Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488

Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 12)

87.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Zaar (Episode 12)

Dill e Zaar by Khanzadi

بے شرم۔۔۔بے حیا،گھٹیا انسان۔۔۔تمہیں تو میں آج جان سے مار دوں گی۔

کوثر بیگم چلاتے ہوئے بولی۔

یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ یوسف کچھ سمجھ ہی نہیں سکا۔۔۔وہ حیرت زدہ سا کوثر بیگم کو دیکھے جا رہا تھا۔

تمہیں زرا خیال نہیں آیا ہماری عزت کا؟

اس سے پہلے کہ کوثر بیگم مزید اس پر ہاتھ اٹھاتی یوسف ان کے دونوں ہاتھ تھام چکا تھا۔

کون ہیں آپ؟

کس عزت کی بات کر رہی ہیں آپ؟

میں آپ کو پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔

اوئے۔۔۔چھوڑ میری امی کے ہاتھ،تمہاری اتنی ہمت کہ میری ماں کا ہاتھ روکو گے۔

شعیب چلاتے ہوئے آگے بڑھا لیکن یوسف نے ایک زور دار ٹانگ اس کے سینے پر ماری۔

شعیب گیٹ سے باہر جا گرا۔

زوہیب آگے بڑھا اور ماں کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔امی چلیں یہاں سے۔۔۔مزید تماشہ مت لگائیں۔

میں تماشہ لگا رہی ہوں؟

کوثر بیگم غصے سے چلائی۔

ایک منٹ۔۔۔یہ ہو کیا رہا ہے یہاں اور آنٹی جی آپ،میں بہت عزت سے پیش آ رہا ہوں آپ کے ساتھ،بتانا پسند کریں گی کہ آپ نے کس خوشی میں مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے؟

I am really sorry

ان کی طرف سے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔۔۔زوہیب شرمندہ سا بولا۔

بدلے میں یوسف نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا۔

Really?

Are you serious man?

آپ لوگ چوروں کی طرح میرے گھر میں گھسے۔۔۔بنا کسی بات کے مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور بڑی آسانی سے معافی بھی مانگ لی۔

Waooo so sweet of you Brother…But I am not sweet

مجھے جواب چاہیے۔۔۔

یوسف بھی زور سے چلاتے ہوئے بولا۔

شہلا بیگم اور مریم دونوں بھاگتی ہوئی باہر آئی۔۔۔کوثر بیگم اور زوہیب کو سامنے دیکھ کر انہیں کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔

کیا ہوا سب خیریت ہے ناں۔۔۔؟

آپ لوگ یہاں۔۔۔اور یوسف تم کیوں چلا رہے ہو بیٹا؟

شہلا بیگم پریشان سی بولی۔

میں کیوں چلا رہا ہوں یہ سوال تو آپ ان آنٹی جی سے پوچھیں ماما۔۔۔یہ اندھا دھند گھر میں داخل ہوئی ہیں اور مجھے تھپڑ لگایا ہے۔

ان سے پوچھیں ان کی اتنی جرات کیسے ہوئی؟

یہ سب کیا ہے کوثر بہن؟

شہلا بیگم منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے حیرت زدہ سی بولی۔

آپ نے میرے بیٹے پر ہاتھ کیوں اٹھایا؟

بہن مت بولیں مجھے آپ۔۔۔اور شکر کریں ابھی تک میں نے صرف ہاتھ ہی اٹھایا ہے۔۔۔میرا بس چلے تو ابھی اسے جان سے مار دوں۔

ایسے کیسے جان سے مار دیں گی آپ؟

ہاتھ تو لگا کر دیکھیں میرے بیٹے کو۔۔۔میں آپ کا لحاظ کر رہی ہوں تو آپ میرے سر پر ہی چڑھتی جا رہی ہیں۔

شہلا بیگم بنا کوئی لحاظ کیے بولی۔

آنٹی جی پلیز۔۔۔زوہیب نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔

امی چلیں یہاں سے۔۔۔اور کتنا ذلیل کروائیں گی آپ؟

میں کیوں جاؤں یہاں سے زوہیب؟

ایسے تھوڑی جاؤں گی میں۔۔۔بتاو مجھے کیوں کیا تم نے ایسا؟

کوثر بیگم پھر سے یوسف کی طرف بڑھی لیکن مریم اور شہلا بیگم سامنے آ گئیں۔

کیا کیا ہے میرے بیٹے نے جو آپ اس کی جان کی دشمن بن گئی ہیں؟

جاننا چاہتی ہیں کیا کیا ہے آپ کے بیٹے نے؟

بتاؤں میں۔۔۔؟

ہماری عزت پر ہاتھ ڈالا ہے آپ کے بیٹے نے۔۔۔اس نے ہمیں کہی منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔

کوثر بیگم چلائی۔

What???

یوسف حیرت زدہ سا بولا۔

آپ کہنا کیا چاہتی ہیں صاف صاف بولیں۔۔۔کس کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے یوسف نے؟

سویرا کی عزت پر۔۔۔وہ ماں بننے والی ہے۔

Whattttt???????

یوسف زور سے چلایا۔۔۔سویرا ماں بننے والی ہے؟

ہاں جی۔۔۔اتنے بھولے کیوں بن رہے ہو تم؟

واٹ واٹ۔۔۔تو ایسے بول رہے ہو جیسے تمہیں کچھ پتہ ہی نہی۔

کوثر بیگم یوسف کی نقل اتارتے ہوئے بولی۔

یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟

شہلا بیگم حیرت زدہ سی بولی۔

اور اگر ایسا ہے بھی تو ہم کیا کریں؟

ہمیں کیوں اس معاملے میں انوالو کر رہی ہیں آپ؟

یہ آپ کے گھر کا معاملہ ہے۔۔۔شہلا بیگم بنا ڈرے بولی۔

واہ جی واہ۔۔۔ہم کیا کریں؟

آپ کچھ نا کریں۔۔۔جو کرنا ہے ہم خود کریں گے۔ابھی پولیس آئے گی اور آپ کے بیٹے کو جیل لے کر جائے گی۔۔۔دو ڈنڈے پڑنے کی دیر ہے یہ اپنا گناہ خود مانے گا۔

یوسف حیرت زدہ کھڑا ان کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔اس کی آنکھوں کے سامنے سویرا کا وجود تھا۔۔۔نہی وہ ایسی نہی ہے۔

یوسف نے سر نفی میں ہلایا۔

ایسے کیسے پولیس لے جائے گی؟

جب میرے بیٹے نے کچھ کیا ہی نہیں تو پولیس کیوں لے کر جائے گی اسے؟

آنٹی آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔میرا بھائی ایسا نہی ہے۔

مریم نے بھی بھائی کے حق میں آواز اٹھائی۔

یہ تو وقت ہی بتائے گا کون کیسا ہے۔۔۔تم بڑوں کی بات میں نہ ہی بولو تو بہتر ہے۔

کوثر بیگم نے مریم کو چپ کروا دیا۔

ہر ماں کو یہی لگتا ہے کہ میرا بیٹا ایسا نہی ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔

اس نے گناہ کیا ہے اسے سزا ملے گی۔۔۔میری بے زبان معصوم بچی کی عصمت دری کی ہے اس نے۔

یہ کیا سمجھتا ہے اس کے ساتھ کوئی نہی ہے؟

اس کی ماں مری ہے چچی نہی۔۔۔پولیس کو کال کرو زوہیب۔

میں نے کہا ناں میرا بیٹا ایسا نہی ہے مسز طارق۔۔۔آپ کو بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے۔

یوسف تم کچھ بول کیوں نہی رہے؟

کوثر بیگم نے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔

یوسف نے خالی خالی نظروں سے ماں کی طرف دیکھا اور کوثر بیگم کی طرف بڑھا۔

تو آپ کو لگتا ہے یہ سب میرا کیا دھرا ہے؟

ہاں بلکل۔۔۔یہ سب تمہارا ہی کیا دھرا ہے۔

کوثر بیگم غصے سے چلائی۔

ہممم۔۔۔اور اگر میں کہوں کہ میں نے ایسا کچھ کیا ہی نہیں۔۔۔تو؟

تمہارے کہنے یا نا کہنے سے کیا ہو گا؟

پولیس کو سچ اگلوانا آتا ہے۔۔۔تم نے زنا کیا ہے اور زنا کی معافی نہیں ہوتی۔

Shut up…

یوسف غصے سے چلایا۔

خبردار۔۔۔خبردار دوبارہ آپ نے مجھ پر یہ الزام لگایا تو میں آپ کی عمر کا لحاظ نہی کروں گا۔

عمر کا لحاظ تو تم کر بھی نہی رہے۔۔۔

زوہیب سر تھامے سائیڈ پر کھڑا چپ چاپ سارا تماشہ دیکھ رہا تھا۔

یہ رہا کمینہ۔۔۔چھوڑنا نہی آج اسے۔۔۔شعیب دس سے بارہ لڑکوں کا گروپ ساتھ لیے گیٹ سے اندر داخل ہوا اور سب یوسف کی طرف بھاگے۔

یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ یوسف سمجھ ہی نا پایا۔۔۔جہاں تک ہو سکا وہ ان کا مقابلہ کرتا رہا لیکن اکیلا کیا کر سکتا تھا۔

زوہیب مریم اور شہلا بیگم تینوں یوسف کو بچانے کی کوشش میں تھے لیکن ناکام رہے۔

کوثر بیگم چپ چاپ کھڑی یہ تماشہ دیکھ رہی تھیں۔

مریم وہاں سے بھاگتے ہوئے اندر گئی اور اپنے بابا کو کال کی۔

زوہیب نے شعیب کو پکڑا اور اسے تین چار تھپڑ لگاتے ہوئے گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔۔۔اپنے دوستوں کو لے کر یہاں سے دفع ہو جاؤ۔

اوئے بس کرو۔۔۔چلو سب یہاں سے اتنی مار کافی ہے اس کے لیے۔۔۔شعیب کی آواز پر اس کے دوست رک گئے اور گیٹ سے باہر نکل گئے۔

یوسف زمین پر گر چکا تھا۔اس کا سر پھٹ چکا تھا سر اور ہونٹ سے خون بہہ رہا تھا۔

شہلا بیگم بیٹے کی حالت دیکھ کر چیخ اٹھی۔۔۔یوسف اٹھو۔۔۔میرا بچہ۔

پولیس تو اب میں بلاؤں گی۔۔۔تمہیں اور تمہارے بیٹے کو اس کے آوارہ دوستوں سمیت تھانے میں بند نا کروایا تو پھر کہنا۔۔۔شہلا بیگم کوثر بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے چلائی۔

دیکھ لوں گی میں جب پولیس بلاؤ گی تم۔۔۔آنے دو سویرا کے چچا کو پھر فیصلہ کرتے ہیں تمہارے بیٹے کا ہم۔

لاوارث سمجھ رکھا ہے ہماری بچی کو۔۔۔کوثر بیگم بولتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل گئیں۔

یوسف سنبھالو خود کو۔۔۔زوہیب نے یوسف کو سہارا دینا چاہا مگر شہلا بیگم نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔

خبردار۔۔۔ہاتھ مت لگانا میرے بیٹے کو۔۔۔دکھاوا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

جاؤ یہاں سے تم بھی۔۔۔

آنٹی سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔میرا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔

میں تو خود اس حملے کے خلاف ہوں اور آپ لوگوں کا ساتھ دینے کی کوشش کر رہا ہوں۔

میں گاڑی لے کر آتا ہوں یوسف کو ہاسپٹل لیجانا پڑے گا۔

اس کی حالت دیکھیں آپ۔۔۔پلیز سمجنے کی کوشش کریں۔

شہلا بیگم نے زمین پر بے سدھ پڑے بیٹے کو دیکھا اور سر اثبات میں ہلایا۔

بلکہ ہاسپٹل نہی۔۔۔میں ڈاکٹر کو یہی لے آتا ہوں کیونکہ اگر ہم ہاسپٹل گئے تو بہت لمبے چوڑے مسئلے سے گزرنا پڑے گا کہ پولیس کیس ہے وغیرہ وغیرہ۔

مطلب تم اپنے بھائی کو بچانا چاہتے ہو؟

شہلا بیگم طنزیہ انداز میں بولی۔

نہی آنٹی۔۔۔میں وقت بچا رہا ہوں،خون بہہ رہا ہے کہی دیر نا ہو جائے۔

میں ابھی ڈاکٹر کو لاتا ہوں۔۔۔زوہیب نے یوسف کو سہارا دیا اور اندر صوفے پر لٹانے کے بعد ڈاکٹر کو لینے چلا گیا۔

مریم بھاگتے ہوئے پانی کا گلاس لے کر آئی اور یوسف کو پانی پلانا چاہا مگر یوسف نے سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔وہ درد سے کراہ رہا تھا۔

شہلا بیگم بہتے خون کو روکنے کے لیے اپنا دوپٹہ کبھی اس کے ہونٹ پر رکھتی تو کبھی سر پر۔

مریم رو رہی تھی۔۔۔میں نے بابا کو کال کر دی ہے ماما۔وہ شہر سے باہر ہیں صبح واپس آئیں گے۔

یہ سب کیا ہو گیا ماما۔۔۔اتنا بڑا الزام میرے بھائی پر،مجھے تو ایسے لگ رہا ہے جیسے میں کوئی برا خواب دیکھ رہی ہوں۔

بابا بھی کر پر نہیں ہیں اور کوئی رشتہ دار بھی پاس نہی رہتے۔۔۔ہم کیسے مینیج کریں گے ماما؟

کچھ نہیں ہو گا مریم۔۔۔سنبھالو خود کو میری جان،صبح آپ کے بابا آ جائیں گے۔

سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔

ڈور بیل بجنے کی آواز سن کر مریم سہم گئی۔۔۔ماما لگتا ہے وہ لوگ پھر سے آ گئے ہیں۔

نہی تم جاؤ زوہیب ہو گا ڈاکٹر کو لینے گیا تھا۔

ماں کی بات سن کر مریم ڈرتے ڈرتے باہر گئی اور اندر سے ہی آواز لگائی۔۔۔کون؟

میں زوہیب۔۔۔پلیز دروازہ کھولیں۔

زوہیب کی آواز سن کر مریم نے دروازہ کھولا اور ان کے اندر آتے ہی جلدی سے دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی۔

کیا ہوا ہے انہیں۔۔۔یہ چوٹیں کیسے لگی ہیں؟

ڈاکٹر صاحب یوسف کا معائنہ کرتے ہوئے بولے۔

کچھ نہیں ڈاکٹر صاحب۔۔۔دراصل گلی میں کچھ آوارہ لڑکے کرکٹ کھیلنے آ گئے تھے تو انہیں روکنے کی وجہ سے جھگڑا ہو گیا۔

اوہ۔۔۔شکر ہے چوٹ زیادہ گہری نہی ہے ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔

پھر بھی یہ تھوڑے بہتر ہو جائیں تو ان کا سی ٹی سکین لازمی کروا لیں آپ لوگ۔

ڈاکٹر صاحب نے سر پر پٹی باندھی۔۔۔انجیکشن لگایا اور میڈیسن لکھ کر دی۔

اگر ان کے سر میں مسلسل درد رہے تو انہیں ہاسپٹل لے جائیے گا۔۔۔شکریہ۔

زوہیب ڈاکٹر کو ساتھ لیے گھر سے باہر نکل گیا اور میڈیسنز لے کر شہلا بیگم کو تھما دی۔

