Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488

Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 19)

87.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Zaar (Episode 19)

Dill e Zaar by Khanzadi

سویرا کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ سامنے شعیب بیٹھا ہے۔وہ تیزی سے بیڈ سے نیچے اتری اور دروازے کی طرف بھاگی۔

جیسے ہی دروازہ کھولا باہر شہلا بیگم کو کھڑے دیکھا۔

فوراً ان سے لپٹ گئی۔

شہلا بیگم آگے بڑھی اور کمرے کی لائٹ جلائی۔

شعیب کو بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر ان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس جگہ پر بیٹھنے کی؟

تمہارے باپ کی جاگیر نہی ہے یہ۔۔۔میرے بیٹے کا کمرہ ہے نکلو یہاں سے۔

شعیب مسکراتے ہوئے ان کی طرف بڑھا۔۔۔جاگیر تو یہ بھی نہی تھی آپ کے بیٹے کی۔۔۔اس پر تو قبضہ کر لیا ناں آپ کے بیٹے نے۔

اس کا اشارہ شہلا بیگم کے پیچھے چھپ کر کھڑی سویرا کی طرف تھا۔

بہت حق جتا لیا آپ کے بیٹے نےاس پر۔۔۔اب یہ یہاں نہیں رہے گی۔

سویرا تم نیچے جاو۔۔۔تمہارے بابا آئے ہیں۔

شہلا بیگم کی بات سن کر سویرا حیران رہ گئی اور ان کی مزید کوئی بات سنے بغیر سر پر دوپٹہ اوڑھتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بھاگی۔

آنٹی جی میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں آپ۔۔۔میری آپ سے یا آپ کے بیٹے سے کوئی دشمنی نہی ہے۔

مجھے صرف اور صرف سویرا سے مطلب ہے۔۔۔آپ کے بیٹے نے اس سے نکاح اسی لیے کیا تھا ناں کہ اس کا کوئی وارث نہیں ہے اور ہمارے گھر میں اس پر بہت ظلم ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

تو اب اس کا باپ آ گیا ہے اسے لینے۔۔۔آپ اسے خوشی خوشی رخصت کریں ورنہ۔۔۔

ورنہ کیا؟

شہلا بیگم تقریباً چلائی۔

کیا کر لو گے تم؟

سب جانتے ہیں ہم سویرا کے ساتھ تم جو کچھ کرتے رہے ہو۔۔۔وہ یہاں سے نہیں جائے گی۔

تم کون ہوتے ہو اس کے یہاں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ کرنے والے؟

سویرا اب ہمارے گھر کی عزت ہے اور وہ یہی رہے گی ہمیشہ۔۔۔جب تک وہ خود یہاں سے نا جانے چاہے کوئی زبردستی اسے یہاں سے نہیں لے جا سکتا۔

اوہو۔۔۔آنٹی لگتا ہے آپ میری بات سمجھی نہیں۔۔۔چلیں میں آپ کو سمجھاتا ہوں۔

میں کیا کر سکتا ہوں اور کیا نہیں اس بات کا آپ کو ابھی اندازہ نہی ہے۔

کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔کچھ بھی مطلب کچھ بھی۔۔۔کوئی روڈ ایکسیڈنٹ یا پھر ہوائی فائرنگ۔

ہو سکتا ہے کوئی انجان بائیک،گاڑی یا پھر اڑتی اڑتی کوئی گولی آپ کے بیٹے کو نشانہ بنا لے اور آپ کے اکلوتے بیٹے کا انا للہ وانا الیہ راجعون ہو جائے۔

بکواس بند کرو اپنی۔۔۔شہلا بیگم نے شعیب کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ لگایا۔

تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میرے بیٹے کے بارے میں ایسی بات کرنے کی۔

شعیب کو جی بھر کر غصہ آیا لیکن اس نے مسکراتے ہوئے شہلا بیگم کی طرف دیکھا۔۔۔اسی لیے تو آپ سے کہہ رہا ہوں کہ چپ چاپ سویرا کو اپنے باپ کے ساتھ جانے دیں۔

اگر آپ نے اسے نہیں جانے دیا تو انجام کی زمہ دار آپ خود ہو گی۔

شعیب نے اپنی پینٹ کی جیب میں سے پسٹل نکال کر شہلا بیگم کے سامنے لہرائی۔۔۔یہ میری ہے لیکن میرے نام پر رجسٹرڈ نہی ہے۔

کس کی ہے مجھے نہیں پتہ۔۔۔شاید کوئی ملزم ہو جو پتہ نہیں کتنے قتل کر چکا ہو۔۔۔اس کی پسٹل سے ایک قتل اور بھی ہو جائے تو اسے فرق نہیں پڑے گا لیکن آپ کا تو ایک ہی بیٹا ہے۔۔۔آپ کو بہت فرق پڑے گا۔

اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے آپ کیا کرتی ہیں۔

چلیئے نیچے چلتے ہیں تایا ابو انتظار کر رہے ہیں ہمارا۔۔۔آپ جائیں گی تب ہی تو سویرا ان کے ساتھ رخصت ہو گی۔

شہلا بیگم کے وجود میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔۔۔وہ ڈر چکی تھیں۔

چپ چاپ شعیب کے پیچھے نیچے چلی گئیں اور سویرا کو دروازے کے باہر کھڑے دیکھ کر بازو سے کھینچتے ہوئے اندر لے گئیں۔

یہ ہے آپ کی بیٹی۔۔۔لے جائیں اسے ہمیشہ کے لیے۔

سویرا جو دروازے کے پیچھے اندر جانے کی ہمت ڈھونڈ رہی تھیں شہلا بیگم کے اچانک آنے اور اسے اندر لیجانے پر حیرت زدہ سی انہیں دیکھتی رہ گئی۔

صوفے پر بیٹھ اپنے باپ پر نظر پڑی تو بغیر کوئی ری ایکشن دیے چپ چاپ انہیں دیکھتی رہی۔

وہ صوفے سے اٹھے اور سویرا کی طرف بڑھے۔۔۔اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کا سر اپنے کندھے سے لگاتے ہوئے اس کے ماتھے پر پیار کیا۔

لے جاؤں گا میں اپنی بیٹی کو۔۔۔اب میری بیٹی کسی پر بوجھ بن کر نہی رہے گی۔

چلو بیٹا یہاں سے۔۔۔میں تمہیں یہاں سے لینے آیا ہوں،اپنے گھر چلو۔

سویرا نے سر نفی میں ہلایا اور ان سے تھوڑا دور ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔

وہ آگے بڑھے اور سویرا کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔نہی بیٹا،یہاں کے لوگوں پر تم بوجھ ہو،اپنے باپ کے گھر چلو وہی تمہارا اصل گھر ہے۔

ان لوگوں نے تو تمہیں کچھ عرصے کے لیے پناہ دی ہے۔۔۔جیسے کسی بے گھر پر ترس کھاتے ہیں ناں بلکل ویسے ہی۔

ناں تو یہ گھر تمہارے لائق ہے اور نا ہی یہ لوگ۔۔۔مجھے جو برا بھلا کہنا ہے راستے میں کہہ لینا لیکن ابھی یہاں سے چلو۔

سویرا سر نفی میں ہلاتے رہ گئی لیکن وہ بنا رکے اسے اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے لے گئے اور گاڑی میں بٹھا کر وہاں سے لے گئے۔

سویرا حیرت زدہ سی گیٹ پر کھڑی شہلا بیگم کو دیکھتی رہ گئی۔

شعیب نے مسکراتے ہوئے سویرا کو جاتے ہوئے دیکھا اور شہلا بیگم کی طرف پلٹا۔۔۔اپنا وعدہ یاد رکھیئے گا۔

فکر نہی کریں۔۔۔یہ دس سے پندرہ دن کے اندر اندر یہاں سے چلی جائے گی۔۔۔وہ کیا ہے ناں اس کے ڈاکومنٹس نامکمل ہیں ابھی۔

آئی ڈی کارڈ۔۔۔پاسٹ پورڈ۔۔۔ویزہ ان سب میں کم ازکم پندرہ بیس دن تو لگ ہی جائیں گے۔

لیکن آپ فکر نہی کریں میں سویرا کے سارے ڈاکومنٹس خود مکمل کروا کر اسے بھیجوں گا۔

آپ بس یہ کوشش کرنا کہ آپ کا بیٹا میرے راستے میں رکاوٹ بننے کی کوشش بلکل نہ کرے ورنہ اس بار میں اس رکاوٹ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دوں گا۔

اور ہاں ایک بات تو میں بتانا ہی بھول گیا۔۔۔وہاں پہنچتے ہی سویرا طلاق کے پیپرز بھجوا دے گی۔

اپنے لاڈلے بیٹے سے کہیئے گا کہ عزت سے اسے طلاق دے دے ورنہ باقی تو آپ جانتی ہی ہیں۔

شہلا بیگم نے فوراً گیٹ بند کیا اور بھاگتی ہوئی اندر چلی گئیں۔

_________________________

سویرا کے ذہن میں یوسف کے الفاظ گونجے۔۔۔”اب تم میری بیوی بن چکی ہو،میری زمہ داری ہو اور میرے ہوتے ہوئے کوئی تمہیں اس گھر سے نہیں نکال سکتا۔”

اس ایک سال میں بہت کچھ بدل گیا چکا تھا۔۔۔یوسف کا اس کا خیال رکھنے،اسے پڑھانا اور اپنی زندگی کی ہر بات شئیر کرنا۔

جانے انجانے وہ سویرا کے بہت قریب آ چکا تھا اور ایسے حالات میں سویرا اس سے دور جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔

جیسے جیسے گاڑی گھر سے دور جا رہی تھی سویرا کا دل تو جیسے دھڑکنا چھوڑ رہا تھا۔

وہ بے بس سی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی مگر اس کی آنکھیں آنسوؤں کی روانی سے دھندلا سی گئی تھیں۔

“تم سامنے بیٹھی رہتی ہو تو مجھے ہمت ملتی ہے،میرا پڑھائی میں دل لگا رہتا ہے ورنہ جب میں اکیلا رہتا تھا مجھے بہت جلد نیند آ جایا کرتی تھی۔”

سویرا کا دھیان پھر سے یوسف پر اٹک گیا۔

“تمہیں پتہ ہے مجھے تمہیں پڑھاتے ہوئے ایسے لگتا ہے جیسے میں کسی چھوٹے بچے کو پڑھا رہا ہوں اور تم ہو بھی چھوٹی سی معصوم لڑکی۔”

“میں جب جب تمہیں دیکھتا ہوں تمہیں پھر سے دیکھنے کو دل کرتا ہے۔۔۔میرا دل ہی نہیں لگتا تمہارے بغیر۔۔۔میں کہی بھی جاؤں مجھے تم یاد آتی رہتی ہو۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو؟۔۔۔میں تمہیں خود سے کبھی الگ نہیں ہونے دوں گا”

ایک رات سویرا سو رہی تھی جب اس کے کانوں میں یہ الفاظ گونجے۔۔۔یوسف اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھے اپنی محبت کا اعتراف کر رہا تھا۔

وہ سمجھ رہا تھا سویرا سو رہی ہے لیکن سویرا محظ آنکھیں بند کیے سونے کی ایکٹنگ کر رہی تھی۔

گاڑی کو بریک لگی اور سویرا نے چونک کر ادھر اُدھر دیکھا۔۔۔گاڑی اشارے پر کھڑی تھی اور اسی طرح نا جانے کتنے اشارے کراس ہوئے وہ اپنے باپ کے ساتھ ایک ہوٹل میں جا رکی۔

ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے بیٹا۔۔۔تمہارے بابا ہیں تمہارے ساتھ۔

تمہیں اس لڑکے سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا اب۔

شعیب نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے اس نے تمہارے ساتھ جو کچھ کیا ہے۔

میں تم سے بہت شرمندہ ہوں میری بچی۔۔۔ہو سکے تو اپنے بابا کو معاف کر دینا۔

ہمیں کچھ دن یہی رہنا پڑے گا۔۔۔تمہارے ڈاکومنٹس کلئیر ہو جائیں پھر ہم دبئی چلے جائیں گے اپنے گھر۔

وہ بولتے رہے اور سویرا بس چاپ سنتی رہی۔۔۔کیا کہہ سکتی تھی؟

اس کے پاس الفاظ تو بہت تھے کہنے کو مگر آواز نہی تھی۔

بے بس سی کمرے کی دیواروں کو دیکھتی رہی۔

صبح سے شام ہو چکی تھی اور وہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھے لاچار بیٹھی تھی۔

وہ گھر آ چکے ہو گے۔۔۔پتہ نہیں آنٹی کیا کہیں گی ان سے۔

یقیناً وہ اپنا نام تو نہیں لیں گی۔۔۔یا تو یہ کہیں گی کہ میں اپنی مرضی سے گئی ہوں یا پھر یہ کہیں گی کہ اس کا باپ اسے زبردستی لے گیا ہے۔

جیسے جیسے شام ہو رہی تھی سویرا کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔

کھانا کھاؤ سویرا۔۔۔کہاں گم ہو بیٹا؟

چھوڑ دو ان لوگوں کے بارے میں سوچنا۔۔۔اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچو۔

تمہاری بہن اور بھائی تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور تمہاری ماں بھی۔

ماں کے نام پر سویرا نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔

دل چاہ رہا تھا چیخ چیخ کر بولے کونسی ماں؟

وہ ماں جس نے آج تک میری شکل تک نہی دیکھی۔۔۔وہ ماں جس کی وجہ سے اپنے باپ سے دور رہی۔

وہ ماں جو اس کے ان حالات کی زمہ دار ہے۔

ہاں تمہاری ماں۔۔۔وہ شرمندہ ہے کہ اس کی وجہ سے میں نے اتنے سال تمہیں خود سے دور رکھا۔

وہ چاہتی ہے کہ میں تمہیں اس کے پاس لاؤں تا کہ تمہیں کسی پر بوجھ بن کر نا رہنا پڑے۔

سویرا کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔جیسے کہنا چاہ رہی ہو اگر وہ اجازت نہ دیتی تو آپ مجھے لینے نہیں آتے؟

اچھا بیٹا چھوڑو ان سب باتوں کو تم کھانا کھاؤ۔۔۔صبح سے بریڈ کا ایک پیس کھایا ہے تم نے۔

کھانے سے کیسی دشمنی؟

سویرا کا سر پھٹ رہا تھا ان کی باتوں سے۔۔۔چپ چاپ پلیٹ میں کھانا نکالا اور کھانے بیٹھ گئی تا کہ ان کا لیکچر مزید نا سننا پڑے۔

________________________

یوسف سلام کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔۔۔جلدی سے کچھ کھانے کو دے دیں ماما جان،مجھے یونیورسٹی کے لیے دیر ہو رہی ہے۔

I am already late

وہ مصروف سے انداز میں سیڑھیوں کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔

اوپر آیا اور سویرا کو کمرے نا دیکھ کر دوسرے کمرے میں گیا۔۔۔سویرا وہاں بھی نہی تھی۔

اپنے کمرے میں واپس آیا اور واش روم کے دروازے پر ہاتھ رکھا تو دروازہ کھل گیا۔

یہاں بھی نہی ہے۔۔۔کہاں گئی؟

سویرا۔۔۔؟

کہاں ہو یار؟

پہلے ہی مجھے دیر ہو رہی ہے اوپر سے یہ لڑکی۔۔۔اسے پتہ بھی ہے کہ میں اسے دیکھے بغیر نہی رہ سکتا پھر بھی کمرے سے غائب ہے۔

سویرا؟

کہاں ہو؟

سویرا کو آوازیں دیتے ہوا نیچے آیا اور کچن میں گیا لیکن سویرا وہاں بھی نہی تھی۔

ٹی وی لاونج میں واپس آیا اور ماں کی طرف دیکھا۔۔۔ماما سویرا کہاں ہے؟

میں اوپر بھی دیکھ چکا ہوں اور نیچے بھی مگر میری آواز کا جواب ہی نہی دے رہی۔

آپی کے ساتھ کہی گئی ہے کیا؟

نہیں۔۔۔میں تو یہی ہوں۔۔۔پیچھے سے مریم کی آواز آئی۔

میری طبیعت زرا خراب تھی تو سکول سے آ کر سو گئی۔۔۔کہاں جائے گی وہ گھر میں ہی ہو گی۔

گھر پر نہی ہے وہ آپی۔۔۔میں بہت آوازیں دے چکا ہوں۔

یوسف اور مریم نے ماں کی طرف دیکھا۔۔۔وہ لا تعلق سی ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھیں۔

ماما میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں؟

سویرا کہاں ہے؟

یوسف آگے بڑھا اور ٹی وی کا سوئچ اتار کر پھینکا۔۔۔آپ میری بات کا جواب کیوں نہیں دے رہی ماما؟

کیا جواب دوں میں تمہیں؟

شہلا بیگم غصے سے چلائی۔۔۔اس کا باپ آیا تھا اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔

What?????

کیا مطلب ہے اس کا باپ آیا تھا اور اسے لے گیا؟

مریم آگے بڑھی اور یوسف کے کندے پر ہاتھ رکھا۔

Cool down…

ماما یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟

مریم حیرت زدہ سی بولی۔

مریم تمہارے کان بند ہیں کیا؟

شہلا بیگم غصے سے بولی۔

ایک بار کہہ چکی ہوں کہ اس کا باپ آیا تھا صبح اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔۔۔بار بار پوچھنے کا مقصد؟

یوسف غصے سے آگے بڑھا اور ایک ایک کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے سویرا کو آوازیں دیتا گیا۔

جب نیچے والے پورشن میں دیکھ لیا تو اوپر بھاگا اور دوبارہ سب کمروں میں دیکھتے ہوئے ٹیرس کی طرف بھاگا مگر سویرا کہی بھی نہی تھی۔

وہ دیوانہ وار بھاگتے ہوئے نیچے آیا۔۔۔ماما اگر آپ مذاق کر رہی ہیں تو یہ بہت برا مذاق ہے۔

مجھے بتائیں سویرا کہاں ہے؟

یوسف میں بتا چکی ہوں تمہیں کہ اس کا باپ اسے لے گیا ہے،میری بات کا یقین کیوں نہی کر رہے تم؟

یوسف سر نفی میں ہلاتے ہوئے باہر کی طرف بھاگا اور سویرا کے گھر کی بیل بجائی۔

وہ مسلسل بیل بجا رہا لیکن کوئی دروازہ نہیں کھول رہا تھا۔

اوپر ٹیرس میں کھڑے شعیب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔آ گیا مجنوں٫اس کا تماشہ دیکھنے میں بہت مزہ آنے والا ہے۔

خیر ہے کون ہے؟

کوثر بیگم نے گیٹ کھولا اور سامنے یوسف کو کھڑے دیکھ کر چونک گئی۔

سویرا کہاں ہے؟

یوسف ان کی کوئی بھی بات سنے بغیر اندر کی طرف بھاگا۔

Ohhh shitttt….

یہ اندر کیوں آ گیا؟

شعیب بھی بھاگتے ہوئے نیچے آیا۔

یوسف پاگلوں کی طرح چلاتے ہوئے ایک کمرے میں سویرا کو ڈھونڈ رہا تھا مگر وہ کہی بھی نہی تھی۔

ہر جگہ دیکھ چکا تھا مگر سویرا کا نام و نشان تک نہیں تھا۔

یہ کیا کر رہے ہو تم؟

چوروں کی طرح ہمارے گھر میں گھس آئے ہو۔۔۔سویرا کیوں آئے گی یہاں؟

کوثر بیگم چلا رہی تھیں مگر یوسف ان کی کوئی بات سننے کو تیار ہی نہی تھا۔

تم نے سنا نہی؟

سویرا یہاں نہیں ہے۔

شعیب کی آواز سن کر یوسف غصے سے اس کی طرف بڑھا اور اسے گریبان سے پکڑا۔۔۔سویرا کہاں ہے؟

مجھے کیا پتہ سویرا کہاں ہے؟

میرا گریبان چھوڑو۔۔۔شعیب نے خود کو آزاد کروایا۔

اس کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو تم؟

تمہاری بیوی ہے تمہیں پتہ ہو کہاں ہیں،ہم سے کس بات کا بدلہ لے رہے ہو؟

اس سے پہلے کہ یوسف شعیب پر مزید جھپٹتا کوثر بیگم درمیان میں آ گئیں۔

سویرا کے بابا آئے تھے اور سویرا کو لے گئے۔۔۔ایسا تو نہی ہو سکتا کہ آپ لوگوں کو اس بارے میں پتہ نا ہو۔

یوسف غصے سے چلایا۔

کیا کہا؟

اس کا باپ آیا اور اسے لے گیا؟

کوثر بیگم حیرت زدہ سی بولی۔

ہمیں اس بارے میں کچھ نہی پتہ۔۔۔وہ یہاں نہی آئے اور نہ ہی سویرا یہاں آئی ہے۔

اگر تمہیں یقین نہی ہے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

یوسف کا بس نہی چل رہا تھا کسی طرح ان کے منہ سے سچ اگلوائے۔

میری بیوی ہے وہ۔۔۔ان کی ہمت کیسے ہوئی سویرا کو یہاں سے لے کر جانے کی؟

مجھے اپنی بیوی یہاں چاہیے۔۔۔ہر حال میں۔

ایک گھنٹہ ہے آپ لوگوں کے پاس کچھ بھی کریں لیکن سویرا یہاں ہو۔۔۔ورنہ میں ہر چیز کو تہس نہس کر دوں گا۔

ایک گھنٹے کا مطلب ہے ایک گھنٹہ۔۔۔اس سے زیادہ انتظار نہی کروں گا میں۔

یوسف چلاتے ہوئے بولا اور اپنے گھر کی طرف بھاگا۔

اپنے کمرے میں آیا اور موبائل اٹھاتے ہوئے باپ کا نمبر ڈائل کیا۔انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا

بابا جان آپ بس جلدی گھر آ جائیں ورنہ میں خود کو ختم کر لوں گا۔۔۔کال بند کرتے ہوئے سر تھامے بیٹھ گیا۔

شہلا بیگم کمرے میں داخل ہوئی لیکن یوسف نے انہیں کمرے سے باہر نکالتے ہوئے دروازہ بند کر دیا۔

مجھے آپ سے کوئی بات نہی کرنی۔۔۔جب تک مجھے سویرا نہیں مل جاتی آپ میرے سامنے بھی مت آئیے گا ورنہ میں خود کو کچھ کر بیٹھوں گا۔

شہلا بیگم نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔

یوسف چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے بے بس سا بیڈ کے ساتھ فرش پر بیٹھ گیا۔

اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو اس کی ہتھیلیوں کو بھگو رہے تھے۔

اس وقت وہ خود کو دنیا کا سب سے بے بس انسان سمجھ رہا تھا۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *