Dil E Janaa By Harram Shah Readelle50197 Episode 13 Part 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13 Part 3
(ایک سال بعد)
“میں سچے دل سے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص دل سے پاکستان کا حامد اور وفا دار رہوں گا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی حمایت کروں گا اور یہ کہ میں پاکستان کی فوج میں رہ کر پاکستان کی خدمت ایمانداری اور وفاداری کے ساتھ انجام دوں گا اور یہ کہ میں زمینی ،بحری یا فضائی راستے سے جہاں بھی جانے کا حکم ملا جاؤں گا اور یہ کہ میں اپنی جان کو اپنے ملک کی خاطر وقف کرنے سے نہیں کتراؤں گا۔”
عبداللہ نے حلف نامے پڑھ کر اس پر دستخط کیے اور اپنے سامنے موجود افسران کو دیکھا جنہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا اور پھر اس سے ہاتھ ملا کر اسے فوج میں خوش آمید کہا۔
“کانگریچولیشنز مسٹر عبداللہ میر سب کو موقع نہیں ملتا راہ راست پر چلنے کا لیکن آپ کو ملا ہے امید ہے آپ اس موقع کے دل سے قدر کریں گے۔”
جنرل شہیر نے عبداللہ کے پاس آ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“شیور سر۔”
عبداللہ نے انہیں سیلیوٹ کر کے کہا تو وہ مسکرا دیے۔
“اوکے جنٹلمین اب ہم نے آپ کو آزاد کیا جا کر اپنے دوست سے مل لیں تب سے باہر بے چینی سے ٹہل رہا ہے۔۔۔۔”
جنرل شہیر نے باہر کی جانب اشارہ کیا تو ویرہ انہیں سیلیوٹ کرتا باہر آ گیا جہاں عماد بے چینی سے اسکا انتظار کر رہا تھا۔
“گڈ ایوننگ میجر۔۔۔”
عماد کو دیکھ کر عبداللہ نے جی جان سے سیلیوٹ کرتے ہوئے کہا تو عماد اسکی جانب پلٹا اور حیرت سے اسے دیکھا۔عبداللہ اس وقت آرمی یونیفارم میں ملبوس تھا جو شائید اسے حلف اٹھانے کے لیے دیا گیا تھا کیونکہ عبداللہ نے عماد کے ساتھ کام کرنا تھا اور انہیں یونیفارم درکار نہیں تھا۔
“میجر کے بچے گلے مل یہ سیلیوٹ کسی اور کو مارنا۔۔۔”
عماد نے عبداللہ کو گلے لگایا تو وہ ہنس دیا اور عماد نے بھی اس سے دور ہو کر مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔اس وقت اسے آرمی یونیفارم میں دیکھ کر عماد کی آنکھوں میں ایک مان ایک غرور تھا جیسے کسی باپ کی آنکھوں میں اپنی اولاد کو کامیاب دیکھ کر ہوتا ہے۔
“چلو اب چینج کر لو چلنا ہے ہمیں۔”
“کہاں؟”
ویرہ نے اپنے ہوسٹل کے کمرے کی جانب جاتے ہوئے پوچھا تو عماد بھی اسکے ساتھ ساتھ چل دیا۔
“فلحال زرا کسی ریسٹورنٹ میں چلیں گے کھانا کھائیں گے پھر ساری رات گھومیں گے پھریں گے عیاشی کریں گے دونوں یار مل کر۔۔۔”
عبداللہ کے ماتھے پر یہ بات جان کر بل آئے اور اس نے انکار میں سر ہلایا۔
“مجھے بس میرے گھر جانا ہے تم نہیں جانتے عماد یہ ایک سال میں نے کس قدر بے چینی سے کاٹا ہے۔۔۔”
عبداللہ کی چہرے پر خواب کی سی کیفیت ایک تھی۔
“جانتے ہو جب انسان میں کوئی امید باقی نہ ہو تو وہ اپنی ساری زندگی اندھیرے میں قید بھی گزار لے لیکن جب امید کی روشنی سورج کی کرن بن کر اس پر پھوٹ رہی ہو تو ایک سیکنڈ بھی ہزار سالوں کی مانند لگتا ہے۔”
ویرہ نے مسکرا کر کہا اور اپنے کپڑے طے کر کے اپنے بیگ میں رکھنے لگا۔
“واہ تم تو فلاسفر ہو گئے ہو بھئی۔”
“زندگی سب سیکھا دیتی ہے۔۔۔”
عبداللہ نے کندھے اچکا کر کہا اور کپڑے پکڑ کر واش روم میں چینج کرنے کے لیے چلا گیا۔کچھ دیر کے بعد ہی وہ نیلی جینز کی پینٹ پر ایک بلیک شرٹ پہنے باہر آیا اور اپنے چھوٹے چھوٹے بالوں میں ہاتھ چلا کر انہیں سیٹ کیا۔
“چلو۔۔۔”
عبداللہ نے کہا تو عماد جو اسے ہی دیکھ رہا تھا مسکرا دیا۔
“بالکل بدل گئے ہو تم ایک نئے انسان بن گئے ہو اور یہ تبدیلی بہت اچھی ہے۔”
عماد کی بات پر عبداللہ بھی مسکرا دیا۔
“میرے بدلنے کی وجہ اگر کوئی ہے تو بس میری مرجان اور میرا بیٹا۔۔۔”
عماد کے ماتھے پر شکن نمایاں ہوئی اور وہ جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“پچھلے سال تک تو وجہ میں تھا واہ بھئی بیوی کے پاس کیا جا رہے ہو پارٹی ہی بدل لی۔”
عماد کا بسورا ہوا منہ دیکھ کر عبداللہ ہنس دیا۔
“تم نے میرا ساتھ نبھایا لیکن وجہ میری مرجان اور قلب ہی تھے۔انکی محبت نے مجھ میں بدلنے اور جینے کی چاہ پیدا کی جسکے بغیر میں بس ایک بے جان وجود تھا،بالکل کورا جزبات سے عاری۔۔۔سمجھ گئے ناں۔”
عبداللہ نے اسے سمجھانا چاہا۔
“سمجھ گیا جی سب سمجھ گیا۔”
“کیا سمجھے؟”
عبداللہ نے اپنے چوڑے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا۔
“یہی کی تم زن مرید ہو۔۔۔۔”
عماد نے شرارت سے کہا تو عبداللہ ہنسنا شروع ہوا اور ہنستا ہی چلا گیا جبکہ اسے ہنستا دیکھ عماد مسکرا کر اسکے پاس آیا اور اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“چلو عبداللہ تمہارے سب امتحان آج ختم ہوئے،تمہاری خوشیاں اور تمہاری زندگی تمہاری راہ دیکھ رہی ہیں۔۔۔۔”
عماد کی بات پر عبداللہ نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنے بیگ کو کندھے پر ڈالتا اسکے ساتھ اپنی نئی منزل کی جانب چل دیا۔جہاں خوشیاں اسکی منتظر تھیں،اسکی دلِ جاناں اسکی منتظر تھی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
“یہ پہنو مرجان یہ بہت پیارا لگے گا تم پر۔۔۔۔”
وانیا نے ایک لال رنگ کا فراک مرجان کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا جسکی سینے پر گولڈن کام ہوا تھا جبکہ باقی چنٹوں والا حصہ نیٹ کا تھا جو پیروں تک آتا تھا۔
“یہ تو بہت بھاری ہے وانی کسی کا شادی تھوڑا ہے جو میں یہ پہنوں اور تم مجھے بتا بھی تو نہیں رہا کہ مجھے تیار کیوں کر رہی ہو۔۔۔”
مرجان نے الجھن سے پوچھا تو وانیا سرد آہ بھر کر رہ گئی۔ایک سال سے وہ خوشی کی یہ خبر اپنی دوست سے کیسے چھپائے بیٹھی تھی یہ بس وہی جانتی تھی۔عماد نے اسے اپنی قسم سے باندھا نہ ہوتا تو وہ کب کا مرجان کو سب بتا چکی ہوتی۔
“ارے بتایا تو ہے یارم کا برتھ ڈے ہے۔۔۔”
وانیا نے جان چھڑانے کے لیے کہا۔
“یارم کا برتھ ڈے تو تین مہینے پہلے ہی ہوا تھا اب تین مہینوں میں دوسرا برتھڈے کیسے آ گیا۔”
مرجان کی بات پر وانیا نے سر پکڑ لیا۔
“وہ بس اسکے دادا کی خواہش پر دوبارہ کر رہے ہیں تم زیادہ سوال مت کرو اور تیار ہو ناں۔۔۔دیکھو گل،دلاور اور اماں عماد کے ساتھ چلے بھی گئے ہیں بس ہم بچے ہیں۔۔۔”
مرجان نے گہرا سانس لیا اور کپڑے پکڑ کر واش روم میں چلی گئی۔وانیا نے مسکرا کر یارم اور قلب کو دیکھا جو ایک کونے میں بیٹھے کھیل رہے تھے۔
وانیا نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا اور انکے پاس آئی۔
“ماما کی جان۔۔۔۔خالہ کی جان۔۔۔۔”
وانیا نے پہلے یارم اور پھر قلب کا گال چوم کر کہا تو دونوں ہنس دیے۔یارم تو اسکا بیٹا تھا ہی لیکن قلب بھی اسکے اور عماد کے بہت قریب تھا اور یارم تو قلب کی جان تھا جسے دیکھتے ہی وہ خوشی سے جھوم اٹھتا تھا۔
“ماما۔۔۔باؤ۔۔۔۔”
قلب نے پیچھے دیکھ کر کہا اور جلدی سے اٹھ کر مرجان کے پاس گیا جو لال فراک پہن کر باہر آئی تھی۔
قلب نے اسکا فراک پکڑ کر پھر سے باؤ(واؤ) کہا تو مرجان نے مسکرا کر اسے باہوں میں اٹھا لیا۔اسکا بیٹا ہی تو اسکی جان تھا۔
“اسے چھوڑو ناں اور تیار ہو جلدی سے ٹائم نہیں ہے۔۔۔”
وانیا نے بے چینی سے کہا اور قلب کو اسکی باہوں سے لے کر زمین پر کھڑا کیا۔پھر ایک لال رنگ کی سینڈل لا کر مرجان کے پیروں میں رکھی۔
“وانیا یہ بہت اونچا ہے میں گر جاؤں گی اسے پہن کے۔۔۔”
مرجان نے اسکی ہائی ہیلز دیکھتے ہوئے کہا۔
“کچھ نہیں ہوتا یہی پہنو گی تم۔۔۔”
مرجان نے گہرا سانس لے کر وہ جوتا پہننے لگی جب قلب نے دوسرا جوتا پکڑا اور اسکے پیروں میں رکھ کر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اسے پہنانے لگا۔
“ہائے تمہارا بیٹا کتنا سویٹ ہے ناں کتنا خیال ہے اسے تمہارا اور میرا شہزادہ۔۔۔”
وانیا نے اتنا کہہ کر یارم کی جانب دیکھا تو اسکی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔
“یارم۔۔۔۔”
وانیا بھاگ کر اسکے پاس آئی اور اسکے ہاتھ سے لال رنگ کی لپسٹک پکڑی جو وہ کھانے میں مصروف تھا۔وانیا کو دیکھ کر یارم نے اپنے چار دانت دیکھائے جو لال ہو چکے تھے۔
“یا اللہ کیا کروں میں اسکا۔۔۔”
وانیا نے اسے باہوں میں اٹھایا اور واش روم لے گئی۔تھوڑی دیر کے بعد وہ یارم کو منہ صاف کر کے باہر آئی تب تک مرجان بھی جوتا پہن چکی تھی۔وانیا نے یارم کو قلب کے پاس کھڑا کیا اور خود مرجان کے پاس آئی جو اپنے بالوں کی چوٹی بنا رہی تھی۔
“ارے کھلے چھوڑو انہیں اتنے پیارے بال ہیں تمہارے۔۔۔ “
وانیا نے خود اسکے بال پکڑ کر کھول دیے اور ان میں کنگھی کرنے لگی۔
“توبہ وانیا میں ایسے بال کھول کر کہیں نہیں جاتا ماڑا۔۔۔”
وانیا اسکی بات پر مسکرائی۔
“اچھا گاڑی میں بیٹھ کر باندھ لینا ابھی کھلے ہی رہنے دو۔۔۔”
وانیا نے اسے بالوں میں کنگھی کی اور لال رنگ کی لپسٹک اسکی جانب کی۔
“لو یہ بھی لگاؤ اور یہ گجرے پہنو اچھے لگیں گے۔۔۔”
مرجان نے منہ بسور کر لپسٹک کو دیکھا لیکن وانیا کے گھورنے پر وہ پکڑ کر لگا لی۔
“وانیا۔۔۔”
عماد کے پکارنے پر وانیا نے اسے آئی کہا اور خود یارم اور قلب کو باہوں میں اٹھا لیا۔
“رکو قلب کو میں اٹھاتی ہوں ناں۔۔۔”
مرجان نے آگے بڑھنا چاہا۔
“نہیں میں لے جاؤں گی تم گجرے پہن کر آنا ورنہ ناراض ہو جاؤں گی۔۔۔۔”
وانیا نے جلدی سے کہا اور قلب اور یارم کو لے کر وہاں سے چلی گئی۔مرجان نے سرد آہ بھر کر وہ گجرے بھی ہاتھوں میں پہن لیے اور پھر دوپٹہ ایک کندھے پر ڈال کر چادر ہاتھ میں پکڑتی باہر ہال میں آ گئی لیکن گاڑی کے جانے کی آواز پر اسکے ماتھے پر بل آ گئے۔
“وانی اور لالہ مجھے بھول گئے کیا؟”
مرجان نے حیرت سے سوچا اور ہال میں موجود فون کی جانب بڑھی تا کہ عماد کو فون کر سکے۔تبھی اسکو اپنے پیچھے کسی کی آہٹ محسوس ہوئی۔
مرجان نے پلٹ کر دیکھا اور ہاتھ میں پکڑا ریسیور اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرا۔وہ بدل چکا تھا پینٹ شرٹ پہنے چھوٹے بالوں اور داڑھی کے بغیر چہرے کے ساتھ وہ بالکل ایک مختلف انسان لگ رہا تھا لیکن کیا ایسا ہو سکتا تھا کہ مرجان اپنے باچا کو نہ پہچانتی وہ تو ہزاروں میں بھی اسکا چہرہ پہچان لیتی۔
“باچا۔۔۔”
مرجان نے ہلکی سی سرگوشی کی اور کتنے ہی آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے۔عبداللہ خود بھی جگہ پر جما بس اسے دیکھتا جا رہا تھا۔آج تین سال کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔
ایک دوسرے کو پھر سے دیکھنے کی ایک ہونے کی چاہ تو ان کے دلوں میں کب سے دبی تھی لیکن دونوں کو ہی یہ لگا تھا کہ ایسا ناممکن ہے۔یہ زندگی انہیں ایک دونوں کے بغیر کاٹنی ہے لیکن ہمارے رب کے لیے نہ ممکن کچھ بھی نہیں اور ان دونوں کا ایک دوسرے کے سامنے ہونا اس بات کی جیتی جاگتی مثال تھا۔
“ی۔۔۔یہ سچ میں آپ۔۔۔آپ ہیں باچا۔۔۔ممم۔۔۔میں خواب تو نہیں دیکھ رہا ۔۔۔۔۔آآ ۔۔۔۔آپ لوٹ آیا؟”
مرجان نے روتے ہوئے پوچھا تو عبداللہ اپنے آنسو پونچھ کر اسکی جانب بڑھنے لگا۔
“چھو کر دیکھ لو۔۔۔”
عبداللہ نے اپنا ہاتھ اسکے سامنے کیا تو مرجان کتنی ہی دیر اسکے ہاتھ کو دیکھتی رہی پھر اس نے آہستہ سے عبداللہ کا ہاتھ تھام لیا۔اسے سچ میں ہاں پا کر مرجان کی بس ہوئی تھی اس نے عبداللہ کا ہاتھ اپنے ماتھے سے لگایا اور سسک سسک کر رونے لگی۔
عبداللہ نے اسے کھینچ کر اپنی باہوں میں کے لیا۔دل ایک بار پھر سے دھڑکنا شروع ہوا تھا،اسے لگنے لگا تھا وہ بھی زندہ ہے۔
مرجان کتنی ہی دیر اسکی باہوں میں کھڑی روتی رہی تھی اور عبداللہ اسے اپنے قریب محسوس کرتا نم آنکھیں موندے اپنے دل میں سکون اتارتا رہا تھا۔
“باچا یہ سچ میں آپ ہیں۔۔۔۔آپ۔۔۔ آپ اب کبھی جائیں گے تو نہیں۔۔۔میں آپ کو نہیں جانے دوں گی ۔۔۔۔کہیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔”
مرجان نے اسکے گرد اپنی پکڑ مظبوط کرتے ہوئے کہا تو عبداللہ مسکرا دیا اور اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔
“نہیں مرجان اب میں کبھی دور نہیں جاؤں گا تم سے اور اپنے بیٹے سے۔ میں لوٹ آیا ہوں تم دونوں کے پاس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔”
عبداللہ نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر انگوٹھے سے اسکے آنسو پونچھے۔
“آپ۔۔۔۔آپ نے قلب کو دیکھا وہ بالکل آپ کے جیسا ہے۔۔۔”
اسکی بے چینی پر ویرہ مسکرا دیا۔
“ہاں دیکھا اسے اپنی باہوں میں اٹھایا پیار کیا۔۔۔”
“لیکن وہ ہے کہاں۔۔۔۔؟”
مرجان نے بے چینی سے پوچھا۔
“عماد اسے اپنے ساتھ لے گیا۔”
“کیوں؟”
مرجان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“شائید اس لیے کہ یہ وقت میں تمہارے ساتھ گزار سکوں۔۔ “
عبداللہ نے اسکا گال اپنے انگوٹھے سے سہلایا تو مرجان کے گالوں پر سرخی نمایاں ہوئی اور اس نے ہاتھ بڑھا کر عبداللہ کے بالوں کو چھوا جو اب کاٹ دیے گئے تھے۔
“آپ بہت بدل گئے ہیں باچا۔۔۔”
مرجان نے مسکرا کر کہا۔
“ہاں دلِ جاناں بدل گیا ہوں میں سر سے پیر تک ایک نیا انسان بن گیا ہوں۔اب میں وہ ویرہ نہیں رہا عبداللہ بن گیا ہوں اور یہ سب صرف تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔”
“میری وجہ سے؟”
مرجان نے حیرت سے پوچھا۔
“ہاں مرجان تمہاری وجہ سے۔تم نے جو کہا تھا کر دیکھایا۔تم نے کہا تھا کہ تمہاری محبت مجھے بدل دے گی مجھ میں موجود نفرت اور برائی کو مٹا کر مجھے سب کو چاہنے پر مجبور کر دے گی اور دیکھو آج ایسا ہی ہوا۔بدل دیا تم نے مجھے۔مٹا دی میرے دل میں موجود نفرت اور رنگوں سے بھر دی میری زندگی۔۔۔۔”
مرجان اسکی بات پر نم آنکھوں سے مسکرا کر اسکے گلے سے لگ گئی اور ویرہ بھی اسے اپنی باہوں میں لیتا سکون سے آنکھیں موند گیا۔کتنی ہی دیر وہ دونوں ایک دوسرے کی باہوں میں کھڑے اپنے دل میں سکون اتارتے رہے تھے۔ایک دوسرے کو یہ یقین دلاتے رہے تھے کہ وہ ایک ہیں اب کبھی ایک دوسرے سے دور نہیں ہوں گے۔
کچھ اور تھا میں کچھ اور ہی تھا
تو نے ہی مجھ کو نکھارا ہے
اب جو مجھ بھی مجھ میں پیارا ہے
وہ ہر رنگ تمہارا ہے
جو کل تھا تیرا ساتھ ملے
ہاتھوں میں نہ یہ ہاتھ رہے
کچھ آدھے ادھورے لمحے لیے
دل کا یہ شہر سجاؤں گا
میں پھر بھی تم کو چاہوں گا
میں پھر بھی تم کو چاہوں گا
اس چاہت میں مر جاؤں گا
میں پھر بھی تم کو چاہوں گا۔
ایک دوسرے کی پناہوں میں کھڑے ان دونوں کو وقت کا اندازہ ہی نہیں رہا تھا پھر مرجان ایک خیال کے تحت اس سے دور ہوئی۔
“آپ کو بھوک لگا ہو گا مم۔۔۔میں کھانا لگاتی۔۔۔”
مرجان نے کچن کی جانب جانا چاہا لیکن عبداللہ نے واپس اسے اپنی جانب کھینچ کر اپنی باہوں میں لے لیا۔
“نہیں مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں بس تم میرے پاس رہو اور کچھ نہیں چاہیے مجھے اس دنیا میں۔۔۔”
عبداللہ نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے پھر نرمی سے اسکی آنکھوں کو چوما۔
“باچا۔۔۔آپ گھر دیکھیں ناں اتنا پیارا گھر دیا ہے عماد لالہ نے ہمیں تحفے میں۔۔۔”
مرجان نے اس کے جزبات پر بند باندھنے کی ایک اور کوشش کی لیکن اب وہ اسکے دونوں رخساروں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا۔
“مجھے تمہارے علاؤہ کچھ نہیں دیکھنا۔”
عبداللہ نے اسکے ہونٹ کے کونے کو نرمی سے چوما تو مرجان کا روم روم کانپ اٹھا۔
“ت۔۔۔تو آپ کو ٹی وی لگا دیتی ہوں بہت مزے کا چیز ہے بہت کچھ ملتا ہے اس پر سننے کو۔۔۔”
مرجان نے گھبراتے ہوئے کہا۔
“مجھے تمہارے علاؤہ کسی کو نہیں سننا۔۔۔”
اتنا کہہ کر عبداللہ نے اسکے لپسٹک سے سجے سرخ ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا۔مرجان نے کانپتے ہاتھوں میں اسکا گریبان جکڑا اور اسکی باہوں میں کھڑی اس کی محبت کو محسوس کرتی رہی۔
اچانک ہی عبداللہ اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا تو مرجان نے گھبرا کر اسے دیکھا۔
“باچا۔۔۔”
عبداللہ نے جانثار نگاہوں سے اسکا چہرہ دیکھا اور اس کمرے کی جانب چل دیا جہاں سے اس نے اسے آتے دیکھا تھا۔
“بولو جانِ باچا آج تمہیں دیکھنے،تمہیں سننے،تمہیں محسوس کرنے کے لیے ہی تو میں یہاں ہوں ۔۔۔۔۔”
عبداللہ نے اسے بیڈ پر لیٹایا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل پر رکھا۔
“یہ دل صرف تمہارے لیے دھڑکتا ہے دل جاناں یہ سانسیں صرف تمہارے لئے چلتی ہیں۔تمہارے بغیر میں کچھ نہیں۔۔۔”
اتنا کہہ کر عبداللہ نے اسکی نم پلکوں پر اپنے ہونٹ رکھے۔
“میں بھی آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی باچا۔۔۔”
مرجان نے محبت سے کہا تو عبداللہ اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔
“میرے جزبات تم سے زرا الگ ہیں۔۔”
“وہ کیسے؟”
مرجان نے مسکرا کر پوچھا تو عبداللہ نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگایا۔
“جانان نہ زمہ
تانہ زار شمہ ذہ”
عبداللہ نے اسکی آنکھوں کو چوم کر کہا تو مرجان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“قربان شمہ ذہ
جانان شمہ ذہ”
اب کی بار عبداللہ نے اسکے گال کو چوما۔
“جانان شمہ ذہ
قربان شمہ ذہ”
اتنا کہہ کر عبداللہ پھر سے اسکے ہونٹوں پر جھک گیا اور مرجان بس تکیہ اپنی مٹھیوں میں جکڑ کر رہ گئی۔جب عبداللہ اس سے دور ہوا تو مرجان نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔
“آپ نے یہ سب سنا تھا ممم۔۔مجھے لگا آپ سو رہے تھے۔”
مرجان نے وہ رات یاد کرتے ہوئے کہا جب وہ دونوں پہلی بار ایک دوسرے کے قریب آئے تھے جب مرجان نے اسکے سوتے ہوئے اسے یہ الفاظ کہے تھے۔
“ایسا ہو سکتا تھا ان پلوں کا ایک لمحہ بھی میں ضائع کر سکتا تھا وہ پل میرا سب کچھ تھے دلِ جاناں تم میرا سب کچھ ہو۔۔۔”
عبداللہ نے محبت سے کہا تو مرجان خود میں ہی سمٹ گئی۔عبداللہ کی نظروں سے اسکا یہ سمٹنا اور شرمانا چھپا نہیں رہا تھا۔اس نے مسکراتے ہوئے اس پر سے اسکا دوپٹہ ہٹایا اور اسکی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
“اب آپ پھر کبھی مجھ سے دور مت جائے گا باچا نہیں رہ سکتی آپ کے بغیر ۔۔”
مرجان نے نم آواز کہا۔عبداللہ نے اسکی گردن سے منہ نکال کر اسے دیکھا۔
“کل کا مت سوچو صرف ان پلوں کو محسوس کر جب ہم ایک دوسرے کے پاس ہیں۔یہ لمحات سب سے قیمتی ہیں دلِ جاناں۔۔۔”
اتنا کہہ کر عبداللہ نے اس کے نازک وجود کو اپنی گرفت میں لے لیا۔اتنے سالوں کی جدائی کا جنون اور شدت وہ آہستہ آہستہ اسکی رگوں میں انڈیلنے لگا۔
مرجان کو اپنی فراک کی زپ کھلتی محسوس ہوئی تو زور سے اپنی آنکھیں میچ گئی۔اسکے بعد اس نے اپنے کندھے سے شرٹ سرکتی محسوس کی تو عبداللہ سے دور ہونا چاہا۔
“باچا۔۔۔”
“جی دلِ جاناں۔۔۔”
عبداللہ نے بھی اتنی ہی محبت سے اسے پکارا اور اس سے دور ہو کر اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔اسکے چوڑے سینے پر نظر پڑتے ہی مرجان نے شرما کر اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور اسکی اداؤں پر جانثار ہوتے عبداللہ اپنی شرٹ اتار کر اس پر حاوی ہو گیا۔
گزرتی رات نے انکے درمیان موجود ہر دوری مٹا دی تھی۔ ان کے صبر کا پھل انہیں دیا جا چکا تھا آج وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تھے۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان اسکی باہوں میں سمٹی آنکھیں بند کیے اسکی محبت کو محسوس کر رہی تھی۔ابھی بھی وہ مرجان سے دور نہیں ہوا تھا۔ساری رات اپنی محبتوں اور شدتوں کی آنچ میں اس نے مرجان کو جلایا تھا۔اب تو فجر کی اذانیں ہونے لگی تھیں اور وہ ابھی بھی اسے اپنی آغوش میں بھرے اپنی محبت اس پر لٹا رہا تھا۔
“باچا۔۔۔اب چھوڑیں ناں مجھے دیکھیں کتنا دیر ہو گیا ہے۔۔۔”
مرجان نے اسے روکنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں اسکی گردن پر سرکتے ہونٹ رکے اور اسے دانت اپنی گردن پر گڑھتے محسوس ہوئے۔
“باچا میں تھک گئی ہوں ناں ۔۔۔۔”
مرجان نے محبت سے کہا تو عبداللہ نے اسکی گردن سے چہرہ نکال کر دیکھا۔
“اتنے سال میرے بغیر رہی ہو اب دوری کا سوچنا بھی مت ۔۔۔”
اتنا کہہ کر وہ پھر سے اسکی گردن پر جھک گیا اور مرجان بے بسی سے اسکی باہوں میں سمٹنے لگی۔اسے لگا تھا کہ اب اسکا دل بھر جائے گا لیکن اپنی تشنگی مٹانے کے باوجود جب وہ اس سے دور نہیں ہوا تو مرجان نے منہ بسور کر اسے دیکھا۔
“چھوڑیں ناں اب مجھے نماز پڑھنا ہے۔۔۔”
مرجان کے اتنا کہتے ہی عبداللہ نے فوراً اسکو چھوڑ دیا تو مرجان نے شرمیلی سی مسکان کے ساتھ اسے دیکھا اور جلدی سے واش روم میں بند ہو گئی۔
فریش ہو کر ایک ہلکا گلابی سوٹ پہنے وہ باہر آئی اور دوپٹے کا حجاب بنا کر جائے نماز بچا کر نماز پڑھنے لگی۔عبداللہ خواب کی سی کیفیت میں اسے دیکھتا جا رہا تھا۔
کوئی اس قدر پاکیزہ اس قدر معصوم کیسے دکھ سکتا تھا جتنی مرجان نماز پڑھتے ہوئے لگ رہی تھی۔سلام پھیر کر مرجان نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور نم پلکوں سے کتنی ہی دیر دعا مانگتی رہی۔ پھر اٹھ کر عبداللہ کے پاس آئی اور آیت الکرسی پڑھ کر اس پر پھونک ماری۔عبداللہ نے مسکرا کر اسکے معصوم چہرے کو دیکھا۔
“چلیں اب آپ بھی اٹھ کر نماز پڑھیں۔ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا ہے ناں کہ اس نے ہمیں پھر سے ملا دیا۔اس گناہ کی دنیا سے دور ایک عزت کی زندگی جینے کا موقع دیا۔بہت احسان ہیں اللہ کے ہم پر سب کا شکریہ ادا کرنا ہے ہمیں۔۔۔۔”
مرجان کی بات پر عبداللہ کے چہرے کی مسکان غائب ہوئی۔اس نے اپنے اعمال سے سب کو راضی کر لیا تھا سب کے دل جیت کر انہیں خود کو معاف کرنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن اپنے رب سے تو وہ کبھی معافی مانگ ہی نہیں پایا تھا۔اس میں ایسا کرنے کی ہمت ہی پیدا نہیں ہو رہی تھی۔
“کیا ہوا؟”
اسکے چہرے پر اضطراب دیکھ کر مرجان نے محبت سے پوچھا۔
“میں کس منہ سے نماز پڑھوں مرجان کیسے اللہ کے سامنے کھڑے ہو جاؤں۔۔۔جبکہ میرے گناہ میرے سامنے ہیں۔۔۔جبکہ میں جانتا ہوں میرے گناہوں کی کوئی بخشش نہیں۔۔۔۔”
عبداللہ نے پر خوف نگاہوں سے مرجان کی جانب دیکھا۔
“جانتی ہو جیل کی قید میں کتنی ہی بار رب سے معافی مانگنے کا سوچا لیکن کبھی ہمت نہیں ہوئی اسکے سامنے کھڑے ہونے کے احساس سے میری روح کانپ جاتی ہے۔۔۔۔میرے گناہوں کی کوئی معافی نہیں مرجان کوئی معافی نہیں۔۔۔”
اتنا کہہ کر عبداللہ نے اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپایا اور سسک سسک کر رو دیا۔اسکی اس حالت پر مرجان کی پلکیں بھی بھیگ گئیں۔اس نے عبداللہ کے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر اسے اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
“آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو معاف نہیں کریں گے۔اگر یہ حقیر انسان آپ کو معاف کر کے ایک موقع دے سکتے ہیں تو وہ تو رب العالمین ہے باچا۔۔۔”
مرجان نے اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کو صاف کیا۔
“پتہ ہے وہ ہم سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتے ہیں تو آپ کو کیسے لگا وہ آپ کو معاف نہیں کریں گے آپ معافی مانگ کر تو دیکھیں آپ کے دل کا ہر وسوسہ،سارا خوف ختم ہو جائے گا۔۔۔”
مرجان نے اسے محبت سے سمجھایا۔اس وقت وہ آنسو بہاتا اسے ایک چھوٹا سا بچہ لگ رہا تھا۔
“اگر نہیں معاف کیا تو؟”
“تو میں آپ کے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گی ہر نماز میں ہر دعا میں۔۔۔”
اسکی محبت ہر عبداللہ نے مسکرا کر اسکے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا دیا۔
“خدا نے تمہیں ایک تحفے کے طور پر دیا ہے مجھے مرجان۔۔۔سمجھ نہیں آتا کہ کیوں مجھ گناہ گار کو اس نے تم جیسی فرشتہ صفت دے دی۔۔۔۔”
عبداللہ کی بات پر مرجان مسکرا دی۔
“کیونکہ وہ رحمٰن ہے باچا آپ اس سے معافی مانگ کر تو دیکھ میرا رب خالی ہاتھ کسی کو نہیں لوٹاتا۔۔۔۔”
عبداللہ اثبات میں سر ہلاتا اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا۔کچھ دیر کے بعد وہ سفید شلوار قمیض پہنے واش روم سے باہر آیا اور مرجان کے بچھائے جائے نماز پر کھڑا ہو گیا۔
اس نے ہاتھ اٹھا کر اپنے کانوں کے پاس لے جانا چاہے لیکن اس میں ہمت ہی نہیں ہوئی تھی۔خوف سے روم روم کانپ اٹھا تھا۔اسکی حالت دیکھ کر مرجان اسکے پاس آئی اور اسکے ہاتھ تھام کر اسے دیکھا۔
“وہ رحمٰن ہے باچا منکروں تک کو بخش دے ظالموں کو بخش دے۔بھٹکی راہ سے سیدھی راہ پر آنے والوں سے منہ نہیں پھیرتا میرا رب۔۔۔”
اتنا کہہ کر مرجان اس سے دور ہو گئی اور اسکی باتوں کے زیر اثر عبداللہ نے نماز پڑھنا شروع کی۔جب وہ سجدے میں جھکا تو بہت سے آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر بہے۔
وہ ایسا سجدہ تھا جس سے وہ اٹھنا ہی نہیں چاہ رہا تھا۔ایسا سکون اسے کبھی نصیب نہیں ہوا تھا جیسا اس سجدے میں ہو رہا تھا۔
نماز پڑھ کر اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اپنے لیے بخشش مانگتے اسکی آنکھیں پھر سے بہنے لگیں اور وہ سسک سسک کر رو دیا۔مرجان نے نم آنکھوں سے اپنے شوہر کو رب کی بارگاہ میں تڑپتے دیکھا اور پھر اسے اسکے رب کے ساتھ تنہا چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
وہ جانتی تھی کہ اپنے رب سے بخشش مانگ کر اسکے دل میں موجود ہر وسوسہ ختم ہو جائے گا اپنا تمام احساس گناہ رب کے سامنے بہا کر وہ ایک نیا انسان بن کر کمرے سے باہر نکلے گا۔
