Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488

Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 13)

87.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Zaar (Episode 13)

Dill e Zaar by Khanzadi

سویرا بیڈ سے نیچے اتر کر کھڑی ہو گئی اور نظریں جھکائے آنسو بہانا شروع ہو گئی۔

شعیب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔آپ نے جو کچھ بھی سنا ہے وہ سچ نہی ہے۔

ممممیں تو مذاق کر رہا تھا سویرا کے ساتھ۔۔۔ہے ناں سویرا،بتاو ناں،تم چپ کیوں کھڑی ہو؟

سویرا نے سر نفی میں ہلا دیا۔

سچ کیا ہے میں آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔یہ سب کچھ سویرا کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے،اسی نے مجھے مجبور کیا تھا یہ سب کرنے کے لیے۔۔۔میرا یقین کریں آپ۔

اس سے پہلے کہ شعیب مزید بولتا اس کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ لگا اور اس بعد اس پر تھپڑ برستے ہی چلے گئے۔

گھٹیا انسان۔۔۔تمہیں شرم نہی آئی یہ سب کرتے ہوئے؟

تمہاری بہنوں کی طرح تھی یہ۔۔۔ہم نے اسے گھر سے باہر نہی نکالا۔۔۔دنیا سے بچانے کی کوشش کی لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ سانپ تو ہمارے گھر میں موجود ہے۔

تمہیں جان سے مار دوں گی میں آج۔۔۔کوثر بیگم ہانپتے ہوئے شعیب کو تھپڑ مارتی چلی گئیں۔

جب تھک گئی تو بیڈ پر بیٹھ گئیں۔۔۔کیوں کیا تم نے ایسا؟

میری تربیت میں کونسی کمی رہ گئی تھی؟

کس بات کی سزا دی ہے اپنی ماں کو؟

تمہیں پتہ بھی ہے اس کا انجام کیا ہو گا؟

اگر تمہیں سویرا اتنی پسند تھی تو مجھ سے کہہ دیتے۔۔۔میں اس کے باپ سے بات کر لیتی لیکن یہ کیسا حق جتایا ہے تم نے؟

عزت کی بات کرتے ہو اور عزت پر ہی وار کر دیا؟

میرا تو دماغ پھٹنے والا ہے۔۔۔بولو بکواس کرو اب کچھ۔۔۔یہ کیا حرکت کی ہے تم نے؟

سب کچھ سن لیا ہے میں نے۔۔۔شک تو مجھے تم پر پہلے سے ہی تھا لیکن تمہیں اس وقت سویرا کے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے دیکھ کر میرا شک یقین میں بدل گیا۔

میرے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے تم نے۔۔۔میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میری اولاد ایسا گھٹیا کام کرے گی۔

امی میرا یقین کریں سویرا نے مجھے بہکایا ہے،آپ کی قسم۔۔۔شعیب نے ماں کے پاؤں پکڑ لیے۔

کوثر بیگم نے اسے ٹانگ ماری۔۔۔خبردار جو اپنے ناپاک ہاتھ مجھے لگائے اور کونسی امی؟

مر گئی ہے تمہاری ماں۔۔۔تم نے مار دیا آج اپنی امی کو۔

امی میرا یقین کریں اس میں میرا قصور نہی ہے۔۔۔یہ سویرا کا کیا دھرا ہے،آپ اس سے پوچھیں۔

بکواس بند کرو شعیب۔۔۔تم سویرا کے کمرے میں موجود ہو وہ تمہارے کمرے میں نہیں۔۔۔کون قصوروار ہے اور کون نہی سب نظر آ رہا ہے مجھے۔

دل تو کر رہا ہے گلہ دبا دوں تمہارا۔۔۔جیتے جی اپنی ماں کو قبر میں دھکیل دیا ہے تم نے۔

امی پلیز آپستہ بولیں کوئی سن لے گا۔۔۔

شعیب کی بات پر کوثر بیگم مزید تپ گئیں اور اٹھ کر اسے دو تین تھپڑ اور لگائے۔

یہ شرم اس وقت کہاں تھی جب تم یہ کارنامہ سر انجام دے رہے تھے؟

اس وقت خیال نہیں آیا تمہیں کہ جب سب کو پتہ چلے گا تو کیا ہو گا؟

بولو بکواس کرو۔۔۔؟

چپ کیوں ہو اب؟

بس کر دیں امی اور کتنا ماریں گی مجھے؟

غلطی ہو گئی مجھ سے۔۔۔اب کیا کر سکتا ہوں میں؟

تم کیا کر سکتے ہو کیا نہی یہ تو کل پتہ چلے گا تمہیں۔۔۔

آنے دو تمہارے باپ کو۔۔۔تمہارے سارے کرتوت ان کو بتاؤں گی سب کے سامنے۔

تمہارا فیصلہ وہی کریں گے اب۔۔۔چلو یہاں سے دفع ہو اب۔

کوثر بیگم اسے بازو سے کھینچتے ہوئے کمرے سے باہر لے گئیں اور سویرا کو دروازہ بند کرنے کا کہا۔

سویرا نے نا بند ہونے والا دروازہ بند کیا اور گہری سانس لیتے ہوئے دروازے کے ساتھ بیٹھ گئی۔

اگلی صبح۔۔۔

کوثر بیگم سویرا کے کمرے میں آئی اور اسے چادر اوڑھنے کو بولا۔

سویرا نے ان کی بات پر عمل کیا اور ان کے ساتھ چلی گئی۔

چند گھنٹوں بعد وہ دونوں گھر واپس آگئی۔۔۔سویرا اپنے بے جان وجود کا بوجھ سنبھالتے ہوئے بیڈ پر گر سی گئی۔

اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور نیند کی آغوش میں چلی گئی۔

اس کی آنکھ کھلی تو ڈرائنگ روم سے آتے شور کی آواز سن کر لڑکھڑاتی ہوئی ڈرائنگ روم کی طرف بڑھی۔

آپ کے بیٹے کی ہمت کیسے ہوئی میرے بیٹے پر حملہ کرنے کی؟

بات جو بھی تھی آپ لوگ ڈائریکٹ مجھے کال کرتے۔۔۔معاملہ جو بھی تھا مل بیٹھ کر حل کر لیتے لیکن میرے بیٹے پر اتنا بڑا الزام میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا۔

یوسف کے بابا غصے سے چلا رہے تھے۔

ہم نے آپ کے گھر کی بیٹی کا بھلا سوچا اور آپ لوگوں نے بغیر سوچے سمجھے میرے بیٹے پر اتنا بڑا الزام لگا دیا۔

آپ بچی کو بلائیں اگر وہ کہتی ہے کہ یوسف نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے تو خدا کی قسم میں ابھی اسی وقت اس کا نکاح اپنے بیٹے سے پڑھا کر رخصت کر لے جاؤں گا۔

زوہیب ڈرائنگ روم سے باہر نکلا اور سامنے سویرا کو دیکھ کر چونک گیا۔۔۔میں تمہیں ہی لینے آ رہا تھا۔

سویرا جو سچ ہے سب کے سامنے بتا دو بچے۔۔۔جو بھی تمہارا مجرم ہے اس کی طرف اشارہ کر دو بس۔۔۔باقی اس کے ساتھ جو کرنا ہے ہمارا کام ہے۔

سویرا نے سر اثبات میں ہلایا اور ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔

آپ بچی سے خود پوچھ لیں ایس ایچ او صاحب۔۔۔یوسف کے بابا نے ایس ایچ او کو مخاطب کیا۔

بتاؤ بیٹا تمہارے ساتھ یہ سب کس نے کیا ہے؟

ایس ایچ او صاحب سویرا کی طرف بڑھے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔

شعیب کے ماتھے پر پسینہ آ گیا کیونکہ سویرا اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔

سویرا نے ہاتھ اٹھایا اور سامنے نظریں جھکائے بیٹھے یوسف کی طرف اشارہ کر دیا۔

یہ نہی ہو سکتا۔۔۔میرا بیٹا ایسا کر ہی نہیں سکتا،انہوں نے ضرور بچی کو ڈرایا ہے کہ وہ میرے بیٹے کا نام لے۔

باپ کی آواز پر یوسف نے نظریں اوپر اٹھائی اور اپنی طرف بڑھے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے سویرا کی طرف دیکھا۔

وہ نظریں جھکائے یوسف کو دیکھے بغیر اس کی طرف ہاتھ بڑھائے کھڑی تھی۔

سویرا تمہیں پورا یقین ہے یوسف ہی تمہارا مجرم ہے؟

زوہیب سویرا کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔

سویرا نے سر اثبات میں ہلایا۔

زوہیب نے گہری سانس لی اور یوسف کی طرف دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا۔

یوسف تو بس حیرت زدہ سا سویرا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔اردگرد کون کیا کہہ رہا تھا اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔

وہ تو بس سویرا کے چہرے پر خود پر لگے الزام کی حقیقت کھوجنے کی کوشش کر رہا تھا۔

میری بات سنیں ساجد صاحب۔۔۔بچی جھوٹ تو نہی بولے گی ناں؟

میری بات مانیں اور مل ملا کر یہ معاملہ یہی ختم کر لیں۔۔۔عزت دار لوگ ہیں آپ،بچوں سے غلطی ہو گئی ہو گی۔

جو بھی ہے اب اس مسئلے کو یہی حل کر لیں بہتر ہے،کہاں کوٹ کچہری کے چکر میں پڑتے رہیں گے۔

نکاح پڑھائیں دونوں کا اور جھگڑا ختم کریں۔

باقی شادی کی رسمیں جیسے مرضی کر لیں دھوم دھام سے آپس میں مشورہ کر لیں۔

میں تو آپ لوگوں کا فائدہ سوچ رہا ہوں۔۔۔کوٹ کچہری کے چکر میں عزت نیلام ہو جائے آپ دو گھروں گی۔

آپ نے سب نے سامنے جو کہا اسے پورا کریں اب۔۔۔بلائیں نکاح خواں کو اور نکاح پڑھوائیں۔

ایسے کیسے نکاح کر دیں ایس ایچ او صاحب؟

بغیر کسی تحقیق کے میرا بیٹا گناہگار ثابت نہی ہو سکتا۔۔۔میں کیس کروں گا ان پر اور اپنے بیٹے کے سر سے یہ الزام غلط ثابت کروں گا۔

مجھے یہ نکاح قبول ہے۔۔۔آپ لوگ نکاح خواں کو بلائیں۔۔۔میں اپنا گناہ قبول کرتا ہوں۔

یوسف کی آواز پر کمرے میں خاموشی طاری ہو گئی اور سویرا نے سر اوپر اٹھاتے ہوئے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلایا مگر یوسف نے نظریں دوسری طرف پھیر لی۔

یہ کیا کہہ رہے ہو یوسف؟

تم ہوش میں تو ہو ناں؟

کسی اور کا گناہ اپنے سر کیوں لے رہے ہو؟

ساجد صاحب چلاتے رہ گئے مگر یوسف اپنی بات پر قائم رہا۔

I am sorry baba

مجھ سے غلطی ہو گئی۔۔۔میں اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں،آپ کی عزت مزید خراب ہوتے ہوئے نہی دیکھ سکتا میں۔

آپ لوگ نکاح خواں کو بلائیں۔۔۔میں سویرا سے ابھی اور اسی وقت نکاح کروں گا۔

طارق صاحب نے زوہیب کی طرف دیکھا اور اسے نکاح خواں کو بلانے کا اشارہ دیا۔

زوہیب نا چاہتے ہوئے بھی وہاں سے چلا گیا۔

شعیب کو اپنی ساری چال الٹی پڑتی دکھائی دی۔۔۔نہی۔۔۔یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔

یہ بہت بڑا مائینڈ پلینر ہے۔۔۔سارا الزام اپنے سر لے گیا حالانکہ یہ قصوروار نہی ہے۔

ابو ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ؟

یہ نکاح کیسے ہو سکتا ہے؟

سویرا ہم پر بوجھ تھوڑی ہے جو آپ اسے کسی کے ساتھ بھی رخصت کر دیں گے۔

ہمیں نہی کرنا کوئی نکاح ایس ایچ او صاحب۔۔۔آپ بس اسے سزا دیں۔

عزت پر وار کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے نا کہ عزت۔

شعیب بولتا چلا گیا۔

چپ رہو تم!

ایس او صاحب غصے سے بولے۔

بچے ہو بچے ہی رہو۔۔۔

بڑوں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوشش مت کرو۔

جاؤ میرا بچہ یہاں سے جا کر کرکٹ کھیلو،شاباش۔۔۔

تمہارا یہاں کوئی کام نہیں ہے۔

ایس ایچ او صاحب اٹھے اور شعیب کو بازو سے کھینچتے ہوئے کمرے سے باہر نکال دیا۔

شعیب نے دوبارہ کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن باپ کی نظریں خود پر جمی دیکھ کر پاؤں پٹختے ہوئے دروازے کے باہر ہی کھڑا رہا۔

سویرا نظریں جھکائے صوفے پر بیٹھی تھی۔

شعیب کا بس نہی چل رہا تھا ورنہ سویرا کو بازو سے کھینچتے ہوئے یہاں سے لے جاتا۔

کچھ ہی دیر میں زوہیب نکاح خواں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا۔۔۔اسی کے پیچھے ہی شعیب پھر سے اندر آ گیا۔

یوسف ایک بار پھر سوچ لو بیٹا۔۔۔تم اپنے ساتھ غلط کر رہے ہو،میں جانتا ہوں تم ایسا گناہ نہیں کر سکتے۔

خود کو ناکردہ گناہ کی سزا کیوں دے رہے ہو؟

ساجد صاحب نے ایک بار پھر بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن یوسف نے سر نفی میں ہلا دیا اور نکاح خواں کو نکاح پڑھانے کو کہا۔

شروع کریں۔۔۔

نکاح شروع ہوا اور دونوں ایک نئے رشتے کے بندھن میں بندھ گئے۔

سویرا کے انگوٹھے کے نشان نکاح نامے پر چھپ گئے اور اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنے سائن بھی کر دیے۔

سب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور باری باری دونوں کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔

سویرا بے بس سی آنسو بہاتے ہوئے زوہیب کے کندھے پر سر رکھے کھڑی تھی۔۔۔آج وہ اس گھر سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہونے جا رہی تھی۔

وہ سمجھ نہی پا رہی تھی یہ آزادی ہے یا قید؟

ماتھے پر بدنامی کا داغ سجائے بدقسمت دلہن بنا کسی ہار سنگھار کے رخصت ہو کر ایک گھر سے دوسرے گھر میں داخل ہو گئی۔

اسے افسوس تھا کہ باپ کی طرح پیار کرنے والے چچا کی آنکھوں میں شرمندگی تھی اور ان کے لہجے میں ناراضگی اور بے زاری تھی۔۔۔ایسی بے زاری جو سویرا نے پہلے کبھی نہی دیکھی تھی۔

بے گناہ ہوتے ہوئے بھی وہ بے گناہ ثابت کر دی گئی اور بدنامی کے تمغے کے ساتھ ایک انجان شخص کے پیچھے چلتی جا رہی تھی۔

وہ انجان شخص جو چند لمحے پہلے اس کا محرم بنا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *