Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488

Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 11)

87.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Zaar (Episode 11)

Dill e Zaar by Khanzadi

کیا کہا آپ نے یہ ماں بننے والی ہے؟

کوثر بیگم ہکا بکا سی ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے بولی اور سویرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا۔

جی ہاں۔۔۔ڈاکٹر نے مختصر سا جواب دیا اور زوہیب کی طرف دیکھا۔

زوہیب نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ڈاکٹر صاحب اگر آپ علاج نہیں کر سکتے تو بتا دیں لیکن غلط بات نا کریں پلیز۔

Are you ok mister?

آپ میری ڈگری پر انگلی اٹھا رہے ہیں؟

میں غلط بات کیوں کروں گا؟

I am a doctor

اس طرح کے کیسز روز دیکھنے کو ملنے ہیں مجھے۔

لیکن یہ ماں کیسے بن سکتی ہے ڈاکٹر صاحب؟

کوثر بیگم تقریباً چلائی۔

کیوں نہیں بن سکتی۔۔۔اس میں غلط ہی کیا ہے میم؟

ان کی حالت سے صاف ظاہر ہے کہ یہ ماں بننے والی ہے۔۔۔ایک تو آپ لوگ چھوٹی چھوٹی بچیوں کی شادی کروا دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ ماں کیسے بن سکتی ہے۔

پہلے سوچ سمجھ کر شادی کرنی چاہیے تھی ناں۔۔۔

she is your wife?

ڈاکٹر کے سوال پر زوہیب نے ایک نظر بے ادھر پڑی سویرا کو دیکھا اور پھر ماں کی طرف دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا کہ کچھ نا بولیں عزت کا معاملہ ہے۔

جی جی میری مسز ہیں۔۔۔زوہیب نے جھوٹ بول دیا۔

اوہ۔۔۔تو خیال رکھیں ان کا پلیز۔۔۔

Yeah Sure…Thanks Dr

اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں ہے تو میں ان کا بلڈ ٹیسٹ کر دیتا ہوں،آدھے گھنٹے بعد کلینک سے رپورٹ کے جانا آپ۔

ڈاکٹر صاحب کوثر بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔

Why not…Sure

زوہیب سویرا کے پاس بیٹھ گیا اور اس کا بازو تھام کر ڈاکٹر کو بلڈ سیمپل دیا اور ان کے ساتھ گھر سے باہر نکل گیا۔

ان کے جاتے ہی کوثر بیگم نے سویرا کو بازو سے کھینچتے ہوئے بٹھایا۔۔۔کیا کہہ رہا تھا ڈاکٹر؟

ماں بننے والی ہو تم؟

سویرا ناسمجھی کے انداز میں انہیں دیکھ رہی تھی اور پھر لفظ ماں سن کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

اس نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔

اللہ کرے کہ یہ جھوٹ ہی ہو ورنہ آج میں تمہاری جان لے لوں گی۔۔۔کوثر بیگم سویرا کے گلے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔

سویرا نے سر نفی میں ہلایا۔

نبیرہ اور بریرہ بھی دونوں حیرت زدہ سی سویرا کو دیکھ رہی تھیں۔

اور تم دونوں یہاں منہ اٹھا کر کیوں بیٹھی ہو؟

پانی کا گلاس لے کر آو میرے لیے۔۔۔میرا دماغ پھٹنے والا ہے۔

ابھی لائی۔۔۔بریرہ بھاگتی ہوئی گئی اور ماں کے لیے پانی لے آئی۔

سویرا اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا۔

نا کرو یہ ڈوپٹہ ٹھیک۔۔۔ایسے ہی رہنے دو،بے حیا تو تم ہو ہی ڈوپٹہ سنوارنے سے پارسا نہی بن جاؤ گی۔

رپورٹ آ لینے دو ایک بار۔۔۔اپنی خیر مناؤ بس۔

امی سنبھالیں خود کو۔۔۔آپ کا بی پی ہائی ہو جائے گا۔۔۔بریرہ ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔

کوثر بیگم نے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹک دیا۔۔۔آج میرا بی پی ہائی نہیں ہو گا بلکہ سیدھا دماغ کی نس ہی پھٹے گی۔

اگر ڈاکٹر کی بات سچ نکلی ناں تو میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہوں گی۔

کیا منہ دکھاؤں گی میں دنیا کو؟

میرا تو دم گھٹ رہا اس منحوس لڑکی کو دیکھ دیکھ کر۔۔۔اسے کہو میری نظروں سے دور ہو جائے۔

چلی جائے یہاں سے ورنہ میں اس کا خون پی جاؤں گی۔

سویرا جاو اپنے کمرے میں۔۔۔بریرہ نے سویرا کو بازو سے کھینچتے ہوئے پیچھے کیا۔

سویرا نظریں جھکائے گال پر بہتے آنسو پونچھتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی اور دروازے سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی۔

دیکھ لینا تم دونوں اس لڑکی نے ضرور کوئی گل کھلایا ہے۔۔۔اپنے باپ کا نمبر ملا کر دو مجھے۔

انہیں بھی تو پتہ چلے ان کی لاڈلی نے انہیں بغیر شادی کے ہی دادا بنا دیا ہے۔

نبیرہ نے فوراً اپنا موبائل ماں کی طرف بڑھایا لیکن بریرہ نے اس کے ہاتھ سے موبائل کھینچ لیا۔

نبیرہ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟

عقل کی بات تمہیں سمجھ نہیں آتی اور ایسے کاموں میں تم سب سے آگے ہوتی ہو۔

امی جلد بازی سے کام نا لیں۔۔۔زوہیب کو آ لینے دیں۔

ایک بار رپورٹس دیکھ لیں اس کے بعد ابو کو بتائیں۔۔۔جلدی کا کام شیطان کا کام ہوتا ہے۔

ہو سکتا ہے ڈاکٹر کو غلط فہمی ہوئی ہو۔۔۔جو بھی ہو سویرا ایسی نہی ہے۔

اتنا یقین تو ہے مجھے اس پر۔۔۔آپ تھوڑا انتظار کر لیں بہتر ہے۔

خوامخواہ ابو کو پریشان نا کریں۔۔۔اگر رپورٹس میں ایسا کچھ نا آیا تو خوامخواہ آپ کو ابو کے سامنے شرمندگی اٹھانے پڑے گی۔

تم کیوں اس کی سائیڈ لے رہی ہو؟

نبیرہ منہ پھلاتے ہوئے بولی

تم اپنا منہ رکھو اور دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔جاو اپنے کمرے میں۔

بریرہ غصے سے بولی مگر نبیرہ ٹس سے مس نا ہوئی۔

نا بھئی میں تو پوری فلم دیکھ کر ہی جاؤں گی۔

نبیرہ کی ڈھٹائی پر کوثر بیگم نے جوتا اٹھایا اور اس کی طرف اچھالا۔

ہائے اللہ۔۔۔امی مجھے کیوں مار رہی ہیں؟

میں نے کچھ غلط تو نہیں کہا۔۔۔آپ سویرا کا غصہ مجھ پر کیوں نکال رہی ہیں؟

لعنت ہے تم جیسی اولاد پر۔۔۔ماں کو سنبھالنے کی بجائے الٹا مزاق کر رہی ہو۔

کوثر بیگم غصے سے چلائی۔

کیا ہو گیا ہے امی۔۔۔؟

غلطی سویرا کی ہے۔۔۔آپ کو اسے جوتے مارنے چاہیے اور الٹا آپ مجھ پر جوتوں کی برسات کر رہی ہیں۔

میں تو آپ کا ٹائم پاس کروا رہی تھی کہ کہی زوہیب بھائی کے آنے تک آپ کا پارہ ہائی نا ہو جائے۔

بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔۔۔خیر میں جا رہی ہوں اپنے کمرے میں بھائی آ جائے تو مجھے انفارم کر دینا آپ لوگ۔

دفع ہو جاو۔۔۔بریرہ غصے سے بولی تو نبیرہ کندھے اچکاتے ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔

پتہ نہیں کیا بنے گا۔۔۔میں سب کو کیا جواب دوں گی؟

اگر ایسا کچھ ہوا ناں تو میں نے اسے سیدھا اس کے باپ کے حوالے کر دینا ہے۔

فوراً یہاں آئے اور اپنی بیٹی کو لے کر جائے۔۔۔میں بدنامی کا یہ داغ اپنے سر نہی لے سکتی۔

میرے گھر میں بھی دو بیٹیاں ہیں کل کو ان کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں میں لیکن اگر اس لڑکی کے کرتوت سب کے سامنے آ گئے تو میرے گھر رشتہ لے کر کون آئے گا؟

میرا تو سوچ سوچ کر ہی دماغ پھٹ رہا ہے۔۔۔یہ گلاس رکھو ادھر۔

کوثر بیگم کسی صورت چپ نہیں ہو رہی تھیں۔

بریرہ نے ان کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر میز پر رکھا اور ماں کے کندھے دبانے لگ گئی۔۔۔امی پلیز سنبھالیں خود کو۔

آپ خود کو تکلیف مت دیں۔۔۔بس دعا کریں کہ یہ جھوٹ ہو۔

ہم تو ایسا تصور بھی نہیں کر سکتے۔۔۔بدنامی کے ڈر سے خود کو نا کچھ کروا لینا آپ۔

جو بھی ہو گا دیکھا جائے گا۔

ایسے کیسے دیکھا جائے گا بریرہ؟

مجھے تو تمہارے باپ کا ہی سوچ سوچ کر سانس نہی آ رہا۔۔۔جب ان کو پتہ چلے گا وہ تو میرے گردن پر ہی تلوار رکھیں گے کہ تمہارے ہوتے ہوئے یہ سب کیسے ہو گیا۔

میں تو گھر سے باہر رہتا ہوں۔۔۔ساری زمہ داریاں تمہارے سر پر تھیں اور تم نے یہ تربیت کی ہے سویرا کی۔

امی اچھا اچھا سوچیں پلیز۔۔۔اللہ نا کرے کہ ایسا کچھ ہو۔

آپ کا تو کوئی قصور نہیں ہے اس میں۔۔۔جو بھی ہو،میں تو کہتی ہوں بس پہلی فرصت میں تایا ابو کو کال کریں اور اسے ان کے حوالے کریں۔

پہلے کی بات اور تھی اب سویرا بڑی ہو رہی ہے۔۔۔بہت بڑی زمہ داری ہے یہ۔

کسی کو بیٹی کو سنبھالنا بہت مشکل ہے۔آپ گلی الحال خود کو سنبھالیں بس۔

کیا ہوا کوئی مر گیا ہے کیا؟

شعیب شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔

یہ دیکھ لو۔۔۔ان دو بچوں کے ہوتے ہی میں خود کو کیا سنبھالوں گی؟

ان دونوں بہن بھائی سے مجھے اچھے کی امید بلکل نہیں ہے۔

انہوں نے جب بھی بولنا ہے برا ہی بولنا ہے۔

ارے امی ہوا کیا ہے؟

کیوں آپ برسا رہی ہیں۔۔۔آپ کی حالت دیکھ کر تو یہی لگ رہا کہ کسی کا سوگ منا رہی ہیں۔

شعیب ڈھٹائی سے بولا۔

چپ چاپ بیٹھ جاؤ گھر۔۔۔دس پندرہ منٹ میں تمہیں خود ہی پتہ چل جائے گا کہ کیا ہوا ہے۔

جواب بریرہ کی طرف سے آیا۔

بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے؟

کچھ نہی ہوا۔۔۔سویرا کی طبیعت خراب تھی وہ کچن میں گر گئی تھی۔ہم نے ڈاکٹر کو بلایا تو ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ وہ ماں بننے والی ہے۔

کیا۔۔۔؟

شعیب ایک جھٹکے میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور پریشانی میں بالوں میں ہاتھ پھیرا۔

ہاں جی۔۔۔لیکن ابھی کنفرم نہیں ہے۔زوہیب بھائی گئے ہیں کلینک پر بلڈ ٹیسٹ کروانے،سچ ہے یا نہیں یہ تو رپورٹس آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔

کونسے کلینک گئے ہیں وہ؟

شعیب کے سوال پر بریرہ نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا اور گھوری ڈالی۔

ہمارے محلے میں ایک ہی کلینک ہے ظاہری سی بات ہے وہی گئے ہو گے۔

میں دیکھتا ہوں۔۔۔کہی وہ بہن کا چہیتا رپورٹس بدل نا دے۔۔۔شعیب تیزی میں گیٹ کی طرف بھاگا۔

_______________________

تم یہاں کیا کر رہے ہو؟

شعیب کو کلینک میں داخل ہوتے دیکھ کر زوہیب تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔

شعیب نے بھنویں اچکاتے ہوئے زوہیب کی طرف اور افسوس میں سر ہلایا۔۔۔رپورٹس لے کر جاؤں گا میں۔

بات دراصل یہ ہے کہ مجھے آپ پر بلکل یقین نہی ہے۔۔۔ہو سکتا ہے آپ رپورٹس بدل دیں۔

اسی لیے امی نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔

رپورٹس میں رسیو کروں گا۔

جاؤ گھر۔۔۔زوہیب دبی دبی سی آواز میں مگر سخت لہجے میں بولا۔

میں نے کہا ناں میں رپورٹس کے کر ہی جاؤں گا بھائی۔۔۔آپ سویرا کو بچانے کی کوشش مت کریں۔

میں کسی کو بچانے کی کوشش نہی کر رہا شعیب۔۔۔بس میں یہاں کوئی تماشہ نہی چاہتا۔

تم گھر جاؤ۔۔۔میں پانچ منٹ میں گھر پہنچ رہا ہوں۔

Congratulations Mr Zohaib…Your wife is Pregnant

رپورٹ پازیٹیو ہے۔۔۔یہ لیں۔

وہ دونوں ابھی بات ہی کر رہے تھے کہ ڈاکٹر کی آواز پر دونوں چونک گئے۔

Thanks Dr…

شعیب نے ڈاکٹر کے ہاتھ سے رپورٹ لی اور کھول کر دیکھنے کے بعد طنزیہ مسکرایا۔

مبارک ہو آپ کو بھائی۔۔۔آپ کی بیوی۔۔۔میرا مطلب ہے بھابھی ماں بننے والی ہیں۔

زوہیب نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور ڈاکٹر سے ہاتھ ملاتے ہوئے شعیب کو بازو سے کھینچتے ہوئے کلینک سے باہر نکل گیا۔

واہ کیا کہنے ہیں آپ کے۔۔۔سویرا کا گناہ چھپانے کے لیے اسے اپنی مسز بتا دیا۔

داد دینی پڑے گی آپ کی سوچ کی بھائی۔۔۔شعیب بولتا جا رہا تھا اور زوہیب بے بس سا اس کی باتیں برداشت کر رہا تھا۔

دونوں گھر پہنچے تو کوثر بیگم تیزی سے زوہیب کی طرف بڑھی۔۔۔کیا کہا ڈاکٹر نے؟

رپورٹ میں کیا آیا۔۔۔؟

زوہیب نے نظریں جھکا لی۔۔۔وہ کچھ بول ہی نہی سکا لیکن کوثر بیگم کو ان کے سوال کا جواب مل چکا تھا۔

رپورٹس پازیٹیو ہے امی۔۔۔آپ نانی بننے والی ہیں وہ بھی بیٹی کی شادی کیے بغیر۔

کوثر بیگم جہاں کھڑی تھیں وہی بیٹھ گئیں۔۔۔ان کی حالت خراب ہو چکی تھی۔

بریرہ اور نبیرہ دونوں ماں کی طرف بھاگی اور انہیں سہارا دیتے ہوئے صوفے پر بٹھایا۔

امی سنبھالیں خود کو۔۔۔زوہیب ماں کی طرف بڑھا۔

مجھے خود سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کروں؟

سویرا ایسا کر ہی نہیں سکتی۔۔۔ضرور اس کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے۔

تم ہمیشہ اسی کی سائیڈ لینا۔۔۔ابھی بھی تمہیں وہ سہی لگ رہی ہے اور ہم غلط۔

کوثر بیگم غصے سے چیختے ہوئے بولی۔

جان لے لوں گی میں اس لڑکی کی۔۔۔کوثر بیگم اٹھ کر سویرا کے کمرے کی طرف بھاگی۔

سویرا باہر سے آنے والی آوازیں سن چکی تھی۔۔۔ڈر کر دیوار سے لگ کر بیٹھ گئی۔

کوثر بیگم کمرے میں آئی اور اس پر تھپڑوں کی برسات کر دی۔

امی یہ کیا کر رہی ہیں آپ۔۔۔؟

زوہیب دوڑتے ہوئے ان کے پیچھے کمرے میں آیا اور سویرا کو بچانے کی کوشش کی مگر اس دوران اسے بھی تھپڑ پڑتے گئے۔

پیچھے ہٹ جاؤ تم۔۔۔خبردار جو آج تم اس کی حمایت میں ایک لفظ میں بولے تو میں بھول جاؤں گی کہ تم میرے بیٹے ہو۔

کمبخت۔۔۔یہ صلہ دیا ہے تم میری پرورش کا۔۔۔کیا کمی رہ گئی تھی میری تربیت میں؟

بتاؤ مجھے کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے؟

کس کا بچہ ہے یہ؟

کون ہے اس بچے کا باپ؟

بتاؤ مجھے۔۔۔

کوثر بیگم جتنا چلا سکتی تھی چلائی اور ساتھ ہی ساتھ سویرا کو مارتی بھی رہی۔

امی بس کر دیں مر جائے گی یہ۔۔۔زوہیب مسلسل اسے بچانے کی کوشش میں تھا مگر کوثر بیگم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔

جب یہ دوسروں کے گھروں میں راتیں رکے گی تو یہی انجام ہو گا ناں۔۔۔اور بھیجیں اسے پڑھائی کرنے۔

اس سے کیوں پوچھ رہی ہیں میں بتاتا ہوں آپ کو اس بچے کے باپ کا نام۔۔۔شعیب طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔

کیا مطلب ہے تمہارا؟

کوثر بیگم سویرا کو چھوڑ کر شعیب کی طرف بڑھی۔

مطلب تو بہت صاف ہے امی۔۔۔بس آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ہا۔۔۔۔کوثر بیگم نے حیرانگی سے منہ پر ہاتھ رکھا اور تیزی میں کمرے سے باہر نکل گئیں۔

دفع ہو جاؤ تم بھی یہاں سے۔۔۔زوہیب غصے سے چلایا۔

شعیب نے کندھے اچکاتے ہوئے ایک حقارت بھری نظر سویرا پر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

سب ٹھیک ہو جائے گا بچے۔۔۔زوہیب نے سویرا کے سر پر دوپٹہ رکھا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔

اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ سویرا سے کس طرح پوچھے۔۔۔کیا سوال کرے۔

وہ اسی کشمکش میں کھڑا تھا کہ ساتھ والے گھر کی مسلسل بیل بجانے کی آواز سن کر چونک گیا۔

Ohhh No

تیزی میں کمرے سے باہر بھاگا اور گیٹ سے باہر نکلا۔۔۔سامنے کوثر بیگم کھڑی تھیں اور ان کے ساتھ زوہیب رپورٹس تھامے کھڑا تھا۔

امی آپ یہ کیا کر رہی ہیں؟

واپس چلیں اندر۔۔۔اس طرح بنا کسی ثبوت کے کسی پر الزام لگانا سہی نہیں ہے۔

زوہیب بول رہا تھا مگر کوثر بیگم پر کچھ اثر نہی پڑ رہا تھا وہ مسلسل ڈور بیل بجا رہی تھیں۔

دروازہ کھلا اور سامنے یوسف کھڑا تھا۔۔۔ان سب کو ایک ساتھ کھڑے دیکھ کر تھوڑا حیران ہوا۔

جی۔۔۔خیریت؟

کوثر بیگم غصے سے آگے بڑھی اور یوسف کو گریبان سے تھام کر اس کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ لگایا۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *