Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 17)
Rate this Novel
Dill e Zaar (Episode 17)
Dill e Zaar by Khanzadi
تمہیں اوپر لے آیا ہوں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تم میری پرسنل چیزوں کو ہاتھ لگاؤ۔
جتنی جگہ ملی ہے چپ چاپ وہی رہو۔۔۔ادھر اُدھر نظریں مارنے کی ضرورت نہی ہے۔
دوبارہ پردے کی اس طرف جھانکنے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔۔سمجھی؟
سویرا نے فوراً سر اثبات میں ہلایا۔
That’s good for you…
میرا مطلب ہے تمہارے لیے یہی بہتر ہو گا کہ اپنے کام سے کام رکھو۔
یوسف پہلے انگریزی میں بولا مگر پھر خیال آیا کہ سویرا کو تو انگلش کی سمجھ ہی نہیں آئی ہو گی تو فوراً اردو میں سمجھانے کے انداز میں اس کی طرف پلٹا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
سویرا نے سکھ کا سانس لیا اور صوفے پر بیٹھ گئی۔
سنو!
وہ ابھی سکون سے بیٹھی ہی تھی کہ یوسف پھر سے دروازے پر آ گیا۔
سویرا فوراً اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور یوسف کی طرف دیکھا۔
کمرے کی صفائی تم نے کی ہے؟
یوسف کے سوال پر سویرا نے ڈرتے ڈرتے سر اثبات میں ہلایا اور نظریں جھکا لی۔۔۔اسے لگا اس سے کچھ غلط ہو گیا ہے۔
یوسف اس کے پاس آیا اور دونوں بازو سینے پر فولڈ کرتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
کس نے کہا تھا تم سے یہ کرنے کو؟
سویرا نے سر اوپر اٹھاتے ہوئے یوسف کو دیکھا اور فوراً سر نفی میں ہلا دیا۔
ہممم۔۔۔میری ایک بات آج تم اچھی طرح تم سمجھ لو۔۔۔تم اس گھر کی بہو ہو نوکرانی نہیں۔
ان کاموں کے لیے ملازمہ ہے گھر میں۔۔۔تمہیں گھر کے کاموں کی بجائے اپنی پڑھائی پر دھیان دینا چاہیے۔
آج ملازمہ چھٹی پر تھی اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم یہ سب کام کرو گی۔
جس وقت فری ہوتی ہو اپنی بکس لے کر بیٹھ جایا کرو اور لکھنے کی کوشش کیا کرو۔
اس طرح تو نہی پڑھ سکو گی تم۔۔۔میرا تمہیں یہاں لانے کا مقصد تمہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا تھا۔
گھر کے کام تو تم وہاں بھی کرتی تھی۔۔۔اگر یہاں بھی وہی روٹین رکھو گی تو بس زمہ داریاں نبھانے میں مصروف رہو گی۔
آئیندہ گھر کا کوئی کام کرتے ہوئے نا دیکھوں میں تمہیں۔
Understand?
افففف۔۔۔یوسف نے اپنے ماتھے پر ہلکا سا تھپڑ لگایا۔۔۔میرا مطلب ہے میری بات سمجھ گئی ہو ناں؟
سویرا سر اثبات میں ہلایا اور حیرت زدہ سی یوسف کو جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔
کبھی کچھ کہتا ہے اور کبھی کچھ۔۔۔کبھی کہتا ہے کہ میں نے تمہارا ساتھ دے کر بہت بڑی غلطی کر دی ہے اور کبھی کہتا ہے تمہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے یہاں لایا ہوں۔
اگر میں گھر کے کام نہیں کروں گی تو میں تو بور ہوتی رہوں گی یہاں بیٹھے بیٹھے۔۔۔کسی ایک بات پر ٹکتا ہی نہیں ہے یہ انسان۔
منٹ میں اپنا فیصلہ بدل لیتا ہے۔۔۔ابھی تو مجھ سے لڑ کر گیا تھا اور اب میری فکر کر رہا ہے۔
ٹھیک ہے مجھے پڑھائی پر دھیان دینا چاہیے لیکن مجھے تو گھر کے کام کرنے کی بھی عادت ہے۔
ہاں لیکن ایک بات تو سچ ہے۔۔۔اس نے مجھے شعیب سے چھٹکارا دلا کر زندگی بھر کے لیے مجھ پر احسان کر دیا ہے۔
میں ساری زندگی بھی اس کی تابعداری میں گزار دوں یہ بھی کم ہے۔
سویرا دل ہی دل میں سوچتے ہوئے پھر سے صوفے پر بیٹھ گئی۔
یوسف اپنے کمرے میں آیا اور پھر سے پریشان ہو گیا۔۔۔میں تو باہر سے ناشتہ کر آیا ہوں لیکن پتہ نہیں اس نے ناشتہ کیا ہو گا یا نہی؟
شاید کر لیا ہو گا۔۔۔پوچھنے جاؤں یا نہیں؟
شیشے کے سامنے کھڑا خود سے ہی سوال کرنے میں مصروف تھا۔
اگر بار بار اس کے پاس جاؤں گا تو میری پرسنیلٹی خراب ہو گی۔۔۔کیا سوچے گی وہ کہ میں اس کے پیچھے ہی پڑ گیا ہوں۔
کر لیا ہو گا۔۔۔چھوٹی بچی نہیں ہے جو میں اس سے پوچھنے کے لیے جاؤں۔
میں اس کا شوہر ہوں اسے مجھے پوچھنا چاہیے الٹا میں اس کی فکر میں ہلکان ہو رہا ہوں۔
اس نے تو پانی کا گلاس تک نہیں سرو کیا مجھے اور میں اس کے ناشتے کی فکر کر رہا ہوں۔
I don’t care
سارے پردے آگے کرتے ہوئے لیٹ گیا اور پھر اٹھ کر لائیٹس بھی بند کر دی۔
ایک نظر سامنے کمرے کے کھلے دروازے کو دیکھا اور بے بس سا بیڈ پر گر گیا۔
کچھ دیر سونے کی کوشش کرتا رہا اور پھر بے زار ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔پتہ نہی کیوں نیند نہیں آ رہی مجھے۔
یہ لڑکی پاگل کرے گی مجھے۔۔۔اس کی آنکھیں مجھے سونے نہیں دیتی۔
اففف۔۔۔کیا کروں میں اس کا؟
اٹھ کر سویرا کے پاس گیا اور اسے صوفے پر سوتے دیکھ کر گہری سانس لیتے ہوئے نیچے چلا گیا۔
مریم کے کمرے کا دروازہ نوک کرتے ہوئے اندر گیا۔
اس نے ناشتہ کیا؟
کس نے۔۔۔؟
مریم حیرت زدہ سی بولی۔
سویرا نے آپی اور کس نے۔۔۔یوسف بے زار سا بولا۔
ہاں ہاں۔۔۔میں نے خود کروایا ہے اسے ناشتہ۔۔۔تم فکر نہی کرو۔
میں کیوں فکر کروں گا اس کی؟
ہمارے گھر میں رہ رہی ہے کہی بھوک سے مر نا جائے بس اسی لیے پوچھ رہا تھا۔
ہاں وہ تو تمہاری آنکھوں سے صاف نظر آ رہا ہے۔۔۔مریم معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے بولی۔
You know what
مجھے یہاں آنا ہی نہی چاہیے تھا۔
یوسف غصے سے کمرے سے باہر نکل گیا اور اپنے کمرے میں آ کر پھر سے لیٹ گیا۔
شام کو آنکھ کھلی تو مریم کو الماری کی سیٹنگز کرتے ہوئے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گیا۔
کیا ہو رہا ہے یہاں؟
کچھ نہیں تمہاری بیوی کے لیے کچھ کپڑے منگوائے تھے وہ آئے ہیں تو سوچا یہی سیٹ کر دوں کیونکہ اس نے اب یہی رہنا ہے۔
کیا مطلب یہی سیٹ کر دوں؟
اس کے کپڑے نیچے ہی رکھ دیتی آپ۔۔۔مجھے کوئی شوق نہیں ہے اپنے کپڑوں کے ساتھ اس کے کپڑے رکھنے کا۔
Ohhh Really?
Are you serious bro?
بیوی ہے وہ تمہاری جہاں تم رہو گے وہی رہے گی وہ اور کپڑے الگ کیوں رہیں گے؟
بابا کا فرمان یاد ہے یا میں یاد کروا دوں؟
Ok ok fine…
رکھ دیے کپڑے اب جائیں یہاں سے۔۔۔پہلے ہی جم کے لیے دیر ہو رہی ہے مجھے اوپر سے آپ لیکچر سنانا شروع ہو گئی ہیں۔
اچھا جی۔۔۔مریم طنزیہ انداز میں مسکرائی۔
میری بات سنیں آپ۔۔۔یہ خود پر دھیان دینے کی بجائے زرا اپنی بیوی پر بھی دھیان دینا شروع کریں مسٹر یوسف۔
وہ بیچاری اس کمرے میں بغیر پنکھے کے صوفے پر سو رہی ہے۔۔۔تمہیں اتنی فرصت نہی ملی کہ پنکھا ہی آن کر دو۔
اس کی جگہ اس کمرے میں ہے نا کہ اس کمرے میں۔۔۔بیوی بنایا ہے تو اسے بیوی سمجھو بھی۔
مخض نام دے دینے سے رشتہ مکمل نہی ہو جاتا بلکہ اس رشتے کو مکمل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو مکمل کرنا پڑتا ہے۔
اسے تمہاری ضرورت ہے۔۔۔اگر ہمسفر بنے ہو تو اسے اپنے ہونے کا احساس بھی دلاؤ۔
اسے یقین دلاؤ کہ وہ تمہارا ساتھ پا کر محفوظ ہے،پرسکون ہے،اسے آنسو بہانے کے لیے اپنا کندھا میسر کرو۔
اسے کے اندر ماضی کی ازیتیں بھری پڑی ہیں اس کا غم ہلکا کرنے کی کوشش کرو۔
اسے یقین دلاؤ کہ اب سے تم اس کے ہر سکھ دکھ میں شریک رہو گے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔
اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارو تا کہ اس کے اشارے سمجھ سکو۔
اب تمہیں اس کی آواز بننا ہے۔۔۔صرف نکاح کر لینا کافی نہیں ہوتا۔
امید ہے میری باتوں پر غور کرو گے تم اور عمل بھی۔۔۔مریم اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی اور یوسف حیرت اور بے بس سا زدہ سا بیڈ پر گر گیا۔
یہ سب کو لیکچر دینے کے لیے میں ہی ملتا ہوں؟
یوسف نے خود سے ہی سوال کیا۔
Any way…
مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔یہ سب تو اب روز ہی سننا پڑے گا،میں جم سے لیٹ نہی ہو سکتا۔
ویسے ہی ٹرینر کا پارہ ہائی رہتا ہے۔۔۔میں فی الحال کسی سے بحث کرنے کے موڈ میں نہی ہوں۔
الماری سے اپنے کپڑے نکالے اور واش روم میں چلا گیا۔
کچھ دیر بعد باہر آیا اور موبائل اور چابیاں اٹھائے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔سیڑھیوں کی طرف بڑھنے ہی والا تھا کہ کمرے کے باہر رک گیا اور ایک نظر صوفے پر سوئی سویرا کو دیکھتے ہوئے گہری سانس لی۔
ابھی تک سو رہی ہے۔۔۔
Lazy Girl…
پتہ نہی کیا بنے گا اس کا۔۔۔ان محترمہ نے کر لی پڑھائی۔
بڑبڑاتے ہوئے نیچے چلا گیا۔
__________________________
او میڈم ہیلو۔۔۔۔!
مریم سویرا کو کندھے سے ہلاتے ہوئے بولی۔
سویرا اٹھ کر بیٹھ گئی۔
کیا ہو گیا ہے آج؟
کتنا سونا ہے میری جان نے؟
سویرا مسکرا دی۔
چلو اٹھو شاباش۔۔۔اٹھ کر فریش ہو اور کپڑے چینج کرو۔
تمہارے لیے جو کپڑے منگوائے تھے آ گئے ہیں اور باقی جوتے وغیرہ بھی۔
اُدھر الماری میں سب کچھ رکھ دیا ہے میں نے۔۔۔باقی تم جیسے چاہو سیٹنگز کر لینا۔
اٹھ جو بھئی اچھے سے تیار ہو جاؤ۔۔۔اس حلیے میں دوبارہ نا دیکھوں میں تمہیں۔
یوسف کے آنے سے پہلے پہلے تیار ہو جاؤ پھر تمہیں اس کے ساتھ باہر جانا ہے۔
سویرا نے سوالیہ نظروں سے مریم کو دیکھا۔
بدلے میں مریم نے اسے بازو سے پکڑا اور دوسرے کمرے میں لے گئی۔
الماری سے اس کے لیے ایک سوٹ نکالا کر اس کے ہاتھ میں تھمایا اور اسے واش روم میں دھکیل کر دروازہ بند کر دیا۔
سویرا نے مسکراتے ہوئے دروازہ لاک کیا۔
جلدی آ جاؤ باہر۔۔۔اندر سو مت جانا۔
سویرا شاور لے کر باہر آئی تو مریم نے فوراً ماشاءاللہ بولا اور اسے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بٹھا دیا۔
یہ تمہارے لیے کچھ میک اپ لائی ہوں میں اور یہ پرفیومز اور باڈی سپریز۔۔۔۔میں سب سمجھا دیتی ہوں تمہیں کہ کونسی چیز کیسے یوز کرنی ہے۔
سویرا نے سر اثبات میں ہلایا اور مریم کی باتیں سننے میں مصروف ہو گئی۔
مریم نے اسے ہلکی سی پنک لپ اسٹک لگائی،بلش اون لگایا اور مسکارا بھی لگا دیا۔
پرفیکٹ۔۔۔بہت پیاری لگ رہی ہو ماشاءاللہ۔
پیاری تو پہلے ہی بہت ہو لیکن اب سونے پر سہاگا ہو گیا۔۔۔روز اسی طرح ہلکا سا میک کرنا ہے تم نے اور نئے نئے سوٹ پہن کر تیار شیار رہنا ہے۔
شادی شدہ ہو گئی ہو اب۔۔۔تمہارے شوہر کی ہر وقت تم پر نظر ہوتی ہے،اسے تم ہر نظر میں خوبصورت اور حسین و جمیل دکھائی دینی چاہیئے۔
مریم کی باتیں سن کر سویرا نظریں جھکاتے ہوئے مسکرا دی۔
اوہو شرما رہی ہو۔۔۔مریم اس کے ماتھے پر پیار کرتی ہوئی بولی۔
اللّٰہ پاک سے دعا ہے کہ تمہیں ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھے۔
میں چلتی ہوں اس سے پہلے کہ ماما اوپر آئیں۔
مریم نیچے چلی گئی۔
سویرا نے ٹاول اٹھایا اور ایک نظر فرصت سے خود کو شیشے میں دیکھتے ہوئے مسکرا دی۔
میں سمجھتی تھی کہ میری زندگی بس گھر کے کام کرتے ہوئے اور دوسروں کے نخرے اٹھاتے ہوئے ہی گزر جائے گی لیکن اللّٰہ بہت بے نیاز پے۔
اللّٰہ کے کس کام میں کیا مصلحت چھپی ہو یہ سمجھنا ہم انسانوں کے بس کی بات نہی ہے۔
اتنا پیار کرنے والے لوگ اور سب سے بڑھ کر یوسف۔۔۔اس نے میرے لیے اتنی بڑی قربانی دی ہے۔
یہاں تک کہ اپنے ماں باپ کی ناراضگی بھی برداشت کر رہا ہے۔
سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یوسف میری کس نیکی کا صلہ ملا ہے مجھے۔
اپنی ہی سوچوں میں گم بیٹھی تھی کہ اپنے پیچھے کھڑے یوسف کو بھی نا دیکھ سکی۔
یوسف بنا پلکے جھپکائے حیرت زدہ سا سویرا کو دیکھ رہا تھا۔
میرا ٹاول۔۔۔۔؟
کس سے پوچھ کر تم نے میرا ٹاول یوز کیا ہے؟
یوسف نا چاہتے ہوئے بھی بول پڑا تا کہ سویرا کو اس کی موجودگی کا پتہ چل سکے۔
سویرا ڈر کر کھڑی ہو گئی اور شیشے میں اپنے پیچھے کھڑے یوسف کو دیکھتے ہوئے اس کی طرف پلٹی۔
اس کے ہاتھ سے برش نیچے گر گیا۔
یوسف نے برش اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا اور سر تا پاؤں غور سے سویرا کو دیکھا۔
Ohhh my God…She is looking Gorgeous…i can’t blink my eyes
کیا سوچے گی میرے بارے میں کس قدر ترسی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہا ہوں اسے۔۔۔یہ لڑکی میرا ظبط آزما رہی ہے۔
میں اس سے جتنا دور رہنے کی کوشش کر رہا ہوں یہ اتنا ہی میرے حواسوں پر چھا رہی ہے۔
میرا دل اتنی تیزی سے کیوں دھڑک رہا ہے؟
دل ہی دل میں سوچتے ہوئے خود سے سوال کیا اور سویرا کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس کے چہرے پر گرے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے اس کے مزید نزدیک ہوا۔
کہی جا رہی ہو؟
سویرا نے فوراً سر نفی میں ہلایا اور تھوڑا پیچھے ہٹی۔
تو پھر تیار کیوں ہوئی ہو؟
یوسف نے اسے بازو سے کھینچتے ہوئے اپنے نزدیک کیا۔۔۔جب میں بات کروں ایک جگہ پر کھڑی رہا کرو۔
سویرا نے سر اثبات میں ہلایا اور پھٹی پھٹی نگاہوں سے یوسف کو دیکھنے لگ گئی۔
پہلے ہی اتنی خوبصورت تھی اور اب مزید خوبصورت ہو گئی ہے۔۔۔اس کی آنکھیں،پاگل کرے گی یہ مجھے۔
یوسف نے سویرا کا چہرہ دونوں میں تھام لیا اور اس کے ہونٹوں پر انگوٹھا رکھتے ہوئے اس کے مزید نزدیک ہوا۔
جاری ہے۔۔۔
