Dil E Janaa By Harram Shah Readelle50197 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
مرجان کی آنکھ فجر کی اذان پر کھلی تو اس نے اپنے آپ کو بستر پر پایا۔وہ حیرت سے اٹھ بیٹھی۔اسے یاد تھا کہ رات وہ کرسی پر سوئی تھی تو پھر یہاں کیسے آ گئی؟اس سوچ کے ساتھ مرجان نے کرسی کی جانب دیکھا تو اسکی نظر ویرہ پر پڑی جو کرسی پر بیٹھے بیٹھے سو چکا تھا۔
“ککک۔۔۔۔کیا وہ مجھے کرسی سے بستر تک لایا؟”
یہ سوچ کی مرجان کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی تھی۔وہ سمجھ گئی تھی اسکا شوہر جتنا سنگدل بننے کی کوشش کرتا ہے اتنا ہے نہیں۔اچانک ہی ایک خیال مرجان کے ذہن میں آیا۔
“لیکن وہ مجھے یہاں لایا کیسے؟کک۔۔۔۔کیا مجھے اٹھا۔۔۔”
یہ سوچتے ہی مرجان اپنے پاؤں کے ناخن تک سرخ ہوئی اور جلدی سے اٹھ کر کمرے سے باہر موجود واش روم میں چلی گئی۔وضو کر کے وہ واپس کمرے میں آئی اور جائے نماز تلاش کرنے لگی لیکن وہاں ایسا کچھ نہ پا کر وہ دوسرے کمرے میں گئی۔آخر کار اسے ایک صندوق میں سے جائے نماز ملا تو اس نے وہ زمین پر بچھایا اور نماز ادا کرنے لگی۔
ویرہ کی آنکھ اچانک کھلی تو پہلی نگاہ بستر پر پڑی لیکن وہاں کسی کو نہ پا کر اسکے ماتھے پر بل آئے۔وہ اٹھ کر کمرے سے باہر آیا تو اسکی نگاہ ساتھ والے کمرے میں جلتی لائٹ پر پڑی۔
وہ حیرت سے اس کمرے کی جانب بڑھا اور دروازہ کھولنے پر اپنی بیوی کو دیکھا جو دنیا جہان سے بے خبر جائے نماز فرش پر بچھائے نماز پڑھنے میں مصروف تھی۔
ویرہ کتنی ہی دیر وہاں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔اسکے ساتھ موجود آدمی تو باقاعدگی سے نماز ادا کرتے تھے لیکن ویرہ نماز نہیں پڑھتا تھا۔اس نے انیس سالوں سے نماز ادا نہیں کی تھی۔اچانک ہی بہت پرانا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا۔
“عبداللہ۔۔۔۔عبداللہ بیٹا اٹھو نماز کا وقت ہو گیا ہے۔۔۔۔۔”
اسکی ماں محبت سے اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
“مجھے نیند آئی ہے ماما۔۔۔کل پڑھ لوں گا۔۔۔”
گیارہ سالہ اس بچے نے سستاتے ہوئے کہا۔
“بہت بری بات ہے بیٹا اٹھو ورنہ میں تمہارے بابا کو بتا دوں گی۔”
عبداللہ اس دھمکی کو نظر انداز کرتا سو چکا تھا اور کچھ دیر کے بعد کسی نے اسے کندھوں سے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا تھا۔
“عبداللہ میر تمہاری ماں نے کہا ناں نماز کا وقت ہو گیا ہے تو اٹھ کیوں نہیں رہے تم؟”
سجاد نے زرا سختی سے اسے گھورتے ہوئے کہا تو عبداللہ نے منہ بنا کر اپنے باپ کو دیکھا۔
“بابا کیا نماز پڑھنا بہت ضروری ہے؟”
“ہاں بہت ضروری ہے اس کے بغیر ہمارے اچھے کاموں کا کوئی فایدہ نہیں ہمارے سب اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔۔۔”
سجاد نے محبت سے اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے کہا۔
“اور اگر کسی کا نماز پڑھنے کا دل نہ کرے تو؟”
اس سوال پر سجاد کے ماتھے پر شکن نمایاں ہوئی۔
“تو اسکا مطلب ہے وہ اپنے رب سے دور ہو کر دنیا کی رنگینیوں میں کھو گیا ہے اسے چاہیے کے واپس اپنے رب کے قریب ہو۔”
سجاد نے اپنے بیٹے کا ماتھا چوم کر کہا۔
“اور اگر کسی کو نماز پڑھنے سے خوف آتا ہو تو اسکا کیا مطلب ہے۔۔۔”
سجاد نے حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھا۔
“میرا دوست ہے وہ سب نمازیں پڑھتا ہے کچھ دن پہلے اس نے چوری کی تو اسکے بعد نماز نہیں پڑھی اس نے کہا مجھے نماز پڑھنے سے ڈر لگ رہا تھا۔”
عبداللہ نے ساری بات سجاد کو بتا دی تو وہ مسکرا دیے۔
“اسکا مطلب ہے بیٹا کہ اس کے گناہ کی وجہ سے اللہ اس سے ناراض ہے وہ اللہ سے اپنے گناہ کی معافی مانگ لے اللہ اسے معاف کر دے گا۔۔۔”
عبداللہ نے اس بات پر ہاں میں سر ہلایا لیکن پھر پریشانی سے اپنے بابا کو دیکھا۔
“میرا نماز پڑھنے کا دل نہیں کرتا تو کیا اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی ناراض ہیں؟”
عبداللہ کی آواز میں بہت بے چینی تھی جسے محسوس کر سجاد مسکرا دیے۔
“نہیں بیٹا اللہ تعالیٰ تم سے ناراض نہیں کیونکہ تم تو عبداللہ ہو ناں مطلب اللہ کا بندہ تو کیا اللہ تعالیٰ اپنے اتنے پیارے بندے سے ناراض ہو سکتے ہیں۔۔۔۔”
سجاد نے عبداللہ کا گال نرمی سے کھینچ کر کہا۔
“بس اب کبھی نماز نہ پڑھنے کا یا کوئی بھی گناہ کرنے کا خیال دل میں آئے تو یہ بات یاد رکھ لینا کہ تم عبداللہ ہو اور اللہ کا بندہ گناہ گار نہیں ہوتا۔۔۔”
وہ منظر یاد کر کے ویرہ کرب سے اپنی آنکھیں موند گیا۔دل میں اٹھنے والے اس کرب پر وہ واپس مڑا اور اپنے کمرے میں آ کر بستر پر لیٹ گیا۔آنکھیں موند کر ان پر بازو رکھتے ہوئے اس نے خود کو اس کرب سے آزاد کرنے کی کتنی کوشش کی تھی لیکن یہ اتنا آسان نہیں تھا۔
اچانک ہی اسے اپنے بازو پر کسی کی سانسیں محسوس ہوئیں تو اس نے آنکھوں پر سے بازو ہٹا کر مرجان کو دیکھا جو آنکھیں موندیں زیر لب کچھ پڑھ رہی تھی پھر اس نے ویرہ کے چہرے پر پھونک ماری اور مسکرا دی مگر جب آنکھیں کھولنے پر ویرہ کو خود کو گھورتا پایا تو گھبرا کر اسے دیکھنے لگی۔
“کیا کر رہی تھی تم۔۔۔؟”
سختی سے پوچھے گئے سوال پر مرجان نے گھبرا کر اسے دیکھا۔
“ککک۔۔۔کچھ نہیں بس آیت الکرسی پڑھ کر آپ پر پھونک ماری ہے۔۔۔۔ااا۔۔۔اس سے فرشتے آپ کی حفاظت کریں گے۔۔۔”
مرجان نے مسکرا کر کہا لیکن ویرہ کے چہرے کی شکن جوں کی توں تھی۔
“نہیں۔۔۔”
ویرہ کی آواز پر مرجان نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“فرشتے شیطان کی حفاظت نہیں کیا کرتے۔”
مرجان کی آنکھیں اس بات پر حیرت سے پھیل گئیں۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتی ویرہ نے کروٹ لے کر اسکی جانب کمر کر لی۔
“مجھے سونا ہے کمرے سے باہر چلی جاؤ اور آج میں دوسرے کمرے میں بستر لگوا دوں گا تو میرے سامنے جتنا کم ہو سکے آنا۔۔۔ “
ویرہ اسے اتنا حکم دے کر خاموش ہو گیا اور مرجان کمرے سے باہر آ گئی۔معصوم دل اپنے شوہر کی باتوں سے بہت دکھی ہوا تھا۔نم آنکھیں اٹھا کر اس نے آسمان کی جانب دیکھا جہاں دن کی ہلکی ہلکی روشنی نمودار ہو رہی تھی۔
“شوہر کو بیوی سے اور بیوی کو شوہر سے محبت ہونی چاہیے ناں اللہ پاک یہی تو آپ کا حکم ہے یہی تو ہمارے نبی پاک کا فرمان ہے۔۔۔۔”
مرجان نے آنکھوں میں نمی سجا کر کہا۔
“میں ان سے محبت کرتی ہوں اللہ پاک دل سے کرتی ہوں۔۔۔۔ان کے دل میں بھی اتنی ہی محبت میرے لیے بھی ڈال دیں آپ کے بس میں کیا نہیں۔۔۔”
مرجان اتنا کہہ کر اپنی آنکھیں موند گئی اور دو آنسو ٹوٹ کر اسکے گال پر بہے تھے۔
“میرے شوہر کے دل میں میرے لیے محبت ڈال دیں اللہ پاک یہی میری سب سے بڑی التجا ہے۔۔”
مرجان نے نم آنکھوں سے تڑپ کر التجا کی تھی اور ایک معصوم دل کی دعا تو کسی عالم کی دعا سے بھی زیادہ طاقت رکھتی ہے۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
صبح کا سورج نکلتے ہی ایک آدمی ویرہ کے پاس کافی پریشانی کے عالم میں آیا۔اسکا کہنا تھا کہ یعقوب کی طبیعت کافی خراب ہے۔یہ بات سنتے ہی ویرہ اور مرجان یعقوب کے گھر چلے گئے۔راگا اور کال پہلے سے ہی وہاں موجود تھے اور ڈاکٹر یعقوب خان کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔
کچھ دیر بعد یعقوب خان کی تدفین کا انتظام کر دیا گیا تھا۔ان کے تینوں بچے انکی موت پر دکھی تھے وہ جیسا بھی تھا ان کا باپ تھا اور آج وہ تینوں یتیم ہو گئے تھے۔
انکی تدفین کے بعد سب آدمی ایک ساتھ جمع ہوئے تھے جب ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے بات شروع کی۔
“سردار یعقوب خان کی موت کا دکھ ہم سب کو ہے وہ بہت سالوں سے ہمارے راہبر رہے تھے۔”
اسکی بات پر باقی آدمیوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“لیکن اب ہمیں اگلا سردار چننا ہے کیونکہ اسکے بغیر ہم بکھر سکتے ہیں۔”
اس بات پر ویرہ نے گہرا سانس لیا۔کتنی جلدی ہوتی ہے انسان کو ایک آدمی کے جاتے ہی اسکی خالی جگہ بھرنے کی۔
“سردار یعقوب خان نے سرداری کے لیے راگا اور ویرہ کو چنا تھا اور یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم اپنی مرضی سے ان دونوں میں سے جسے چاہیں سردار بنا لیں۔”
اس آدمی نے اتنا کہہ کر راگا کی جانب دیکھا جو سینے پر ہاتھ باندھے ایک کونے میں کھڑا تھا۔
“راگا۔۔۔ “
اس کے پکارنے پر راگا اسکے پاس گیا تو اس آدمی نے ویرہ کو دیکھا جو سرد آہ بھر کر راگا کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
“اب یہ آپ کا فیصلہ ہو گا کہ ان دونوں بہادروں میں سے ہمارا راہنما کون بنے۔۔۔”
سب آدمیوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“تو جو لوگ راگا کو سردار بنانے کے حق میں ہیں وہ اپنا ہاتھ کھڑا کریں۔”
اس حکم پر پہلے آدمیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر کوئی تیس کے قریب آدمیوں نے ہاتھ کھڑا کیا۔اس آدمی نے انکی گنتی کی اور پھر انہیں ہاتھ نیچے کرنے کو کہا۔
“اب وہ لوگ ہاتھ کھڑا کریں جو ویرہ کو سردار دیکھنا چاہتے ہیں۔”
اس بار آدمیوں نے ایک دوسرے کے کانوں میں سر گوشیوں میں اور تقریباً پچاس کے قریب آدمیوں نے اپنا ہاتھ کھڑا کیا۔یہ دیکھ کر راگا کے ہونٹوں کو ایک مسکان نے چھوا اور اس نے اپنا ہاتھ ویرہ کے کندھے پر رکھا۔
“تو آج سے ہمارا سردار ویرہ ہو گا ماڑا اور مجھے یقین ہے یہ ہمارے لیے بہتریں سرداد ثابت ہو گا۔”
راگا کی بات پر سب نے اثبات میں سر ہلایا۔
“کچھ کہنا چاہو گے لالے کی جان۔۔۔”
راگا کے سوال پر ویرہ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سب آدمیوں کی جانب متوجہ ہوا۔
“جانتا ہوں آپ سب نے مجھے سردار کیوں چنا کیونکہ آپ سب مجھے بچپن سے جانتے ہیں جبکہ راگا کو محض ایک سال سے۔”
ویرہ کی بات پر سب آدمیوں نے ہاں میں سر ہلایا۔
“آپ سب کو لگتا ہے کہ میں آپ کے لیے بہترین ثابت ہوں گا لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔”
راگا سمیت سب نے حیرت سے ویرہ کی جانب دیکھا۔
“میں وہ کبھی نہیں ہو سکتا جو راگا ہے۔۔۔۔”
ویرہ نے ایک نظر اپنے ساتھ کھڑے راگا کو دیکھا جو حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“میں نہ تو اسکی طرح سفاک ہو سکتا ہوں اور نہ ہی اتنا چالاک ہو سکتا ہوں۔”
اتنا کہہ کر ویرہ لوگوں کی جانب متوجہ ہوا۔
“اس لیے میرے خیال میں سب سے بہترین سردار میں نہیں راگا ہو سکتا ہے جو ہمیں دشمن کی ہر سازش سے بچانے کی طاقت رکھتا ہے۔”
ویرہ نے اپنا ہاتھ راگا کے کندھے پر رکھا۔
“مجھے سردار بنانے کا آپ سب کا فیصلہ مجھے دل سے قبول ہے لیکن میں سردار ویرہ ہم سب کی بہتری کے لیے راگا کو سردار بناتا ہوں۔۔۔امید کرتا ہوں آپ سب کو میرے فیصلے سے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔”
ویرہ کی بات پر سب آدمی ایک دوسرے سے سرگوشی کرنے لگے پھر ایک آدمی کھڑا ہوا۔
“آپ کا حکم سر آنکھوں میں سردار ویرہ،آپ نے بہتر ہی سوچا ہو گا آج سے راگا ہم سب کا سردار ہے۔۔۔۔”
سب لوگوں نے متفق ہو کر اثبات میں سر ہلایا کچھ دیر کے بعد ہی چھوٹی سی تقریب کی گئی اور راگا کی دستار بندی کر کے اسے اگلا سردار چن لیا گیا۔شام تک وہ لوگ وہیں رہے تھے۔
اندھیرا ہونے پر جب ویرہ واپس گھر جانے لگا تو اسکے کان میں راگا کی آواز پڑی۔
“ویرہ ۔۔۔۔”
راگا کے پکارنے پر ویرہ نے پلٹ کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“تم نے ایسا کیوں کیا ویرہ؟اپنی جگہ مجھے سردار کیوں بنوایا؟”
“کیونکہ تم ہر لحاظ سے اس کے اہل ہو۔”
ویرہ نے سنجیدگی سے کہا تو راگا مسکرا دیا۔
“کبھی تمہیں مجھ پر اور کال پر بھروسہ نہیں تھا تو میں اب کیا سمجھوں کہ تمہیں مجھ پر بھروسہ ہو گیا ہے؟”
راگا نے مسکرا کر پوچھا۔
“اگر بھروسہ نہ ہوتا تو میں ایسا نہیں کرتا۔۔۔”
راگا نے ہاں میں سر ہلایا۔
“ہم ایک جٹ ہو کر کام کریں گے ویرہ ایک دوسرے کی طاقت بن کر دشمن کو نیست و نابود کر دیں گے۔”
ویرہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
“مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا تمہارے دل میں جو آئے کرو میری زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہے کہ میری وجہ سے ہر کوئی تکلیف میں رہے اور جب تک میرا یہ مقصد پورا ہوتا رہے گا تو تم سردار رہو یا کوئی اور مجھے فرق نہیں پڑتا۔”
راگا نے اسکی بات پر مسکرایا۔
“تو زندگی سے ہر وقت بے زرا کیوں رہتا ہے لالے کی جان کبھی مسکرا بھی لیا کر۔”
راگا نے شرارت سے اسکا کندھا تھپتپایا۔
“کیونکہ مجھے مسکرانے سے نفرت ہے،اس دنیا، اس زندگی سے نفرت ہے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ اپنے گھر کی جانب چل دیا جبکہ راگا وہیں کھڑا اس عجیب آدمی کے بارے میں سوچتا رہا جسے سب ویرہ کہتے تھے۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
یعقوب خان کو گزرے ایک ہفتے سے اوپر کا وقت ہو چکا تھا اور مرجان آج اپنے گھر واپس آئی تھی۔اتنے دنوں سے وہ اپنی ماں اور بہن بھائی کے پاس ہی تھی لیکن آج الماس نے اسے اسکے گھر جانے کا اور اپنے شوہر کا خیال رکھنے کا حکم دیا تھا۔
اسے اپنے باپ کے مر جانے کا کوئی بہت غم نہیں تھا وہ بہت اچھا باپ ثابت نہیں ہوا تھا لیکن تنہا اور بے سہارا ہونے کا خوف ان سب پر حاوی تھا۔فلحال مرجان کی سب سے بڑی پریشانی اسکا بھائی دلاور تھا جس کی بیماری اسکے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔لیکن کوئی بھی کیا کر سکتا تھا اسکا علاج اس چھوٹے سے گاؤں میں تو ناممکن ہی تھا۔
گھر میں داخل ہوتے ہی مرجان اس کمرے میں آئی جہاں چند صندوق اور باورچی خانے کا سامان تھا جو ایسا لگ رہا تھا کہ صدیوں سے استعمال نہیں ہوا۔
ہوتا بھی کیوں ویرہ کو کھانا انکے گھر سے ہی جاتا تھا لیکن اب مرجان ایسا نہیں چاہتی تھی وہ اس گھر کو اپنا گھر بنا کر سنوارنا چاہتی تھی۔
اس نے دوپٹہ اتار کر کمر پر باندھا اور گھر کی صاف صفائی کرنے لگی۔دونوں صندوق اس نے کمرے کے ایک کونے میں کر دیے اور ان میں سے کپڑے نکال کر ایک میں ویرہ کے اور ایک میں خود کے کپڑے طے کر کے رکھنے لگی۔
پھر باورچی خانے کا سامان اٹھا کر ساتھ والے کمرے میں لے گئی جو کہ خالی تھا اور بند ہونے کی وجہ سے کافی گندہ تھا۔کمرے کو اچھی طرح سے صاف کرنے کے بعد اس نے باورچی خانے کا سارا سامان وہاں سیٹ کیا اور پھر ویرہ کے کمرے میں آ گئی جو باقی گھر کی نسبت صاف ستھرا تھا بس زرا سی سیٹنگ کرنے کی ضرورت تھی۔
مرجان نے جی جان سے وہ بھی کمرہ سیٹ کیا اور ویرہ کے کپڑے پکڑ کر ایک ٹوکری میں ڈال دیے انہیں وہ کل جھیل پر دھونے کا ارادہ رکھتی تھی۔
اس کے فارغ ہونے تک افق پر شام کے سائے نمودار ہونے لگے تھے۔وہ اتنا کام کر کے کافی تھک چکی تھی لیکن پھر بھی کھانا پکانے کے ارادے سے باورچی خانے میں آئی لیکن وہاں پکانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔
مرجان کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے آخر وہ اپنے شوہر کو بھوکا تو نہیں رہنے دے سکتی تھی۔وہ بے چینی سے یہاں وہاں ٹہل رہی تھی جب ویرہ گھر میں داخل ہوا اور اپنے چھوٹے سے گھر کو صاف ستھرا دیکھ کر حیران رہ گیا اور پھر اسکی نظر مرجان پر پڑی جو کافی بے چین نظر آ رہی تھی۔
“تم کیوں آئی ابھی کچھ دن تمہیں وہیں رکنا چاہیے تھا۔”
ویرہ نے بستر پر بیٹھ کر اپنے جوتے اتارتے ہوئے کہا جب مرجان پانی کا گلاس لے کر آئی اور اسے ویرہ کے سامنے کیا۔
” اچھی بیویاں زیادہ دن گھر سے دور نہیں رہتا۔۔۔”
ویرہ نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا اور پانی کا گلاس پکڑ کر پینے لگا۔مرجان بے چینی سے اپنی انگلیاں چٹخانے لگی۔
“کیا بات ہے؟”
ویرہ نے اسکی پریشانی دیکھ کر پوچھا۔
“وہ گھر۔۔۔کھانا پکانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ہم آج بھوکا سوئے گے کیا۔۔۔۔؟”
مرجان نے معصومیت سے پوچھا تو ویرہ نے گہرا سانس لیا۔
“پہلے کھانا تمہارے گھر سے آتا تھا تو کبھی کچھ لانے کی ضرورت نہیں پڑی۔”
ویرہ نے سنجیدگی سے کہا۔
“جی لیکن اب آپ کا بیوی آ گیا ہے ناں کھانا بنانے کے لیے۔۔۔”
مرجان نے اسکے ہاتھ سے گلاس پکڑتے ہوئے کہا۔
“ہممم مجھے بتا دینا تمہیں کس کس چیز کی ضرورت ہے کل میں سب لے آؤں گا۔۔۔”
ویرہ کا انداز جان چھڑانے والا تھا۔
“لیکن آج ہم کیا کھائے گا زما پاچا”
مرجان کی بات پر ویرہ نے بھویں اچکا کر اسے دیکھا۔
“پاچا؟”
اس بات پر مرجان کے گال گلاب کی ماند دہک اٹھے۔
“جی پاچا بادشاہ کو کہتا ہے ناں پشتو میں اور آپ بھی تو ہمارا بادشاہ ہے تو اس لیے آپ کو پاچا بلایا۔۔۔”
مرجان نے وضاحت دنیا چاہی تو ویرہ گہرا سانس لے کر رہ گیا۔
“کیا میں آپ کو پاچا بلا لیا کروں؟”
ویرہ نے اپنے کندھے اچکا دیے تو مرجان مسکرا دی۔
“تو آج ہم کیا کھا۔۔۔”
ابھی الفاظ مرجان کے منہ میں ہی تھے جب دروازہ کھٹکنے لگا۔مرجان ٹھیک سے دوپٹہ لیتے ہوئے دروازے کے پاس آئی تو وہاں دلاور کو دیکھ کر مسکرا دی۔
“لالا آپ؟”
مرجان کو دیکھ کر دلاور بھی مسکرایا۔
“امی نے کھانا بھیجا ہے باجی۔۔۔۔”
دلاور نے رومال میں لپیٹا کھانا مرجان کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو اپنی ماں کی محبت پر مرجان کی پلکیں بھیگ گئیں۔شائید اسی لیے ماں کا درجا سب سے افضل ہے کیونکہ وہ دل کی باتیں بھی سمجھ جایا کرتی ہے۔
دلاور کھانا پکڑا کر واپس چلا گیا اور مرجان باورچی خانے میں آ کر سلیقے سے کھانا نکالنے لگی۔آج تو خدا نے انکے رزق کا بندوبست کر دیا تھا لیکن کل سے وہ خود ہی اپنی زمہ داری سنبھالنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
کھانا لے کر وہ ویرہ کے پاس آئی تھی۔دونوں نے مل کر کھانا کھایا تو وہ برتن لے کر باورچی خانے میں چلی گئی اور صاف کرنے کے بعد واپس کمرے میں آ گئی۔
ویرہ جو سونے کی تیاری کر رہا تھا اسے وہاں کھڑے ہو کر انگلیاں چٹخاتے دیکھ گہرا سانس لے کر رہ گیا۔
“اب کیا ہوا؟”
“میں کہاں سوؤں پاچا؟”
اسکی بات پر ویرہ کو یاد آیا کہ اس نے اسکے علیحدہ کمرے میں سونے کا بندوبست کرنا تھا۔ویرہ نے اسے بستر کی جانب اشارہ کیا اور خود جا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔
مرجان اسکا حکم مانتی خاموشی سے بستر پر لیٹ گئی اور ویرہ نے اپنی گرم چادر لیتے ہوئے سگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں دبا لی۔مرجان کچھ دیر خاموشی سے لیٹی رہی پھر پریشانی سے اسے دیکھا۔
“پاچا۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔”
ویرہ نے سگریٹ کا گہرا کش بھرتے ہوئے پوچھا۔
“آپ وہاں کیسے سوئے گا؟”
“تو تم کیا کہتی ہو کہاں سوؤں میں؟”
ویرہ نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تو مرجان پہلے تو خاموش رہی پھر اس نے اپنا کانپتا ہاتھ اپنے ساتھ موجود خالی جگہ پر رکھا۔
“یہاں میرے پاس سو جائیں۔۔۔”
مرجان کی بات پر ویرہ کی آنکھوں میں عجیب سی تپش آئی۔
“وہاں آیا تو نہ خود سوؤں گا نہ تمہیں سونے دوں گا اس لیے بہتر ہے چپ چاپ سو جاؤ۔۔ “
اتنا کہہ کر ویرہ اپنی آنکھیں کرب سے موند گیا۔
“پاچا۔۔۔”
“سو جاؤ مرجان ۔۔۔۔۔خاموشی سے سو جاؤ۔۔۔۔”
نہ جانے اسکی آواز میں ایسا کیا تھا جسے محسوس کر مرجان خاموشی سے لیٹ کر اپنی آنکھیں موند گئی۔کچھ ہی دیر میں وہ گہری نیند میں ڈوب چکی تھی اور یہ رات بھی ویرہ نے اس کرسی پر بیٹھ کر اسکا معصوم چہرہ دیکھتے ہوئے گزاری تھی۔
یہ لڑکی اسے اپنے حواس پر طاری ہوتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی اور ویرہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ کل ہی وہ علحیدہ کمرے میں اسکے سونے کا انتظام کر دے گا۔اس کے بعد وہ جس حد تک ہو سکے گا اسے خود سے دور رکھے گا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
وقت آہستہ آہستہ سے گزرتا گیا اب ویرہ اور مرجان کی شادی کو سال ہونے کو تھا۔ہر گزرتا پل اپنی چاہت کے قریب گزار کر مرجان کی محبت بڑھتی جا رہی تھی لیکن ویرہ بس ایک سخت چٹان ہی ثابت ہوا تھا جس کے دل پر مرجان کی چاہت کوئی اثر نہیں کر پائی تھی۔
اور اب تو مرجان بھی تھکتی جا رہی تھی۔اپنی ماں کا کہا ہر لفظ اسے سچ لگنے لگا تھا شائید ویرہ سچ میں ہی محبت نہیں کر سکتا تھا۔مرجان ہر نماز کے بعد اسکی محبت ہی تو مانگتی تھی لیکن اس ایک سال میں اسکی دعا بھی قبول نہیں ہوئی تھی۔
اب تو مرجان کی محبت تڑپ اختیار کرتی جا رہی تھی مرجان اپنی محبت کے بدلے میں ویرہ کی چاہت چاہتی تھی لیکن اسکی یہ خواہش بس خواہش ہی رہی تھی۔
اول تو وہ اسے نظر انداز کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا تھا اور اگر اس سے بات کرتا تھا تو وہ بھی ایسے جیسے اس پر کوئی احسان کر رہا ہو۔اس ایک سال میں مرجان ویرہ یا اپنے اردگرد بسنے والوں کا سچ نہیں جان پائی تھی۔اس کے لیے ویرہ ایک عام سا شخص تھا جو ہر گناہ سے پاک تھا لیکن سچ تو وہ جانتی ہی نہیں تھی کہ اسکا شوہر انسان کے روپ میں ایک درندہ تھا۔
ویرہ راگا اور کال کا انکے ہر کام میں ساتھ دیتا تھا۔وہ دہشت پھیلانے انکے ساتھ تو نہیں جاتا تھا لیکن انکو انفارمیشن اکٹھا کر کے دینا اور دھماکے میں استمعال ہونے والے بم بنانا ویرہ کا ہی کام تھا۔
جبکہ راگا اور کال ویرہ کی دی گئی انفارمیشن اور بم استعمال کر کے دہشت پھیلاتے تھے۔سب صیح چل رہا تھا عوام،فوج حکومت سب انکی وجہ سے پریشان تھے۔
راگا نے ایک آدمی سلطان کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ان تینوں نے سلطان کو دیکھا تو نہیں تھا لیکن وہ اپنے کاموں کے بدلے انہیں ہتھیار اور پیسے دیتا تھا جو راگا کے لیے کافی تھا۔
ویرہ کو بھی اس راگا سے کوئی مسلہ نہیں تھا لیکن بس اس نے راگا کو محتاط رہنے کا کہا تھا۔آج بھی راگا کچھ آدمیوں کے ساتھ سلطان کا ہی کام سر انجام دینے گیا ہوا تھا۔ویرہ کال کے ساتھ معمالات طے کر کے گھر واپس آیا جب اسکے کانوں میں مرجان کے کھلکھلانے کی آواز پڑی۔
“گل اب تو تھوڑا بڑا ہو جاؤ تم ایک چھپکلی سے ڈر گیا کھا تھوڑی جاتا وہ تمہیں۔۔۔”
مرجان نے ہنس کر کہا اور پھر ہاتھ میں پکڑی قمیض پر کڑھائی کرنے لگی۔وہ اور گل مرجان کے کمرے میں بیٹھیں کڑھائی کرنے میں مصروف تھیں۔
“ہاں کیا پتہ سچ میں کھا جاتا پھر اتنا پیارا بہن کہاں سے ملتا تمہیں ۔۔۔۔”
گل نے منہ بنا کر کہا تو مرجان پھر سے ہنس دی۔
“شکر کرو تم بہت حسین ہو ورنہ خود کو شیشے میں دیکھ کے بھی ڈر جایا کرتا تم۔۔۔”
مرجان نے گل کا گلابی گال نرمی سے چھوا۔
“باجی۔۔۔”
“ہممم ۔۔۔۔”
مرجان کا سارا دھیان کڑھائی پر تھا۔
“تمہیں ویرہ لالا سے ڈر نہیں لگتا؟”
گل کے اس سوال پر باہر کھڑے ویرہ کے ماتھے پر بل آئے۔
“نہیں ڈر کیوں لگے گا وہ میرا شوہر ہے اور شوہر سے ڈر لگتا ہے کیا؟”
مرجان کی آواز پر ایک سایہ سا ویرہ کے چہرے پر آیا۔
“مجھے تو بہت لگتا ہے لالا سامنے آتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ میرا روح ہی جسم سے نکل جائے گا۔۔۔”
گل کی آواز میں ایک خوف تھا۔
“تمہیں تو ہر چیز سے ہی ڈر لگتا ہے۔۔۔”
مرجان نے مسکرا کر کہا اور پھر افسردگی سی اسکے چہرے پر آئی۔
“تمہیں پتہ ہے گل وہ بہت اچھا ہے اس دنیا کا سب سے اچھا انسان میرا خیال رکھتا ہے،مجھ پر ویسے ہاتھ نہیں اٹھاتا جیسے ابا اماں پر اٹھاتے تھے اور مجھ پر ظلم نہیں کرتا بسسس۔۔۔۔”
مرجان کے خاموش ہو جانے پر گل نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“بس؟”
“بس وہ مجھ سے پیار نہیں کرتا گل۔۔۔۔”
مرجان نے اپنے آنسو چھپانے کے لیے اپنا سر جھکا لیا اور باہر کھڑا ویرہ اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔اسے تو لگا تھا محبت اور پیار کا بھوت مرجان کے سر سے اتر گیا ہو گا لیکن وہ ابھی بھی اسی بکواس کو دل سے لگا کر بیٹھی تھی۔
ویرہ غصے سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا تو دونوں بہنیں گھبرا کر کھڑی ہو گئیں جبکہ گل تو خوف سے سانس ہی لینا بھول چکی تھی۔
“پپ۔۔۔۔پاچا کیا ہوا کچھ چاہیے کیا آپ کو؟”
مرجان کے سوال کا ویرہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔اس سے پہلے کہ وہ اسے کچھ کہتا ان کا گھر کا دروازہ کسی نے بری طرح سے کھٹکھٹایا۔ویرہ باہر آیا تو کال کو پریشان حالت میں وہاں دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل آئے۔
“کیا ہوا کال اتنے گڑبڑائے ہوئے کیوں ہو؟”
“ویرہ وہ۔۔۔۔”
کال ایک پل کو رکا اور اس نے تھوک نگلا۔
“راگا کو فوج نے پکڑ لیا ہے۔”
کال نے ویرہ پر بم گرایا تھا۔
