Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488

Dill e Zaar by Khanzadi NovelR50488 Dill e Zaar (Episode 21)

87.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Zaar (Episode 21)

Dill e Zaar by Khanzadi

طارق صاحب غصے میں آگے بڑھے اور جالی والا دروازہ کھولتے ہوئے گیراج کی طرف بڑھے۔

گیٹ بند کرتی ہوئی بریرہ نے پلٹ کر باپ کو دیکھا اور اس کے ہاتھ پاؤں تو جیسے سن ہی ہو گئی۔

نبیرہ کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی وہ گاڑی پارک کرتے ہوئے ڈرتے ڈرتے گاڑی سے باہر نکل کر کھڑی ہو گئی۔۔۔ابو آپ۔۔۔اتنی صبح یہاں؟

اس سے پہلے کہ اس کی بات مکمل ہوتی طارق صاحب نے اس کے چہرے پر زور دار تھپڑ لگایا اور پھر بریرہ کی طرف بڑھے۔

اسے بھی تھپڑ لگاتے ہوئے بازو سے گھسیٹتے ہوئے اندر چلے گئے۔

نبیرہ بھی منہ پر ہاتھ رکھے حیرت زدہ سی اندر آ گئی۔

زوہیب نے دونوں کو افسوس بھری نظروں سے دیکھا اور افسردگی میں سر نفی میں ہلایا۔

کہاں گئی تھی تم دونوں؟

طارق صاحب کی گرجدار آواز گھر میں گونجی۔

دونوں بہنیں سر جھکائے چپ کھڑی رہی۔۔۔دونوں نے ہی جواب نہی دیا۔

میں نے پوچھا کہاں تھی تم دونوں پوری رات؟

بولو گی یا لگاؤں ایک اور۔۔۔

ابو پلیز۔۔۔طارق صاحب کا ہاتھ پھر سے اٹھا لیکن زوہیب درمیان میں آ گیا۔

ابو ہم لوگ دوست کی برتھڈے پارٹی پر گئی تھیں۔۔۔رات کو لیٹ ہو گئی تھیں تو وہی رک گئی تھیں۔

آخر کار بریرہ نے جواب دے ہی دیا۔

کون دوست؟

یہ دوست کوئی لڑکی تھی یا لڑکا؟

باپ کے سوال پر دونوں نے حیرت زدہ انداز میں ایک دوسرے کو دیکھا۔

کیا فرق پڑتا ہے ابو؟

لڑکا ہو یا لڑکی دوست تو دوست ہوتا ہے۔۔۔جواب نبیرہ کی طرف سے آیا۔

بے شرم۔۔۔طارق صاحب غصے سے اس کی طرف بڑھے لیکن کوثر بیگم سامنے آ گئیں۔۔۔کیا ہو گیا ہے کیوں بچیوں پر ظلم کر رہے ہیں صبح؟

اوہ۔۔۔تو آنکھ کھل گئی آپ کی؟

طارق صاحب طنزیہ انداز میں بولے۔

ہوا کیا ہے کچھ بتائیں تو سہی۔۔۔طنز کرنے کا کیا مقصد ہے؟

ہوا کیا ہے یہ مجھ سے پوچھ رہی ہیں آپ؟

زرا حلیہ تو دیکھیں اپنی بیٹیوں کا۔۔۔پوری رات اس حلیے میں گھر سے باہر رہی ہیں یہ دونوں۔

اس بات کا مطلب سمجھتی ہیں آپ؟

کوثر بیگم نے پلٹ کر دونوں کی طرف دیکھا۔۔۔اور سر جھکا کر کھڑی ہو گئی۔

ان کی سمجھ میں ساری بات آ چکی تھی۔۔۔کتنا سمجھایا تھا ان دونوں کو۔۔۔ذلیل کروا کر رکھ دیا ہے مجھے باپ کے سامنے۔

وہ دل ہی دل میں دونوں کو کوس رہی تھیں۔

اب سر جھکا کر کھڑے ہونے کا کیا فائدہ؟

اگر شروع دن سے آپ نے ان دونوں پر کنٹرول رکھا ہوتا تو مجھے آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا۔

کنٹرول تو آپ کی بھتیجی پر بھی بہت تھا میرا۔۔۔وہ بھی منہ کالا کروا آئی تھی،یہ تو صرف پارٹی اٹینڈ کر کے آ رہی ہیں۔

آپ کی بھتیجی نے تو ہمیں کہی منہ دکھانے کے قابل ہی نہیں چھوڑا۔۔۔اس کے لیے تو آج بھی ہمدردی ہے آپ کے دل میں۔

اپنی بیٹیوں کے لیے اتنی نفرت کیوں؟

میں نے اجازت دی تھی انہیں جانے کی اور میرے ہی کہنے پر یہ رات رکی تھیں وہاں۔

کوثر بیگم غصے سے چلائی۔

وہ ہر بار یہی کرتی تھیں۔۔۔طارق صاحب کو سویرا کا طعنہ دے کر خاموش کروانا ان کی عادت بن چکی تھی۔

طارق صاحب بے بس سے صوفے پر بیٹھ گئے۔

ایک نے غلطی کی ہے اس کا مطلب سب کو غلطی کرنے کی اجازت دے دوں میں؟

ایسا نہیں چلے گا۔۔۔جتنی جلدی ہو سکے ان دونوں کے رشتے دیکھیں اور رخصت کریں انہیں۔

میں مزید بدنامی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔اور سکت نہی ہے میرے اندر۔

میری بیٹیاں ایسی نہی ہیں۔۔۔مجھے اپنی بیٹیوں پر پورا یقین ہے،آپ میری بچیوں پر فضول پابندیاں لگانی چھوڑ دیں طارق صاحب۔

کوثر بیگم غرور بھرے انداز میں بولی۔

اس سے پہلے کہ طارق صاحب انہیں جواب دیتے گیٹ کھلنے کی آواز سنائی دی اور سب کا دھیان اس طرف لگ گیا۔

شعیب جالی والا دروازہ کھولتے ہوئے لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔

سامنے باپ کو بیٹھے دیکھ کر حوش میں آیا اور ایک نظر اردگرد کے منظر پر ڈالی۔

اسلام و علیکم۔۔ابو آپ کب آئے؟

خود کو ریلیکس ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔

شہلا بیگم نے آنکھیں بند کر لی۔۔۔وہ مزید کسی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتی تھیں۔

وعلیکم اسلام۔۔۔اب آپ کہاں سے تشریف لا رہے ہیں جناب؟

واک پر گیا تھا یہ۔۔۔جواب کوثر بیگم نے دیا۔

جججی ابو۔۔۔میں واک پر گیا تھا۔

اچھا۔۔۔طارق صاحب صوفے سے اٹھ کر اس کے پاس آئے اور اس کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ لگایا۔۔۔واک پر شراب ساتھ لے کر گئے ہو گے؟

شعیب نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔اس کا جھوٹ پکڑا جا چکا تھا۔

جیسے ہی تم دروازے سے اندر داخل ہوئے ہو پورے گھر میں تمہاری بدبو پھیل گئی ہے اور تم کہہ رہے ہو واک سے آ رہے ہو؟

تم سب نے مل کر مجھے بے وقوف سمجھ رکھا ہے کیا؟

یہ ہے آپ کی تربیت؟

بیٹیاں پوری رات باہر گزار کر آ رہی ہیں اور بیٹا شراب کے نشے میں دھند گھر میں داخل ہو رہا ہے۔

اور پھر مجھ پر الزام لگاتی ہیں آپ کہ میں بے فضول پابندیاں لگاتا ہوں ان پر۔

طارق صاحب آج کوئی موقع نہیں چھوڑنے والے تھے۔

کوثر بیگم نے خاموش رہنے پر اکتفا کیا اور شعیب کو وہاں سے جانے کا اشارہ دیا۔

شعیب کے وہاں سے نکلتے ہی بریرہ اور نبیرہ بھی اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔

ہے کوئی جواب آپ کے پاس؟

طارق صاحب چلاتے ہوئے کوثر بیگم کی طرف بڑھے۔

نہی ہے میرے پاس کوئی جواب۔۔۔وہ چلائی۔

میں اکیلی کیا کیا دیکھوں؟

یہ سب آپ کی لاپرواہیوں کا نتیجہ ہے۔۔۔آپ نے کبھی اپنی اولاد کی طرف دھیان دیا ہی نہی۔۔۔آپ کی توجہ کا مرکز کا تو ہمیشہ سویرا ہی رہی ہے،بھگتیں اب۔

میں کیا کر سکتی ہوں؟

کوثر بیگم انتہائی ڈھٹائی سے بولی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔

ابو آپ بیٹھیں۔۔۔چھوڑیں سب کو،ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔

زوہیب نے باپ کو زبردستی صوفے پر بٹھایا ان کے لیے پانی لینے کچن میں چلا گیا۔

یہ تو روز کا تماشہ ہے ابو۔۔۔کوئی نئی بات تو نہی ہے۔

میں آپ کو اس لیے نہیں بتاتا کہ آپ پریشان ہو گے۔

پانی پئیں آپ۔۔۔صبح صبح ان کے پیچھے گلہ پھاڑنے کا کوئی فائدہ نہی ہے۔

یہ تینوں ہاتھ سے نکل چکے ہیں،امی کی ڈھیل کا نتیجہ ہے یہ۔

آپ یہ بتائیں کہ آپ اچانک یہاں کیسے؟

مجھے کال کر دیتے آپ۔۔۔میں آپ کو بس اسٹیشن سے پک کر لیتا۔

طارق صاحب نے پانی کا گلاس ختم کرتے ہوئے میز پر رکھا اور گہری سانس لیتے ہوئے زوہیب کی طرف دیکھا۔

لگتا ہے تمہیں کچھ نہی پتہ۔۔۔کل تمہارے تایا ابو آئے تھے اور سویرا کو زبردستی اپنے ساتھ دبئی لے گئے ہیں۔

کیا؟

اور مجھے کسی نے بتایا تک نہیں۔

تمہیں کس نے بتانا تھا بیٹا؟

تم گھر لیٹ آتے ہو،بتانا کس نے تھا،یہاں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کوئی جیے یا مرے۔

یوسف نے اپنا برا حال کیا ہوا ہے۔۔۔ساجد صاحب کی کال آئی تھی مجھے۔

میں کیا کروں؟

مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔

انہیں اپنے بیٹے کی فکر لگی ہوئی ہے کہ کہی وہ خود کو کچھ کر نا لے۔۔۔کل سے یوسف نے ایک ہی ضد لگائی ہوئی ہے کہ اسے ہر حال میں سویرا چاہیے بس۔

اب میں کہاں سے لاؤں سویرا کو؟

تو آپ تایا ابو سے بات کریں ناں ابو۔۔۔انہیں ایسا نہی کرنا چاہیے تھا۔

جو بھی ہے اب قانونی طور پر سویرا یوسف کی بیوی ہے اور اسے پورا حق ہے یہاں رہنے کا۔

کیسے بات کروں میں بیٹا؟

تمہارے تایا ابو نے یہاں آنے سے پہلے نمبر چینج کر لیا اور وہ کسی سے رابطہ نہی رکھنا چاہتے۔

بھابھی سے بات ہوئی ہے میری وہ بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے رہی۔

کہہ رہی ہیں وہ جو کر رہے ہیں انہیں کرنے دیں۔

اوہ۔۔۔یہ تو غلط ہے ابو،تایا ابو کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

سویرا کا تو آئی ڈی کارڈ تک نہیں ہے۔میرا نہی خیال کہ وہ اتنی جلدی دبئی واپس چلے جائیں گے۔

ہمیں اردگرد کے ہوٹلز میں دیکھنا چاہیے اور نادرا کے دفاتر میں بھی۔۔۔ہو سکتا ہے وہ مل جائیں۔

ہاں تمہاری بات بھی سہی ہے زوہیب۔۔۔ایسا کرو تم یوسف سے ملو اور اس کے ساتھ ڈسکس کرو۔

دونوں مل کر کوشش کرو اور ہو سکے تو اپنے دوستوں کو بھی ساتھ ملا لو۔

کوشش کرو معاملہ پولیس تک نا جائے۔۔۔یوسف تو بہت تپا ہوا لیکن میں چاہتا ہوں کہ معاملہ بات چیت سے حل ہو جائے۔

ایک بار وہ لوگ یہاں سے چلے گئے پھر پولیس بھی کچھ نہی کر سکے گی اور بدنامی الگ ہو گی۔

پتہ تو ہے کیسے کیسے سوال ہو گے ہم سے۔۔۔یوسف سے ملو تم جتنی جلدی ہو سکے۔

جی ابو۔۔۔میں بات کرتا ہوں اس سے،میرے پاس نمبر ہے اس کا۔

آپ اپنے کمرے میں جائیں کچھ دیر آرام کر لیں پھر ناشتہ کرنے کے بعد ہم چلتے ہیں ان کے گھر۔

کچھ دیر بعد دونوں باپ بیٹا یوسف سے ملنے اس کے گھر پہنچے اور اسے تسلی دی کہ کچھ وقت صبر کرے۔

دیکھو بیٹا اس وقت تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔۔۔سوائے صبر کے۔

ایک بار ثاقب بھائی سویرا کو دبئی لے جائے پھر ہی اس سے رابطہ ممکن ہو سکتا ہے۔

طارق صاحب یوسف کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے جھوٹی تسلیاں دے رہے تھے۔

یوسف خاموش بیٹھا ان کی ساری باتیں سن رہا تھا۔

بھائی صاحب کو اس طرح کرنا نہیں چاہیے تھا ویسے طارق صاحب۔۔۔آخر سویرا کو یہاں کونسی مشکل پیش آ رہی تھی؟

بیٹی سے بڑھ کر اہمیت دی تھی ہم سب نے سویرا کو۔۔۔حالانکہ شروع میں میری بیگم نے سویرا سے لاتعلقی برتی تھی لیکن بیٹے کی خوشی کی خاطر وہ سویرا کو قبول کر چکی تھیں۔

وہ ایک بار ہم سے بات تو کرتے۔۔۔ہم سے نا سہی سویرا کی مرضی تو جاننے کی کوشش کرتے۔

انہوں نے تو ہمیں سمجھنے سمجھانے کا موقع ہی نہیں دیا۔۔۔ہوا کی طرح آئے اور سویرا کو ساتھ لے کر غائب ہو گئے۔

ساجد صاحب شکوانہ انداز میں بولے۔

طارق صاحب نے سر جھکا لیا۔۔۔آپ سہی کہہ رہے ہیں بھائی صاحب۔۔۔آپ کا شکوہ کرنا سہی ہے لیکن میں بھی مجبور ہوں۔

سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں اس وقت۔۔۔جتنے حیران آپ ہیں اتنے ہی حیران ہم بھی ہیں۔

ثاقب بھائی نے ایک بار بھی مجھ سے یا گھر کے کسی دوسرے فرد سے رابطہ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

نہی انکل۔۔۔یہاں آپ غلط ہیں۔

یوسف کے لیے مزید خاموش نا رہا گیا۔

وہ ایسے ہی ہمارے گھر نہی آئے۔۔۔اس کے پیچھے ان کی پوری پلاننگ تھی۔

آپ کے گھر والے اس پلاننگ میں شامل ہیں۔۔۔ورنہ ایسے کیسے وہ دبئی سے سیدھے ہمارے گھر آ گئے؟

اتنے سالوں میں آج تک وہ پاکستان واپس آئے ہی نہیں۔۔۔آج تک سویرا کو دیکھا تک نہی اور اب اچانک انہیں سویرا کا خیال کیسے آ گیا؟

وہ ڈائریکٹ ہمارے گھر آئے اور بغیر کسی جانچ پڑتال کے ایسے ہی سویرا کو اپنے ساتھ لے گئے؟

ہرگز نہی۔۔۔!

انہیں ہمارے گھر کا ایڈریس پتہ تھا اور یہ بھی پتہ تھا کہ کس وقت گھر کا کونسا فرد گھر پر ہو گا۔

انہیں اس وقت گھر میں سویرا اور ماما کے گھر میں اکیلے موجود ہونے کی معلومات مل رہی تھیں۔

اور آپ ہمیں یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ بغیر کسی اطلاع کے آئے تھے؟

آپ کے گھر میں بہت کچھ ایسا ہے جو آپ کی نظروں سے اوجھل ہے۔۔۔اگر آپ نے اپنے گھر پر دھیان دیا ہوتا تو آج سویرا ان حالات میں نہ ہوتی بلکہ کسی کالج یا یونیورسٹی کی طالبہ ہوتی۔

مگر افسوس۔۔۔آپ کو ابھی بھی یہی لگتا ہے کہ سب کچھ اتفاقاً ہوا ہے،بلکل ویسے ہی جیسے آپ نے یہ مان لیا تھا کہ سویرا کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والا میں تھا۔

یوسف۔۔۔!!

ساجد صاحب نے اسے مخاطب کیا اور چپ رہنے کا اشارہ دیا۔

نہی بابا جان آج نہی۔۔۔انہیں سچ پتہ ہونا چاہیے کہ یہ جن چیزوں کو اتفاق سمجھتے ہیں وہ اتفاق نہی ہیں۔

انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ان کی بھتیجی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی اور نہیں ان کا اپنا بیٹا ہے۔

یوسف کی بات پر طارق صاحب چونک گئے۔۔۔میرا بیٹا؟

تم کہنا کیا چاہتے ہو٫کھل کر کہو۔

طارق صاحب کی آواز میں غصہ اور سختی تھی۔

جی۔۔۔بلکل ٹھیک سنا ہے آپ نے انکل۔۔۔آپ کا بیٹا شعیب،سویرا کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والا وہی تھا مگر افسوس۔۔۔آپ کی نظر آج تک اس پر گئی ہی نہی۔

آپ صرف اس کہانی پر یقین کرتے ہیں جو آپ کی بیوی آپ کو سناتی ہیں۔۔۔اپنے بیٹے کی غلطی کو چھپانے کے لیے آپ کی بیوی نے بڑی آسانی سے سارا الزام مجھ پر ڈال دیا اور ہمیشہ کی طرح آپ نے یقین کر لیا۔

تم میرے بیٹے پر بہت بڑا الزام لگا رہے ہو لڑکے۔۔۔تمہیں پتہ بھی ہے تم کیا کہہ رہے ہو؟

جی بلکل۔۔۔میں اپنے پورے ہوش و حواس میں ہوں انکل۔

یوسف کے جواب پر طارق نے زوہیب کی طرف دیکھا اور جانے کے لیے اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔۔۔میرا خیال ہے مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔

میں یہاں آیا تھا تاکہ تمہاری دلجوئی کر سکوں مگر تم تو الٹا میرے بیٹے پر ہی الزام تراشی کرنا شروع ہو گئے ہو،تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دینا ہی مناسب تھا۔

ہممم۔۔۔یوسف کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔وہ اٹھ کر طارق صاحب کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔۔آپ میں سچ سننے کی ہمت ہی نہی ہے۔

آپ کو اپنی بیوی اور بیٹے پر بہت اعتماد ہے۔۔۔اچھی بات کریں لیکن ایک بات یاد رکھئیے گا،جس دن سویرا نے اسے سزا دینے کا فیصلہ کر لیا اس دن آپ شعیب کو نہی بچا سکیں گے۔

میں بس اس انتظار میں تھا کہ سویرا کا آئی ڈی کارڈ بنے اور اسے کسی دوسرے ملک کے جا کر اس کا علاج کروا سکوں تا کہ سارا سچ آپ اس کے زبانی سنیں۔

مگر افسوس۔۔۔میں ہار گیا لیکن میری ہار کو مستقل مت سمجھیے گا،میں سویرا تک خود پہنچ جاؤں گا۔

آپ کے احسان کی ضرورت نہی ہے مجھے۔

تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔جس دن سویرا نے میرے سامنے شعیب کے گناہ کا اعتراف کر لیا اس دن میں خود اسے پھانسی پر لٹکاوں گا،میرا تم سے وعدہ ہے یوسف۔

طارق صاحب یوسف کی طرف پلٹے بغیر بولے اور دروازے کی طرف چل دیے۔

زوہیب اٹھ کر یوسف کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔۔کیا تم مجھے بھی اتنا ہی قصوروار سمجھتے ہو جتنا میرے ابو کو؟

یوسف نے کندھے اچکائے۔۔۔جس کا مطلب تھا ہاں بلکل۔

زوہیب نے سر اثبات میں ہلایا اور سر جھکا لیا۔۔۔مجھے بہت بار شعیب پر شک ہوا تھا لیکن امی اسے بچانے کے لیے درمیان میں آ جاتی تھیں اور مجھے خاموش کروا دیتی تھیں۔

یقیناً اس بار ابو کے ساتھ بھی ایسے ہی کریں گی لیکن میں تمہارے ساتھ ہوں۔

مجھے بھی اس دن کا انتظار ہے جب تم سویرا کو اپنے ساتھ واپس لاؤ گے،اس کا مقدمہ میں خود لڑوں گا ایک بھائی کی حیثیت سے۔

میں چاہتا ہوں شعیب کو سویرا کی آنکھوں کے سامنے سزا دوں تا کہ آئندہ آنے والی نسلوں میں کوئی اور شعیب پیدا نا ہو سکے۔

چاہے اس کے لیے مجھے خود پھانسی کیوں نا چڑھنا پڑے۔

میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔جہاں کہی میری ضرورت محسوس ہو ایک آواز دے دینا،تمہارا بھائی حاضر ہو گا۔

مجھے تم اتنے ہی عزیز ہو جتنی سویرا ہے۔اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا میں تمہاری بیوی کا گناہگار ہوں۔۔۔میں اچھا بھائی ہونے کا فرض نہی نبھا سکا۔

زوہیب آنکھوں سے جھلکتے آنسو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے تیزی میں وہاں سے نکل گیا۔

یوسف نے ایک نظر اپنے بابا کو دیکھا اور ڈرائنگ روم سے نکل کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔

فریش ہونے کے بعد گاڑی کی چابیاں اٹھائی اور پھر سے سویرا کی تلاش میں نکل گیا۔

کبھی کسی ہوٹل تو کبھی کسی ہوٹل۔۔۔صبح سے شام اور شام سے رات ہو چکی تھی مگر سویرا کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

آخر کار رات کو تھکا ہارا بے بس سا گھر میں داخل ہوا۔۔۔جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا مریم اسے زبردستی کچن میں لے گئی اور زبردستی کھانا کھلایا۔

نا چاہتے ہوئے بھی یوسف نے بہن کے ہاتھ سے کھانا کھایا اور خاموشی سے اپنے کمرے میں آ گیا۔

اگلے کئی دنوں تک اس کی یہی روٹین رہی مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔۔۔وہ نہ تو کام پر جا رہا تھا اور نہ ہی یونیورسٹی۔

اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے اس کی زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے سویرا کو ڈھونڈنا۔

اگلے بیس دن بعد سویرا پاکستان سے دبئی پہنچ گئی اور اس دوران شعیب نے بڑے خفیے طریقے سے اپنے دوستوں کے زریعے اپنے تایا کی خوب مدد کی۔

طارق صاحب نے شعیب سے متعلق گھر میں کوئی بات نہیں کی اور نا ہی زوہیب کو ایسا کچھ بھی کرنے کی اجازت دی۔

زوہیب کے اب شعیب کے ساتھ ایک چھت کے نیچے رہنا مشکل ہو چکا تھا اس نے چپ چاپ اپنا ضروری سامان اٹھایا اور ہاسٹل شفٹ ہو گیا۔

طارق صاحب نے اس معاملے میں کوئی دخل اندازی نہی کی۔۔۔وہ خود بغیر کسی ثبوت کے حقیقت کو سمجھنے سے قاصر تھے۔

سویرا کا استقبال بہت انداز میں کیا گیا۔۔۔طارق صاحب کے دونوں بچوں نے سویرا کو دل سے قبول کیا۔

زنیرہ اور عابد سویرا سے دو سال چھوٹے اور جڑواں بہن بھائی تھے۔

سویرا نا چاہتے ہوئے بھی ان کے ساتھ نئی زندگی میں مصروف ہو چکی تھی مگر یوسف کے لیے اس کی تڑپ کبھی ختم نہیں ہوئی۔

اسے یقین تھا کہ ایک دن اس کے بابا اسے خود یوسف کے پاس چھوڑ کر آئیں گے یا پھر شاید یوسف خود اس تک پہنچ جائے گا۔

البتہ دو سال گزر چکے تھے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔

ثاقب کو فالج کا اٹیک ہوا تھا اور وہ بستر سے لگ چکے تھے۔

سویرا پچھلے ایک سال سے ان کی جگہ سٹور سنبھال رہی تھی۔۔۔اس کے سر پر کافی زمہ داریاں آ چکی تھیں۔

وہ اب بے بسی کی زندگی سے کافی آگے نکل چکی تھی۔۔۔یہاں آتے ہی اس کے بابا نے اس کا علاج شروع کروا دیا تھا اور ایک سال کے اندر اندر سویرا کا آپریشن ہوا اور وہ بولنے لگ گئی۔

وہ چاہتی تھی وہ یوسف سے ملے اور یوسف اس کی آواز سنے مگر یہ سب وہ بس سوچ ہی سکتی تھی حقیقت میں شاید ایسا ممکن نہی تھا۔

اس کے پاس کسی کا بھی نمبر نہی تھا اور نا ہی اسے موبائل رکھنے کی اجازت تھی۔

ثاقب صاحب اس سے سٹور کے نمبر پر ہی کانٹیکٹ کرتے تھے۔

ہمیشہ کی طرح آج بھی سویرا اپنے بابا کے دوست اور ان کے بیٹے کے ساتھ جو اس سٹور کے پچاس فیصد پارٹنر تھے۔۔۔سٹور کے بند ہونے کے بعد اپنے گارڈ اور کیشئرز کے ہمراہ پیمنٹس کے حساب و کتاب کروا رہی تھی۔

اسے اتنا نالج تو نہی تھا البتہ سٹور کے کیشیر کافی ایماندار تھے اور گارڈ کی موجودگی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں اسے کبھی کسی قسم کا حادثہ پیش نہیں آیا تھا۔

وہ پوری طرح کیشئرز پر ڈیپینڈ تھی اور اپنے بابا کو ساری ڈیٹیلز ای میل کروا دیتی تھی تا کہ اگر کوئی غلطی ہو تو وہ درست کر سکیں۔

سارا کیش انکل کے حوالے کر دیتی تا کہ وہ صبح اس کے بابا کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیں۔

مسکراتی ہوئی انہیں خدا حافظ بولتے ہوئے اپنا بیگ اٹھائے سٹور سے باہر نکل جاتی اور چپ چاپ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ جاتی۔

گارڈ اسے گھر ڈراپ کرتا اور گاڑی پارک کرنے کے بعد انہی کے گھر میں ٹہر جاتا۔۔۔وہ اس گھر کا ڈرائیور اور گارڈ ہونے کے ساتھ ساتھ زنیرہ اور عابد کا ٹیچر بھی تھا۔

سٹور سے واپسی پر ان دونوں کو پڑھاتا اور اپنے کمرے میں چلا جاتا۔

سویرا بھی گھر آ کر اپنے بابا سے ملنے جاتی ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتی اور انہیں دن بھر کی مصروفیت کا بتانے کے بعد اپنے اور زنیرہ کے مشترکہ کمرے میں سو جاتی۔

اس کے سونے کے بعد زنیرہ کمرے میں آتی اور چپ چاپ سو جاتی۔

ایک رات سویرا کے سٹور پارٹنر انکل کی فیملی ان کے گھر آئی ہوئی تھی سویرا کو عجیب کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا۔

وہ باہر لاونج میں آ کر ٹہلنے آ گئی مگر زاہد اس کے پیچھے وہی آ گیا۔

وہ اس کے انکل کا بیٹا تھا اور سویرا سے عمر میں آٹھ سال بڑا تھا۔

وہ سویرا میں انٹرسٹڈ تھا اور یہ بات سویرا بہت بار محسوس کر چکی تھی مگر ہر بار اس کی باتوں کا کوئی خاص جواب نا دیتی۔۔۔یعنی اسے نظر انداز کر دیتی تھی۔

کیا ہوا تم باہر کیوں آ گئی؟

بس ایسے ہی۔۔۔شاید طبیعت تھوڑی خراب ہے۔

کیا ہوا طبیعت کو۔۔۔؟

اس نے سویرے کے ماتھے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی مگر سویرا دور ہٹ گئی۔۔۔اس کی ضرورت نہی ہے میں ٹھیک ہوں۔

آپ اندر بیٹھیں سب کے ساتھ انجوائے کریں۔۔۔ہماری ملاقات تو روز ہوتی رہتی ہے میرا خیال ہے آپ کو ڈیڈ کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے۔

ان سے ملاقات کر چکا ہوں میں۔۔۔میں تم سے ملنے آیا ہوں سویرا۔

کچھ ضروری بات کرنی تھی تم سے۔۔۔تم ہمیشہ مجھے نظر انداز کیوں کر دیتی ہو؟

وہ اس لیے کیونکہ مجھے کسی نامحرم سے بے تکلفی اچھی نہی لگتی۔

اوہ۔۔۔تو یہ بات ہے۔

سویرا کی بات پر زاہد مسکرا دیا۔

اگر میں محرم بن جاؤں تو؟

سویرا اس کے سوال کے بدلے میں چند لمحے اس کے چہرے کو دیکھتی ہی رہ گئی مگر پھر اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔اس کی انگلی میں پہنی انگوٹھی اس نے زاہد کے سامنے کی۔

میرا محرم کوئی اور ہے اور میں اسی کی امانت ہوں۔۔۔میرا خیال ہے آپ آئیندہ ایسا سوال نہی کریں گے۔

بدلے میں زاہد مسکرا دیا۔۔۔محض ایک انگوٹھی کسی رشتے کی ضمانت نہیں ہوتی سویرا۔

جو ہوا اسے بھول جاؤ۔۔۔وہ سب بس ایک حادثہ تھا اور کچھ نہیں۔۔۔اگر اسے آنا ہوتا تو کب کا آ چکا ہوتا۔

اور اگر وہ آ بھی جاتا تو تمہیں کیا لگتا ہے انکل تمہیں اس کے ساتھ جانے دیں گے؟

ہرگز نہیں۔۔۔میں بس تمہیں اتنا بتانے آیا تھا کہ ڈیڈ انکل سے ہمارے رشتے کے بارے میں بات کرنے آئے ہیں۔

وہ پاکستانی کورٹ سے خلا لے چکے ہیں۔اب تمہیں پوری آزادی ہے شادی کرنے کی۔

وہ زبردستی کا نکاح مسترد ہو چکا ہے۔

میری مانو اس انگوٹھی کو اتار کر پھینک دو کیونکہ کچھ دن بعد اس انگوٹھی کی جگہ میرے نام کی انگوٹھی لے لے گی۔

میں خلا کو نہی مانتی۔۔۔اور جہاں تک بات ہے یوسف کے یہاں آنے کی تو میں اس کا انتظار آخری وقت تک کروں گی لیکن اس کی جگہ کسی اور کو اپنا محرم قبول نہی کروں گی۔

یہ پاکستان نہی ہے جہاں میرے ساتھ زبردستی ہو گی اور میں برداشت کر لوں گی۔

اگر اس بات پر مجھے عدالت بھی جانا پڑا تو میں جاؤں گی۔

سہی کہا آپ نے۔۔۔صرف ایک انگوٹھی کسی رشتے کی ضمانت نہیں ہوتی،میرا دل،میری روح اس رشتے کی ضمانت ہیں اور سب سے بڑھ کر میرا خدا اس رشتے کا گواہ ہے۔

جو رشتہ خدا نے جوڑا ہو وہ خلا نام کا محض ایک کھوکھلا کاغذ ختم نہیں کر سکتا۔

اچانک گاڑی کے ہارن کی آواز پر دونوں گاڑی کی طرف متوجہ ہوئے۔

سویرا ایک نظر گاڑی پر ڈالتے ہوئے زاہد کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔۔۔شاید ڈرائیور زنیرہ اور عابد کا انتظار کر رہا ہے،انہیں اپنے کسی دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں جانا تھا۔

وہ مسکراتی ہوئی اندر چلی گئی اور زاہد بے زار سا گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔

ونڈو پر جھکتے ہوئے گارڈ کو دیکھا۔۔۔تمہیں نظر نہی آ رہا کہ ہم بات کر رہے ہیں۔

ہارن بجانے کا مقصد؟

Sorry sir…

میں کافی دیر سے عابد سر اور زنیرہ میم کا منتظر تھا۔۔۔میں نہی چاہتا تھا کہ آپ یہ سمجھیں کہ میں چھپ کر آپ کی باتیں سن رہا ہوں بس اسی لیے ہارن دینا مناسب سمجھا۔

Nonsense…

زاہد بے زار سا بولتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا۔

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *