Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488

Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 20)

87.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Zaar (Episode 20)

Dill e Zaar by Khanzadi

اب یہ کیا نیا ڈرامہ ہے امی؟

عبیرہ ماں کو پریشان بیٹھے دیکھ کر ان کے پاس آ گئی۔

تایا ابو پاکستان کب آئے؟

نبیرہ نے بھی سوال کر ڈالا۔

شعیب اس سارے معاملے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے موبائل اٹھائے وہی صوفے پر بیٹھ گیا۔

اب مجھے کیا پتہ وہ پاکستان کب آئے اور کب سویرا کو لے کر چلے بھی گئے۔۔۔کوثر بیگم غصے سے چلائی۔

مجھے تو اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ اچانک تمہارے تایا ابو کو اپنی بیٹی کی یاد کیسے آ گئی؟

آج تک اس سے فون پر دیکھا تک نہیں انہوں نے اور اب اچانک اسے لینے آ گئے۔

اور تم منہ اٹھا کر کیوں بیٹھے ہو یہاں؟

ان کی نظر شعیب پر پڑ گئی۔

اپنے باپ کو کال کرو اور بتاؤ انہیں۔۔۔یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے،تمہارے ہی کرتوت ہیں سارے جو ہم اس مصیبت سے باہر نکل ہی نہی رہے۔

اسے کیوں ڈانٹ رہی ہیں آپ؟

اس نے کیا کیا ہے امی؟

نبیرہ اور عبیرہ دونوں حیرت زدہ سی کبھی ماں کو دیکھ رہی تھی تو کبھی شعیب کو۔

کچھ نہی کیا اس نے۔۔۔میرا مطلب ہے کہ اسی نے یوسف سے جھگڑے شروع کیے تھے جس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ وہ ہر بات کا الزام اسی کو ٹہراتا ہے۔

کچھ بھی ہو منہ اٹھا کر ادھر آ جاتا ہے۔۔۔کوثر بیگم اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔

تم نے سنا نہیں کال کرو اپنے ابو کو۔۔۔کوثر بیگم نے ایک بار پھر شعیب کو متوجہ کیا اور غصے سے گھورا۔

یہ لیں۔۔۔شعیب نے لاپرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے موبائل ان کی طرف بڑھایا۔

ہاں جی وعلیکم اسلام۔۔۔کوثر بیگم نے طارق صاحب کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔

اچھا۔۔۔تو آپ کو پہلے ہی خبر مل چکی ہے۔۔۔اچھا!

سہی۔۔۔ٹھیک ہے۔

خدا حافظ۔

کوثر بیگم نے موبائل شعیب کی طرف بڑھایا۔

بہت چالاق ہیں یہ لوگ۔۔۔ساجد صاحب نے پہلے ہی کال کر دی تمہارے ابو کو۔

وہ کام کر رہے ہیں تمہارے تایا ابو کو لیکن ان کا نمبر مسلسل بند ہے۔

ایسا کرو اپنی تائی کو کال لگاؤ زرا۔۔۔کوثر بیگم کچھ سوچتے ہوئے جھٹ سے بولی۔

جی۔۔۔شعیب نے ان کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے موبائل ماں کی طرف بڑھا دیا۔

دوسری طرف سے کال اٹھا لی گئی تھی۔۔۔کوثر بیگم نے چونک کر موبائل کو دیکھا اور پھر سے موبائل کان سے لگا لیا۔

اسلام و علیکم بھابھی۔۔۔کیسی ہیں آپ؟

جی الحمدللہ ہم سب بھی ٹھیک ہیں،آپ کی دعا چاہیے۔

اچھا بھابھی مجھے آپ سے کچھ پوچھنا تھا۔۔۔کوثر بیگم نے کال کرنے کی وجہ بتائی۔

جی جی سب خیریت ہے بس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔۔۔سوچا آپ سے بات کر کے تصدیق کر لوں۔

آپ کو پتہ تو ہے سویرا کے نکاح کا۔۔۔دراصل کچھ دیر پہلے وہ لڑکا سویرا کو ڈھونڈنے ڈھونڈے یہاں آیا تھا۔

بہت تماشہ لگا کر گیا ہے۔۔۔کہہ رہا ہے کہ سویرا کے بابا اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

کیا یہ بات سچ ہے بھابھی؟

واقعی بھائی صاحب اسے لے کر گئے ہیں یا پھر یہ کوئی نیا ڈرامہ کر رہا ہے ہمارے ساتھ؟

کیا۔۔۔؟

یہ بات سچ ہے۔۔۔لیکن بھابھی اس کی کیا ضرورت تھی بھلا؟

سویرا وہاں سہی تھی۔۔۔میرا مطلب ہے ٹھیک ہے بھائی جان کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے لیکن اس طرح اچانک سویرا کو ساتھ لے جانا سہی تو نہی ہے۔

ایک بار ہم سے بات تو کرتے آپ لوگ۔۔۔اب وہ لڑکا ہمیں ایک گھنٹے کا ٹائم دے کر گیا ہے۔

یقیناً ایک گھنٹے بعد وہ پھر یہاں آئے گا اور تماشہ کرے گا۔

میں نے بتایا تو تھا آپ لوگوں کو کہ بہت چالاک فیملی ہے اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑیں گے ہمارا۔

بہت پہنچ والے لوگ ہیں۔۔۔اسی لیے تو ہماری معصوم بچی ان کے جال میں پھنس گئی تھی۔

آپ کی بات ٹھیک ہے بھابھی لیکن۔۔۔چلیں ٹھیک ہے جیسا بھائی جان کو ٹھیک لگے۔

خدا حافظ۔۔۔کوثر بیگم نے غصے سے موبائل شعیب کی طرف بڑھایا۔

اچانک سے بھائی صاحب کو اپنی بیٹی کی یاد کیسے آ گئی؟

اچانک آئے اور بیٹی کو ساتھ لے کر اڑن چھو ہو گئے۔۔۔بڑے آرام سے کہہ دیا کہ ہم جو کر رہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں۔

نہی اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟

کچھ دیر بعد یوسف پھر سے آ جائے گا۔۔۔ہم یہاں ان لوگوں کے تماشے دیکھنے کے لیے بیٹھے ہیں کیا؟

میں سیکیورٹی کا انتظام کرتا ہوں امی۔۔۔ایسے کیسے یہ منہ اٹھا کر یہاں آ جائے گا،ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھی جو اس سے بے عزتی کرواتے رہیں۔

شعیب موبائل کان سے لگائے وہاں سے چلا گیا۔

چھوڑیں امی ان سب کو۔۔۔مجھے گاڑی کی چابی چاہیے،آج رات ایک دوست کی برتھ سے پارٹی پر جانا ہے ہمیں۔۔۔بریرہ لاپرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے بولی۔

تمہیں بھیجوں میں برتھ ڈے پارٹی پر۔۔۔کوثر بیگم غصے سے پھٹ پڑی۔

باپ کا پتہ ہے ناں۔۔۔اجازت لی ہے باپ سے؟

ہمیں ان سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ماما۔۔۔آپ گاڑی کی چابیاں ہمارے حوالے کریں ہمیں اور کچھ نہی پتہ۔

نبیرہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولی۔

پچھلے ایک سال یہ یہی تماشے دیکھ رہے ہیں ہم،سویرا کے گناہوں کی سزا ہمیں کیوں دے رہی ہیں؟

ہمیں جانا ہے تو بس جانا ہے،ابو کو کون بتائے گا؟

بات آپ کے اور ہمارے درمیان ہے۔

بات صرف میرے اور تمہارے درمیان نہیں ہے جاہلوں۔۔۔دو بھائی بھی رہتے ہیں اس گھر میں تمہارے۔

میں نہی بتاؤں گی تو وہ بتا دیں گے۔

کون بتائے گا امی۔۔۔؟

زوہیب بھائی تو اپنی پڑھائی میں مصروف رہتے ہیں پیچھے بچا یہ شعیب جو ابھی تک سویرا کے چنگل سے ہی آزاد نہی ہوا۔

یہ نہی بتائے گا۔۔۔

ہاں تمہیں تو جیسے اس نے لکھ کر دیا ہے نا کہ نہی بتائے گا۔

زیادہ دماغ نا کھاؤ۔۔۔اٹھ جاؤ تم دونوں یہاں سے میرا دماغ پہلے ہی خراب ہے۔

برتھڈے پارٹی پر جانا ہے۔۔۔چپ چاپ اندر بیٹھو دونوں۔

نبیرہ اور بریرہ دونوں پاؤں پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی اور کوثر بیگم سر تھامے بیٹھ گئی۔

______________________

ساجد صاحب جیسے ہی گھر آئے یوسف بھاگتے ہوئے ان کے پاس آیا۔۔۔بابا آپ کی بات ہوئی طارق انکل سے؟

کہاں ہے سویرا؟

شہلا بیگم اور مریم چپ چاپ کھڑی یوسف کو دیکھ رہی تھیں۔

ساجد صاحب نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے صوفے پر بٹھایا۔۔۔سنبھالو خود کو یوسف۔

سویرا اپنے بابا کے ساتھ ہے اور بلکل ٹھیک ہے۔۔۔پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے۔

میری تفصیلی بات ہوئی طارق بھائی سے وہ کہہ رہے ہیں سویرا کے بابا کا نمبر بند ہے۔

لوکیشن ٹریس ہونے کے ڈر سے انہوں نے یہاں آنے سے پہلے نمبر چینج کر لیا تھا البتہ ان کی سویرا کی ماما سے بات ہوئی ہے۔

وہ کہہ رہی ہیں کہ سویرا اپنے بابا کے ساتھ ہے اور وہ اس وقت کسی کی کوئی بھی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

وہ ہر حال میں سویرا کو اپنے ساتھ لیجانا چاہتے ہیں۔

تم ہمت اور صبر سے کام لو بیٹا۔۔۔اس طرح ان کے گھر جا کر چلانے اور انہیں دھمکانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

وہ لوگ اس سارے معاملے سے انجان ہیں۔جتنے پریشان ہم ہیں اتنے ہی پریشان وہ بھی ہیں اس وقت۔

کیا مطلب ہے آپ کا؟

بابا جان آپ چاہتے ہیں میں چپ چاپ ہاتھ پے ہاتھ رکھے بیٹھا دیکھتا رہوں؟

بیوی ہے وہ میری۔۔۔گھر میں رکھا کوئی شو پیس نہی جس کے غائب ہونے پر میں چپ ہو جاؤں۔

ایسے کیسے وہ لے گئے میری بیوی کو؟

کس نے حق دیا ہے انہیں سویرا کو زبردستی اپنے ساتھ لیجانے کا؟

اتنے سال بعد ان کو آج یاد آیا ہے کہ ان کی کوئی بیٹی بھی ہے۔۔۔اس وقت کہاں تھے وہ جس وقت اسے اپنے ہی گھر میں نوکرانی کی طرح رکھا جا رہا تھا؟

جس وقت اس کی عزت پر ہاتھ ڈالا جا رہا تھا اس وقت ان کے اندر کا باپ کہاں تھا؟

اپنے ہی گھر میں اس کی عزت محفوظ نہی تھی۔۔۔اس وقت میں نے اسے سہارا دیا تھا۔

ایک ایک دن۔۔۔ایک ایک منٹ میں نے اسے سنبھالا تھا۔۔۔اسے زندگی کی طرف واپس لانے والا میں تھا۔

میں نے سویرا پر اپنا ایک ایک منٹ انویسٹ کیا ہے اور آج یہ اچانک سے آئے اور اسے مجھ سے چھین کر لے گئے۔

تمہاری بات ٹھیک ہے یوسف لیکن ابھی سمجھنے کی کوشش کرو بیٹا۔

طارق صاحب اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔

آپ سمجھنے کی کوشش کریں بابا جان۔۔۔یوسف نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔

میں نہی رہ سکتا سویرا کے بغیر۔۔۔مجھے سانس نہی آ رہا،ایسے لگ رہا ہے جیسے میں زندہ ہی نہی ہوں اور آپ کہہ رہے ہیں سمجھنے کی کوشش کروں۔

میں کچھ بھی سمجھنے کی کیفیت میں نہی ہوں۔۔۔مجھے بس سویرا چاہیے۔

اگر آپ میرے لیے کچھ نہیں کر سکتے تو مجھے صاف بتا دیں۔۔۔میں اپنے زرائع سے اس تک پہنچ جاؤں گا۔

شہلا بیگم حیرت زدہ سی یوسف کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔ان کو اندازہ نہی تھا کہ یوسف اپنے بابا کے ساتھ ایسے بات کرے گا۔

یوسف پاگلوں کی طرح چلا رہا تھا۔

ساجد صاحب سر تھام کر بیٹھ گئے۔۔۔بیٹے کی حالت دیکھ کر وہ بہت پریشان ہو چکے تھے۔

آپ کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ میرے لیے کچھ نہی کریں گے۔

You know what…

آپ اسے ڈھونڈنا ہی نہی چاہتے بابا جان۔۔۔آپ سب تو یہی چاہتے تھے۔

آپ کیوں ڈھونڈیں گے۔۔۔میری بیوی ہے ناں تو میں خود ہی اسے ڈھونڈ لوں گا۔

تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔مجھے جو کرنا ہے میں خود کر لوں گا۔

یوسف اپنے کمرے میں گیا گاڑی کی چابیاں اور موبائل اٹھاتے ہوئے گھر سے باہر نکل گیا۔

مریم نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہی۔

جانے دو اسے۔۔۔اس وقت یہ کچھ نہیں سنے گا۔

مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔۔۔اگر وہ سویرا کو لینے آئے ہی تھی تو کم ازکم آپ مجھے کال ہی کر دیتی۔

ساجد صاحب نے شہلا بیگم کو مخاطب کیا۔

وہ آئے اور پانی تک نہی پیا۔۔۔جیسے ہی سویرا نیچے آئی اسے زبردستی ساتھ لے گئے۔

میں اکیلی کیا کر سکتی تھی بھلا؟

جہاں تک ممکن تھا میں نے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ سن ہی نہیں رہے تھے۔

وہ اس وقت اپنے سگے بھائی کی بات نہی سن رہے تو ہماری کیا سنیں گے؟

کھانا لگا رہی ہوں میں۔۔۔فریش ہو کر آ جائیں سب،اپنے باپ کے ساتھ گئی ہے سویرا مر نہی گئی جو سب لوگ اس طرح سوگ منا رہے ہیں۔

شہلا بیگم اس معاملے میں اپنا پلو جھاڑتی ہوئی کچن میں چلی گئی۔

مریم اور ساجد صاحب نے حیرانگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

مریم چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی گئی اور ساجد صاحب گھر سے باہر نکل گئے۔

شہلا بیگم نے کچن سے باہر جھانک کر دیکھا اور گہری سانس لیتے ہوئے کچن سے نکل کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

اب کیسے سمجھاؤں ان سب کو کہ اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لیے مجھے یہ سخت قدم اٹھانا پڑا ہے۔

اس کی حالت دیکھ کر مجھے بھی اتنی ہی تکلیف ہو رہی جتنی آپ سب کو لیکن میں مجبور ہوں۔

مجھے اپنے بیٹے کی جان بچانی ہے بس۔

________________________

یوسف کئی گھنٹوں تک بنا کسی مقصد کے روڈ پر گاڑی بھگاتا رہا۔۔۔راستے میں جو بھی ہوٹل آتا وہاں انویسٹیگیشن کرنے پہنچ جاتا لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔

آخر کار تھک ہار کر گھر واپس آ گیا اور اپنے کمرے میں جانے کی بجائے ٹیرس پر نکل گیا اور بے بس سا چھت پر جانے والی لوہے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔

سویرا کا مسکراتا ہوا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔

اس سے ہونے والی پہلی ملاقات سے لے آج صبح تک کا سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔

وہ بے بسی کی آخری انتہا پر تھا۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کسی بھی طرح سویرا کو اپنے سامنے لے آئے۔

بس ایک بار۔۔۔بس ایک بار مجھے سویرا مل جائے،میں اسے سب سے اتنی دور لے جاؤں گا جہاں میرے علاؤہ کوئی اس تک پہنچ ہی نا سکے۔

سیڑھیوں سے نیچے اتر کر فرش پر بیٹھ گیا اور جتنی زور سے چلا سکتا تھا چلایا۔

چچچچچ۔۔۔بہت برا ہوا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔دوسری طرف دیوار سے جھانکتے ہوئے شعیب دونوں ہاتھ تھوڑی کے نیچے جماتے ہوئے بولا۔

یوسف نے اس کی آواز سن لی مگر اس کی طرف دیکھا ہی نہی۔

تایا ابو کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ہاں اگر انہیں سویرا کو لیجانا ہی تھا تو کم ازکم تم سے اجازت ہی لے لیتے۔

After All…

تم اس کے شوہر تھے۔۔۔تمہیں پورا حق تھا اسے روکنے کا۔

میں تمہارے غم میں برابر کا شریک ہوں۔۔۔چاہو تو میرے کندھے پر سر رکھ کر اپنا غم ہلکا کر سکتے ہو۔

وہ کیا ہے ناں۔۔۔ایک سال پہلے اس کیفیت سے گزر چکا ہوں میں تو تمہارے غم سے اچھی طرح واقف ہوں میں۔

ہوتا ہے۔۔۔ہوتا ہے۔۔۔کچھ دن یہ سب ہو گا لیکن پھر آہستہ آہستہ تمہیں صبر آ جائے گا جیسے مجھے آ چکا ہے۔

خیر میری تو اور بات تھی۔۔۔تمہارا تو سویرا سے نکاح کا تعلق تھا۔

شعیب تھا پر کچھ زیادہ ہی زور ڈال رہا تھا۔

کوئی بات نہیں اس رشتے کا اختتام شاید ایسا ہی لکھا تھا۔

ہمیں بھی بلکل اندازہ نہی تھا کہ تایا ابو ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے۔۔۔کیونکہ وہ آج تک سویرا سے ملنے آئے ہی نہیں تھے اسے ساتھ لے کر جانا تو دور کی بات ہے۔

چلو خیر کوئی نہی۔۔۔ایک رشتہ ہی تو تھا،ختم ہو گیا تو ہو گیا۔

یوسف کا ظبط جواب دے گیا وہ غصے سے اٹھا اور شعیب کی طرف دوڑا۔۔۔دونوں ہاتھوں سے اس کی گردن دبوچتے ہوئے چلایا۔

“میرا سویرا سے رشتہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔۔۔کبھی بھی نہی”

تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ایسی بات کرنے کی؟

“میں اس کا شوہر تھا اور میں ہی رہوں گا۔۔۔ہمیں کوئی الگ نہیں کر سکتا۔۔۔وہ میری بیوی تھی ہے اور ہمیشہ میری ہی رہے گی”

تم جیسے دو ٹکے کے لوگ ہمیں الگ نہی کر سکتے۔۔۔تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ہمارے رشتے کو اختتام کا نام دینے کی؟

شہلا بیگم،ساجد صاحب اور مریم یوسف کی آواز سن کر تینوں چھت پر آ چکے تھے اور یوسف کے ہاتھوں سے شعیب کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے مگر یوسف پر تو جیسے کوئی جنون سوار تھا۔

ساجد صاحب نے اسے زور سے پیچھے کی طرف کھینچا اور ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر لگایا۔

یوسف ہوش میں آیا اور حیرت زدہ سا گال پر ہاتھ رکھے باپ کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔بابا جان آپ نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا؟

ساجد صاحب نے شرمندگی سے اپنے ہاتھ کی طرف بڑھا اور یوسف کی طرف بڑھے مگر یوسف ان سے مزید دور ہوتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا اور کمرہ اندر سے لاک کر لیا۔

شہلا بیگم نے افسوس بھری نگاہوں سے شعیب کو دیکھا جو اپنا سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

تم بار بار کیوں میرے بیٹے سے الجھنے آ جاتے ہو؟

ساجد صاحب شعیب کی طرف بڑھے اور غصے میں بولے۔

پاگل ہو گیا ہے آپ کا بیٹا۔۔۔علاج کروائیے اس کا ورنہ یہ کسی کی جان لے لے گا۔مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ اس سے الجھوں؟

وہ تو مجھے چیخنے چلانے کی آواز سنائی دی تو دیکھنے کے لیے آ گیا کہ کسی کو مدد کی ضرورت تو نہی ہے۔

یہ تو الٹا مجھے ہی کاٹ کھانے کو آ گیا۔۔۔اس کو کمرے میں بند کر کے رکھیں آپ یا پھر ہاسپٹل داخل کروا دیں تا کہ اس کا علاج ہو سکے۔

دماغی طور پر حاضر نہی لگ رہا یہ مجھے۔۔۔عجیب خاندان ہے،اپنے بیٹے کی غلطی ماننے کی بجائے الٹا مجھ پر چلا رہے ہیں آپ۔

تم جاؤ یہاں سے۔۔۔اس بارے میں میں صبح تمہارے باپ سے بات کروں گا۔۔۔تم میرے بیٹے سے دور ہی رہو اسی میں تمہاری بہتری ہے۔

چلو اب نکلو یہاں سے۔۔۔شکل گم کرو اپنی۔

ہاں ہاں جا رہا ہوں میں یہاں سے۔۔۔نیکی کا تو زمانہ ہی نہی ہے۔

شعیب بڑبڑاتے ہوئے دیوار سے نیچے اتر گیا۔۔۔آج تو مرتے مرتے بچا ہوں،شکر ہے یہ لوگ ٹائم پر آ گئے ورنہ یہ جنگلی انسان آج میرا سانس روک کر چھوڑتا۔

شعیب جان بچی تو لاکھوں پائے۔۔۔دوڑے دوڑے گھر کو آئے والی کہاوت دہراتے ہوئے جلدی سے اندر چلا گیا۔

شہلا بیگم اور ساجد صاحب اندر چلے گئے اور یوسف کے کمرے کی طرف بڑھے لیکن مریم نے انہیں روک دیا۔

بابا جان پلیز۔۔۔اس وقت اسے اکیلا چھوڑ دیں آپ لوگ،میں سنبھالنے کی کوشش کرتی ہوں۔

آپ لوگ جائیں آرام کریں۔

ساجد صاحب سر اثبات میں ہلاتے ہوئے چپ چاپ نیچے چلے گئے۔

شہلا بیگم نے بھی نیچے جانے میں ہی بہتری سمجھی۔

مریم نے ٹیرس کا دروازہ بند کیا اور یوسف کے کمرے کا دروازہ نوک کیا۔

یوسف میری جان پلیز دروازہ کھولو۔۔۔میں جانتی ہوں تم اس وقت بہت تکلیف میں ہو لیکن لڑنا لڑانا مسئلے کا حل نہی ہے بچے۔

جتنی تکلیف میں تم ہو اس سے کئی گنا زیادہ تکلیف مجھے بھی ہے۔۔۔میری بھی بہت اٹیچمنٹ تھی سویرا کے ساتھ،میرے لیے یہ سب ایک صدمے کی طرح ہے۔

کچھ وقت دو ہمیں۔۔۔بابا جان اس مسئلے کا کوئی نا کوئی حل نکال لیں گے،تم صرف خود کو سنبھالو۔

دروازہ کھولو پلیز۔۔۔تمہیں سویرا کی قسم۔

یوسف نے کمرے کا دروازہ کھولا اور سرخ چہرے کے ساتھ بہن سے لپٹ گیا۔

دونوں بہن بھائی بے آواز رو رہے تھے۔۔۔کتنی ہی دیر یوسف آنسو بہاتا رہا اور پھر ایکسکیوز کرتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا۔

مریم نے کمرے کی لائٹ جلائی اور دونوں ہاتھوں میں بھائی کا چہرہ تھام لیا اور آنسو پونچھے۔

روتے ہوئے بلکل اچھے نہی لگ رہے تم۔۔۔میرا لاڈلا بھائی ہمیشہ ہنستا مسکراتا ہی اچھا لگتا ہے۔

میں تم سے وعدہ کرتی ہوں میں خود تمہیں سویرا تک پہنچاؤں گی لیکن اس طرح نہیں۔

تم خود کو نقصان پہنچا رہے ہو۔۔۔سویرا تمہیں ایسے حال میں دیکھ کر خوش ہو گی کیا؟

نہی ناں۔۔۔؟

تو پھر کیوں تم اپنا حال خراب کر رہے ہو۔۔۔یہ وقت جذباتی ہونے کا نہی ہے بلکہ ہوش سے کام لینے کا ہے۔

بابا جان نے طارق انکل سے بات کی ہے وہ صبح تک آ جائیں گے،ان سے مل کر بات کرتے ہیں کوئی نا کوئی حل نکل آئے گا۔

اگر سویرا کے بابا سے رابطہ نہی ہو پاتا تو ہم لوگ ان کے ایڈریس ٹریس کروائیں گے،دبئی تک بھی جانا پڑا تو جائیں گے۔

تمہیں کیا لگتا ہے سویرا ان کے فیصلے سے خوش ہو گی؟

ماما بتا رہی تھیں کہ وہ اسے زبردستی اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں۔۔۔وہ بھی نہی جانا چاہتی تھی۔

ہم عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔۔۔فیصلہ تمہارے حق میں ہی ہو گا انشاء اللہ۔

جتنی تکلیف میں تم ہو سویرا بھی اتنی ہی تکلیف میں ہو گی۔۔۔اس کی ساری امیدیں تم سے جڑی ہیں اگر تم خود کو نقصان پہنچاؤ گے تو وہ کس کے لیے جیے گی؟

اسے تمہارا انتظار ہے۔۔۔تم اس کے پاس جاؤ گے اور اسے ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ واپس لے کر آؤ گے۔

سمجھے؟

یوسف نے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔آپ کی ساری باتیں ٹھیک ہیں آپی لیکن اس وقت مجھے سکون نہی مل رہا۔

میں چاہ کر بھی خود کو پرسکون نہی کر پا رہا۔۔۔میں جانتا ہوں سویرا جہاں بھی ہو گی ٹھیک ہو گی لیکن مجھ سے اس کی دوری برداشت نہیں ہو رہی۔

میں تو اس دیکھ دیکھ کر جینے کا عادی ہو چکا ہو۔۔۔اور آج وہ مجھے کہی بھی نظر نہیں آ رہی۔

ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کوئی برا خواب دیکھ رہا ہوں۔۔۔یا پھر شاید میں زندہ ہی نہیں ہوں۔

“وہ میری روح میں بس چکی ہے”

میں اس کے بغیر جینے کا تصور بھی نہی کر سکتا۔

میں سب سمجھتی ہوں یوسف۔۔۔مجھ سے کچھ بھی چھپا ہوا نہی ہے،مجھے پتہ ہے تمہاری سویرا سے محبت کا لیکن اس وقت تم صبر سے کام لو۔

فریش ہو جاؤ میں تمہارے لیے کھانا لا رہی ہوں۔

نہی مجھے نہیں کھانا۔۔۔یوسف نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔

میں نے بھی نہیں کھایا۔۔۔اسی بہانے میں بھی کھا لوں گی۔

مریم نیچے گئی اور کھانا کی ٹرے اٹھا کر اوپر آئی اور یوسف کو زبردستی کھانا کھلا کر نیچے چلی گئی۔

یوسف بیڈ پر لیٹنے کی بجائے صوفے پر لیٹ گیا جہاں سویرا لیٹا کرتی تھی۔۔۔وہ یوسف کے گھر سے باہر جانے کے بعد بیڈ پر لیٹ جایا کرتی تھی لیکن سوتی صوفے پر ہی تھی۔

یوسف نے کشن اٹھا کر گود میں رکھا تو اسے کشن ضرورت سے کچھ زیادہ ہی بھاری محسوس ہوا۔

اس نے زپ کھول کر دیکھا تو اندر ایک ڈائری تھی۔۔۔سویرا اس کی غیر موجودگی میں یہ ڈائری لکھتی رہتی تھی اور رات کو سونے سے پہلے اسے یہاں چھپا دیا کرتی تھی اور اٹھنے کے بعد اسے اپنی الماری میں چھپا دیا کرتی تھی۔

یوسف نے لاپرواہی سے وہ ڈائری صوفے پر پھینک دی۔۔۔لیکن پھر اچانک ایک انجانے احساس کے تخت اس نے ڈائری کو اٹھایا اور کھول کر بیٹھ گیا۔

جیسے ہی اس نے ڈائری کو کھول کر دیکھا اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔اس پوری ڈائری میں اس کے ہی اسکیچیز تھے۔

کہی اس کی آنکھوں کا اسیکچ تھا کہی ہاتھوں کا اور کہی ہونٹوں کا۔

پوری ڈائری میں یہی کچھ تھا اور ان اسکیچیز کے ساتھ ساتھ تعریفانہ جملے بھی لکھے تھے۔

یوسف حیرت زدہ سا ایک ایک جملہ پڑھتا جا رہا تھا اور ہر ایک لفظ کے ساتھ اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے جا رہے تھے۔

ایک جگہ یوسف کی آنکھوں کا اسکیچ تھا اور نیچے لکھا تھا۔۔۔”آپ کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں،ایسے لگتا ہے جیسے میں ان آنکھوں میں ساری دنیا دیکھ سکتی ہوں،میں نے دنیا تو نہی دیکھی مگر آپ کی آنکھیں دیکھی ہیں”

ایک جگہ یوسف کے ہاتھ کی تصویر تھی جس کے نیچے اس کے ہاتھ پر بنے تل پر وضاحت لکھی تھی۔۔۔”جب میں پہلی بار آپ سے ملی تھی میری نظر آپ کے چہرے کی بجائے آپ کے ہاتھ پر بنے اس تل پر پڑی تھی،میں چاہ کر بھی آپ کے ہاتھ پر بنے اس خوبصورت تل کو نظر انداز نہیں کر پاتی۔۔۔کسی مرد کے ہاتھ اتنے خوبصورت ہو سکتے ہیں میں نہی جانتی تھی۔۔۔مجھے نہیں پتہ کیوں لیکن مجھے زندگی میں پہلی بار اگر کسی سے محبت ہوئی ہے تو آپ کے ہاتھ پر بنے اس خوبصورت تل سے ہوئی ہے”

مجھے نہی پتہ آپ کو یہ جان کر کیسا لگے گا مگر یہی سچ ہے مجھے آپ کا یہ ہاتھ بہت خوبصورت لگتا ہے،اس پر لکھنے بیٹھوں تو شاید پوری زندگی گزر جائے۔۔۔اتنے الفاظ کافی تو نہیں لیکن میرے پیج پر مزید لکھنے کی جگہ نہی بچی۔

یوسف نے اپنے ہاتھ پر بنے تل کو دیکھا اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔اسے یاد آیا جب سویرا مریم کے ساتھ اس کے کمرے میں رکی تھی اور وہ چارجر لینے آیا تھا اور اس کی سویرا سے پہلی باری ملاقات ہوئی اور وہ اسے دیکھنے کی بجائے اس کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔

لیکن ساتھ ہی مسکراہٹ کی جگہ بے بسی نے لے لی۔۔۔وہ صوفے سے اتر کر نیچے بیٹھ گیا اور ڈائری کو سینے سے لگاتے ہوئے جی بھر کر رو دیا۔

سویرا تم مجھ سے اتنی محبت کرتی تھی۔۔۔کاش تم ایک بار اپنے الفاظ مجھ تک پہنچا دیتی تو آج ہمارے رشتے کا مقام کچھ اور ہوتا۔

میں تمہیں وقت دینا چاہتا تھا اس لیے تم سے دور رہتا تھا۔۔۔میں زبردستی کا قائل نہی تھا بس یہ غلطی ہوئی مجھ سے ورنہ آج ہمیں دور کرنے والے چاہ کر ہمیں الگ نا کر پاتے۔

ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔۔میں تمہارا گنہگار ہوں میری جان،تمہاری چاہت سے انجان رہا اور تمہیں اپنی قربت سے دور رکھا۔

میں خود کو کبھی معاف نہیں کر سکوں گا۔۔۔کبھی بھی نہیں۔

وہ روتے روتے وہی سو چکا تھا۔

_______________________

اگلی صبح طارق صاحب صبح صبح گھر پہنچ چکے تھے۔

یہ گاڑی کہاں ہے؟

وہ گیراج میں گاڑی کی غیر موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اندر آئے اور سامنے ان کی نظر کچن میں جاتے زوہیب پر پڑی۔

ابو آپ یہاں۔۔۔اتنی صبح؟

زوہیب باپ کو دیکھتے ہی فوراً ان کی طرف بڑھا اور پرجوش انداز میں گلے ملا۔

ہاں بیٹا بس اچانک آنا پڑا۔۔۔لگتا ہے تم ابھی تک اس واقعے سے انجان ہو۔

کس واقعے سے ابو؟

زوہیب حیرت زدہ سا بولا۔

اس سے پہلے کہ وہ لوگ مزید بولتے گیٹ کھلنے کی آواز پر دونوں گیٹ کی طرف متوجہ ہوئے۔

سامنے کا منظر دیکھ کر طارق صاحب کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *