Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488

Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 04)

87.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Zaar (Episode 04)

Dill e Zaar by Khanzadi

تم کیسے جانتے ہو سویرا کو؟

مریم کے سوال پر یوسف نے حیرت زدہ انداز میں اسے دیکھا اور کندھے اچکاتے ہوئے مسکرا دیا۔

اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے آپی؟

اور آپ سب لوگ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟

میں نے کچھ غلط کہہ دیا ہے کیا؟

شہلا بیگم نے پہلے شوہر کی طرف دیکھا اور پھر مریم کی طرف۔۔۔ان کی سمجھ میں کچھ نہی آ رہا تھا کہ کیا بولیں۔

تم نے کہا تم سویرا کو جانتے ہو اور میں نے پوچھا کہ تم اسے کیسے جانتے ہو؟

بات کو گھما کیوں رہے ہو یوسف؟

میں پریشان ہو گئی ہوں تمہاری بات سن کر۔۔۔بلکہ صرف میں نہی ماما اور بابا بھی پریشان ہو رہے ہیں دیکھو ان کی طرف۔

یوسف نے باری تینوں کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔

Seriously?

جیسا آپ لوگ سمجھ رہے ہیں ویسا کچھ بھی نہی ہے۔

میں سویرا کو جانتا ہوں لیکن صرف نام کی حد تک۔۔۔وہ کون ہے کیا کرتی ہے میں کچھ نہی جانتا۔

مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ ہم جب سے یہاں شفٹ ہوئے ہیں یہ نام میں روز سنتا ہوں۔۔۔میرا مطلب ہے ساتھ والے گھر میں کوئی آنٹی چلا چلا کر یہ نام بول رہی ہوتی ہیں وہ بھی صبح صبح۔

میری نیند خراب ہوتی ہے روز اس نام کی وجہ سے بس اتنا جانتا ہوں میں اس نام کو اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

شہلا بیگم نے گہری سانس لی اور خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔ناشتہ شروع کریں میاں جی۔

مریم نے بھی سکون کا سانس لیا اور ناشتے کی پلیٹ اٹھائے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔کبھی کبھی تم حد کر دیتے ہو یوسف،ڈرا ہی دیا تھا ہمیں۔

لیں جی اس میں ڈرنے والی کیا بات تھی آپی؟

ڈرنے والی ہی بات تھی بھئی۔۔۔آج سے پہلے تمہارے منہ سے کسی لڑکی کا ذکر نہیں سنا ناں ہم سب نے،بس اسی لیے زرا ڈر گئے تھے کہ تم کیسے جانتے ہو سویرا کو۔

داد دینا پڑے گی آپ کی سوچ کو آپی۔۔۔

Well done

کتنا یقین کرتی ہیں آپ اپنے بھائی پر۔۔۔ہے ناں؟

اوہ۔۔۔تمہیں برا لگا یوسف؟

I am really Sorry

لیکن غلطی تمہاری بھی ہے۔۔۔تم آدھی بات کر کے چپ ہو گئے اور ہمیں تجسس میں ڈال دیا۔

پوری بات کرتے کہ کیسے جانتے ہو سویرا کو۔۔۔خوامخواہ ہم سب کو پریشان کر دیا۔

ویسے اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات تھی نہی آپی۔۔۔خیر چھوڑیں۔

By the way…

یہ سویرا ہے کون؟

آپ لوگ اس کے بارے میں اتنا کیوں پوچھ رہے ہیں؟

شاید وہ ان کی میڈ ہے۔۔۔کیونکہ جب بھی آنٹی اسے آواز دیتی ہیں تو کسی نا کسی کام کے حوالے سے ہی آواز دیتی ہیں۔

نہی بیٹا۔۔۔وہ نوکرانی نہی ہے لیکن کسی نوکرانی سے کم بھی نہی ہے۔

بدقسمتی سے وہ اس گھر کی بیٹی ہے لیکن اس کی حالت نوکرانیوں سے بھی بدتر ہے۔

اس کی ماں مر چکی ہے اور باپ دوسری شادی کرنے کے بعد باہر کے ملک چلا گیا اور وہی بس گیا۔

وہاں سے پیسے تو بھیجتا ہے لیکن ایک بار بھی بیٹی سے ملنے نہی آیا۔

Ohhhh…So sad

یوسف اطمینان سے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے بولا۔

اور قسمت کی ستم گری دیکھو۔۔۔بے چاری بے زبان ہے،بول ہی نہی سکتی۔

اگر کسی کو اپنا دکھ سنانا بھی چاہے تو بے بس ہے۔

میں اور مریم گئی تھیں اس کی چچی سے بات کرنے کہ مریم اسے پڑھا دے گی لیکن ابھی تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہی آیا۔

ہممم۔۔۔یوسف نے فقط سر ہلانے پر اکتفا کیا۔

بڑا ٹھنڈا ری ایکشن دیا ہے تم نے۔۔۔مجھے لگا تھا تمہیں بہت افسوس ہو گا اور کوئی نیا آئیڈیا دو گے ہمیں لیکن تم نے تو بس ہممم کہہ کر بات ہی ختم کر دی۔

مریم کی بات پر یوسف نے کندھے اچکاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔کیا ہو گیا ہے آپ سب کو؟

آپ لوگ اس لڑکی کی وجہ سے اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہیں؟

ہمیں یہاں آئے ابھی چند دن ہوئے اور آپ لوگوں نے رشتہ داریاں بنانی شروع کر دی ہیں۔

ایسا کیا ہے اس لڑکی میں جو ہم اپنے فیملی ٹائم میں اسے اتنا سیریسلی ڈسکس کر رہے ہیں؟

اس کی معصومیت۔۔۔بھولا پن اور اس کی بے بسی نے ہمیں مجبور کر دیا ہے اس کے بارے میں سوچنے کے لیے۔

مریم کے جواب پر یوسف نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔کچھ زیادہ ہی ترس نہی آ رہا آپ کو اس پر؟

ٹھیک سے جانتی بھی ہیں آپ اسے؟

ایسے ہی ہر کسی پر ترس آ جاتا ہے آپ کو تو اور ماما آپ۔۔۔کیا ضرورت تھی آپ کو ان کے گھر جانے کی؟

پتہ نہیں کون لوگ ہیں کیسے ہیں کیسے نہی۔۔۔خومخواہ کسی کے گھر نا جائیں کریں آپ لوگ۔

لوگ جیسے نظر آتے ہیں حقیقت میں ویسے ہوتے نہیں ہیں۔

Remember that…

ہو سکتا ہے حقیقت کچھ اور ہو۔۔۔آپ لوگوں کو تو بس بہانہ چاہیے دوسروں پر ہمدردیاں نچھاور کرنے کا۔

جب اس کے باپ نے پیچھے مڑ کر نہی دیکھا تو آپ لوگ کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟

بس کر دو یوسف۔۔۔کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو،کون اپنی زندگی میں کیا جنگ لڑ رہا ہوتا ہے یہ ہم نہی جانتے لیکن اگر آپ کے سامنے کوئی تکلیف میں ہے تو آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ اس کی مدد کریں۔

ابھی تم اس سے ملے نہی ہو اسی لیے ایسی باتیں کر رہے ہو۔۔۔ایک بار اس سے مل لو گے تو تمہیں اپنے الفاظ پر افسوس ہو گا۔

مجھے اس سے ملنے کا کوئی شوق نہیں ہے آپی۔۔۔یوسف دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوئے بولا۔

ٹھیک ہے اگر آپ لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ لڑکی مشکل میں ہے تو اس کی مدد کریں لیکن اپنے گھر میں رہ کر۔

ان کے گھر جا کر ان کی منتیں کرنا مجھے اچھا نہی لگا۔۔۔ایک منٹ کے لیے سوچیں اگر انہوں نے اسے پڑھانا ہوتا تو اب تک گھر نا بٹھاتے۔

کتنی ایج ہے اس کی؟

She is Around 16/17 Years Old

جواب مریم کی طرف سے آیا۔

آپ کے مطابق وہ تقریباً سولہ یا سترہ سال کی ہے اور اتنے سالوں میں کسی کو اس کا خیال نہیں آیا تو اب کیسے آئے گا؟

آپ لوگ دیوار سے سر ٹکرانے کی کوشش کر رہے ہیں بس اور کچھ نہیں۔

مریم نے چونک کر ماں کی طرف دیکھا اور پھر یوسف کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔تو تمہارا مطلب ہے کہ ہم لوگ چپ چاپ یہ ظلم دیکھتے رہیں؟

ہو سکتا ہے آج تک کسی نے اس کے لیے آواز ہی نہ اٹھائی ہو۔۔۔اگر اللّٰہ نے یہ موقع مجھے دیا ہے تو میں کسی صورت پیچھے نہی ہٹوں گی۔

ایک بار بابا اس کے چچا سے بات کر لیں پھر دیکھتی ہوں آگے کیا کرنا ہے۔

اگر وہ بھی نا مانے تو؟

اگر وہ بھی نا مانے تو میں تو این جی ایو میں شکایت درج کرو گی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرواؤں گی۔

مریم کے جواب پر یوسف نے کندھے اچکائے۔۔۔مطلب آپ ہر حال میں اس لڑکی کا ہی ساتھ دیں گی۔

چلیں سہی ہے جیسے آپ کی مرضی۔۔۔ویسے بھی سارا دن فارغ رہتی ہیں کرنا ہی کیا ہوتا ہے آپ نے۔

یوسف کے جواب پر مریم نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔بابا دیکھا آپ نے یہ مجھے طعنے مارتا رہتا کہ میں سارا دن فارغ رہتی ہوں۔

جب سے میرا ماسٹرز مکمل ہوا ہے یہ مجھے ٹارچر کرتا رہتا ہے کہ میں آگے کیوں نہی پڑھ رہی۔

مجھے سکول بھی جانا ہوتا ہے بہت بڑی زمہ داری ہے میرے سر پے اور یہ الگ مجھے پریشان کیے رکھتا ہے۔

نا بھئی۔۔۔خبردار!

میری بیٹی کو تنگ کرنا چھوڑ دیں آپ۔۔۔ورنہ آپ سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

ساجد صاحب نے فوراً بیٹے کو وارن کیا۔

سہی ہے بابا جان۔۔۔آپ ہمیشہ آپی کا ہی ساتھ دیا کریں۔۔۔حالانکہ آپ کو میرا ساتھ دینا چاہیے۔

غلط بات پر میں کسی کا ساتھ نہی دوں گا۔۔۔بس آج کی بخث یہی ختم،ناشتہ ختم کرو پھر میری ایک ضروری میٹنگ ہے تمہیں بھی ساتھ چلنا ہو گا۔

جی بابا جان ضرور۔۔۔جیسے آپ کی مرضی۔

مریم نے یوسف کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔

بدلے میں یوسف نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا اور پھر مسکرا دیا۔

__________________________

آخر کار ایک ہفتے بعد ساجد صاحب کی ملاقات طارق صاحب سے ہو ہی گئی۔

دونوں مغرب کی نماز پڑھ کر گھر آ رہے تھے۔جب ساجد صاحب نے انہیں ساتھ والے گھر جاتے دیکھا تو انہوں نے فوراً اپنا تعارف پیش کیا اور انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔

سویرا کے چچا جی نے اخلاقاً ان کی دعوت قبول کی اور ان کے گھر چلے گئے۔

ساجد صاحب نے انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور ٹی وی لاونج میں جا کر شہلا بیگم اور مریم کو یہ خوشخبری سنائی۔

میں بھی آتی ہوں آپ کے ساتھ۔۔۔شہلا بیگم بھی شوہر کے ساتھ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھی۔

پھر رک کر پلٹی۔۔۔مریم آپ چائے بنا لاؤ انکل کے لیے۔

جی ماما جانی۔۔۔مریم نے لیپ ٹاپ شٹ ڈاؤن کیا اور کچن میں چلی گئی۔

اسلام و علیکم بھائی جان،کیسے ہیں آپ؟

شہلا بیگم خوشی سے نڈھال بولی اور شوہر کے ساتھ بیٹھ گئیں۔

وعلیکم اسلام۔۔۔الحمدللہ میں ٹھیک ہوں۔بھابی آپ کیسی ہیں؟

طارق صاحب نے نظریں جھکائے احتراماً جواب دیا۔

جی جی الحمدللہ میں بھی ٹھیک ہوں۔بڑی خواہش تھی ہماری آپ سے ملاقات کی بلکہ یہ سمجھ لیں کہ ہم بڑی شدت سے آپ کا انتظار کر رہے تھے۔

میرا انتظار۔۔۔؟

میں کچھ سمجھا نہی ساجد بھائی؟

آپ پریشان نا ہو میں سمجھاتا ہوں آپ کو۔۔۔ساجد صاحب مسکراتے ہوئے بولے۔

دراصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ کچھ دن پہلے یہاں شفٹ ہوئے ہیں اور بیگم صاحبہ نے گھر میں چھوٹی سی محفل کا انعقاد کیا تھا۔

اسی سلسلے میں آپ کے گھر دعوت دینے گئی تھیں اور وہاں ان کی ملاقات آپ کی بھتیجی سویرا سے ہوئی۔

اچھا۔۔۔سویرا کے نام پر طارق صاحب نے گہرا سانس لیا اور سر جھکا لیا۔

وہ میرے بڑے بھائی کی بیٹی ہے۔۔۔پیدائشی گونگی ہے۔بہت کوشش کی تھی ہم نے اس کا علاج ہو جائے لیکن نہی ہو سکا۔۔۔اس بات کا مجھے زندگی بھر افسوس رہے گا۔

بھائی جان جو ہو چکا ہے ہم اسے تو نہی بدل سکتے لیکن اس کے مستقبل کو تو سوار ہی سکتے ہیں ہم۔

شہلا بیگم افسردہ سی بولی۔

کیا مطلب ہے آپ کا بھابھی۔۔۔میں سمجھا نہی؟

میرا مطلب یہ ہے بھائی صاحب کہ سویرا کا پڑھنا لکھنا بہت ضروری ہے۔

میں جانتی ہوں وہ بہت سیدھی سادھی ہے اور اسی لیے آپ لوگوں نے اسے گھر سے باہر نہی نکالا۔

اگر میری بیٹی اسے پڑھا دے تب تو آپ کو کوئی پریشانی نہی ہو گی ناں؟

دراصل میری بیٹی جس سکول میں پڑھاتی ہے وہاں ایسے ہی بچے ہیں۔۔۔کچھ بول نہی سکتے کچھ سن نہی سکتے،کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سویرا بھی پڑھ سکتی ہے۔

آج کے دور میں کچھ بھی ناممکن نہی ہے۔میں آئی تھی آپ کے گھر اور آپ کی مسز سے اس بارے میں تفصیلاً بات کی تھی اور انہوں نے کہا کہ آپ سے مشورہ کیے بغیر وہ کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔

یقیناً انہوں نے بتا ہی دیا ہو گا آپ کو اس بارے میں۔۔۔؟

نہی۔۔۔میری ان سے اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی بھابھی لیکن اب آپ نے بات کی ہے تو میں اس بارے میں ضرور سوچوں گا۔

جی بھائی جان آپ ضرور سوچئیے گا۔ہمارے گھر میں سویرا کو کسی قسم کی تکلیف نہی ملے گی۔

ایک بیٹی ہے میری اور ایک بیٹا۔۔۔بیٹا صبح ان کے ساتھ بزنس دیکھتا ہے اور شام کو یونیورسٹی جاتا ہے۔

جس وقت سویرا یہاں آئے گی وہ گھر نہی ہوا کرے گا۔۔۔آپ لوگ بے فکر ہو جائیں اس کی طرف سے۔

جی طارق صاحب۔۔۔آپ بے فکر رہیں ہمارے بیٹے کی طرف سے ،بہت فرمانبردار بیٹا ہے ہمارا۔

آپ کی بھتیجی اس گھر میں ایسے محفوظ رہے گی جیسے ہماری بیٹی مریم ہے۔

اسلام و علیکم۔۔۔مریم چائے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔

یہ ہے ہماری بیٹی مریم۔۔۔ساجد صاحب نے بیٹی کا تعارف پیش کیا۔

وعلیکم اسلام۔۔۔طارق صاحب نے خوشدلی سے جواب دیا اور مریم کے سر پر ہاتھ رکھا۔جیتی رہو بیٹا۔۔۔بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔

طارق صاحب حیرت زدہ سے بیٹھ گئے۔۔۔وہ مریم کو دیکھ کر حیران اس لیے ہوئے کیونکہ اس نے بڑی شال اوڑھی ہوئی تھی۔۔۔دوسری طرف ان کی بیٹیاں تھیں جن کو دیکھو تو سر تا پاؤں فیشن ہی دکھائی دیتا ہے۔

نا چاہتے ہوئے بھی ان کا لہجہ افسردہ ہو گیا۔

کیا ہوا بھائی صاحب؟

آپ پریشان لگ رہے ہیں٫سب خیریت ہے ناں؟۔۔۔ساجد صاحب نے طارق صاحب کو گم سم بیٹھے دیکھا تو بول پڑے۔

جی جی سب خیریت ہے بھائی صاحب۔۔۔آپ کی بیٹی ماشاءاللہ دین سے کافی منسلک لگتی ہے۔

جی الحمدللہ۔۔۔اسلامیات میں ماسٹرز کیا ہے میری بیٹی نے۔۔۔تعلیم کے ساتھ ساتھ دین سے جڑ کر رہی ہے۔

آپ چائے لیں بھائی صاحب۔۔۔اپنا ہی گھر سمجھیں۔

یہی ہے ہماری فیملی۔۔۔سب آپ کے سامنے ہے،آپ بے فکر ہو کر بچی کو یہاں بھیجیں۔آپ کی بھتیجی یہاں محفوظ ہے انشاللہ۔

جی ضرور۔۔۔میں گھر جا کر بات کرتا ہوں۔

انشاللہ۔۔۔کل سے سویرا ضرور آیا کرے گی۔بیٹا آپ اپنی فیس بھی بتا دینا۔

نہی انکل جی۔۔۔مجھے فیس نہی چاہیے،میں یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کرنا چاہتی ہوں۔

نہی بیٹا جی ایسے کام نہی چلے گا۔۔۔آپ بلا تکلف اپنی فیس بتائیں۔

طارق صاحب بہت حیران ہوئے مریم کے جواب پر۔۔۔انہیں لگا شاید وہ فیس کی لالچ میں سویرا کو پڑھانا چاہ رہی ہے لیکن مریم کا جواب سن کر وہ حیران رہ گئے۔

فیس کی کوئی ضرورت نہیں ہے طارق صاحب۔۔۔میری بیٹی یہ نیکی اپنی خوشی سے کرنا چاہتی فیس کے لیے نہی۔

فیس تو اسے سکول سے بھی مل جاتی ہے۔کیا فرق پڑتا ہے اگر یہ ایک سٹوڈنٹ سے فیس نا بھی لے۔

ویسے آپ کی بھتیجی ہماری بیٹی کے لیے سٹوڈنٹ سے زیادہ اہم ہے۔میرا مطلب ہے کہ ایک ملاقات میں ہی اس کی سویرا سے کچھ خاص اٹیچمنٹ ہو گئی۔

صبح و شام ہمارے گھر میں ایک ہی ٹاپک چلتا رہتا ہے۔۔۔کہ انکل مانیں گے یا نہی؟

بس جب سے یہ سویرا سے ملی ہے اسے عجیب سی بے چینی لگی ہے کہ کسی طرح یہ اسے پڑھا دے بس۔

طارق صاحب مسکرا دیے اور سر اثبات میں ہلایا۔۔۔یہ تو آپ کی اچھی تربیت کا اثر ہے ساجد صاحب ورنہ آجکل کون کسی کا بھلا سوچتا ہے۔

یہاں تک کہ ہمارے اپنے ہی ہم سے کنارے کر لیتے پیں۔میں آپ لوگوں کا بہت احسان مند ہوں جو آپ نے ہمارے گھر کی بیٹی کے لیے اتنا سوچا۔

میں گھر جا کر مسز سے بات چیت کرتا ہوں۔

انشاللہ سویرا کل سے پڑھنے آئے گی۔

Thank you so much uncle…

مجھے آپ سے یہی امید تھی۔۔۔آپ بے فکر ہو کر اسے کل بھیجیں۔

جی بیٹا ضرور۔۔۔اب مجھے اجازت دیں آپ لوگ،دیر ہو گئی تو فیملی پریشان ہو گی۔

بہت شکریہ آپ نے ہمیں وقت دیا طارق صاحب۔۔۔ساجد صاحب نے گلے ملتے ہوئے طارق صاحب کا شکریہ ادا کیا اور انہیں گیٹ تک رخصت کرنے آئے۔

I m so Happy mama

مریم بھاگ کر ماں کے گلے لگ گئی۔

شہلا بیگم نے بھی اس کے گرد بانہیں پھیلائی اور اس کے ماتھے پر بھروسہ دیا۔۔۔میری معصوم بچی،چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتی ہے۔

چھوٹی بات نہی ہے یہ ماما جانی۔۔۔میرے لیے یہ بہت بڑی خوشخبری ہے۔میں بابا جان کو دیکھ کر آتی ہوں کہی باہر تو نہی چلے گئے۔

اٹھ کر باہر چلی گئی اور باپ کے ساتھ واپس اندر آئی۔۔۔تنیوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے تھے۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *