Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 03)
Rate this Novel
Dill e Zaar (Episode 03)
Dill e Zaar by Khanzadi
او میڈم۔۔۔؟
بہت اڑ لیا۔۔۔زمین پر واپس آ جاو اب،چلی گئیں ہیں وہ۔
کوثر بیگم سویرا کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے بولی۔
زیادہ ہواؤں میں اڑنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھی؟
اپنی اوقات میں واپس آ جاو۔
یہ کپ رکھو ٹرے میں اور برتن سمیٹو جلدی۔۔۔چلو شاباش۔
منٹ لگاؤ۔۔۔کپ تو ایسے پکڑا ہوا ہے جیسے اس گھر کی مالکن ہو۔
سویرا نے ایک نظر بریرہ اور نبیرہ کو دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
بریرہ حیرت زدہ سی ماں کی طرف بڑھی۔۔۔امی آپ نے دیکھا دونوں ماں بیٹی سویرا پر کیسے نڈھال ہو رہی تھیں۔
اور اس میڈم کو دیکھیں زرا کیسے چپک کر بیٹھی تھی ان کے ساتھ۔
ہاں ہاں دیکھا ہے میں نے سب کچھ۔۔۔اندھی نہیں ہوں میں۔
کوثر بیگم تپ گئیں بریرہ کی بات پر۔
اور تم نے ان دونوں کے سامنے جو ماں کی عزت افزائی کی ہے وہ بھی دیکھی تھی میں نے۔
زرا خیال نہیں ہے تمہیں ماں کی عزت کا؟
بہت بدتمیز ہوتی جا رہی ہو تم دن بدن۔۔۔سہی کہہ رہی تھی نبیرہ،سویرا کی فکر چھوڑ کر زرا خود پر توجہ دو۔
چلو جی۔۔۔امی آپ سے تو بندہ کوئی بات کرے ہی نہ۔۔۔میں کچھ کہہ رہی ہوں اور آپ کچھ کہہ رہی ہیں۔
چپ کر کے بیٹھو تم۔۔۔کوثر بیگم بریرہ پر تپ گئیں۔
بند کرو ساری لائیٹس اور باہر آو دونوں۔۔۔غصے سے بولتی ہوئیں کمرے سے باہر نکل گئیں۔
تمہاری وجہ سے امی مجھ پر بھی غصہ کر رہی ہیں۔۔۔اپنی حرکتیں سدھار لو بریرہ۔
نبیرہ بھی غصے میں کمرے سے باہر نکل گئی۔
ہاں ہاں مجھے ہی بولو سب۔۔۔سارے کام میرے سر پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گئی ہیں۔
بریرہ نے لائیٹس بند کی اور ڈرائنگ روم کا دروازہ بند کرتی ہوئی ٹی وی لاونج میں سب کے ساتھ بیٹھ گئی۔
مجھے تو یہ بات ہی سمجھ میں نہیں آ رہی کہ آخر اس عورت کو سویرا کے ساتھ کس بات کی ہمدردی ہے۔۔۔کوثر بیگم سر تھامے بولی۔
وہی تو۔۔۔یہی سوچ سوچ کر تو میں پریشان ہو رہی ہوں امی۔
بریرہ مزید بولنے والی تھی لیکن ماں کے غصے سے دیکھنے پر چپ ہو گئی۔
تم دونوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔مجھے جو کرنا ہے میں کر لوں گی۔
تم دونوں جاو اپنے کمرے میں۔۔۔صبح یونیورسٹی جانا ہے۔
ہمیں کیا۔۔۔آپ نے کوئی بات سننی تو ہے نہی۔بریرہ نے اپنا موبائل اٹھایا ہینڈز فری اٹھا کر کانوں میں لگائی اور کندھے اچکاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔
امی آپ پریشان نا ہو۔۔۔کوئی زبردستی تھوڑی ہے۔اگر یہ ماں بیٹی دوبارہ آئی تو آپ صاف انکار کر دینا۔
نبیرہ بھی ماں کو تسلی دیتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
کوثر بیگم سویرا کو کچن میں دیکھتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
سویرا عجیب سی پریشانی میں مبتلا برتن سمیٹنے میں مصروف تھی۔۔۔اسے یقین نہی آ رہا تھا کہ کسی نے اس کے لیے آواز اٹھانے کی کوشش کی ہے۔
ایک طرف دل میں امید جاگ رہی تھی لیکن دوسری طرف اسے اپنی اس امید کا دیا بجھتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
ایک طرف شہلا بیگم اور مریم کی محبت اور دوسری چچی کا رویہ سویرا کو عجیب کشمکش میں مبتلا کر گیا۔
آخر چچی جان کو مسئلہ کیا ہے میری پڑھائی سے؟
کیا مجھے پڑھنے کا کوئی حق نہی؟
ایک طرف تو وہ کہتی رہی کہ میرے لیے سکول جانا بہتر نہیں اور دوسری طرف وہ اتنی اچھی لڑکی پر بھروسہ نہی کر پا رہی۔
بہانے پر بہانہ بنائی جا رہی تھیں اور چاچو کو بھلا کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟
اگر میں تعلیم حاصل کر سکوں تو وہ بہت خوش ہو گے۔۔۔سویرا دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ اچانک کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
وہ ڈر کر پلٹی اور اس کے ہاتھ سے کپ گر کر زمین بوس ہو گیا۔
پیچھے زوہیب کھڑا تھا۔۔۔سویرا کے ڈرنے پر پریشان ہو گیا اور ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے سویرا کے ماتھے سے پسینہ صاف کیا۔
کیا ہوا۔۔۔ڈر کیوں گئی تم؟
اب اتنی بری شکل بھی نہیں ہے تمہارے بھائی کی۔۔۔زوہیب ہنستے ہوئے بولا۔
زوہیب کو سامنے دیکھ کر سویرا کی جان میں جان آئی۔۔۔اسے لگا شعیب ہے اسی لیے ڈر گئی تھی۔
بھوک سے جان نکل رہی ہے کھانا ملے گا؟
زوہیب معصوم سی شکل بناتے ہوئے بولا۔
بدلے میں سویرا مسکرا دی اور مریم کے گھر سے آئی ہوئی کھانے کی ٹرے کی طرف اشارہ کیا۔
Waooo…Very nice
زوہیب نے پلیٹ اٹھا کر بریانی دیکھی اور سویرا سے چمچ لانے کو بولا۔
سویرا نے اس کی طرف چمچ بڑھایا اور پھر سے برتن دھونے میں مصروف ہو گئی۔
زوہیب نے کرسی کھینچی اور کچن میں رکھی چھوٹی ڈائننگ ٹیبل پر ٹرے رکھتے ہوئے بریانی کھانے میں مصروف ہو گیا۔
سویرا سنو!
زوہیب کی آواز پر سویرا نے پلٹی اور سوالیہ اس کی طرف دیکھا۔
کھانا کھایا تم نے؟
سویرا نے سر اثبات میں ہلایا اور مسکراتی ہوئی پلٹ گئی۔
بس بھی کر دو کتنے برتن دھونے ہیں؟
جب دیکھو تمہارے کچن کے کام ختم ہی نہی ہوتے۔۔۔کبھی آرام بھی کر لیا کرو۔
جب سے دادو اس دنیا سے رخصت ہوئی ہیں امی نے تمہیں ملازمہ ہی سمجھ لیا۔
تھوڑا وقت خود کے لیے بھی نکال لیا کرو۔۔۔پڑھ لکھ لو تھوڑا یا پھر ساری زندگی گھر کے کام کرنے میں ہی گزارنے کا ارادہ ہے؟
ادھر آؤ بیٹھو میرے ساتھ کھانا کھاو۔۔۔چھوڑ دو برتنوں کی جان۔
سویرا نے بھیگی پلکوں سے زوہیب کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔
یہ بھی شعیب کا بھائی تھا لیکن دونوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ایک عزت تار تار کرتا تھا اور دوسرا بہنوں سے بڑھ کر عزت دیتا تھا۔
میں بھی کیا بات کر رہا ہوں تم سے۔۔۔تمہارے اپنے بس میں کہاں ہے کچھ۔
اس گھر میں رہتے ہوئے تمہارا پڑھنا لکھنا نا ممکن ہے۔اگر کوئی کوشش بھی کرے تو امی اس کا جینا حرام کر دیتی ہیں۔
پھر بھی تم کوشش تو کر ہی سکتی ہو ناں بچے۔۔۔جو بکس تمہیں لا کر دی ہیں جتنا ہو سکے انہیں سمجھنے کی کوشش کیا کرو اور امی اور باقی دو چڑیلوں کی نظروں سے بچا کر رکھنا۔
سویرا نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور سر اثبات میں ہلایا۔
آ گئے تم؟
کوثر بیگم کی آواز پر سویرا نے فرش پر بکھرے کپ کے ٹکرے دیکھے اور جلدی سے سمیٹنے میں مصروف ہو گئی۔
جی آ گیا ہوں۔۔۔ماں کی آواز پر زوہیب بے زار سا بولا۔
آ گئے تھے تو ماں کے کمرے میں بھی آ جاتے۔۔۔یا پھر تم نے قسم اٹھا رکھی ماں سے لا تعلق رہنے کی۔
امی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔مجھے لگا آپ سو گئی ہو گی اسی لیے سیدھا یہی آ گیا۔
بھوک لگی تھی تو کھانا کھانے بیٹھ گیا۔کوئی غلطی کر دی کیا میں نے؟
غلطی تو مجھ سے ہوئی ہے جو میں نے اس لڑکی کو عزت سے گھر میں رکھا ہوا ہے۔تم اس غیر لڑکی کے لیے اپنی ماں سے لڑتے ہو۔۔۔شرم آنی چاہیے تمہیں۔
سوچ سمجھ کر بولا کریں امی۔۔۔یہ کوئی غیر لڑکی نہی بلکہ میرے سگے تایا کی بیٹی ہے اور اس کے لیے آواز اٹھانا میرا فرض ہے۔
آپ کو ترس نہیں آتا اس بے زبان پر؟
کیسے ایک سیکنڈ میں آپ نے اسے غیر کہہ دیا۔۔۔یقین نہی آتا مجھے کہ میری ماں اتنی بے رحم ہے۔
کوثر بیگم نے پلٹ کر سویرا کی طرف دیکھا۔۔۔دفع ہو جاؤ تم اپنے کمرے میں۔
یہاں کھڑی ہو کر میری بے عزتی دیکھ رہی ہو۔
سویرا نے کپ کے ٹکرے ڈسٹبن میں پھینکے اور تیزی میں کچن سے باہر نکل گئی۔
اسے کیوں ڈانٹ رہی ہیں آپ؟
آپ ہر وقت اس کی جان کی دشمن بنی رہتی ہیں۔میں بس آپ سے ایک بات کہوں گا امی،خدا کا خوف کریں۔
اس بے زبان کی آہ سے بچیں۔۔۔کہی ایسا نا ہو ایک دن اس کی یہ خاموش بدعائیں ہماری زندگی میں کوئی بڑا طوفان لے آئیں۔
جس کو آپ غیر کہہ رہی ہیں یہ صبح فجر سے لے کر تہجد تک آپ لوگوں کے کام کرتی ہے۔
ہمارے ناشتے سے لے کر ہمارے کپڑوں اور جوتوں تک ہم سب کی زمہ داریاں اس کے سر پر ہیں۔
دیکھا ہے میں نے اکثر راتوں کو جب ہم سب کبھی اے سی والے ٹھنڈے کمرے میں تو کبھی کمبل میں ہیٹر والے کمروں میں سکون سے سو رہے ہوتے ہیں اور یہ غیر لڑکی کبھی ہمارے کپڑے دھونے میں مصروف ہوتی ہے اور کبھی کچن سمیٹنے میں۔
آپ کو کیا لگتا ہے میں اندھا ہوں؟
سب دکھائی دیتا ہے مجھے۔۔۔لیکن رشتوں کے تقدس میں مجبور ہوں۔
دادی مر گئیں جو اس کے حق میں بولتی تھیں اور بچا میں جو اس کے چاہ کر بھی کچھ نہی کر پا رہا۔
اگر میں اس کے لیے آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے سامنا کرنا پڑتا آپ کا۔
آپ ماں کے رشتے سے مجھے ٹارچر کرتی ہیں اور ہر بار مجھے چپ کروا دیتی ہیں لیکن ایک بات یاد رکھئیے گا امی!
آپ مجھے تو چپ کروا لیتی ہیں لیکن اللہ سب دیکھ بھی رہا ہے اور سن بھی رہا ہے۔
کھا لیں آپ کھانا اب سکون سے بیٹھ کر۔۔۔میری بھوک مر چکی ہے۔
مجال ہے جو اس گھر میں سکون سے بیٹھ کر کھانا نصیب ہو۔
زوہیب غصے میں اپنے کمرے میں چلا گیا۔
کوثر بیگم نے پلیٹ ڈھانپ دی۔۔۔نیا ہمدرد پیدا ہو گیا ہے اس منحوس کا۔
میں تو جیسے دشمن ہوں اس لڑکی کی۔۔۔پتہ نہی کیوں ان سب کو میری اس پر مہربانیاں کیوں نظر نہیں آتی۔
نا کھائے کھانا نہی کھانا تو۔۔۔جب بھوک لگے گی خود ہی کھا لے گا۔
سر پے چڑھتے جا رہے ہیں یہ بچے دن بدن۔۔۔وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
ان کے کچن سے باہر نکلتے ہی سویرا دوبارہ کچن میں آئی اور کھانے کی ٹرے اٹھائے زوہیب کے کمرے میں داخل ہوئی۔
زوہیب چینج کر کے ابھی واش روم سے باہر آیا ہی تھا کہ سویرا کو سامنے دیکھ کر مسکرا دیا۔
تم نہی سدھرو گی۔۔۔ٹھیک ہے کھا لوں گا میں،تم میز پر رکھو اور جلدی اپنے کمرے میں چلی جاؤ اگر امی نے تمہیں یہاں دیکھ لیا تو نیا تماشہ شروع کر دیں گی۔
سویرا نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور ٹرے کو میز پر رکھتی ہوئی تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی۔
راستے میں شعیب سے ٹکرا گئی۔۔۔اسے سامنے دیکھ کر تیزی سے اپنے کمرے میں بھاگ گئی اور دروازہ بند کرتے ہوئے دروازے سے ٹیک لگائے فرش پر بیٹھ گئی۔
دروازے کو لاک لگانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ہمیشہ کی طرح ناکام رہی۔
پتہ نہیں کب آنکھ لگی۔۔۔وہی فرش پر سو گئی۔
_________________
دو دن بعد۔۔۔
شہلا بیگم ٹی وی لاونج کے صوفے پر پریشان سی چائے کا کپ سامنے رکھے گم سم سی بیٹھی تھیں۔
اسلام و علیکم۔۔۔مریم سلام کرتی ہوئی ان کے پاس بیٹھ گئی۔
وعلیکم اسلام۔۔۔کھل گئی آنکھ آپ کی؟
جی ماما۔۔۔دراصل ایک پراجیکٹ پر کام کر رہی ہوں۔رات کو دیر سے سوئی تھی اور صبح نماز پڑھ کر پھر سے سو گئی۔
ویسے بھی آج سنڈے تھا سب دیر سے اٹھتے ہیں سوائے آپ کے۔۔۔اتنے سال گزر گئے لیکن آپ کی چھٹی والے دن بھی جلدی اٹھنے کی عادت نہی گئی۔
بابا نہی اٹھے ابھی تک؟
وہ تو کب کہ اٹھ چکے ہیں۔۔۔انتظار کر رہے ہیں کہ کب سب جاگیں اور ایک ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کریں۔
اوہو۔۔۔پھر تو غلطی ہو گئی مجھ سے۔
I am really Sorry
میں بابا کو بلا کر لاتی ہوں۔
بلانے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔آپ کے بابا حاضر ہیں میری جان۔
مریم ابھی جانے کے لیے اٹھی ہی تھی کہ باپ کی آواز پر مسکراتے ہوئے ان کی طرف بڑھی۔
بابا جان آپ بھی ناں۔۔۔سب کے انتظار میں ناشتہ لیٹ کر دیا آپ نے۔
پتہ بھی ہے میڈیسن کھانی ہوتی ہے آپ نے۔۔۔اتنی لا پرواہی اچھی نہیں ہوتی۔
آپ بیٹھیں میں ناشتہ بنا کر لاتی ہوں۔
مریم کچن میں چلی گئی اور ساجد صاحب بیگم کے پاس بیٹھ گئے۔۔۔کیا ہوا بیگم صاحبہ کس سوچ میں گم ہیں آپ؟
کچھ پریشان لگ رہی ہیں،سب خیریت ہے ناں؟
جی جی سب خیریت ہے میاں جی۔۔۔میں بس اس بچی کی وجہ سے تھوڑی پریشان تھی۔
کس بچی کی وجہ سے پریشان ہیں آپ بیگم؟
ساجد صاحب نا سمجھی کے انداز میں بولے۔
سویرا۔۔۔وہی جو بول نہی سکتی،بتایا تھا ناں میں نے آپ کو کچھ دن پہلے اس کے بارے میں۔
اوہ اچھا اچھا۔۔۔جی جی یاد آ گیا مجھے،کیا ہوا وہ بچی خیریت سے تو ہے ناں؟
پتہ نہیں میاں جی۔۔۔دو دن گزر گئے ہیں لیکن اس کی چچی نے مجھ سے کوئی رابطہ ہی نہی کیا۔
وہ اپنے شوہر سے فون پر بھی اجازت لے سکتی تھیں لیکن مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ خود ہی راضی نہی ہیں۔
میں تو سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی ہوں کہ اس بچی کا مستقبل کیا ہو گا؟
ماں ویسے ہی سر پر نہی ہے اور باپ دوسری بیوی اور بچوں میں مصروف ہے ایسے حالات میں اس کا سائبان کون بنے گا؟
یتیم والا ہی حساب ہے اور بدقسمتی سے بول بھی نہیں سکتی۔۔۔کوئی رخصت کر کے بھی نہی لے کر جائے گا اسے اور اگر اس کے حالات یہی رہے تو ایسے ہی ساری زندگی گھٹ گھٹ کر گزار دے گی۔
آپ کی بات تو ٹھیک ہے بیگم لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں؟
زیادہ سے زیادہ ہم انہیں مشورہ ہی دے سکتے ہیں آگے ماننا یا نہ ماننا ان کی اپنی مرضی ہے۔
ویسے میں کوشش کروں گا کہ اگر ان کے شوہر مجھے مل گئے تو میں خود ان سے بات کروں،ہو سکتا ہے وہ اس معاملے سے لاتعلق ہو۔
میرا مطلب ہے جیسے آپ بتا رہی اس خاتون کے بارے میں کہ وہ بچی کو پڑھانے کے خلاف ہے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے شوہر سے اس متعلق بات کرے ہی ناں اور آپ سے یہ کہہ دے وہ اجازت نہیں دے رہے۔
ہاں یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں میاں جی۔۔۔یہ بھی ہو سکتا ہے۔سہی کہہ رہے ہیں آپ۔
آپ کا مشورہ بلکل ٹھیک ہے۔۔۔آپ کو جیسے ہی موقع ملے آپ بھائی صاحب سے خود بات کر لیں یہی بہتر رہے گا۔
