Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 06)
Rate this Novel
Dill e Zaar (Episode 06)
Dill e Zaar by Khanzadi
کیا ہوا۔۔۔دروازے میں کیوں رک گئی؟
آ جاؤ اندر۔۔۔
سامنے زوہیب تھا۔۔۔سویرا کو لگا شعیب ہے۔زوہیب کو دیکھتے ہی اس کی جان میں جان آئی اور اس نے سکھ کا سانس لیا۔
کیا ہوا سب خیریت ہے ناں؟
زوہیب اسے گم سم کھڑے دیکھ کر آگے بڑھا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔
سویرا نے ڈوپٹے سے اپنا ماتھا صاف کیا اور مسکراتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔
سویرا۔۔۔کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے؟
زوہیب پریشان ہو چکا تھا۔
سویرا نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلایا اور اپنی کتابیں زوہیب کی طرف بڑھائی۔
بات کو بدلنے کی کوشش مت کرو سویرا۔۔۔بتاو مجھے تمہیں کیا ہوا ہے؟
اتنی ڈری ہوئی کیوں ہو؟
سویرا نے سر نفی میں ہلایا اور زوہیب کی طرف اشارہ کیا۔۔۔یعنی وہ اسے سمجھانا چاہ رہی تھی کہ اچانک اسے سامنے دیکھ کر ڈر گئی تھی۔
اففف۔۔۔تم بھی ناں۔۔۔بھائی کی جان ہی نکال دی تھی تم نے بچے۔
آج پہلی بار تمہیں انجان لوگوں میں بھیجا ہے ہم نے اور تمہاری یہ گھبراہٹ دیکھ کر میرا دل ڈر گیا۔
سب سہی تھا ناں وہاں؟
کوئی پریشانی تو نہیں؟
سویرا نے سر نفی میں ہلایا اور دل ہی میں طنزیہ مسکرائی۔۔۔کبھی کبھی انسان کو انجان لوگوں سے زیادہ اپنوں سے زیادہ ڈر لگتا ہے بھائی۔
ایک اپنے نے ہی مجھے میری اپنی زندگی سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے،میرا بس نہی چلتا کہ میں یہاں سے بہت دور چلی جاؤں۔۔۔اتنی دور کہ یہ اپنا میرے خواب و خیال تک میں نہ آ سکے۔
کاش۔۔۔میں ایسا کر سکتی۔۔۔بول تو نہی سکتی تھی دل ہی دل میں سوچتے ہوئے کرب سے مسکرا دی۔
یہ تم نے لکھا ہے؟
زوہیب خوشی سے اس کے لکھے ہوئے لفظ دیکھتے ہوئے بولا۔
واہ۔۔۔بہت پیارا لکھا ہے بس اسی طرح دل لگا کر پڑھتی ہوں انشاء اللہ کامیابی حاصل کرو گی۔
میں بہت خوش ہوں تمہارے لیے سویرا۔۔۔مجھے بلکل امید نہی تھی کہ امی مان جائیں گی۔
وہ تو شکر ہے کہ انکل کی ابو سے ملاقات ہو گئی ورنہ تو یہ ناممکن تھا۔
بس اب تم نے ایک بھی چھٹی نہیں کرنی اور گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی پر خاص توجہ دینی ہے۔
ٹیچر کیسی ہیں تمہاری؟
زوہیب کے سوال پر سویرا نے ناسمجھی کے انداز میں اسے دیکھا۔
اوہ۔۔۔میرا مطلب تھا کہ اچھی ہیں ناں تمہارے ساتھ،اچھا پڑھاتی ہیں؟
زوہیب بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے سوال پر خود ہی مسکراتے ہوئے بولا۔
سویرا نے اسے انگوٹھا دکھایا۔۔۔جس کا مطلب تھا کہ بہت اچھی ہیں۔
ہممم۔۔۔یہ تو اچھی بات ہے بچے۔۔۔چلو آپ آرام کرو اب صبح ملتے ہیں۔
زوہیب اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
سویرا نے دروازے کے ساتھ کرسی لگائی اور بیڈ پر گئی۔۔۔اپنی کتابیں دیکھتی رہی اور الفاظ کو ترتیب دینے کی کوشش میں لگی رہی۔
مریم نے اسے ہوم ورک بھی دیا تھا تا کہ زیادہ سے زیادہ لکھ سکے۔
