Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488

Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 01)

87.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Zaar (Episode 01)

Dill e Zaar by Khanzadi


بند دروازے کے پیچھے سلگتی آہیں،بے بسی،سسکیاں۔۔۔ایک بے زبان معصوم لڑکی کسی بے جان وجود کی طرح فرش پر گری پڑی تھی۔

ایک درندہ صفت انسان شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے اس کی بے بسی پر مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

وہ اپنے بکھرے ہوئے کمزور وجود کو سنبھالتی ہوئی دروازے تک آئی بہ مشکل دروازہ بند کیا اور دیوار سے جا لگی۔

سر گھٹنوں پر گرائے آنسو بہاتی رہی۔

اس کے گلے سے ایک چیخ اس کے حلق تک پہنچی لیکن وہی دم توڑ گئی۔

چودہ برس کی تھی جب سے اس کی ہر رات اسی ازیت میں گزر رہی تھی اور کسی کو کان و کان خبر تک نہ ہوئی۔

پچھلے تین سال سے اس ازیت سے دو چار تھی لیکن کبھی بول ہی نہی سکی۔

وہ سب کو چیخ چیخ کر اپنا درد بتانا چاہتی تھی لیکن بے زبان تھی۔۔۔کسی سے کچھ کہہ ہی نہ سکی۔

ایک تو بے زبان ہونے کا درد اور دوسرا گھر سے بے گھر ہونے کے ڈر نے کبھی اس کی آواز کو بلند ہونے ہی نہیں دیا۔

کہنے کو تو اس بے زبان کا نام “سویرا” تھا مگر اس کی زندگی میں ہر طرف اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔

قسمت کی ستم گری تو دیکھیں اس کی عزت کو تار تار کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ اس کے سگے چچا کا بیٹا تھا۔۔۔عمر میں اس سے چھ سال بڑا تھا۔

وہ کزن جسے وہ بچپن سے بھائی سمجھتی تھی لیکن نادان تھی نہیں جانتی تھی کہ جسے وہ بھائی سمجھ رہی ہے حقیقت میں ایک درندہ ہے۔

________________

قسمت کی ستم گری دیکھیں اس کے پیدا ہوتے ہی اس کی ماں اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔

ابھی چھ ماں کی ہوئی تھی کہ باپ نے دوسری شادی کر لی اور اپنی نئی نویلی دلہن کو ساتھ دبئی شفٹ ہو گیا۔

اس ننھی معصوم جان کو دادی اور چھوٹے بھائی کی بیوی کے رحم و کرم پر چھوڑ گیا۔ہر مہینے اس کا خرچ تو باقاعدگی سے آ رہا تھا لیکن اپنی بیٹی کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے والا باپ دوبارہ پاکستان نہیں آیا۔

سویرا دو سال کی ہو چکی تھی مگر ٹھیک سے بول ہی نہی پاتی تھی۔۔۔دادی کے اصرار پر اسے ڈاکٹر کو دکھایا گیا۔

بڑی جلدی خیال آ گیا آپ کو بچی کا۔۔۔کچھ سال اور رک جاتے،کیا ضرورت تھی ابھی آنے کی؟

کیا کرتی بیٹا۔۔۔یہ بچی یتیم ہے اور میں بیمار جان اکیلی اسے کیسے لاتی؟

دادی جی نے ایک نظر چھوٹے بیٹے اور بہو کو دیکھا اور طنزیہ انداز میں بولی۔

یہ تو میری ضد کی وجہ سے آج بچی کو یہاں لایا گیا ہے ورنہ شاید ساری زندگی ایسے ہی گزر جاتی اس معصوم کی۔

اوہ۔۔۔بڑے افسوس کی بات ہے ماں جی۔۔۔خیر بچی کے کچھ ٹیسٹ ہو گے اس کے بعد ہی میں کچھ کہہ سکتا ہوں۔

آپ ٹیسٹ کی فیس کاؤنٹر پر جمع کروا دیں اور کل تشریف لائیں۔

ڈاکٹر نے ایک سلپ ان کی طرف بڑھائی۔

دادی جی نے وہ سلپ اٹھائی اور سویرا کو گود میں اٹھائے کاؤنٹر کی طرف چل دیں۔

بیٹا اور بہو بھی ان کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔

اماں میں جمع کروا دیتا ہوں پیسے۔۔۔آپ کہاں سے دیں گی؟

رہنے دو طارق۔۔۔تم میرے ساتھ یہاں تک آ گئے تمہارا یہی احسان بہت ہے۔

اپنی پوتی کے علاج کے لیے پیسے ہیں میرے پاس۔۔۔تم اپنی دولت اپنی بیوی اور بچوں کے لیے سنبھال کر رکھو کہی کوئی کمی نا پڑ جائے۔

میرے شوہر کی پینشن کا سہارا ہے مجھے۔۔۔کروا لوں گی میں اپنی پوتی کا علاج۔

وہ خود کاؤنٹر پر گئیں اور پیمنٹ کرنے کے بعد سلپ لے کر دوبارہ ڈاکٹر کے کمرے میں چلی گئیں۔

اگلے دن ڈاکٹر نے سویرا کے کچھ ٹیسٹ کیے اور ایک ہفتے بعد دوبارہ آنے کو کہا۔

اللہ اللہ کر کے ایک ہفتہ گزرا اور وہ لوگ پھر سے ڈاکٹر کے پاس آئے لیکن ڈاکٹر کا جواب سن کر ماں اور بیٹے کے ہوش اڑ گئے۔

معاف کیجئے گا ماں جی آپ کی پوتی پیدائشی گونگی ہے۔۔۔ہم چاہ کر بھی کچھ نہی کر سکتے البتہ اگر آپ لوگ اسے ایک سال پہلے لے آتے تو شاید کچھ ہو سکتا مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا۔

دادی جی کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔۔۔انہوں نے افسوس بھری نگاہوں سے بیٹے اور بہو کو دیکھا اور سر نفی میں ہلایا۔

گود میں گم سم سی سویرا کو دیکھا اور چپ چاپ گھر آ گئیں۔

اماں جان کب تک روتی رہیں گی آپ۔۔۔؟

آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔یہ تو قدرتی ہے اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں ہے۔

آپ ہم دونوں سے کیوں ناراض ہو رہی ہیں؟

طارق ماں کو منانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ جب سے گھر آئی تھیں بس روئے جا رہی تھیں۔

سہی کہہ رہے ہو تم تمہارا قصور نہیں ہے اس میں قصور تو اس معصوم بچی کا ہے۔۔۔اس کے پیدا ہوتے ہی اس کی ماں اس دنیا سے رخصت ہو گئی اور باپ زندہ ہوتے ہوئے بھی مر چکا ہے۔

اگر آج اس کے ماں باپ زندہ ہوتے تو یہ اس حال میں نہ ہوتی۔۔۔کتنی بار کہا تھا تم سے کہ بچی اووو آآآآ۔۔۔کے علاوہ کچھ نہی بولتی لیکن تمہیں تو اپنے بچوں اور بیوی سے ہی فرصت نہی تھی۔

اماں جان ایسے تو ناں بولیں آپ۔۔۔کیوں اپنے جیتے جاگتے بیٹے کو مار رہی ہیں؟

میں ثاقب سے بات کرتا ہوں وہ اسے دبئی لے جائے گا شاید وہاں اس کا علاج ہو جائے۔

خبردار جو اس کا نام بھی لیا میرے سامنے۔۔۔جو ڈیڑھ سال میں ایک بار بھی اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھنے نہی آیا وہ اب خاک آئے گا۔

مر چکا ہے وہ کمبخت میرے لیے۔۔۔خوش ہے وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ،جڑواں بچوں کا باپ بن چکا ہے وہاں اب اسے اس بیٹی کی یاد کہاں آنی ہے۔

اس کی پسند تو وہی منحوس لڑکی تھی۔آخر کار اس کو مل ہی گئی۔۔۔ لے گئی اسے سب سے دور۔

کتنی مشکل سے میں نے اسے شادی کے لیے راضی کیا تھا۔۔۔دس سال تک مجھ سے ضد لگائے رکھی کہ شادی کروں گا تو اسی سے ورنہ کروں گا ہی نہی۔

وہ تو تمہارے باپ کی طبیعت اچانک خراب ہوئی تو شادی کے لیے راضی ہو گیا۔۔۔تب تک چھوٹا بھائی چار بچوں کا باپ بن چکا تھا۔

پتہ نہیں آخر اس لڑکی نے کیا جادو کیا ہوا تھا۔۔۔میری ہنستی بستی بہو کو کھا گئی۔

آخر وہی ہوا جو وہ کم بخت چاہتا تھا۔۔۔کم ازکم اپنی معصوم بیٹی کا تو سوچ لیتا لیکن نہی اس کے سر پر تو اس ڈائن کے عشق کا بھوت سوار تھا۔

چٹ منگنی پٹ بیاہ۔۔۔لے کر اڑ گئی ڈائن اسے۔

چلو وہ تو پرائی ہے اس سے کیا شکوہ کرنا۔۔۔یہ تو میرا بیٹا تھا اسے ماں کا زرا خیال نہیں آیا؟

میرا نا سہی اپنی بچی کے لیے ہی آ جاتا۔۔۔پیسے بھیج کر سمجھتا ہے باپ ہونے کافرض نبھا دیا۔

خبردار جو تم نے اسے سویرا کے بارے میں کچھ بھی بتایا۔

یہ یتیم ہوئی ہے لیکن اس کی دادی ابھی زندہ ہے۔

ایسے تو نا کہیں اماں جان۔۔۔اس کا باپ نا سہی چاچو تو ہے،میں رکھوں گا اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ۔

میں باپ بنوں گا اس کا۔۔۔آج سے یہ ثاقب کی نہیں بلکہ طارق کی بیٹی ہے۔

آپ بے فکر رہیں آئیندہ میں اس کے معاملے میں کوئی لاپرواہی نہی کروں گا۔

طارق نے ماں کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے ان سے وعدہ کیا۔

________________________

نا بولنے کی وجہ سے سویرا کو سکول بھیجا ہی نہی گیا۔۔۔وہ بس گھر میں ہی رہتی اور گزرتے وقت کے ساتھ چچی کے ساتھ پورا گھر سنبھالنا شروع کر دیا۔

کوثر (طارق کی بیوی) کی دو بیٹیاں اور ایک دو بیٹے تھے۔۔۔بڑا بیٹا زوہیب اور چھوٹا شعیب جو انسانیت کے نام پر ایک درندہ تھا۔

دو جڑواں بیٹاں۔۔۔نبیرہ اور بریرہ۔

یہ چاروں بچے سویرا سے بڑے تھے۔۔۔زوہیب آٹھ سال،شعیب چھ سال اور نبیرہ اور بریرہ سویرا سے چار سال بڑی تھیں۔

جب تک دادی زندہ تھی تب تک تو سب ٹھیک تھا لیکن دادی کے مرنے کے بعد سویرا کا اس گھر میں جینا محال ہو گیا۔

دادی کے مرتے ہی چچی نے اپنا اصلی روپ دکھانا شروع کر دیا۔۔۔شوہر کے سامنے سویرا سے بہت محبت سے پیش آتی لیکن اس کے گھر سے جاتے ہی ماں بیٹیاں سویرا کے ساتھ ایسے سلوک کرتی جیسے وہ ان کی زرخرید غلام ہو۔

دادی کی وفات کے بعد سویرا ان کے کمرے میں اکیلی رہتی تھی۔۔۔وہ ساری رات جاگ کر اپنی بے بسی پر روتی رہتی اور صبح سوجھی ہوئی سرخ آنکھیں لیے سب کی خدمت کرنے میں مصروف رہتی۔

ماں کی وفات سے چند ماہ بعد طارق کا ٹرانسفر کسی دوسرے شہر ہو گیا اور وہ سویرا کو اپنی بیوی کی زمہ داری پر چھوڑ کر دوسرے شہر چلا گیا۔

ایک رات وہ سب قریبی رشتہ دار کے گھر شادی پر گئے لیکن سویرا کو گھر پر اکیلا چھوڑ گئے کہ کسی کا گھر پر رکنا بھی ضروری ہے۔

مہندی کا فنکشن تھا اور رات دیر تک چلتا رہا۔۔۔شعیب اچانک گھر آ گیا۔

سویرا ٹی وی لاونج کے صوفے پر بیٹھی سو رہی تھی۔۔۔شعیب کی نظر اس پر پڑی تو اس کے چہرے پر جھکا غور سے اسے دیکھنے لگ گیا۔

سویرا کی آنکھ کھلی گئی اور شعیب کو اپنے اتنے قریب دیکھ ڈر کر پیچھے ہٹی۔۔۔شعیب کی نظروں نے اسے عجیب سے خوف میں مبتلا کر دیا۔

اس کے اچانک جاگنے پر شعیب ڈر گیا۔۔۔یہ کوئی جگہ ہے سونے کی؟

اپنے کمرے میں نہی سو سکتی تم؟

خود کو سنبھالتے ہوئے غصے سے بولا۔

سویرا نے سر نفی میں ہلایا اور کمرے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔وہ کہنا چاہ رہی تھی کہ مجھے وہاں سوتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا۔

ایک تو پتہ نہی یہ کونسی زبان بولتی ہے۔۔۔وہ جنجھلاتے ہوئے بولا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔

ایک کپ چائے بنا دو مجھے۔۔۔حکمانہ انداز میں بولا۔

سویرا نے فوراً سر اثبات میں ہلایا اور تیزی سے کچن میں چلی گئی۔۔۔کیتلی میں پانی ڈال کر چولہے پر رکھا۔

دودھ نکالنے کے لیے فریج کی طرف بڑھی ہی تھی کہ اچانک لائٹ چلی گئی اور پورے گھر میں اندھیرا چھا گیا۔

چولہا جل رہا تھا اور وہ آگ کی روشنی میں فریج سے دودھ والا جگ نکال کر چولہے کی طرف پلٹی ہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے دودھ والا جگ زمین بوس ہو گیا۔

شعیب اس کے سامنے کھڑا تھا اور اس کی آنکھوں میں عجیب سی وحشت تھی سویرا ڈر کر پیچھے ہٹی۔

وہ جتنی تیزی سے پیچھے ہٹی تھی شعیب اتنی ہی تیزی سے اس کی طرف بڑھا تھا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔

کمرے کا دروازہ بند ہوا اور اسی کے ساتھ سویرا کی زندگی میں ہمیشہ کے لیے اندھیرا چھا گیا۔

اسے پتہ ہی نہیں چلا وہ کہاں ہے اور کہاں نہی۔۔۔شعیب اسے کب اس کے کمرے میں چھوڑ کر گیا اسے کچھ پتہ نہی چلا۔

سویرا۔۔۔سویرا۔۔۔کہاں مر گئی ہو؟

چچی کی آواز پر ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور آنکھیں کھولی تو اپنے کمرے میں تھی۔

بے جان وجود کو سنبھالتی ہوئی کمرے سے باہر آئی اور کچن کی طرف بڑھی۔

اس کے قدم دروازے میں ہی رک گئے۔۔۔رات کا سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آ گیا اور وہ دروازے میں ہی گر گئی۔

