Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488

Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 18)

87.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Zaar (Episode 18)

Dill e Zaar by Khanzadi

سویرا نے ڈر کر آنکھیں بند کر لی۔

اس کے چہرے کی معصومیت دیکھ کر یوسف کو اس پر جی بھر کر پیار آیا لیکن اس نے اپنے جذبات کنٹرول میں کیے اور اس کے ہونٹوں سے لپ اسٹک مٹائی۔

کس سے پوچھ کر لپ اسٹک لگائی ہے تم نے؟

یہ اتر کیوں نہی رہی؟

یوسف کے سوالات سن کر سویرا نے آنکھیں کھولی اور حیرت زدہ سی یوسف کو دیکھنے لگ گئی۔

کیا؟

یوسف نے سویرا کا چہرہ چھوڑا اور اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔

کہاں گم ہو گئی؟

یہ کہ اسٹک کس کی اجازت سے لگائی ہے تم نے؟

یہ کوئی عمر ہے فیشن کرنے کی۔۔۔پڑھائی کی عمر میں اتنا سج سنور کر کس کو دکھانا ہے؟

سویرا نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔

تمہیں کس نے دیکھنا ہے یہاں؟

میں نے دیکھنا ہے ناں۔۔۔؟

میری بیوی ہو ناں؟

سویرا نے سر اثبات میں ہلایا۔

تو پھر ایک بات لکھ لو آج۔۔۔مجھے میک اپ بلکل پسند نہی ہے،تم جیسی ہو ویسی ہی رہو۔

سویرا نے سر اثبات میں ہلایا اور دروازے پر ہونے والی دستک کی طرف متوجہ ہوئی۔

یوسف نے دروازے کی طرف دیکھا تو مریم اندر آتی دکھائی دی۔

Shitttt…

اگر یہ کچھ دیر پہلے آ جاتی تو پتہ نہیں کیا ہو جاتا۔۔۔یہ آپی بھی ناں۔

کیا ہوا تم دونوں ایسے بت بن کر کیوں کھڑے ہو؟

مریم حیرت زدہ سی دونوں کو دیکھتے ہوئے بولی۔

کچھ نہی آپی۔۔۔اسے ڈانٹ رہا تھا کہ یہ سب مجھے پسند نہیں ہے۔

کیا پسند نہیں ہے تمہیں؟

یہ جو اس نے میک اپ کیا ہے۔۔۔اسے سمجھا رہا تھا کہ پڑھائی پر دھیان دے تو زیادہ بہتر ہے۔

کیوں سمجھا رہے تھے تم؟

یہ سب میں نے لے کر دیا ہے اسے آئی سمجھ؟

خبردار جو تم نے اسے میک اپ کرنے سے روکا۔۔۔اب سجنا سنورنا اس کا حق ہے اور جہاں تک بات ہے تمہاری پسند نا پسند کی تو اب جو اسے پسند ہے وہی تمہاری پسند ہونی چاہیے۔

دیکھو تو سہی کتنی پیاری لگ رہی ہے۔

مریم نے سویرا کا چہرہ یوسف کی طرف کیا۔

یہ پیاری لگ رہی ہے یہی تو مسئلہ ہے۔۔۔لیکن آپ نہی سمجھیں گی آپی۔۔۔سمجھ میں نہیں آ رہا کیسے سمجھاؤں آپ کو۔

یوسف دل ہی دل میں سوچتا رہا لیکن بولا کچھ نہی۔

دیکھا تمہاری نظر نہی ہٹ رہی ناں سویرا کے چہرے سے۔۔۔اور مجھے کہہ رہے ہو مجھے میک اپ پسند نہی۔

مریم کی بات پر یوسف نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔

Ufffff…I don’t care

آپ کو جو کرنا ہے کریں۔۔۔میرے پاس بخث کا ٹائم نہی ہے۔

اور بھی کام ہیں مجھے۔۔۔کھڑی رہیں آپ دونوں یہاں۔

یوسف نے صوفے پر پڑا اپنا ٹاول اٹھایا اور واش کی طرف بڑھا لیکن ٹاول میں نمی محسوس ہوئی تو رک کر پلٹا اور ٹاول کو کھول کر دیکھا۔

ٹاول پر بال لگے ہوئے تھے۔۔۔یوسف نے سویرا کے بالوں کو دیکھا اور اپنے ٹاول کو دیکھتے ہوئے گہری سانس لی۔

بہتر ہو گا اسے ایک ٹاول بھی لا دیں آپ۔۔۔یوسف مریم کی طرف ٹاول اچھالتے ہوئے الماری کی طرف بڑھا اور دوسرا ٹاول نکالتے ہوئے ایک نظر سویرا کو دیکھتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔

واپس آیا تو مریم ابھی تک وہی بیٹھی سویرا کو لیکچر دے رہی تھی۔

آپ گئیں نہیں ابھی تک؟

یوسف ٹاول سے بال خشک کرتے ہوئے شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔

نہی۔۔۔مجھے تم سے کچھ کام تھا یوسف۔۔۔دراصل میں نے سویرا کے لیے تھوڑی جیولری پسند کی تھی اور آرڈر بھی دے آئی تھی لیکن اب ایک چھوٹا سا مسئلہ پیش آ رہا ہے مجھے۔

کیسا مسئلہ؟

یوسف نے بھنویں اچکاتے ہوئے شیشے میں سے ہی مریم کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

بات یہ ہے کہ میں کل شاپ پر نہی جا سکوں گی اور میرا آرڈر تیار ہو چکا ہے مجھے بار بار کالز آ رہی ہیں۔

تو میں سوچ رہی تھی کیوں ناں تم سویرا کے ساتھ جیولری پک کر لو۔

اور اسی بہانے اسے واپسی پر ڈنر پر بھی لے جانا۔۔۔تھوڑی سی آوئٹنگ بھی ہو جائے تم دونوں کی۔

یوسف نے پلٹ کر مریم کی طرف دیکھا۔۔۔کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ سویرا کے چہرے پر نظر پڑی جو اس کے جواب کی منتظر کھڑی تھی۔

یوسف نے سر اثبات میں ہلایا۔

Sure…No issue

نا چاہتے ہوئے بھی وہ مان گیا۔

oOoOO…so sweet of you

یہ رسید ہے۔۔۔پیمنٹ کر دی تھی میں نے بس تم پک کر لو۔

اور کوشش کرو باہر والی سیڑھیوں سے چلے جائے کیونکہ ماما کا موڈ زرا خراب ہے۔

بابا جانی کی موجودگی میں زرا خاموش ہیں ورنہ پتہ نہیں کیا طوفان کھڑا کر دیں۔

ہممم۔۔۔یوسف نے سر اثبات میں ہلایا اور الماری سے پینٹ شرٹ نکالتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔

اچھا بھلا ریلکس ہوا تھا کہ سو جاتا ہوں مگر آپی بھی ناں کوئی نا کوئی فرمان لیے بیٹھی ہوتی ہیں۔۔۔بڑبڑاتے ہوئے واپس آیا اور شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے بال سیٹ کیے اور خود پر پرفیوم چھڑکتے ہوئے اپنا وائلٹ اور گاڑی کی چابیاں اٹھاتے ہوئے سویرا کی طرف پلٹا۔

چلیں۔۔۔؟

سویرا سر پر دوپٹہ اوڑھے بال کیچر میں بند کیے بیٹھی تھی یوسف کی آواز سن کر فوراً کھڑی ہو گئی۔

آؤ میرے ساتھ۔۔۔یوسف اسے ساتھ لیے ٹیرس پر گیا اور دروازہ لاک کرتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھا جو پچھلے صحن کی طرف اترتی تھیں۔

دھیان سے۔۔۔اس طرف اندھیرا تھا تو یوسف نے سویرا کا ہاتھ تھام لیا اور نیچے پہنچ کر اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا۔

سویرا چپ چاپ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔یوسف نے بنا کوئی شور کیے گیٹ کھولا اور گاڑی باہر نکالنے کے بعد گیٹ بند کر دیا۔

کیا کچھ دیکھنا پڑ رہا ہے مجھے۔۔۔واپس آیا اور اسٹیرنگ وہیل پر سر رکھتے ہوئے بے بس سا بولا۔

گہری سانس لیتے ہوئے سر اوپر اٹھایا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔

____________________

مل آئی اس لڑکی سے۔۔۔مل گیا دل کو سکون؟

مریم دبے پاؤں اپنے کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ شہلا بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔

میں سوچ بھی نہی سکتی تھی کہ ایک دن میرے بچے میرے ہی خلاف کھڑے ہو جائیں گے۔

تنکا تنکا کر کے میں نے یہ گھر بنایا تھا اور آج میں سب کچھ بکھرتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔

ایک انجان لڑکی کے تم سب میرے خلاف ہو گئے واہ۔۔۔خواب و خیال میں بھی ایسا نہیں سوچا تھا میں نے مریم۔

ماما جانی ایسا نہی ہے۔۔۔سویرا ویسی نہی ہے جیسا آپ اسے سمجھ رہی ہیں اور ہم میں سے کوئی بھی آپ کے خلاف نہی ہے۔

ہم سب تو بس سویرا کو پروٹیکٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آپ بھی اسے ایکسپٹ کر لیں۔۔۔بہت معصوم ہے وہ،آپ کو تو سب پتہ ہے اس کے بارے میں تو آپ ایسے بی ہیو کیوں کر رہی ہیں اس کے ساتھ؟

پتہ تو ہے آپ کو وہ کتنی بے بس اور لاچار ہے۔ایک منٹ کے لیے سوچیں اگر ہم اسے یہاں سے نکال دیں گے تو وہ کہاں جائے گی؟

ایک وہی گھر بچتا ہے اس کے پاس۔۔۔جہاں اس کے اپنے ہی کزن کے ہاتھوں اس کی عزت تار تار ہو چکی ہے۔

ایک منٹ کے لیے سوچیں ماما جانی۔۔۔وہ کیسے سامنا کرے گی اس بدتمیز انسان کا؟

اس کے پاس تو ماں باپ بھی نہی ہیں۔۔۔یتیم ہے وہ۔

اگر یوسف نے اسے سہارا دے ہی دیا تو آپ اس کے فیصلے کو سراہیں ناں کہ اس کے خلاف ہو جائیں۔۔۔آپ نے یہی سکھایا ہے ہمیشہ ہم دونوں کو۔

ہم آپ کے بچے ہیں اور آپ کی تربیت نے ہمیں کسی کے ساتھ غلط کرنا سکھایا ہی نہی۔

Try to understand

مریم محبت سے ماں کے ہاتھ آنکھوں سے لگاتے ہوئے بولی۔

شہلا بیگم نے فوراً اپنے ہاتھ واپس کھینچ لیے۔۔۔وہ بے بس اور لاچار ہے یہ تو میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں مریم۔

میں نے اس پر ترس کھا کر اسے اس گھر میں آنے کی اجازت دی تو اور وہ آستین کا سانپ نکلی۔

میرے اکلوتے بیٹے کو لے اڑی۔۔۔میں نے یہ تو نہیں سوچا تھا۔

وہ یتیم ہے تو میں چپ چاپ اسے اپنے ہیرے جیسا بیٹا دے دوں؟

اس طرح تو پتہ نہیں کتنی ہی لڑکیاں ہیں دنیا میں جو یتیم اور بے سہارا ہیں تو کیا ان سب کو اپنی بہوئیں بنا لاؤں میں؟

ماما جانی آپ کی ساری باتیں ٹھیک ہے لیکن کہی نا کہی یوسف کے دل میں بھی ہاں تھی تب ہی تو اس سب کچھ جانتے ہوئے بھی سویرا کو قبول کیا ہے۔

آپ کو کیا لگتا ہے آپ کا ہیرے جیسا بیٹا ایسے ہی کسی سے بھی نکاح کر کے اسے گھر لے آئے گا؟

نہیں ماما۔۔۔یہاں آپ غلط ہیں۔

میں نے یوسف کی آنکھوں میں سویرا کے لیے محبت دیکھی ہے۔

وہ اتنا بھی بچہ نہی ہے کہ بنا سوچے سمجھے سویرا سے نکاح کر لیا۔

ہاں تو سہی ہے اسے محبت ہے تو نبھائے اپنی محبتیں۔۔۔ماں مر گئی ہے اس کے لیے،اپنی محبت کو زندہ رکھے۔

شہلا بیگم بے بس سی بولتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں اور مریم گہری سانس لیتے ہوئے کچن میں چلی گئی۔

__________________________

سویرا اور یوسف گھر واپس آئے تو گیٹ کے باہر شعیب کو کھڑے دیکھا۔۔۔وہ کال پر بات کر رہا تھا۔

شعیب کی نظر گاڑی سے باہر نکلتی سویرا پر پڑی تو چونک گیا اور حیرت زدہ سی نگاہوں سے اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔

کال بند کرتے ہوئے سویرا کی طرف بڑھا۔

یوسف گیٹ بند کر رہا تھا اس کی نظر اندر آتے شعیب پر پڑی تو اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔

سویرا یوسف کے پیچھے چھپ گئی اور اس کی شرٹ کو مظبوطی سے پکڑ لیا۔

یوسف نے پلٹ کر سویرا کی طرف دیکھا اور اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔

ہیلو۔۔۔کیسے ہیں آپ لوگ؟

شعیب نے ان دونوں کو مخاطب کیا۔

تم لوگوں کو تو فرصت ملی نہی ہو گی کہ گھر چکر ہی لگا لیں۔۔۔جو بھی ہو سویرا کا ہم سے رشتہ تو ابھی بھی ہے۔

وہ یوسف کے پیچھے کھڑی سویرا کو دیکھنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔

یوسف نے چابیاں سویرا کی طرف بڑھائی اور اسے اوپر جانے کا اشارہ دیا۔

سویرا تیزی سے یوسف کے پیچھے سے نکلی اور سیڑھیوں سے بھاگتی ہوئی اوپر چلی گئی۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کا نام لینے کی؟

یوسف نے شعیب کو گریبان سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔

جس دن اس کا مجھ سے نکاح ہوا تھا ناں اس دن اس کا تم سب سے رشتہ ختم ہو گیا تھا۔

آئیندہ میرے گھر کی دہلیز پار کرنے کی کوشش کی تو اپنے پیروں پر چل کر واپس نہیں جا سکو گے۔

یوسف اسے گریبان سے کھینچتے ہوئے گیٹ سے باہر لے آیا اور اور زور سے دھکا مارا۔

شعیب کا دل چاہ رہا تھا بدلے میں یوسف کے گلے پڑ جائے لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

چھوڑ دو نا پرانی باتیں۔۔۔میں نے مان لیا تم بہت طاقتور ہو مسٹر یوسف۔

میں تو بات کرنے آیا تھا تم سے۔۔۔دراصل مجھے تمہارا اکاؤنٹ نمبر چاہیے تھا۔

وہ کیا ہے ناں تایا ابو ہر مہینے سویرا کے لیے کچھ رقم بھیجتے ہیں۔

اب یہ یہاں ہے تو وہ تمہیں پیسے بھیج دیا کریں گے۔

مجھے کسی کے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔سمجھے تم؟

اپنے تایا ابو سے کہو کہ اپنے پیسے اپنے پاس سنبھال کر رکھیں ان کے باقی بچوں کے کام آئیں گے۔

میں اپنی بیوی کے خرچے خود اٹھا سکتا ہوں۔۔۔اب اپنی شکل گم کرو یہاں سے تم۔

آئیندہ میری بیوی کے سامنے آنے کی کوشش مت کرنا ورنہ انجام کے زمہ دار تم خود ہو گے۔

یوسف اس کے منہ پر گیٹ بند کرتے ہوئے اوپر چلا گیا۔

شعیب نے بے بسی سے بند گیٹ کو دیکھا اور غصے سے دیوار میں ٹانگ ماری۔

بیوی بیوی بیوی۔۔۔بڑا حق جتا رہے ہو سویرا پر لیکن میری ایک بات یاد رکھنا تم۔۔۔یہ حق میں تم سے چھین کر رہوں گا۔

اور سویرا تم۔۔۔تمہیں میری قید میں واپس آنا ہی ہو گا ایک دن۔۔۔جتنا مرضی سنور لو،ایک دن تم میری قید میں پھڑپھڑاو گی۔

تایا ابو سے یاد آیا۔۔۔کسی نے تایا ابو کو اس بات کی اطلاع دی بھی ہے یا نہیں؟

چلو کوئی بات نہیں۔۔۔یہ خوشخبری انہیں میں سنا دیتا ہوں۔

ان کی بیٹی نے ہمسائے کے ساتھ نا جائز تعلق قائم کیے اور پھر ہمیں اسے اس ناجائز بچے کو نام دینے کے اسے رخصت کرنا پڑا۔

موبائل پر سویرا کے بابا کا نمبر ڈائل کیا اور اندر چلا گیا۔

________________________

یوسف اوپر پہنچا ہی تھا کہ کچھ یاد آنے واپس نیچے آیا اور گاڑی سے ایک بیگ نکالتے ہوئے واپس اوپر آ گیا۔

اندر آیا تو سویرا ڈری سہمی ٹی وی لاونج میں چکر لگا رہی تھی۔

یوسف نے اس کی طرف بیگ بڑھایا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔

اس بیگ میں سویرا کے لیے جویلری تھی۔

سویرا نے وہ بیگ لیا اور دوسرے کمرے میں جا کر صوفے پر لیٹ گئی۔

یوسف چینج کر کے آیا اور بیڈ پر کتابیں پھیلائے بیٹھ گیا۔

کچھ دیر پڑھنے کی کوشش کرتا لیکن سارا دھیان دروازے پر ہی اٹکا تھا کہ کب سویرا اس کمرے سے یہاں آئے گی۔

تقریباً آدھا گھنٹہ انتظار کرتا رہا لیکن جب سویرا نہی آئی تو اٹھ کر فوراً دوسرے کمرے میں گیا۔

سویرا کو انتہائی اطمینان سے صوفے پر سوتے دیکھ کر سر تھام کر رہ گیا۔

میں وہاں انتظار کر رہا ہوں اور یہ محترمہ یہاں مزے سے سو رہی ہیں۔

سویرا۔۔۔؟

اس نے سویرا کو آواز دی مگر سویرا ٹس سے مس نہی ہوا۔

سویرا اٹھو۔۔۔یوسف نے اسے بازو سے ہلایا تو سویرا فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی اور سوالیہ نظروں سے یوسف کو دیکھتی گئی۔

یہاں کیوں سو رہی ہو تم؟

میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں اور تم مزے سے یہاں سو رہی ہو۔

ادھر آؤ۔۔۔یہاں پر اے سی نہی ہے۔گرمی لگے گی تمہیں۔

سویرا نے سر اثبات میں ہلایا اور یوسف کو کمرے سے باہر جاتے ہوئے دیکھ کر مسکرائی۔۔۔اب اسے کیا پتہ مجھے تو اے سی میں سونے کی عادت ہے ہی نہیں۔

دل ہی دل میں سوچتے ہوئے مسکرا دی اور یوسف کے کمرے کی طرف چل دی۔

بیڈ پر بکھری کتابیں دیکھ کر چپ چاپ صوفے پر لیٹ گئی۔

کچھ ہی دیر میں سویرا سو گئی اور اسے سکون سے سوتے دیکھ کر یوسف کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

کیسے بتاؤں تمہیں۔۔۔نا چاہتے ہوئے بھی تم میری آنکھوں کا سکون بن چکی ہو،تم نظر نہی آ رہی تھی تو میرا دھیان کہی اور لگ ہی نہیں رہا تھا۔

تمہاری خاموشی میں بھی تمہاری آواز کو محسوس کر سکتا میں۔۔۔جانتا ہوں تمہیں اس گھر میں اے سی میں سونا نصیب نہیں ہوا ہو گا لیکن اب تم اس گھر میں نہی بلکہ اپنے شوہر کے گھر میں ہو۔

یہاں تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہو گی۔

I promise…

سہی کہہ رہی تھی آپی۔۔۔اب مجھے ہی اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا ہو گا۔

یوسف مسکراتے ہوئے سویرا کے معصوم چہرے کو دیکھتے ہوئے پڑھنے میں مصروف ہو گیا۔

ایک سال بعد۔۔۔

سویرا کا یوسف سے نکاح ہوئے ایک سال ہو چکا تھا اور اس ایک سال میں بہت کچھ بدل چکا تھا۔

وہ اب ڈائری میں اپنے دل کی باتیں لکھتی تھی اور الفاظ کا بہت اچھا استعمال کرنے لگی اور یہ سب مریم اور یوسف کی محنت کا نتیجہ تھا۔

یوسف کو جب جب موقع ملتا اسے پڑھانے میں مصروف ہو جاتا۔

شہلا بیگم کا رویہ کچھ بہتر ہو چکا تھا۔۔۔ساجد صاحب نے کہہ تو دیا تھا کہ یوسف اپنا کھانا پینا سب الگ کرے گا مگر شہلا بیگم سے بیٹے کی دوری برداشت نہی ہو رہی تھی اور انہوں نے خود ہی اپنی انا کو توڑ کر نا چاہتے ہوئے بھی سویرا کو قبول کر لیا مگر دل ہی دل میں انہیں سویرا سے نفرت بھی تھی۔

سویرا کی طبیعت تھوڑی خراب تھی اس وجہ سے آج سکول نہی گئی۔۔۔مریم سکول تھی اور یوسف اپنے بابا کے ساتھ کام پر تھا۔

دروازے کی بیل بجی۔۔۔شہلا بیگم مصروف سے انداز میں گیٹ پر گئی اور سامنے کھڑے انجان شخص کو دیکھ کر تھوڑی حیران ہوئیں۔

یہ سویرا کے بابا ہیں۔۔۔شعیب اچانک ان کے سامنے آیا اور اس انجان شخص کا تعارف پیش کیا۔

شہلا بیگم کو شعیب کی شکل دیکھ کر بلکل خوشی نہی ہوئی۔

اسلام و علیکم۔۔۔کیا میں اندر آ سکتا ہوں بہن؟

وعلیکم اسلام۔۔۔جی آئیے۔

شہلا بیگم مروت میں کچھ بول ہی نہی سکی اور انہیں اندر آنے کا راستہ دیا۔

شعیب بھی زبردستی ان کے ساتھ اندر داخل ہو گیا۔

شہلا بیگم بس اسے دیکھتی ہی رہ گئیں۔

شعیب پوری تخقیق کے بعد ہی یہاں آیا تھا اسے معلوم تھا کہ یوسف اس وقت گھر پر نہی ہو گا۔

شہلا بیگم نا چاہتے ہوئے اندر چلی آئی اور انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔

میں سویرا کو بلاتی ہوں۔۔۔

نہی آنٹی آپ رکیں میں بلا لاتا ہوں۔۔۔آپ کیوں تکلف کر رہی ہیں؟

شعیب ان کی بات سنے بغیر ہی اوپر چلا گیا۔

شہلا بیگم کا دھیان شعیب میں ہی اٹکا ہوا تھا۔

دراصل میں اپنی بیٹی کو لینے آیا ہوں۔

سویرا کے باپ کی بات پر شہلا بیگم طنزیہ مسکرائی۔۔۔بڑی جلدی خیال نہیں آ گیا آپ کو اپنی بیٹی کا؟

جی۔۔۔دیر سے ہی سہی مگر خیال آ ہی گیا ہے مجھے۔۔۔میں نہی چاہتا میری بیٹی کسی پر بوجھ بن کر رہے۔

آپ کے بیٹے نے جو حرکت اس کے ساتھ کی ہے اس وقت میں یہاں ہوتا تو آج آپ کا بیٹا زندہ نہ ہوتا۔

زبان سنبھال کر بھائی صاحب۔۔۔شہلا بیگم تقریباً چلائی۔

میرے بیٹے نے سویرا کے ساتھ کچھ نہیں کیا۔۔۔اس کا اصل مجرم تو کوئی اور ہے۔

خدا کا شکر ادا کریں کہ میرے بیٹے نے آپ کی بیٹی کو اس حال میں بھی قبول کیا اور اسے عزت سے اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔

اپنی ماں سے بڑھ کر اہمیت دی ہے میرے بیٹے نے آپ کی بیٹی کو۔

اور کس بیٹی کی بات کر رہے ہیں آپ؟

وہ بیٹی جس کی آج تک آپ نے شکل تک نہیں دیکھی۔۔۔بچپن سے لے کر آج تک اس کے سر پر ہاتھ نہی رکھا۔

وہ دوسروں کے رحم و کرم پر پلٹی رہی اور آپ بس پیسے بھیج کر سمجھتے رہے کہ فرض ادا کر دیا ہے آپ نے۔

آپ کی بیٹی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے میری نظر میں اس کے زمہ دار صرف آپ ہیں۔

معزرت۔۔۔لیکن مجھے آپ سے مل کر بلکل خوشی نہی ہوئی۔۔۔آپ کے لیے کچھ لاتی ہوں،ہمارے گھر میں مہمان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہے۔

شہلا بیگم کمرے سے باہر نکل گئیں۔

شعیب اوپر آیا اور ایک کمرے کا دروازہ کھول کر دیکھا مگر سویرا وہاں نہی تھی۔

دوسرے کمرے کا دروازہ کھولا تو سویرا بیڈ پر لیٹی نظر آئی۔

کمرے میں اے سی کی ہلکی سی روشنی تھی۔

شعیب آگے بڑھے اور سویرا کے گال پر ہاتھ رکھا۔۔۔بہت نکھر گئی ہو تم یوسف کی محبت میں مگر اب اور نہی۔۔۔تمہارا اس سے جدائی کا وقت آ چکا ہے بے بی۔

اگر تم میرے پاس نہیں تو میں تمہیں رہنے اس کے پاس بھی نہیں دوں گا۔

سویرا کی آنکھ کھلی اور سامنے شعیب کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *