Dil E Janaa By Harram Shah Readelle50197 Last updated: 27 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Dil E Janaa
By Harram Shah
مرجان رات کا کھانا بنا کر فارغ ہوئی تھی جب ویرہ گھر میں داخل ہوا۔اسے دیکھ کر مرجان نے کھانا نکالا اور ٹرے میں رکھ کر اسکے پیچھے آئی۔ ویرہ منہ ہاتھ دھو کر کمرے میں آیا اور بیڈ پر بیٹھ کر کھانا کھانے لگا۔مرجان نے بس ایک نگاہ اس پر ڈالی اور وہاں سے جانے لگی۔وہ دونوں ویسے بھی کبھی کبھار بس ضروت کی ہی باتیں کیا کرتے تھے۔ "سنو۔۔۔" ویرہ کے پکارنے پر مرجان نے سوالیہ نظروں سے مڑ کر اسے دیکھا۔ویرہ نے اسے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو مرجان اسکے سامنے بیٹھ گئی۔ "راگا واپس آ گیا ہے۔" اس بات پر مرجان نے اثبات میں سر ہلایا۔ "لیکن اس کے ساتھ ایک لڑکی بھی آئی ہے۔" "لڑکی۔۔۔" مرجان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ "ہاں وہ یہاں کی نہیں ہے اور میں کسی پر اتنا بھروسہ نہیں کر سکتا کہ کسی کو اسکے قریب جانے کی اجازت دوں اس لیے۔۔۔" ویرہ ایک پل کو رکا۔ "اس لیے تم اسے اور راگا کو کھانا دے کر آیا کرو گی اور اگر تم نہیں جا سکتی تو گل یا اماں جایا کریں گی لیکن ان کے علاؤہ اس لڑکی کے قریب کوئی نہیں جا سکتا۔" ویرہ حکم دیتا کھانے کی جانب متوجہ ہوا جبکہ اسکی ہر بات مرجان کو حیران کر گئی تھی۔ "کیوں۔۔۔؟" مرجان کے سوال کرنے پر ویرہ نے اسے گھور کر دیکھا۔ "تمہیں جو حکم دیا اسکو مانو سوال جواب کرنے کو نہیں کہا میں نے۔۔۔" ویرہ نے سختی سے کہا تو مرجان اپنا سر جھکا گئی۔اس کا دل کیا کہ اسے بتائے کہ وہ اسکی بیوی تھی اسکے وجود کا حصہ کوئی غلام نہیں تھی جسے وہ ایسے حکم دے۔ مرجان نے اپنے آنسو پی کر ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے جانے لگی لیکن ویرہ نے اسکی کلائی پکڑ کر اسے روک لیا۔ "وہ یہاں کی نہیں ہے مرجان بس یہ سمجھ لو یہاں پر قیدی ہے اس لیے بہتر ہے بس اپنا کام کرنا اس سے دل نہ لگا لینا خواہ مخواہ تکلیف ہو گی تمہیں۔۔۔" اتنا کہہ کر ویرہ نے اسکی کلائی چھوڑ دی تو مرجان اثبات میں سر ہلا کر کمرے سے باہر آ گئی۔ویرہ خاموشی سے کھانا کھانے لگا جبکہ سوچوں کا مرکز مرجان تھی۔ جس دن سے اس نے ویرہ کا وہ روپ دیکھا تھا وہ بدل گئی تھی۔ویرہ نے اب کبھی اسے پہلے کی طرح مسکراتے ہوئے کھلکھلاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔شائید اسکے لیے یہی ٹھیک تھا کہ وہ جلد ہی یہ بات سمجھ گئی تھی کہ انکی زندگی عام لڑکیوں جیسی نہیں تھی جس میں انہیں پیار ملے اور وہ خوشی خوشی اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزار دیں نہیں انکی زندگی دشوار تھی بہت زیادہ دشوار۔ صبح ہوتے ہی مرجان نے نماز پڑھنے کے بعد ویرہ کے لیے ناشتہ بنایا تھا اور اسے ناشتہ کروا کر بھیجنے کے بعد اسے اس لڑکی کا یاد آیا جس کے بارے میں ویرہ نے اسے بتایا تھا۔ مرجان نے اس کے اور راگا کے لیے بھی ناشتہ تیار کیا اور راگا کے گھر کی جانب چل دی۔قہ راگا کو زیادہ جانتی نہیں تھی بس باقی عورتوں کی طرح اتنا جانتی تھی کہ وہ انکا سردار تھا اور اسکے حسن کی وجہ سے کافی لڑکیوں کو وہ اچھا بھی لگتا تھا۔اس سے زیادہ مرجان کی اس سے کبھی بات بھی نہیں ہوئی تھی۔ مرجان نے اسکے گھر پہنچ کر دروازا کھٹکھٹایا جو کچھ دیر کے بعد راگا نے کھولا اور اسے گھورنے لگا۔ "رررر۔۔۔۔راگا لالا۔۔۔۔ممم۔۔میں آپ کے لیے ناشتہ لایا ہے۔۔۔" مرجان کی بات پر راگا کی آنکھیں مزید چھوٹی ہوئی تھیں۔ "ااا۔۔۔۔اور یہ مجھ غغ۔۔۔غریب پر اتنی ممم۔۔۔مہربانی کرنے کا کس نے کہا۔۔۔؟" راگا نے اسی کے انداز میں پوچھا تو مرجان نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔ "م۔۔۔۔میرے شوہر نے؟" "اس شوہر کا کوئی نام بھی ہو گا یا باقی ساری دنیا اسے شوہر شوہر ہی کہہ کر بلاتا ہے؟" راگا کی بات پر مرجان بہت گھبرا گئی۔ایک تو پہلے کبھی ویرہ اور دلاور کے علاؤہ اس نے کسی آدمی سے بات نہیں کی تھی اوپر سے یہ عجیب ہی شخص تھا۔ "انکا نام ویرہ ہے۔۔۔" "کون ویرہ میں تو کسی ویرہ کو نہیں جانتا۔۔۔" اس بات پر مرجان کا سانس سوکھ گیا۔کیا وہ صحیح گھر آئی تھی ناں۔ "وہ۔۔۔۔وہ ویرہ جو ہیں وہ میرے شوہر ہیں سب جانتا ہے ان کو۔۔۔۔" مرجان رونے والی ہو گئی تو راگا قہقہ لگا کر ہنس دیا۔ "اوئے ماڑا شکل دیکھو اپنا ایسے گلہری جیسا ہو گیا تھا۔۔۔میں تو مزاق کر رہا تھا پتہ ہے مجھے یہ چھوٹی سی گڑیا اپنے ویرہ جاتا کی ہے۔۔۔" راگا نے مرجان کے سر پر ہلکی سی چت لگائی تو مرجان حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔ "تمہیں مجھ سے ڈرنے کا کوئی ضرورت نہیں اپنا بڑا لالا سمجھو تم مجھے اور اگر کبھی ویرہ تمہیں تنگ کرے یا رولائے تو مجھے بتانا ۔۔۔۔" "آپ کیا کرے گا؟" مرجان نے حیرت سے آنکھیں بڑی کر کے پوچھا۔ "وہ جھیل دیکھ رہا ہے اس میں پھینک کے تمہارے شوہر کا سارا گرم دماغ بلکل قلفی کی طرح ٹھنڈا کر دے گا پھر دیکھنا تمہارا پلو پکڑ کر ہر وقت تمہارے پیچھے چلا کرے گا۔۔۔۔" اب کی بار مرجان بھی ہلکا سا ہنس دی۔نہ جانے کیوں وہ راگا سے اتنا ڈرتی تھی یہ شخص تو بالکل ویسا نہیں تھا جیسا اس نے سوچا تھا۔ "لالا یہ آپ کے لیے اور۔۔۔اااا۔۔۔۔اس کا ناشتہ۔۔۔" مرجان نے کھانا اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا تو راگا نے ایک نظر اس کھانے کی جانب دیکھا۔ "تم اندر جا کر خود اسے دو میں نے دیا تو وہ سمجھے گا کہ ذہر ڈال لایا ہوں اور کھائے گا ہی نہیں۔۔۔میں زرا جھیل کے پانی میں نہا کر آتا ہوں ماڑا زخموں کو ٹکور ہو جائے گا۔۔۔" راگا نے انگڑائی لے کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔مرجان نے گہرا سانس لے کر دروازہ کھولا تو اسکی نگاہ ایک لڑکی پر پڑی جو گھٹنوں میں چہرہ دیے کمرے کے کونے میں بیٹھی رو رہی تھی۔ ریشمی بال اردگرد بکھرے تھے جبکہ اس نے عجیب سا لباس پہنا ہوا تھا۔شلوار کافی تنگ تھی اور کرتی بھی آدھے بازوں والی تھی جبکہ مرجان لوگ تو پورا اور کھلا سا لباس پہنتے تھے۔ "بب۔۔باجی یہ تمہارے لیے ناشتہ۔۔۔" مرجان کی آواز پر اس لڑکی نے سر اٹھا کر مرجان کو دیکھا تو مرجان ایک پل کے لیے حیران رہ گئی۔وہ لڑکی بہت خوبصورت تھی۔بڑی بڑی سی سیاہ کانچ جیسی آنکھیں اور تیکھے نقوش۔ "ککک۔۔۔۔کون ہو تم کیا ان لوگوں نے تمہیں بھی قید کر رکھا ہے؟" اس لڑکی کے سوال پر مرجان نے انکار میں سر ہلایا۔ "نہیں یہ میرا گاؤں ہے مم۔۔۔میں ویرہ کا بیوی ہوں۔۔" مرجان نے اسے اپنے بارے میں بتایا تو وہ لڑکی جلدی سے اٹھ کر مرجان کے پاس آئی اور اسکے ہاتھ پکڑ لیے۔ "پلیز میری مدد کرو یہ لوگ مجھے زبردستی یہاں لے آئے ہیں۔۔۔۔مجھے اپنے گھر جانا ہے اپنے ماما بابا کے پاس پلیز ہیلپ می۔۔۔" اس لڑکی نے روتے ہوئے کہا جبکہ اسکی آخری بات مرجان کو سمجھ نہیں آئی تھی۔ "تم کیا کہہ رہا ہے باجی ممم۔۔۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔" مرجان نے گھبرا کر پوچھا۔اس لڑکی کو زبردستی یہاں قید کیے جانے کا خیال اسے ڈرا رہا تھا۔ "میرا نام وانیا ہے۔مم۔۔۔میرے بابا آرمی میں ہیں اور یہ لوگ مجھے میری یونیورسٹی سے کڈنیپ کر کے یہاں لے آئے ہیں۔۔۔پلیز میری مدد کرو مجھے یہاں سے جانا ہے۔۔۔' وانیا نے پھر سے روتے ہوئے کہا۔ "آرمی؟" مرجان نے حیرت سے پوچھا۔ "ہاں آرمی۔۔۔میرے بابا فوجی ہیں۔۔۔" اس بات پر مرجان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔انہیں فوجیوں سے بچپن سے ڈرایا جاتا تھا اور ان کے بارے میں انہوں نے یہی سنا تھا کہ وہ بہت ظالم لوگ ہوتے ہیں جو بس انہیں مارنا چاہتے ہیں لیکن یہ لڑکی تو ظالم نہیں لگ رہی تھی نہیں وہ تو بہت بے بس اور معصوم لگ رہی تھی بالکل مرجان کی طرح۔ "پلیز میری مدد کرو مجھے یہاں سے جانا ہے۔۔۔" وانیا نے پھر سے روتے ہوئے کہا تو مرجان نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔قد میں وہ تقریباً مرجان کے جتنی ہی تھی۔ "شش۔۔رو مت کچھ نہیں ہوتا صبر کرو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔" مرجان نے اسکی کمر کو سہلا کر کہا تو وانیا کسی کا سہارا ملنے پر مزید گھبرا کر رونے لگی تھی۔ "چلو آؤ کھانا کھاتے ہیں اور تم مجھے اپنے بارے میں سب بتانا۔۔۔۔" مرجان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے بستر پر بیٹھایا اور کھانا نکال کر اسکے سامنے رکھا لیکن وانیا نے انکار میں سر ہلایا۔ "نہیں مجھے کچھ نہیں کھانا مجھے بس یہاں سے جانا ہے اپنے بابا کے پاس۔۔۔" مرجان نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ "میں نے کہا ناں صبر کرو سب ٹھیک ہو جائے گا ان شاءاللہ ابھی کھانا کھاؤ تا کہ تم میں طاقت آئے۔۔۔" وانیا نے کچھ کہنا چاہا تو مرجان نے اسکا ہاتھ دبا کر اسے دلاسہ دیا اور پھر نوالہ توڑ کر اسکے ہونٹوں کے پاس کیا تو وانیا نے اسے چپ چاپ کھا لیا۔ "چلو اب مجھے آہستہ آہستہ بتاؤ کون ہو تم اور ہوا کیا تھا۔۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔۔" مرجان کی بات پر وانیا نے اپنے آنسو پونچھے اور آہستہ آہستہ اسے سب بتانے لگی۔ "میرا نام وانیا وجدان خان ہے لفٹیننٹ کرنل وجدان خان کی بیٹی ہوں میں۔" اس کے بعد وانیا نے اپنے بارے میں ہر بات مرجان کو بتائی اور مرجان اسکی بات سننے کے ساتھ ساتھ اسے کھانا کھلاتی رہی۔اس بات سے بے خبر کہ گھر کے باہر کوئی کھڑا مرجان کی اس رحمدلی کو گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
