Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

مرجان پریشانی سی کمرے میں ٹہل رہی تھی۔اس نے وانیا کو بتا دیا تھا کہ وہ آج رات اسکی بھاگنے میں مدد کرے گی اور اس انجان آدمی کی کہی بات صحیح ثابت ہوئی تھی۔راگا اور ویرہ دونوں ہی کسی کام سے گاؤں سے دور جا رہے تھے۔
مرجان نہیں جانتی تھی کہ وہ شخص اتنا کچھ کیسے جانتا تھا لیکن جو بھی تھا وہ وانیا کی مدد کرنا چاہتا تھا اور مرجان بھی ایسا ہی کرنا چاہتی تھی۔رات تک وہ بہت بے چین رہی تھی۔اگر ویرہ کو پتہ لگ جاتا کہ وہ کیا کرنے جا رہی ہے تو نہ جانے کیا کر گزرتا لیکن مرجان کو یہ کرنا تھا۔اپنی دوستی کی خاطر۔
رات کے تقریباً بارہ بجنے پر وہ چادر اوڑھ کر چپکے سے گھر سے نکلی اور راگا کے گھر کی جانب چل دی۔وانیا کو اپنے ساتھ لے کر وہ اس راستے کی جانب آئی جہاں اسے اس آدمی نے جانے کا کہا تھا۔اسکی توقع کے عین مطابق اس وقت وہاں کوئی پہرہ دار نہیں تھا۔
“تم اس راستے سے سیدھا بھاگ جاؤ اور پھر وہاں سے دائیں مڑ جانا سامنے ہی تمہیں کالے کپڑوں میں کھڑا شخص نظر آئے گا وہ تمہیں سکردو فوج کے پاس لے جائے گا۔”
مرجان نے اپنی گرم چادر اور ٹارچ وانیا کو دیتے ہوئے کہا۔
“تمہارا بہت شکریہ مرجان مر کر بھی تمہارا احسان نہیں بھولوں گی۔”
وانیا نے مرجان کو گلے لگا کر کہا اور وہاں سے جانے لگی۔
“کون ہے وہاں؟”
ایک آدمی کی آواز پر دونوں نے سہم کر اس جانب دیکھا جہاں سے ایک آدمی اس طرف آ رہا تھا۔
“بھاگو وانیا چھپ جاؤ فوراً۔۔۔۔جلدی۔۔۔”
مرجان کے اتنا کہتے ہی وانیا ایک جانب بھاگ گئی اور مرجان دوسری جانب لیکن اس آدمی نے مرجان کی بجائے وانیا کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔مرجان کا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اگر وہ پکڑی جاتی تو ویرہ اسکا کیا حال کرتا۔
اسے کیسے بھی کر کے اپنے گھر تک پہنچنا تھا تا کہ ویرہ کو پتہ نہ چلے۔دور سے گاڑیاں آنے کی آواز اور روشنی پر مرجان نے گھبرا کر اس جانب دیکھا اور ایک بڑے سے پتھر کے پیچھے چھپ گئی۔
گاڑی کچھ فاصلے پر آ کر رکی اور مرجان اور ویرہ گاڑی میں سے نکلے۔ویرہ کو دیکھ کر مرجان کا روم روم خوف سے کانپ گیا۔
لیکن پھر ایک گھر کی جانب سے کسی لڑکی کے چیخنے کی آواز سنائی دی تو دونوں اس گھر کی جانب چل دیے۔مرجان نے انکے جاتے ہی وہاں سے جانا چاہا لیکن اچانک کی کسی نے اسکا بازو جکڑ لیا۔
مرجان نے سہم کر اس آدمی کو دیکھا جو وانیا کے پیچھے بھاگا تھا۔
“کیا بات ہے ویرہ کو اسکی بیوی کے کرتوت پتہ چلے گا تو مزہ آ جائے گا۔۔۔”
اتنا کہہ کر اس آدمی نے مرجان کو کھینچنا چاہا لیکن مرجان روتے ہوئے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“نن۔۔۔۔نہیں چھوڑو مجھے۔۔۔۔”
مرجان اپنے آپ کو چھڑوانے کی پوری کوشش کر رہی تھی لیکن اس آدمی کی پکڑ بہت مظبوط تھی۔وہ اسے اس جانب لے جانے لگا جہاں ویرہ گیا تھا۔مرجان کا حلق خوف سے سوکھ گیا تھا وہ اس آدمی کی پکڑ میں مزید مچلنے لگی لیکن وہ اسے سیدھا ویرہ کے پاس لے گیا جو حیرت سے مرجان کو دیکھ رہا تھا۔
“ما هغه جهيل ته نږدې وموندله هغې له دې نجلۍ سره مرسته وکړه چې وتښتي (میں نے اسے جھیل کے قریب پایا۔یہ اس لڑکی بھاگنے میں مدد کر رہی تھی۔)”
اس آدمی کی بات پر مرجان ویرہ کی رگیں غصے سے تنے ہوئے دیکھ سکتی تھی۔وہ مرجان کے پاس آیا اور اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
“زه بخښنه۔۔۔۔”
مرجان نے معافی مانگنی چاہی لیکن ویرہ کی گھوری پر اسکے الفاظ منہ میں ہی اٹک گئے اور وہ سہم کر اسے دیکھنے لگی۔
“تم اس کو نہیں لے کر جا سکتے راگا۔۔۔”
کال کی آواز پر مرجان کا دھیان راگا کی جانب گیا جو روتی ہوئی وانیا کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے لے جانا چاہ رہا تھا۔
“کیا کہا تو نے؟”
راگا بولنے سے زیادہ غرایا تھا۔
“تم اسے یہاں سے نہیں لے جا سکتے راگا یہ اب میری ہے چاہے تو ویرہ سے پوچھ لو۔۔۔۔”
اس بات پر مرجان نے بھی گھبر کر ویرہ کی جانب دیکھا جس کے ماتھے پر شکن تھی۔ضرور وہ بھی کال کی بات سمجھ نہیں سکا۔
“تمہیں یاد نہیں راگا ہمارے قبیلے کا اصول ہے جب کوئی قیدی عورت ایک آدمی کو چھوڑ کر دوسرے کے پاس آئے تو وہ اس کی ہو جاتی ہے اور تمہاری عورت میرے پاس خود چل کر آئی ہے۔۔۔۔اب یہ میری ہوئی راگا تم اسے نہیں لے جا سکتے۔۔۔۔”
کال کی بات پر مرجان نے گھبرا کر وانیا کو دیکھا۔کیا وہ چھپنے کے لیے کال کے گھر میں گھس گئی تھی؟اگر ایسا تھا تو یہ بہت بڑی مصیبت تھی کیونکہ کال سچ کہہ رہا تھا۔انکے گاؤں کا یہی اصول تھا۔
“میں نہیں مانتا اس اصول کو۔۔۔”
راگا نے غصے سے کہا لیکن کال بس مسکرا دیا۔
“مانو یا نہ مانو اصول تو یہی ہے اور سردار ہونے کے ناطے تمہیں اس اصول پر چلنا ہی ہوگا۔”
مرجان نے افسوس سے وانیا کی جانب دیکھا جو زارو قطار رو رہی تھی۔مرجان تو اسکی مدد کرنا چاہتی تھی اسے کیا پتہ تھا کہ وہ دونوں اتنی بڑی مصیبت میں پھنس جائیں گی۔
“کال صحیح کہہ رہا ہے راگا اب اس لڑکی پر تمہارا کوئی حق نہیں۔۔۔”
ویرہ کی آواز پر مرجان نے حیرت سے اپنے شوہر کی جانب دیکھا پھر اس نے وانیا کو دیکھا جو کال اور ویرہ کے خوف سے راگا کے بازو سے چپکی ہوئی تھی۔
“اگر بات حق کی ہی ہے تو پھر اس پر ایسا حق حاصل کروں گا کہ تم تو کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے مجھ سے دور کر میرے حق پر سوال نہیں اٹھا سکے گی۔۔۔۔”
وانیا نے سہم کر راگا کو دیکھا تھا۔
“مولوی کو بلاؤ ویرہ میں ابھی اسی وقت اس سے نکاح کروں گا۔”
راگا کی بات پر وانیا کے ساتھ ساتھ مرجان کا سانس بھی اس کے حلق میں اٹک گیا۔وانیا آزادی کی چاہ میں بہت بڑی مشکل میں پھنس چکی تھی۔
“راگا یہ تم کیا۔۔۔۔؟”
“جیسا کہا ہے ویسا کرو ویرہ”
راگا کے سختی سے کہنے پر مرجان نے بے بسی سے وانیا کو دیکھا جو روتے ہوئے انکار میں سر ہلا رہی تھی۔
“ممم۔۔۔۔۔میں آپ سے نکاح نہیں کروں گی۔۔۔”
“تم سے پوچھا نہیں تمہیں بتایا ہے یہ نکاح ہوگا اور اسی وقت ہو گا۔۔۔۔”
راگا نے اسکے بازو پر اپنی پکڑ مظبوط کر کے کہا۔
“”نہیں کروں گی میں آپ سے نکاح۔۔۔۔انکار کر دوں گی میں۔۔۔۔”
وانیا روتے ہوئے چلائی تھی۔
“”نہیں کرو گی تم یہ نکاح؟”
راگا کی آواز میں موجود غصے پر مرجان کی روح تک کانپ گئی تھی اور ایسی ہی کچھ حالت وانیا کی بھی تھی لیکن پھر بھی اس نے انکار میں سر ہلا دیا۔راگا نے جھٹکے سے وانیا کا نازک وجود کال کی جانب پھینکا جس نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
“تمہاری ہوئی یہ جو مرضی کرو اس کے ساتھ۔۔۔۔”
راگا اتنا کہہ کر وہاں سے جانے لگا لیکن وانیا سسک کر راگا کے پاس آئی اور اسکے بازو سے لپٹ گئی۔
“”مم۔۔۔۔مجھے چھوڑ کر مت جائیں ۔۔۔۔مم۔۔۔۔مجھے اس کے پاس نہیں رہنا۔۔۔۔”
وانیا نے روتے ہوئے کہا تھا جبکہ راگا نے اسے گھورا۔
“”تمہارے پاس اس وقت دو ہی راستے ہیں یا تو مجھے قبول کر کے ہمیشہ کے لیے میری حفاظت میں آ جاؤ یا کال کے پاس چلی جاؤ فیصلہ تمہارا ہے۔۔۔۔”
راگا کی بات پر وانیا نے ایک نگاہ کال پر ڈالی جو حوس بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔پھر وہ بے بسی اپنی نم آنکھیں موند گئی۔اس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
“مم۔۔۔۔مجھے یہ نکاح منظور ہے۔۔۔۔”
وانیا کے جواب پر مرجان نے نم آنکھوں سے اپنی دوست کو دیکھا جبکہ راگا کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ آئی تھی۔
“میں ابھی اور اسی وقت اس سے نکاح کروں گا۔۔۔”
راگا نے ویرہ سے کہا تو ویرہ نے ایک نگاہ اپنی پکڑ میں بت بنی مرجان کو دیکھا۔
“جو مرضی کرو میری بلا سے اس وقت مجھے کسی کو اسکی بے وقوفی کا مزہ چکھانا ہے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ مرجان کو اپنے ساتھ کھینچ کر لے جانے لگا۔مرجان نے نم آنکھوں سے اپنے شوہر کی جانب دیکھا۔
“راگا لالہ کو ایسا نہ کرنے دیں ۔۔۔۔ووو۔۔۔وانیا یہاں کا نہیں ہے وہ کیسے ان سے نکاح کر سکتا۔۔۔یہ اس کے ساتھ زیادتی ۔۔۔”
ویرہ نے اچانک رک کر مرجان کو دیکھا تو اسکے الفاظ خوف سے حلق میں ہی اٹک گئے۔
“اس وقت اسکی بجائے اپنی پرواہ کرو تم۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ اسے اپنے گھر لے گیا اور مرجان کو اپنے کمرے میں لے جا کر جھٹکے سے چھوڑا۔اپنا توازن برقرار نہ رکھتی مرجان فرش پر گری تھی۔
“کیوں کیا تم نے ایسا؟”
ویرہ نے مٹھیاں بھینچ کر پوچھا۔مرجان نے آج پہلی مرتبہ اسے اتنے غصے میں دیکھا تھا ورنہ وہ تو بس ہر وقت سرد مہر سی سنجیدگی میں رہتا تھا لیکن اس کے غصے کے باوجود مرجان نے ہمت کرنے کا فیصلہ کیا۔
“وو۔۔۔۔وانیا یہاں سے جانا چاہتا ہے۔۔۔۔۔وہ اپنے بابا کے پاس جانا چاہتا ہے میں۔۔۔بس اسکا مدد۔۔۔۔”
مرجان کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب ویرہ اسکے پاس آیا اور اسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔
“کہا تھا ناں تم سے کہ کوئی بے وقوفی مت کرنا۔۔۔۔کہا تھا ناں پھر کیسے ہمت ہوئی تمہاری یہ سب کرنے کی۔۔۔”
ویرہ کے غصے سے چلانے پر مرجان کا روم روم خوف سے کانپ گیا۔
“وو۔۔۔۔وہ میرا دوست ہے اور اسکی مدد کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔مر بھی۔۔ “
چٹاخ۔۔۔ایک زور دار تھپڑ مرجان کے گال پر پڑا تھا جس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ وہ اوندھے منہ زمین پر جا گری۔
“اگر پھر کبھی یہ لفظ تمہاری زبان پر آیا تو اس لڑکی کے لیے مرنے کی نوبت نہیں آئے گی میں خود تمہاری جان لے لوں گا۔۔”
ویرہ نے غصے سے کہا جبکہ مرجان بس اپنے گال پر ہاتھ رکھے تو رہی تھی جس میں اتنی تکلیف ہو رہی تھی جیسے کہ وہ ٹوٹ چکا ہو۔
“آج کے بعد تم ایسی بے وقوفی نہیں کرو گی وہ لڑکی یہاں مرے یا جیے اس سے تمہارا کوئی لینا دنیا نہیں۔۔۔تم بس اتنا کرو گی جتنا تمہیں کہا گیا ہے۔۔۔۔سمجھ گئی؟”
ویرہ نے غصے مرجان کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو سر جھکائے رو رہی تھی۔پھر مرجان نے آنسو پونچھے اور سر اٹھا کر ویرہ کو دیکھا۔
“سمجھ گیا۔۔۔۔اچھی طرح سے سمجھ گیا۔۔۔۔۔”
مرجان کے مڑنے پر ویرہ کی نظر اسکے نازک گال پر پڑی تھی جس پر اسکی انگلیوں کے نیلے نشان واضح ہو رہے تھے جبکہ نازک ہونٹ پھٹنے کی وجہ سے اسکے پاس سے خون نکل رہا تھا۔
“اور یہ بھی سمجھ گیا کہ میں کیا ہوں۔۔۔میرا حیثیت کیا ہے۔۔۔۔”
مرجان نے روتے ہوئے کہا جبکہ ویرہ کی نظریں بس اسکے گال پر تھیں۔
“یہ سمجھ گیا کہ میں بس آپ کے پیر کا جوتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔یہ سمجھ گیا کہ آپ کو جو سمجھا تھا آپ وہ نہیں میرے ابا جیسے ہو آپ بالکل انکے جیسا ظالم اور سنگ دل۔۔۔۔”
مرجان نے اتنا کہہ کر اپنے آنسو پونچھے اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
“اور فکر مت کریں اب میں کچھ غلط نہیں کرے گا۔۔۔۔اب بس اپنی ماں جیسا زندہ لاش بن جائے گا بالکل جیسا ابا چاہتے تھے۔۔۔۔بالکل جیسا آپ چاہتا ہے۔۔”
مرجان نے روتے ہوئے کہا اور ویرہ ضبط سے اپنی آنکھیں موند گیا۔
“آپ کے ہاتھ کا کٹھ پُتلی بن کر رہوں گی۔۔۔اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔”
اتنا کہہ کر مرجان روتے ہوئے کمرے سے نکل گئی اور ویرہ نے اپنے اس ہاتھ کو دیکھا جس کا نشان اس نے مرجان کے نازک گال پر چھوڑا تھا۔
اپنے ہاتھ کو مٹھی میں بھینچ کر اس نے دیوار میں اتنی شدت سے مارا کہ ایک دراڑ دیوار میں نمایاں ہوئی تھی لیکن یہ کافی نہیں تھا ویرہ کا دل کر رہا تھا اپنا وہ ہاتھ توڑ دے جس سے اس نے مرجان کے چہرے سے زیادہ اسکے دل اور اسکے جزبات کو تکلیف پہنچائی تھی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان کتنی ہی دیر اپنے کمرے میں واپس آنے کے بعد روتی رہی تھی۔وہ تھپڑ اسکے چہرے سے زیادہ اسکے دل کو چھلنی کر گیا تھا۔اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ویرہ اس حد تک جا سکتا ہے لیکن اسکی اس حرکت نے مرجان کے نازک دل کو بری طرح سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔
اپنے دل کر ان زخموں پر آنسو بہاتی وہ کب سو گئی اسے اندازہ اسے بھی نہیں ہوا تھا۔تقریباً فجر کے وقت ویرہ اسکے کمرے میں آیا تو اس نے مرجان کو سوتے ہوئے پایا۔
پلکوں پر ٹھہرے آنسو اسکے بہت دیر تک رونے کی گواہی دیے رہے تھے۔ویرہ نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اسکے گال کو چھوا جہاں اسکے بھاری ہاتھ کا نشان تھا۔ایک بار پھر سے اپنے ہاتھ کو مٹھی میں بھینچ کر اس نے فرش پر مارا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ مرجان نے غلطی کی تھی لیکن اسکا رد عمل ایسا تو نہیں ہونا چاہیے تھا۔وہ تو پھولوں جیسی نازک تھی پھر کیسے ویرہ نے اپنی طاقت کا استعمال اسے خلاف کیا۔ویرہ نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اسکے گال کو چھوا۔
“جانتا ہوں میرے عمل نے تمہیں تکلیف دی ہے دلِ جاناں لیکن پھر کبھی یوں مرنے کی بات مت کرنا۔۔ “
ویرہ نے مردہ آنکھوں سے اسکے معصوم چہرے کو دیکھتے ہوئے سرگوشی کی۔
“کسی اپنے کی موت کا کیا کرب ہوتا ہے یہ تم نہیں جانتی۔۔۔”
ویرہ نے نرمی سے اسکا گال سہلایا۔
“اب کسی اپنے کو کھونے کی سکت نہیں ہے مجھ میں۔۔۔”
ویرہ یہ بات کہہ کر کرب سے اپنی آنکھیں موند گیا۔
“تم سوچ بھی نہیں سکتی تمہاری اس بیوقوفی کا نتیجہ کیا نکل سکتا تھا۔۔۔۔”
ویرہ نے گہرا سانس لے کر کہا۔
“اگر وہ لڑکی بھاگ جاتی یا اسے کچھ ہو جاتا تو تم قبیلے کے قانون کے مطابق سزا کی حقدار ہو جاتی۔۔۔راگا اپنی عورت کے چھن جانے پر تمہیں مجھ سے چھیننے کا حق رکھتا تھا۔”
اس بات پر ویرہ ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچ گیا جبکہ آنکھوں میں جنون اترا تھا۔
“اور اسکے ایسا کرنے سے پہلے میں اسکی جان لے لیتا۔۔۔۔اور ایسا کر کے میں سب ختم کر دیتا۔۔۔”
ویرہ نے مرجان کی جانب دیکھا جو اس سے انجان سو رہی تھی۔
“اسی لیے نہیں چاہتا تھا میں تمہیں اپنانا نہیں چاہتا تھا کہ تم میرے قریب آؤ۔”
ویرہ کی ہلکی سی سرگوشی اس خالی کمرے میں گونجی جس سے بے خبر مرجان پلکوں پر آنسو سجائے سو رہی تھی۔
“میں مکمل طور پر بکھرا ہوا ہوں دلِ جاناں اور تم مجھے سمیٹ نہیں پاؤ گی۔۔۔۔”
ویرہ نے پھر سے اسکا گال نرمی سے سہلایا۔
“لیکن تمہاری دوری مجھے مزید توڑ دے گی اور ایسا ہوا تو یا میں خود مر جاؤں گا ۔۔۔۔”
ویرہ ایک پل کو رکا اور اسکی آنکھوں میں دہکتی وحشت نمایاں ہوئی۔
“یا سب کو مار دوں گا۔۔۔۔اس دنیا کو جلا دوں گا جس میں تم نہیں۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ اپنی مٹھیاں بھینچتا اٹھا اور وہاں سے چلا گیا۔دل و دماغ کی جنگ اس پر حاوی ہو رہی تھی۔اس لڑکی کو لے کر اپنے جزبات سمجھنے سے وہ غافل تھا اور یہ احساسات اسکے لیے بہت تکلیف دہ تھے۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
صبح مرجان کی آنکھ کھلی تو ویرہ گھر نہیں تھا۔شائید اس کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ اپنے کام کے لیے جا چکا تھا لیکن مرجان کو اس بات پر اعتراض نہیں تھا۔اس وقت وہ ویرہ کا سامنا کرنا بھی نہیں چاہتی تھی۔
اس نے وانیا کے لیے ناشتہ بنایا اور راگا کے گھر کی جانب چل دی۔دروازہ کھٹکھٹانے پر راگا نے دروازہ کھولا۔
“لالہ ناشتہ۔۔۔”
مرجان کے کہنے پر راگا نے اثبات میں سر ہلا کر اسے اندر آنے کا کہا جبکہ سنجیدہ نگاہیں مرجان کے گال پر موجود نشان پر تھیں۔
“کل سے تم ناشتہ نہیں لاؤ گی مرجان اب میرا بیوی ہے وہ خود بنایا کرے اور ساتھ ہی ساتھ اسے ہر کام سمجھا دینا اب کمرے میں بند رہنے کی بجائے اسے میرا ہر کام سنبھالنا ہے۔”
راگا کی بات نے مرجان کو حیران کیا۔یعنی راگا نے اپنی بات سچ ثابت کی تھی وہ وانیا سے نکاح کر چکا تھا۔
آپ مجھے باہر جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔۔۔؟”
وانیا کی آواز پر مرجان کا دھیان اسکی جانب گیا۔
“بالکل۔۔”
“آپکو ڈر نہیں لگتا کہ میں بھاگ جاؤں گی؟”
وانیا کے سوال پر مرجان کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے کیا اسے یہاں سے بھاگنا اتنا ہی آسان لگتا تھا۔
“کہا نا کہ اب تمہارا ہر راستہ صرف مجھ تک آتا ہے تو مجھ سے دور جاؤ گی کہاں۔۔۔؟”
راگا نے ہنستے ہوئے ایک آنکھ دبا کر کہا اور کمرے سے نکل گیا۔مرجان خاموشی سے وانیا کے لیے ناشتہ نکالنے لگی۔
آئی ایم سوری مرجان مجھے معاف کر دو میری وجہ سے تمہارے شوہر نے تمہیں مارا۔۔۔”
وانیا کی بات پر مرجان نے اپنا گال چھوا تو اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“نہیں وانی یہ تمہارا غلطی نہیں آج یا کل تو یہ ہونا ہی تھا لیکن میں نے نہیں سوچا تھا کہ یہ اتنی جلدی ہو گا۔۔۔۔وہ بہت برے سہی وانی لیکن انہوں نے کبھی مجھے مارا نہیں لیکن رات یہ بھی کمی پورا کر دیا انہوں نے۔۔۔”
مرجان کی بات پر وانیا کے رونے میں روانی آئی تھی۔
“مجھے یہاں نہیں رہنا مرجان۔۔۔۔مجھے اپنے گھر جانا ہے میں کیا کروں ۔۔۔۔”
“بس اللہ پر بھروسہ رکھو وانی وہ جلد ہی تمہارے لیے وصیلہ پیدا کرے گا۔۔۔”
مرجان نے سنجیدگی سے کہا تو وانیا اسکے پاس بیٹھ گئی اور اسے روتے ہوئے گزری رات کا ہر واقع بتانے لگی کہ کیسے کال سے بچنے کے لیے اس نے راگا کو قبول کر لیا تھا لیکن وہ ایسا کرنا نہیں چاہتی تھی وہ ایک لفٹیننٹ کی بیٹی ہو کر دہشتگرد کی بیوی کیسے بن سکتی تھی؟
اور یہ بات مرجان بھی سمجھ سکتی تھی۔ہاں وانیا راگا کے ساتھ رشتہ نہیں نبھا سکتی تھی اسکی دنیا الگ تھی اور اسے اس دنیا میں زبردستی رکھنا اسکے ساتھ زیادتی تھی۔مرجان خود تو اس دنیا سے علیحدہ نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ وہ یہاں پیدا ہوئی تھی یہ جہنم اسکا مقدر تھا لیکن وہ وانیا کو یہاں سے نکالنا چاہتی تھی کچھ بھی کر کے۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
ویرہ راگا کے ساتھ کام کی باتیں کر رہا تھا۔راگا چاہتا تھا کہ اب وہ لوگ سلطان کی غلامی چھوڑ کر خود مختار ہوں اور خود ایک دہشت،ایک طاقت بنے اور ویرہ نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔
یہی نہیں اس نے پہلی بار راگا کو اپنی آپ بیتی سنائی تھی اسے وہ سب بتایا تھا جو اسکے ساتھ ہوا اور اس بات پر ویرہ خود حیران تھا۔وہ راگا کو تقریباً تین سالوں سے جانتا تھا لیکن آج تک اس نے کسی پر اتنا بھروسہ نہیں کیا تھا کہ اسے اپنا ماضی بتا دے تو اب ایسا کیا ہوا تھا کہ ویرہ نے راگا کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا تھا۔
راگا نے ویرہ کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔
“فکر مت کر ویرہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔”
ویرہ نے آنکھیں موند کر ہاں میں سر ہلایا تو راگا نے اسکے کندھے سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور اسکی نگاہ ویرہ کے ہاتھ پر گئی۔جس کی انگلیاں لال ہو رہی تھیں اور بہت جگہ خراشیں لگی تھیں جیسے اس نے اپنا ہاتھ کہیں زور سے مارا ہو۔
“تو نے کل رات اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھایا کیا؟”
راگا کے سوال پر ویرہ نے اپنی آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
“یہ میرا ذاتی۔۔۔۔”
“جانتا ہوں ماڑا کہ یہ تیرا ذاتی معاملہ ہے میں بس ایک دوست ہونے کے ناطے سے پوچھ رہا ہوں۔”
راگا نے اسکی بات کاٹ کر کہا تو ویرہ نے گہرا سانس لیا۔
“عورتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بعض اوقات انہیں انکی حد یاد دلانی پڑتی ہے راگا ورنہ ہاتھ سے نکل جاتی ہیں۔”
ویرہ نے یعقوب خان کا رٹایا ہوا سبق راگا کو بتا دیا۔ جس پر راگا کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی۔
“نہیں ویرہ تو غلط ہے۔۔۔عورت ایک ایسے پھول کی مانند ہوتی ہے جسے محبت سے رکھو تو اپنے مالک کی خاطر کھل جاتا ہے اسکے لیے کسی بھی طوفان سے لڑ جاتا ہے لیکن اگر اس سے سختی سے پیش آؤ تو بہت آسانی سے مرجھا جاتا ہے وہ۔۔۔۔عورت بہت عظیم ہوتا ہے ماڑا۔۔۔۔لیکن وہ خوف کی وجہ سے صرف تب تک تمہارے ساتھ رہے گا جب تک وہ خوف قائم رہے گا لیکن محبت کی وجہ سے وہ تا قیامت تمہارا ہی ہو کر رہے گا۔”
راگا کی بات پر ویرہ گہری سوچ میں ڈوب گیا ۔تو کیا مرجان اسکے سامنے ہنسنا مسکرانا،اس باتیں کرنا ،یہاں تک کہ اسے باچا بلانا اسی لیے چھوڑ گئی تھی کہ ویرہ کے سلوک سے وہ ٹوٹ چکی تھی۔
اسکے دل کے سب جزبات ختم ہو گئے تھے اور اگر ویرہ کے لیے کوئی جذبہ بچا تھا تو وہ صرف ڈر کا تھا؟ویرہ کو یہ بات صیحح لگنی چاہیے تھی وہ یہی تو چاہتا تھا کہ مرجان اس سے صرف ڈرے اور اس سے محبت کرنا چھوڑ دے لیکن اس سب کی وجہ سے وہ مرجھا گئی تھی۔
ہاں اسکا وہ نازک پھول مرجھا گیا تھا وہ اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی اور اسکی وجہ ویرہ تھا۔وہ تو اپنے دل میں اسکے لیے کھرے جزبات رکھتی تھی لیکن ویرہ نے اسکے جزبات کو اپنی بے رخی سے روند کر اسے مرجھانے پر مجبور کر دیا تھا۔
انہیں سوچوں کے ساتھ ویرہ گھر واپس آیا۔ سب سے پہلے بے چین نگاہوں نے مرجان کو تلاش کرنا چاہا۔وہ اسے باورچی خانے میں کام کرتی نظر آئی تو اسے دیکھ کر ویرہ کو اپنے دل میں سکون اترتا محسوس ہوا تھا۔
“سنو۔۔۔۔”
ویرہ کے پکارنے پر مرجان نے اسکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ویرہ کی نظر بھٹک کر پھر سے اپنے دیے نشان پر گئی تو ایک بار پھر سے اپنی مٹھی بھینچ گیا۔اپنے ہاتھ کو دی گئی سزا اسے بہت کم لگ رہی تھی۔
“اب۔۔۔۔اب کیسی ہو تم؟”
ویرہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس سے کیا کہے۔
“ٹھیک ہوں۔۔۔”
مرجان نے سنجیدگی سے کہا اور کھانا بنانے لگی۔ویرہ کا دل کیا وہ پہلے کی طرح اسے مسکرا کر دیکھے اس سے معصوم سی باتیں کرے۔اسے زما باچا بلائے۔
“سنو۔۔۔”
ویرہ کے پکارنے پر مرجان نے پھر سے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“جی…؟”
تم مجھے اب باچا کہہ کر کیوں نہیں بلاتی؟
ویرہ نے دل میں سوال کیا لیکن اس سوال کو زبان پر نہیں لا پایا تھا۔
“کچھ نہیں۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ باورچی خانے سے باہر نکل گیا اور مرجان خاموشی سے اپنا کام کرنے لگی۔ویرہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ کیا چاہتا تھا۔
وہ یہی چاہتا تھا کہ مرجان کے دل میں موجود محبت ختم ہو جائے اس کے دل میں ویرہ کو لے کر کوئی جذبہ نہ ہو تا کہ اگر کل کو اسے کچھ ہو جائے تو مرجان دکھی ہونے کی بجائے خوش ہو اور اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائے۔
اب جب ایسا ہو چکا تھا مرجان اپنے دل میں چھپی اس محبت کو،اپنے سارے جزبات کو ختم کر چکی تھی تو ویرہ کیوں بے چین ہو رہا تھا۔
اسے ایسا کیوں لگ رہا تھا کہ اس معصوم دل سے اپنی محبت ختم کر کے اس کے اپنی دنیا اجاڑ لی ہو۔ویرہ اپنے جزبات کو سمجھنے سے قاصر تھا۔کاش کوئی اسے سمجھا پاتا کہ یہ جزبات عشق کی وہی آتش تھی جسے وہ مرجان کے دل سے اپنی بے رخی کے زریعے بجھانا چاہتا تھا۔
لیکن اس آتش عشق کو دنیا کے ساتھ سمندر بھی ناں بجھا پائیں تو وہ کیا چیز تھا۔اس کے دل میں ابھی اس آتش نے بس ایک چنگاری پکڑی تھی ابھی تو اس نے اسے جلا کر کندن سے سونا بنانا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان ویرہ کے کپڑے دھونے کے لیے جھیل کے پاس گئی تھی۔اسکے ذہن پر صرف وانیا کا ہی خیال سوار تھا۔وہ خود جو زندگی جی رہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ وانیا بھی وہ زندگی جیے۔
وانیا نے جو اسے بتایا تھا اس سے مرجان کو یہی اندازہ ہوا تھا کہ راگا اتنا برا انسان بھی نہیں تھا۔وانیا سے نکاح ہونے کے باجود،ہر حق ہونے کے باجود اس نے اس سے کوئی زور زبردستی نہیں کی تھی۔
لیکن اسکا مطلب یہ نہیں تھا کہ وانیا سب بھول کر راگا کے ساتھ زندگی گزارنے لگ جاتی اسے اسکی دنیا میں لوٹ کر واپس جانا تھا لیکن مرجان سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اسکی مدد کیسے کرے وہ پہلے ہی خود کے ساتھ ساتھ وانیا کی مشکل بڑھا چکی تھی۔
مرجان کپڑے دھوتے ہوئے وانیا کے بارے میں سوچ رہی تھی جب ایک سپاہی گشت کرتا اسکی جانب آیا۔اس نے ہاتھ میں بندوق پکڑی تھی اور چہرے کو سفید اور لال عربی رومال سے ڈھانپا ہوا تھا بلکہ جیسے انکے ہاں کا ہر سپاہی کرتا تھا۔
وہ مرجان کے پیچھے آ کر کھڑا ہوا گیا اور یہاں وہاں دیکھنے لگا۔مرجان نے باقی عورتوں کی جانب دیکھا جو اس سے کچھ فاصلے پر اپنے دھیان کپڑے دھو رہی تھیں۔
“مجھے معاف کر دو بہن میری وجہ سے تم مشکل میں پھنس گئی اور وہ بھی۔۔۔”
اس آدمی کی آواز پر مرجان حیرت سے پلٹی کیونکہ یہ اسی آدمی کی آواز تھی جو اس رات انکے گھر آیا تھا۔
“پیچھے مڑ کر مجھے مت دیکھو سب کو شک ہو جائے گا بس اپنے دھیان اپنا کام کرتی رہو ۔۔۔”
وہ آدمی بات تو مرجان سے کر رہا تھا لیکن اسکا دھیان یہاں وہاں تھا اور مرجان بھی ایسا کرنے لگی۔ہاتھ کپڑے دھو رہے تھے لیکن ساری توجہ پیچھے کھڑے اس شخص پر تھی۔
“نہیں لالہ قصور آپ کا نہیں میرا تھا مجھے ٹارچ لے کر نہیں جانا چاہیے تھا اسی کی وجہ سے وہ پہرے دار ہماری طرف آیا۔۔۔۔”
مرجان نے کپڑے دھوتے ہوئے کہا تو اس آدمی نے گہرا سانس لیا۔
“نہیں بہن میرا قصور تھا۔اپنے مقصد کے لیے تمہیں مصیبت میں ڈالا میں نے لیکن فکر مت کرو اب میں ایسا نہیں کروں گا میں خود ہی کچھ کر کے اسے آزاد کروا لوں گا تم پریشان مت ہو۔۔۔بس۔۔۔۔بس مجھے بڑا بھائی سمجھ کر معاف کر دینا۔”
اتنا کہہ کر وہ آدمی وہاں سے جانے لگا۔
“نہیں۔۔۔۔”
مرجان نے ہلکے سے کہا تو وہ اپنی جگہ پر رک گیا۔
“نہیں لالہ مجھے آپکا مدد کرنا ہے۔۔۔وانیا دوست ہے میرا اکیلا نہیں چھوڑ سکتی اسے۔۔۔۔”
مرجان نے گویا حتمی فیصلہ سنایا۔
“لیکن اگر پھر سے کوئی مسلہ ہو گیا تو۔۔۔”
“اس بار کوئی مسلہ نہیں ہو گا کیونکہ میں یہ کام اکیلے نہیں کروں گی بس آپ مجھ پر بھروسہ رکھیں۔”
مرجان کی بات پر اس آدمی نے گہرا سانس لیا۔
“ٹھیک ہے لیکن اسے تنہا بھیجنا تا کہ تمہارا نام نہ آئے باقی سب میں دیکھ لوں گا۔”
مرجان نے ہاں میں سر ہلایا۔
“کب اور کیسے کرنا ہے سب؟”
مرجان کے سوال پر وہ آدمی کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گیا۔
“راگا سردار اپنے نکاح کی خوشی میں ایک جشن رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے ہم اسی جشن کی بھیڑ کا فایدہ اٹھا کر اس کو بھگائیں گے۔”
مرجان نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ آدمی وہاں سے جانے لگا۔مرجان نے ایک نگاہ اسے دیکھا تو اسکی نظر نقاب میں سے ہلکا سا نظر آتے اسکے گال پر موجود ایک زخم پر گئی جو آنکھ سے زرا سا نیچے تھا۔
وہ زخم پرانا تھا لیکن اتنا بھی نہیں اور مرجان کو لگا کہ اس نے وہ زخم پہلے بھی کہیں دیکھا تھا۔یہی اس کی اچھی بات تھی وہ ایک بار دیکھی چیز کو آسانی سے نہیں بھولتی تھی۔
بہت سوچنے کے بعد اچانک اسکے ذہن میں ایک جھماکہ سا ہوا۔اسے یاد آیا کہ اس نے وہ زخم کس کے گال پر دیکھا تھا۔ساتھ اسے اس آدمی کی آنکھیں یاد آئیں جو ہوبہو اِسی آدمی کے جیسی تھیں۔
اپنے انکشاف پر مرجان کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ایسا کیسے ہو سکتا تھا اگر یہی وہ آدمی تھا تو وہ وانیا کو چھڑانے کی جدوجہد کیوں کر رہا تھا۔
مرجان کو لگا کہ اسکا دماغ گھوم جائے گا یا وہ پاگل ہو جائے گی۔وہ اس آدمی کا مقصد سمجھ نہیں پا رہی تھی لیکن ایک بات وہ سمجھ چکی تھی۔مرجان کو وانیا کی پرواہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی وہ پہلے سے ہی محفوظ ہاتھوں میں تھی۔