Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13 Part 2

گولی چلنے کی آواز پر ویرہ کی پلکوں میں جنبش ہوئی لیکن جب اسے کسی تکلیف کا احساس نہیں ہوا تو اس نے حیرت سے آنکھیں کھول کر اپنے سامنے موجود آدمی کو دیکھا جس کے سینے پر گولی لگی تھی اور وہ اب زمین پر ڈھیر ہو چکا تھا۔
ویرہ نے پلٹ کر دیکھا جہاں امان باقی فوجیوں کے ساتھ بندوق تھامے پکڑا تھا۔
“حملہ۔۔۔۔”
ایک نقاب پوش چلایا تو دہشتگردوں نے فوجیوں پر فائرنگ کرنا شروع کی لیکن وہ لوگ وہاں موجود پتھروں کے پیچھے چھپ گئے اور ایک ایک کر کے دہشتگردوں کو نشانہ بنانے لگے جنہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہیں مل رہا تھا۔
ویرہ کے پاس کھڑے نقاب پوش نے ایک سپاہی پر گولی چلانا چاہی لیکن ویرہ نے اسے دکھا دے کر اسکا نشانہ خطا کر دیا اور جلدی سے اٹھ کر اسکی گردن ہاتھوں میں لگی ہتھ کڑی میں دبوچ کر جھٹکے سے توڑ دی۔
دہشتگردوں نے جب فوج کو خود پر حاوی ہوتے دیکھا تو کچھ گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے بھاگنے لگے لیکن فوج نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے انکا یہ منصوبہ بھی ناکام بنا دیا۔
امان ویرہ کے پاس آیا اور اسکے ہاتھوں سے بندوق پکڑ کر اسکے ہاتھ کھولنے لگا۔
“تم لوگ واپس کیوں لوٹ آئے؟”
ویرہ نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“کیونکہ ایک سپاہی کبھی بھی اپنے ساتھی کو تنہا نہیں چھوڑتا اپنی آخری سانس تک نہیں۔۔۔۔”
امان نے مسکرا کر کہا۔
“ویسے بھی اس کام پر عماد سر نے مجھے لگوایا تھا اور تاکید کی تھی کہ آپکو کچھ ہوا تو اچھا نہیں ہو گا پھر سنیر کا حکم سر آنکھوں پر۔۔۔۔”
امان کی بات پر ویرہ بھی مسکرا دیا تبھی ایک سپاہی گھبراتے ہوئے امان کے پاس آیا۔
“کیپٹن جلدی میرے ساتھ آئیں۔۔۔”
سپاہی نے گھبراتے ہوئے کہا۔
“کیا ہوا؟”
امان نے پریشانی سے پوچھا اور اسکے پیچھے چل دیا۔وہ سپاہی اسے گاڑی کے پاس لے کر آیا جس میں کرنل کا بیٹا موجود تھا۔سپاہی اس کے جسم سے وہ بڑی سی جیکٹ اتار چکے تھے اور اس نے نیچے ایک بم موجود تھا جو اس بچے کو پہنایا گیا تھا۔
“ڈیم اٹ۔۔۔۔”
امان نے پریشانی سے اس ٹائم بم کو دیکھا جس پھٹنے میں محض تین منٹ باقی تھے اور اسے اس بم کا کوئی نالج نہیں تھا۔
“سر اب ہم کیا کریں۔۔۔یہ لوگ تو سوچ سے زیادہ خطرناک نکلے ایک معصوم بچے کے ساتھ ایسا۔۔۔۔”
ایک سپاہی نے پریشانی سے کہا جبکہ امان کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں۔خود یہاں سے جانے کے لیے یا بیک اپ بلانے کے لیے کم از کم پندرہ منٹ درکار تھے اور بچے کے پاس بس تین منٹ ہی باقی تھے۔
تبھی ویرہ وہاں پر آیا اور اس بچے پر بندھے بم کو دیکھنے لگا۔
“ہٹو یہاں سے۔۔۔۔”
ویرہ نے امان کو سائید پر کرتے ہوئے کہا اور خود بم کا قریب سے معائنہ کرنے لگا۔
“یہ تم کیا کر رہے ہو؟”
ایک سپاہی نے غصے سے پوچھا لیکن امان نے اسے گھور کر چپ کرنے کا کہا۔
“میں نے اپنی ساری زندگی یہی سب بنانے میں گزاری ہے۔۔۔۔یہ کوئی اتنا پیچیدہ بم نہیں ہے۔۔۔۔”
ویرہ نے اس بم کے اوپر کا حصہ ہٹا کر اسکے نیچے موجود تاروں کو دیکھا۔
“دور ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔”
ویرہ نے امان اور باقی سپاہیوں سے کہا لیکن امان نے انکار میں سر ہلایا۔
“میری چھوٹی سے غلطی اور یہ پھٹ جائے گا مر جاؤ گے تم سب ہمارے ساتھ دور ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔”
ویرہ نے انہیں سمجھانا چاہا۔
“نہیں ویرہ ہم مصیبت میں پیٹھ دیکھانے والوں میں سے نہیں۔۔”
امان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو ویرہ نے پریشانی سے انہیں دیکھا پھر بم کی تاروں کو دیکھنے لگا۔بم پھٹنے میں بس ایک منٹ باقی تھا۔
“انہیں کاٹنے کے لیے کچھ دو۔”
امان نے فوراً جوتے میں سے اپنا چاقو نکال کر ویرہ کو دیا۔ویرہ مخصوص تاروں کو پکڑ کر کاٹ دیا اب بس ایک اور تار کاٹنی تھی لیکن ویرہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ کونسی ہے۔ویرہ نے اس بچے کے چہرے پر خوف کو دیکھا پھر گہرا سانس لے کر ایک تار پکڑی اور اسے کاٹ دیا۔
بم کا چلتا ٹائم رک گیا اور ویرہ نے سکھ کا سانس لے کر گاڑی سے باہر نکل آیا۔سب سپاہیوں نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر اسکے لیے تالیاں بجانے لگے۔انکی حرکت پر ویرہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“بولا تھا ناں کہ تم ایک سپاہی ہو جو تم نے کیا وہ مجرم نہیں کر سکتا۔۔۔”
امان نے اتنا کہہ کر ویرہ کو اپنے گلے سے لگا لیا اور ویرہ حیرت سے پتھر کا ہو گیا۔کیا اس نے سچ میں کچھ ایسا کر دیا تھا جس سے وہ انہیں اتنا عزم لگ رہا تھا۔
ویرہ کی نظر پیچھے زمین پر اوندھے پڑے ایک نقاب پوش پر پڑی جو آہستہ سے ہلا تھا پھر اس نے بندوق پکڑی اور امان کی کمر کی جانب کر دی۔بغیر کچھ سوچے سمجھے ویرہ پلٹا اور امان کو پیچھے کر کے خود کو آگے کر دیا۔
اس آدمی کی چلائی گولی سیدھا ویرہ کی کمر میں لگی۔یہ دیکھ کر ایک سپاہی نے اس آدمی پر گولی چلا دی اور وہ بے جان ہو گیا۔امان نے حیرت سے ویرہ کو دیکھا جس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں اور کمر سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔
“اسے گاڑی میں ڈالو فوراً ۔۔۔۔”
امان چلایا تو باقی سپاہیوں نے ویرہ کو گاڑی میں ڈالا اور انہوں نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کر دی۔ویرہ نے امان کا ہاتھ اپنے کانپتے ہاتھوں میں تھاما تھا۔
“عع۔۔۔۔عماد سے کہنا۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔اسسس۔۔۔اسے میرا الوداع کہہ دے۔۔۔۔۔اسے کہنا۔۔۔ممم۔۔۔مجھے بھول جائے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ کا وجود بے جان ہو گیا اور امان نے پریشانی سے اسے دیکھا۔وہ بھی سمجھ چکا تھا کہ ویرہ کس کی بات کر رہا تھا۔موت کے دہانے پر بھی اسے بس اپنی محبت اپنی بیوی کی پرواہ تھی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
عماد پریشانی کے عالم میں ہاسپٹل داخل ہوا تھا۔کچھ وقت پہلے ہی جنرل شہیر نے اسے ویرہ کے بارے میں بتایا تھا تب ہی عماد اس علاقے کے لیے نکل پڑا جس کے ہسپتال میں وہ سب ویرہ کو لے کر گئے تھے۔
ہر طرح کے حالات سے نمٹنے والا ایجنٹ اس وقت اپنے دوست کی فکر میں بے حال ہو رہا تھا۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اگر ویرہ کو کچھ ہو گیا تو وہ کیا کرے گا؟مرجان کو کیا جواب دے گا؟
“امان۔۔۔”
امان کو دیکھتے ہی عماد بے چینی سے اسکی جانب بڑھا جو خود بھی کافی پریشان تھا۔
“کیسا ہے وہ؟”
“آپریشن کافی دیر سے جاری ہے اس کے علاؤہ ڈاکٹرز نے کچھ نہیں بتایا۔”
امان نے اسے بتایا تو عماد پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ چلانے لگا۔
“ہوا کیسے یہ سب امان تم نے کہا تھا کہ تم سب ہینڈل کر لو گے تم نے کہا تھا مجھے شامل ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔”
عماد کی بے چینی پر امان نے اسے ہر بات بتا دی جسے سن کر عماد اپنا سر پکڑ کر وہاں موجود بینچ پر بیٹھ گیا۔امان نے اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“جانتے ہو امان جب میں راگا بن کر انکے درمیان گیا تو وہاں مجھے ہر کوئی ایک سفاک درندہ لگتا تھا لیکن ویرہ نہیں۔۔۔وہ سب سے مختلف تھا۔اسے لگتا تھا کہ رحم اور محبت سے عاری ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔”
عماد نے امان کی جانب دیکھا۔
“پہلی نظر میں اسکے اندر موجود رحم کو دیکھا تھا میں نے جسے اس نے غم و غصے کی چادر سے ڈھانپ رکھا تھا۔”
عماد کی آواز میں نمی محسوس کر امان نے اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“وہ برا نہیں ہے امان برا انسان گناہ پر پچھتاتا نہیں بلکہ ہٹ دھرمی سے اسے ہی درست مانتا ہے وہ برا نہیں امان۔۔۔”
عماد نے بے بسی سے کہا۔
“جانتا ہوں سر اور دیکھنا ان کو کچھ نہیں ہو گا۔۔۔”
امان نے بھرپور یقین سے کہا تو عماد نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہاں اسے کچھ نہیں ہو گا کیونکہ اگر اسے کچھ ہوا تو اپنی بہن سے نظریں نہیں ملا پاؤں گا ساری زندگی۔”
عماد نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر کہا اور پھر امان کے ساتھ انتظار کرنے لگا۔کچھ دیر کے بعد ہی ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو عماد اور امان بے چینی سے انکی جانب بڑھے۔
“وہ خطرے سے باہر ہیں۔شکر ہے گولی نے انکی بیک بون کو ڈیمج نہیں کیا ورنہ وہ ساری زندگی چل نہیں پاتے۔”
ڈاکٹر کی بات پر دونوں نے شکر ادا کیا۔
“ابھی وہ کچھ دیر کے لیے وہیں رہیں گے پھر انہیں وارڈ میں شفٹ کر دیا جائے گا۔”
ڈاکٹر کے بتانے پر عماد نے اثبات میں سر ہلایا۔ڈاکٹر وہاں سے چلا گیا اور امان مسکرا کر عماد کی جانب مڑا۔
“وہ ٹھیک ہیں سر۔”
عماد نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا اور اپنا ہاتھ امان کے کندھے پر رکھا۔
“تم بہت اچھے انسان ہو امان۔۔۔”
امان اپنی تعریف پر مسکرا دیا۔
“آپ فکر مت کریں سر میں انکے پاس ہوں۔”
عماد نے کچھ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا۔
“ہاں امان تم اسکے پاس رکو اور میں اب اسکی زندگی کی ہر مشکل کو ختم کروں گا بس بہت ہو گیا اب انہیں میری بات ماننی ہی ہو گی ورنہ قسم ہے مجھے اپنے بیٹے کی ایسی جگہ چھپاؤں گا ویرہ کو سارہ زندگی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا وہ انہیں۔”
اتنا کہہ کر عماد وہاں سے چلا گیا اور امان گہرا سانس لے کر وہیں بینچ پر بیٹھ گیا۔نہ جانے عماد اب اپنے دوست کے لیے کس حد تک جانے والا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
عماد کے کہنے پر جنرل شہیر نے اسکی میٹنگ باقی جرنیل کے ساتھ ساتھ چیف آف آرمی سے بھی کروائی تھی۔ویرہ نے جیسے اس بچے کی جان بچائی اور پھر جیسے امان کو بچانے کے لیے گولی کھائی اس سب کے گواہ وہ سپاہی تھے جو یہ باتیں اپنے سینیرز کو بتا چکے تھے ۔
“میرا صرف ایک سوال ہے سر ابھی بھی آپ سب کو ویرہ پر یقین نہیں ہوا؟کیا وہ آپ کو ابھی بھی رحم کرنے کے،معاف کرنے کے قابل نہیں لگتا؟”
عماد نے یہ سوال کرتے ہوئے سب افسروں کی جانب دیکھا جو سنجیدگی سے وہاں بیٹھے تھے۔
“آپ کو وہ مجرم لگتا ہے ناں تو بتائیں کونسا مجرم اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک بچے کی جان بچاتا ہے؟بتائیں مجھے کونسا مجرم ایک سپاہی پر چلنے والی گولی خود پر لے لیتا ہے۔اس سب کے باوجود آپ سب یہ سوچ رہے ہیں کہ کل کو وہ ہمیں دھوکہ نہ دے دے۔کیا جو اس نے کیا اس کے بعد وفا کا کوئی اور ثبوت باقی رہ جاتا ہے؟”
عماد نے سنجیدگی سے پوچھا تو چیف آف آرمی زرا سا آگے ہو کر بیٹھے۔
“آپ کیا چاہتے ہیں میجر؟”
چیف آف آرمی کے سوال پر عماد اطمینان سے مسکرایا۔
“سر جو اس نے کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ویرہ میں سمجھ داری،بہادری،وفا،جانثاری گویا وہ سب کچھ ہے جو ایک سپاہی میں ہونا چاہیے۔اسکا نشانہ بہت اچھا ہے،بم اور دھماکہ خیز مواد کا بہت نالج ہے اسے اور فائٹنگ سکلز بھی اس میں ہیں۔سب سے بڑی بات وہ انڈر ورلڈ کی دنیا کے ان چھپے ہوئے لوگوں کو بھی جانتا ہے جنہیں ہم نہیں جانتے ایسا ٹیلنٹ جیل میں بند رکھنا عقلمندی نہیں سر اگر وہ راہ راست پر آ گیا ہے تو ہمیں اسکی خوبیوں کو اس ملک کے مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔”
عماد ایک پل کو خاموش ہوا اور اس نے سب کی جانب دیکھا۔
“میں چاہتا ہوں کہ ویرہ کو نہ صرف آزاد کیا جائے بلکہ آپ اسے آرمی میں شامل کر کے میری ایسسٹینسی میں دے دیں۔”
عماد کی ڈیمانڈ پر سب افسر ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے۔
“ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا بہت سی مثالیں ملیں گی سر جس میں مجرموں نے سدھر کر سپاہیوں کا ساتھ دیا ہو انکے ساتھ مل کر کام کیا ہو۔”
عماد نے بھر پور کانفیڈینس سے کہا۔
“اور ایسی بھی بہت مثالیں ہیں میجر عماد جس میں ان مجرموں نے سپاہیوں اور حکومت کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہو۔اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ویرہ ایسا نہیں کرے گا؟”
چیف آف آرمی کے اس سوال پر عماد گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
“خاموش کیوں ہو گئے میجر بتائیں ہے اس بات کی کوئی گارنٹی؟کیا آپ اس کی ضمانت کے سکتے ہیں کہ وہ کل کو دغا نہیں کرے گا؟”
عماد نے کچھ دیر تک اس بارے میں سوچا اور پھر اثبات میں سر ہلایا۔
“یس سر میں لیتا ہوں اس بات کی گارنٹی۔”
چیف آف آرمی نے دلچسپی سے عماد کو دیکھا جو انکے بہترین ایجینٹس میں سے ایک تھا۔
“ان دیٹ کیس اگر کل کو ویرہ نے کوئی دھوکہ دیا یا کچھ غلط کیا تو اس کے ساتھ ساتھ آپ بھی سزا کے حقدار ہوں گے اور آپکو بھی وہی سزا ملے گی جو ویرہ کی ہو گی۔کیا آپ کو منظور ہے یہ؟”
جنرل شہیر نے گھبرا کر عماد کو دیکھا۔یہ بات کوئی اتنی چھوٹی بات نہیں تھی۔عماد کے مستقبل اسکی زندگی کا معاملہ تھا۔
“یس سر۔۔۔میں ویرہ کی گارنٹی لیتا ہوں اگر اس نے دغا کی تو مجھے بھی وہی سزا ملے جو ویرہ کی ہو۔”
عماد کے اس جذبے کو دیکھ کر چیف آف آرمی کی آنکھوں میں چمک سی آئی اور انہوں نے باقی جرنیل کی جانب دیکھا۔
“کیا لگتا ہے آپ سب کو ویرہ کو معاف کر کے ایک موقع دیتے ہوئے اپنے ساتھ شامل کرنا چاہیے یا نہیں؟”
چیف آف آرمی کے اس سوال پر باقی جرنیل ا
ایک دوسرے سے سرگوشی کرنے لگے۔
“ہمارے خیال سے میجر عماد ٹھیک کہہ رہے ہیں ہمیں اسے موقع دینا چاہیے۔”
ایک جنرل نے سب کی جانب سے کہا تو چیف آف آرمی اثبات میں سر ہلا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔باقی سب افسران بھی انکے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔
“ویرہ ایک سال کی ٹریننگ کے بعد میجر عماد کی ایسسٹینسی میں کام کرے گا لیکن باہر کی دنیا میں کسی کو اس بات کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔دنیا کے لیے ویرہ کو دہشتگردوں نے مار دیا اب عماد کے ساتھ جو کام کرے گا اسکی وہ پہچان نہیں ہو گی۔”
سب نے متفق ہو کر اثبات میں سر ہلایا۔چیف آف آرمی نے عماد کی جانب دیکھا۔
“آپ کی بہادری اور دانشمندی کے بہت قصے سنے ہیں میں نے میجر عماد امید ہے یہ فیصلہ آپ کے حق میں اچھا ثابت ہو اور ویرہ پر بھی ہمیں یونہی فخر ہو جیسے آپ پر ہے۔”
عماد نے اثبات میں سر ہلا کر انہیں سیلیوٹ کیا تو چیف آف آرمی وہاں سے چلے گئے اور باقی جرنیل بھی انکے پیچھے کانفرنس روم سے باہر نکل گئے۔
انکے جاتے ہی عماد نم آنکھوں سے مسکرا کر جنرل شہیر کی جانب مڑا اور انکے گلے سے لگ گیا۔
“یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا بابا بہت بہت شکریہ ہر چیز کے لیے۔۔۔”
بیٹے کی اس محبت پر جنرل شہیر کی پلکیں بھی نم ہو گئیں۔
“نہیں عماد یہ سب تمہاری سچی دوستی کی وجہ سے ہوا۔یاد رکھو بیٹا وفا میں بہت طاقت ہوتی ہے۔”
عماد نے اثبات میں سر ہلایا اور ان سے دور ہوا۔
“اب بس ایک سال ٹریننگ کی بات ہے پھر ویرہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ہو گا بالکل جیسا تم نے اسکی بیوی سے وعدہ کیا تھا۔”
جنرل شہیر نے عماد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
“ویرہ نہیں بابا عبداللہ۔۔۔۔عبداللہ سجاد میر۔۔۔”
جنرل شہیر نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے چلے گئے۔عماد کا بس میں چل رہا تھا کہ وہ خوشی سے جھوم اٹھتا۔وہ جلد از جلد یہ خبر وانیا کو دینا چاہتا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
ویرہ کی آنکھیں کھلیں تو پہلی نگاہ عماد پر گئی جو مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔اسے دیکھ کر ویرہ نے منہ بسور لیا۔کم از کم دو ہفتوں سے وہ اس ہسپتال میں تھا اور وہ اب اسکا حال پوچھنے آیا تھا جب وہ ٹھیک ہو چکا تھا۔
“اب بھی نہ آتے احسان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔”
ویرہ کی بات پر عماد قہقہ لگا کر ہنس دیا۔
“بس سوچا دیکھتا ہوں میری صورت دیکھے بغیر رہ بھی سکتے ہو یا نہیں وہی نہ ہو مجھے دیکھ دیکھ کر مرجان سے زیادہ مجھ سے محبت ہو جائے تمہیں۔۔۔۔”
عماد نے اسکے پاس کرسی پر بیٹھتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر کہا۔
“ایسا کبھی نہیں ہونے والا۔”
ویرہ کے ماتھے پر بل آئے اور وہ بھی بیڈ سے ٹیک لگا کر اٹھ بیٹھا۔اس سے پہلے کہ عماد مزید کچھ کہتا ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوا اور ویرہ کا چیک اپ کرنے لگا۔
“یہ اب ٹھیک ہیں سر آپ ان کو ساتھ لے جا سکتے ہیں۔میں ڈسچارج پیپرز ریڈی کروا دیتا ہوں۔”
ڈاکٹر کو لگا عماد بھی عام کپڑوں میں فوج کا ہی آدمی ہو گا اس لیے اسے فارمل طریقے سے بتا کر باہر نکل گیا۔
“تو چلنے کے لیے تیار ہو تم؟”
عماد کے سوال پر ویرہ کے ہونٹوں پر گھائل مسکراہٹ آئی۔
“یہ بھی پوچھنے کی بات ہے میں اور تم دونوں اس بات سے واقف ہیں کے میری منزل کہاں ہے۔۔ “
ویرہ نے افسردگی سے سرد آہ بھر کر کہا۔تھوڑی دیر کے بعد ایک ملازم آیا جس نے ویرہ کو ویل چئیر پر بیٹھایا اور اسے لے کر باہر آ گئے جہاں امان گاڑی کے پاس کھڑا انکا انتظار کر رہا تھا۔
یہ دو ہفتے امان ہی ویرہ کی نگرانی پر رہا تھا اور ویرہ کی اس سے اچھی خاصی پہچان ہو گئی تھی۔امان چار بہن بھائی تھے جن میں سے وہ سب سے چھوٹا تھا اور شوخ مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ بہت رحمدل انسان تھا۔
گاڑی کے پاس پہنچ کر ویرہ اپنی کمر میں موجود تکلیف کو نظر انداز کرتا کھڑا ہوا اور اپنے ہاتھ عماد کے سامنے کیے۔
“پہنا لو ہتھ کڑی ۔۔۔۔۔”
ویرہ کی بات پر عماد نے مسکرا کر امان کو دیکھا جو خود بھی مسکرایا پھر اس نے ایک لفافہ عماد کی جانب کیا جسے عماد نے ویرہ کو پکڑا دیا۔
“یہ کیا ہے؟”
ویرہ نے حیرت سے پوچھا۔
“تمہاری کتھ کڑی جو اب تمہیں ساری زندگی کے لیے لگ گئی ہے۔”
اس بات پر ویرہ کے ماتھے پر بل آئے اور اس نے اس لفافے کو کھول کر اندر موجود کاغذ نکالا۔وہ آرمی کی جانب سے ایک لیٹر تھا جو عبداللہ سجاد میر کے لیے تھا۔جس میں لکھا تھا کہ عبداللہ کی لگن ،صلاحیتوں اور بہادری کو دیکھتے ہوئے فوج نے اسکی سزا معاف کر دی ہے اور اسے ایک سال کی ٹریننگ کے بعد عماد بنگش کے ساتھ ایک ایجنٹ کے طور پر کام کرنا ہو گا۔اس سب کے علاؤہ کچھ لیگل ڈاکیومنٹس اور اسکا سیلری لیٹر بھی اس لیٹر کے ساتھ شامل تھا۔
ویرہ نے حیرت سے پھٹی آنکھیں اٹھا کر عماد کو دیکھا۔
“یہ سب کیا ہے؟”
ویرہ کی آواز جزبات کی شدت سے کانپ رہی تھی۔
“میں نے تم سے کہا تھا ناں کہ تمہیں ساری زندگی اس جیل میں رہنے نہیں دوں گا تو اپنا وعدہ کیسے پورا نہ کرتا۔۔۔۔”
عماد نے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا تو دو آنسو ویرہ کی آنکھوں سے بہے۔
“,میں ۔۔۔۔میں اس قابل نہیں۔۔۔۔میں نے بہت گناہ کیے ہیں عماد میں سزا کے قابل ہوں معافی کے نہیں۔۔۔۔”
عماد اسکی بات پر مسکرایا۔
“جو معافی مانگ کر راہ راست پر آنا چاہے اسے موقع ملنا چاہیے یہ ہمارے رب نے ہمیں سیکھایا ہے۔۔۔”
عماد نے کہا تو ویرہ نے ایک بار پھر سے ہاتھ میں موجود لیٹر کو دیکھا پھر وہ آگے بڑھا اور عماد کے گلے لگ کر رو دیا۔عماد کی خود کی پلکیں بھی نم ہو گئی تھیں۔
“بس کرو اب مجھے بھی رولاؤ گے کیا؟”
عماد نے اسے خود سے دور کر کے شرارت سے کہا۔
“میں تمہارے احسان مر کر بھی نہیں چکا پاؤں گا عماد شکریہ راگا کی جگہ لے کر میری زندگی میں آنے کے لیے،شکریہ ہر چیز کے لیے۔”
عماد نے اسکے گال پر ہاتھ رکھا اور مسکرا دیا۔
“دوستی میں کوئی احسان نہیں ہوتا میں نے جو کیا وہ میرا فرض تھا۔”
عماد نے محبت سے کہا تو ویرہ مسکرا دیا۔
“رہے نہ رہے یہ جیون کبھی
بنی یہ رہے دوستی
ہے تیری قسم او یارا میرے
جدا ہم نہ ہوں گے کبھی۔”
امان کے گنگنانے پر دونوں نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔
“سوچا آپ دونوں کو بیک گراؤنڈ میوزک دے دوں زرا ماحول بن جائے ۔۔۔۔۔ویسے اب ایک دوسرے کو کس تو نہیں کر لیں گے ناں ارادہ ہے تو بتا دے میں چلا جاؤں بھائی یہاں سے۔۔۔”
امان نے شرارت سے کہا تو عماد اور ویرہ قہقہ لگا کر ہنس دیے اور انہیں ہنستا دیکھ امان بھی ہنس دیا۔
“چلیں سر اب انہیں ہیڈ کوارٹر لے کر جانا ہے تا کہ ٹھیک ہونے پر اپنی ٹریننگ سٹارٹ کر سکیں۔”
امان کی بات پر ویرہ نے پریشانی سے عماد کو دیکھا۔
“میں پہلے مرجان اور قلب سے نہیں مل سکتا کیا؟”
ویرہ کی بے چینی پر عماد نے مسکرا کر اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“بالکل مل سکتے ہو لیکن جہاں دو سال صبر کیا ہے بس ایک سال اور کر لو میں چاہتا ہوں تم ان سے ویرہ نہیں بلکہ عبداللہ بن کر ملو۔”
اس بات پر ویرہ کی پلکیں پھر سے بھیگ گئیں اور اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“تو چلو۔۔۔”
امان نے ویرہ کو گاڑی میں بیٹھایا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
“پہلے زرا کسی حجام کے پاس چلو بہت جنگل ہے یہاں کاٹنے کو۔۔۔”
عماد نے ویرہ کے لمبے بالوں اور داڑھی کو دیکھتے ہوئے کہا تو امان ہنس دیا۔پھر وہ انہیں ایک جینٹس سلون لے کر گیا جہاں انہوں نے ویرہ کے لمبے بال کٹوا کر اسکی کلین شیو کروائی۔
جب آدمی یہ سب کر کے ویرہ سے دور ہوا تو ویرہ نے حیرت سے خود کو آئنے میں دیکھا۔وہ ایک بالکل ہی الگ انسان لگ رہا تھا۔
“واؤ اتنے برے بھی نہیں دیکھتے تم۔”
عماد نے شرارت سے کہا تو ویرہ بھی اسکے ساتھ ہنس دیا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے دشمن مجھے پہچان تو نہیں لیں گے؟”
ویرہ کے سوال پر عماد مسکرا دیا۔
“مجھے پہچان لیا تھا تم لوگوں نے جب میں راگا بن کر آیا تھا؟او لالے کی جان داڑھی انسان کا پورا شکل بدل دیتا ہے “
آخری بات عماد نے راگا کی آواز میں کہی تو ویرہ ہلکا سا ہنس دیا۔
“پہچان بدلنے میں تمہارے جتنا ماہر نہیں میں۔۔۔۔”
ویرہ نے عماد کو آئنے میں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“فکر مت کرو میں بنا دوں گا عبداللہ میر ۔۔۔”
عماد نے ویرہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو ویرہ نے مسکرا کر اسے دیکھا۔عماد بنگش اسکے لیے دوستی کی مثال تھا جس نے اپنے دوست کا ہاتھ نہیں چھوڑا اور اسے گھنے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آیا۔اس نے اپنا کیا وعدہ پورا کیا تھا وہ ویرہ کو پھر سے عبداللہ میر بنانے میں کامیاب ہوا تھا۔