Dil E Janaa By Harram Shah Readelle50197 Last Episode 13 Part 4
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode 13 Part 4
تقریباً صبح کے دس بجے عبداللہ اور مرجان عماد کے گھر آئے تھے جہاں باقی سب نے اسکا استقبال کیا تھا۔گل تو ہمیشہ کی طرح اس سے کترائی ہی تھی جبکہ دلاور اور الماس اس سے کافی خوش دلی سے ملے تھے کیونکہ وہ دل سے مرجان کے لیے خوش تھے۔
“ماما۔۔۔۔”
ابھی وہ سب سے مل ہی رہی تھے جب مرجان کے کانوں میں قلب کی آواز پڑی اور وہ بھاگتا ہوا مرجان کے پاس آیا۔مرجان نے اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور اسکا چہرہ محبت سے چومنے لگی۔
عبداللہ نے حسرت سے اپنے بیٹے کی جانب دیکھا جو چور نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“قلب یہ آپ کے بابا ہیں۔۔۔”
مرجان نے قلب کو بتایا تو قلب نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا پھر مرجان کے سینے میں چھپ گیا۔عبداللہ نے اسے مرجان کی باہوں سے لینا چاہا تو پہلے تو قلب کترایا لیکن جب اسکی باہوں کا تحفظ اور اسکے لمس میں محبت محسوس کی تو آنکھیں بڑی کر کے اسے دیکھنے لگا۔
“میں تمہارا بابا ہوں میری جان۔۔۔”
عبداللہ نے نم آنکھوں سے اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوئے کہا جو حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔پھر قلب نے اسکی ناک اپنے چھوٹے سے ہاتھ میں پکڑی۔
“میلا بابا شونا نئیں۔۔۔۔ماما شونی ۔۔۔۔۔”(میرے بابا پیارے نہیں ماما پیاری ہیں)
قلب کی بات سمجھ کر سب لوگ قہقہ لگا کر ہنس دیے اور عبداللہ نے چٹا چٹ اپنے بیٹے کو چوم ڈالا۔کم از کم اسکے بیٹے نے اسے بابا تو کہا تھا۔
جنرل شہیر اور انکی بیوی بھی انکی خوشیوں میں شامل تھے۔سب نے خوشی سے ساتھ مل کر ناشتہ کیا۔اپنی بیٹی کو اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ ہنستا مسکراتا دیکھ الماس نے بے ساختہ اسکی نظر اتاری تھی۔آخر کار مرجان کی تین سال سے مانگی جانے والی دعائیں قبول ہوئی تھیں۔اسکی محبت اسکی خوشیاں اسے مل گئی تھیں۔
عبداللہ جان لٹاتی نظروں سے قلب کو دیکھ رہا تھا جو ہال کے کونے میں یارم کے ساتھ اسکے کھلونوں سے کھیل رہا تھا۔
قلب بار بار یارم کو کیوب کا ٹاور بنا کر دیکھا رہا تھا لیکن یارم اپنے چھوٹے ہاتھوں سے وہ ٹاور بنا نہیں پا رہا تھا۔آخر کار قلب نے غصے سے یارم کو دیکھا اور پھر ایک تھپڑ اسکے منہ پر مار دیا۔
“قلب۔۔۔”
مرجان نے اٹھ کر یارم کو پکڑنا چاہا جو منہ بنا کر رونے لگا تھا لیکن پھر قلب نے ہی یارم کو گلے سے لگا کر پیار کیا۔
“پال چے مالا پال چے۔۔۔۔”(پیار سے مارا پیار سے)
قلب کی بات پر یارم چپ کر کے پھر سے کھیلنے لگا اور وانیا سر جھٹک کر ہنس دی۔
“ڈرامے باز ہیں دونوں۔۔۔”
عبداللہ بھی مسکرا کر عماد کی جانب متوجہ ہو گیا جو اس سے باتیں کر رہا تھا۔کھانے کے بعد امان وہاں پر آیا تو عماد اور عبداللہ اس سے ملنے کے لیے ڈرائنگ روم میں آئے۔سلام دعا کے بعد دونوں امان کے سامنے بیٹھ گئے۔
“سوچا عبداللہ سر کو مبارکباد دے دوں آرمی میں شامل ہونے کے لیے۔”
امان نے بات شروع کی تو عبداللہ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔
“ویسے سر کیا میں بھی آپ دونوں کے ساتھ شامل ہو سکتا ہوں یو نو ایک سیکرٹ ایجنٹ کے طور پر۔۔۔”
امان نے دلچسپی سے پوچھا۔
“تم جو کر رہے ہو ناں بیسٹ کر رہے ہو بس وہی کرتے رہو۔۔۔۔”
عماد نے اسے کہا تو امان نے گہرا سانس لیا۔
“ویسے کیا ہے ناں ایک سپاہی کی زندگی گھر والوں سے دور سب سے دور رہنا یہ بھی نہ پتہ ہونا کہ اپنے مشن سے گھر واپس پہنچیں گے بھی یا نہیں۔۔۔”
امان نے اپنے جزبات ظاہر کیے۔
“نہیں میرے لیے مشکل نہیں کیونکہ میرا ایک اصول ہے۔”
“کیا؟”
عبداللہ نے دلچسپی سے پوچھا۔
“جب فیلمی کے پاس ہو تو سوچو تمہاری کوئی ڈیوٹی نہیں اور جب ڈیوٹی پر ہو تو سوچو تمہاری کوئی فیملی نہیں۔”
عماد نے کندھے اچکا کر کہا تو عبداللہ مسکرا دیا۔
“اچھی سوچ ہے۔”
امان نے دونوں کو مسکرا کر دیکھا اور پھر سیدھا ہو کر بیٹھا۔
“مجھے آپ دونوں سے ایک اور بات کرنی ہے۔”
“ہاں کہو۔۔۔۔”
عماد نے مسکرا کر کہا تو امان اضطراب سے اپنے ہاتھ مسلنے لگا۔
“میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”
عماد اور عبداللہ دونوں کے ماتھے پر بل آئے تھے۔
“تو ہم سے اجازت کیوں مانگ رہے ہو ہم تمہاری گرل فرینڈز تو نہیں ۔۔۔”
عماد کی بات پر عبداللہ ہنس دیا۔
“نہیں آپ سمجھ نہیں رہے سر میں۔۔۔پلیز عبداللہ سر میرا سر مت پھاڑیے گا لیکن وہ۔۔۔۔”
امان نے گہرا سانس لے کر خود میں ہمت پیدا کی اور پھر ایک ہی سانس میں بولا۔
“مجھے گل اچھی لگتی ہے میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں اگر آپ کی اجازت ہو تو۔۔۔”
امان کا انداز ایسا تھا جیسے اپنے سینئیر سے چھٹی مانگ رہا ہو۔عماد اسکے انداز پر ہنس دیا جبکہ عبداللہ نے اسے زرا گھور کر دیکھا۔
“تمہارے ماں باپ ہیں؟”
“جی سر الحمد اللہ۔۔۔”
امان نے فوراً کہا۔حالانکہ عبداللہ رینک میں امان سے کم تھا لیکن پھر بھی امان کا اسے سر کہنا اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا۔
“تو انہیں ہمارے گھر بھیجو رشتے کے لیے پھر کرتے ہیں تمہارا کچھ ۔۔۔۔”
امان کا اس بات پر چہرہ خوشی سے دمک اٹھا۔
“تھینک یو سر تھینک یو سو مچ وعدہ کرتا ہوں اسکا جان سے زیادہ خیال رکھوں گا۔۔۔”
عبداللہ اسکی خوشی اور جزبات دیکھ کر مسکرا دیا۔ہلکی پھلکی گفتگو کے بعد امان وہاں سے چلا گیا اور وہ دونوں بھی باہر آئے۔
عبداللہ کی نظر مرجان پر پڑی جو خوشی سے چہکتے ہوئے گل اور وانیا سے باتیں کر رہی تھی جبکہ اسکا بیٹا مرجان کی گود میں لیٹا سکون سے سو رہا تھا۔
اپنے اس کل جہان کو دیکھ کر عبداللہ کے دل میں سکون اترنے لگا۔اسے لگ رہا تھا کہ یہ زندگی رب سے معافی مانگنے اور اسکا شکر ادا کرنے کے لیے بہت چھوٹی ہے۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
آج گل کی بارات تھی اور مرجان اسکے لیے تیار ہو رہی تھی۔اس نے وانیا کے کہنے پر اپنے لیے لائٹ پنک کلر کی ایک میکسی لی تھی جبکہ عبداللہ اور قلب کے لیے اس نے میچنگ سکن کلر کے شلوار کرتے لیے تھے جن پر ہلکی گلابی واسکٹ تھی۔قلب کو تو وہ پہلے ہی تیار کر کے دلاور کے پاس بھیج چکی تھی اور عبداللہ بھی کپڑے پہن کر کمرے میں آ گیا تو مرجان کو دیکھ کر نظر پلٹنا ہی بھول گیا۔
پچھلے دو مہینے سے وہ ان کے پاس رہ رہا تھا اور مرجان کو وہ سادگی میں بھی دیکھتا تھا تو دیکھتا ہی رہ جاتا تھا اور آج تو وہ کوئی آسمان سے اتری پری ہی لگ رہی تھی۔
“ارے باچا آپ آ گئے یہ بند کریں نہیں ہو رہا۔۔۔”
مرجان نے الجھن سے وہ نیکلس عبداللہ کے سامنے کرتے ہوئے کہا جو وہ پہننا چاہ رہی تھی۔عبداللہ اسکے پاس آیا اور اور نیکلس اپنے ہاتھ میں لے کر اسکی کمر پر پھیلے بالوں کو ہٹایا۔
میکسی کا پچھلا گلا زرا سا گہرا تھا جس سے مرجان کی سفید کمر نمایاں ہو رہی تھی۔عبداللہ نے جھک کر وہاں اپنے ہونٹ رکھے تو مرجان اپنا ہاتھ دھڑکتے دل پر رکھ گئی۔
“باچا ۔۔۔”
“جی جانِ باچا۔۔۔”
عبداللہ نے اتنے پیار سے کہا کہ مرجان سانس تک لینا بھول گئی۔
“اس سب کا وقت نہیں دیر ہو جائے گا۔۔۔”
مرجان کی بات پر عبداللہ مسکرا دیا اور اب کی بار اسکی نازک گردن کو ہونٹوں سے چھوا۔
“تو ٹھیک ہے وعدہ کرو واپس آنے پر اس حسن کو ٹھیک سے خراج بخشنے کا موقع دو گی۔”
مرجان نے فوراً ہاں میں سر ہلا دیا تا کہ ابھی کے لیے تو وہ اسکا دامن چھوڑ دے۔عبداللہ نے مسکرا کر وہ نیکلس اسے پہنایا اور آئنے میں سے اسے دیکھنے لگا۔
“تاسو ترټولو ښکلی شی یاست چې ما هیڅکله صحنه درلوده”(آج تک تم سے زیادہ حسین میں نے کچھ نہیں دیکھا)
عبداللہ نے اسکی گردن چوم کر کہا تو مرجان کانپ کر رہ گئی۔تبھی انکے کمرے کا دروازا کھٹکا تو عبداللہ مرجان سے دور ہوا اور دروازہ کھولا۔
“لالہ دیر ہو رہی ہے اب چلیں بارات پہنچنے والی ہو گی۔”
دلاور نے عبداللہ سے کہا تو اس نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔عماد کے علاج کروانے کی وجہ سے اب دلاور کی طبیعت کافی بہتر رہنے لگی تھی اور جب سے عبداللہ واپس آیا تھا اسکا رویہ اور محبت دیکھ کر دلاور اور گل کا ہر خدشہ،ہر خوف دور ہو گیا تھا۔اب وہ دونوں عبداللہ کو اپنا بھائی سمجھتے تھے۔
عبداللہ کی نظر دلاور کے بازوؤں پر پڑی جن میں موجود قلب عبداللہ کی جانب جھک رہا تھا۔
عبداللہ نے فوراً اسے اپنی باہوں میں لے لیا اور دلاور کو چلنے کا کہہ کر خود مرجان کے پاس آیا جو مکمل تیار ہو چکی تھی۔
“تم وانیا اور گل کے ساتھ پالر کیوں نہیں گئی۔”
عبداللہ نے اسکے حسین چہرے کو محبت سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“کیونکہ وہ بہت زیادہ میک اپ لگا دیتا ہے منہ پر پھر انسان کچھ کا کچھ بن جاتا ہے۔۔۔”
عبداللہ اسکی بات پر مسکرایا۔
“سچ ہے ویسے بھی میری بیوی اتنی حسین ہے کہ اسے اس سب کی ضرورت ہی نہیں۔۔۔”
عبداللہ نے اسکے گال پر اپنے ہونٹ رکھ کر کہا لیکن اس سے پہلے کہ مرجان اسے کچھ کہتی قلب چیخ مار کر مرجان کی جانب جھکا اور اسکا گال صاف کرنے لگا جہاں عبداللہ نے اپنے ہونٹ رکھے تھے۔
“واہ بیٹے میری بیوی پر میرا ہی لمس برداشت نہیں ہو رہا تجھ سے۔۔۔”
عبداللہ نے واپس مرجان کا گال چوما تو قلب پھر سے چلایا اور مرجان کا گال صاف کرنے لگا۔مرجان نے ہنستے ہوئے اپنے بیٹے کو اپنی باہوں میں لے لیا۔
عبداللہ کو پھر سے مرجان کے گال پر جھکتا دیکھ قلب آگے ہوا اور اپنا گال مرجان کے گال پر رکھ دیا تا کہ عبداللہ اسے نہ چوم سے۔
“میلا ماما۔۔۔۔”
قلب نے مرجان پر اپنی ملکیت ظاہر کی تو عبداللہ اور مرجان ہنس دیے پھر عبداللہ نے قلب کے گال کو چوما اور دونوں کو اپنے ساتھ لگاتا باہر کی جانب چل دیا جہاں سب انکا انتظار کر رہے تھے۔
تقریباً ایک گھنٹے کے بعد وہ اس میرج ہال پہنچے جہاں گل کی بارات آنی تھی۔گل کی شادی کا سارا انتظام عماد نے کیا تھا کیونکہ اسکا کہنا تھا کہ گل اسکی بہن ہے ویرہ کی تو وہ سالی ہے اور بہن کی شادی بھائی کرتا ہے بہنوئی نہیں۔
شادی پر پہنچ کر مرجان نے قلب کو عبداللہ کے حوالے کیا اور خود گل کے پاس چلی گئی۔عبداللہ قلب کو اٹھائے عماد کے پاس گیا لیکن جب اس نے عماد کو دیکھا تو اسکی ہنسی چھوٹ گئی کیونکہ عماد بھی یارم کو اٹھائے گھوم رہا تھا۔دونوں باپ بیٹے نے ایک جیسا گرے کلر کا پینٹ کوٹ پہن رکھا تھا۔
“اب بیگمات نے نگینوں والے کپڑے پہنے ہیں تو وہ تو بچوں کو نہیں اٹھائیں گی ناں ہم ملازم ہیں ناں ان کے اس کام کے لیے۔۔۔۔”
عماد نے شرارتاً کہا تو عبداللہ ہنس دیا۔یارم عماد کی جیب میں لگے گلابی رومال کو کھینچنے کی کوشش کر رہا تھا۔عماد نے اسے غصے سے گھورا تو جواب میں یارم کھلکھلا کر ہنس دیا۔
“ویسے کیسی عجیب بات ہے ناں راگا اور ویرہ وہ دونوں جن کے نام سے سب کی روح کانپ جاتی تھی ان سے یہ چھٹانکیں نہیں ڈرتیں۔”
عماد نے اتنا کہہ کر یارم کے گال پر دانت گاڑھے تو یارم چیخ کر رونے لگا اور پھر اس نے عماد کے منہ پر حملہ کرنا چاہا جیسے اسے نوچ ہی دے گا۔عماد نے اس سے بچ کر ہنستے ہوئے عبداللہ کو دیکھا جسکی گود میں موجود قلب بس دلچسپی سے یہاں وہاں دیکھ رہا تھا۔
“تمہارا سپوت پھر بھی زرا شریف ہے۔۔۔۔”
عبداللہ نے مسکرا کر اپنے بیٹے کو دیکھا۔
“جیسے بھی ہیں یہ سپوت جان ہیں اپنی۔۔۔”
عبداللہ نے قلب کا گال چوما تو وہ مسکرا دیا۔ان دو مہینوں میں وہ عبداللہ کے کافی قریب آ چکا تھا کیونکہ عبداللہ اسے پیار ہی اتنا کرتا تھا۔
“یہ بات تو ہے۔۔۔”
عماد نے بھی محبت سے یارم کا گال چوم کر کہا اور پھر سنجیدگی سے عبداللہ کو دیکھا۔
“یاد ہے ناں اگلے ہفتے ہمیں مشن کے سلسلے میں بنگلہ دیش جانا ہے ۔۔۔۔تیار ہو اپنے پہلے مشن کے لیے۔”
عبداللہ نے ہاں میں سر ہلایا۔ابھی کچھ دن پہلے ہی اسے مشن کی انفارمیشن اور ڈیٹیلز بھیجی گئی تھیں۔کچھ سمگلرز وہاں چھپے بیٹھے تھے اور انہیں انکا ٹھکانہ معلوم کرنے وہاں جانا تھا۔
“دل سے تیار ہوں۔۔۔”
عماد نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔تبھی وہاں بارات کی آمد ہوئی لیکن دلہے کو دیکھ کر دونوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں کیونکہ امان اس وقت مکمل آرمی یونیفارم میں ملبوس تھا۔بس سر پر ٹوپی نہیں پہنی تھی۔
“اسکو چھٹی نہیں ملی تھی کیا شادی کے لیے؟”
عبداللہ نے حیرت سے پوچھا تو عماد اپنے کندھے اچکا گیا۔
“پتہ نہیں مجھ سے کہہ دیتا بابا کے سامنے سفارش ڈال کر دلوا دیتا چھٹی اسے۔”
عماد کی بات پر عبداللہ ہنس دیا۔انہوں نے آگے بڑھ کر امان کو ویلکم کیا۔
“ویسے جیجا جی شادی پر یہ یونیفارم پہننا نئی رسم ہے کیا؟”
عماد نے شرارت سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تو امان مسکرا دیا۔
“وہ بات یہ ہے سالہ جی کہ آپ کی بہن زرا ڈرتی تھی فوجیوں سے تو میں چاہتا تھا بھول نہ جائے کہیں کہ اسکی شادی ایک فوجی سے ہو رہی ہے۔”
امان کے لاجک ہر عماد اور عبداللہ ہنس دیے اور اسے لے کر سٹیج کی جانب چل دیے۔کچھ دیر کے بعد مولوی صاحب وہاں آئے اور انہوں نے پہلے امان سے اور پھر گل کے پاس جا کر اس سے اسکی رضا مندی پوچھتے ہوئے دونوں کا نکاح کرایا۔
نکاح ہو جانے کے بعد مرجان اور وانیا گل کو ہال میں لے کر آئیں۔جب گل نے نگاہیں اٹھا کر اپنے دلہے کو دیکھا تو اسکا منہ بن گیا۔
“یہ جان بوجھ کر انہوں نے مجھے چڑانے کے لیے پہنا ہے۔۔۔ایک تو میرا فوجی سے شادی کروا دیا اور اوپر سے اسکا کپڑا بھی نہیں بدلوایا بڑا ظالم ہے آپ لوگ باجی۔۔۔”
گل نے وانیا اور مرجان سے کہا تو وہ ہنس دیں۔انہوں نے اسے امان کے بغل میں بیٹھایا اور مرجان مسکرا کر عبداللہ کے پاس آ کھڑی ہوئی جبکہ وانیا عماد کے بغل میں جا چکی تھی۔
امان اور گل ایک ساتھ بیٹھے بہت پیارے لگ رہے تھے۔ گل کے ہاتھوں کی لرزش دیکھ امان مسکرا دیا اور زرا سا اسکی جانب جھکا۔
“اب تو فوجی کی بیوی بن گئی ہو میری نیلی آنکھوں والی گڑیا تمہارا یہ فوجیوں کا ڈر نہ ختم کیا تو کہنا۔۔۔”
امان کی سرگوشی پر گل کانپ کر رہ گئی اور شکوہ کناں نگاہوں سے عماد کو دیکھا۔جیسے کہنا چاہ رہی ہو لالہ یہی فوجی رہ گیا تھا میرے لیے۔
“ارے میری بہنا پریشان مت ہو اور کپڑے بھی ہیں اس کے پاس ساری زندگی اسے ایک ہی جوڑے میں دیکھ دیکھ کر نہیں گزارو گی۔”
عماد کی بات پر سب کے ساتھ ساتھ امان بھی ہنس دیا اور اسے ہنستا دیکھ گل کی گھبراہٹ تھوڑی کم ہوئی اور وہ مسکرا دی۔
سب لوگ خوشیوں میں مگن تھے۔عبداللہ نے مرجان کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے ساتھ لگایا اور اسکے کان کے قریب جھکا۔
“وعدہ یاد ہے ناں تمہاری آج کی رات میری ہے۔۔۔”
عبداللہ کی بات پر مرجان کے ہاتھ کانپ گئے۔
“باچا سب لوگ ہیں یہاں پر شرم کریں۔۔۔۔”
مرجان نے گھبراتے ہوئے کہا تو عبداللہ کے لب مسکرا دیے۔
“کیسی شرم اپنی بیوی سے کہہ رہا ہوں بھئی کسی اور کی بیوی سے تو نہیں کہہ رہا ہے ناں قلب ۔۔۔۔”
عبداللہ نے قلب سے پوچھا جو اسکی گود میں موجود مسکراتے ہوئے مرجان کو دیکھ رہا تھا۔عبداللہ نے شرارت سے مرجان کے گال کے پاس اپنا منہ کیا تو قلب نے فوراً اپنا ہاتھ مرجان کے گال پر رکھ دیا اور چیخ مار کر عبداللہ کو گھورنے لگا۔
“جو حکم میرے جگر کے ٹکڑے۔”
عبداللہ نے قلب کا ماتھا چوم کر کہا اور پھر نرمی سے اپنے ہونٹ مرجان کے سر پر رکھتے ہوئے گل اور امان کی خوشیوں کا حصہ بن گیا۔ان کی زندگی پر چھائی کالک اب ہٹ چکی تھی اور اب انکی زندگی میں بس خوشیاں تھیں جنہیں ان کو اپنے دامن میں بھرنا تھا۔
