Dil E Janaa By Harram Shah Readelle50197 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
ویرہ کا پلین کامیاب ہوا تھا۔تقریباً مزید پانچ مہینے کی جدوجہد اور محنت کے بعد وہ دن آ گیا تھا جب وہ راگا کو فوج کی قید سے آزاد کروانے میں کامیاب ہوئے تھے۔کال نے کچھ آدمیوں کے ساتھ مل کر اس کام کو سر انجام دیا تھا جبکہ ویرہ اسے ہر طرح سے گائیڈ کرتا رہا۔
سب سے پہلے تو انہوں نے یونیورسٹی سے زرا فاصلے پر ایک سرنگ کھودنا شروع کی تھی جو یونیورسٹی میں جاتی تھی۔پھر وہاں کے بچوں کو یرغمال بنا کر انہوں نے فوج کو دھمکایا تھا اور بچوں کی زندگی کے بدلے میں ان سے راگا کی آزادی مانگی تھی۔
ویرہ کی سوچ کے عین مطابق فوج خود راگا کو ان کے پاس چھوڑ کر گئی تھی۔صبح ہی کال نے ویرہ کو اطلاع دی تھی کہ وہ یونیورسٹی سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اب واپس قبیلے پہنچنے والے تھے۔
ویرہ قبیلے کے چوراہے پر کھڑا انکا انتظار کر رہا تھا۔پھر ایک گاڑی وہاں رکی اور گاڑی میں سے کال کے بعد راگا کو نکلتا دیکھ ویرہ نے سکھ کا سانس لیا۔
“راگا میرے بھائی۔۔۔”
ویرہ کی بات پر پہلے راگا نے اسے تیکھی نگاہوں سے دیکھا اور پھر مسکرا کر اسکے پاس جا کر گلے سے لگ گیا۔
“کیسے ہو ویرہ؟”
“آزادی مبارک ہو راگا جنگل کا شیر لوٹ آیا ہے۔۔۔۔”
ویرہ نے راگا کا کندھا تھپتھپا کر کہا تبھی اسکی توجہ کال کی جانب گئی جو ایک روتی اور جھٹپٹاتی لڑکی کو کھینچ کر اپنے ساتھ لا رہا تھا۔
“نن۔۔۔۔نہیں چھوڑو مجھے ۔۔۔۔پلیز جانے دو۔۔۔۔بابا۔۔۔۔”
لڑکی کو دیکھ کر ویرہ کے ماتھے پر بل آئے۔کیا کال نہیں جانتا تھا کہ یہاں انجان لوگوں کو لانا منع تھا۔
“یہ کون ہے کال؟”
“لیفٹیننٹ وجدان خان کی بیٹی ہے۔وہاں سے بھاگنے کے لیے ہمیں اسکا سہارا لینا پڑا۔”
ویرہ نے دانت کچکچا کر کال کو دیکھا۔
“تو راستے میں ہی مار کر پھینک آتے اسے ساتھ لانے کی کیا ضرورت تھی۔”
ویرہ نے اپنی بندوق نکالتے ہوئے کہا تا کہ یہ نیک کام خود سر انجام دے سکے۔
“مجھے اچھی لگی ویرہ۔۔۔۔اسے میں اپنے لیے لایا ہوں ۔۔۔”
“اور تیرے اس شوق کی قیمت ہمیں اٹھانی پڑے گی یہ لڑکی ہمارا ٹھکانہ جان چکی ہے کال اب اسکا پچھلی دنیا میں لوٹنا ناممکن ہے۔”
ویرہ کا دل کیا ایک گولی مار کر اس لڑکی کو زندگی نامی قید سے آزاد کر دے۔وہ ایک فوجی کی بیٹی تھی ان کے لیے بہت بڑا مسلہ ہو سکتی تھی۔
“نہیں فکر مت کر ویرہ کچھ دن میرا شوق پورا ہو لے تو وہی کروں گا جو تو چاہتا ہے۔۔۔مار کر پھینک آؤں گا۔”
کال کے چہرے پر اس لڑکی کے لیے کسی قسم کے جزبات کی بجائے حوس اور سفاکی دیکھ کر ویرہ نے گہرا سانس لیا۔
“ٹھیک ہے رکھ لے اسے۔”
ویرہ نے اتنا کہہ کر وہاں سے جانا چاہا۔
“یہ فیصلہ کرنے والے تم کون ہوتے ہو؟”
راگا کی بات پر ویرہ نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔راگا نے آج تک اس لہجے میں اس سے بات نہیں کی تھی۔
“جہاں تک مجھے یاد ہے ویرہ تم لوگوں کا سردار میں ہوں اور تم دونوں میرے ساتھی اس قبیلے میں ہر شے کا فیصلہ سردار کرتا ہے جو راگا ہے ویرہ نہیں۔”
راگا کے انداز نے ویرہ کو حیران کر دیا لیکن اپنی حیرت کو چھپا کر ویرہ نے ہاں میں سر ہلایا۔
“تمہارے جانے کے بعد سردار رہا ناں راگا تو یہ بات بھول گیا۔”
ویرہ نے مصنوعی مسکراہٹ سے کہا تو راگا نے اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“بہتر ہو گا یاد رکھو اصلی سردار راگا ہی ہے کوئی اور نہیں۔۔۔”
اتنا کہہ کر راگا اس لڑکی کے پاس گیا جو تب سے کال کی قید میں جھٹپٹا رہی تھی۔
“میرے کمرے میں چھوڑ کر آ اس ماہ جبین کو لالے کی جان آج سے یہ راگا کا ہوا۔”
راگا نے اس لڑکی کا گال چھو کر کہا۔
“یہ مجھے پسند آئی تھی راگا۔”
کال کی بات پر راگا نے اسے خونخوار نظروں سے دیکھا۔
“اب مجھے آ گئی بات ختم۔۔۔۔”
کال راگا کی آنکھوں میں جنون دیکھ کر جی سردار کہتا اس لڑکی کو راگا کے گھر کی جانب لے گیا۔
“اب تو ایک لڑکی کی وجہ سے لڑ رہا ہے۔۔۔ہاہاہا فوجیوں نے تجھے منچلا کر دیا۔۔۔۔”
ویرہ نے مصنوعی سا ہنستے ہوئے کہا تو راگا مسکرا دیا پھر چند آدمیوں کی مدد سے وہاں سے جانے لگا۔اسکے جاتے ہی ویرہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی اور اس نے ایک آدمی کو دیکھا۔
“راگا پر نظر رکھو۔۔۔اسکے تیور بدلے بدلے سے لگ رہے ہیں کہیں فوج سے ہاتھ نہ ملا آیا ہو۔۔۔”
ویرہ کے حکم پر آدمی نے ہاں میں سر ہلایا تو ویرہ خود بھی راگا کے پیچھے چل دیا۔وہ شکل اور باتوں سے انکا راگا ہی تھا لیکن اسکے بدلے انداز ویرہ کو شک میں مبتلا کر رہے تھے۔
ویرہ بس یہ یقین کرنا چاہتا تھا کہ کہیں فوج کے دباؤ میں آ کر راگا نے ان سے ہاتھ تو نہیں ملا لیا تھا مگر سچ کیا تھا اس تو ویرہ واقف ہو بھی نہیں سکتا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان رات کا کھانا بنا کر فارغ ہوئی تھی جب ویرہ گھر میں داخل ہوا۔اسے دیکھ کر مرجان نے کھانا نکالا اور ٹرے میں رکھ کر اسکے پیچھے آئی۔
ویرہ منہ ہاتھ دھو کر کمرے میں آیا اور بیڈ پر بیٹھ کر کھانا کھانے لگا۔مرجان نے بس ایک نگاہ اس پر ڈالی اور وہاں سے جانے لگی۔وہ دونوں ویسے بھی کبھی کبھار بس ضروت کی ہی باتیں کیا کرتے تھے۔
“سنو۔۔۔”
ویرہ کے پکارنے پر مرجان نے سوالیہ نظروں سے مڑ کر اسے دیکھا۔ویرہ نے اسے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو مرجان اسکے سامنے بیٹھ گئی۔
“راگا واپس آ گیا ہے۔”
اس بات پر مرجان نے اثبات میں سر ہلایا۔
“لیکن اس کے ساتھ ایک لڑکی بھی آئی ہے۔”
“لڑکی۔۔۔”
مرجان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“ہاں وہ یہاں کی نہیں ہے اور میں کسی پر اتنا بھروسہ نہیں کر سکتا کہ کسی کو اسکے قریب جانے کی اجازت دوں اس لیے۔۔۔”
ویرہ ایک پل کو رکا۔
“اس لیے تم اسے اور راگا کو کھانا دے کر آیا کرو گی اور اگر تم نہیں جا سکتی تو گل یا اماں جایا کریں گی لیکن ان کے علاؤہ اس لڑکی کے قریب کوئی نہیں جا سکتا۔”
ویرہ حکم دیتا کھانے کی جانب متوجہ ہوا جبکہ اسکی ہر بات مرجان کو حیران کر گئی تھی۔
“کیوں۔۔۔؟”
مرجان کے سوال کرنے پر ویرہ نے اسے گھور کر دیکھا۔
“تمہیں جو حکم دیا اسکو مانو سوال جواب کرنے کو نہیں کہا میں نے۔۔۔”
ویرہ نے سختی سے کہا تو مرجان اپنا سر جھکا گئی۔اس کا دل کیا کہ اسے بتائے کہ وہ اسکی بیوی تھی اسکے وجود کا حصہ کوئی غلام نہیں تھی جسے وہ ایسے حکم دے۔
مرجان نے اپنے آنسو پی کر ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے جانے لگی لیکن ویرہ نے اسکی کلائی پکڑ کر اسے روک لیا۔
“وہ یہاں کی نہیں ہے مرجان بس یہ سمجھ لو یہاں پر قیدی ہے اس لیے بہتر ہے بس اپنا کام کرنا اس سے دل نہ لگا لینا خواہ مخواہ تکلیف ہو گی تمہیں۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ نے اسکی کلائی چھوڑ دی تو مرجان اثبات میں سر ہلا کر کمرے سے باہر آ گئی۔ویرہ خاموشی سے کھانا کھانے لگا جبکہ سوچوں کا مرکز مرجان تھی۔
جس دن سے اس نے ویرہ کا وہ روپ دیکھا تھا وہ بدل گئی تھی۔ویرہ نے اب کبھی اسے پہلے کی طرح مسکراتے ہوئے کھلکھلاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔شائید اسکے لیے یہی ٹھیک تھا کہ وہ جلد ہی یہ بات سمجھ گئی تھی کہ انکی زندگی عام لڑکیوں جیسی نہیں تھی جس میں انہیں پیار ملے اور وہ خوشی خوشی اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزار دیں نہیں انکی زندگی دشوار تھی بہت زیادہ دشوار۔
صبح ہوتے ہی مرجان نے نماز پڑھنے کے بعد ویرہ کے لیے ناشتہ بنایا تھا اور اسے ناشتہ کروا کر بھیجنے کے بعد اسے اس لڑکی کا یاد آیا جس کے بارے میں ویرہ نے اسے بتایا تھا۔
مرجان نے اس کے اور راگا کے لیے بھی ناشتہ تیار کیا اور راگا کے گھر کی جانب چل دی۔قہ راگا کو زیادہ جانتی نہیں تھی بس باقی عورتوں کی طرح اتنا جانتی تھی کہ وہ انکا سردار تھا اور اسکے حسن کی وجہ سے کافی لڑکیوں کو وہ اچھا بھی لگتا تھا۔اس سے زیادہ مرجان کی اس سے کبھی بات بھی نہیں ہوئی تھی۔
مرجان نے اسکے گھر پہنچ کر دروازا کھٹکھٹایا جو کچھ دیر کے بعد راگا نے کھولا اور اسے گھورنے لگا۔
“رررر۔۔۔۔راگا لالا۔۔۔۔ممم۔۔میں آپ کے لیے ناشتہ لایا ہے۔۔۔”
مرجان کی بات پر راگا کی آنکھیں مزید چھوٹی ہوئی تھیں۔
“ااا۔۔۔۔اور یہ مجھ غغ۔۔۔غریب پر اتنی ممم۔۔۔مہربانی کرنے کا کس نے کہا۔۔۔؟”
راگا نے اسی کے انداز میں پوچھا تو مرجان نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔
“م۔۔۔۔میرے شوہر نے؟”
“اس شوہر کا کوئی نام بھی ہو گا یا باقی ساری دنیا اسے شوہر شوہر ہی کہہ کر بلاتا ہے؟”
راگا کی بات پر مرجان بہت گھبرا گئی۔ایک تو پہلے کبھی ویرہ اور دلاور کے علاؤہ اس نے کسی آدمی سے بات نہیں کی تھی اوپر سے یہ عجیب ہی شخص تھا۔
“انکا نام ویرہ ہے۔۔۔”
“کون ویرہ میں تو کسی ویرہ کو نہیں جانتا۔۔۔”
اس بات پر مرجان کا سانس سوکھ گیا۔کیا وہ صحیح گھر آئی تھی ناں۔
“وہ۔۔۔۔وہ ویرہ جو ہیں وہ میرے شوہر ہیں سب جانتا ہے ان کو۔۔۔۔”
مرجان رونے والی ہو گئی تو راگا قہقہ لگا کر ہنس دیا۔
“اوئے ماڑا شکل دیکھو اپنا ایسے گلہری جیسا ہو گیا تھا۔۔۔میں تو مزاق کر رہا تھا پتہ ہے مجھے یہ چھوٹی سی گڑیا اپنے ویرہ جاتا کی ہے۔۔۔”
راگا نے مرجان کے سر پر ہلکی سی چت لگائی تو مرجان حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“تمہیں مجھ سے ڈرنے کا کوئی ضرورت نہیں اپنا بڑا لالا سمجھو تم مجھے اور اگر کبھی ویرہ تمہیں تنگ کرے یا رولائے تو مجھے بتانا ۔۔۔۔”
“آپ کیا کرے گا؟”
مرجان نے حیرت سے آنکھیں بڑی کر کے پوچھا۔
“وہ جھیل دیکھ رہا ہے اس میں پھینک کے تمہارے شوہر کا سارا گرم دماغ بلکل قلفی کی طرح ٹھنڈا کر دے گا پھر دیکھنا تمہارا پلو پکڑ کر ہر وقت تمہارے پیچھے چلا کرے گا۔۔۔۔”
اب کی بار مرجان بھی ہلکا سا ہنس دی۔نہ جانے کیوں وہ راگا سے اتنا ڈرتی تھی یہ شخص تو بالکل ویسا نہیں تھا جیسا اس نے سوچا تھا۔
“لالا یہ آپ کے لیے اور۔۔۔اااا۔۔۔۔اس کا ناشتہ۔۔۔”
مرجان نے کھانا اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا تو راگا نے ایک نظر اس کھانے کی جانب دیکھا۔
“تم اندر جا کر خود اسے دو میں نے دیا تو وہ سمجھے گا کہ ذہر ڈال لایا ہوں اور کھائے گا ہی نہیں۔۔۔میں زرا جھیل کے پانی میں نہا کر آتا ہوں ماڑا زخموں کو ٹکور ہو جائے گا۔۔۔”
راگا نے انگڑائی لے کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔مرجان نے گہرا سانس لے کر دروازہ کھولا تو اسکی نگاہ ایک لڑکی پر پڑی جو گھٹنوں میں چہرہ دیے کمرے کے کونے میں بیٹھی رو رہی تھی۔
ریشمی بال اردگرد بکھرے تھے جبکہ اس نے عجیب سا لباس پہنا ہوا تھا۔شلوار کافی تنگ تھی اور کرتی بھی آدھے بازوں والی تھی جبکہ مرجان لوگ تو پورا اور کھلا سا لباس پہنتے تھے۔
“بب۔۔باجی یہ تمہارے لیے ناشتہ۔۔۔”
مرجان کی آواز پر اس لڑکی نے سر اٹھا کر مرجان کو دیکھا تو مرجان ایک پل کے لیے حیران رہ گئی۔وہ لڑکی بہت خوبصورت تھی۔بڑی بڑی سی سیاہ کانچ جیسی آنکھیں اور تیکھے نقوش۔
“ککک۔۔۔۔کون ہو تم کیا ان لوگوں نے تمہیں بھی قید کر رکھا ہے؟”
اس لڑکی کے سوال پر مرجان نے انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں یہ میرا گاؤں ہے مم۔۔۔میں ویرہ کا بیوی ہوں۔۔”
مرجان نے اسے اپنے بارے میں بتایا تو وہ لڑکی جلدی سے اٹھ کر مرجان کے پاس آئی اور اسکے ہاتھ پکڑ لیے۔
“پلیز میری مدد کرو یہ لوگ مجھے زبردستی یہاں لے آئے ہیں۔۔۔۔مجھے اپنے گھر جانا ہے اپنے ماما بابا کے پاس پلیز ہیلپ می۔۔۔”
اس لڑکی نے روتے ہوئے کہا جبکہ اسکی آخری بات مرجان کو سمجھ نہیں آئی تھی۔
“تم کیا کہہ رہا ہے باجی ممم۔۔۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔”
مرجان نے گھبرا کر پوچھا۔اس لڑکی کو زبردستی یہاں قید کیے جانے کا خیال اسے ڈرا رہا تھا۔
“میرا نام وانیا ہے۔مم۔۔۔میرے بابا آرمی میں ہیں اور یہ لوگ مجھے میری یونیورسٹی سے کڈنیپ کر کے یہاں لے آئے ہیں۔۔۔پلیز میری مدد کرو مجھے یہاں سے جانا ہے۔۔۔’
وانیا نے پھر سے روتے ہوئے کہا۔
“آرمی؟”
مرجان نے حیرت سے پوچھا۔
“ہاں آرمی۔۔۔میرے بابا فوجی ہیں۔۔۔”
اس بات پر مرجان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔انہیں فوجیوں سے بچپن سے ڈرایا جاتا تھا اور ان کے بارے میں انہوں نے یہی سنا تھا کہ وہ بہت ظالم لوگ ہوتے ہیں جو بس انہیں مارنا چاہتے ہیں لیکن یہ لڑکی تو ظالم نہیں لگ رہی تھی نہیں وہ تو بہت بے بس اور معصوم لگ رہی تھی بالکل مرجان کی طرح۔
“پلیز میری مدد کرو مجھے یہاں سے جانا ہے۔۔۔”
وانیا نے پھر سے روتے ہوئے کہا تو مرجان نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔قد میں وہ تقریباً مرجان کے جتنی ہی تھی۔
“شش۔۔رو مت کچھ نہیں ہوتا صبر کرو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔”
مرجان نے اسکی کمر کو سہلا کر کہا تو وانیا کسی کا سہارا ملنے پر مزید گھبرا کر رونے لگی تھی۔
“چلو آؤ کھانا کھاتے ہیں اور تم مجھے اپنے بارے میں سب بتانا۔۔۔۔”
مرجان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے بستر پر بیٹھایا اور کھانا نکال کر اسکے سامنے رکھا لیکن وانیا نے انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں مجھے کچھ نہیں کھانا مجھے بس یہاں سے جانا ہے اپنے بابا کے پاس۔۔۔”
مرجان نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“میں نے کہا ناں صبر کرو سب ٹھیک ہو جائے گا ان شاءاللہ ابھی کھانا کھاؤ تا کہ تم میں طاقت آئے۔۔۔”
وانیا نے کچھ کہنا چاہا تو مرجان نے اسکا ہاتھ دبا کر اسے دلاسہ دیا اور پھر نوالہ توڑ کر اسکے ہونٹوں کے پاس کیا تو وانیا نے اسے چپ چاپ کھا لیا۔
“چلو اب مجھے آہستہ آہستہ بتاؤ کون ہو تم اور ہوا کیا تھا۔۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔۔”
مرجان کی بات پر وانیا نے اپنے آنسو پونچھے اور آہستہ آہستہ اسے سب بتانے لگی۔
“میرا نام وانیا وجدان خان ہے لفٹیننٹ کرنل وجدان خان کی بیٹی ہوں میں۔”
اس کے بعد وانیا نے اپنے بارے میں ہر بات مرجان کو بتائی اور مرجان اسکی بات سننے کے ساتھ ساتھ اسے کھانا کھلاتی رہی۔اس بات سے بے خبر کہ گھر کے باہر کوئی کھڑا مرجان کی اس رحمدلی کو گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان بے چینی سے اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے وانیا کی باتوں کے بارے میں سوچ رہی تھی۔وانیا ایک فوجی افسر کی بیٹی تھی اور اسکی ایک جڑواں بہن ہانیہ بھی تھی جو بالکل اسکے جیسی دیکھائی دیتی تھی۔
وانیا پڑھنے کے لیے اپنی یونیورسٹی گئی تھی جب کال نے اپنے آدمیوں کے ساتھ وہاں حملہ کر کے سب بچوں کو قید میں لے لیا اور فوج سے راگا کی رہائی کا مطالبہ کرنے لگا۔
فوج سب طالب علموں کی جان بچانے کے لیے راگا کو ان کے پاس لے کر آئی لیکن وہاں سے بھاگنے کے لیے انہوں نے وانیا کا سہارا لیا اور اسے بندوق کی نوک پر رکھ کر فوجیوں سے بچ کر بھاگ گئے۔
مگر وانیا یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی وہ اپنے بابا کے پاس واپس جانا چاہتی تھی۔مرجان کو یاد آیا کہ وہ کتنی ہی دیر اسکے ہاتھ تھام کر روتے ہوئے اس سے التجا کرتی رہی تھی کہ وہ اس کی مدد کرے۔
لیکن مرجان اسکی مدد کیسے کر سکتی تھی وہ تو خود کی مدد کرنے کے قابل نہیں تھی۔اچانک دروازا کھلا اور ویرہ گھر میں داخل ہوا۔مرجان اسے دیکھ کر سیدھی ہوئی تھی۔
“کھانا لے کر میرے کمرے میں آؤ بات کرنی ہے مجھے تم سے۔”
مرجان نے اثبات میں سر ہلایا اور کھانا گرم کر کے ویرہ کے پیچھے اسکے کمرے میں آ گئی۔مرجان نے کھانا اسکے سامنے رکھا تو ویرہ نے اسے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“صبح کھانا دے آئی تھی اس لڑکی کو؟”
ویرہ کے پوچھنے پر مرجان نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہممم ٹھیک ہے خود ہی زمہ داری سے اسے اور راگا کو صبح شام کا کھانا پہنچا دیا کرنا اور اپنے کچھ کپڑے بھی اسے دے دینا۔”
مرجان نے پھر سے اثبات میں سر ہلایا تو ویرہ نے نوالا منہ میں ڈال کر ایک نظر مرجان کو دیکھا اور خاموشی سے کھانا کھانے لگا۔
“سنیے۔۔۔”
“ہمم۔۔۔”
مرجان کے پکارنے پر ویرہ نے اسکی جانب دیکھا۔
“وہ لڑکی۔۔۔وہ فوجی کا بیٹی ہے کیا؟”
مرجان کے سوال پر ویرہ کے ماتھے پر بل آئے تھے۔
“تمہیں کہا تھا اس کے معاملے میں زیادہ شامل ہونے کی ضرورت نہیں بس اتنا کرو جتنا تم سے کہا گیا ہے کچھ گڑبڑ مت کرنا مرجان ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔۔۔”
ویرہ اسے وارن کرتا کھانا کھانے لگا۔
“ننن۔۔نہیں وہ بس کافی رو رہا تھا۔۔۔یہاں سے جانا چاہتا تھا وہ لڑکی۔۔۔ممم ۔۔۔مجھے بس اتنا پوچھنا تھا کہ کیا آپ اسے جانے دے گا۔۔۔”
مرجان کے سوال پر ویرہ کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا۔
“نہیں وہ اپنی آخری سانس تک یہاں قید رہے گی یا تو خود ہی سسک سسک کر مر جائے گی یا ہو سکتا ہے کہ ہم اسے مار دیں۔”
ویرہ کی بات پر مرجان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔وانیا کتنی معصوم تھی اور وہ ایک معصوم لڑکی کے بارے میں ایسا کیسے کہہ سکتے تھے۔
“اسی لیے تم سے کہا تھا مرجان اس سے دل مت لگانا بس جتنا کہا ہے اتنا کرو “
ویرہ نے تھوڑا سا کھانا کھا کر بس کر دیا تو مرجان خاموشی سے برتن اٹھا کر وہاں سے چلی گئی۔وہ بس وانیا کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ جانے اسکا مقدر کیا ہو گا۔
مرجان بس اس کے لیے دعا ہی کر سکتی تھی کہ اس معصوم کے ساتھ کچھ غلط نہ ہو۔گہرا سانس لے کر مرجان نے کھانا کھانے کا سوچا۔ابھی اس نے ایک نوالا منہ میں ڈالا ہی تھا جب بہت زیادہ نمک کا ذائقہ اس کے منہ میں گھلا۔
“اللہ،،، اتنا زیادہ نمک ڈال دیا میں نے۔۔۔”
مرجان نے گھبرا کر کہا۔بچپن کا ایک منظر اسکی آنکھوں کے سامنے سے گزر گیا جب اسکی ماں نے ہلکا سا نمک تیز کر دیا تھا تو اسکے باپ نے اسکی ماں کو اس بات پر کتنا مارا تھا۔
مرجان نے تو اتنا نمک تیز کیا تھا تو کیا ویرہ بھی اسے۔۔۔۔یہ سوچ کر مرجان گھبرا کر اٹھی اور ویرہ کے کمرے میں آئی اور بے چینی سے دروازا کھٹکھٹانے لگی۔
“کیا ہوا؟”
ویرہ کی اکتائی سی آواز پر مرجان مزید گھبرا کر اور زور سے دروازا کھٹکھٹانے لگی۔اچانک ہی ویرہ نے دروازہ کھولا تو مرجان دروازہ کھلتے ہی شروع ہو گئی۔
“مجھے معاف کر دیں غلطی سے اتنا تیز نمک ہو گیا میں نے جان کے۔۔۔۔”
ویرہ پر نظر پڑتے ہی مرجان کی زبان کو بریک لگا تھا۔وہ شائید کپڑے بدل رہا تھا کیونکہ جسم پر کپڑوں کے نام پر بس ایک شلوار تھی جبکہ چوڑا سینا عیاں ہو رہا تھا۔
مرجان کے رخسار دہک کر گلابی ہو گئے اور اس نے اپنا سر جھکا لیا۔شرم سے گلابی ہوئی وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ویرہ نے اسکی ٹھوڈی کے نیچے انگلی رکھ کر اسکا چہرہ اونچا کیا تھا۔
“کپکپاتی ہوئی بند پلکوں اور تھرتھراتے ہوئے ان گلابی ہونٹوں کا رقص ویرہ کو بے چین کر رہا تھا۔بے ساختہ اسکی پکڑ مرجان کی ٹھوڈی پر سخت ہوئی۔
“کیا کہہ رہی تھی تم؟”
ویرہ کی نظروں کا فوکس ان پھولوں جیسے گلابی ہونٹوں پر تھا۔
“وہ۔۔۔۔میں نے کھانے میں نمک غلطی سے زیادہ کر دیا۔۔۔۔آئندہ ایسا نہیں ہو گا مجھے معاف کر دیں۔”
مرجان نے آنکھیں کھولے بغیر کہا اور اس حسین چہرے کو دیکھ دیکھ کر ویرہ کا دل بے چین ہو رہا تھا۔انکی شادی کو ایک سال سے زیادہ کا وقت ہو چکا تھا اور اسی لیے آج تک ویرہ نے اسے نظر بھر کر بھی نہیں دیکھا تھا کہ کہیں جزبات بے لگام نہ ہو جائیں۔
“معاف کرنے کا دل تو نہیں کر رہا دل کر رہا ہے سزا دوں تمہیں ایسی سزا کے پھر سے ایسا سوچنے سے پہلے بھی جان نکل جائے تمہاری۔۔۔۔”
ویرہ نے انگوٹھے سے اسکا نچلا ہونٹ سہلا کر کہا جو ایسے نرم و نازک تھا جیسے روئی کا گالا ہو۔ویرہ کے دل میں اس نازک لب کو اپنے ہونٹوں سے چھونے کی چاہ پیدا ہوئی۔ویسے بھی وہ سر سے لے کر پیر تک اسی کی تو تھی ویرہ کا جائز حق بنتا تھا اس پر۔
“نن۔۔۔نہیں مجھے مارنا نہیں لیں ایسا نہیں کروں گی وعدہ۔۔۔۔”
اب کی بار مرجان نے خوف سے نم ہوئی آنکھیں کھول کر کہا تو ویرہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا اور اسکی ٹھوڈی چھوڑ کر اس سے دور ہو گیا۔
“کوئی بات نہیں انسان سے خطا ہو جاتی ہے اگر میں نے تمہیں کچھ کہنا ہوتا تو تبھی کہہ دیتا لیکن میں ایسی باتوں پر عورت کو مارنے کا قائل نہیں۔۔۔”
مرجان نے اسکی بات پر سکھ کا سانس لیا۔
“تو کس بات پر مارتا ہے آپ مجھے بتا دیں تا کہ میں ایسا نہ کرے۔۔۔”
“بس کچھ الٹا کر کے مجھے کچھ الٹا کرنے کا موقع نہ دنیا باقی سب ٹھیک ہے۔”
مرجان نے کچھ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے جانے لگی۔ویرہ اسکے نظروں سے اوجھل ہوتے تک اسے دیکھتا رہا تھا۔دل اس سے کہہ رہا تھا اسے روک لے اپنے پاس اپنی باہوں میں چھپا لے۔
لیکن ویرہ ایسا نہیں چاہتا تھا وہ اب پھر کبھی کسی انسان کو اپنی کمزوری نہیں بنانے والا تھا۔وہ پھر کبھی کسی سے محبت نہیں کرنے والا تھا کیونکہ جس کو ہم چاہتے ہیں اس کا دور ہونا کتنی تکلیف دیتا ہے یہ کوئی ویرہ سے پوچھتا۔وہ ایک بار پھر سے اس کرب سے گزرنا نہیں چاہتا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان روز ہی وانیا کو کھانا دینے جاتی تھی اور اگر وہ ایسا نہیں کر پاتی تھی تو اسکی ماں یا گل اسے کھانا اور کپڑے دے آتے تھے۔اب تو مرجان کی اس سے کافی دوستی ہو گئی تھی۔وہ معصوم سی گڑیا تھی ہی اتنی پیاری ہر وقت ڈری سہمی سی رہتی تھی۔
مرجان کا دل کرتا تھا کہ وہ اسکی مدد کرے تا کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس جا سکے لیکن مرجان کیا کر سکتی تھی۔وانیا نے اسے اپنے گھر والوں کے بار میں بتایا تھا کہ سب اس سے کتنا پیار کرتے تھے۔
اسکی بہن اور اسکی ماں تو جان چھڑکتی تھیں اس پر اور اس کے بابا زرا سخت تھے لیکن وہ بھی اس سے بہت پیار کرتے تھے۔وانیا کی اس بات پر مرجان کے دل میں حسرت پیدا ہوئی تھی۔باپ کی محبت کیا ہوتی ہے مرجان تو اس سے واقف ہی نہیں تھی۔
ابھی بھی وہ وانیا کے پاس بیٹھے باتیں کر رہی تھی۔وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتی جا رہی تھیں۔مرجان کا وجود وانیا کا خوف بھگا دیتا تھا تو وانیا بھی مرجان کی تنہائی کی ساتھی بن چکی تھی۔
“تو تمہارا بہن بالکل تمہارے جیسا دیکھتا ہے؟”
مرجان نے پوچھا تو وانیا نے اثبات میں سر ہلایا۔آج وانیا مرجان کے دیے گلابی رنگ کے شلوار کرتے میں ملبوس تھی جس پر رنگ برنگے دھاگوں کی کڑھائی اور شیشوں کا کام ہوا تھا۔اس لباس میں وانیا بہت پیاری لگ رہی تھی۔
“ہاں ہانی دیکھنے میں بالکل میرے جیسی ہے لیکن وہ بہت بہادر ہے اگر میری جگہ وہ ہوتی ناں تو ابھی تک اس راگا کا سر پھاڑ چکی ہوتی۔۔۔۔”
وانیا نے منہ بنا کر کہا تو مرجان ہنس دی پھر گھبرا کر اپنا ہاتھ وانیا کے ہاتھ پر رکھا۔
“وہ تمہیں کچھ کہتا تو نہیں۔۔۔راگا لالا کہیں وہ تمہارے ساتھ۔۔۔”
مرجان اپنی بات مکمل نہیں کر پائی تھی لیکن پھر بھی وانیا نے اسکی بات سمجھ کر انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں وہ ایسا نہیں مجھے ہاتھ تک نہیں لگاتا بس۔۔۔”
“بس۔۔۔۔؟”
مرجان نے وانیا کے خاموش ہو جانے پر پوچھا۔
“بس انتہائی بے شرم آدمی ہے ایسی باتیں کرتا ہے ناں کہ دل کرتا ہے سوئی دھاگے سے منہ سی دوں اسکا۔۔۔۔”
مرجان اسکی بات پر ہنس دی۔
“ویسے اتنا برا بھی نہیں راگا لالا پہلے مجھے لگتا تھا کہ بہت برا اور ظالم ہو گا لیکن جب سے فوج کے پاس سے آیا ہے مجھے تو اچھا لگتا ہے۔۔۔۔”
مرجان نے شرارت سے کہا۔
“ہاں فوج سے جوتے جو پڑے ہوں گے اس لیے سدھر گیا ہے۔۔۔”
وانیا کی بات پر مرجان کھلکھلا کر ہنس دی اور اسے ہنستا دیکھ کر وانیا بھی ہنسنے لگی۔دونوں کافی دیر تک ہنستی رہی تھیں لیکن پھر وانیا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے روتے ہوئے مرجان کو دیکھا۔
“مجھے میرے گھر واپس جانا ہے مرجان میں یہاں نہیں رہ سکتی۔۔۔۔میں یہاں نہیں رہنا چاہتی۔۔۔۔”
وانیا کے رونے پر مرجان نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“مجھے معاف کر دو وانی میں کچھ نہیں کر سکتا لیکن یقین جانو اگر کچھ کر سکتا تو ضرور کرتا۔۔۔۔”
مرجان کی بے بسی پر وانیا نے اپنے گھٹنوں میں چہرہ چھپایا اور رونے لگی۔جبکہ اسے روتا دیکھ مرجان بھی دکھی ہو چکی تھی لیکن وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔باہر کھڑے شخص نے گہری سیاہ نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھا تھا جبکہ وہ دونوں اس سے بے خبر تھیں۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
رات کافی گہری ہو رہی تھی۔ویرہ شائید اپنے کام سے کہیں گیا تھا اور مرجان کو اکیلے ہونے کی وجہ سے نیند نہیں آ رہی تھی۔ویسے تو کسی کی جرات نہیں تھی کہ ویرہ کی غیر موجودگی میں اسکے گھر کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لیتا لیکن پھر بھی وہ تنہائی مرجان کو کھانے کو دور رہی تھی۔
اچانک ہی مرجان کو لگا کہ کوئی دروازا کھٹکھٹا رہا ہو۔مرجان گھبرا کر اٹھی اور پاس پڑی لالٹین جلا کر گھڑی پر ٹائم دیکھا جہاں رات کے دو بج رہے تھے۔
“اا۔۔اس وقت کون ہو سکتا ہے؟”
مرجان نے گھبرا کر سوچا تو دروازا دوبارہ آہستہ سے بجا۔مرجان گھبرا کر اٹھی اور دوپٹہ اچھی طرح سے لے کر دروازے کے پاس آئی۔
“کون ہے؟”
مرجان نے گھبرا کر پوچھا۔
“میں ہوں۔۔۔”
ویرہ کی آواز پر مرجان نے سکھ کا سانس لیا اور دروازہ کھول دیا۔اس کے دروازہ کھولتے ہی کالی چادر میں لپٹا ایک آدمی گھر میں داخل ہوا اور اس نے دروازہ بند کر لیا۔اسے دیکھ کر مرجان کا دل خوف سے بند ہوا کیونکہ وہ اسکا شوہر تو نہیں تھا۔
“ککک۔۔۔کون ہو تم۔۔۔۔بچ۔۔۔”
مرجان نے چلانا چاہا چاہا لیکن وہ آدمی اسکے پاس آیا اور اپنا ہاتھ اسکے منہ پر رکھ دیا۔
“شش۔۔۔۔۔ڈرو نہیں کچھ نہیں کہوں گا میں تمہیں بس میری بات سن لو۔۔۔”
اس آدمی نے نرم سے لہجے میں کہا جبکہ مرجان خوف سے نم ہوئی آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔اس نے خود کو پوری طرح سے چادر میں چھپایا تھا بس اسکی سیاہ آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔مرجان کو لگا کہ اس نے وہ آنکھیں کہیں دیکھی ہیں لیکن کہاں یہ اسے یاد نہیں آ رہا تھا۔
“کون ہو تم۔۔؟”
مرجان نے دوبارہ سے گھبرا کر پوچھا۔
“یہ اہم نہیں ہے میری بہن کہ میں کون ہوں بس یہ اہم ہے کہ مجھے کیا چاہیے۔۔۔۔”
“ککک۔۔۔کیا چاہیے؟”
مرجان نے سہم کر پوچھا۔
“تمہاری مدد۔۔۔”
اس آدمی نے شفیق سی آواز میں کہا تو مرجان حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“کیسی مدد؟”
مرجان نے اسے سر سے لے کر پیر تک دیکھا۔وہ انکے قبیلے کا آدمی نہیں تھا کیونکہ اسکا اردو بولنے کا لہجہ بہت صاف تھا اور انکے قبیلے میں صرف ویرہ اور کال صاف لہجے میں اردو بولتے تھے۔
تو یہ شخص کون تھا۔اگر وہ انکے قبیلے کا نہیں تھا تو یہاں آیا کیسے؟کسی باہر کے شخص کا یہاں آنا یا یہاں سے کسی کا باہر جانا نا ممکن تھا۔
“اس فوجی کی بیٹی کی آزاد کروانے میں تمہاری مدد چاہیے مجھے۔”
اسکی بات پر مرجان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“وہ لڑکی یہاں نہیں رہ سکتی وہ یہاں کی نہیں ہے مر جائے گی وہ یہاں ہمیں اسے یہاں سے آزاد کرنا ہو گا۔”
“لیکن کیسے ۔۔۔؟”
مرجان نے گھبرا کر پوچھا۔
“وہ سب مجھ پر چھوڑ دو تمہیں بس اسے قبیلے کی حدود سے باہر نکالنا ہے۔ایک بار وہ پہرے داروں کی نظر سے نکل گئی تو ایک فوج کا آدمی اسے اسکے بابا کے پاس چھوڑ آئے گا۔”
مرجان نے اسکی بات پر نگاہیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا۔
“یہ کام تم خود کیوں نہیں کر لیتا۔”
“اگر کر سکتا تو ضرور کر لیتا لیکن ایسا کر کے میں ہم دونوں کو خطرے میں ڈال لوں گا لیکن تم۔۔۔۔تم ویرہ کی بیوی ہو تم پر کوئی شک نہیں کرے گا۔۔۔”
ویرہ کے ذکر پر مرجان اضطراب سے اپنے ہاتھ مسلنے لگی۔وہ وانیا کی مدد کرنا چاہتی تھی لیکن اپنے شوہر کو دھوکا دے کر نہیں۔
“اگر انہیں پتہ لگ گیا تو وہ مجھے ۔۔۔۔۔”
“نہیں لگے گا تم گھبراؤ نہیں بس تم دو دن کے بعد اسے رات کو یہاں سے باہر نکال دینا باقی سب وہ فوجی دیکھ لے گا جو قبیلے سے باہر وانیا کا انتظار کرتا ہو گا۔”
اسکی بات پر مرجان گہری سوچ میں ڈوب گئی۔اگر اسکی اتنی سی جرات پر اسکی دوست کو آزادی مل سکتی تھی تو وہ ایسا کیوں نہ کرتی۔
“لیکن میں تم پر بھروسہ کیوں کروں اگر تم نے اسے نقصان پہنچا دیا تو؟”
مرجان کی چالاکی پر وہ نقاب پوش مسکرایا۔
“بس یہ سمجھ لو کہ مجھے اس کے بابا وجدان خان نے اسکی مدد کے لیے بھیجا ہے۔میں جو کر رہا ہوں ان ی خواہش کے مطابق کر رہا ہوں۔”
اس آدمی کے منہ سے وانیا کے بابا کا نام سن کر مرجان اپنی انگلیاں چٹخانے لگی۔یعنی وہ وانیا اور اسکے بابا کو جانتا تھا تو کیا وہ واقعی اسکی مدد کر سکتا تھا۔
“بولو بہن کرو گی تم اپنی دوست کی مدد؟”
اس کے پوچھنے پر وانیا بہت بے چین ہوئی۔ایسا کر کے وہ اپنے شوہر کے خلاف جا رہی تھی اگر ویرہ کو پتہ لگ جاتا تو نہ جانے وہ کیا کرتا لیکن وہ اپنی دوست کی مدد کرنا چاہتی تھی۔اسے بے بس نہیں چھوڑ سکتی تھی۔
“ٹھیک ہے میں کروں گی آپ کی مدد۔۔۔”
مرجان نے فیصلہ سنایا۔وہ جانتی تھی کہ ایسا کر کے وہ اپنے لیے خطرہ مول لے چکی تھی لیکن اپنی دوست کے لیے وہ اتنا تو کر ہی سکتی تھی۔