اس کے گرنے کی آواز پر کوثر اس کی طرف بڑھی۔۔۔کیا ہوا تمہیں؟

اب یہ کیا ڈرامہ ہے؟

وہ پانی کا گلاس لیے سویرا کے پاس آئی اور اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔

کچھ دیر میں سویرا کو ہوش آ گیا۔۔۔اس کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔

کوثر نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو بخار محسوس ہوا۔۔۔جاو اپنے کمرے میں تمہاری طبیعت ٹھیک نہی ہے۔

دوائی بھجواتی ہوں میں۔۔۔سویرا کی حالت دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی۔

کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا لیکن پھر اپنے خیالات کو جھٹکتی ہوئی اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔

سویرا با مشکل خود کو سنبھالتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی اور دروازے کو لاک لگانے کی کوشش کی مگر دروازہ بند نہی ہو سکا کیونکہ لاک خراب تھا۔

بے بس سی بیڈ پر گر گئی اور اپنی بے بسی پر جی بھر کر رو دی۔۔۔حقیقی معنوں میں اسے آج اپنے یتیم ہونے کا مطلب سمجھ آیا تھا۔

آج اسے شدت سے اپنی دادی کی کمی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ایسا تو اس نے کبھی سوچا ہی نہی تھا،بھائی جیسے رشتے کا یہ روپ اس کی روح تک کو چھلنی کر گیا تھا۔

اسے کیا پتہ تھا کہ دادی کے مرتے ہی اسے بس نام کے بھائی کا ایسا روپ دیکھنا پڑے گا۔

کچھ دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلا اور کوثر کمرے میں داخل ہوئی۔

یہ لو ناشتہ۔۔۔کھا کر دوائی کھا لو۔

سارا دودھ کچن میں گرا پڑا ہے ورنہ چائے بھی بنا دیتی۔۔۔جب میں رات کو گئی تھی تب تو اچھی بھلی تھی تم۔

اچانک تمہاری طبیعت کو کیا ہو گیا؟

چچی کے سوال پر سویرا کچھ نا بولی بس روتی رہی۔۔۔کہتی بھی کیا؟

کیسے جواب دیتی؟

کچھ بول ہی نہی سکتی تھی۔

اچھا اچھا چپ کر جاو۔۔۔مان لیا میں نے کہ تمہاری طبیعت خراب ہے،ناشتہ کرو اور دوائی کھا کر آرام کرو۔

میں بھی کس سے پوچھ رہی ہوں۔۔۔یہ آج سے پہلے کبھی بولی ہے جو اب بولے گی۔

کوثر کمرے سے باہر نکل گئی۔

سویرا کو اپنی بے بسی پر مزید رونا آیا۔۔۔جب رو رو کر تھک گئی تو ناشتہ کیا اور دوائی کھا کر لیٹ گئی۔

ایک ہفتے تک وہ ڈر کے مارے کمرے سے باہر ہی نہی نکلی۔۔۔ںخار شدت اختیار کر چکا تھا۔

آخر کار طارق کو چھٹی لے کر آنا پڑا۔

چچا کا سہارا ملا تو سویرا کا ڈر تھوڑا کم ہوا۔ان کے کندھے سے سر لگائے روتی رہی۔

کیا ہوا میری بیٹی کو،کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟

میں آ گیا ہوں ناں ڈاکٹر پاس چلتے ہیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔

سویرا نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔یعنی وہ کمرے سے باہر جانا ہی نہیں چاہتی تھی۔

دیکھ لیا آپ نے اپنی آنکھوں سے۔۔۔میری بات پر تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا آپ کو۔

یہ کمرے سے باہر نکلے تو اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤں ناں۔

اسی لیے آپ کو بلوایا ہے کیونکہ اس نے ہماری تو سننی نہیں۔۔۔اسے کچھ ہو جاتا تو لوگ تو یہی کہتے کہ ہم لوگ ظالم ہیں۔

کہہ کہہ کر تھک گئی ہوں کہ زوہیب یا شعیب کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلی جائے لیکن یہ دروازہ بند کر کے آگے بیٹھ جاتی ہے تا کہ کوئی کمرے میں آ ہی نا سکے۔

کوئی بات نہی میں آ گیا ہوں ناں۔۔۔میں خود لے کر جاتا ہوں اپنی بیٹی کو ڈاکٹر کے پاس۔

سویرا سر نفی میں ہلاتی رہ گئی لیکن طارق زبردستی اسے ڈاکٹر کے پاس لے آیا۔

دو دن بعد اس کی طبیعت کچھ سنبھلی تو طارق واپس چلا گیا۔

باپ کے اچانک واپس آنے پر شعیب ڈر چکا تھا کہ کہی سویرا ان کو کچھ بتا نا دے لیکن باپ کے جاتے ہی فوراً کسی جن کی طرح اس کے کمرے میں حاضر ہو گیا۔

اسے دیکھ کر سویرا اٹھ کر بیٹھ گئی اور ڈر کر دیوار سے جا لگی۔

شعیب اس کی طرف بڑھا اور بیڈ پر بیٹھ کر ہنس پڑا۔۔۔میں بھی کتنا بے وقوف ہوں خوامخواہ ڈر رہا تھا کہ تم کسی کو کچھ بتا ہی نا دو۔

بتاؤ گی کیسے؟

زبان تو ہے ہی نہی تمہارے پاس۔۔۔سویرا کی بے بسی پر جی بھر کر ہنستا رہا۔

میری بات سنو۔۔۔یہ کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے تم نے؟

کمرے سے باہر کیوں نہیں نکل رہی؟

اگر کسی کو مجھ پر زرا سا بھی شک ہوا ناں تو میں تمہاری جان لے لوں گا۔۔۔غصے سے سویرا کا جبڑا دبوچتے ہوئے بولا۔

سویرا نے روتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔۔۔جس کا مطلب تھا میں کسی کو کچھ نہی بتاؤں گی۔

Good Girl

ایسے ہی اچھی بچی بن کر رہو گی تو فائدے میں رہو گی ورنہ انجام اچھا نہی ہو گا تمہارے لیے۔۔۔میں تمہارا گلہ دبا دوں گا اور کسی کو پتہ تک نہیں چلے گا۔

سویرا کو چھوڑتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا اور اس دن کے بعد اسے جب بھی موقع ملتا سویرا کے کمرے میں پہنچ جاتا اور اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا۔

اسی طرح دن گزرتے گئے اور تین سال گزر گئے لیکن کسی کو کانوں کان اس ظلم کی خبر تک نا ہوئی۔

_______________________

تین سال بعد۔۔۔

سویرا سترہ سال ہو چکی تھی۔۔۔اس کی زندگی میں کچھ بھی نہیں بدلہ تھا۔کچن میں کھڑی چائے کپ میں ڈال رہی تھی۔

ڈرائنگ روم میں کوئی خاتون بیٹھی تھیں کوثر کے ساتھ۔۔۔سویرا ان کے لیے چائے لے کر آئی۔

اسلام و علیکم۔۔۔اس خاتون نے خوشدلی سے سویرا کو سلام کیا لیکن سویرا نے فقط مسکرانے پر اکتفا کیا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

وہ خاتون حیرت زدہ سی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔۔۔کہ اس نے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا۔

میرے جیٹھ کی بیٹی ہے۔۔۔سویرا نام ہے اس کا،بے چاری بول نہی سکتی۔

کوثر نے اس کی پریشانی بھانپ لی اسی لیے جلدی سے بول پڑی۔

اوہ۔۔۔بہت دکھ ہوا سن کر،بہت پیاری بچی ہے ماشاءاللہ۔

وہ خاتون افسوس بھرے لہجے میں بولی۔

ہاں جی بہن کیا کہہ سکتے ہیں جو اللہ کی مرضی۔۔۔پیدائشی مسئلہ ہے اس کا۔

اس کے پیدائش کے وقت اس کی ماں اس دنیا سے رخصت ہو گئی اور یہ ابھی چند ماہ کی تھی کہ باپ نے شادی کر لی اور اپنی بیوی کے ساتھ دبئی شفٹ ہو گیا۔

یہ میرے پاس ہی پیدائش سے لے کر اب تک۔۔۔میرے ہاتھوں میں ہی پلی بڑھی ہے۔

باپ نے آج تک پلٹ کر نہیں دیکھا۔۔۔ہر مہینے باقاعدگی سے خرچ بھیج دیتا ہے۔بھلا ہم نے اس کے پیسوں کا کیا کرنا ہے؟

اس کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتی رہتی ہے رقم۔۔۔ہمارے لیے تو ایک روپیہ بھی حرام ہے۔

میرے شوہر خود سرکاری ملازم ہیں۔الحمدللہ کسی چیز کی کمی نہیں ہے ہمارے گھر۔

سویرا کو میں نے اپنی بیٹیوں کی طرح ہی پالا ہے،جو ان کو کھلاتی ہوں وہی یہ کھاتی ہے اور جو ان کو پہناتی ہوں یہ بھی وہی پہنتی ہے۔

شکر ہے مالک کا جو اس نے مجھے تین رحمتیں عطا کی ہیں۔

بس ایک دکھ ہے مجھے کہ میں سویرا کو پڑھا لکھا نہی سکی۔۔۔کیسے بھیجتی سکول بے زبان تھی کچھ بول نہی سکتی تھی۔

ایسے حالات میں اس کے ساتھ کچھ غلط ہو جاتا تو اللہ کو کیا منہ دکھاتی میں،بس اسی ڈر سے اسے اکیلے گھر سے باہر نکلنے ہی نہیں دیا ہم نے۔

وہ خاتون تجسس زدہ انداز میں کوثر کی ساری باتیں سن رہی تھی۔

چھوڑئیے ناں ان سب باتوں کو آپ چائے پئیں۔

جی۔۔۔وہ خاتون گہری سانس لیتے ہوئے مسکرائی،بہت بڑی نیکی کی ہے آپ نے بہن۔۔۔آج کل کے دور میں کسی کی اولاد کو کون پالتا ہے۔

اللہ پاک آپ کو اس کا اجر عطا فرمائے آمین۔

آپ کو افسردہ ہونے کی بلکل ضرورت نہیں ہے۔آپ سمجھیں آپ کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔

کیا مطلب بہن جی؟

میں کچھ سمجھی نہی۔۔۔کوثر نا سمجھی کے انداز میں بولی۔

مطلب یہ کہ میں بلکل سہی جگہ پر آئی ہوں۔۔۔میری بیٹی پچھلے تین سال سے گونگے بہرے بچوں کو پڑھاتی ہے۔۔۔ایسے بچوں کے لیے خصوصی سکول بن گئے چکے ہیں اب۔

آپ جمعہ کو میلاد پر تشریف لائیں میں آپ کو مریم سے ملوا دوں گی۔

آپ فکر ہی نا کریں وہ آپ کی بیٹی کو بہت اچھی طرح پڑھا دے گی۔

یہ بول نہیں سکتی لیکن لکھنے کے قابل ہو جائے گی انشاللہ اور ہاتھوں کی مدد سے اپنی بات سمجھانے میں مزید ماہر ہو جائے گی۔

آپ ایسا کریں جمعہ کو سویرا کو ساتھ ہی لے آئیے گا۔۔۔یہ مریم سے وہی مل لے گی۔

آپ کی نوازش کا بہت بہت شکریہ۔۔۔میں چلتی ہوں مجھے دیر ہو رہی ہے،باقی گھروں میں بھی میلاد کی دعوت دینی ہے۔

جی ضرور۔۔۔کوثر بیگم نا چاہتے بھی سر اثبات میں ہلایا اور اس خاتون کو جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *