Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

راگا بہت بری طرح سے پھنس چکا تھا۔آرمی کو انکے ایک آدمی پر شبہ ہوا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے راگا اور انکے ساتھیوں پر حملہ کیا اور باقی سب کو مار کر راگا کو اپنی قید میں لے لیا۔
اب تو راگا کو قید میں گئے تقریباً تین مہینے ہونے کو تھے لیکن وہ اسے چھڑانے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔راگا کو بہت ہائی سیکیورٹی والی فوجی جیل میں رکھا گیا تھا جہاں سے کسی کو چھڑانا لگ بھگ ناممکن ہی تھا۔
“ویرہ ہم کیا کر رہے ہیں اتنے عرصے سے راگا انکی قید میں ہے اور ہم بس تماشہ دیکھ رہے ہیں۔۔”
کال کے لہجے میں بے چینی تھی جس پر ویرہ نے اسے زرا سختی سے دیکھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے مجھے اسکی پرواہ نہیں؟”
ویرہ کے سوال پر کال دانت کچکچا کر رہ گیا۔
“پرواہ ہوتی تو کیا یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوتے؟کچھ کر کے اسے بچا نہ لیتے۔”
کال نے زرا غصے سے کہا تو ویرہ کے ماتھے پر بل آئے۔
“آئندہ کبھی بھی مجھ سے اس لہجے میں بات مت کرنا ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔۔۔۔”
ویرہ نے وارننگ دے کر باقی آدمیوں کو دیکھا۔
“راگا کو جہاں رکھا گیا ہے وہاں حملہ کر کے اسے بچانے کی کوشش حماقت سے زیادہ کچھ نہیں ہو گی اور اس سے ہم خود بھی پھنس جائیں گے۔”
ویرہ کی بات پر سب نے اثبات میں سر ہلایا۔
“تو ہم کیا کریں ویرہ راگا ہمارا سردار ہے۔ویسے بھی وہ ہمارے سب راز جانتا ہے اسے یوں چھوڑ نہیں سکتے ہم۔”
ویرہ نے ہاں میں سر ہلایا اور پھر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
“ہمیں کچھ ایسا کرنا ہو گا جس سے فوج کے پاس اسے چھوڑنے کے علاؤہ کوئی راستہ نہ بچے۔”
ویرہ کی بات پر کال نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“دور اندیشی سے کام لو کال اگر ہم کسی طرح فوج کو اتنا مجبور کر دیں کہ وہ خود راگا کو ہمارے پاس چھوڑ جائیں۔اس سے سانپ بھی مر جاۓ گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔”
کال نے کچھ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا۔
“لیکن ایسا کیا ہو گا ویرہ؟”
ایک آدمی کے سوال پر ویرہ نے کچھ کاغذات نکال کر میز پر بچھائے جو کہ کسی جگہ کا نقشہ تھے۔
“راگا کو راولپنڈی کی جیل میں رکھا گیا ہے جہاں بہت خطرناک مجرموں کو رکھا جاتا ہے اور اسکی بہت زیادہ حفاظت کی جاتی ہے۔”
ویرہ کی بات پر سب نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہم اس جیل کو توڑ نہیں سکتے لیکن کچھ ایسا ہے جس سے ہمارا کام ہو سکتا ہے۔”
ویرہ نے ایک اور نقشہ نکال کر میز پر بچھایا۔
“یہ راولپنڈی کی ایک مشہور یونیورسٹی ہے جہاں کافی امیروں کے بچے پڑھتے ہیں اگر ہم اس یونیورسٹی میں گھس کر بچوں کو یرغمال بنا لیں اور اسکے بدلے راگا کی رہائی کا سودا کریں تو فوج کے پاس ہماری بات ماننے کے علاؤہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔”
ویرہ کی بات پر کال کے ماتھے پر شکن آئی۔
“لیکن یہ کام آسان نہیں ہے بلکہ بہت خطرناک ہے۔”
“خطرہ مول لینا پڑے گا لیکن یہ پھر بھی آسان کام ہے کیونکہ فوج یہ نہیں سوچ رہی ہو گی کہ ہم یہاں حملہ کریں گے بلکہ انہوں نے اپنی ساری توجہ راگا کی جانب کی ہو گی تاکہ کوئی اسے چھڑا نہ لے۔”
کال نے اثبات میں سر ہلایا۔
“لیکن ہم یہ کریں گے کیسے یونیورسٹی پر قبضہ کرنا آسان کام نہیں ہے۔”
“جانتا ہوں۔۔۔۔”
ویرہ نے سنجیدگی سے کہا اور نقشے میں ایک مقام پر انگلی رکھی۔
“یونیورسٹی شہر سے ہٹ کر سنسان جگہ پر ہے ہمیں ایک سرنگ بنانی ہو گی جو یونیورسٹی میں جا کر کھلے اور اندر سے حملہ کر کے کسی کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیں گے۔”
باقی آدمیوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“لیکن ہمارے سرنگ کھودنے پر کسی کو شک ہو گیا تو؟”
ایک آدمی کے سوال پر ویرہ نے اسکی جانب دیکھا۔
“اسی بات کا تم لوگ خیال رکھو گے۔کھدائی والے بن کر اس جگہ پر کام کرو گے تا کہ سب کو یہ لگے کہ تم لوگ جگہ کو صاف کر کے رہنے کے قابل بنا رہے ہو اس سے زیادہ کچھ نہیں۔”
اس آدمی نے ہاں میں سر ہلایا تو ویرہ نے واپس اس نقشے کی جانب دیکھا۔
“ہم راگا کو چھڑا کر رہیں گے دیکھنا وہ فوجی خود راگا کو ہم تک پہنچائیں گے اور ایک بار جب وہ راگا کو وہاں لے آئیں تو اندر آئے فوجیوں پر حملہ کر کے انہیں چکما دے کر وہاں سے اسی سرنگ کے راستے نکل جانا۔”
سب نے اثبات میں سر ہلایا۔
“تو ٹھیک ہے اس کام کی تیاریوں میں لگ جاؤ کیونکہ اس پلین کو پورا کرنے کے لیے ہمیں بہت وقت درکار ہے۔”
اتنا کہہ کر ویرہ وہاں سے چلا گیا۔اس وقت وہ اکیلے رہنا چاہتا تھا۔اس سب کے بارے میں سوچنا چاہتا تھا۔راگا کے بغیر ساری ذمہ داری اسکے کندھوں پر آ گئی تھی اپنے آدمیوں کے لیے وہ ایک نیا سردار تھا۔
لیکن ویرہ کے لیے راگا کا آزاد ہونا ضروری تھا کیونکہ وہ اپنے ساتھیوں کو تنہا نہیں چھوڑتے تھے۔ویسے بھی راگا ان کا ہر راز جانتا تھا آخر وہ کب تک اپنا منہ بند رکھ پاتا۔
ویرہ گاؤں سے دور ایک سنسان جگہ پر آ کر بیٹھ گیا۔سردی اب زوروں پر تھی جس کی وجہ سے وہاں برف باری شروع ہو چکی تھی۔آج اپنا ایک ساتھی کھونے پر اسے پھر سے وہ دن یاد آ رہا تھا جس دن اس نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا۔
اپنے چھوٹے بھائی کا خون سے لے پت وجود اپنی بہن کا کٹا گلا اور اسکا تڑپتا جسم اپنے باپ اور ماں کی لاشیں۔وہ سب پرانی یادیں اسکے ذہن پر سوار ہو رہی تھیں۔ویرہ اپنی سوچوں اس قدر مگن تھا کہ اسے اس سردی کا اندازہ ہی نہیں ہوا جس میں اتنی دیر وہ بس ایک جیکٹ اور گرم چادر کے سہارے بیٹھا رہا۔
رات ہونے پر وہ اپنے کرب کی اس دنیا سے باہر نکلا اور اپنے گھر کی جانب چل دیا لیکن اتنی دیر سردی میں بیٹھنے کا اثر برا ہوا تھا۔گھر آ کر بستر پر لیٹتے ہی اسکا جسم بخار میں مبتلا ہو چکا تھا لیکن ویرہ اپنی ہر تکلیف کو نظر انداز کرتا آنکھیں موند گیا۔بخار کی یہ مدہوشی آج اسے سکون کی نیند تو دے رہی تھی جو اسے اکیس سالوں سے نصیب نہیں ہوئی تھی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان پریشانی سے اپنے کمرے میں ٹہل رہی تھی۔ویرہ گھر آتے ہی کمرے میں جا کر سو چکا تھا۔اس نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا اور یہ بات مرجان کو پریشان کر رہی تھی لیکن وہ اسکے پیچھے اسکے کمرے میں بھی نہیں جا سکتی تھی۔
کیونکہ ویرہ کو مرجان کا اپنے کمرے میں آنا پسند نہیں تھا لیکن یہ بات مرجان اپنے دل کو کیسے سمجھاتی جو حد سے زیادہ بے چین ہو رہا تھا۔
“پتہ نہیں انکا طبیعت ٹھیک ہے یا نہیں ۔۔۔ ایسے کھانا کھائے بغیر تو نہیں سوتا وہ آج کیا ہو گیا۔۔..”
مرجان نے بے چینی سے ٹہلتے ہوئے خود کلامی کی۔
“ایک بار جا کر دیکھوں کیا ۔۔۔۔لیکن اگر ان کو غصہ آ گیا تو۔۔۔۔؟ہاں تو بول دوں گی آپ کو کھانے کا پوچھنا تھا۔۔۔”
مرجان اپنے سوالوں کا خود ہی جواب دے رہی تھی پھر جب اسے سکون نہ آیا تو دبے پاؤں چلتی ویرہ کے کمرے میں آ گئی۔ویرہ اس وقت خود پر کمبل اوڑھے سکون سے سو رہا تھا لیکن نیند میں بھی اسکا جسم سردی کی شدت سے کانپ رہا تھا۔
مرجان نے گھبراتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکے ماتھے پر رکھا تو گھبراہٹ پریشانی میں بدل گئی۔اس کا ماتھا بخار کی شدت سے تپ رہا تھا۔
“آآ۔۔۔۔آپ کو اتنا زیادہ بخار ہوا ہے باچا۔۔۔میں جا کے لالا کو بتاتا ہے وہ طبیب لے کر آئے گا۔۔۔”
مرجان یہ بات کہہ کر وہاں سے جانے لگی لیکن ویرہ نے اسکا ہاتھ اپنی مٹھی میں جکڑ لیا۔
“کہیں مت جاؤ ۔۔۔۔پاس رہو میرے۔۔۔”
ویرہ کے حکم پر مرجان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں لیکن وہ اسکا حکم مانتی اسکے سرہانے بیٹھ گئی۔ویرہ نے اپنا سر اسکی گود میں رکھا تو مرجان حیرت سے بت بنی اسے دیکھنے لگی جو اپنا چہرہ اسکے پہلو میں چھپا کر اپنے ہاتھ اسکے گرد لپیٹ چکا تھا۔
“بب۔۔۔باچا۔۔۔”
“سر دباؤ میرا۔۔۔۔بہت زیادہ سر درد ہو رہا ہے۔”
ویرہ کی اس فرمائش پر مرجان نے فوراً اپنے نازک ہاتھ اسکے سر پر رکھے اور نرم ہاتھوں سے اسکا سر دبانے لگی۔
“آپ کو بہت زیادہ بخار ہے ممم ۔۔۔۔مجھے لالا کو بلانے دیں ۔۔۔ “
مرجان نے پریشانی سے کہا لیکن ویرہ نے نہ تو کوئی جواب دیا اور نہ ہی اسے گرفت سے آزاد کیا۔مرجان بے بسی سے اسکا سر دبانے لگی اور ان نرم ہاتھوں کے لمس کا سکون محسوس کرتے بے چین ویرہ کی روح تک کو سکون محسوس ہو رہا تھا۔وہ سکون جو وہ بچپن سے کھو چکا تھا۔
“میں تنہا ہوں دلِ جاناں بہت تنہا
یہ تنہائی یہ درد مجھے ختم کر دے گا۔۔۔۔”
ویرہ خواب کی سی کیفیت میں آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا اور مرجان اپنا سانس روکے اسکی بات سن رہی تھی۔
“دیکھنا ایک دن اس کرب سے مر جاؤں گا میں اور تمہیں خبر بھی نہیں ہو گی۔”
ویرہ کی بات پر مرجان نے پریشانی سے اسے دیکھا۔
“باچا۔۔”
“بلکہ تمہیں تو اب مجھ سے نفرت ہو جانی چاہیے اتنا برا ہوں میں تمہارا خیال نہیں رکھتا بس تم پر غصہ کرتا ہوں۔میں تو قابل نفرت ہوں ناں تو نفرت کرو مجھ سے دلِ جاناں”
دو آنسو مرجان کی آنکھوں سے ٹوٹ کر ویرہ کے گال پر گرے۔
“مجھ سے محبت مت کرو دلِ جاناں یہ ویرہ اس قابل نہیں۔۔۔بس سمجھ جاؤ اس بات کو۔۔۔۔”
ویرہ مدہوشی میں اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا اور سکون کی نیند سو گیا جبکہ مرجان ابھی بھی اسکا سر دباتی اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی جو اسے آدھا دیکھائی دے رہا تھا جبکہ باقی آدھا اس نے مرجان کے پہلو میں چھپا رکھا تھا۔
“نہیں کر سکتی میں آپ سے نفرت باچا۔۔۔چاہے تو آپ اس سے بھی زیادہ بے رخی دیکھا لو چاہے تو میرا جان لے لو لیکن نہیں کر پائے گا آپ سے نفرت یہ میرے بس میں نہیں ۔۔۔۔”
مرجان نے اسکا چہرہ سہلاتے ہوئے سرگوشی کی۔
“بالکل جیسے آپ سے محبت کرنا میرے بس میں نہیں تھا”
مرجان نے انگلی سے اسکی بند پلکوں کو چھوا اور مسکرا دی۔وہ سکون کی نیند میں کس قدر حسین لگ رہا تھا یہ کوئی مرجان سے پوچھتا۔
گندمی رنگت پر کندھوں تک آتے بال اور لمبی داڑھی۔اس سب پر وہ تیکھے نقوش اور ستواں ناک اسے کس قدر دلکش بناتے تھے۔جب وہ جاگ رہا ہوتا تو اسکی غصے سے بھری آنکھوں میں دیکھنا کتنا مشکل کام ہوتا لیکن ابھی تو مرجان پورے حق سے اسے نہار رہی تھی۔
“زما باچا”(میرے بادشاہ)
مرجان نے بہت حق سے کہا۔انکی شادی کو ایک سال ہو چکا تھا لیکن آج پہلی بار ویرہ نے اسے اپنے اتنا قریب آنے کی اجازت دی تھی۔
اسکی داڑھی سے ہوتے ہوئے مرجان نے مسکرا کر اسکی مونچھوں کو چھوا جن کی میٹھی چبھن سے اسکی انگلیاں سنسنائی تھیں۔مرجان کے سرکتے ہاتھ نے اسکے عنابی لبوں کو چھوا تو مرجان کا دل بہت زور سے دھڑکا اور وہ فوراً اپنا ہاتھ واپس کھینچ گئی۔
اس نے ویرہ کے پاس سے اٹھنے کی کوشش کی مگر اسے خود سے دور جاتا محسوس کر ویرہ کے ماتھے پر بل آئے تھے۔اس نے مرجان کو ایک جھٹکے سے اپنی جانب کھینچا اور اسے بستر پر لیٹا کر اپنی آغوش میں بھر لیا۔
اس اچانک ملی قربت پر مرجان کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا۔
“باچا۔۔۔”
“کہا تھا دور مت جاؤ۔۔۔۔پاس رہو میرے ورنہ جان لے لوں گا۔۔۔”
ویرہ نے اسکی گردن میں چہرہ چھپا کر سرگوشی کی تو مرجان اسکی باہوں میں بت بن گئی۔اسکو قریب محسوس کرتے ویرہ نے سکون کا سانس لیا اور پھر سے گہری نیند میں ڈوب گیا جبکہ مرجان کتنی ہی دیر اسکی باہوں میں جاگتے ہوئے اسکے بال سہلا کر اسے سکون دیتی رہی تھی۔
یہ شخص اسکی محبت تھا اور مرجان اس کے سکون کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی خود کو قربان بھی کر سکتی تھی تو یہ سب کیا تھا۔
آنکھیں کھلیں
تو میں دیکھوں تجھے
صرف یہی فرمائش ہے
پہلی تو مجھ کو یاد نہیں
تو میری آخری خواہش ہے
سہہ لوں میں اب تیری کمی
مجھ سے یہ ہو گا ہی نہیں
تم ایسے مجھ میں شامل ہو
تم جان میری تم ہی دل ہو
شائید میں بھلا دوں خود کو بھی
پر تم کو بھول نہ پاؤں گی
میں پھر بھی تم کو چاہوں گی
اس چاہت میں مر جاؤں گی
میں پھر بھی تم کو چاہوں گی
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
صبح کی روشنی پر مرجان کی آنکھ کھلی تو وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی۔رات دیر سے سونے کی وجہ سے شائید اسے اٹھنے میں دیر ہو گئی تھی اور ابھی وہ وہاں تنہا تھی۔گزری رات یاد کر کے مرجان کے ہونٹوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ آئی۔
کل اسکی سنسان زندگی میں ایک بہار آئی تھی ایک امید آئی تھی کہ اسکے شوہر کا دل مکمل طور پر مردہ نہیں تھا بلکہ اس کے دل میں بھی مرجان کے لیے احساسات تھے مگر وہ انہیں مرجان سے چھپا رہا تھا۔
“دلِ جاناں۔۔۔۔”
ویرہ کے الفاظ یاد کر کے مرجان کے ہونٹوں پر شرمیلی مسکراہٹ آئی اور وہ بستر سے اٹھی۔فریش ہونے کے بعد اسے ویرہ کا خیال آیا جو شائید گھر سے جا چکا تھا۔
“باچا کی تو طبیعت بھی خراب تھا اور وہ کھانا بھی نہیں کھا کر گیا۔”
مرجان نے پریشانی سے سوچا پھر اسکے لیے کچھ ہلکا پھلکا بنانے کا ارادہ کرتی باورچی خانے میں گئی۔ویرہ کے لیے دلیہ بنا کر اس نے ایک بول میں ڈالا اور چادر لے کر اپنے گھر کی جانب چل دی۔اسکا ارادہ تھا کہ وہ یہ کھانا دلاور کو دے تا کہ وہ ویرہ کو دے آئے۔
مرجان نے گھر پہنچ کر دروازا کھٹکھٹایا تو دروازہ گل نے کھولا اور گھبرا کر یہاں وہاں دیکھنے لگی۔
“باجی آپ آئی ہو۔”
گل نے سکھ کا سانس کے کر کہا اور اسکے اندر آنے کے لیے دروازہ کھول دیا۔
“اتنا ڈرا کیوں ہوا ہے تم گل؟”
مرجان نے اپنی بہن کا گال نرمی سے چھو کر پوچھا۔
“وہ۔۔۔کککک۔۔۔۔کچھ نہیں بس مجھے لگا کوئی اور ہے۔۔۔۔۔تم بتاؤ کوئی کام تھا کیا؟”
گل نے اپنی پریشانی پس پشت ڈال کر پوچھا۔
“ہاں وہ دلاور لالا کہاں ہے؟”
“لالا تو سو رہے ہیں موسم بدلا ہے ناں تو صبح سے انکا طبیعت ٹھیک نہیں تم بتاؤ کوئی کام تھا کیا؟”
گل کی بات پر مرجان نے پریشانی سے اپنے ہاتھ میں موجود ڈبے کو دیکھا۔
“اممم۔۔۔۔کچھ نہیں تم انہیں تنگ نہ کرو چھوٹا سا کام ہے میں دیکھ لوں گی۔۔۔”
اتنا کہہ کر مرجان نے اپنی چادر درست کی اور واپس باہر کی جانب چل دی۔
“اماں کو سلام کہنا۔۔۔”
اتنا کہہ کر مرجان گھر سے باہر نکل آئی اور پریشانی سے وادی کی ایک جانب دیکھا۔جہاں انکے قبیلے کے مردوں کا ڈیرہ تھا۔عورتوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں تھی اسی لیے مرجان نے دلاور کو بھیجنے کا سوچا تھا۔
مرجان نے سوچا کے گھر واپس چلی جائے لیکن پھر اپنے شوہر کے بھوکے ہونے کا خیال آیا تو ہمت کرتی اس ڈیرے کی جانب چل دی۔وہ جانتی تھی کہ اسے وہاں دیکھ کر ویرہ غصہ کرے گا لیکن اسکی صحت کے لیے وہ اتنا تو کر ہی سکتی تھی۔
مرجان آہستہ آہستہ چلتی ڈیرے کے پاس پہنچی تو اسے دور سے ہی ویرہ نظر آیا جو باقی آدمیوں کو کچھ بتا رہا تھا۔مرجان نے آگے بڑھنا چاہا لیکن تبھی ایک آدمی ویرہ کے پاس آیا اور اسکے کان میں کچھ کہا۔
“تم چلو میں آتا ہوں۔۔۔۔”
ویرہ نے اس آدمی کو حکم دیا تو وہ وہاں سے چلا گیا اور ویرہ باقی آدمیوں کو بعد میں بات کرنے کا کہہ کر اس آدمی کے پیچھے چلا گیا۔
مرجان اسکے پیچھے چل پڑی۔وہ قبیلے کی آبادی سے دور ایک سنسان جگہ پر جا رہے تھے جو گھنے درختوں سے بھری تھی اور وہاں کوئی نہیں جاتا تھا۔
ویرہ وہاں پہنچ کر چند آدمیوں کے پاس کھڑا ہو گیا تو مرجان جو اسکے پیچھے آ رہی تھی ایک درخت کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے دیکھنے لگی۔
“یہ ہمارے قبیلے کی حدود میں گھس آیا ویرہ اور پھر ہمارے ہتھیار دیکھ کر ڈر کر بھاگ گیا۔ہمارے آدمی نے اسکا پیچھا کیا تو پولیس سٹیشن کے باہر ملا یہ انہیں۔۔۔”
کال جو وہاں پہلے سے موجود تھا اس نے ایک آدمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا جو کہ ویرہ کے سامنے گھٹنوں پر بیٹھا رو رہا تھا۔
“ننن۔۔۔نہیں ممم۔۔۔مجھے کچھ نہیں پتہ میں تو۔۔۔۔”
ویرہ اس آدمی کے پاس گیا اور اسکا چہرہ بالوں سے پکڑ کر اونچا کیا۔
“کیا بتانے والا تھا تو پولیس والوں کو یہ کہ ہم یہاں کیا کر رہے ہیں یہ کہ اس قبیلے میں دہشتگرد بستے ہیں۔۔۔۔”
ویرہ کی بات پر اس آدمی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“ننن۔۔۔نہیں ممم۔۔۔۔مجھے معاف کر دو مجھے نہیں پتہ تھا۔۔۔میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔۔۔”
اس آدمی نے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔
“فکر مت کر کسی کو کچھ بتانے کے قابل بھی نہیں رہے گا تو۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ نے کال کے ہاتھ سے بندوق پکڑی اور اسے آدمی کے ماتھے پر رکھ دیا۔گولی کی ایک آواز سنسان جگہ پر گونجی اور وہ آدمی بے جان ہو کر زمین پر گرا۔سر سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔
یہ دیکھ کر مرجان کے ہاتھ سے کھانے کا ڈبہ چھوٹ کر زمین پر گرا اور اسکی آہٹ پر سب آدمیوں نے پلٹ کر مرجان کو دیکھا جو بے یقینی سے ویرہ کو دیکھ رہی تھی۔مرجان کو وہاں دیکھ کر ویرہ کے ماتھے پر شکن آئی اور وہ غصے سے اسکے پاس آیا۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
ویرہ نے غرا کر پوچھا لیکن مرجان نے کوئی جواب نہیں دیا۔وہ جواب دینے کی حالت میں ہی کہاں تھی۔رنگ خوف سے زرد پڑ گیا تھا جبکہ آنکھیں آنسؤں سے لبریز ہو رہی تھیں۔
ویرہ نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے وہاں سے ساتھ لے گیا۔گھر واپس آ کر اس نے مرجان کو جھٹکے سے فرش پر پھینکا اور غصے سے اسے گھورنے لگا۔
“جانتی ہو ناں وہاں آنے کی اجازت کسی کو نہیں پھر کیوں آئی تم وہاں۔۔۔”
ویرہ نے پوچھا لیکن مرجان بس سانس روکے پر خوف نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔اپنے شوہر کا جو روپ آج اس نے دیکھا تھا وہ مرجان کو آدھا ختم کر گیا تھا۔
“اگر آج کے بعد تم اس طرف آئی تو ٹانگیں توڑ دوں گا تمہاری۔۔۔۔”
ویرہ اسے دھمکی دیتا وہاں سے جانے لگا۔
“کیا ہو آپ۔۔۔۔؟”
مرجان کی آواز پر ویرہ نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“آ۔۔۔آپ نے اسے مار دیا۔۔۔اسے مار دیا۔۔۔۔کیوں۔۔۔۔؟”
مرجان نے روتے ہوئے پوچھا۔اسکا نازک وجود خوف سے لرز رہا تھا۔
“کیونکہ یہی میری پہچان ہے۔مبارک ہو مرجان تمہارا شوہر ایک درندہ ہے ایک دہشت گرد ۔۔۔۔”
مرجان نے بے یقینی سے ویرہ کو دیکھا جو کتنی بے شرمی سے اس بات کا اعتراف کر رہا تھا۔
“شائید اب تمہارے دماغ سے محبت کا بھوت اتر جائے گا شائید اب مجھ سے نفرت کرنا آسان ہو جائے گا۔”
مرجان اسکی بات پر سسک سسک کر رونے لگی تھی۔
“اگر اب بھی محبت باقی ہے تو تمہیں بتا دوں کہ میں کسی کی بھی جان لے سکتا ہوں ۔۔۔۔تمہاری بھی۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ وہاں سے چلا گیا اور مرجان اپنے بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹ کر سسک سسک کر رونے لگی تھی۔اسنے تو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اسکی زندگی اتنا خوفناک موڑ لے گی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
ویرہ رات بھر گھر واپس نہیں آیا تھا اور مرجان پوری رات اپنے کمرے میں بیٹھی گھٹنوں میں چہرہ دیے روتی رہی تھی۔اسکی محبت چیخ چیخ کر اسے کہہ رہی تھی کہ کیا وہ اسی قابل تھی کہ مرجان اسے ایک درندے پر لٹاتی رہے۔اپنے جزبات اس سے باندھ کر رکھے جس کے لیے کسی کی جان لینے کا گناہ کرنا صرف ایک مزاق تھا۔
ویرہ کا وہ روپ مرجان کو اندر تک توڑ چکا تھا۔صبح ہونے پر اسکے گھر کا دروازہ کسی نے کھٹکٹایا لیکن مرجان اٹھ کر دروازہ کھولنے کی بجائے اپنی جگہ پر بیٹھ کر آنسو بہاتی رہی تھی۔
کچھ دیر دروازہ کھٹکنے کے بعد خاموشی چھا گئی لیکن پھر دروازا کھلا اور مرجان کی ماں الماس اور گل گھر میں داخل ہوئے۔الماس نے جب اپنی بیٹی کو روتے دیکھا تو پریشان ہو کر اس کے پاس آئیں۔
“مرجان۔۔۔۔کیا ہو گیا رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔”
الماس نے بے چینی سے پوچھا تو مرجان نے ایک نگاہ ان پر ڈالی اور انکے گلے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔الماس نے پریشانی سے گل کو دیکھا جو خود گھبرائی سی مرجان کو دیکھ رہی تھی۔
“کیا ہو گیا ہے مرجان بتا مجھے۔۔۔۔میرا دل بند ہو جائے گا۔۔۔۔”
الماس نے بے چینی سے پوچھا تو مرجان نے انکے سینے سے چہرہ نکالا اور بولنے کی کوشش کرنے لگی۔
“اماں وہ۔۔۔۔وہ باچا۔۔۔”
اتنا کہہ کر مرجان نے گل کو دیکھا جو پریشانی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
“گل تو گھر جا دلاور کے پاس میں آ جاؤں گی۔”
الماس کے حکم پر گل نے پریشانی سے انہیں دیکھا۔
“لیکن اماں میں اکیلی۔۔۔”
“کچھ نہیں ہوتا جیسا کہا ہے کر اور گھر جا۔۔۔”
گل وہاں سے تنہا جانا نہیں چاہتی تھی پھر بھی اس نے ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے نکل گئی۔اسکے جاتے ہی الماس نے مرجان کو دیکھا۔
“بتا مجھے مرجان کیا ہوا ہے؟”
الماس کے پوچھنے پر مرجان نے انکی جانب دیکھا اور انہیں ہر بات بتا دی لیکن ساری بات جان کر بھی الماس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں آیا تھا۔
“اماں تم چپ کیوں ہو۔۔۔۔وہ باچا نے کسی کا جان لے لیا اور تم چپ ہو۔۔۔۔”
الماس نے اس بات پر مردہ آنکھوں سے اپنی بیٹی کو دیکھا۔
“کیونکہ چپ رہنا ہی ہمارا مقدر ہے مرجان چپ رہنا ہی ہمارا بھلائی ہے۔”
مرجان نے حیرت سے اپنی ماں کی جانب دیکھا۔
“صرف تمہارا شوہر ہی نہیں مرجان اس قبیلے کا ہر مرد ایک درندہ ہے اور ہم چاہیں یا نہ چاہیں ہمیں اپنی زندگی انہیں کے ساتھ گزارنی ہے۔”
الماس کے لہجے میں موجود بے بسی پر مرجان سسک سسک کر رونے لگی۔
“لیکن مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا اماں۔۔۔۔وہ شخص جسے میں نے اتنا چاہا جسے دل میں اتنا اونچا مقام دیا وہ اس قدر گرا ہوا نکلا ۔۔۔۔مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔۔”
مرجان نے گھٹنوں میں چہرہ دے کر روتے ہوئے کہا۔
“اسے اتنا گرا ہوا بنانے والا بھی تمہارا باپ ہی تھا مرجان۔۔۔۔”
الماس کی بات پر مرجان کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔
“عبداللہ تو یہاں ایک گیارہ سال کا بچہ آیا تھا۔ایسا بچہ جس پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے گئے تھے اور تمہارے بابا نے اس کے غم کا فایدہ اٹھا کر اسے اپنے جیسا درندہ بنا دیا۔اسکے دل و دماغ سے صحیح اور غلط کی پہچان مٹا دی۔”
مرجان بس حیرت سے اپنی ماں کو دیکھتی جا رہی تھی۔
“کک۔۔۔کیا ہوا تھا اماں۔۔۔؟”
مرجان کے سوال پر الماس نے گہرا سانس لیا اور اسے ہر بات بتا دی۔کیسے کچھ لوگوں نے عبداللہ کے گھر میں گھس کے اسکی آنکھوں کے سامنے اسکے ماں باپ بہن بھائی کو مار ڈالا کیسے اسکا گلا کاٹ دیا اور کیسے وہ موت سے بچ کر یہاں آ گیا۔
سب سچ جان کر مرجان کو لگنے لگا تھا کہ اسکا دل کرب سے پھٹ جائے گا۔اتنا ظلم سہنے کے بعد وہ زندہ کیسے تھا مرجان یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
“اگر وہ درندہ بنا مرجان تو صرف تمہارے باپ کی وجہ سے جس نے اسکے معصوم ذہن میں زہر گھولا اگر کسی کا قصور ہے تو صرف ایسے لوگوں کا جو معصوم دلوں میں نفرت ڈال کر انہیں گمراہ کرتے ہیں اور جانتی ہو افسوس کی بات کیا ہے؟”
مرجان نے سوالیہ نظروں سے الماس کو دیکھا۔
“سب جان کر بھی ہمیں ایسے دیکھاوا کرنا پڑتا ہے جیسے ہم کچھ نہیں جانتے۔ان درندوں کے درمیان ہمیں عام زندگی کا دیکھاوا کرنا پڑتا ہے اور چاہ کر بھی ہم کچھ نہیں کر پاتیں۔”
الماس نے اپنا ہاتھ مرجان کے کندھے پر رکھا۔
“اور یہی ہماری زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔۔۔”
الماس نے مرجان کا کندھا تھپتپا کر کہا اور وہاں سے چلی گئیں۔رات تک مرجان اسی جگہ بیٹھی اپنی ماں کی بتائی باتوں کے بارے میں سوچتی رہی تھی۔
آخر کار رات کو ویرہ کے گھر آنے کی آہٹ پر مرجان خیالوں کی دنیا سے باہر آئی اور ویرہ کو دیکھا جس نے بس ایک نگاہ اس پر ڈالی تھی اور اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔
پھر سے وہی منظر مرجان کی آنکھوں کے سامنے دوڑ گیا جس میں ویرہ نے انتہائی بے دردی سے اس آدمی کو مارا تھا۔
سب جان کر بھی ہمیں ایسے دیکھاوا کرنا پڑتا ہے جیسے ہم کچھ نہیں جانتے۔ان درندوں کے درمیان ہمیں عام زندگی کا دیکھاوا کرنا پڑتا ہے اور چاہ کر بھی ہم کچھ نہیں کر پاتیں
اپنی ماں کی باتیں یاد کر کے مرجان نے اپنے آنسو پونچھے اور اپنی ماں کا لایا کھانا گرم کر کے ویرہ کو کھانا دینے چلی گئی۔اب وہ اس زندگی،اس رشتے اور اس محبت کو بس ایک سمجھوتا سمجھ کر گزارنے کا ارادہ رکھتی تھی بالکل جیسا اسکی ماں نے کیا تھا۔