Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

مرجان کو ہوش آیا تو الماس جلدی سے اسکے پاس گئیں اور اسکا چہرہ چومنے لگیں۔مرجان نے گھبرا کر ہسپتال کے کمرے کو دیکھا۔
“میں کہاں ہوں۔۔۔کیا ہوا تھا؟”
مرجان کے سوال پر الماس اپنے آنسو پونچھ کر مسکرائیں۔
“تم ہسپتال ہو مرجان۔۔۔۔تم ماں بننے والی ہو۔۔۔”
اپنی ماں کی بات پر پہلے تو مرجان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور پھر وہ سسک سسک کر رونے لگی۔الماس نے تڑپ کر عماد کو دیکھا جو خاموشی سے ایک کونے میں کھڑا تھا۔
“مرجان۔۔۔”
“نہیں اماں نہیں۔۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔میرا بچہ کیسے رہے گا اپنے باپ کے بغیر کیسے۔۔۔۔”
مرجان کے رو کر کہنے پر الماس بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔
“اماں کیا ہو گیا ہے اسے سمجھانے کی بجائے آپ خود روئے جا رہی ہیں۔۔۔۔چلیں آئیں میرے ساتھ۔”
عماد نے الماس کا ہاتھ پکڑ کر کہا اور انہیں اپنے ساتھ لگاتا کمرے سے باہر لے گیا۔کچھ دیر بعد وہ واپس آیا تو مرجان ویسے ہی رونے میں مصروف تھی۔
“تمہیں کیا لگتا ہے یوں رو کر خود کو ختم کرنا کسی چیز کا حل ہے؟”
عماد نے سینے پر ہاتھ باندھ کر اسکے پاس کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
“تو کیا کروں میں لالہ کیسے رہے گا میرا بچہ باپ کے پیار کے بغیر اپنی ہر سانس کے ساتھ وہ باپ کے پیار کو ترسے گا۔۔۔۔میں کیا کروں لالہ۔۔۔۔کیسے کروں گی اسکی محرومی دور میں کیسے۔۔۔۔”
مرجان یوں سسک سسک کر روتے ہوئے اسے کوئی دماغی مریضہ لگ رہی تھی۔
“اس سے بہتر ہے کہ ہم دونوں مر جائیں۔۔۔ہاں لالہ جب آپ لوگ میرے باچا کو مارو گے تو ساتھ ہم دونوں کو بھی مار ….”
“مرجان۔۔۔”
عماد نے غصے سے کہا تو مرجان نے سہم کر اسے دیکھا پھر اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔عماد اسکے پاس پڑی کرسی پر بیٹھا اور اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا۔
“ایسے مت کرو مرجان اس حال میں تمہارا اتنا پریشان ہونا تم دونوں کے لیے صیح نہیں ہے۔۔۔”
“تو اچھا ہے ناں اپنے سائبان کی موت دیکھ سے پہلے ہی ہم۔۔۔”
“بس مرجان کیوں کر رہی ہو تم ایسی باتیں۔۔۔”
عماد نے غصے سے کہا تو مرجان نے کرب ناک آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“تو کیا کہوں میں لالہ۔۔۔نہیں رہ سکتی میں انکے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔۔”
عماد نے ایک سرد آہ بھری اور اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا۔
“میری بات سنو وعدہ کرو مجھ سے تم کہ اپنا اور اپنے بچے کا خیال رکھو گی۔یہ رونا چھوڑ کر اس ننھی جان کا سوچو گی جو ابھی اس دنیا میں ہی نہیں آیا۔۔۔”
عماد نے اسے سمجھایا لیکن مرجان نے کوئی جواب نہیں دیا وہ بس آنسو بہانے میں مصروف تھی۔
“بدلے میں میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ویرہ کو آزاد کروانے کی کوشش کروں گا۔۔۔”
مرجان کے آنسو اسکی آنکھوں میں ہی تھم گئے تھے۔اس نے حیرت سے عماد کی جانب دیکھا۔
“اپنا جی جان لگا دوں گا اسے آزاد کروا کر ایک عزت والی زندگی دینے میں لیکن میری شرط یہ ہے کہ تمہیں اپنا خیال رکھنا ہو گا۔۔۔”
عماد کی بات پر مرجان اپنا سر جھکا گئی۔
“بولو مرجان کرتی ہو وعدہ۔۔”
عماد کے پوچھنے پر کچھ دیر تک مرجان خاموش رہی پھر اس نے ہاں میں سر ہلایا۔
“وعدہ۔۔۔”
مرجان نے آنسو پونچھ کر کہا تو عماد مسکرا دیا۔بس اب عماد کو یہ سوچنا تھا کہ اپنی بہن سے کیا وعدہ اسے پورا کیسے کرنا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
ویرہ حسب معمول دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔اسکا ماضی ایک کڑوی یاد کی طرح اسکی آنکھوں کے سامنے چل رہا تھا۔
“تم نے اس بچے کو کیوں مارا عبداللہ؟”
اپنے باپ کی آواز اسکے کانوں میں گونجی تھی۔
“اس نے مجھ سے لڑائی کی تھی بابا پہلے اس نے مجھے مارا تو میں نے بھی مارا۔۔۔”
عبداللہ نے کندھے اچکا کر کہا۔
“بری بات ہے عبداللہ پھر کیا فرق رہ گیا اس میں اور تم میں۔۔۔”
اپنے باپ کی آواز پر وہ کرب سے آنکھیں موند گیا۔
“تو کیا کرتا میں بابا۔۔۔”
“چلے جاتے وہاں سے اس سے دور اور جب موقع آنے پر وہ تم سے معافی مانگتا تو معاف کر دیتے۔۔۔۔تم عبداللہ ہو ناں اللہ کا بندہ اور اللہ کا بندہ معاف کر دیتا ہے میری جان وہ ظالم نہیں ہوتا۔۔۔۔”
اس یاد پر دو آنسو ٹوٹ کر ویرہ کی آنکھوں سے گرے تھے۔
“ایک بات یاد رکھنا بچہ محبت اور رحم انسان کا کمزوری ہوتا ہے اب ان دونوں کو خود پر حاوی مت ہونے دینا ایک ظالم درندے بن جانا جسے لوگ بس دہشت سمجھیں”
اب کی بار یعقوب خان کی آواز اسکے کانوں میں گونجی تھی۔
“اس لیے اب تم بھی کسی پر رحم نہ کھانا کسی کا خیال نہ کرنا۔۔۔۔طاقت ور بننا تم اور نہ صرف اپنے دشمن کا سر دھڑ سے الگ کر دینا”
یعقوب خان کا گھولا ہوا زہر اسے اپنی رگوں میں چلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
“اپنی جو پہچان تھا بھول جاؤ اب سے تم وہ نہیں جو پہلے تھا اب تم ویرہ بنے گا ویرہ۔۔۔۔”
ویرہ نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں اسکا دل کر رہا تھا خود کو فنا کر دے۔ان ہاتھوں کو توڑ دے جو معصوم لوگوں کی موت کا باعث بنے تھے اس وجود کو ختم کر دے جو عبداللہ سے ویرہ بنا تھا۔
“کرتے ہوں گے آپ سب سے نفرت لیکن مجھ سے نہیں۔۔۔آپ مجھ سے نفرت نہیں کرتا باچا محبت کرتا ہے آپ مجھے سے۔۔۔۔”
مرجان کی آواز اسکے کانوں میں گونجی تو ویرہ کی بس ہوئی وہ اپنے بال ہاتھوں میں دبوچ کر سسک سسک کر رونے لگا۔
“مم۔۔۔میں پھر بھی آپ سے محبت کروں گی۔۔۔۔ہمیشہ کروں گی۔۔۔۔پھر دیکھنا آپ کی نفرت ہار جائے گی میری محبت کے آگے”
اسے یاد کر کے ویرہ کا دل تڑپ اٹھا تھا۔سب سے زیادہ ظلم تو اس نے اسی پر کیا تھا جو اس سے محبت کرتی تھی۔کیا زندگی تھی اسکی اپنی آخری سانس تک ایک دہشتگرد کی بیوی مانا جانا اس سے جڑ کر رہنا۔
نہیں۔۔۔نہیں تھا ویرہ اس محبت کے قابل نہیں تھا وہ اس رشتے کے قابل۔وہ کیوں مرجان کو خود سے جوڑ کر رکھتا نہیں تھا وہ اسکے قابل۔
اچانک ہی چرچراہٹ کی آواز پر ویرہ نے دروازے کی جانب دیکھا جسے کھول کر ایک ہیولا سا کال کوٹھری میں داخل ہوا تھا۔پھر وہاں کا بلب چلا اور روشنی ہو گئی۔اس روشنی پر ویرہ نے اپنی آنکھوں کو زور سے میچ لیا۔
“کیسے ہو ویرہ۔۔۔۔؟”
جنرل شہیر کی آواز پر ویرہ نے آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔
“ابھی بھی بات نہیں کرو گے۔۔۔۔؟”
جنرل شہیر نے اسکے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔پہلے تو ویرہ خاموش رہا پھر کال کوٹھری میں اسکی آواز گونجی۔
“کروں گا بات۔۔۔۔”
ویرہ کی بات پر جنرل شہیر کے چہرے پر ایک مسکان آئی۔شکر تھا مہینے میں پہلی بار اس نے زبان پر لگا تالا تو کھولا تھا۔
“لیکن آپ سے نہیں راگا سے۔۔۔”
ویرہ کی اگلی بات پر جنرل شہیر کے ماتھے پر بل آئے تھے۔
“راگا؟”
ویرہ نے اثبات میں اپنا سر ہلایا۔
“یہ زبان اب صرف اسی کے سامنے کھلے گی تو اسے یہاں بلائیں ورنہ جتنی طاقت ہے لگا کر دیکھ لیں،جتنی اذیت دے سکتے ہیں دے لیں لیکن مجھ میں چھپے رازوں تک نہیں پہنچ پائیں گے۔۔۔۔”
جنرل شہیر نے ویرہ کی آنکھوں میں ایک عزم دیکھا تھا۔وہ سچ کہہ رہا تھا وہ کچھ بھی کر لیتے ویرہ کو جواب دینے پر مجبور نہیں کر سکتے تھے۔وہ ڈر کر جواب دینے والوں میں سے نہیں تھا۔
جنرل شہیر اٹھے اور خاموشی سے اس کال کوٹھری سے باہر نکل گئے۔ایک بار پھر سے لائٹ بند ہو گئی اور وہ اندھیرا اور ماضی کی یادیں پھر سے ویرہ کا مقدر بن گئیں۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
عماد ویرہ کی خواہش کے مطابق اس سے ملنے آیا تھا اور ایسا اس نے کیسے ممکن کیا تھا یہ وہی جانتا تھا۔کیونکہ عماد سیکرٹ ایجنٹ تھا اور اسکے بارے میں کوئی نہیں جان سکتا تھا لیکن عماد نے بھی اپنے بابا جنرل شہیر کے جنرل ہونے کا فایدہ اٹھایا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ ویرہ سے اپنی سچائی چھپائے گا۔
عماد کال کوٹھری میں داخل ہوا جہاں کافی اندھیرا تھا بس دروازے پر لگی چھوٹی سی کھڑکی میں سے روشنی پھوٹ رہی تھی لیکن اس روشنی میں عماد کا چہرہ نظر آنا ناممکن تھا۔
“کہو ویرہ کیا کہنا تھا تمہیں مجھ سے۔۔۔”
عماد نے راگا کی آواز میں کہا تو ویرہ زنجیروں میں جکڑے ویرہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا لیکن اسے عماد کے ہیولے کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔
“مرجان کیسی ہے؟”
مرجان کا نام زبان پر لاتے ہوئے ویرہ کی آواز میں بہت کرب تھا۔
“ٹھیک ہے دوست، اسکی فکر مت کرو وہ اور اسکے گھر والے با حفاظت میرے پاس ہیں اور میری آخری سانس تک وہ حفظ و امان سے میرے پاس ہی رہیں گے ۔”
عماد نے نرمی سے کہا تو ویرہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔شائید راگا جب فوج سے چھوٹ کر آیا تھا تب سے ہی فوج سے ہاتھ ملا چکا تھا لیکن ویرہ کو اندازہ ہی نہیں ہوا۔
“تم سے ایک کام تھا فوجی۔۔۔۔”
ویرہ نے فوجی لفظ پر زور دیا کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ راگا فوج سے ہاتھ ملا کر خود بھی اس میں شامل ہو چکا تھا۔
“ہاں کہو ویرہ۔۔۔”
ویرہ نے سرد آہ بھری اور نم آنکھوں سے اسکے ہیولے کو دیکھنا چاہا۔
“میں جانتا ہوں کہ اب میرا مقدر ساری زندگی اس کوٹھری میں رہنا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ یہ زندگی مرجان میرے نام سے جڑ کر برباد کرے اس لیے تم مجھے طلاق کے کاغذات بنوا دو تا کہ میں اسے آزاد کر سکوں ۔۔”
طلاق کا لفظ زبان پر لاتے ہوئے ویرہ کو لگا تھا کہ کسی نے اسکا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔
“معاف کرنا دوست لیکن بہت دیر ہو گئی اب ایسا نہیں ہو سکتا چاہ کر بھی تم مرجان کو طلاق نہیں دے سکتے۔۔۔”
ویرہ نے حیرت سے عماد کو دیکھا۔
“کیوں۔۔۔؟”
“”کیونکہ مرجان تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہے ویرہ ۔۔۔۔تم بہت جلد باپ بننے والے ہو۔۔۔۔”
ویرہ نے حیرت سے عماد کو دیکھا۔کیا راگا سچ کہہ رہا تھا مرجان۔۔۔۔ویرہ کو رات یاد آئی جب وہ راگا کے ساتھ واپس آیا تھا۔اتنے دن مرجان سے دور رہنے کے بعد اپنی تڑپ اور بے چینیوں میں ویرہ ہر حد پار کر گیا تھا۔
اب سب یاد کر کے ویرہ کا دل کر رہا تھا اپنی جان لے لے۔کاش کاش وہ ایسا نہ کرتا۔ مرجان کے ساتھ ساتھ وہ اس نھنی جان کی زندگی بھی تباہ کر چکا تھا جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی اور اگر اسکی بیٹی پیدا ہوتی تو۔۔۔۔کیا ہوتا اس کا مستقبل وہ تو ساری زندگی ایک دہشتگرد کی اولاد کہلاتی۔
یہ سب سوچ کر ویرہ نے اپنے بال اپنی مٹھیوں میں بھینچے اور چیخ چیخ کر رونے لگا جبکہ عماد بس اسے رحم کی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“جانتا ہوں ویرہ کہ جو تمہارے ساتھ ہوا وہ بہت بڑا ظلم تھا لیکن خود پر ہوا ظلم ہمیں ظالم بننا تو نہیں سیکھاتا ویرہ۔۔۔اگر ظلم کرنا ہی ہے تو ان پر کرو جو اس قابل ہیں۔۔۔”
عماد کی آواز میں اسکے لیے بہت دکھ تھا۔
“جانتے ہو کال کون تھا ویرہ ؟اسکا اصلی نام کمار شنکر ہے اور نام سے اندازہ لگا لیا ہو گا تم نے کہ اسکا تعلق کہاں سے ہے اور راگا ارف راگھوو کرشن بھی۔۔۔۔اپنے غصے میں تم اپنے ملک کے خلاف ہی کن کا ساتھ دیتے رہے ویرہ۔۔”
عماد کی بات پر ویرہ کا سر شرمندگی سے جھک گیا۔اسے خاموش دیکھ کر عماد وہاں سے جانے لگا جب اسکے کانوں میں ویرہ کی آواز پڑی۔
“مرجان کا بہت خیال رکھنا۔۔۔۔تمہیں اللہ کا واسطہ۔۔۔”
عماد اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا اور ویرہ اپنے احساس گناہ میں دبتا چلا گیا۔ہاں اسکی یہی سزا تھی کہ وہ اپنے بچے اور بیوی کے بغیر تڑپ تڑپ کر اس زندگی کو کاٹے کیونکہ وہ بھی تو نہ جانے کتنوں کے گھر اجاڑنے کا باعث بنا تھا۔
ہاں یہ سب ویرہ کے گناہوں کی سزا تھی جو اسے تو کاٹنی ہی تھی لیکن مرجان اور اسکی اولاد کو سزا صرف اس سے منسلک ہونے کی وجہ سے کاٹنی تھی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان گم سم سی اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔وہ عماد سے کیا وعدہ نبھا رہی تھی۔اب وہ روتی نہیں تھی بس اپنے بچے کی خاطر نہ چاہتے ہوئے بھی جی رہی تھی۔مرجان کا ہاتھ بے ساختہ اپنے پیٹ پر گیا جہاں انکی محبت کی نشانی پل رہی تھی۔
کیسے جیتا اس دنیا میں وہ معصوم اپنے باپ کی محبت کے بغیر۔کیا یہ دنیا اسے جینے دیتی؟اسے ہر پل یہ احساس دلاتی کہ وہ ایک دہشت گرد کی اولاد ہے۔
یہ سب سوچ کر کتنے ہی آنسو مرجان کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔تبھی اسکے کمرے کا دروازا کھٹکا تو وہ آنسو پونچھ کر سیدھی ہوئی اور دوپٹہ سر پر لیا۔
عماد مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا تو مرجان اسے دیکھ کر ہلکے سے مسکرا دی۔
“چلو آنکھیں بند کرو تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔”
“سس۔۔سرپرائز؟
مرجان نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“چھوڑو تم سب آنکھیں بند کرو۔۔۔”
مرجان اسکے منہ بنا کر کہنے پر مسکرائی اور اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
“اب اپنی آنکھیں کھولو ۔۔”
مرجان نے آنکھیں کھولیں تو اسے لگا کہ یہ اسکی آنکھوں کا دھوکا ہو اسکے سامنے ہی وانیا مسکراتے ہوئے کھڑی تھی۔
“وانی۔۔۔۔”
مرجان کے پکارنے پر وانیا اسکے پاس آئی اور اسکے گلے سے لگ گئی۔اپنی پیاری دوست کا سہارا ملتے ہی مرجان کی آنکھیں پھر سے نم ہوئی تھیں۔
“لو اس لیے نہیں لایا تمہاری بھابھی کو یہاں کہ اسے رو کر دیکھاؤ۔اب رونا نہیں خوشی خوشی اس سے باتیں کرو میں اماں کے ساتھ مل کر کچھ اچھا سا بنا کر لاتا ہوں دونوں کے لیے۔”
عماد اتنا کہہ کر وہاں سے چلا گیا اور مرجان نے نم آنکھوں سے مسکرا کر وانیا کو دیکھا۔
“کیسی ہو تم وانیا؟”
مرجان کے سوال پر وانیا مسکرائی۔
“اب تمہیں دیکھ لیا ناں اب بالکل ٹھیک ہوں لیکن تم ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔”
ایک افسردہ سی مسکان مرجان کے ہونٹوں پر آئی تھی۔
“ان کے بغیر میں کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے وانی۔۔۔؟”
وانیا نے نم آنکھوں سے مرجان کو دیکھا۔
“عماد نے مجھے بتایا ویرہ بھائی کے بارے میں۔۔۔”
وانیا نے مرجان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما۔
“فکر مت کرو مرجان سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
مرجان نے اپنا سر انکار میں ہلایا۔
“کچھ ٹھیک نہیں ہو گا ایسا لگتا ہے سب ختم ہو گیا۔۔۔”
اتنا کہہ کر مرجان پھر سے رونے لگی اور وانیا نے بے بسی سے اسے دیکھا۔پھر کچھ سوچ کر اسکا چہرہ ہاتھ میں تھاما اور اسکے آنسو پونچھ دیے۔
“کبھی بھی سب ختم نہیں ہوتا مرجان۔۔۔”
وانیا ہلکا سا مسکرائی۔
“پتہ ہے میں اپنے سائے سے بھی ڈرنے والی لڑکی تھی جو سب سے بچنے کا سہارا اپنی جڑواں بہن کو سمجھتی تھی۔پھر ایک دن میری یونیورسٹی پر حملہ ہوا اور دہشتگرد مجھے میری بہن،میرے ماں باپ سے دور لے گئے۔سب اپنوں سے دور تنہا کر دیا مجھے۔اس دن مجھے لگا کہ سب ختم ہو گیا۔۔۔”
وانیا کی بات پر مرجان خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔
“لیکن پھر دہشتگردوں کے ہی سردار راگا نے میری حفاظت کی مجھے اپنے ساتھی سے بچانے کے لیے اپنے نکاح میں لیا۔ہر حق ہوتے ہوئے بھی مجھ سے کوئی زبردستی نہیں کی اور مجھے تحفظ میں رکھا اور ان سب باتوں کی وجہ سے میرا دل اسکی جانب مائل ہو گیا۔پتہ ہے مرجان جس دن میں نے اپنے دل کے احساسات راگا کے لیے محسوس کیے اس دن مجھے لگا سب ختم ہو گیا۔”
مرجان بس بت بنی وانیا کی باتیں سن رہی تھی جو ایسا لگ رہا تھا کہ کہیں کھوئی کھوئی سی یہ بات کہہ رہی ہو۔
“پھر ایک دن میں نے راگا کو ایک فوجی پر بندوق تانے دیکھا میں نے انہیں روکا کہ وہ اسے نہ ماریں لیکن وہ نہیں رکے تو میں نے۔۔۔۔میں نے ان کو گولی مار دی۔۔۔”
مرجان کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
“اسکے دل پر گولی ماری مرجان جس کے لیے میرا دل تڑپتا تھا اور اس دن ان کا بے جان وجود دیکھ کر مجھے لگا کہ سب ختم ہو گیا۔۔”
مرجان نے اپنا ہاتھ وانیا کے ہاتھ پر رکھا۔
“پھر ایک دن میرے بابا نے مجھے بتایا کہ انہوں نے میرا نکاح اپنے جنرل کے بیٹے سے طے ہر دیا ہے میں یہ نکاح نہیں کرنا چاہتی تھی مرجان۔۔۔مجھے لگا کہ میں راگا کے سوا کسی کی ہو نہیں پاؤں گی لیکن پھر بھی اپنے بابا کے مان کی خاطر انکی بات مان گئی اور جب میں نے اپنے بابا کی رضا کے لیے وہ نکاح قبول کیا تو مجھے لگا سب ختم ہو گیا۔
۔”
وانیا نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھے اور مسکرائی۔
“لیکن پھر میں نے اپنے شوہر کو دیکھا۔عماد کو دیکھا تو مجھے پتہ چلا کہ یہ تو وہی ہیں۔وہ ہی میرے راگا تھے مرجان جنہوں نے مجھے تحفظ دیا تھا میرا خیال رکھا تھا۔”
وانیا نے مرجان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑے۔
“انہوں نے مجھے بتایا کہ راگا کی جگہ وہ راگا کا روپ لے کر وہاں گئے تھے اور اصلی راگا کو تو انہوں نے کبھی آزاد ہی نہیں کیا تھا۔۔۔۔”
مرجان کے ماتھے پر بل آئے۔
“تو وہ کون تھا جسے تم نے مارا؟”
مرجان کے سوال پر وانیا نے سرد آہ بھری۔
“وہ اصلی راگا تھا جو جیل سے بھاگ آیا تھا اور یہاں واپس آ کر سب کو عماد کی سچائی بتانا چاہتا تھا لیکن تب مجھے یہ بات نہیں پتہ تھی۔”
مرجان نے اثبات میں سر ہلایا۔
“لیکن دیکھو مرجان خدا نے مجھے ہر امتحان سے نکالا مجھے ایسے آدمی کی محبت دی جسے میں نے چاہا تھا دیکھنا اللہ تعالیٰ تمہیں بھی تمہاری چاہت اور خوشیاں ضرور دیں گے ان شاءاللہ۔”
وانیا نے مسکرا کر کہا تو مرجان کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ آئی۔
“لیکن کیسے وانیا میرا شوہر کوئی دہشتگرد کے بھیس میں چھپا فوجی نہیں تھا وہ سچ میں دہشتگرد تھا اور قانون انہیں سزا دیتا ہے وانیا معاف نہیں کرتا۔۔۔”
مرجان نے روتے ہوئے کہا تو وانیا مسکرا دی۔
“جب ہمارا رب کچھ کرنا چاہتا ہے ناں مرجان تو اسکے سامنے کیوں،کیونکر اہمیت نہیں رکھتا۔وہ بس کن کہتا ہے اور سب ہو جاتا ہے تم بس دعا کرو۔۔۔۔”
وانیا نے اسکا چہرہ ہاتھ میں پکڑ کر کہا تو مرجان نے آنسو پونچھ کر ہاں میں سر ہلایا۔
“بتا دیا سب کچھ اپنی دوست کو مل گیا دل کو چین؟”
عماد ٹرے لے کمرے میں داخل ہوا تو وانیا اسکی بات پر ہنس دی۔
“سب بتایا ہے تو یہ بھی بتاتی کہ تم اس قدر بیوقوف تھی کہ یہ تک نوٹس نہیں کیا کہ جس راگا سے تمہارا نکاح ہوا تھا اسکا نام عماد بنگش ولد شہریار بنگش تھا اور جس فوجی کے بیٹے سے تمہارا نکاح ہوا اسکا نام بھی عماد بنگش ولد شہریار بنگش تھا۔۔۔سچ میں بے وقوف بیوی دے دی ہے اللہ نے۔۔۔”
مرجان اور وانیا دونوں ہی اسکی بات پر ہنس دیں اور انہیں ہنستا دیکھ عماد مسکرا دیا۔اس نے نرمی سے اپنا ہاتھ مرجان کے سر پر رکھا۔
“تم بس یونہی مسکراتی رہا کرو اسے میں اکثر ہی یہاں لاتا رہوں گا۔۔۔”
عماد نے وانیا کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا تو مرجان نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔اپنی دوست کو واپس پا کر کچھ دیر کے لیے ہی سہی وہ اپنا ہر غم بھول گئی تھی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
چرچراہٹ کی آواز پر دروازہ کھلا اور جنرل شہیر اس کال کوٹھری میں داخل ہوئے۔ویرہ حسب معمول زنجیروں میں جکڑا ایک کونے میں بیٹھا تھا۔
“کیسے ہو ویرہ؟”
جنرل شہیر کی آواز پر ویرہ نے انکی جانب مردہ آنکھوں سے دیکھا۔
“تم نے کہا تھا کہ تم راگا سے بات کرو گے ہم نے تمہاری اس سے بات کروائی کیا تم اب بھی کچھ نہیں کہنا چاہتے۔۔۔۔”
جنرل شہیر کی بات پر ویرہ نے گہرا سانس لیا۔
“آزاد کشمیر کے پہاڑوں میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو دیکھنے میں تو عام سا قبیلہ ہے لیکن اس میں رہنے والا ہر آدمی ہماری طرح ہی ایک دہشتگرد ہے۔۔۔”
ویرہ کی بات پر جنرل شہیر کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“مشہور سیاستدان عباس جاوید سیاست کی آڑ میں چھپ کر دہشتگردوں کو سپورٹ کرتا ہے اور ان سے اپنے کام کراتا ہے۔”
ویرہ کی ہر بات جنرل شہیر کو پہلے سے بھی زیادہ حیران کر رہی تھی۔
“اور یہی نہیں تم لوگوں میں چھپا ایک میجر۔۔۔میجر ابراہیم شیخ دہشتگردوں کا جاسوس ہے۔۔۔۔”
جنرل شہیر اب اپنا ماتھا پکڑ چکے تھے۔
“ایسے اور بہت سے راز ہیں جو میں جانتا ہوں۔ایسے راز جو تمہاری سوچ کے پاس سے بھی نہیں گزر سکتے۔”
ویرہ کی بات پر جنرل شہیر نے اسکی جانب دیکھا۔
“بتانا چاہو گے سب ہمیں؟”
جنرل شہیر کے سوال پر ویرہ کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ آئی تھی۔
“مفت میں؟”
“کیا چاہتے ہو تم؟”
جنرل شہیر نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تو ویرہ کرب سے اپنی آنکھیں موند گیا۔
“صرف ایک موقع۔۔۔۔”
جنرل شہیر نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔
“جس جس کو میں جانتا ہوں اسے پکڑوانے میں تم لگوں کا ساتھ دوں گا لیکن اسکے بعد مجھے آزادی چاہیے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ پھر سے دیوار کے ساتھ اپنا سر ٹکا کر آنکھیں موند گیا۔جنرل شہیر کچھ دیر اسے دیکھتے رہے پھر اٹھ کر وہاں سے چلے گئے۔جو ویرہ مانگ رہا تھا وہ بہت مشکل تھا۔۔۔۔بہت زیادہ مشکل۔۔