Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 07)
Rate this Novel
Dill e Zaar (Episode 07)
Dill e Zaar by Khanzadi
سویرا اٹھو۔۔۔کیا ہوا،تم ٹھیک تو ہو؟
مریم گھبرا گئی۔۔۔اس نے سویرا کے گال تھپکنے شروع کر دیے۔
اوہ۔۔۔تمہیں تو بہت تیز بخار ہے اگر تمہاری طبیعت خراب تھی تو آج چھٹی کر لیتی۔
سویرا نے بہ مشکل آنکھیں کھولی اور مریم کی طرف دیکھ کر سر نفی میں ہلایا۔
اٹھو یہاں سے آو میرے ساتھ۔۔۔مریم نے اسے زبردستی اٹھایا اور یوسف کے کمرے میں لے گئی۔
ادھر لیٹو۔۔۔میں تمہارے لیے کچھ لاتی ہوں۔کھا کر میڈیسن کھاو اور تھوڑا آرام کرو۔
مریم نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اس پر کمبل اوڑھاتے ہوئے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
سویرا آدھی کھلی اور آدھی بند ہوتی آنکھوں سے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
ماما۔۔۔کہاں ہیں آپ؟
مریم ماں کو آوازیں دیتی ہوئی بھاگتی ہوئی نیچے آئی۔
کیا ہو گیا خیر تو ہے ناں بیٹا؟
شہلا بیگم اس کی آواز سن کر اپنے کمرے سے باہر آ گئیں۔
خیر نہیں ہے ماما جانی۔۔۔میرا مطلب ہے خیر ہی ہے۔۔۔آپ میرے ساتھ اوپر آئیں جلدی،سویرا کو کچھ ہو رہا ہے۔
کیا ہو رہا ہے سویرا کو؟
شہلا بیگم سیڑھیاں چڑھتی ہوئی بولی۔
پتہ نہیں ماما آپ جا کر دیکھیں اسے پلیز۔۔۔وہ یوسف کے کمرے میں ہے۔
مریم انہیں ساتھ لیے یوسف کے کمرے میں داخل ہوئی۔
شہلا بیگم تیزی سے آگے بڑھی اور سویرا کو آواز دی۔۔۔سویرا اٹھو بیٹے،کیا ہوا ہے آپ کو؟
سویرا نے تھوڑی سی آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا اور پھر سے آنکھیں بند کر لی۔
اسے بہت تیز بخار ہے ماما۔۔۔آپ ہاتھ لگا کر دیکھیں تو سہی۔
ہاں واقعی۔۔۔اسے تو بخار ہے مریم۔
کیا کریں اب؟
اس کی چچی کو فون کریں کیا؟
ماما ان کا موبائل نمبر تو ہے ہی نہیں ہمارے پاس۔۔۔ایسا کریں آپ اس کے پاس بیٹھیں میں آنٹی کو بلا کر لاتی ہوں۔
ٹھیک ہے۔۔۔دھیان سے جانا بیٹا اور ان کو ساتھ لے کر آنا۔۔۔پرائی بچی ہے ہم اسے اکیلے ہاسپٹل لے کر بھی نہی جا سکتے۔
ٹھیک ہے ماما۔۔۔میں بس ابھی آئی۔
مریم چادر اوڑھتی ہوئی گھر سے باہر نکلی اور سویرا کے گھر کی بیل بجائی۔
تین چار بار بیل بجانے کے بعد دروازہ کھلا۔۔۔سامنے زوہیب کھڑا تھا۔
اسلام و علیکم۔۔۔مریم نے سلام کیا۔
وعلیکم اسلام۔۔۔جی آپ کون؟
میں نے آپ کو پہچانا نہی۔۔۔زوہیب تھوڑا پریشان ہوا کہ کون لڑکی ہے جو اس وقت اکیلی باہر کھڑی ہے۔
پوری گلی میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔
میں مریم ہوں سویرا کی ٹیچر۔۔۔مریم نے اپنا تعارف پیش کیا۔
اوہ اچھا اچھا۔۔۔آپ باہر کیوں کھڑی ہیں اندر آ جائیں۔۔۔بلکہ نہی ابھی گھر میں کوئی نہی ہے آپ یہی بات کر لیں۔
I mean…
سب خیریت ہے ناں؟
آپ کچھ پریشان لگ رہی ہیں مجھے۔
مریم اس کے اندر بلانے اور پھر انکار کرنے کی بات پر حیرت زدہ سی اسے دیکھتی رہ گئی۔
اگر میں غلط نہیں ہوں تو آپ زوہیب ہیں ناں؟
جی میں ہی ہوں لیکن آپ کیسے جانتی ہیں مجھے؟
معزرت مجھے اپنا تعارف کروانا یاد نہی رہا۔
میں کیسے جانتی ہوں یہ سب بتانے کا ابھی وقت نہیں ہے میرے پاس۔
پلیز آپ آنٹی کو بلا دیں تھوڑی ایمرجنسی ہے۔
Sorry I can’t
گھر میں کوئی نہی ہے۔۔۔امی لوگ سب نانو کی طرف گئے ہیں شاید کل واپس آئیں گے۔
آپ مجھے بتا دیں کیا ایمرجنسی ہے؟
Ohhh… That’s so sad… Actually There is an emergency
سویرا کو بہت تیز بخار ہے اور وہ بے ہوش ہو رہی ہے۔
What?
جی۔۔۔ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کیا کریں۔۔۔میں نے سوچا آنٹی جی کو بلا کر اسے گھر بھیج دوں تا کہ اسے ڈاکٹر پاس لے جائیں لیکن وہ تو گھر پر ہی نہی ہیں۔
آپ چلیں میرے ساتھ۔۔۔ایک منٹ میں اپنا وائلٹ اور کیز لے کر آیا۔
جی ٹھیک ہے۔۔۔مریم وہی دروازے کے باہر اس کا انتظار کرتی رہی۔
زوہیب جلدی سے واپس آیا اور مریم کے ساتھ اس کے گھر میں داخل ہوا۔
ماما آنٹی تو گھر میں نہی ہیں لیکن ان کے بیٹے زوہیب تھے گھر۔۔۔وہ آئے ہیں۔
آ جائیے آپ۔۔۔
اسلام و علیکم۔۔۔
مریم کے بلانے پر زوہیب سلام کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور سویرا کی طرف بڑھا۔
سویرا اٹھو بچے۔۔۔کیا ہو گیا؟
زوہیب کی آواز سن کر سویرا نے اس کی طرف دیکھا اور رونا شروع ہو گئی۔
کچھ نہی ہوتا بچے،میں ہوں یہاں۔۔۔ٹھیک ہو جاؤ گی تم۔۔۔اٹھو ڈاکٹر پاس چلتے ہیں۔
سویرا نے سر نفی میں ہلایا۔
بیٹا مجھے نہیں لگتا کہ یہ چل سکے گی آپ ایسا کریں ڈاکٹر کو یہی بلا لیں۔
جی ٹھیک ہے۔۔۔زوہیب بغیر وقت ضائع کیا ڈاکٹر کو بلانے چلا گیا۔
سویرا آگے بڑھی اور ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں تسلی دی۔
ماما جان مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔سویرا کی حالت کچھ ٹھیک نہی لگ رہی مجھے۔
یہ رو کیوں رہی ہے؟
کچھ نہی ہوا بیٹا بس بخار ہے اسے۔۔۔اور یہ رو اس لیے رہی ہے کیونکہ تکلیف میں ہے۔بیٹھ جاؤ تم۔
نہی ماما آپ بیٹھیں میں اس کے کھانے کے لیے کچھ لاتی ہوں۔۔۔ان کے گھر پر تو کوئی ہے نہی۔۔۔پتہ نہی اس نے صبح سے کچھ کھایا بھی ہے یا نہی۔
اس کا کزن بتا رہا تھا کہ سب لوگ نانو کی طرف گئے ہیں۔یہ اکیلی کیسے رہے گی وہاں؟
مجھے لگتا کہ ہمیں آج رات سویرا کو یہی رکھ لینا چاہیے،آپ کیا کہتی ہیں؟
آپ بات کر کے دیکھیں زوہیب سے۔۔۔کافی سمجھدار لگتا ہے مجھے اور سویرا کی فکر بھی ہے اسے،شاید مان جائے۔
کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو مریم لیکن اس کی چچی کو کوئی اعتراض نا ہو جائے۔۔۔پتہ تو ہے کتنی چالاک عورت ہے۔
کہی کوئی نیا الزام نا ڈال دے ہمارے سر۔۔۔میرا خیال ہے کہ آپ کے بابا سے کہتے ہیں بھائی جان سے بات کرتے ہیں وہ۔
جی ماما سہی کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔یہ سہی رہے گا۔
چلیں آپ بیٹھیں سویرا کے پاس میں آتی ہوں۔۔۔پتہ نہیں زوہیب کو آنے میں کتنا ٹائم لگ جائے۔
آپ کوشش کریں کہ سویرا کو جگا کر رکھیں دیکھیں مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے کہی اسے کچھ کو نا جائے۔
کتنی عجیب ہے اس کی چچی۔۔۔اس کی طبیعت خراب ہے اور وہ گھر میں موجود ہی نہیں ہیں۔
بہت ہی عجیب اور خود غرض لوگ ہیں یہ ماما۔۔۔سویرا سے گھر کی سارے کام کروانا تو یاد رہتا ہے انہیں لیکن اس کی طبیعت کا کسی کو خیال نہی۔
ماں تو پھر ماں ہی ہوتی ہے اگر آج سویرا کی ماما زندہ ہوتی تو یہ اس حال میں نہ ہوتی۔
ہاں بیٹا۔۔۔لیکن کیا کر سکتے ہیں۔چلو شکر ہے کسی ایک انسان کو تو اس کی فکر ہے۔
چلو چھوڑو تم جاؤ اس کے لئے فریش جوس بنا کر لاؤ پتہ نہیں اس نے کچھ کھایا بھی ہے یا نہیں۔
ٹھیک ہے ماما جان میں بناکر لاتی ہوں۔۔۔مریم پریشان سی کمرے سے باہر نکل گئی۔
کچھ دیر بعد بیل ہوئی۔۔۔مریم نے دروازہ کھولا تو زوہیب تھا ڈاکٹر کے ساتھ۔
مریم انہیں اوپر کمرے میں لے آئی۔
ڈاکٹر نے سویرا کا چیک اپ کیا اور میڈیسن لکھ کر دے دی۔پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے بلڈ پریشر تھوڑا لو ہے ان کا۔
شاید کچھ کھایا نہیں انہوں نے۔۔۔کھانا کھلا کر یہ میڈیسن دیں انہیں انشاءاللہ ٹھیک ہو جائیں گی۔
زوہیب نے میڈیسن سلپ اٹھائی اور ڈاکٹر صاحب کے ساتھ نیچے چلا گیا۔کچھ دیر بعد واپس آیا اور میڈیسنز مریم کی طرف بڑھائی۔
پلیز آپ اسے کچھ کھلا کر یہ دوائیاں کھلا دیں۔گھر پر تو کوئی ہے نہی،اس کی طبیعت تھوڑی بہتر ہوتی ہے تو میں اسے گھر لے جاؤں گا۔
معذرت آپ کو ہماری وجہ سے تکلیف اٹھانی پڑی۔
نہیں بیٹا ایسی کوئی بات نہیں ہے۔انسانیت بھی کسی چیز کا نام ہے سویرا میرے لیے بیٹی کی طرح ہے۔
میں سوچ رہی تھی اگر یہ آج رات یہی رک جائے آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں؟
جی۔۔۔؟
میں کچھ سمجھا نہیں۔
اس کی طبیعت زیادہ خراب ہے بیٹا اور آپ کے گھر میں کوئی خاتون موجود نہیں ہے۔
آپ اس کا خیال کیسے رکھ سکو گے؟
اسی لئے میں نے سوچا کیوں نہ آج رات اسے یہی رکھ لو صبح اس کی طبیعت بہتر ہو جائے تو آپ اسے واپس لے جانا۔
آپ اپنے بابا سے بات کر لیں اور ان اسے اجازت لے لیں۔۔۔کوئی مسئلہ نہیں اگر ان کو اعتراض ہو گا تو ہم اسے ابھی گھر بھیج دیں گے۔
I don’t know…
آنٹی مجھے کچھ اندازہ نہیں ہے کہ ابو اس بات کا کیا جواب دیں گے لیکن میں آپ کے سامنے ان سے بات کر لیتا ہوں۔
زوہیب نے اپنا موبائل نکالا اور اپنے ابو کا نمبر ڈائل کیا۔انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔
طارق صاحب نے سویرا کو یہاں رکنے کی اجازت دیدی۔
زوہیب نے کال بند کی اور شہلا بیگم کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔۔۔ابو نے اجازت دے دی ہے۔
ٹھیک ہے جیسے ان کو مناسب لگے۔۔۔مجھے کوئی اعتراض نہی ہے۔ابو جو بھی فیصلہ کرتے ہے وہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔
آپ میرا نمبر لکھ لیں۔۔۔کوئی پریشانی ہو تو مجھے کال کر لیجئے گا۔
مریم نے اپنا موبائل زوہیب کی طرف بڑھایا۔ زوہیب نے مریم کے موبائل سے اپنا نمبر ڈائل کیا اور موبائل دوبارہ مریم کو پکڑا دیا۔
مریم نے موبائل میں اس کا نمبر دیکھا اور سیو کر لیا۔
ٹھیک ہے آنٹی میں چلتا ہوں اب۔
نہیں بیٹا ایسے کیسے جا سکتے ہیں آپ۔۔۔پہلی بار آئے ہیں ہمارے گھر،کھانا کھا کر جائیے گا۔
Thank you so much auntie
انشاء اللہ پھر کسی دن۔۔۔دراصل میں کھانا کھا چکا ہوں پھر کسی دن موقع ملا تو آپ کے ساتھ بیٹھ کر ضرور کھانا کھاؤں گا۔
بہت بہت شکریہ۔۔۔میں آپ لوگوں کا بہت شکر گزار ہوں کہ آپ دونوں سویرا کا اتنا خیال رکھتی ہیں۔
مجھے اندازہ نہیں تھا۔۔۔میرے اور ابو کے علاوہ کوئی اس کا خیال نہیں کرتا۔
سویرا مجھے بالکل چھوٹی بہن کی طرح لگتی ہے میں نے اسے کبھی کزن نہیں سمجھا بلکہ اپنی بہنوں سے بڑھ کر اسے محبت دی ہے۔
امی کا رویہ شروع سے اس کے ساتھ غلط ہے پتہ نہیں کیوں۔۔۔ابو ان کو سمجھا سمجھا کر تھک گئے ہیں لیکن انہیں کوئی فرق ہی نہی پڑتا۔
دادی جان کی وفات کے بعد سویرا بلکل اکیلی ہو گئی تھی۔۔۔جہاں تک ہو سکتا ہے میں اس کی مدد کرتا ہوں اور اس کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ماں تو ماں ہی ہوتی ہے۔
بہت بار کوشش کی ہے اس کو پڑھانے کی لیکن امی ہر بار منع کر دیتی تھی اور اسے سکول پڑھنے کی اجازت نہیں ملی کہ یہ بول نہی سکتی،پڑھ کر کیا کرے گی وغیرہ وغیرہ۔
زوہیب نے مریم کی طرف دیکھا۔۔۔وہ سویرا کو زبردستی جوس پلا رہی تھی۔
میں بہت خوش ہوں کہ اسے بڑی بہن جیسی ٹیچر ملی ہیں اور آپ نے اسے اپنی بیٹی کا رتبہ دیا۔۔۔آپ دونوں کی سویرا کے لیے محبت دیکھ کر میرے دل میں آپ لوگوں کے لیے عزت مزید بڑھ گئی ہے۔
سمجھ میں نہیں آ رہا کس طرح آپ لوگوں کا شکریہ ادا کروں۔
شکریہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بیٹا۔۔۔میں آپ کی مجبوریاں اچھی طرح سمجھ سکتی ہوں۔
اور جہاں تک آپ کی امی کی بات ہے۔۔۔ان کا رویہ سویرا کے ساتھ کیسا ہے یہ میں نے پہلی ملاقات میں ہی دیکھ لیا تھا۔
بہرحال۔۔۔کوئی بات نہیں۔۔۔یہ بچی بے زبان ہے اس میں اس کا اپنا تو کوئی قصور نہیں ہے۔
اور بول نہی سکتی تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس پڑھایا نا جائے۔
بہت ظلم ہوا اس کے ساتھ لیکن اب مزید ظلم نہی ہونے دیں گے ہم۔۔۔پڑھنا اس کا حق ہے اور جہاں تک ہو سکے گا مریم اسے پڑھائے گی۔
آپ بے فکر ہو کر گھر جائیں بیٹا۔۔۔یہ سمجھیں کہ یہ اپنے گھر میں ہے۔
جزاک اللہ۔۔۔ دعاؤں میں یاد رکھئے گا آنٹی جی اور کسی بھی چیز کی ضرورت ہو مجھے اطلاع کر دیجئیے گا،خدا حافظ۔
زوہیب ایک نظر سویرا کو دیکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
مریم نے سویرا کو جوس پلایا اور زبردستی میڈیسن کھلائی۔
ماما آپ اس کے کھچڑی بنا دیں گی؟
پلیز۔۔۔
مریم معصوم سی شکل بناتے ہوئے بولی۔
جی بیٹا ضرور۔۔۔شہلا بیگم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
Thank you so much mama jani
شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے مریم۔۔۔میں جانتی ہوں آپ کو سویرا سے کتنی محبت ہے۔فکر نہی کرو میں تھوڑی دیر میں کھچڑی بنا کر لاتی ہوں۔
ویسے بھی میں کھانا بنانے کی تیاری کر رہی تھی۔جاتی ہوں پہلے سویرا کے لیے کھچڑی بناتی ہوں اور پھر کھانا بناتی ہوں۔
ٹھیک ہے ماما۔۔۔مریم مسکراتے ہوئے بولی۔
شہلا بیگم کمرے سے باہر نکل گئیں اور مریم دوسرے کمرے سے اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے صوفے پر بیٹھ گئی۔
______________
زوہیب نے گھر پہنچ کر طارق صاحب کو دوبارہ کال کی۔۔۔اسلام و علیکم۔
وعلیکم اسلام۔۔۔آ گئے گھر؟
سویرا کو چھوڑ آئے؟
طارق صاحب مصروف سے بولے۔
جی ابو میں گھر آ گیا ہوں۔۔۔جی سویرا ادھر ہی ہے۔
ابو یہ سب ٹھیک ہے کیا؟
میرا مطلب ہے انجان لوگوں پر اتنی جلدی بھروسہ کرنا مجھے کچھ ٹھیک نہی لگ رہا۔
میں اس وقت آنٹی کے سامنے کچھ کہہ نہیں سکا لیکن مجھے سویرا کو وہاں چھوڑنا بلکل مناسب نہیں لگا۔
کچھ دن ہوئے ہیں ان کو یہاں شفٹ ہوئے اور ان پر اتنا بھروسہ۔۔۔کہی کچھ غلط نہ ہو جائے۔
فکر مت کرو زوہیب۔۔۔اچھی فیملی ہے۔ہماری سویرا وہاں محفوظ ہے۔
اپنے دل و دماغ سے یہ وہم نکال دو کہ ہماری سویرا وہاں غیر محفوظ ہے۔
بہت اچھے لوگ ہیں۔۔۔عزت کرنے والے اور خاندانی بھی۔
جی ابو جی۔۔۔وہ لوگ اچھے ہیں بس میرا دل نہی مان رہا تھا سویرا کو وہاں اکیلا چھوڑنے کے لیے۔
کچھ نہیں ہوتا زوہیب۔۔۔اپنی ماں کو کال کر کے لازمی بتا دینا بیٹا۔میں زرا مصروف ہوں،بعد میں بات کرتے ہیں۔
چلیں ٹھیک ہے ابو جیسا آپ کو بہتر لگے۔۔۔میں تھوڑا پریشان تھا اسی لیے آپ کو دوبارہ کال کر دی۔
چلیں ٹھیک ہے آپ کریں کام۔۔۔خدا حافظ۔
خدا حافظ۔۔۔طارق صاحب نے کال کاٹ دی۔
زوہیب نے گہری سانس لی اور مریم کا نمبر سیو کیا۔۔۔تھوڑی دیر تک میسیج کروں گا۔
پہلے امی کو کال کر کے بتا دوں۔۔۔پتہ نہی ان کا کیا ری ایکشن ہو گا۔
خیر ابو نے کہا ہے تو بتانا تو پڑے گا۔
زوہیب کافی دیر تک ان کا نمبر ڈائل کرتا رہا لیکن انہوں نے کام پک ہی نہی کی۔۔۔آخر کار زوہیب نے واٹس ایپ پر ایک وائس میسیج بھیج کر موبائل لاک کر دیا۔
______________
آدھے گھنٹے بعد شہلا بیگم کچھڑی بنا کر دے گئیں۔
مریم نے بہت کوشش کی سویرا کو کھچڑی کھلانے کی مگر اس نے بہ مشکل دو چار چمچ ہی کھائے اور لیٹ گئی۔
وہ دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھی۔
مریم بھی وہی صوفے سے سر ٹکائے بیٹھی رہی اسے پتہ ہی نہیں چلا کب اس کی آنکھ لگ گئی۔
مریم کی آنکھ کھلی تو یوسف صوفے کی دوسری سائیڈ پر بیٹھا اسے گھور رہا تھا۔۔۔کھل گئی آپ کی آنکھ؟
ہاں۔۔۔میرا مطلب ہے جی،تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
Really…Are you serious?
آپ میرے کمرے میں بیٹھ کر مجھ سے پوچھ رہی ہیں کہ میں یہاں کیا کر رہا ہوں؟
حیرت ہو رہی ہے مجھے آپی۔۔۔
تم اوپر کب آئے؟
ماما نے تمہیں روکا نہی اوپر آنے سے؟
مریم کے سوالات پر یوسف نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔کیا مطلب ہے آپ کا آپی؟
ماما مجھے کیوں روکیں گی بھلا؟
گھر میں کوئی مہمان آیا ہے کیا؟
یہ میرے بیڈ پر کون سو رہا ہے؟
یوسف نے ایک نظر بیڈ پر سوئے ہوئے وجود کو دیکھا۔۔۔سویرا کمبل میں خود کو چھپائے سو رہی تھی۔
ہاں مہمان ہی سمجھ لو۔۔۔ماما نے بتایا نہی تمہیں؟
نہی۔۔۔ماما نماز پڑھ رہی تھی تو میں سیدھا اوپر ہی آ گیا۔
کون ہے یہ؟
یوسف تھوڑا مدھم اور میں بولا۔
باہر آؤ بتاتی ہوں تمہیں۔۔۔مریم اسے بازو سے کھینچتی ہوئی باہر لائی اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔
سویرا ہے۔۔۔
What?
سویرا۔۔۔اور وہ میرے کمرے میں کیوں ہے؟
آپ نے اسے میرے بیڈ پر کس کی اجازت سے لٹایا ہے؟
یوسف حیرت زدہ سا سوال پر سوال کرتا چلا گیا۔
یوسف آہستہ بولو پلیز۔۔۔اس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی۔ایمرجنسی میں اسے یہی لٹا دیا ہم نے۔
ایک رات کی بات ہے صبح چلی جائے گی بیچاری۔
بیچاری۔۔۔یوسف لفظ بیچاری کو تھوڑا کھینچتے ہوئے بولا۔
سمجھنے کی کوشش کرو یوسف۔۔۔مریم التجائیہ انداز میں بولی۔
آپ لوگ اس بیچاری کو پرماننٹ یہی کیوں نہیں رکھ لیتے۔۔۔ایسا کریں یہ گھر ہی اس کے نام کر دیں۔
آج تو آپ لوگوں نے حد ہی کر دی ہے آپی۔
I mean…
اگر آپ نے اسے ادھر رکھنا ہی تھا تو اپنے کمرے میں لے جاتی آپ۔۔۔میرے کمرے میں ٹھرانے کی کیا ضرورت تھی؟
اس کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تھی یوسف۔۔۔گر رہی تھی بے چاری،بے ہوش ہو رہی تھی۔
اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی۔مجھے جلدی میں تمہارے کمرے کا خیال آیا تو لے آئی اسے یہاں۔
اب وہ سو رہی ہے اور ایسی حالت میں اسے جگانا مناسب نہیں ہے۔
ایسا کرو تم آج رات میرے کمرے میں سو جاو۔۔۔پلیز۔
Try to Understand please it’s a request
کیا ہو سکتا ہے اب آپی؟
Whatever…
میرا ٹریک سوٹ لا دیں اندر سے پلیز۔۔۔مجھے جم جانا ہے۔
I’m Already late
میں ابھی لائی۔۔۔مریم جلدی سے کمرے میں گئی اور اس کے کپڑے لا دیے۔
اب میں چینج کہاں کروں؟
بتائیں مجھے۔۔۔؟
پہلے ہی دیر ہو گئی ہے مجھے۔۔۔باہر کتنی سردی ہے کچھ اندازہ ہے آپ کو؟
سکون سے میرے کمرے پر قبضہ جمائے بیٹھی ہیں۔
سوچا تھا گھر جا کر آرام سے بیٹھوں گا لیکن نہیں یہاں تو سب الٹ ہوا پڑا ہے۔
یوسف غصے سے تپ چکا تھا۔
اگر اتنی سردی لگ رہی ہے تو نا جاؤ باہر۔۔۔جم جانا اتنا ضروری تو نہی ہے۔
خوامخواہ خود کو پریشان کیوں کر رہے ہو؟
چینج کرنا ہے تو دوسرے کمرے میں چلے جاو۔۔۔وہاں بھی واش روم ہے شاید۔۔۔ایسے ری ایکٹ کر رہے ہو جیسے میں نے تمہاری پراپرٹی ہڑپ لی ہو۔
ایک رات کی بات ہے ایڈجسٹ کر لو،صبح تمہارے اٹھنے سے پہلے چلی جائے گی وہ۔
Ok…Ok…I am trying
یوسف سامنے والے کمرے میں چلا گیا جہاں سویرا پڑھتی ہے۔مریم کو دیکھتے ہوئے غصے سے کمرے کا دروازہ بند کیا۔
مریم افسوس میں سر ہلاتی ہوئی دوبارہ کمرے میں چلی گئی۔
اف۔۔۔اتنا ٹائم گزر گیا اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔
بابا بھی آ گئے ہو گے۔۔۔یہ ڈرامہ جائے تو جاتی ہوں نیچے اور بھوک بھی بہت لگ رہی ہے۔
کچھ دیر بعد دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تو مریم نے سکھ کا سانس لیا اور نیچے آ گئی۔
سب ٹی وی لاونج میں موجود تھے سوائے یوسف کے۔
اسلام و علیکم بابا جان۔۔۔مریم اپنے بابا کو سلام کرتے ہوئے ان کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بیٹھ گئی۔
وعلیکم اسلام۔۔۔کیسی ہے میری گڑیا؟
ٹھیک ہوں بابا جانی۔۔۔بس سویرا کی وجہ سے تھوڑی پریشان ہوں۔
Don’t worry she will be fine InshaAllah
انشاء اللہ۔۔۔آمین۔
آپ نے کھانا کھا لیا؟
جی بیٹا ہم نے تو کھانا کھا لیا ہے بس آپ کا انتظار کر رہی تھیں آپ کی ماما اور بھائی نے تو دیر سے کھانا ہے،ابھی جناب جم گئے ہیں۔
ہممم۔۔۔ویسے آپ کا یہ شہزادہ آج کل کچھ زیادہ ہی غصہ دکھا رہا ہے بابا جان۔
تھوڑا کنٹرول کریں اسے ورنہ میرے ساتھ لڑائی ہو جائے گی اس کی۔
ماما کھانا لا دیں پلیز۔۔۔بہت بھوک لگی ہے۔
کوئی بات نہیں آپ سمجھا دیا کرو پیار سے۔۔۔چھوٹا بھائی ہے آپ کا اگر آپ ہی جھگڑنے بیٹھ جاؤ گی تو کون سمجھائے گا اسے۔
میرا بھی کھانا لا دیں ماما۔۔۔یوسف ٹی وی لاؤنج میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔
جم گئے تھے ناں آپ۔۔۔اتنی جلدی واپس کیسے آ گئے؟
مریم پریشان سی بولی۔
گیا تھا لیکن دوسری گلی تک پہنچتے ہی بائیک پنکچر ہو گئی تو میں راستے سے ہی واپس آ گیا۔
چلو یہ تو اچھا ہو گیا۔۔۔ویسے بھی بہت سردی لگ رہی تھی آپ کو۔
جب سے اس گھر میں آیا ہوں کچھ اچھا ہوا کب ہے میرے ساتھ؟
جب دیکھو کوئی نیا ایشو تیار ہوتا ہے۔
اوہو۔۔۔اتنا غصہ٫کیا ہو گیا؟
شہلا بیگم کھانے کی ٹرے میز پر رکھتی ہوئی بولی۔
چھوڑیں ماما۔۔۔بھوک بہت لگی ہے بس کھانا دے دیں مجھے۔
ویسے ماما اور بابا تمہاری تعریفیں کرتے نہی رکھتے کہ ہمارا بیٹا بہت فرمانبردار ہے لیکن حقیقت میں یہ ہے ان کا بیٹا۔۔۔سڑیل۔
دیکھیں لیں بابا جان آپی نے مجھے آپ کے سامنے سڑیل بولا اور آپ بھی ہنس رہے ہیں۔
پھر جب میں نے انہیں کچھ کہا تو آپ فوراً آپی کی سائیڈ لیتے ہیں۔
That’s not fair
کل کو جب آپ کی آپی کی شادی ہو جائے گی تو سب سے زیادہ آپ نے مس کرنا ہے انہیں دیکھ لینا بیٹے۔
پتہ نہیں کب وہ دن آئے گا۔۔۔یوسف گہری سانس لیتے ہوئے بولا۔
میں تو انتظار میں ہوں کہ کب وہ دن آئے اور میں سکون سے اس گھر میں رہ سکوں۔
اچھا جی۔۔۔مریم منہ پھلائے بیٹھ گئی۔
دیکھا اب آپ لوگوں نے۔۔۔؟
اپنی باری کیسے منہ بنا لیا۔۔۔یوسف ہنستے ہوئے بولا۔
یہ لیں کھانا کھائیں۔۔۔چلیں دونوں ساتھ کھاتے ہیں۔۔۔یوسف نے کھانے کی ٹرے اٹھا کر مریم کے پاس لے آیا اور اس کی اس حرکت سے مریم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
شہلا بیگم نے بھی شوہر کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔
________________
یوسف مریم کے کمرے میں بیٹھا پڑھائی کر رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر اپنے موبائل پر پڑی۔
Ohhh Shittt
میرا موبائل بند پڑا ہے اور مجھے چارج کرنے کی بھی فرصت نہی ملی۔
چارجر اوپر کمرے میں ہے کیا کروں؟
جا کر لے آتا ہوں۔۔۔ویسے بھی آپی سو رہی ہو گی،چپ چاپ جاتا ہوں اور چارجر لے کر واپس آ جاؤں گا۔
اوپر آیا اور لاک گھمایا تو دروازہ کھول گیا۔۔۔شکر ہے لاک نہی لگایا آپی نے۔
کمرے میں سائیڈ ٹیبلز پر رکھے لیمپ جل رہے تھے بس۔
یوسف بنا کسی شور کے احتیاط سے آگے بڑھا اور سائیڈ ٹیبل کے دراز میں سے چارجر نکالا اور دراز کو بند کرتے ہوئے جانے کے لیے پلٹا ہی تھا کہ سامنے بیٹھے وجود کو دیکھ کر وہی کھڑا رہ گیا۔
جاری ہے۔۔۔
