Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 16)
Rate this Novel
Dill e Zaar (Episode 16)
Dill e Zaar by Khanzadi
سویرا یوسف کے ساتھ کھینچتی چلی گئی۔۔۔یوسف نے کمرے میں پہنچتے ہی اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔
دونوں ہاتھوں میں سر تھامے بے بس بیٹھا رہا۔
سویرا شرمندہ سی دیوار کے ساتھ کھڑی اسے دیکھ رہی تھی کہ اچانک یوسف اٹھ کر کھڑا ہوا اور تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔
تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے یہ سب۔۔۔صرف تمہاری وجہ سے۔
ناں تم سب کے سامنے مجھے پر الزام لگاتی ناں میں تم سے نکاح کرتا اور ناں یہ سب ہوتا۔
یہ دن مجھے تمہاری وجہ سے دیکھنا پڑا رہا ہے۔
پگھل گیا تھا تمہاری اس معصوم شکل پر۔۔۔دل کو کچھ ہو رہا تھا کہ اگر آج تمہیں اس جگہ چھوڑ گیا تو زندگی بھر خود کو قصوروار سمجھوں گا۔
سنا تھا کہ دل کے فیصلے اکثر غلط ثابت ہوتے ہیں۔۔۔آج دیکھ بھی لیا۔
تمہارے چکر میں میرا گھر بکھر چکا ہے۔
کیوں لیا تم نے میرا نام وہاں؟
بتاؤ۔۔۔؟
یوسف دونوں بازو دیوار پر رکھے سویرا کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے غصے سے چلایا۔
سویرا اس کا نیا روپ دیکھ کر ڈر گئی اور نا چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہوئے دیکھ کر یوسف نے دایاں ہاتھ آنکھوں پر رکھا اور ماتھے پر ہاتھ کا دباؤ ڈالتے ہوئے ہاتھ پیچھے ہٹایا اور سویرا سے دور ہٹ گیا۔
I am sorry
تم ہی بتاؤ اور کیا کروں میں؟
تم میری جگہ ہوتی تو کیا کرتی؟
تمہیں میری طرف اشارہ نہی کرنا چاہیے تھا۔۔۔اصل مجرم کون ہے یہ تم بھی جانتی ہو اور میں بھی۔
اگر تم سب کے سامنے تھوڑی سی ہمت دکھا کر میری طرف اشارہ کرنے کی بجائے اس کی طرف اشارہ کر دیتی تو آج وہ جیل میں سزا کاٹ رہا ہوتا۔
آج اگر وہ آزاد ہے تو اس کی وجہ صرف تم ہو۔۔۔تم تو وہاں سے آ گئی لیکن کیا پتہ وہ اور کتنی عزتوں پر ہاتھ ڈالے گا۔
جو گھر کی بیٹی کی عزت تار تار کر سکتا ہے وہ باہر کی لڑکیوں کو کس نظر سے دیکھتا ہو گا۔
اور پھر ابورشن بھی کروا دیا ان لوگوں نے تمہارا۔۔۔یہ بچہ میرے لیے بہت بڑا ثبوت ثابت ہو سکتا تھا۔
کہی سے تو اپنا بچاؤ کر سکتی تھی تم۔۔۔پتہ نہی کس مٹی کی بنی ہو تم۔
تمہارے چپ رہنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔۔۔بول نہیں سکتی تو اپنے آپ کو اپنی آواز بناؤ۔
“کوئی بھی انسان اس وقت تک کمزور ہوتا ہے جب تک وہ دماغی طور پر خود کو کمزور تصور کرتا ہے،جس دن اس انسان نے خود کو دماغی طور پر طاقتور مان لیا اس دن وہ ظاہری اور جسمانی طور پر بھی طاقتور بن جاتا ہے”۔
تمہارا مسئلہ پتہ ہے کیا ہے؟
تم خود کو دماغی اور جسمانی طور پر کمزور تصور کر چکی ہو۔
تم خود کو بے بس اور کمزور ظاہر کر کے دوسروں کی ہمدردیاں بٹورنے کی عادی بن چکی ہو۔
لیکن آخر کب تک۔۔۔؟
کب تک دوسرے لوگ تمہاری آواز بنتے رہیں گے؟
تمہیں اپنی آواز خود بننا پڑے گا ورنہ خود غرضی کی اس دنیا میں کچل دی جاؤ گی۔
اب بتاؤ میں کیا کروں؟
میں تمہیں اپنے ساتھ کیسے رکھ سکتا ہوں؟
نکاح کیا ہے میں نے ساتھ رکھنے کا وعدہ نہی کیا تھا۔
تمہیں اس گھر سے رہائی دلائی تھی وہ بھی واری طور کے لیے۔۔۔بچہ پیدا ہونے کے بعد میں شعیب کو گرفتار کرواتا اور تمہیں تمہارے حقوق دلاتا لیکن میرے ساتھ تو سب الٹ ہو گیا ہے۔
یوسف کی بات سن کر سویرا حیرت زدہ سی اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔یعنی اس نے مجھے اس گھر میں واپس بھیجنے کے لیے مجھ سے نکاح کیا تھا۔
وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے دوسرے کمرے میں چلی گئی اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔
یوسف اسے جاتے ہوئے حیرت زدہ سا دیکھتا رہ گیا۔
Ohh shittt…
یہ کیا کہہ دیا میں نے۔۔۔خیر۔۔۔جاتی ہے تو جائے میں نے کچھ غلط تو نہیں کہا۔
صبح صبح موڈ خراب کر دیا سارا۔۔۔تھوڑی دیر گھر سے باہر جاتا ہوں ورنہ دماغ پھٹ جائے گا میرا۔
اپنا وائلٹ اور موبائل اٹھاتے ہوئے نیچے آیا اور کی رینک سے بائک کی چابی اٹھاتے ہوئے ایک نظر ڈائیننگ ٹیبل پر ڈالتے ہوئے گھر سے باہر نکل گیا۔
جیسے ہی گھر سے باہر نکلا زوہیب سے سامنا ہو گیا۔
کیسے ہو؟
زوہیب نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
نا چاہتے ہوئے بھی یوسف نے اس سے ہاتھ ملا لیا اور مسکرا دیا۔۔۔آپ کے خیال سے کیسا ہو سکتا ہوں میں؟
دیکھنے میں تو اچھے لگ رہے ہو۔۔۔زوہیب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
دیکھنے میں تو میں سویرا کا قصوروار بھی نہیں لگتا۔۔۔اس بارے میں کیا خیال ہے آپ کا؟
اس بار یوسف نے زوہیب کو لاجواب کر دیا۔
سچ کیا ہے میں نہیں جانتا۔۔۔مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ اب میرا تم سے ایک رشتہ ہے اور اس لحاظ سے تمہاری عزت کرنا مجھ پر فرض ہے۔
او ہاں۔۔۔یہ اچھی بات کی ہے آپ نے ویسے۔۔۔نام کیا تھا آپ کا؟
فی الحال میرے ذہن میں نہی آ رہا۔۔۔
زوہیب۔۔۔اور اب میرا نام ذہن میں رکھنا یار۔
ہممم۔۔۔زوہیب بھائی دراصل بات یہ ہے کہ کاش آپ نے سویرا کے بھائی ہونے کا فرض بہت اچھے سے نبھایا ہوتا۔
اگر آپ نے اس کے اردگرد کے ماحول پر دھیان رکھا ہوتا تو آج ہمارے درمیان یہ رشتہ نا ہوتا۔
آپ کو نہی لگتا آپ کو اپنی بہن کے گناہگار کو ڈھونڈنا چاہیے۔۔۔آپ تو بہت پرسکون لگ رہے ہیں مجھے۔
کیا مطلب۔۔۔؟
تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ تم اس بچے کے باپ نہی ہو؟
Exactly…
میں یہی کہنا چاہتا ہوں۔
لیکن تم نے سب کے سامنے تو یہی کہا تھا کہ یہ بچہ تمہارا ہے اور سویرا نے بھی سب کے سامنے تمہاری طرف اشارہ کیا تھا۔
ہو سکتا ہے میں نے سویرا پر ترس کھا کر اسے قبول کر لیا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سویرا نے کسی کے ڈرانے دھمکانے پر میری طرف اشارہ کیا ہو۔
اس بارے میں سوچئیے گا ضرور۔۔۔اور ہاں ایک بات تو آپ کو میں بتانا ہی بھول گیا۔
وہ بچہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی اللّٰہ کو پیارا ہو چکا ہے اور اس کا قاتل آپ کے گھر میں موجود ہے۔
بس آپ کو زرا غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔
قاتل میرے گھر میں لیکن کون؟
اور کوئی ایسا کیوں کرے گا؟
کیونکہ وہ بچہ سویرا کے گناہگار تک پہنچنے کے لیے میرے لیے ثبوت ثابت ہو سکتا تھا بس اسی لیے اسے اس دنیا میں آنے سے پہلے ختم کر دیا گیا۔
اب یہ آپ پر ڈیپینڈ کرتا ہے آپ مجرم کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں کیونکہ میرے پاس تو کوئی ثبوت رہا ہی نہی۔
اور رہی بات سویرا کی تو وہ میرے گھر میں ویسے ہی محفوظ ہے جیسے مجھ سے نکاح سے پہلے محفوظ تھی۔
Excuse me…i am getting late
خدا حافظ۔
یوسف زوہیب کو پریشان کرتے ہوئے بائک اسٹارٹ کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا اور زوہیب عجیب سی کشمکش میں گھر میں داخل ہوا۔
میں تو بہت مطمئن ہو چکا تھا سویرا کے حوالے سے لیکن یوسف نے تو مجھے پریشان کر دیا ہے۔
اگر وہ بچہ یوسف کا نہیں تھا تو پھر کس کا ہو سکتا ہے؟
ہمارے گھر میں کون مجرم ہو سکتا ہے؟
کہی۔۔۔نہی یہ نہی سکتا۔۔۔شعیب ایسا نہی کر سکتا اسے تو سویرا کی بہت فکر تھی۔
لیکن پیچھے تو شعیب ہی بچتا ہے۔۔۔کہی اصل مجرم شعیب تو نہیں؟
وہ عجیب سی کشمکش میں گھر میں داخل ہوا اور شعیب کے کمرے میں داخل ہوا۔
وہ اوندھے منہ پڑا سو رہا تھا۔۔۔زوہیب نے کمرے کی لائٹ جلائی تو اٹھ کر بیٹھ گیا۔
کیا بدتمیزی ہے بھائی؟
کیوں صبح صبح تنگ کر رہے ہیں؟
لائٹ بند کریں یار۔۔۔سونے دیں مجھے۔
زوہیب آگے بڑھا اور اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔باہر سے آ رہا ہوں میں،مجھے یوسف ملا تھا ابھی۔
یوسف کے نام پر شعیب چونک گیا۔۔۔ہاں تو میں کیا کروں بھائی؟
ساتھ ساتھ گھر ہیں آمنا سامنا تو ہوتا ہی رہے گا اب۔۔۔لیکن مجھے کیوں تنگ کر رہے ہیں آپ صبح صبح؟
میں نے تمہیں صبح صبح تنگ کیا اس کے معزرت لیکن یوسف نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔
وہ کہہ رہا تھا کہ ہمارے گھر سے کسی نے سویرا کا ابورشن کروا دیا ہے اور وہ یہ بھی کہہ رہا تھا کہ یہ بچہ میرا نہی تھا۔
تو اگر یہ بچہ اس کا نہیں تھا تو کس کا ہوا پھر؟
مممجھے کیا پتہ کس کا بچہ تھا۔۔۔۔اور آپ اس کی باتوں میں کیسے آ گئے بھائی؟
وہ ہے ہی ایک نمبر کا جھوٹا اور دھوکے باز۔۔۔آپ خود سوچیں اگر یہ بچہ اس کا نہی تھا تو اس نے سویرا سے نکاح کیوں کیا؟
ایسے کیسے کوئی کسی کے بچے کو اپنا نام دے سکتا ہے؟
اس نے خود ہی ابورشن کروا دیا ہو گا اور اب ہمارے ساتھ نیا درانی شروع کر دیا ہو گا تاکہ ہم لوگ سویرا کو واپس لے آئیں۔
ہاں تو ہم لے آتے ہیں ناں سویرا کو۔۔۔وہ ہم پر بوجھ تھوڑی ہے۔۔۔زوہیب نے شعیب کو آزمانے کے لیے بولا۔
ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔۔میں تیار ہوں میری طرف سے ابھی چلیں،میں تو اس رشتے کے ہی خلاف تھا۔
شعیب اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔عزت پر وار کرنے والے کے حوالے عزت تھوڑی کی جاتی ہے۔ہم سویرا کو لے آتے ہیں اور اسے یوسف سے طلاق دلوا دیتے ہیں بات ختم۔
زوہیب سر اثبات میں ہلاتے ہوئے شعیب کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔تو اگر یہ بچہ یوسف کا نہی تھا تو پھر کس کا ہوا میرا؟
یا پھر تمہارا۔۔۔
کککیا بکواس ہے یہ بھائی؟
شعیب نے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹکا۔
آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے ناں؟
آپ کا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔آپ تو سویرا کو بہن سمجھتے ہیں۔
تو پھر صاف بات ہے کہ یہ بچہ تمہارا تھا شعیب۔۔۔۔زوہیب غصے سے چلایا۔
آستیں کے سانپ۔۔۔تمہیں شرم نہی آئی یہ سب کرتے ہوئے؟
زوہیب نے اسے گریبان سے پکڑتے ہوئے اپنی طرف کھینچا اور اس کے چہرے پر ایک کے بعد ایک تھپڑ لگاتا چلا گیا۔
دماغ خراب ہو گیا ہے آپ کا بھائی۔۔۔چھوڑیں مجھے۔۔۔شعیب خود کو چھڑوانے کی بھر پور کوشش کر رہا تھا لیکن زوہیب کی گرفت بہت مضبوط تھی۔
ممکن تھا کہ زوہیب اسے جان سے ہی مار دیتا اگر کوثر بیگم درمیان میں نا آتی۔
کیوں مار رہے ہو چھوٹے بھائی کو؟
کیا کر دیا اب اس نے؟
شعیب کے نام اور منہ سے خون بہہ رہا تھا۔بیٹے کی حالت دیکھ کر وہ چیخ اٹھی۔
نبیرہ اور بریرہ بھی دونوں بھاگتی ہوئی وہاں آ گئی۔
میرا بس چلے تو میں اسے ابھی یہی دفن کر دوں امی۔۔۔آپ درمیان میں نا آئیں۔
زوہیب پھر اس کی طرف بڑھا لیکن کوثر بیگم اور نبیرہ،بریرہ تینوں چیختی ہوئی سامنے آ گئیں۔
کوثر بیگم آگے بڑھی اور ایک زور دار تھپڑ زوہیب کو لگایا۔۔۔مجھے بتاؤ گے کہ آخر ہوا کیا ہے؟
کیوں اپنے بھائی کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہو؟
یہ تو آپ اسی سے پوچھیں امی۔۔۔زوہیب پھر سے آگے بڑھا لیکن کوثر بیگم نے اسے روک دیا۔۔۔ایک جگہ کھڑے ہو کر بات کرو مجھ سے۔
ہاتھ چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔بتاو مجھے کیا کیا ہے اس نے؟
اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے امی۔۔۔سویرا کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کے پیچھے یہ ذلیل انسان ہے۔
اس نے گھر کی بیٹی کی عزت تار تار کی ہے اس کے ٹکرے ٹکرے کر کے گلی کے کتوں کو کھلانے چاہیے۔
تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ سب اس نے کیا ہے؟
کوثر بیگم پہلے تو گھبرا گئیں لیکن پھر خود کو سنبھالتے ہوئے جلدی سے بولی۔
ثبوت چاہیے آپ کو امی؟
ابھی بھی ثبوت کی ضرورت ہے؟
اس کی شکل دیکھیں۔۔۔اس کا جھکا ہوا سر دیکھیں ایک بار پھر آپ کو کسی ثبوت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
یہ ذلیل انسان ہے۔۔۔اور ثبوت کی کیا بات کرتی ہیں آپ،میں نے خود اسے کئی بار سویرا کے اردگرد منڈلاتے ہوئے دیکھا تھا اور ایک بار تو آدھی رات کو اس کے کمرے میں جاتے ہوئے بھی دیکھا تھا جس رات سویرا مریم کے گھر رکی تھی۔
شک تو ہوا تھا مجھے اس رات لیکن کاش میری چھٹی حس مجھے اس کے ارادے سے آگاہ کر دیتی تو اسی رات میں اس کے ٹکرے ٹکرے کر دیتا۔
ایسے کیسے ٹکرے ٹکرے کر دو گے تم اس کے؟
اس کی ماں زندہ ہے ابھی اور تم کون ہوتے ہو اس کے بارے میں فیصلہ کرنے والے؟
اچانک تمہارے ذہن میں یہ سب کس نے ڈال دیا؟
یوسف نے۔۔۔وہ ملا ہے مجھے کچھ دیر پہلے،آپ جانتی ہیں اس نے مجھے کیا کچھ بتایا ہے؟
سویرا کا ابورشن ہو چکا ہے اور یہ ابورشن کروانے والا کوئی اور نہیں یہ خود ہے۔
یوسف اس بچے کا باپ نہیں تھا۔۔۔یہ تھا اس بچے کا باپ،لعنتی انسان۔
اسے پتہ تھا کل کو یہ بچہ اس کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اسی لیے اس بے غیرت انسان نے اس معصوم کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی مار دیا۔
میں نے ایسا کچھ نہیں کیا امی۔۔۔وہ یوسف جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔شعیب غصے سے چلایا۔
تم اپنا منہ بند رکھو۔۔۔زوہیب پھر سے اس کی طرف بڑھا لیکن ناکام رہا۔
ایک جگہ پر کھڑے ہو کر بات کرو۔۔۔کوثر بیگم نے اسے پیچھے دھکیلا۔۔۔اس نے کہا اور تم نے مان لیا؟
یہ لوگ بہت چالاک ہیں۔۔۔سب کے سامنے نکاح کر لیا اور اب خاموشی سے سویرا سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔۔۔اسی لیے تمہیں اپنے بھائی کے خلاف کر رہے ہیں۔
بس کر دیں امی۔۔۔خدا کا شکر ادا کریں کہ سچ جانتے ہوئے بھی یوسف نے ہماری سویرا کا ساتھ دیا ہے اور اپنی زندگی میں شامل کیا ہے،کہاں ملتے ہیں ایسے لڑکے؟
تو تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ شعیب گناہگار ہے؟
ثبوت نہی ہے میرے پاس امی۔۔۔بس یہی تو مسئلہ ہے لیکن جس دن مجھے ثبوت مل گیا ناں اس دن میں خود اس کے ناپاک وجود کے ٹکرے ٹکرے کروں گا اور اس کی لاش کو کتوں کے حوالے کروں گا۔
اس سے کہیں میرے سامنے نا آئے دوبارہ۔۔۔اگر میں نے اسے دوبارہ دیکھا تو شاید اس کی جان لے کر ہی دم لوں گا۔
سمجھا لیں اسے آپ اچھی طرح اور انتظار کرے اس دن کا جب مجھے اس کے خلاف ثبوت ملے گا۔
غصے میں بولتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
کوثر بیگم سر تھام کر صوفے پر بیٹھ گئیں۔
جاو ڈاکٹر کے پاس۔۔۔دفع ہو جاؤ۔
شعیب شرمندہ سا سر جھکائے وائلٹ اٹھائے کمرے سے باہر نکل گیا۔
تم دونوں بھی جاؤ یہاں سے۔۔۔اس سے پہلے کہ نبیرہ اور بریرہ کوئی سوال کرتی کوثر بیگم بول پڑی۔
وہ دونوں دل میں ہزاروں سوال لیے کمرے سے باہر نکل گئیں۔
___________________
شہلا بیگم اپنے کمرے میں سو رہی تھیں مریم نے موقع کا فایدہ اٹھایا اور اوپر آ گئی۔
یوسف کے کمرے میں آئی تو سویرا وہاں تھی ہی نہی۔۔۔دوسرے کمرے میں گئی تو دروازہ لاک تھا۔
سویرا۔۔۔دروازہ کھولو،میں ہوں مریم۔
مریم کی آواز پر سویرا نے دروازہ کھول دیا۔
کیا ہوا سویرا۔۔۔تم تو رہی تھی۔
اوہہہ۔۔۔میری جان۔۔۔مریم آگے بڑھی اور سویرا کو گلے سے لگا لیا۔
سب ٹھیک ہو جائے گا تم پریشان کیوں ہو رہی ہو؟
یوسف ہے ناں تمہارے ساتھ۔۔۔اور میں بھی تو ہوں۔
ماما اور بابا فی الحال غصے میں ہیں لیکن تم دیکھنا کچھ دنوں تک ان کا غصہ خود ہی ختم ہو جائے گا۔
تم خود کو قصوروار مت سمجھو میری جان۔
یہ بتاؤ تم نے خود کو کمرے میں کیوں بند کیا تھا؟
یوسف نے کچھ کہا ہے کیا؟
سویرا نے سر نفی میں ہلایا اور پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔
مجھے پتہ ہے اس نے غصے میں کچھ کہہ دیا ہو گا تمہیں۔۔۔چھوڑو اسے آؤ میں تمہارے لیے ناشتہ لائی ہوں۔
سویرا نے سر نفی میں ہلایا لیکن مریم اسے زبردستی یوسف کے کمرے میں لے گئی اور اسے ناشتہ کروانے کے بعد نیچے آ گئی۔
سویرا کچھ دیر صوفے پر بیٹھی رہی پھر اٹھ کر سارے کمرے کی صفائی کرنے میں مصروف ہو گئی۔
کمرہ صاف کرنے کے بعد دوسرے کمرے میں چلی گئی اور کمرے میں لگے پردے کے پاس گئی۔۔۔پردہ پیچھے کیا تو وہاں بہت ساری پینٹنگز پڑی تھیں۔
پینٹنگز پر سرسری سی نظر ڈالتے ہوئے پردہ آگے کر کے پیچھے ہٹی لیکن پھر کچھ یاد آنے پر پلٹی اور سب سے آخر میں رکھی پینٹگ کی طرف بڑھی۔
یہاں کیا کر رہی ہو؟
اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتی یوسف کی آواز سن کر وہی رک گئی اور ڈرتے ڈرتے پلٹی اور سر نفی میں ہلایا۔
یوسف آگے بڑھا اور پردہ اچھی طرح سیٹ کر کے سویرا کی طرف پلٹا۔
جاری ہے۔۔۔
