Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ویرہ فوراً یعقوب کے پاس آیا تھا جو اپنے گھر کے بستر پر پڑے تھے جبکہ ایک ڈاکٹر انکے پاس تھا۔گولی تو راگا اپنے کسی جاننے والے ڈاکٹر سے نکلوا آیا تھا لیکن تکلیف کے باعث یعقوب کی حالت کافی خراب تھی۔
“بابا۔۔۔”
ویرہ کے پکارنے پر یعقوب نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
“کیسے ہوا یہ۔۔۔؟”
ویرہ نے غصے سے راگا سے پوچھا جو کمرے کے کونے میں کھڑا تھا۔
“ہمیں پھنسایا گیا تھا جب ہم اپنے کام کے لیے وہاں پہنچے فوج پہلے سے وہاں موجود تھی۔جیسے تیسے میں خود کو اور انہیں تو بچا لایا لیکن ہمارے ساتھ گئے آدمی نہیں بچ سکے۔”
ویرہ نے گہرا سانس لے کر یعقوب کو دیکھا جو شائید کچھ کہنا چاہ رہے تھے۔
“ویرہ۔۔۔”
“جی بابا۔۔۔۔”
ویرہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر نرمی سے کہا۔
“مم۔۔۔میں نہیں بچوں گا۔۔۔”
“ایسا مت کہیں کچھ نہیں ہو گا آپ کو۔۔۔”
ویرہ نے سنجیدگی سے کہا چہرے پر ہلکا سا بھی کوئی تاثر نہیں تھا۔
“اا۔۔۔اااگر مجھے کچھ ہو گیا تو۔۔۔۔تم اور راگا دونوں میں سے کوئی ایک۔۔۔۔ہمارے آدمیوں کی رضامندی سے سردار بن جائے۔۔۔۔”
یعقوب نے حکم دیا تو ویرہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“مم۔۔۔۔میرے بعد میرے گھر والوں کا ک۔۔۔کوئی وارث نہیں ہو گا۔۔۔”
“آپ ایسا مت کہیں بابا آپ کو کچھ نہیں ہو گا۔۔۔”
ویرہ نے پھر سے انہیں دلاسہ دیا۔
“ننن۔۔۔۔نہیں ویرہ اگر مجھے کچھ ہو گیا۔۔۔تو میرے بیوی بچے۔۔۔۔وہ اپنی مرضی کرتا پھرے گا۔۔۔۔آوارہ اور باغی ہو جائے گا۔۔۔۔مم۔۔۔میں ایسا نہیں چاہتا۔۔۔۔”
یعقوب نے پریشانی سے کہا پھر کچھ سوچ کر تکلیف سے بھری نگاہوں سے ویرہ کو دیکھا۔
“ویرہ میں چاہتا ہوں۔۔۔۔میرے مرنے سے پہلے۔۔۔۔تمہارا اور مم۔۔۔مرجان کا نکاح کر دوں۔۔۔”
یعقوب کی بات ویرہ کے لیے کسی طوفان سے کم نہیں تھی۔
“تا کہ گاؤں کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔ان کا بھی کوئی وارث ہو۔۔۔۔”
یعقوب نے بمشکل اتنا بولتے ہوئے کہا سچ تو یہ تھا کہ بولنے سے انہیں سینے میں سخت تکلیف ہو رہی تھی جہاں انہیں گولی لگی تھی۔
“بولو وو۔۔۔ویرہ کرو گے مرجان سے نکاح ؟”
یعقوب نے ہمت کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا تو ویرہ سکتے کے عالم سے باہر آیا اور بے یقینی سے انہیں دیکھنے لگا۔
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بابا مرجان۔۔۔وہ بہت زیادہ چھوٹی ہے مجھ سے بس سولہ سال کی بچی ہے اور آپ۔۔۔”
ویرہ نے ایک پل رک کر خود پر قابو پایا اور راگا کو دیکھا جو خاموشی سے کمرے کے کونے میں کھڑا تھا۔
“عمر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ایسے تمہارا میرے گھر سے تعلق بن جائے گا۔۔۔۔تم ان سب کے وارث بن جاؤ گے۔۔۔۔”
یعقوب نے لاپرواہی سے کہا۔
“آپ فکر مت کریں میں ویسے بھی ان کا خیال رکھوں گا اور ویسے بھی آپ ٹھیک ہو جائیں گے اور آپ خود انکا خیال رکھیں گے پریشان مت ہوں۔”
ویرہ نے ہلکا سا ہاتھ انکے سینے پر رکھ کر کہا۔
“نن۔۔۔۔۔نہیں ویرہ میں۔۔۔کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا۔۔۔۔میرے پاس دو ہی راستے ہیں۔۔۔۔یا تو تم مرجان سے نکاح کر لو یا۔۔۔۔”
“یا؟”
یعقوب کے خاموش ہو جانے پر ویرہ نے پوچھا۔
“یا میں اسکا۔۔۔۔نکاح راگا سے کر دوں گا۔۔۔۔”
اس بات پر ویرہ کے ساتھ ساتھ راگا نے بھی حیرت سے یعقوب خان کو دیکھا۔
“بب۔۔۔بولو راگا تمہیں کوئی اعتراض ۔۔۔۔تو نہیں۔۔۔”
یعقوب کے سوال پر پہلے تو راگا خاموش رہا پھر اسکے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی۔
“نہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔”
ویرہ نے حیرت سے راگا کو دیکھا جو لگ بھگ اسی کی عمر کا تھا بھلا وہ کیسے ایک سولہ سال کی بچی کو قبول کر سکتا تھا۔
“تو۔۔۔۔ٹھیک ہے ویرہ کل تک سوچ لو اگر ۔۔۔۔۔تمہیں اعتراض ہی رہا تو میں۔۔۔۔۔میں کل شام کو مرجان کا نکاح راگا سے کر دوں گا۔۔۔”
“لیکن بابا۔۔۔”
“ب۔۔۔بس ویرہ یہ۔۔۔۔میرا آخری فیصلہ ہے۔۔۔”
اتنا کہہ کر یعقوب نے اپنی آنکھیں موند لیں اور ویرہ وہاں سے اٹھ کر اپنے گھر واپس آ گیا۔یعقوب کی باتیں اسکے ذہن پر سوار تھیں۔کیا یہ اس بچی کے ساتھ زیادتی نہیں تھی کہ اسے اس سے پندرہ سال بڑے مرد کے پلے باندھ دیا جاتا۔وہ بھی وہ مرد جس کا جینا مرنا بس خون خرابا تھا لیکن ان کے قبیلے کی عورتوں کا مقدر ایسے مرد ہی تو تھے۔
نہ چاہتے ہوئے بھی ویرہ کی سوچ کا مرکز مرجان تھی۔وہ لڑکی جو ایک تتلی کے مر جانے پر رو دیا کرتی تھی کیا وہ راگا یا ویرہ جیسے سفاک درندے کے ساتھ زندگی گزار پاتی۔
ویرہ اسے تب سے جانتا تھا جب سے وہ پیدا ہوئی تھی۔وہ بچپن میں بندوق کی آواز پر سہم کر رونے لگتی تھی،بجلی کی کڑک اسے ڈراتی تھی غصے سے چلانے پر تو وہ سہم کر بت بن جایا کرتی تھی۔
اس کی معصوم سی مسکراہٹ اور چمکتی سنہری آنکھیں ویرہ ہے ذہن ہر حاوی ہوئی تھیں۔
ویرہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اگر اسکا نکاح راگا سے ہو گیا تو وہ اس کا کیا حال کرے گا۔ویرہ نے راگا کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔وہ بہت زیادہ سفاک تھا دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر اسے سکون ملتا تھا کیا وہ معصوم سی لڑکی ایک پل بھی ایسے شخص کے ساتھ زندہ رہ پاتی۔
اس سوچ پر ویرہ اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔اس کے دماغ نے اسے سمجھایا کہ وہ اسکی پرواہ کیوں کرے،ویرہ کسی کی بھی پرواہ کیوں کرے اسے سب سے ہی نفرت تھی لیکن چاہ کر بھی یہ خیال ویرہ اپنے دماغ سے جھٹک نہیں پایا تھا۔
پوری رات ایک پل بھی اسکا چین سے نہیں گزرا تھا آخر کار صبح ہوتے تک اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے اس لڑکی کی پرواہ نہیں یعقوب خان اگر اسکا نکاح راگا سے کر بھی دیں تو ویرہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ہاں اس نے خود کو یہی سمجھایا تھا کہ مرجان یعقوب خان کے جینے مرنے سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں جب یعقوب نے اسے بلا کر پھر سے اسکی رضامندی پوچھی تو اسکا جواب وہ نہیں تھا جو اس نے سوچا تھا۔
“مجھے منظور ہے۔۔۔۔میں کروں گا مرجان سے نکاح۔۔۔”
ویرہ کے جواب نے اسے خود حیران کر دیا تھا۔کیا اسے اس لڑکی کی پرواہ تھی جو اسے راگا جیسے سفاک درندے کے ہاتھ لگتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ویرہ نہیں جانتا تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تھا لیکن ویرہ سے جڑ کر بھی اسکا مقدر کونسا اچھا ہو جانا تھا۔
اس معصوم لڑکی کے نصیب میں بس کانٹے اور آنسو ہی لکھے تھے جن کے ساتھ اسے یہ زندگی گزارنی تھی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان اپنے اس چھوٹے سے گھر کے دوسرے کمرے میں چہرہ گھٹنوں پر رکھے بیٹھی تھی۔دلاور اور گل بھی خاموشی سے اسکے پاس بیٹھے تھے۔اپنے باپ کی اس حالت پر وہ تینوں پریشان تھے۔
“ابا کو کس نے مارا لالا؟”
گل کی سہمی سی آواز کمرے میں گونجی تو مرجان نے ایک نظر اسے دیکھا جو ڈری سہمی سی کمرے کے کونے میں بیٹھی تھی۔
“فوجیوں نے۔۔۔۔”
دلاور نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
“کیوں؟”
گل کی جانب سے دورسرا سوال آیا تھا۔
“کیونکہ وہ بہت برے ہوتے ہیں ابا کہتے ہیں کہ وہ ہمیں دیکھتے ہی ہماری جان لینا چاہتے ہیں۔”
دلاور کے جواب پر گل مزید سہم چکی تھی۔
“ففف۔۔۔۔فوجی کیسے ہوتے ہیں۔۔۔۔کک۔۔۔کیا ان کے بڑے بڑے دانت ہوتے ہیں جس سے وہ کھا جاتے ہیں۔۔۔؟”
گل کے اس سوال پر دلاور کے ساتھ ساتھ مرجان بھی ہلکا سا ہنس دی۔
“نہیں وہ بھی انسان ہوتے ہیں بس سبز اور بھورے رنگوں کا لباس پہن کر گھومتے ہیں،ہاتھوں میں بندوقیں تھام کر رکھتے ہیں اور ہمارے دشمن ہیں اسی لیے ہمیں دیکھتے ہی اس بندوق سے گولی مار دیتے ہیں۔۔۔”
دلاور نے عام سے انداز میں کہا۔
“اوہ اچھا تو جب فوجی نظر آئے تو کیا کریں۔۔۔؟”
گل کی جانب سے ایک اور معصوم سا سوال آیا۔
“ان سے جتنا دور ہو سکے بھاگ جاؤ۔۔۔”
دلاور کے انداز میں زرا سی سنجیدگی تھی۔مرجان نے اپنی بہن کو دیکھا جو شائید یہ بات اپنے دماغ میں اچھی طرح لکھ رہی تھی۔تبھی انکی ماں ہاتھ میں ایک جوڑا اور آنکھوں میں آنسو لیے کمرے میں داخل ہوئی۔
“کیا ہوا اماں۔۔۔؟”
اپنی ماں کے چہرے پر اضطراب دیکھ کر دلاور نے پریشانی سے پوچھا۔مگر الماس نے سوال کو نظر انداز کر کے مرجان کو نم آنکھوں سے دیکھا اور ہاتھ میں پکڑا جوڑا اسکی جانب بڑھایا۔
“یہ لے مرجان اور تیار ہو جا۔۔۔۔شام کو نکاح ہے تیرا۔۔۔۔”
الماس نے کمرے میں موجود ہر شخص پر بم گرایا جبکہ انکی بات پر مرجان کو لگا کہ اسکا سانس حلق میں ہی اٹک گیا ہو۔
“باجی کا نکاح۔۔۔لیکن کس سے۔۔۔؟”
دلاور نے بے چینی سے اٹھ کر پوچھا۔اسکی بہنیں اسے جان سے بھی زیادہ عزیز تھیں ان پر آنچ آنے سے پہلے وہ مرنا پسند کرتا۔
“ویرہ سے۔۔۔۔”
اس بات پر مرجان کا منہ حیرت سے کھل گیا جبکہ دلاور اپنی ماں کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کہ اس نے کوئی انوکھی ہی بات کی ہو۔
“لل۔۔۔۔لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے اماں ب۔۔۔باجی ان سے بہت چھوٹا ہے۔۔۔۔اور ابھی صرف سولہ سال کا ہے وہ۔۔۔۔آپ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔”
دلاور کے غصے میں اپنی بہن کے لیے محبت اور فکر چھپی تھی۔وہ بھی ویرہ کو جانتا تھا اسکے دل میں کسی کے لیے کوئی رحم نہیں تھا نہ جانے شادی کے بعد وہ مرجان کا کیا حال کرتا۔
“ہمارے قبیلے میں پندرہ سولہ سال کی لڑکی کو بیاہ دیا جاتا ہے یہ کوئی بڑی بات نہیں اور یہ تمہارے ابا کا فیصلہ ہے دلاور کوئی بھی اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔”
اس بات پر دلاور نے مرجان کو دیکھا جو خاموشی سے وہاں بیٹھی تھی۔
“مم ۔۔میں ابا سے بات کروں گا۔۔۔۔ااا۔۔۔۔انہیں منع کروں گا۔۔۔۔ویرہ لالا۔۔۔۔وہ میری بہن کا خیال نہیں رکھ سکتے۔۔۔۔”
دلاور نے بستر سے اٹھتے ہوئے کہا۔طبیعت کی خرابی کے باعث اسکے سینے میں تیز درد اٹھا تھا جس پر اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
“دلاور تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں وہ تمہیں ڈانٹ دیں گے مت جاؤ وہاں۔۔۔”
الماس نے بیٹے کو سمجھانا چاہا جو اپنی چادر اپنے گرد لپیٹ رہا تھا۔
“نہیں۔۔۔ابا کو اپنا فیصلہ بدلنا ہو گا۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر دلاور دروازے کی جانب بڑھا جب اسکے کانوں میں مرجان کی آواز پڑی۔
“لالا۔۔۔۔مجھے یہ نکاح منظور ہے۔۔۔۔”
دلاور نے حیرت سے مڑ کر مرجان کو دیکھا جو سر جھکائے یہ بات کہہ رہی تھی۔
“باجی۔۔۔”
“مم۔۔۔۔مجھے وہ اچھے لگتے ہیں لالا مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔ممم۔۔۔۔میں خوش ہوں۔۔۔”
مرجان نے شرمگیں مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو دلاور کے ساتھ ساتھ الماس بھی سکتے کے عالم میں اپنی بیٹی کو دیکھنے لگی۔
“مرجان تم یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔۔۔؟”
الماس نے حیرت سے اس سے پوچھا۔کہاں وہ اس لڑکی کا مقدر ایک درندے سے باندھے جانے پر سوگ منا رہے تھے اور وہ خوش تھی۔
“سچ اماں۔۔۔۔وہ مجھے اچھے لگتے ہیں۔۔۔آپ ابا کو منع نہ کریں۔۔۔”
اتنا کہہ کر مرجان اپنی جگہ سے اٹھی اور اپنی ماں کے ہاتھ سے نکاح کا جوڑا پکڑ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔گل بھی اٹھ کر اپنی بہن کے پیچھے گئی تھی جبکہ الماس اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھیں جو بت بنا ایک جگہ بیٹھا تھا۔
“باجی نہیں سمجھتی۔۔۔۔باجی کو لگتا ہے وہ خاموش سا رہنے والا شخص ہے جو اپنے الفاظ سے کسی کو تکلیف نہیں دیتا۔۔۔۔وہ نہیں جانتی کو وہ کیسا درندہ ہے۔۔۔۔وہ نہیں جانتی کہ اس گاؤں کا ہر مرد ایک درندہ ہے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر دلاور نے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
“اور میں اتنا کمزور ہوں کہ اپنی بہن کا مقدر درندے سے جڑنے سے نہیں روک سکتا۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر دلاور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تو الماس اس کے پاس گئی اور تڑپ کر اپنے بیٹے کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
“شکر ہے دلاور تم کمزور ہو ورنہ وہ تمہیں بھی اپنے جیسا بنا دیتے۔۔۔شکر ہے خدا کا میرے بیٹے کہ تم ان سب کے جیسے نہیں۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر الماس بھی بے بسی سے رونے لگیں۔وہ دونوں جانتے تھے کہ وہ کچھ بھی کر لیں ان کی معصوم بچیوں کے مقدر میں کسی درندے کا ساتھ ہی لکھا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان نہانے کے بعد کپڑے بدل کر اپنے گیلے بالوں میں کنگی کر رہی تھی جب گل اسکے پاس آئی اور پاس بیٹھ کر ٹھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھے اسے دیکھنے لگی۔
مرجان کے برعکس گل کی آنکھیں سنہری ہونے کی بجائے نیلی تھیں اور جب وہ مسکراتی تھی تو دونوں گالوں میں گڈھے پڑتے تھے۔سفید رنگ پر اسکے گال ہمیشہ گلاب کی ماند دمکتے رہتے تھے شائید اسی لیے اماں نے اسکا نام گلِ لالہ رکھا تھا۔
“باجی۔۔۔۔”
“ہمممم۔۔۔۔”
مرجان نے مسکرا کر گل کو دیکھا۔
“کیا تمہیں سچ میں ویرہ لالا شادی کرنی ہے؟”
گل کے سوال پر مرجان کے ہونٹوں پر شرمیلی سی مسکان آئی اور اس نے ہاں میں سر ہلایا۔
“توبہ اگر میری ان سے شادی ہو رہی ہوتی تو میں رو رو کر مر جاتی مجھے تو بہت ڈر لگتا ہے ان سے۔۔۔۔”
گل نے منہ بنا کر کہا تو مرجان ہلکا سا ہنس دی۔
“تمہیں تو ہر آدمی سے ہی ڈر لگتا ہے کوئی ایک بھی ایسا ہے جس سے تمہیں ڈر نہیں لگتا؟”
مرجان کے سوال پر گل گہری سوچ میں ڈوب گئی۔
“”دلاور لالا سے۔۔۔”
اپنی بہن کے معصوم جواب پر مرجان ہنستے ہوئے کنگھی کرنے لگی۔یہ گل کا قصور نہیں تھا کہ وہ اتنی ڈرپوک تھی ان کا باپ ان کے ساتھ سلوک ہی ایسا کرتا آیا تھا کہ گل کو دلاور کے علاؤہ ہر آدمی سے ڈر لگتا تھا۔
“تم خوش ہے باجی؟”
گل نے پھر سے پوچھا تو مرجان نے ہاں میں سر ہلایا۔
“کیوں۔۔۔؟”
اس سوال پر مرجان زرا سا ہچکچائی۔
“مم۔۔۔مجھے نہیں پتہ گل۔۔۔بس وہ مجھے اچھے لگتے ہیں۔کیوں اچھے لگتے ہیں یہ مجھے نہیں پتہ لیکن ثانیہ۔۔۔۔ثانیہ کہتی ہے کہ مجھے ان سے محبّت ہے اس لیے اچھے لگتے ہیں۔۔۔”
مرجان نے آخری بات آہستہ آواز میں کہی لیکن پھر بھی کمرے میں داخل ہونے والی انکی ماں یہ بات سن چکی تھی۔
“گل تم دلاور کے پاس جاؤ۔۔۔”
اپنی ماں کا حکم مانتی گل اٹھ کر وہاں سے چلی گئی اور الماس مرجان کے پاس آئی جو اضطراب سے اپنے ہاتھ مسل رہی تھی۔
“اا۔۔۔۔اماں میں نے نہیں ثانیہ نے کہا تھا یہ۔۔۔۔”
مرجان نے صفائی دینا چاہی مگر اپنی ماں کو خاموش دیکھ کر وہ مزید گھبرائی تھی۔
“ششش۔۔۔شوہر سے تو محبت کرتے ہیں ناں اماں نہ کریں تو گناہ ہوتا ہے۔۔۔قرآن پاک پڑھاتے ہوئے آپ نے ہی بتایا تھا۔۔۔”
مرجان نے سہم کر کہا تو الماس اسکے پاس آئیں اور اسے اپنے گلے سے لگا کر رونے لگیں۔
“لیکن تمہارا ہونے والا شوہر محبت کے قابل نہیں مرجان۔۔۔تم کیسے اس سے محبت کر سکتی ہو کیسے۔۔۔”
مرجان اپنی ماں سے دور ہوئی اور شرمیلی سی مسکان کے ساتھ انکو دیکھا۔
“مجھے نہیں پتہ بس وہ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں ان سے شادی ہونے پر۔۔۔”
مرجان نے اتنا کہا اور اپنے بال چوٹی میں باندھنے لگی جبکہ الماس اسکی بات پر بے چین ہوئی تھی۔وہ نہیں چاہتی تھی اسکی بیٹی کا معصوم دل ٹوٹ جائے۔
“تم اس شادی سے خوش کیسے ہو سکتا ہے مرجان تمہارا باپ تمہارا شادی ایک سفاک درندے سے کر رہا ہے جس کے دل میں ہر ایک کے لیے بس نفرت ہے۔۔۔۔”
یعقوب کا فیصلہ سننے کے بعد اپنے گھر واپس جاتے ویرہ کے قدم کمرے سے آنے والی آواز پر رکے اور اس نے کھڑکی میں سے اس ماں کو دیکھا جو صدمے کی حالت میں اپنی سولہ سالہ بیٹی کو بتا رہی تھی جبکہ وہ بیٹی اپنے باپ کے حکم پر خوشی خوشی نکاح کے لیے تیار ہو رہی تھی۔
“اپنی اور اسکی عمر کا فرق دیکھو پندرہ سال بڑا ہے وہ تم سے۔۔۔۔اور تم۔۔۔۔تم کیسے کر سکتا ہے اس سے شادی مرجان کیسے۔۔۔۔”
اس بے بس ماں نے روتے ہوئے کہا اور ویرہ چاہ کر بھی وہاں سے جا نہیں سکا۔وہ اس بارے میں اپنی ہونے والی بیوی کا جواب سننا چاہتا تھا۔
“مجھے وہ پسند ہیں اماں۔۔۔۔اپنی ہر خامی کے ساتھ مجھے پسند ہیں۔۔۔”
مرجان نے ایک شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہوئے پٹھانی بڑی سی ماتھا پٹی اپنے سر پر لگائی جبکہ اسکی بات پر باہر کھڑے ویرہ نے اپنی مٹھیاں غصے سے بھینچ لیں۔
“پاگل ہو گیا ہے مرجان۔۔۔وہ آدمی کبھی پیار نہیں کرے گا تجھ سے نفرت ہے اسے ہر ایک انسان سے۔۔۔۔ویرہ ہے وہ جانتی ہے ویرہ کسے کہتے ہیں دہشت کو اور وہ بس دہشت ہے اسکے سوا کچھ نہیں۔”
اسکی ماں نے روتے ہوئے اسے سمجھایا لیکن مرجان کے چہرے کی مسکان جوں کی توں تھی۔اس نے چھوٹے سے شیشے میں اپنا خوبصورت پٹھانی حسن شرما کر دیکھا تھا۔
“کوئی بات نہیں میری محبت انہیں مجھ سے محبت کرنے پر مجبور کر دے گی دیکھنا اماں وہ میری ہی محبت ہو گی جو ان کو سب سے محبت کرنے پر مجبور کرے گی۔”
مرجان نے بھرپور یقین سے کہا اور باہر کھڑے ویرہ کی بس ہوئی تھی۔وہ جھٹکے سے دروازہ کھولتا چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوا اور مرجان کو گھورنے لگا جو ہڑبڑا کر اسے دیکھ رہی تھی۔
“مجھے مرجان سے اکیلے میں بات کرنی ہے آپ باہر جائیں۔۔۔”
ویرہ نے کہا تو مرجان کی ماں سے تھا لیکن اسکا سارا دھیان مرجان پر تھا۔وہ ماں نہ چاہتے ہوئے بھی کمرے سے باہر نکل گئی۔ان کے قبیلے میں کہاں عورت کو کوئی اہمیت حاصل تھی۔
“کیا بکواس کر رہی تھی تم بہت خوش ہو مجھ سے شادی ہونے پر؟”
ویرہ کے غصے سے پوچھنے پر مرجان سہم کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی لیکن پھر اس نے ہمت کرنے کا فیصلہ کیا۔آخر کار وہ مرد اسکی چاہت تھا اسکا ہونے والا شوہر۔
“ججج۔۔۔جی مم۔۔۔میں خوش ہوں بہت۔۔۔”
اتنی سی بات پر مرجان کا چہرہ شرم سے دہک گیا تھا لیکن مقابل کو یہ بات پسند نہیں آئی تھی اسی لیے وہ آگے بڑھا اور اسکی نازک گردن اپنے مظبوط ہاتھ میں سختی سے دبوچ لی۔
“میں نہیں چاہتا کہ تم خوش ہو میں چاہتا ہوں کہ جب تم مجھے قبول کرو تو تمہاری آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر خوف ہو کیونکہ ساری زندگی ان کے سوا تمہیں مجھ سے کچھ نہیں ملنے والا تو ابھی سے عادت ڈال لو۔۔۔۔”
ویرہ کے غرانے پر وہ نازک لڑکی سہم کر اپنی آنکھیں زور سے میچ گئی۔نازک بدن سوکھے پتے کی مانند کانپنے لگا تھا گلابی لب کپکپا کر کسی کو بے چین کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے۔
“آآ۔۔۔۔آپ۔۔سے مم۔۔۔محبت ہے مجھے۔۔۔ممم۔۔۔میں کیوں رو کے قبول کروں میں۔۔۔۔خوش۔۔۔”
مرجان کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ویرہ نے اسکی گردن پر اتنا دباؤ بڑھا دیا کہ مرجان کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔
“نفرت ہے مجھے خوشی سے۔۔۔۔نفرت ہے مجھے محبت سے،نفرت ہے مجھے تم سے۔۔۔۔محبت ہے ناں تمہیں مجھ سے دیکھتے ہیں کب تک جھیلے گی تمہاری یہ محبت ویرہ کی نفرت کو۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ نے جھٹکے سے اسے چھوڑا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔اسکے جاتے ہی بہت سے آنسو مرجان کی آنکھوں سے بہے تھے۔
“مم۔۔۔میں پھر بھی آپ سے محبت کروں گی۔۔۔۔ہمیشہ کروں گی۔۔۔۔پھر دیکھنا آپ کی نفرت ہار جائے گی میری محبت کے آگے۔۔۔۔”
اسکی بے جا نفرت دیکھنے کے باوجود مرجان نے پورے یقین سے کہا مگر وہ معصوم نہیں جانتی تھی کہ جس بے رحم کو وہ دل دے بیٹھی تھی اسے نفرت کے سوا کچھ کرنا ہی نہیں آتا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
شام ہو چکی تھی اور نکاح کا وقت بھی۔ویرہ اس وقت نکاح خواں کے ساتھ یعقوب خان کے کمرے میں بیٹھا تھا جبکہ نکاح خواں ضروری معلومات نکاح نامے پر لکھ رہا تھا۔
“دلہے کا نام؟”
نکاح خواں نے ویرہ سے پوچھا۔
“ویرہ۔۔۔”
ویرہ نے سنجیدگی سے اپنی پہچان بتائی جو کتنے ہی سالوں سے اس کی ذات کا حصہ تھی۔
“نکاح کے لیے اصلی نام شرط ہے بیٹا اور اصلی ولدیت بھی۔۔۔”
اس بات پر ویرہ کرب سے اپنی آنکھیں موند گیا۔وہ پہچان جو اسے تکلیف دیتی تھی آج اس نکاح کی وجہ سے پھر سے وہ پہچان پھر سے اسکا حصہ بننے جا رہی تھی۔
“عبداللہ۔۔۔۔عبداللہ میر۔۔۔”
ویرہ نے اپنی مٹھیاں بھینچ کر کہا۔
“ولدیت ؟”
اس سوال پر ویرہ کی آنکھوں میں خون اترا انیس سال پہلے کا ہر منظر پھر سے اسکی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا تھا۔
“سجاد میر۔۔۔”
ویرہ نے کرب سے کہا تو نکاح خواں نے اثبات میں سر ہلایا اور یہ معلومات نکاح نامے پر لکھنے لگا۔یعقوب نے اپنا ہاتھ ویرہ کے ہاتھ پر رکھا۔
“فکر مت کرو ویرہ تمہاری پہچان تمہارا راز ہے تمہارے خاص آدمی ہی بس نکاح کے گواہان کی صورت میں شامل ہوں گے۔۔۔۔”
ویرہ نے اثبات میں سر ہلایا۔کچھ دیر کے بعد ہی الماس گھونگھٹ میں لپٹی مرجان کو وہاں لائی اور چند آدمی بس گواہی کے لیے وہاں آئے تھے۔اس سب کے ساتھ ہی نکاح کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
“مرجان خان ولد یعقوب خان آپ کا نکاح عبداللہ میر ولد سجاد میر کے ساتھ حق مہر چار لاکھ سکہ رائج الوقت میں ہونا طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
نکاح خواں کے سوال پر مرجان کے ہاتھوں میں لرزش سی ہوئی تھی۔
“عبداللہ۔۔۔”
وہ نام مرجان نے ہلکا سا زیر لب دہرایا اسے اپنے شوہر کا نام دل سے پسند آیا تھا۔اتنا تو سب جانتے تھے کہ ویرہ اسکا اصلی نام نہیں تھا لیکن کوئی بھی اسکا اصلی نام نہیں جانتا تھا اور اب مرجان ان چند لوگوں میں سے تھی جو یہ راز جانتے تھے۔اس شخص کی ہمراز بن کر مرجان کو اپنا آپ بہت خوش قسمت لگ رہا تھا۔
“قبول ہے۔۔۔۔”
مرجان نے آہستہ سے کہا اور تینوں مرتبہ پوچھے جانے پر یہی جواب دہرا دیا۔مرجان سے نکاح نامے پر انگوٹھا لگوا کر نکاح خواں ویرہ کی جانب مڑا۔
“عبداللہ میر ولد سجاد میر آپ کا نکاح مرجان خان ولد یعقوب خان کے ساتھ حق مہر چار لاکھ روکے سکہ رائج الوقت ہونا طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔”
ویرہ نے گہرا سانس لے کر اپنی آنکھیں موند لیں۔وہ ایک زندگی اپنے ساتھ جوڑنے جا رہا تھا۔ایک نیا رشتہ بنانے جا رہا تھا اور ایسا نہ کرنے کی قسم وہ انیس سال پہلے کھا چکا تھا ۔
دل کیا کہ انکار کر دے اور پھر اس لڑکی کا نکاح راگا سے ہو جائے گا اور ویرہ کا اس سب سے کوئی ناتا نہیں رہے گا تو کیا ہوا راگا جیسا سفاک درندہ چند دنوں میں ہی اس معصوم سی موم کی گڑیا کو توڑ کر رکھ دے گا۔وہ ویرہ کی زمہ داری تو نہیں جو وہ اسکی پرواہ کرے۔
“قبول ہے۔۔۔”
اپنے دماغ میں اٹھنے والی جنگ کے باجود ویرہ نے کہا اور پھر وہاں مبارکباد کا شور اٹھا۔الماس نے مرجان کو اٹھایا اور وہاں سے لے جانے لگیں۔
“آن آدمیوں کے ساتھ جا کر مرجان کو ویرہ کے گھر چھوڑ آؤ الماس آج سے وہ اپنے شوہر کے گھر رہے گی۔”
اپنے باپ کی بات پر مرجان کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا۔الماس اسے وہاں سے لے گئیں تو ویرہ بھی وہاں سے چلا گیا۔ابھی وہ کچھ دور ہی گیا تھا جب اسکا سامنا راگا اور کال سے ہوا۔
راگا نے اسے دیکھتے ہی اپنے گلے سے لگایا۔
“شادی خانہ آبادی مبارک لالے کی جان۔۔۔۔”
راگا کی بات پر ویرہ نے اس سے دور ہو کر اثبات میں سر ہلایا۔
“مبارک ہو ویرہ تمہاری تو زندگی بن گئی اور کہاں ہم دونوں کنوارے رہ گئے۔۔۔”
کال نے شرارت سے کہا تو راگا اسکی بات پر ہنس دیا۔
“ویسے قسمت ہے تمہاری دوست سولہ برس کی بالی عمر والی اتنی حسین بیوی ملی ہے تمہیں تمہاری تو زندگی بھر کے لیے چاندی ہو گئی خاص طور پر تمہاری آج کی رات تو بہت رنگین۔۔۔۔”
ابھی کال کے الفاظ اسکے منہ میں ہی تھے جب ویرہ نے اسکی گردن اپنے مظبوط ہاتھ میں دبوچی اور لال ہوتی انگارہ آنکھوں سے اسے گھورنے لگا۔
“وہ میری بیوی ہے کال آج کے بعد ایسے الفاظ سوچ سمجھ کر اپنی زبان پر لانا ورنہ کچھ کہنے والی تمہاری زبان ہی باقی نہیں رہے گی۔”
اتنا کہہ ہر ویرہ نے جھٹکے سے کال کو چھوڑا اور وہاں سے چلا گیا۔
“مرے گا تو اس کے ہاتھوں ماڑا۔۔۔”
راگا نے ہنستے ہوئے کال کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ویرہ اپنے گھر پہنچتے ہی سیدھا اپنے کمرے میں گیا جہاں اسکا سامنا مرجان سے ہوا جو اسے دیکھتے ہی گھبرا کر کھڑی ہوئی تھی۔
ملٹی رنگ کے کھلے سے فراک شلور میں ملبوس ماتھے پر بڑی سی ماتھا پٹی اور سر پر دوپٹہ سجائے وہ کسی مجرم کی مانند سر جھکا کر ویرہ کے سامنے کھڑی تھی جبکہ ہاتھوں کی لرزش اسکی گھبراہٹ عیاں کر رہی تھی۔
“مجھے سونا ہے تم دوسرے کمرے میں جا کر سو جاؤ۔۔۔”
ویرہ نے اپنے کندھوں سے گرم چادر اتار کر سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا۔
“ججججی۔۔۔؟”
مرجان نے گھبرا کر پوچھا کیا وہ اسے اپنے ساتھ اپنے کمرے میں رکھنا نہیں چاہتا تھا۔
“ایک بار میں سنائی نہیں دیا چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔”
ویرہ نے غصے سے کہا تو مرجان سہم کر دو قدم دور ہوئی اور نم آنکھیں اٹھا کر ویرہ کو دیکھا۔ویرہ کی نظر ان نم سنہری آنکھوں میں اٹک سی گئی تھی۔پھر وہاں سے نظر بھٹکتی کپکپاتے ہوئے گلابی لبوں پر گئی تو ویرہ اپنی آنکھیں موند گیا۔
“مجھے اکیلے رہنے کی عادت ہے اس لیے بہتر ہے تم دوسرے کمرے میں چلی جاؤ۔۔۔”
اب کی بار ویرہ نے زرا نرمی سے کہا تو مرجان نے اثبات میں سر ہلایا اور دوسرے کمرے میں آ گئی لیکن وہاں چند صندوقوں اور کھانے پکانے کے سامان کے سوا کچھ نہیں تھا۔
مرجان نے صندوق میں دیکھا کہ شائید اسے زمین پر بچھانے کے لیے کچھ مل جائے لیکن وہاں ایسا کچھ نہ پا کر وہ بے چینی سے یہاں وہاں ٹہلنے لگی۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔وہ واپس ویرہ کے کمرے میں جا کر اپنے شوہر کی نافرمانی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وہ یہاں سوتی کہاں۔
گھنٹہ کمرے میں ٹہلنے کے بعد جب وہ تھک گئی تو واپس ویرہ کے کمرے میں آ گئی۔ویرہ جو آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا اسکے آنے کی آہٹ پر اس نے بازو ہٹا کر اسے دیکھا۔
“وہ۔۔۔۔وہ دوسرے کمرے میں سونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ممم۔۔۔۔کیں کہاں سوؤں۔۔۔۔”
ویرہ نے گہرا سانس لیا اور کمرے میں پڑی کرسی کی جانب اشارہ کیا۔
“وہاں بیٹھ جاؤ اور اب تمہاری آواز نہ آئے مجھے ایسے ہونا جیسے یہاں ہو ہی نہیں۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ نے کروٹ بدل کر اسکی جانب کمر کر لی۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس رشتے کا احساس اسکے دل میں کوئی خواہش پیدا کرے۔وہ اس پر اپنا کوئی حق یا تقاضا جتانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ ایک تو وہ لڑکی اس اب کے لیے بہت کم عمر تھی اور دوسرا وہ اسے خود سے جوڑ کر اسکے دل میں کوئی ارمان پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اسے یہ بات سمجھنی تھی کہ اسکے مقدر میں اسکے شوہر کی محبت نہیں لکھی۔آدھی رات تک نیند کی دیوی ویرہ پر مہربان نہیں ہوئی۔ویسے بھی اسے نیند کہاں آتی تھی وہ رات میں بمشکل دو گھنٹے ہی سونے کا عادی تھا۔
ویرہ نے کروٹ لی تو اسکی نظر مرجان پر پڑی جو اسکی اتاری گئی چادر اپنے گرد لپیٹ کر کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی سو رہی تھی۔ٹانگیں بھی اس نے کرسی پر رکھی تھیں اور خود کو پوری طرح سے چادر سے لپیٹا تھا بس وہ معصوم چہرہ نظر آ رہا تھا جو وہ ٹیڑھا کر کے اپنے بازو پر رکھے سوئی تھی۔
اسے دیکھ کر کوئی بھی اندازہ لگا سکا تھا کہ وہ کس قدر بے آرام تھی۔صبح تک تو وہ نازک وجود اکڑ جاتا اور اوپر سے وہ چادر سردی کو روکنے کے لیے ناکافی تھی۔
ویرہ نے خود کو بہت سمجھایا کہ اسے اس سے کوئی سروکار نہیں وہ جیسے مرضی رہے لیکن پھر خود ہی گہرا سانس لے کر اٹھا اور اس کے پاس آیا۔
سب سے پہلے اس نے وہ ماتھا پٹی اسکے سر پر سے اتاری اور پھر اسکا دوپٹہ بھی اس پر سے ہٹا دیا۔زرا سا جھک کر وہ پھولوں سا نازک وجود اپنی باہوں میں اٹھایا اور بستر پر لیٹا کر اپنا کمبل اس پر اوڑھا دیا۔
گرم کمبل ملتے ہی مرجان نے ایک خوشگوار آہ بھری اور گہری نیند میں ڈوب گئی۔ویرہ خود جا کر اس کرسی پر بیٹھ گیا اور سگریٹ نکال کر اسے پینے لگا۔
نظریں مسلسل اپنی بیوی پر تھیں جو معصوم سے حسن کی مالک اسکے احساسات کو اسی کے خلاف کر رہی تھی۔جواں دل کے جزبات نے الگ طلاطم مچا رکھا تھا جو اسے کہہ رہے تھے کہ اس نازک گڑیا سے اپنا ہر حق وصول کرے۔
ویرہ اسے بچپن سے جانتا تھا۔اس نے اس حسن کے باوجود کبھی نگاہ بھر کر اسے نہیں دیکھا تھا لیکن آج رشتہ بدل جانے پر پل بھر میں اسکا یہ حال کر دینے پر ویرہ اسے گھور رہا تھا۔
“تم مجھے نہیں بدل سکو گی کچھ بھی کر لو۔۔۔۔وہ عبداللہ گیارہ سال کی عمر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ مر چکا ہے اب یہ ویرہ کبھی بھی عبداللہ نہیں بنے گا۔۔۔”
ویرہ کا لہجہ پر عزم تھا۔اس نے خود سے قسم کھائی تھی کہ وہ اس لڑکی کو جس حد تک ہو سکے گا نظر انداز کرے گا۔اپنے دل میں محبت کی ہلکی سی چنگاری بھی نہیں جلنے دے گا لیکن وہ کہاں جانتا تھا عشق آتش تو دنیا جلا کر رکھ دیا کرتی ہے وہ بھلا کسی بشر کے قابو کیسے آتی۔