Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10 Part 2

یہ فوجی جیل کی کال کوٹھری کا ایک منظر تھا اور ویرہ اس کال کوٹھری کے اندھیرے میں گم سم سا بیٹھا تھا۔کچھ دیر پہلے ہی فوجی اس سے پوچھ تاچھ کر کے گئے تھے لیکن اسکی زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہیں ہوا تھا۔
انہوں نے اسکی زبان کھلانے کے لیے اسے مارا بھی تھا مگر کچھ بولنا تو دور اسکے ہونٹوں سے ایک سسکی بھی نہیں نکلی تھی۔ابھی بھی اسکا پورا وجود زخموں سے دکھ رہا تھا لیکن وہ بس دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
جسم کے وہ زخم تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں تھے جو زخم اس کے دل پر لگے تھے۔ویرہ نے اپنی آنکھیں بند کیں تو مرجان کا مسکراتا ہوا چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے آیا تھا۔
چلے جاتے ہیں یہاں سے دور بہت دور جہاں آپ کے اور میرے سوا کوئی نہ ہو کوئی مجبوری نہیں،کوئی پابندی نہیں بس ہم اور ہمارا محبت۔۔۔
مرجان کے الفاظ یاد کر کے ویرہ کرب سے اپنی آنکھیں بھینچ گیا۔اس کال کوٹھری میں اسے بند ہوئے شائید پندرہ دن گزر چکے تھے اور اب شائید اس نے ساری زندگی یہیں گزارنی تھی اسکے بنا اسکی یادوں کے سہارے۔
“باچا۔۔۔۔نہیں چھوڑو۔۔۔میرے باچا کو۔۔۔”
ویرہ کو مرجان کا اسکے لیے رونا تڑپنا یاد آیا تو دو آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر اسکے گال پر بہے۔کاش کاش وہ اسے ایک بار دیکھ سکتا صرف ایک بار اس سے مل کر یہ کہہ سکتا کہ۔۔۔۔کہ وہ بھول جائے اسے زندگی میں آگے بڑھ جائے کیونکہ اسکا مقدر یہ کوٹھری اور اسکی چار دیواری سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔
دروازہ کھلنے کی چرچراہٹ پر ویرہ خیالوں کی دنیا سے باہر آیا اور دروازے کی جانب دیکھا جہاں آرمی یونیفارم میں ملبوس ایک افسر کوٹھری میں داخل ہوا تھا۔
“کیسے ہو ویرہ۔۔۔؟”
اس افسر نے ویرہ کے پاس آتے ہوئے پوچھا اور کوٹھری میں موجود بینچ پر بیٹھ گیا جو کہ ویرہ کا بستر تھا۔
“پتہ چلا کہ تم بہت سخت جان ہو جواب دینا تو کیا تمہارے ہونٹوں سے ایک آہ تک نہیں نکلی۔۔۔”
اس افسر نے مسکرا کر کہا جبکہ ویرہ بس مردہ آنکھوں سے ایک غیر مرئی نقتے کو دیکھتا جا رہا تھا۔
“خیر میرا نام شہریار بنگش ہے فوج میں مجھے جنرل شہیر کہا جاتا ہے۔۔۔”
جنرل شہیر نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا۔
“اور میں تمہارے بارے میں سب جانتا ہوں ویرہ۔۔۔یہ بھی کہ تمہارا اصلی نام ویرہ نہیں بلکہ عبداللہ میر ہے ایڈوکیٹ سجاد میر کے بیٹے۔۔۔”
اب کی بار ویرہ نے نظریں اٹھا کر جنرل شہیر کی جانب دیکھا۔
“سب جانتے ہیں انکے گھر والوں کے ساتھ کیا ہوا تھا۔۔۔۔یہ بھی کہ انکا ایک بیٹا بچ گیا تھا جو ہسپتال سے کہیں بھاگ گیا لیکن کسی کو پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں گیا۔۔۔”
جنرل شہیر نے ایک سرد آہ بھری۔
“ایڈوکیٹ سجاد کو پوری عوام اس قوم کا ہیرو مانتی ہے جس نے انصاف کی خاطر سر کٹا تو لیا لیکن سر جھکایا نہیں۔۔۔لیکن اگر اس عزیم انسان کے بیٹے کو دنیا جانے گی تو کیا بنے گا اس عزت کا۔۔۔”
جنرل شہیر کی بات پر ویرہ اپنی مٹھیاں غصے سے بھینچ گیا۔
“غصہ آ رہا ہے؟ آنا بھی چاہیے جو کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے اور یہ بات تم بھی جانتے ہو۔۔۔”
جنرل شہیر کے لہجے میں کوئی طنز نہیں تھا بس انہوں نے عام سی بات کہی تھی۔
“لیکن جو تم نہیں جانتے۔۔۔۔میں وہ تمہیں بتانے آیا ہوں۔۔۔”
جنرل شہیر نے ایک فائل پکڑ کر ویرہ کے سامنے کی اور باہر کھڑے سپاہی کو لائٹ جلانے کا اشارہ کیا۔کچھ دیر کے بعد کوٹھری میں موجود بلب جل اٹھا۔ویرہ نے اس فائل کو کھول کر دیکھا جس میں کسی ڈاکٹر کا ذکر تھا۔
“یہ ڈاکٹر حسن تھے وہ ڈاکٹر جنہوں نے سجاد میر کے بیٹے عبداللہ میر کی جان بچائی تھی۔”
اس بات پر ویرہ نے حیرت سے جنرل شہیر کو دیکھ کر فائل پر موجود تصویر کو دیکھا۔وہ مہربان سا ڈاکٹر اسے یاد آیا۔
“جانتے ہو اس ڈاکٹر کو اس بچے کی جان بچانے کی وجہ سے دھمکایا جاتا رہا لیکن پھر بھی اس نے اس بچے کی جان بچائی۔۔۔۔”
ویرہ کی نظریں بس فائل پر موجود آدمی کی تصویر پر ٹکی تھیں۔
” یہ شخص اب زندہ نہیں۔۔۔”
ویرہ نے حیرت سے جنرل شہیر کو دیکھا۔
“دو سال پہلے اس کے ہاسپٹل میں ایک دھماکہ ہوا تھا جس میں یہ ڈاکٹر اپنے مریضوں کے ساتھ شہید ہو گئے۔”
اب کی بار ویرہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“اور جانتے ہو وہ دھماکہ کس نے کیا تھا؟۔۔۔۔راگا نے۔۔۔۔تمہارے بنائے ہوئے بم سے۔۔۔”
اس بات پر ویرہ کو لگا کہ اسکا دل بند ہو جائے گا وہ فائل اسکے ہاتھوں سے چھوٹ کر نیچے گری تھی۔
“دنیا کو سزا دینا چاہتے تھے ناں تم اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کی سزا۔یہ تو وہ شخص تھا جس نے اپنی جان کی پرواہ نہ کر کے تمہیں بچایا تھا۔۔۔اسکا کیا قصور تھا ویرہ۔۔۔؟”
ویرہ پھٹی آنکھوں سے سامنے موجود دیوار کو دیکھ رہا تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے جنرل شہیر نے اپنے الفاظ سے اسکی روح فنا کر دی ہو۔
“مانتا ہوں تم پر ظلم ہوا لیکن ظلم کا ہونا ہمیں ظالم بننا تو نہیں سیکھاتا۔۔۔بولو ویرہ کیا فرق رہ گیا تم میں اور ان لوگوں میں جنہوں نے تمہارے گھر والوں کو مارا تھا۔۔۔۔؟”
جنرل شہیر نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“کچھ نہیں کوئی فرق نہیں رہا۔۔۔ظلم انہوں نے بھی کیا اور تم نے بھی۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر جنرل شہیر اٹھ کر وہاں سے چلے گئے اور ویرہ کی نظر پاس پڑی اس فائل پر گئی۔اس نے اپنے بال مٹھیوں میں دبوچے اور چیخ چیخ کر رونے لگا۔اسکی آہ و پکار میں اتنا درد تھا کہ باہر کھڑا سپاہی بھی اسے رحم سے دیکھنے لگا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان گم سم سی اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔الماس ابھی اسے کھانا کھلا کر گئی تھی۔ان سب کی زندگی عماد نے سیٹ کر دی تھی۔گل ایک سکول میں جا رہی تھی اور دلاور کا علاج چل رہا تھا جس سے اسکی طبیعت کافی بہتر بھی ہونے لگی تھی۔
اگر کوئی ابھی بھی سنبھل نہیں سکا تھا تو وہ مرجان تھی جو بس مردہ حالت میں ایک جگہ پڑی رہتی تھی۔نہ کسی سے بات کرتی تھی اور نہ ہی ہنستی تھی۔اگر الماس اور گل اسکے کھانے کا دھیان نہ رکھتیں تو وہ شائید کھانا بھی بھول جاتی۔
الماس کو اسکی بہت پروا تھی۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ اپنی بیٹی کے اس غم کو کیسے کم کریں۔
“اسلام و علیکم اماں۔۔۔”
عماد کی آواز پر الماس مسکرا دیں۔وہ ہمیشہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے اونچی سلام لینے کا عادی تھا۔
“و علیکم السلام کیسے ہو بیٹا؟”
الماس نے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا تو عماد مسکرا دیا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں بس یہ گول گپے راستے میں دکھے تو اپنی بہنوں کے لیے لے آیا۔کہاں ہیں وہ؟”
عماد نے گول گپے پلیٹ میں نکالتے ہوئے پوچھا تو الماس مسکرا دیں۔عماد کو لے کر انکے سارے خدشات دور ہو چکے تھے کیونکہ عماد کی آنکھوں میں ان کی بیٹیوں کے لیے وہ ہی عزت تھی جو وہ دلاور کی آنکھوں میں دیکھتی تھیں۔
“گل تو ابھی سکول ہے دلاور اسے لینے گیا ہے مرجان اپنے کمرے میں ہے۔۔۔۔”
مرجان کے ذکر پر الماس کے لہجے میں افسردگی آئی تھی۔
“ٹھیک ہے میں اسے خود یہ دے کر آتا ہوں۔۔۔”
عماد اتنا کہہ کر مرجان کے کمرے کی جانب چل دیا۔کمرے میں آ کر اس نے مرجان کو دیکھا جو گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھی تھی۔عماد نے ایک کرسی اسکے پاس رکھی اور اس پر بیٹھ کر گول گپے اسکے سامنے کیے۔
“یہ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا چلو اب جلدی سے سارے کھا لو پھر گل آئے گی تو اسے خوب چڑانا۔۔۔”
عماد نے ناک سکیڑ کر کہا لیکن مرجان نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“اچھا تو میری بہن کو گول گپے پسند نہیں کچھ اور کھائے گی تو بتاؤ مجھے کیا کھانا ہے وہ لے کر آتا ہوں۔۔۔”
مرجان کے پھر سے کوئی جواب نہ دینے پر عماد نے گہرا سانس لیا۔
“کچھ تو بولو مرجان ایسے تو مت کرو خود کے ساتھ۔۔۔”
عماد نے سنجیدگی سے کہا لیکن جب مرجان مسلسل خاموش رہی تو وہ اٹھ کر وہاں سے جانے لگا۔
“راگا لالہ۔۔۔”
مرجان کی آواز نے عماد کے قدم روکے اس نے حیرت سے مڑ کر مرجان کو دیکھا۔
“میں جانتی ہوں آپ راگا لالہ ہو۔۔۔”
عماد واپس اسکے پاس آیا اور اپنے سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔
“میں راگا کیسے ہو سکتا ہوں ہمارا تو چہرہ بھی نہیں ملتا۔۔۔”
عماد کی بات پر مرجان نے مردہ آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“لیکن یہ آنکھیں۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپ راگا لالہ ہو۔۔۔۔۔”
مرجان نے بھرپور یقین سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
“راگا مر چکا ہے مرجان بھلا میں کیسے ۔۔۔”
“نہیں آپ وہ راگا نہیں وہ سفاک درندہ تھا جس کی آنکھوں میں کسی کے لیے عزت نہیں تھا لیکن جب آپ فوج کے پاس سے آیا تو آپ وہ راگا نہیں تھا لالہ۔۔۔۔۔آپ بس وہ راگا نہیں تھا۔۔۔”
عماد نے اسکی بات پر گہرا سانس لیا۔
“میں تمیں سچ نہیں بتا سکتا مرجان مجھے اجازت نہیں۔۔۔”
عماد نے مجبوری سے کہا لیکن مرجان کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اسکے پاس بیٹھ گیا۔
“دیکھو جو تمہیں بتاؤں وہ بس ہمارے درمیان رہے گا وعدہ؟”
مرجان نے فوراً ہاں میں سر ہلایا۔عماد نے گہرا سانس لیا۔
“ہاں میں ہی راگا تھا لیکن میں راگا ہو کر بھی راگا نہیں تھا۔۔۔۔”
اس بات پر مرجان نے نہ سمجھی سے اسے دیکھا۔
“میرا پورا نام عماد بنگش ہے مرجان۔۔۔میجر عماد بنگش،جنرل شہریار بنگش کا بیٹا اور میں فوج میں ہوں۔۔۔۔۔”
اس بات پر مرجان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“فوج نے راگا کو کبھی قید سے آزاد کیا ہی نہیں تھا بلکہ اسکی جگہ میں آیا تھا راگا بن کر،روپ بدل کر تا کہ اسکے ساتھیوں کو پکڑ سکوں۔۔۔۔”
عماد کی بات پر دو آنسو ٹوٹ کر مرجان کی آنکھوں سے گرے۔
“میں نہیں دیکھ سکتا تھا تم سب کے ساتھ کچھ غلط ہو میں جانتا ہوں تم سب معصوم تھے اسی لیے میں تم سب کو اپنے پاس لے آیا۔۔۔۔اور وعدہ کرتا ہوں اپنی آخری سانس تک تم لوگوں کا خیال رکھوں گا ۔۔۔”
عماد نے اسکے سر پر اپنا ہاتھ رکھا اور اٹھ کر وہاں سے جانے لگا۔
“لالہ۔۔۔۔”
مرجان نے تڑپ کر اسے پکارا تو عماد نے اسکی جانب دیکھا جو اب سسک سسک کر رونے لگی تھی۔
“وہ۔۔۔۔وہ کیسے ہیں لالہ۔۔۔؟”
مرجان کے سوال پر عماد کرب سے اپنی آنکھیں موند گیا۔اب وہ اسے کیا جواب دیتا کہ اسکا شوہر اپنے گناہوں کی سزا کال کوٹھری میں کاٹ رہا تھا۔
“اسے بھول جاؤ مرجان ۔۔۔۔”
عماد نے بے رحمی سے کہا تو مرجان نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“کیا آپ سانس لینا بھول سکتا ہے۔۔۔۔؟”
عماد نے آنکھیں موند کر سرد آہ بھری۔
“اس نے جو راہ چنی مرجان اس پر بس کانٹے ہیں اور کچھ نہیں۔۔۔۔”
اتنا کہہ عماد نے وہاں سے جانا چاہا۔
“کیا کانٹا ہے۔۔۔۔مجھے بتاؤ لالہ کیا ہے انکا سزا مجھے جاننا ہے۔۔۔”
مرجان نے عماد کے سامنے آ کر کہا تو عماد بے بسی سے اسے دیکھنے لگا۔
“مرجان۔۔۔”
“نہیں لالہ بتاؤ مجھے کیا انجام ہو گا ان کا۔۔۔”
مرجان نے روتے ہوئے پوچھا تو عماد اپنا ماتھا سہلانے لگا پھر اس نے مرجان کو سچ بتانے کا فیصلہ کیا۔
“صرف دو۔۔۔یا عمر بھر کی قید یا۔۔۔”
“یا؟”
عماد کے خاموش ہو جانے پر مرجان نے بے چینی سے پوچھا۔اسے لگ رہا تھا اسکا دل بند ہو جائے گا۔
“یا موت۔۔۔۔”
مرجان کا دل سچ میں رک گیا تھا سانس سینے میں ہی اٹک چکا تھا۔اسکا سر بری طرح سے چکرایا۔اس سے پہلے کہ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گرتی عماد نے اسے تھام لیا۔
وہ اور الماس فوراً اسے ہسپتال لے کر گئے تھے اور اب بے چینی سے ہسپتال کے ہال میں ٹہل رہے تھے۔تبھی ڈاکٹر وارڈ سے باہر آئی تو عماد بے چینی سے انکے پاس گیا۔
“سب ٹھیک ہے ناں ڈاکٹر؟”
“آپ انکے ہزبینڈ ہیں؟”
ڈاکٹر نے عماد کے سوال پر اپنا ہی سوال کیا تو عماد نے انکار میں سر ہلایا۔
“میں اسکا بڑا بھائی ہوں۔۔۔”
عماد کی بات پر ڈاکٹر نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“مبارک ہو مسٹر آپ ماموں بننے والے ہیں۔۔۔۔”
ڈاکٹر کے الفاظ پر عماد اپنی آنکھیں موند گیا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ خوش ہو یا اپنی بہن کی قسمت پر آنسو بہائے۔