اپنا کام مکمل کرنے کے بعد اس نے کمبل اوڑھا اور لمبے عرصے بعد آج پرسکون نیند سو گئی۔
اگلی صبح۔۔۔
کیسی رہی سویرا کی پہلی کلاس؟
بہت اچھی تو نہی بس نارمل سی ماما۔۔۔کچھ عجیب ہے اس لڑکی کی زندگی میں۔
میرا مطلب ہے کہ اس کا ایک کزن ہے زوہیب۔۔۔وہ اسے کافی سپورٹ کرتا ہے گھر میں۔۔۔کافی تو نہی لیکن اس نے سویرا کو پڑھانے کی تھوڑی بہت کوشش کی ہے۔
وہ اپنا نام لکھ لیتی ہے اور حیرت تو اس بات کی ہے کہ اس نے ایک پیج پر صرف زوہیب بھائی لکھا ہوا ہے۔
I think he is very Special person in her life
اور مجھے عجیب یہ لگا کہ جب وہ سویرا کی اتنی ہیلپ کر سکتا ہے تو اسے پڑھنے کی اجازت کیوں نہیں دلوا سکا آج تک؟
سوچنے والی بات ہے ماما۔۔۔
جس گھر میں عورت کی چلتی ہوں وہاں اس بیچارے کی کیا سنی جاتی مریم۔۔۔سویرا کی چچی بہت چالاک خاتون ہیں۔
ہو سکتا ہے زوہیب نے بات کی ہو اور وہ نا مانی ہو۔۔۔ویسے بھی وہ ہماری نہی سن رہی ہی تھیں۔۔۔کتنی کوشش کی تھی ہم نے انہیں سمجھانے کی لیکن ان کا جواب ناں میں ہی تھا۔
زوہیب نے کوشش تو کی ہو گی لیکن ماں کی چالاقیوں سے ہار گیا ہے۔
سہی کہہ رہی ہیں آپ ماما۔۔۔عجیب سا ماحول ہے ان کے گھر کا۔
یہ تو بابا جانی کی ہمت ہے جو انہوں نے انکل کو راضی کر لیا ورنہ ہم نے تو امید ہی چھوڑ دی تھی۔
Thanks Alot baba jani
یہ سب آپ کی محنت کا صلہ ہے۔
مریم اپنے بابا کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بولی۔
بڑے لاڈ چل رہے ہیں صبح صبح،خیر تو ہے بابا جان؟
اسلام و علیکم۔۔۔یوسف سیڑھیاں اترتے ہوئے بولا اور ماں کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
وعلیکم اسلام۔۔۔شہلا بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔۔اٹھ گیا میرا بچہ۔
یہ لاڈ تو اب چلتے رہیں گے بیٹا جانی کیونکہ آپ کی بہن کی خواہش جو پوری ہو گئی ہے۔کل انہوں نے سویرا کو پہلی کلاس دی ہے۔
ماں کے سوال پر یوسف نے چونک کر ان کی
طرف دیکھا۔۔۔کیسی کلاس ماما؟
اوہ۔۔۔اچھا اچھا۔۔۔تو محترمہ کے گھر والے مان گئے ان کو پڑھانے کے لیے۔
جی بلکل۔۔۔مریم فخریہ انداز میں بولی۔
Ohhh That’s Great
خوشی ہوئی سن کر۔۔۔
Well…
ناشتے کا کیا سین ہے؟
I mean…
سویرا نامی چیپٹر کلوز ہو جائے تو ناشتہ سرو کر دیں آپی۔۔۔پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔
ہاں ہاں کیوں نہی۔۔۔ابھی لاتی ہوں ناشتہ۔
مریم خوشی خوشی اٹھی اور کچن میں چلی گئی۔
ویسے آپی نے کچھ زیادہ ہی سیریس لے لیا اس لڑکی کو۔۔۔آپ کو نہی لگتا کہ ہمیں کسی پر اتنی جلدی بھروسہ کر لینا چاہیے؟
I mean That’s good but…
وہ لڑکی بول نہی سکتی اور ہمیں یہاں شفٹ ہوئے ابھی چند دن ہوئے ہیں ایسے حالات میں کسی اجنبی کا گھر میں آنا جانا۔
تھوڑا عجیب لگ رہا ہے مجھے۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے یوسف۔۔۔میری ملاقات ہوئی ہے اس کے چاچو سے۔شریف انسان ہیں اور سویرا بہت اچھی بچی ہے۔
ساجد صاحب اطمینان سے بولے۔
جی بیٹا۔۔۔آپ کے بابا ٹھیک کہہ رہے ہیں واقعی وہ بہت ڈیسنٹ پرسن ہیں اور جہاں تک سویرا کی بات ہے وہ بچی بہت سلجھی ہوئی اور ڈری سہمی سی ہے۔
کوئی چالاقی نہی ہے اس میں۔۔۔بہت ہی ڈیسنٹ سی اور بات کو سننے سمجھنے والی بچی ہے۔
جب تم اسے دیکھو گے تو تمہیں پتہ چل جائے گا ہم کیوں اس سے اتنے اٹیچڈ ہو گئے ہیں۔
ناں ناں۔۔۔مجھے اس سے ملنے کا کوئی شوق نہیں ہے ماما جان۔
آپ لوگ ہی دیکھیں اسے۔۔۔مجھے تو ویسے ہی ڈر لگتا ہے ایسے بچوں سے۔
I mean…i got Irritate
عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔پتہ نہی کیوں لیکن ایسا ہے۔
ہا۔۔۔ایسا نہی کہتے یوسف،بری بات ہے بیٹا۔
ایسے بچے خاص ہوتے ہیں اور انہیں ہماری محبت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
مخصوص توجہ سے یہ لوگ نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔
کسی کے لیے اچھا نہی کر سکتے تو اس کے لیے غلط بھی مت سوچو۔۔۔ہمیں ایسے بچوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے۔
Control Your Irritation
ہممم۔۔۔ٹھیک ہے ماما۔
ساجد صاحب کے موبائل کی رنگ ٹون بھی تو وہ موبائل کان سے لگائے باہر لاونج میں چلے گئے۔
ویسے کتنے بجے آئے گی وہ؟
ملاقات کرنی پڑے مس سویرا سے۔۔۔
یوسف ماں کو تنگ کرنے کے انداز میں دائیں آنکھ بند کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولا۔
شہلا بیگم نے اس کے کان کھینچے۔۔۔خبردار اگر اس کے سامنے بھی آئے۔
مار پڑے گی مجھ سے۔۔۔اس کے چاچو سے وعدہ کیا ہے کہ ہمارا بیٹا اس کی موجودگی میں گھر پر نہی ہو گا۔
تو بیٹا جی آپ زرا دور ہی رہنا اس سے ورنہ آپ کی آپی نے چھوڑنا نہی آپ کو۔
Ok ok…i understand please leaves my ears mom
درد ہو رہا ہے مجھے۔
آج تو چھوڑ رہی ہوں لیکن آئیندہ ایسی بات کی تو جوتے سے پٹائی کروں گی۔
Come on mom…
ایسی بھی کیا کہہ دیا میں نے؟
بس مزاق کر رہا تھا آپ سے اور کچھ نہی۔
میں تو اسے جانتا تک نہیں۔۔۔آپ لوگ خوامخواہ مجھ پر شک کرتے رہتے ہیں۔
ویسے میں ایک بات سوچ رہا تھا۔۔۔وہ آپ لوگوں کو اتنی ہی اچھی لگتی ہے تو اسے اس گھر میں ہی لے آئیں۔۔۔خومخواہ اس کے لیے پریشان رہتی ہیں آپ اور آپی ہر وقت اور اب تو بابا جان کو بھی ساتھ ملا لیا آپ دونوں نے۔
باقی بچا میں۔۔۔میرا خیال ہے سوچا جا سکتا ہے اس بارے میں،کیا کہتی ہیں آپ؟
کیا مطلب میں سمجھی نہیں یوسف؟
شہلا بیگم سوچ میں پڑ گئی۔
میرا مطلب ہے کہ باقی بچا میں۔۔۔وہ ہمیشہ کے لیے ہمارے گھر میں آ سکتی ہے۔باقی جیسے آپ کی مرضی۔
یوسف۔۔۔شہلا بیگم اس کی بات کا مطلب سمجھ گئی اور جوتے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
اس سے پہلے کہ وہ جوتا پکڑتی یوسف ہنستے ہوئے کچن میں چلا گیا۔۔۔آپی جلدی بنا لیں ناشتہ کیوں پٹوانا ہے آپ نے ماما سے مجھے۔
ٹائم پاس کے چکر میں ماما جوتا اٹھانے والی تھی ابھی۔۔۔وہ تو شکر ہے میں نے بابا کو اندر آتے دیکھ لیا اور فوراً کچن میں آ گیا ورنہ ماما کا تو آپ کو پتہ ہی ہے۔
تو ایسی حرکتیں نا کیا کرو ناں۔۔۔سن رہی تھی میں تم جو کہہ رہے تھے۔
خبردار!
I warned you…
سویرا کے اردگرد منڈلانے کی کوشش بھی مت کرنا۔
Ohhh… Really?
Are you serious Api?
میرے مذاق کو کچھ زیادہ ہی سیریس نہیں لے رہی آپ آج کل؟
آپ کو لگتا ہے میں اس گونگی لڑکی کے اردگرد کے منڈلاوووو گا۔
یوسف منڈلاوووو لفظ کو تھوڑا کھینچتے ہوئے بولا۔
مریم نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا اور مسکرا دی۔۔۔کبھی کبھی انسان مذاق مذاق میں سیریس بھی ہو جاتا ہے۔
Oooooouuuu…Forget it
مجھے ناشتہ دیں میں جاو۔۔۔یوسف چڑتے ہوئے بولا اور ناشتے کی ٹرے اٹھائے کچن سے باہر نکل گیا۔
___________
ایک ہفتے تک تو سب سہی چلتا رہا۔۔۔سویرا روٹین سے پڑھنے آ رہی تھی لیکن پھر ایک رات سویرا کتابیں پھیلائے بیٹھی پڑھ رہی تھی کہ شعیب کمرے میں داخل ہوا۔
سویرا نے ڈر کر کتابیں کمبل کے نیچے چھپائی اور گہری سانس لیتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔
طارق صاحب ابھی صبح ہی ڈیوٹی کے لیے گئے تھے اور شعیب کو یہاں آنے کا موقع مل گیا۔
شعیب غصے سے آگے بڑھا اور کمبل کے نیچے سے کتابیں اٹھا کر دیکھی اور زور سے زمین پر پٹخ دی۔
غصے سے آگے بڑھا اور سویرا کے بال ہاتھ میں دبوچ لیے۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی گھر سے باہر نکلنے کی؟
بتاؤ مجھے؟
کس کی اجازت سے تم ساتھ والے گھر پڑھائیں کرنے جا رہی ہو؟
سویرا نے دونوں ہاتھوں سے اپنے بالوں کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن شعیب کے ہاتھ کی گرفت بہت مضبوط تھی۔
کیا لگتا ہے تمہیں مجھ سے رہائی حاصل کر لو گی؟
لکھنا سیکھ لو گی تو سب کو میرے بارے میں بتاؤ گی؟
سویرا نے سر نفی میں ہلایا اور رونا شروع ہو گئی۔
رونے کا ڈرامہ مت کرنا میرے سامنے۔۔۔سب جانتا ہوں میں کہ تم اس گھر میں کیوں جاتی ہوں۔
میں کافی نہی ہوں تمہارے لیے؟
نیا یار ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہو؟
دیکھا ہے میں نے تمہارے عاشق کو آج۔۔۔عشق کے بھوت سوار ہونے لگے ہیں تمہارے سر پر۔
شعیب کے الزامات پر سویرا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔وہ مسلسل سر نفی میں ہلا رہی تھی مگر شعیب کے سر پر تو جیسے شیطان سوار تھا۔
بتاؤ کس چیز کی کمی ہے میرے اندر؟
شعیب نے سویرا کے چہرے پر زور سے تھپڑ مارا۔
وہ درد سے کراہ اٹھی اور ڈر کر دیوار سے لگ کر بیٹھ گئی۔
چپ۔۔۔ایک دم چپ!
خبردار!
تمہاری آواز کمرے سے باہر نکلی تو جان سے مار دوں گا تمہیں۔۔۔وہ آگے بڑھا اور زور سے سویرا کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی آواز کو دبایا۔
سویرا نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔شعیب نے آج سے اس پر کبھی غصہ نہی کیا تھا اور نہ ہی اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔اس کا یہ والا روپ دیکھ کر سویرا کے ڈر میں مزید اضافہ ہو گیا۔
مجھے تو یہ سمجھ نہی آ رہا کہ امی نے تمہیں اس طرح گھر سے نکلنے کی اجازت کیسے دے دی۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں چپ چاپ بیٹھا یہ تماشہ دیکھتا رہوں گا؟
ہرگز نہی۔۔۔تمہارے پر تو میں ایسے کاٹوں گا کہ زندگی بھر اڑنا تو دور کی بات ہے اڑنے کا سوچو گی بھی نہی۔
شعیب نے اپنی پینٹ سے بیلڈ کھینچ کر باہر نکالی اور ہاتھ پر لپیٹ کر اس پر ہاتھ کی گرفت مظبوط کرتے ہوئے سویرا کی طرف جھکا۔۔۔اگر تمہاری آواز باہر نکلی تو میں ابھی تمہاری گردن دبا دوں گا۔
پلٹ کر دروازے کی طرف بڑھا اور کرسی دروازے کے ساتھ لگا کر لائٹ بند کرتے ہوئے سویرا کی طرف بڑھا اور بیلڈ سے اس پر وار کرتا چلا گیا۔
سویرا نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے اور اپنی چیخ کو دبایا۔۔۔وہ سمجھ نہی پا رہی تھی کہ اسے کس بات پر سزا مل رہی ہے۔
شعیب کا یہ نیا روپ دیکھ کر اس کی روح تک کانپ گئی۔
شعیب جب مار کر تھک گیا تو سویرا کے چہرے پر جھکا۔۔۔یہ درد تمہیں ہمیشہ یاد رہے گا۔
سویرا کانپ رہی تھی اور اس کے آنسو شعیب کے ہاتھ پر گر رہے تھے۔
شعیب نے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کیے۔
سویرا ڈر کر مزید پیچھے ہٹی لیکن پیچھے دیوار تھی۔
میں ایسا کرنا نہی چاہتا تھا لیکن تم مجھے مجبور کر دیا ہے سویرا۔۔۔کیا کروں نہی ہو رہا مجھ سے برداشت۔
تم پر صرف میرا حق ہے۔۔۔کسی اور کو تمہارے قریب برداشت نہیں کر سکتا میں۔
جو غلطی تم نے کی ہے ناں اس کی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہو جاو۔
تم ہمیشہ میری قید میں رہو گی۔۔۔اس قید سے رہائی پانا تمہارے لیے ناممکن ہے۔اس حقیقت کو جتنی جلدی قبول کر لو تمہارے لیے اچھا ہو گا۔
تمہاری یہ درد بھری آہیں مجھے سکون دے رہی ہیں۔۔۔جتنا رو سکتی ہے تو لو لیکن مجھ سے پیچھا نہی چھوٹنے والا تمہارا۔
میرے کندھے پر سر رکھ کر جی بھر کر رو لو۔۔۔شعیب لیٹ کر زبردستی اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا اور اپنی وحشت مٹانے میں مصروف ہو گیا۔
سویرا کو ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ زندہ ہی نہیں ہے۔۔۔کسی بے جان وجود کی طرح خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ کر آنکھیں بند کر گئی۔
_________________
اگلے دن سویرا پڑھنے کے لیے آئی تو مریم نے محسوس کیا کہ وہ کچھ کھوئی کھوئی سی ہے۔
مریم وائٹ بورڈ پر کچھ لکھ رہی تھی مگر سویرا کا دھیان کھڑکی کی طرف تھا۔
مریم آگے بڑھی اور اس کے بازو پر ہاتھ رکھا تو سویرا ڈر کر پیچھے ہٹی اور درد سے کراہ اٹھی۔
مریم چونک کر پیچھے ہٹی۔۔۔سویرا کیا ہوا،تم ٹھیک تو ہو ناں؟
سویرا نے بازو پر ہاتھ رکھا اور خالی خالی نظروں سے مریم کو دیکھتے ہوئے صوفے پر گر گئی۔
جاری ہے۔۔۔
