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 14)
Rate this Novel
Dill e Zaar (Episode 14)
Dill e Zaar by Khanzadi
شہلا بیگم اور مریم دروازہ کھلنے کی آواز پر فوراً باہر آئی اور یوسف کے پیچھے کھڑی سویرا کو دیکھ کر دونوں چونک گئیں۔
یہ سویرا یہاں کیا کر رہی ہے؟
تم اسے ساتھ کیوں لے آئے یوسف؟
اور تمہارے بابا جان کدھر ہیں؟
شہلا بیگم کے سوالات پر یوسف نے گہری سانس لی اور پلٹ کر ایک نظر سویرا کو دیکھتے ہوئے ماں اور بہن کی طرف دیکھا۔
بابا جان آ رہے ہیں۔۔۔کچھ پیپرز سائن کرنے تھے انہوں نے اسی کے لیے پولیس اسٹیشن گئے ہیں۔
اور سویرا تمہارے ساتھ کیوں آئی ہے؟
یوسف نے ایک بار پھر سویرا کی طرف دیکھا اور ماں کی طرف بڑھا۔۔۔یہ اب سے یہی رہے گی۔
یہاں کیوں رہے گی یہ۔۔۔؟
شہلا بیگم حیرت زدہ سی بولی۔
کیونکہ اب “یہ میری بیوی ہے”۔
“بیوی”؟
مریم نے لفظ بیوی دہرایا اور حیرت زدہ سی سویرا کی طرف بڑھی۔
کیا بکواس ہے یہ یوسف؟
یہ تمہاری بیوی کیسے بن گئی؟
شہلا بیگم تقریباً چلائی۔
اندر چل کر بات کرتے ہیں ماما۔۔۔یوسف نے ماں کا ہاتھ تھاما اور انہیں ساتھ لیے گھر کے اندرونی حصے میں آ گیا۔
مریم بھی سویرا کو ساتھ لیے اندر آ گئی اور اسے صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔
ماما جانی آپ بیٹھیں یہاں اور تسلی سے میری بات سنیں۔۔۔یوسف نے ماں کو صوفے پر بٹھایا اور خود ان کے سامنے کارپٹ پر بیٹھ گیا۔
“میں نے سویرا نے نکاح کر لیا ہے۔۔۔اب یہ یہی رہے گی میری بیوی کی حیثیت سے”
شہلا بیگم یوسف کا منہ دیکھتی رہ گئیں۔
مذاق چل رہا ہے یہاں؟
یہ مذاق نہی ہے ماما جانی۔۔۔میں سچ کہہ رہا ہوں۔
اوپر لے جائیں سویرا کو۔۔۔اسے میرے کمرے میں بٹھائیں اور کچھ کھلائیں پلائیں آپی،اتنا حیران کیوں ہو رہی ہیں آپ؟
یہ وہی سویرا ہے جس کی آپ کو ہر وقت فکر لگی رہتی تھی۔۔۔بدل نہی گئی اب یہ۔
لے جائیں اسے یہاں سے پلیز۔۔۔
یوسف نے گم سم سی کھڑی مریم کی طرف دیکھا اور طنزیہ انداز میں بولا۔
سویرا آؤ میرے ساتھ۔۔۔مریم اسے ساتھ لیے اوپر چلی گئی۔
کیا بکواس ہے یہ؟
یہ تمہارے کمرے میں کیوں جائے گی یوسف؟
ماما جانی بتایا تو ہے آپ کو ابھی۔۔۔”بیوی ہے میری”۔
بیوی شوہر کے کمرے میں نہی رہے گی تو اور کہاں رہے گی؟
تم ایسا کیسے کر سکتے ہو بیٹا؟
ایسا ہو چکا ہے ماما۔۔۔آپ اس حقیقت کو تسلیم کریں۔
قانونی طور پر یہ میری بیوی ہےاب۔
اچھا۔۔۔قانونی طور پر یہ تمہاری بیوی ہے اور ہم کیا ہیں،ہم غیر ہیں تمہارے لیے؟
تم نے ماں اور بہن سے مشورہ کرنا بھی ضروری نہی سمجھا۔۔۔اور تمہارے بابا کیسے مان گئے؟
ماما جانی مجھے اس وقت جو سہی لگا میں نے کر دیا۔۔۔اور ویسے بھی آپ لوگوں کو اس سے بہت ہمدردی تھی۔
ہمیشہ کے لیے آ گئی ہے یہ یہاں۔۔۔جی بھر کر ہمدردی کریں اس کے ساتھ۔
اسے پڑھائیں لکھائیں۔۔۔سکول بھیجیں یا کالج جو اچھا لگے کریں۔
یہ سب کچھ آپ کا اور آپی کا کیا دھرا ہے۔۔۔نا آپ لوگ اسے اس گھر میں لاتے نا مجھ پر یہ الزام لگتا اور نا مجھے یہ نکاح کرنا پڑتا۔
تمہارے ساتھ کسی نے زبردستی کی ہے کیا؟
شہلا بیگم کا لہجہ تھوڑا نرم پڑا۔
زبردستی۔۔۔؟
نہیں۔۔۔زبردستی بہت چھوٹا لفظ ہے ماما جانی۔۔۔مجھ پر سیدھا سیدھا الزام لگا ہے۔
سویرا نے سب کے سامنے خود تسلیم کیا ہے کہ میں نے اس کے ساتھ ساتھ زنا کیا ہے۔
استغفرُللہ۔۔۔شہلا بیگم کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
کس طرح کے الفاظ استعمال کر رہے ہو تم اپنے لیے؟
مجھے پورا یقین ہے تم پر بیٹا۔۔۔تم ایسا نہیں کر سکتے۔
میرا یوسف ایسا ہے ہی نہیں۔۔۔میں نے اپنے بیٹے کی بہت اچھی تربیت کی ہے۔
شہلا بیگم نے یوسف کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے ہوئے بولی۔
یوسف کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔اچھا۔۔۔تو پھر سویرا نے مجھ پر یہ الزام کیوں لگایا ماما؟
کیا آپ کا بیٹا چہرے سے زانی لگتا ہے؟
نہیں نہیں۔۔۔استغفرللہ۔۔۔خبردار دوبارہ اپنے لیے یہ لفظ استعمال نا کرنا یوسف؟
تو پھر سویرا کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ماما۔۔۔کیا وہ غلط ہے؟
نہیں۔۔۔میں نے ایسا تو نہیں کہا کہ وہ غلط ہے،اس کے ساتھ ضرور کچھ غلط ہوا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم خود کو قصوروار سمجھو۔
ہمیں گنہگار کو پکڑنا تھا ناں کہ خود کو گناہگار ثابت کرنا تھا۔
یہ کیسا انصاف ہے یوسف؟
میں بات کروں گی ان سے۔۔۔کسی اور کا گناہ میرے بیٹے کے سر کیسے ڈال سکتے ہیں یہ لوگ؟
آپ کہی نہی جائیں گی بیگم۔۔۔
ساجد صاحب غصے میں بولتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔
آپ کے بیٹے نے یہ نکاح اپنی مرضی سے قبول کیا ہے۔
اور صرف اتنا ہی نہیں۔۔۔سب کے سامنے اپنا گناہ بھی قبول کیا ہے۔
کیسا گناہ؟
کیا ہو گیا ہے آپ کو۔۔۔آپ کو اپنے بیٹے پر یقین نہیں ہے؟
یقین تھا پر اب نہی ہے بیگم صاحبہ۔۔۔اس نے بھری محفل میں میری نظریں جھکا کر اس لڑکی کو فوقیت دی ہے۔
میں نے سو بار کہا کہ خود کو کسی اور کے گناہ کی سزا مت دو لیکن اس نے میری ایک نہی سنی۔
چند رشتہ داروں کو بلائیں اور اس کے ولیمے کی رسم ادا کریں۔
ایسے کیسے ولیمے کی رسم ادا کر دیں ہم؟
میرا ایک ایک بیٹا ہے۔۔۔میں اس کی شادی دھوم دھام سے کروں گی۔۔۔یہ لاوارث تھوڑی ہے۔
شادی تو اس کی ہو چکی ہے۔۔۔یہ اپنا فرض پورا کر چکا ہے بیگم۔۔۔اب مجھے اپنا فرض پورا کرنے دیں۔
آپ سے جتنا کہا ہے اتنا کریں۔۔۔مہمانوں کی لسٹ بنائیں اور ولیمے کی تیاری کریں۔
رشتہ داروں کے جوتے سہنے کے لیے بھی تیار ہوں میں۔۔۔اسے بس اس کی من مانیاں کرنے دیں۔
بابا جان پلیز۔۔۔یوسف نے ان کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔
آپ جہاں کہیں گے جس سے کہیں گے میں شادی کے لیے تیار ہوں لیکن اس طرح اپنی تزلیل مت کروائیں۔
میں نے سویرا سے نکاح صرف اسے تخفظ دینے کے لیے کیا ہے۔۔۔میری شادی آپ سب کی مرضی سے ہو گی۔
جس وقت سویرا نے میری طرف اشارہ کیا مجھے ایسے لگا میں واقعی اس کا گناہگار ہوں۔۔۔اسے تخفظ کی ضرورت تھی بابا جان۔
وہ بے چاری جنگلی درندوں کے بھنور کے پھنس چکی تھی۔۔۔اگر اس وقت میں اسے سہارا نا دیتا تو یقیناً وہ مر جاتی۔
ایک لمحے کے لیے سوچیں ایک بے زبان لڑکی جس کی ماں مر چکی ہے اور باپ نے کبھی پلٹ کر نہی دیکھا۔۔۔دوسروں کے رحم و کرم پر جی رہی تھی۔
گھر کے کاموں تک تو ٹھیک تھا مگر اب اس کی عزت پر وار کیا گیا تھا۔۔۔اگر آج میں اسے تنہا چھوڑ دیتے تو میں ساری زندگی خود کو اس کا قصوروار سمجھتا۔
اور جہاں تک مجھے لگتا ہے میں اس کا قصوروار ہوں۔۔۔صرف میں ہی نہی ہمارے گھر کا ہر فرد اس کا قصوروار ہے۔
کیونکہ ہم سب نے اس کا بھلا سوچا۔۔۔لیکن بدلے میں اسے اتنی بڑی سزا ملی۔
صرف اس لیے کہ وہ گھر سے باہر قدم نا رکھ سکے اسے اسی کی نظروں میں گرا دیا گیا۔
وہ بے گناہ ہے،معصوم ہے۔۔۔اسے کسی محفوظ پناہی گاہ کی ضرورت تھی،میں نے بس اسے مظبوط پناہی گاہ فراہم کی ہے۔
میری نظر میں یہ رشتہ صرف کاغذات کی حد تک ہے۔۔۔اس سے زیادہ میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔
میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے آج اسے پہلی بار دیکھا ہے ہاتھ لگانا تو دور کی بات ہے۔
میں نے ایسا کوئی گناہ نہیں کیا جس کی وجہ سے آپ سب کو شرمندگی اٹھانا پڑے۔۔۔اسے یہ سزا میرے نام پر ملی ہے بس اسی لیے میں نے اسے ہمیشہ کے لیے اس گھر سے رہائی دلا دی ہے۔
یوسف نے سب کو حیران کر دیا۔
سیڑھیوں میں کھڑی سویرا اور مریم بھی حیرت زدہ سی سب سنتی رہ گئیں۔
مریم نے سویرا کا ہاتھ تھاما اور اسے ساتھ لیے نیچے آ گئی۔۔۔مجھے آپ سب کو کچھ بتانا ہے۔
سویرا نے بتایا ہے اس کی چچی نے اس کا ابورشن کروا دیا تھا۔
What?
یوسف حیرت زدہ سا مریم کی طرف پلٹا۔
سویرا نے سر اثبات میں ہلایا۔
یوسف کا دل چاہا اپنا سر دیورا میں مار لے۔۔۔اور یہ بات تم نے ہمیں وہاں کیوں نہی بتائی؟
یوسف چلایا۔
سویرا نے سر جھکا لیا۔
دیکھا آپ لوگوں نے۔۔۔کس قدر ظالم لوگ ہیں یہ،معصوم جان کو بھی نہیں بخشا۔۔۔اسے دنیا میں آنے سے پہلے ہی مار دیا تاکہ کوئی ثبوت ہی نا رہے۔
کیسا ثبوت؟
ساجد صاحب حیرت زدہ سے بولے۔
کچھ نہیں بابا جان۔۔۔میری کچھ پلاننگ تھی گناہگار کو پکڑنے کی لیکن انہوں نے ثبوت ہی مٹا دیا۔
میں جانتا ہوں یہ کس کا کام ہے۔۔۔میں اسے عبرت کا نشان بنانا چاہتا ہوں اور ایسا ہی ہو گا۔
مجھ سے جو ہو پائے گا میں کروں گا لیکن اس گھٹیا انسان کو سزا ضرور دلاؤں گا۔
میرا تم سے وعدہ ہے سویرا۔۔۔شعیب کو سزا ضرور ملے گی۔
یوسف کے منہ سے شعیب کا نام سن کر سویرا حیرت زدہ سی اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔یعنی اسے سچ پتہ تھا پھر بھی اس نے میرا ساتھ دیا۔
سویرا کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔
یوسف کا دل چاہا کہ ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو پونچھ دے مگر سب کی موجودگی کے احساس نے اسے نظریں پھیرنے پر مجبور کر دیا۔
جو بھی ہوا اچھا ہوا۔۔۔کیونکہ ایسی حالت میں نکاح نہی ہوتا یوسف۔
مریم کے انکشاف کے پر سب نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔
بابا جان آپ کا دھیان کہاں تھا اس وقت؟
کچھ یاد نہیں بیٹا۔۔۔اس وقت اتنی افراتفری تھی کہ کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا۔
تو اگر تمہیں سب کچھ پتہ تھا تو تم نے سب کے سامنے اس کا نام کیوں نہیں لیا یوسف؟
شہلا بیگم تقریباً چلائی۔
Cool down mama jani
میرے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا اس وقت اور سویرا نے بھی میری طرف اشارہ کر دیا تو میں کیا سٹینڈ لیتا وہاں؟
مجھے اس وقت یہی ٹھیک لگا۔۔۔ورنہ یہ لوگ اسے ہمیشہ کے لیے قید کر لیتے۔
تم نے جو کیا ٹھیک کیا یوسف۔۔۔میں اپنے بھائی کے ساتھ ہوں۔
Thank you so much
جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی۔
آج سے سویرا ہمارے ساتھ رہے گی اور اس کی ساری زمہ داریاں میں اٹھاؤں گی۔
یہ سکول بھی جائے اور پڑھے گی بھی۔۔۔لاوارث نہی ہے یہ اب۔
ہاں ہاں سہی ہے۔۔۔بھائی نے نکاح کر کے بیوی بنا لیا،تم اس کی ماں بن جاو۔۔۔اور آپ اس کے باپ بن جائیں لیکن میں اسے اپنے گھر میں ہرگز برداشت نہیں کروں گی۔
شہلا بیگم بے بس سی اپنے کمرے میں چلی گئیں اور ساجد صاحب بیگم کے پیچھے چلے گئے۔
آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
Don’t worry
مریم یوسف کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
Congratulations ![]()
فائنلی تم نے زندگی میں ایک تو اچھا کام کیا۔
کچھ بات کرنا چاہتے ہو تو پرائیویسی دے سکتی ہوں میں،کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
مریم معنی خیز انداز میں بولی اور فوراً کچن میں چلی گئی۔
سویرا چپ کھڑی یوسف کے ہاتھوں پر نظریں جمائے کھڑی تھی۔
یہاں کیوں کھڑی ہو؟
یوسف نے اس کے سامنے چٹکی بجائی تو سویرا ڈر گئی اور یوسف کی طرف دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔
پانی لے کر آو میرے لیے۔۔۔یوسف حکمانہ انداز میں بولا۔
سویرا نے سر اثبات میں ہلایا اور کچن میں گئی۔۔۔پانی کا گلاس ٹرے میں رکھا اور یوسف کے پاس گئی۔
یوسف نے پہلے اس کی طرف دیکھا اور پھر پانی کے گلاس کی طرف۔۔۔مسکراتے ہوئے ٹرے سے گلاس اٹھایا اور ہونٹوں سے لگا لیا۔
سویرا نے نظریں اٹھائے اس کی طرف دیکھا اور اس کے ماتھے پر بندھی پٹی پر اس کی نظریں جم سی گئیں۔
یوسف نے گلاس ٹرے میں رکھا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے موبائل کان سے لگاتے ہوئے خود کو مصروف ظاہر کرتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
مریم کچن سے واپس آئی اور سویرا کو زبردستی کھانا کھلانے کے بعد اپنے کمرے میں لے گئی۔
__________________
طارق صاحب جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے کوثر بیگم نے گھر سر پے اٹھا لیا۔۔۔یہ کیا کر دیا آپ نے؟
سویرا کا نکاح کیوں پڑھوایا آپ نے؟
اس گھر میں میری کوئی عزت ہے یا نہی؟
آپ نے مجھ سے مشورہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا اور فوراً بھتیجی کو رخصت کر دیا۔
ایک بار مجھ سے پوچھ تو لیتے آپ۔۔۔
تم نے کیا کر لینا تھا؟
طارق صاحب غصے سے چلائے۔
یہ سب تمہاری لا پرواہی کا نتیجہ ہے۔۔۔اگر تم نے سویرا پر آنکھ رکھی ہوتی تو مجھے یہ دن نا دیکھنا پڑتا۔
میری غلطی ہے یہ؟
کوثر بیگم بھی انہی کے انداز میں چلاتے ہوئے بولی۔
یہ میری غلطی نہی ہے بلکہ آپ کی ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔۔۔اور کروا لیں اسے پڑھائیاں۔
اسی دن سے ڈرتی تھی میں۔۔۔ہزار بار کہا تھا آپ سے کہ نا بھیجے اسے انجان لوگوں کے گھر مگر نہیں آپ نے تو جیسے میری نا سننے کی ٹھان لی تھی۔
یہ آپ کی من مرضیوں کے نتیجے ہیں مجھ پر الزام نا لگائیں۔
ہاں ہاں میں مانتا ہوں میں نے غلطی کی ہے اسے گھر سے باہر نکال کر لیکن تم اس کی چال چلن پر دھیان تو دے سکتی تھی۔
ایک ماں کی زمہ داری ہوتی یہ۔۔۔مگر تم نے تو اسے اپنی بیٹی سمجھا ہی نہیں کبھی۔
اگر تم نے اسے اپنی بیٹی سمجھا ہوتا اور وہ تم پر بھروسہ کرتی تو تم سے ہر بات شئیر کرتی۔
تم اس کی زبان سمجھتی مگر نہی۔۔۔تم نے تو بس اسے نوکرانی بنا کر رکھا ہوا تھا اور اسے بس کام کی زبان سمجھانا جانتی تھی۔
ان دونوں کے بھی رشتے دیکھو اور انہیں بھی گھر سے رخصت کرنے کی تیاری کرو۔
چاہے مجھے قرضہ کیوں نا اٹھانا پڑے لیکن ان کے ہاتھ جلدی پیلے کروں گا میں۔
میری بیٹیوں کا کیا قصور ہے اس میں؟
سویرا بدچلن نکلی تو میری بیٹیوں پر الزام تراشی کریں گے آپ؟
کوثر بیگم غصے سے بھڑک اٹھی۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔طارق صاحب کا ہاتھ اٹھا لیکن انہوں نے اپنے غصے پر قابو پا لیا۔
ہاں ہاں اٹھائیں مجھ پر ہاتھ۔۔۔پہلے اس لڑکی کی وجہ سے میری تزلیل کرتے رہے ہیں اور آج اس کی خاطر ہاتھ تک اٹھا لیا۔
مار لیں ہاتھ نیچے کیوں کر لیا؟
ابو آپ اپنے کمرے میں جائیں پلیز۔۔۔
زوہیب آگے بڑھا اور طارق صاحب کو کمرے میں چھوڑ کر باہر آ گیا۔
امی ایک بات آپ بہت اچھی طرح سمجھ لیں۔۔۔سویرا بدچلن نہی ہے۔
اس کا گناہگار جو بھی ہے بہت جلد آپ سب کے سامنے ہو گا۔۔۔میں اس معاملے کی تہہ تک پہنچ کر رہوں گا۔
ٹھیک ہے بھائی سویرا ایسی نہیں ہے لیکن ہم لوگوں کا اس میں کیا قصور ہے؟
باپ کے جاتے ہی نبیرہ بول پڑی۔
کسی کا کوئی قصور نہی ہے۔۔۔یہاں سویرا کی بات چل رہی ہے تم دونوں اپنا ٹاپک بند رکھو۔
جاؤ اپنے کمرے میں اپنی پڑھائی پر دھیان دو۔
زوہیب نے دونوں بہنوں کو ان کے کمرے کا راستہ دکھایا مگر دونوں ڈھیٹ بنی صوفے پر بیٹھی رہی۔
ٹھیک ہے میں ہی چلا جاتا ہوں یہاں سے۔۔۔زوہیب کندھے اچکاتے ہوئے بولا اور غصے میں بولتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
ویسے ایک بات تو ہے امی۔۔۔سویرا کی قسمت بہت اونچی نکلی ہے۔
بریرہ افسردہ سی بولی۔
بیٹھے بٹھائے اتنا پیارا لڑکا مل گیا اسے۔۔۔اور کیا چاہیے اسے؟
بریرہ اپنی بکواس بند رکھو تم۔۔۔نظر نہیں آ رہا ہم سب پریشان ہیں۔جس لڑکے کی وجہ سے سارے فساد پھیلے ہیں تم اس کی تعریفیں کر رہی ہو۔
نبیرہ نے اسے ڈانٹا۔
سہی تو کہہ رہی ہوں میں یار۔۔۔اتنا ہینڈسم لڑکا ہے وہ۔۔۔سویرا پوری زندگی بھی یہاں بیٹھی رہتی تو اسے ایسا لڑکا کبھی نا ملتا۔
ضرور اس نے اسے حاصل کرنے کے لیے یہ سب کیا ہو گا۔
چالاک تو یہ شروع سے تھی مگر اصل چالاقی اب سامنے آئی ہے اس کی۔
پہلے اس کی ماں اور بہن کے سامنے بھولی بھالی بن کر آئی اور پھر اتنے ہیڈسم لڑکے کو اپنی بھولی صورت دکھا کر پھنسا لیا ہو گا۔
کر لی بکواس یا اور کرو گی؟
کوثر بیگم کا ہاتھ جوتے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ بریرہ جلدی سے اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔
امی چھوڑیں آپ۔۔۔جو ہونا تھا ہو گیا ہمیں کیا؟
اچھا ہوا ناں اس سے جان چھوٹ گئی۔۔۔خامخواہ کا بوجھ اپنے سر پر سوار کیا ہوا تھا آپ نے۔
بلاوجہ ابو سے نا لڑیں آپ۔۔۔جائیں اپنے کمرے میں اور آرام کریں۔
نبیرہ نے ماں کو تسلی دی۔
ویسے بھی ہم زمانے کو کیا منہ دکھاتے؟
ہماری کتنی ذلالت ہوتی اگر یہ بات خاندان تک پہنچ جاتی۔
ابھی ہم سب کو یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اچھا رشتہ تھا سادگی سے نکاح کر دیا مگر بغیر شادی کے اس کے بچے کا کیا بتاتے ہم دنیا کو؟
جو بھی ہوا اچھا ہوا۔۔۔آپ خود کو ہلکان مت کریں۔
ابورشن کروا دیا میں نے اس کا صبح۔۔۔
ماں کے جواب پر نبیرہ نے حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھا۔
ایسا کیسے کر سکتی ہیں آپ امی؟
یہ گناہ ہے۔۔۔آپ کو اندازہ نہی ہے آپ نے کتنا بڑا گناہ اپنے سر لے لیا ہے۔
کچھ نہیں ہوتا۔۔۔گناہ تو کسی اور نے کیا ہے۔۔۔میں نے تو اس گناہ کو مٹایا ہے۔
کس نے گناہ کیا ہے امی؟
آپ کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہیں؟
صاف صاف بتائیں مجھے۔۔۔کیا کہنا چاہتی ہیں؟
کچھ نہیں۔۔۔اپنے باپ کو کھانا دو جا کر۔
کوثر بیگم اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
__________________
شعیب اپنے کمرے کی ساری لائیٹس بند کیے بیڈ پر اوندھے منہ گرا پڑا تھا۔
جب سے سویرا کا نکاح یوسف سے ہوا تب سے اس نے خود کو کمرے میں بند کیا ہوا تھا۔
اس کی آنکھ کھلی تو اٹھ کر ٹیرس پر آ گیا اور ریلنگ پر جھکا یوسف کے گھر میں جھانک رہا تھا۔
سویرا مریم کے ساتھ صحن میں ٹہل رہی تھی۔
مریم اسے کوئی بات سمجھا رہی تھی۔
اسی وقت یوسف گیٹ سے اندر داخل ہوا۔۔۔وہ جم سے واپس آیا تھا۔
ہاتھ میں پانی کی خالی بوتل تھی۔۔۔اس نے بوتل مریم کی طرف بڑھائی اور سلام کرتے ہوئے سویرا کی طرف دیکھا۔
وعلیکم اسلام۔۔۔تم دونوں بات کرو میں آتی ہوں۔
مریم جان بوجھ کر اندر چلی گئی۔
اہممم۔۔۔تو واک کر رہی تھی آپ دونوں؟
سویرا نے سر اثبات میں ہلایا۔
Carry on…
میں فریش ہونے جا رہا ہوں،اندر آ جانا۔
سویرا نے سر اثبات میں ہلایا۔
یوسف اندر جانے ہی والا تھا کہ اس کی نظر ریلنگ پر جھکے شعیب پر پڑی۔
یوسف نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور سویرا کی طرف بڑھا۔۔۔اور اس کے دونوں مظبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھام لیے۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