لیکن ایک مسئلہ اور بھی ہے وہ یہاں رہتے نہیں ہیں ناں۔۔۔شہر سے باہر ہوتے ہیں کیا پتہ کب چھٹی پر آئیں۔
چلیں کبھی تو آئیں گے ناں۔۔۔آپ اس بات سے فکر مند ہونا چھوڑ دیں اب۔
جو اس بچی کے حق میں بہتر ہوا ہو جائے گا۔۔۔برائے مہربانی آپ اپنی طبیعت کا خیال رکھیں۔
جی وہ تو میں رکھ رہی ہوں۔۔۔آپ کے سامنے اچھی بھلی تو ہوں۔
اچھا۔۔۔اچھی بھلی لگ تو نہیں رہی مجھے،چہرے پر تھوڑی مسکراہٹ لائیں بھئی۔
آہمممم۔۔۔۔لگتا ہے کوئی سیریس بات چل رہی ہے،میں تھوڑی دیر بعد آتا ہوں۔
یوسف کی آواز پر دونوں نے سیڑھیوں کی طرف دیکھا اور ہنس دیے۔
تو میں آوں یا اوپر واپس چلا جاؤں؟
آ جاؤ برخوردار۔۔۔بہت شرارتی ہوتے جا رہے ہو تم۔
باپ کی آواز پر یوسف مسکراتے ہوئے آگے بڑھا۔
اسلام و علیکم۔۔۔باری باری ماں باپ سے پیار لیتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا۔
مریم ناشتہ بنا رہی ہے۔۔۔تھوڑی سا انتظار کرنا پڑے آپ کو آج۔
ماں کی بات سن کر یوسف نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔۔۔توبہ کریں ماما،پچھلی بار کا ناشتہ بھول گئی کیا آپ؟
چائے میں چینی کی جگہ نمک یاد ہے ناں آپ کو؟
ٹیڑھے میڑھے٫موٹے اور کچے پراٹھے مجھ سے نہی کھائے جاتے۔۔۔آپ خود ناشتہ بنا دیا کریں پلیز۔
ٹیڑھے میڑھے اور کچے پر زور ڈالتے ہوئے اونچی آواز میں بولا تا کہ مریم تک آواز پہنچ سکے۔
تم ایسا کیوں نہی کرتے اپنے لیے ناشتہ خود بنا لیا کرو۔۔۔مریم کچن سے باہر جھانکتے ہوئے بولی اور دوبارہ اندر چلی گئی۔
مجھ سے کچھ کہا آپ نے آپی؟
پتہ نہی۔۔۔مریم اندر سے ہی بولی۔
میں تو سچ بولتا ہوں۔۔۔اب آپ کو برا لگتا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟
مریم نے کچن کے دروازے سے جھانکتے ہوئے یوسف کو گھورا۔۔۔سہی ہے میں نہی بنا رہی تمہارے لیے ناشتہ،اپنا ناشتہ خود ہی بنا لینا۔
بڑی مہربانی ہو گی آپ کی۔۔۔یوسف کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔
مریم دوبارہ کچن میں چلی گئی۔
بس کر دو یوسف۔۔۔بہن کو تنگ نا کیا کرو۔
مزاق کر رہا تھا بابا جانی۔۔۔ایک ایک بہن ہے میری اب انہیں تنگ نہیں کرنا تو کس کو کرنا ہے؟
اور ویسے بھی اتنی دیر انتظار کیسے کریں گے ناشتے کا؟
یہ نوک جھونک چلتی رہے گی تو ٹائم اچھا پاس ہو جائے گا۔۔۔ہے ناں امی؟
ہاں جی سہی کہہ رہے ہو آپ بیٹا جانی لیکن زرا ایک بات تو بتائیں۔
آج آپ مارننگ واک پر کیوں نہیں گئے؟
آپ سے کس نے کہہ دیا کہ میں مارننگ واک پر نہی گیا؟
میں نے۔۔۔مریم نے کچن سے ہی جواب دیا۔
ماما جانی دراصل بات یہ ہے کہ میں نے واک کی تھی لیکن کمرے میں۔
Actually I was feeling a little bit headache
تو میں نے سوچا کمرے میں ہی تھوڑی واک کر لیتا ہوں۔
اب سر درد کے ساتھ صبح صبح پارک جاتا تو طبیعت خراب ہو سکتی تھی۔سر درد سے بخار ہو جاتا اور پھر میڈیسنز۔
You know that…
آپ جانتی تو ہیں مجھے میڈیسن سے الرجی ہے۔
موسم چینج ہو رہا ہے اور اب مارننگ واک پر جانا تھوڑا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور ویسے بھی پارک گھر سے کافی دور ہے۔بہت زیادہ پیدل چلنا پڑنا ہے۔
اوہو۔۔۔تو بیٹا آپ گاڑی لے جایا کریں پارک تک۔۔۔بلکہ ایسا کریں گاڑی میں ہی دو چار راؤنڈ لگا آیا کریں پارک کے۔
اسی بہانے گاڑی کی بھی تھوڑی واک ہو جایا کرے گی۔
What?
Are you sure dad?
باپ کے جواب پر یوسف حیرت زدہ سا بولا اور پھر انہیں مسکراتے ہوئے دیکھ کر ہنس دیا۔
شکر ہے یہ مذاق تھا۔۔۔آج ناشتہ ملے گا یا نہی آپی؟
لا رہی ہوں۔۔۔مریم نے اندر سے ہی جواب دیا۔
شکر ہے تم سمجھ گئے کہ میں مذاق کر رہا ہوں ورنہ تمہارا کیا پتہ کل گاڑی کو واک پر لے جاتے۔
Come on Dad
اتنا بھی ناسمجھ نہی ہوں میں۔۔۔خیر آپ یہ بتائیں آپ لوگ کس بات پر اتنا پریشان ہیں؟
میں سیڑھیوں میں کھڑا کافی دیر سے آپ دونوں کو پریشان دیکھ رہا تھا۔
کوئی سیریس ٹاپک ڈسکس کر رہے تھے آپ،بتائیے کیا بات ہے؟
نہی یوسف۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہی ہے،ہم تو بس ایک بات کر رہے تھے۔
یہ لیں جی گرما گرم ناشتہ۔۔۔مریم نے میز پر ناشتے کی ٹرے رکھی اور سب کو پلیٹس میں سرو کرنے میں مصروف ہو گئی۔
نہی ماما مجھے لگتا ہے کوئی بات ہے جو آپ کو بہت پریشان کر رہی ہے،بتائیں مجھے پلیز۔
ہاں بات تھوڑی پریشانی والی ہے یوسف لیکن اتنی بھی نہی کہ تم پریشان ہو جاو۔۔۔فکر نہی کرو بیٹا سب ٹھیک ہے۔
دراصل میں آپ کے بابا سے سویرا کے بارے میں بات کر رہی تھی۔
سویرا۔۔۔؟
سویرا۔۔۔جو ساتھ والے گھر میں رہتی ہے اسی کی بات کر رہی ہیں ناں آپ؟
یوسف کے منہ سے سویرا کا نام سن کر سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
تم جانتے ہو اسے؟
مریم نے سوال کیا۔
ہاں بہت اچھی طرح۔۔۔یوسف نے مختصر جواب دیا اور ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گیا لیکن باقی سب لوگ حیرت زدہ سے اسے دیکھنے میں مصروف تھے۔
جاری ہے۔۔۔