I am really sorry auntie…

سمجھ میں نہیں آ رہا آپ سے کیسے معافی مانگوں۔۔۔امی اور شعیب کے رویے پر میں بہت شرمندہ ہوں۔

گھر جا کر ابو کو کال کرتا ہے۔۔۔آپ بے فکر رہیں سب ٹھیک ہو جائے گا اور سویرا کا گناہگار بھی جلد آپ کے سامنے ہو گا۔

میں جانتا ہوں آپ کے بیٹے کے یہ ایسا نہیں ہے۔۔۔میں مان ہی نہی سکتا۔۔۔آپ کے بچے آپ کا عکس ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ یوسف کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

ٹھیک ہے بیٹا آپ جاؤ گھر اور سویرا کا خیال رکھو کہی آپ کی امی اسے کچھ کر نا دیں۔۔۔میرے پاس خود الفاظ نہی ہیں میں کس طرح اس واقعے کی مذمت کروں۔

سویرا بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔اس کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے یقیناً وہ قصوروار نہی ہو گی لیکن پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر اس کے پیچھے ہے کون؟

ہمیں مجرم کو پکڑنا ہو گا۔۔۔ہماری جہاں بھی ضرور پڑے ہم حاضر ہیں۔

مجھے اپنے بیٹے پر پورا یقین ہے کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کر سکتا جس سے اس کے ماں باپ کی عزت خراب ہو۔

آپ نے ہماری اتنی مدد کی اس کے لیے شکریہ۔

جزاک اللہ خیراً۔۔۔

شکریہ والی کوئی بات نہیں آنٹی۔۔۔میں چلتا ہوں،امی واقعی بہت غصے میں ہیں۔

سویرا کو پروٹیکشن کی ضرورت ہے۔۔۔امی کچھ بھی کر سکتی ہیں۔

زوہیب شرمندہ سا گھر کے لیے نکل گیا۔

گھر پہنچا تو سب ٹی وی لاونج میں ہی موجود تھے سوائے سویرا کے۔

مل گئی فرصت گھر آنے کی؟

کوثر بیگم طنزیہ انداز میں چلائی۔

شرم نہیں آئی دشمن کی مرہم پٹی کرتے ہوئے؟

کیسی شرم امی؟

آپ کو سو فیصد یقین ہے کہ یہ سب یوسف نے ہی کیا ہے؟

کیا ثبوت ہے آپ کے پاس؟

زوہیب بھی انہی کے انداز میں چلایا۔

فضول تماشہ لگایا ہوا ہے آپ نے۔۔۔پہلے تحقیق کر لیں کہ مجرم ہے کون؟

بنا تحقیق کے کسی پر الزام لگا دیں گی آپ؟

اور تم۔۔۔زوہیب غصے میں شعیب کی طرف بڑھا۔

تمہارا دماغ ٹھکانے پر ہے یا نہیں؟

لعنت ہے تم پر۔۔۔تمہارے دوست بھی تمہارے جیسے آوارہ گرد ہیں۔

اتنا دماغ اگر پڑھائی پر لگاتے تو آج کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہوتے مگر نہیں تمہیں تو دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی عادت ہے۔

تم سے کسی نے کہا تھا غنڈے بلانے کو؟

تو کیا۔۔۔میں چپ چاپ کھڑا اپنے گھر کی عزت نیلام ہوتے دیکھتا رہتا؟

شعیب بنا لحاظ کیے غصے سے چلایا۔

اس گھر کے علاوہ سویرا کہی جاتی ہی نہی۔۔۔ثبوت ہو یا نا ہو مجرم واضح ہے۔

آپ کو آنکھوں پر پٹی بندھی ہے شاید۔۔۔آنکھیں کھولیں اور غور سے دیکھیں۔

ہم کوئی پاگل نہیں ہیں جو منہ اٹھا کر وہاں چلے گئے۔۔۔چلیں مان لیا کہ یوسف گناہکار نہیں ہے تو پھر گناہکار ہے کون؟

اس گھر میں بچتے ہیں ہم دونوں تو اب آپ ہی بتا دیں یہ کام میرا ہے یا آپ کا؟

Shut up Shoaib…

میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔میرے لیے سویرا ویسے ہی ہے جیسے نبیرہ اور بریرہ۔

تو آپ کے خیال میں پھر مجرم میں ہوا؟

میں نے ایسا تو نہیں کہا شعیب۔۔۔تم بات کو غلط موڑ کیوں دے رہے ہو؟

یقیناً تمہارے لیے بھی سویرا بہن جیسی ہے۔میں تمہارے لیے بھی ایسا نہی سوچ سکتا۔

تو پھر بچا کون۔۔۔یوسف ناں۔۔۔؟

آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔۔ایک وہی ہے جو سویرا کو بہن نہیں سمجھ سکتا۔

زوہیب چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا اور سوچ میں پڑ گیا۔

ہو سکتا ہے ڈاکٹر سے کوئی غلطی ہوئی ہو۔۔۔چند لمحے سوچنے کے بعد بولا۔

چلو جی۔۔۔اب ڈاکٹر پر بات ڈال دی ہے۔۔۔آپ سیدھی طرح اس لڑکے کی غلطی مان کیوں نہیں لیتے بھائی؟

یہ لوگ جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہیں نہی۔۔۔کچھ لوگ خود کو شریف ظاہر کرنے کے لیے مذہبی ہونے کا دکھاوا کرتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ مذہبی ہوتے نہی ہیں بس خود کو مذہبی دکھاتے ہیں۔

آپ بھی ان کے دکھاوے سے متاثر ہو رہے ہیں بس اور کوئی بات نہی۔

جو بھی ہو تم اب ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گے شعیب۔۔۔جب تک ابو نہی آ جاتے تب تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔

تمہیں زیادہ غیرت مند بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔سویرا کی کفالت کرنے والے ابو ہیں اور اس کا مجرم کون ہے اس بات کا فیصلہ بھی ابو کریں گے۔

زوہیب اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا۔

شعیب نے ماں کی طرف دیکھا اور طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا۔

نبیرہ اور بریرہ دونوں ماں کے پاس یٹھ گئیں۔

یہ کس کا کام ہے یہ تو سویرا ہی بول کر بتا سکتی ہے۔۔۔ہے ناں امی؟

بریرہ کی بات پر کوثر بیگم نے اسے غصے سے گھورا۔۔۔تم دفع ہو جاؤ یہاں سے،میرا بلڈ پریشر پہلے ہائی ہے کہی ایسا نا ہو کہ میں تمہارا سر منہ پھاڑ دوں۔

بریرہ تم اپنا منہ رکھو اور جاؤ یہاں سے۔۔۔کچن میں جاؤ اور کھانا ڈال کر لاؤ امی کے لیے۔

اوکے۔۔۔جا رہی ہوں بھئی۔۔۔بھلائی کا تو کوئی زمانہ ہی نہیں ہے۔

میں نے تو وہی کہا جو سچ ہے۔۔۔ظاہری سی بات ہے سویرا ہی بتا سکتی ہے جو بھی سچ ہے اور ویسے بھی وہ لڑکا بہت ہینڈسم ہے مجھے نہی لگتا کہ اس نے آج تک سویرا کی طرف دیکھا بھی ہو گا۔

ضرور ڈاکٹر سے ہی کوئی غلطی ہوئی ہے ورنہ کہاں سویرا اور کہاں یوسف۔۔۔

بریرہ مزید بولتی اگر ماں کا جوتے کی طرف بڑھتا ہاتھ نا دیکھتی۔۔۔فوراً کچن میں دوڑ گئی۔

____________________

زوہیب باپ کو کال کر کے ساری صورتحال سے آگاہ کر چکا تھا۔۔۔

طارق صاحب نے صبح آنے کی خبر دی۔

یہ خبر ان کے لیے کسی قیامت سے کم نہی تھی۔۔۔سوچ سوچ کر ان کی طبیعت بگڑ چکی تھی کہ اللہ کو کیا جواب دوں گا؟

ایک بچی کی پرورش کا زمہ دیا تھا اللہ نے مجھے اور میں اپنا فرض نہی نبھا سکا۔

اماں کو کیا جواب دوں گا میں ان کی پوتی کی عزت کی حفاظت نہیں کر سکا میں۔۔۔اور بھائی کو کیا جواب دوں گا؟

ویسے تو اس نے آج تک بیٹی کے سر پر ہاتھ نہی رکھا لیکن باپ تو ہے ناں۔۔۔اگر اس نے مجھ سے سوال کر دیا تو کیا جواب دوں گا میں۔

وہ ساری رات اسی کشمکش میں مبتلا رہے کہ کب صبح ہو اور وہ جلدی سے گھر پہنچیں لیکن آج کی رات بھی شاید ایک صدی کے برابر ہو چکی تھی۔۔۔گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

________________

رات کے کسی پہر شعیب کی آنکھ کھلی تو چپکے چپکے سویرا کے کمرے میں داخل ہوا۔

سویرا بیڈ پر بیٹھی دیوار سے ٹیک لگائے سو رہی تھی۔

کتنی پیاری لگ رہی ہو اس روپ میں۔۔۔شعیب اس کے کان کے پاس جھکتے ہوئے بولا۔

اس کی آواز سن کر سویرا کی آنکھ کھل گئی اور وہ ڈر کر خود میں سمٹ سی گئی۔

کیسا لگ رہا ہے میرے بچے کی ماں بن کر؟

شعیب کے سوال پر سویرا نے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔

شعیب نے اس کا جبڑا ہاتھ میں دبوچتے ہوئے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا۔۔۔جب میں بات کر رہا ہوں تو میری طرف دیکھا کرو سمجھی؟

بڑا شوق تھا تمہیں اڑنے کا۔۔۔میں نے تمہارے پر ہی کاٹ دیے۔

دیکھتا ہوں میں اب کیسے پڑھنے جاتی ہو تم۔۔۔چچچی بیچارہ یوسف۔

خوامخواہ بیچارے پر الزام لگ گیا۔۔۔وہ بھی یاد رکھے گا کہ اس کا پالا شعیب سے پڑا ہے۔

بڑا اکڑ رہا تھا میرے سامنے۔۔۔میرے گریبان پر ہاتھ ڈالا تھا اس نے۔

اسے تو میں جیل پہنچا کر ہی سانس لوں گا۔۔۔اس کی ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔

اسے بھی سبق سکھاؤں گا اور تمہیں بھی۔۔۔جا کر دکھاؤ اب اس کے گھر۔

ابھی تو صرف اس کی ہڈیاں توڑی ہیں لیکن اس کی جان نکالنا ابھی باقی ہے۔

شعیب کی بات سن کر سویرا نے سر نفی میں ہلایا اور اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے کہ مت کرو یہ ظلم۔۔۔اس پر جھوٹا الزام نا لگاو۔

سویرا کی یوسف کے لیے فکر دیکھ کر شعیب کے ماتھے پر بل پڑے اور اس نے سویرا کو بالوں سے دبوچ لیا۔۔۔بڑی تکلیف ہو رہی ہے تمہیں اس کی۔

میرے علاوہ کسی اور کا خیال بھی نا لانا اپنے ذہن میں۔۔۔میں بلکل برداشت نہیں کروں گا۔

میری قید سے رہا نہی ہو سکتی تم۔۔۔یہ بات یاد رکھنا۔

دھڑام سے دروازہ کھلا اور کوئی کمرے میں داخل ہوا۔۔۔

شعیب نے جلدی سے سویرا کو چھوڑا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *